Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • شیریں مزاری  مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت  پیش

    شیریں مزاری مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر شیریں مزاری کے مئی 2022 میں مبینہ اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،سیکرٹری کابینہ عدالتی حکم پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتاری خلاف قانون تھی؟ سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نومبر 2022 میں یہ رپورٹ آئی تھی، رپورٹ کے مطابق گرفتاری میں پروسیجرل غلطیاں تھیں، وزیراعظم نے رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار نہیں بلکہ اغواء کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی سیکرٹ دستاویز نہیں بلکہ صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے، ہم انسانی حقوق کا معاملہ دیکھ رہے ہیں، سابق چیف جسٹس نے معاملہ کابینہ کو بھیجا تھا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر کیا ایکشن لیا؟یہ معاملہ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھا جائے،ہم نے پراسیس دیکھنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوئی یا نہیں،اس حوالے سے رپورٹ پڑھنی پڑے گی، اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیے جمع کرا دیں، کیا اس معاملے کو اب آنے والی کابینہ دیکھے گی؟سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ جی، نئی کابینہ اس معاملے کو اب دیکھے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے کردار کو دیکھنا ہے، آفیشلز کے خلاف ایکشن کو دیکھنا ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ سے انتخابی عذرداری کیس میں نواز شریف کی درخواست خارج کردی۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ پر ری الیکشن سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی درخواست خارج کر دی ، الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو تین دن میں حلقے کا حتمی نتیجہ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

    گزشتہ روز وکلاء کے دلائل مکمل ہونے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیپٹن ر صفدر اور نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے ، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 15 فروری کو آر او رپورٹ مانگی، 650 صفحات کی آر او رپورٹ دی گئی ، ہمار اکیس اب آر او کی رپورٹ کے رکارڈ پر ہوگا، درخواست گزار کو 82 ہزار سے زائد ووٹ ملے ، مخالف امیدوار کو ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد ووٹ پڑے، مسترد ووٹ 9 ہزار 82 تھے ، این اے 15 میں ٹوٹل 550 پولنگ سٹیشن تھے ، ہمیں 123 پولنگ سٹیشنز کا لا ڈھاکہ کے تھے ، ان کے فارم 45 نہیں ملے ، الیکشن کے دن موبائل انٹرنیٹ کنیکٹوٹی نہیں تھی، پریزائیڈنگ افسر نے ذاتی طور پر آراو کو رزلٹ دینا تھا، کچھ بیلٹ بیگز کی سیل مکمل اور کچھ کی جزوی ٹوٹی تھی، فارم 51 نہیں ملا، ہم نے دیکھنا تھا کہ کون سی سیل ٹوٹی ،یہ ڈسکہ سے زیادہ حساس کیس ہے ، ٹیمپرنگ کی گئی ، اے آر او پر ایف آئی آر کٹی کہ سامان چھوڑ کر کہا ں چلے گئے ،ایف آئی آر میں ہے کہ اے آر او بتائے بغیر ہسپتال سے غائب ہو گئے ۔

    این اے 15 دوبارہ الیکشن کروایا جائے، نواز شریف کے وکیل کا کمیشن سے مطالبہ
    ممبر کمیشن نے پوچھا کہ فارم 51 آپ کو کیوں فراہم کیا جائے ؟آپ نے سیل ٹوٹے بیگز دیکھنے ہیں تو ٹربیونل میں جائیں، آپ کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملے ؟پریزائیڈنگ افسر کیوں آپ کو فارم 45 نہیں دے رہے تھے، سارے ملے ہوئے تھے ؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ بیلٹ بیگز کی ٹیمپرنگ ہوئی، فارم 45 کی ٹیمپرنگ کی گئی، این اے 15 کا الیکشن نہ آئین ، نہ الیکشن ایکٹ نہ الیکشن رول کے مطابق ہے ، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ پورے ملک کے الیکشن کے بارے میں تو نہیں کہہ رہے ناں ؟جہانگیر جدون نے کہا کہ ریکارڈ ٹیمپر ہونے کے باعث ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، اس حلقے میں ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، پورا حلقہ مثاتر ہواہے،ممبرکمیشن نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہو، جہانگیر جدون نے کہا کہ اب گنتی کی گنجائش نہیں، پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے ، یہاں برف تھی، کنیکٹوٹی نہیں تھی، حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جائے .

    واضح رہے کہ این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم نواز شریف کے وکیل دوبارہ پیش ہوئے اور عذر داری بحال کرنے کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے درخواست منظور کر لی تھی، الیکشن کمیشن نے آر او کا بھی تبادلہ کر دیا تھا،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ، نگران وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ لاپتہ بلوچ طلبہ کیس میں طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کر رکھا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ لاپتہ طلبا کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ، وزیر داخلہ گوہر اعجاز و دیگر عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں، میں قانون کے مطابق جواب دہ ہوں ، آپ نے ہمیں بلایا ہم آگئے ہیں ، میں بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں ، ہم بلوچستان میں مسلح شورش کا سامنا کررہے ہیں،مجھے بلوچستان سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کا زیادہ علم ہے، بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہو رہی ہے، بلوچستان میں کچھ لوگ نئی ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،نان اسٹیک ایکٹرز کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، ہمارے بلوچستان کے ایک سابقہ چیف جسٹس کو مغرب کی نماز کے وقت ان مسلح جتھوں نے شہید کیا تھا، ان چیف جسٹس صاحب نے ایک انکوائری کی سربراہی کی تھی، زندہ رہنے کا حق سر فہرست ہے،

    سسٹم میں کمی اور خامیاں ، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی بالکل ایک مختلف معاملہ ہے، ریاستی اداروں کو معلوم ہے ملک کیسے چلانا ہے،لیکن لوگوں نے حقوق کی خلاف ورزی کرکے ملک نہیں چلانا،یواین کا بھی ایک طریقہ ہے وہ پوچھتے ہیں کون لاپتہ ہوا، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں آپ لاپتہ ہو گئے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتہ ہو جانا ہے؟ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں،یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اور چودھری یا گجر کو قتل کر دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ سٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نا کریں ،سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،وہ ایک نئی ریاست تشکیل دینے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں،ریاست اخلاقی طور پر خود کو بالادست سمجھتی ہے تو ان کی جوابدہی زیادہ ہوتی ہے،ایسا نہیں ہے کہ خود کش حملہ آور نیک نامی کا باعث بنتے ہیں،90 ہزار افراد آج تک اس ملک میں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، فرقہ واریت کی بنا پر لوگوں کے نام پوچھ کر قتل کئے گئے ہیں، تم چوہدری ہو گولی، تمہارا نام گجر ہے گولی، یہ سلسلہ ہے، کلاشنکوف اٹھانے والا اور نہتا فرد ایک جیسے نہیں ہو سکتے،مجھے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

    مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے نگران وزیراعظم سے استفسار کیا کہ بلوچستان تو دور یہ آپ کے سامنے مطیع اللہ جان جان کھڑے ہیں، دن دھاڑے اسلام آباد سے انہیں اغواء کر لیا گیا۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے کامیاب اقدامات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،عدالت نے کہا کہ اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ رہ گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، کاؤنٹر ٹیرارزم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک نے بڑے بڑے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، سسٹم کمزور ضرور ہے لیکن بے بس نہیں ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میرا بیٹا فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو میں کیا چاہوں گا کہ قانون میرے ساتھ کھڑا ہو یا دہشت گردوں کے ساتھ؟بیس سال سے لڑائی چل رہی ہے، آئندہ پارلیمنٹ آئے گی وہ بھی دیکھے گی، آئے روز کے الزامات سے ریاست کو نکالنا چاہیے، ہم نے اس لیے ہتھیار نہیں اٹھایا کہ ریاست نے ہمارے حقوق کی گارنٹی دی ہے،میں صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو پانچ ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے،آئین پاکستان مجھ سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ خوبصورت باتیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس بہت سی مثالیں موجود ہیں،

    روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،نگران وزیراعظم
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ روکنا چاہیے، قانون کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اور سٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہوگا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بات عدالت ، ایمان مزاری اور آپ کی ایک ہی ہے، ریاست مخالف لوگوں کو کوئی عدالت پروٹیکشن نہیں دے سکتی، کیا اس معاملے پر آپ قانون سازی کرسکتے ہیں؟ نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نہیں کرسکتا ، نیا پارلیمان کے پاس اختیارات ہونگے وہ کرسکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ پرچہ کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں،جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے انکو عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اٹھاکر حل کرنا چاہیے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان شہید ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 میرے سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی،جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا کہ گرفتاری میں قانون کی خلاف ورزی ہو تو وہ غیرقانونی ہو جاتی ہے، کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے کیس کی سماعت 3 اپریل تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کو پہلے بھی طلب کیا تھا تاہم وزیراعظم عدالت پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے دوبارہ انوار الحق کاکڑ کی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، آج نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت پیش ہو گئے ہیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، آئی جی اسلام آباد بھی عدالت پہنچ چکے ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.

    آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،نگران وزیراعظم کا صحافی سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت سے نکلے تو صحافیوں سے بات چیت کی، اس دوران نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں جبری گمشدگی کا دفاع بالکل نہیں کیا، جبری گمشدگی کے نام پر جو الزامات لگ رہے ہیں، ان کا دفاع کیا، وزیراعظم اور صحافی کے درمیان سخت سوال و جواب ہوئے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ یہ افراد سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا گیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ الزام کو الہامی حیثیت دینا چاہتے ہیں،ہم انکوائری کریں گے پھر بتا دیں گے،صحافی نے سوال کیا کہ نگران حکومت نے کس آئین کے تحت 6 ماہ کا وقت لیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1973 کے تحت،

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،
    اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی یا نہیں، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹی گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،علی ظفر
    الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، دونوں طرف سے بحث ختم ہو چکی ہے، آئین پاکستان واضح کہتا ہے جیتنے والی سیٹوں کی تعداد کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائیں،ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن موقع ملے تو دوسرے کا حق غبن کرتی ہیں،آج مخالف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ہم اپنا مخصوص حصہ لے چکے ہیں،قانون میں کہاں قدغن ہے کہ دوبارہ فہرست نہیں دی جا سکتی،اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹیں گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں کوئی حیرات نہیں ہمارا آئینی حق ہے، ہم نے کہا یہ الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑ سکتا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • اسلام آباد وائلد لائف نے ہری پور سے چیتے کے 2 بچے ریسکیو کرلئے

    اسلام آباد وائلد لائف نے ہری پور سے چیتے کے 2 بچے ریسکیو کرلئے

    خیبرپختونخوا وائلڈ لائف نے چیتے کے دو بچے ریحیبلیشن کے عمل کے لیے اسلام آباد وائلڈ لائف کے ریسکیو سینٹر منتقل کر دیے۔

    اسلام آباد وائلڈ لائف نے چیتے کے دو بچے، جن کی عمر تقریباً 2 ماہ تھی، کو کے پی کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے 24 فروری کو ریسکیو کیا جن کو rehabilitation کے عمل کے لیے اسلام آباد وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔ نیلو اور سلطان نامی نر اور مادہ کے بچے مارگلہ کی پہاڑیوں کے بالمقابل ضلع ہری پور میں جابری کے پہاڑی علاقے میں سے ریسکیو کیے گئے۔ ریسکیو کے بعد ان بچوں کو 15 فروری کو ایبٹ آباد منتقل کیا گیا۔

    کے پی کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان کی ماں کو تلاش کرنے کی کوششوں کے باوجود، یہ طے پایا کہ بچے اس کے بغیر جنگل میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے انہیں اسلام آباد کے پرانے چڑیا گھر کی جگہ پر واقع آئی ڈبلیو ایم بی اور سیکنڈ چانس وائلڈ لائف کے ‘ریسکیو اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر’ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ڈبلیو ایم بی اور سیکنڈ چانس وائلڈ لائف نے نیلو اور سلطان کی ضروری دیکھ بھال کی فراہم کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ جنہیں اپنی کم عمر کی وجہ سے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

    اسلام آباد میں ریسکیو سنٹر پہنچنے پر، بچوں کا جانوروں کے ڈاکٹر کے ذریعے مکمل صحت کا معائنہ کیا گیا جبکہ انہیں ویکسین اور ڈی ورمنگ کی ضرورت ہوگی تاہم چیتے کے بچوں کے لیے مستقل مسکن کا تعین کے لیے کام جاری ہے۔ چڑیا گھر کی سابقہ ​​جگہ، جو 28 ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے، دو تیندووں کے لیے ایک پناہ گاہ بنانے کے لیے کافی جگہ فراہم کرتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی طرف سے پاکستان میں انتہائی خطرے سے دوچار عام تیندوے کو ملک بھر میں شکار سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

    کے پی کے ضلع نوشہرہ میں چیتے کی ہلاکت

    سوات ،چیتے کے حملے میں دو افراد زخمی، چیتے کو مارنے پر مقدمہ درج

    بالاکوٹ؛ چیتوں نے 35 بکریوں کو مار ڈالا

    ڈی یچ اے فیز 2 میں خوف پھیلانے والا تیندوا کئی گھنٹوں بعد گرفت میں آگیا

    اسلام آباد کے گاؤں سید پور میں چیتوں کی موجودگی کے بعد علاقے میں خوف و ہراس

  • انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے،عمرا یوب

    انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے،عمرا یوب

    تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑے عرصے کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کے جذبے بلند ہیں ،

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے بات ہوئی کہ فارم 47 کے ذریعے دھاندلی کی گئی ،قلم کی جنبش کے ذریعے ہمارے سیٹوں پر کٹ لگایا گیا، 2 مارچ کو مختلف پارٹیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے، ملکی تاریخ میں اتنی بڑی دھاندلی نہیں ہوئی، عوام کے ووٹ پر شب خون مارا گیا ، عوام نے پی ٹی آئی کو دیا ہے، لودھراں میں بھی ہمارے ایم این اے کو ہرایا گیا ،ہم انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے ،عوام کا مینڈیٹ ہے جسے چوری کیا گیا اور یہ مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کو دیا گیا ، بانی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے کیے عامر ڈوگر کا منتخب کیا گیا ، ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ کے لئے مالاکنڈ سے نومنتخب ممبر جنید خان کو نامزد کیا ہے ،جیت پی ٹی آئی کی ہو گی، قائد نے ایک چیز سیکھائی کے آخری دم تک لڑنا ہے ، فارم 45 ہمارے پاس موجود ہیں، ہم آخری دم تک لڑیں گے،

    29 فروری کو ہم حلف لینے جائیں گے،شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے خط کے حوالے سے ہمارا موقف ہے کہ آج خط لکھ دیا جائے گا ، 29 فروری کو ہم حلف لینے جائیں گے، جمہوری قوتوں پر خان صاحب نے احتجاج کے لیے زور دیا ہے ، پاکستان اور ملک بھر میں پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو احتجاج کی دعوت دی ہے، بانی پی ٹی آئی سے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات پر بھی بات ہوئی،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن سینیٹ کے الیکشن اور ضمنی الیکشن میں کام آئیں گے۔ ہمیں اب مشکلوں کی عادت ہوگئی ہے۔ ہم گھر سے نکلتے ہیں تو ہر قسم کی پریشانی تکلیف مصیبت کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں ،مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہمارے اتحاد کے کوئی معاملات نہیں چل رہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں لیکن وہ شامل نہیں ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن کیساتھ ملاقات کو ورکرز کیطرف سے ستائش کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ،ہم نے پنجاب کے ان تمام دھاندلی والے حلقوں کے چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنی جان چھڑا رہی ہے، ہمیں کہتے ہیں کہ آپ ٹربیونل میں جائیں،ملک بھر میں تحریک انصاف کے میڈینٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، ہم پہلے بھی اس پر احتجاج کر چکے ہیں، ہمارے امیدواروں کے حتمی نتائج آنے کے بعد دوسرے امیدواروں کو جتوایا گیا ہے،

    جی ڈی اے، تحریک لبیک اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گے،اسد قیصر
    اڈیالہ جیل کے باہر تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آج بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے، اختر مینگل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بات کرنے کی ہدایت کی گئی ، ون پوائنٹ ایجنڈ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا مکمل طور پرمستقل خاتمہ ہو ، جی ڈی اے، تحریک لبیک پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گے ،مریم نواز جو کل وزیراعلی بنی ہے اس کو کون مانے گا لوگوں کو زبردستی ساتھ ملایا گیا ، ہم چاہتے ہیں کہ لیول پلینگ فیلڈ سب کو ملے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ، ہم مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ،ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ لیول پلینگ فیلڈ اور قانون کی حکمرانی ہو ،حکمرانی کے حوالے سے بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے ،حلف اٹھانے کے حوالے سے کل ہماری پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں فیصلہ ہو گا ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے ، ہماری جدوجہد قانون اور آئین کے مطابق ہے، لوگوں سے درخواست ہے کہ پرامن احتجاج کریں،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا صدر مملکت کا کام ہے ، اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر ہی نہیں سکتا ، جاتی امرا کے لاڈلے کی بیٹی کا وزیراعلی بننا غیر قانونی ہے ، جب صوبائی اسمبلی کا کورم ہی مکمل نہیں تو کس طرح قائد ایوان کا انتخاب ہوا ،

    مریم نواز کو اس لئے مبارکباد نہیں دی کیونکہ پہلے وہ اپنی سیٹ تو جیتیں،علی محمد خان
    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ قوم کے حق پر ڈالا ڈالا گیا ہے ،غریب کا آخری ہتھیار اس کا ووٹ ہے ، غریب آدمی سوچتا ہے اپنے ووٹ سے ملک ٹھیک کروں گا ،مریم نواز نے کل وزیر اعلٰی کا حلف اٹھایا میں انہیں ضرور مبارکباد دیتا ،مریم نواز کو اس لئے مبارکباد نہیں دی کیونکہ پہلے وہ اپنی سیٹ تو جیتیں ،پاکستان کو بچانا ہے تو جس کا میڈینٹ ہے اس کو دیا جائے، دھاندلی کے باوجود لوگوں نے نکل کر فسطائیت کا مقابلہ کیا،

    جیتی گئی سیٹیں دوبارہ گنتی میں اب ہم سے واپس لی جا رہی ہیں، علیمہ خان

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    محمود اچکزئی آپکے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے،عمران خان نے جواب نہ دیا

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

  • یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 29 فروری کو صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی، یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ 29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ لہذا تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 051-9219335 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • محمود  اچکزئی آپکے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے،عمران خان نے جواب نہ دیا

    محمود اچکزئی آپکے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے،عمران خان نے جواب نہ دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کی ہے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ وامی مینڈیٹ سے بڑی کوئی چوری نہیں ہو سکتی، انہوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا ہے،آئی ایم ایف کو لکھا جانے والا خط غداری قرار دیا جا رہا ہے، فیٹیف کی قانون سازی کی انہوں نے مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ ان کے کیسز ختم کیے جائیں، میں جیل سے کوئی بھی چیز لکھ کر باہر نہیں بھیج سکتا، آئی ایم ایف کو لکھا جانے والا خط میں نے ڈکٹیٹ کروایا ہے،

    ظلم سے پارٹی ختم نہیں ہوئی بلکہ سب سے مضبوط جماعت بن گئی،عمران خان
    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آئی ایم ایف کو خط بھیج دیا گیا ہے؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ خط ڈکٹیٹ کروانے کے بعد سے اب تک پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہیں ہوئی۔ آج پارٹی رہنماؤں سے ملاقات ہوگی جس کے بعد خط کے بارے میں علم ہوگا، خط میں یہی لکھا جائے گا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا، تمام معیشت دان یہ کہتے ہیں کہ وسائل پیدا کیے بغیر قرض پر ملک نہیں چل سکتا، ساری قوم کہہ رہی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے 20 نشستوں والے کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے، سارا ملک انتخابات میں ان کے خلاف کھڑا ہوا ہے ، چیف الیکشن کمشنر کا استعفی ضرور بنتا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی،۔ نگران حکومتیں بھی ہمارے خلاف لگائی گئیں،الیکشن کمیشن انتخابات کے بعد بھی دھاندلی میں مصروف ہے، الیکشن کمیشن سے کوئی امید نہیں ،صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلا کر بالکل ٹھیک کیا ہے، پارٹی جیتی ہوئی ہے مگر مخصوص نشستیں نہیں دی جا رہیں، الیکشن میں پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی، پارٹی کو ختم کرنے کے لیے نو مئی کا استعمال کیا گیا، ظلم سے پارٹی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ سب سے مضبوط جماعت بن گئی، شریف خاندان کا جنازہ نکل گیا ہے

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل اور محمود خان اچکزئی کو غدار کہتے تھے لیکن آج اپنے فائدے کے لیے ان سے رابطے بڑھا رہے ہیں؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ہم ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے خلاف ہیں جنہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا، دھاندلی کر کے ہرائی جانے والی جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں ان کے ساتھ ملکر ملک بھر میں احتجاج کریں گے،صحافی نے سوال کیا کہ اگر محمود خان اچکزئی آپ کے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے؟ تاہم عمران خان سوال کا جواب دیے بغیر چلے گئے

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

  • نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری  کو طلب

    نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب

    اسلام آباد: نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 فروری کو طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 29 فروری کو قومی اسمبلی اجلاس کا وقت مقرر کر دیا اور اجلاس صبح دس بجے ہو گا، آئین کے آرٹیکل 91 کےتحت انتخابات کے 21 ویں روز قومی اسمبلی کااجلاس ہونا لازم ہےحکام قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطا بق صدر اجلاس 21ویں روز سے قبل بلا سکتے ہیں مگر انہوں نےنہیں بلایا، 21 ویں روز اجلاس ہونا لازم، صدر یا اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری مسترد کرکے واپس بھیج دی تھی، عارف علوی نے موقف اختیارکیا کہ پہلےخواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو مکمل کیا جائے، صدر کے فیصلے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں قومی اسمبلی میں ہنگامی اجلاس بلانےکا فیصلہ کیا تھا۔

    نگران وزیراعظم نے تمام سرکاری کام روکتے ہوئے سمریاں واپس بھیج دیں

    وفاقی وزیرتعلیم و تربیت مستعفی

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

  • ایف آئی اے اسد طور کو ہراساں نہ کرے، عدالت

    ایف آئی اے اسد طور کو ہراساں نہ کرے، عدالت

    صحافی و یوٹیوبراسد طور کو ایف آئی اے نوٹس کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،عدالت نے اسد طور کو ایف آئی اے کی انکوائری جوائن کرنے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو ہراساں نہ کیا جائے،درخواست گزار بھی ایف آئی اے کی انکوائری جوائن کرے،

    درخواست گزار وی لاگر کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں، ایمان مزاری نے کہا کہ ایف آئی اے نے بلا کر آٹھ گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا، ابیس اور چوبیس فروری کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیے جو غیر قانونی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے پوچھ لیتا ہوں، مفروضے پر کوئی آرڈر نہیں کر سکتا،

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے اسد طور کو طلب کر رکھا تھا، ایف آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے اسد طور کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا،صحافی اسد طور کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہم سے متعلق بیان کیلئے طلب کیا گیا تھا،اسد طور کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی

    دوسری جانب نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر غیرقانونی سرگرمیوں پر سخت کارروائی کرے گی، اظہار رائے کی آزادی قانون کے دائرے میں ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ عوام کو اُکسا رہے ہیں، کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کمپنیاں پروپیگنڈے کی روک تھام کے اقدامات کریں۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سابق رکن اسمبلی کے بیٹے کے ہاتھوں خاتون کی عصمت دری،بنائیں فحش ویڈیو

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    شہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    یونیورسٹی میں فحش ویڈیوز اور مبینہ نشے کی فروخت،عدالت میں درخواست دائر

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا،ایف آئی اے حرکت میں،صحافی بھی طلب