Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    زمین ملکیت کیس، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، سالہا سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کریں گے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے

    عدالت نے کیس کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کر دیا، درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    ملک بھر کے شہداکے لواحقین فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئےشہدا فورم بنالیا پیر کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے استحکام اور انسداد دہشت کردی کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں سپریم کورٹ شہدا کا خون رائیگاں نہ جانے دے اپنے فیصلےپر نظرثانی کرے

    انور زیب کا کہنا تھا کہ شہدا فورم کا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو سپریم کورٹ ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ شہدا کے فرزند اور بھائی کی حیثیت سے آپ سے بات کر رہا ہوں،ہم آج یہاں اپنے شہدا کےلیے جمع ہوئے ہیں،ہم نے جو قربانیاں دیں وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے دیں، خدارا ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہدا کے لواحقین کو رنج کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہدا نے اس ملک کےلیے قربانیاں دیں،

    شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے،کارگل وار میں 400 شہدا کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہم اپنے شہدا کا خون کبھی رائگاں نہیں ہونے دیں گے،محمد جمشید کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کوسانحہ قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا،2013 میں میرے والد نے بلوچستان میں بم دھماکے میں اپنی جان دی،اس شہید نے اپنے ملک سے جو وفا کرنی تھی وہ وہ کر گئے،اس قوم نے اس شہید سے جو وفا کرنی ہے وہ نظر نہیں آ رہی، اس ملک کی ملٹری کورٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سول کورٹ کی اتنی اتھارٹی نہیں کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کی جانچ کر سکےآپ کی زندگی سے کوئی چلا جائے تو آپ کو اس دکھ کا اندازہ ہوگا،

    میر فرید رئیسانی نے کہا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں ایک جج نے دہشت گرد کو سزا دی، جیسے ہی جج عدالت سے نکلا اس پر حملہ کر دیا گیا،چیف صاحب خدارا شہدا کی فیملیز کی طرف دیکھاجائے، میانوالی اور پسنی میں ہمارے لوگوں پر حملہ ہوچکا، میں اپنے شہدا کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کروں،12 ربیع الاول کے جلوس کے شرکاء کو شہید کر دیا گیا، 21 ڈی سیکشن کو بحال کیا جائے تاکہ کلبھوشن کی طرح کوئی اور دہشتگردی نہ کرے،کلبوشن نے یہاں لسانیت کی بنیاد پر دہشتگردی کروائی،سول کورٹس اتنی طاقتور نہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلے کر سکیں،اگر ہم اپنے ملک کے لیے اپنے والدین کو قربان کر سکتے ہیں تو دوہری شہریت کیا چیز ہے،

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    اسلام آباد(محمداویس)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کی نااہلی، موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو وفاقی دارالحکومت میں بھی سروس بہترکرنے کا کام نہ کرسکی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس پر پی ٹی اے لکھا گیا خط بھی کام نہ آیا،جج نے دوبارہ چیئرمین پی ٹی اے کو مسئلہ حل کرنے کے لیے خط لکھ دیا،موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے سائلین وکیلوں اور ججوں کو بھی مسائل ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں کسی بھی کمپنی کے صیحیح سروس نہیں ہے اس مفاد عامہ کے کام کے لیے سیشن کورٹس بار بار کہہ رہی ہیں لیکن کچھ نہیں ہو رہا اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس ایف ایٹ سے جی الیون منتقل ہوئے 5 ماہ ہو چکے ہزاروں افراد روزانہ ان ڈسٹرکٹ کورٹس میں آتے ہیں حیران کن بات یہ ہے وفاقی دارالحکومت کے مرکز میں ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب واقع اس کمپلیکس میں پہلے دن سے موبائل سنگلز بہت ہی کمزور ہیں پی ٹی اے نے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے نہ کسی اور نے توجہ دینے کی زحمت کی .

    اب سیشن جج ویسٹ نے چیئرمین پی ٹی اے کو ایک خط لکھا کہ ” کچھ ہفتے پہلے ہی ٹی اے کی ٹیم یہاں آئی وزٹ کیا لیکن آج تک کچھ نہیں کیا اس کمپلیکس میں 15 سے 20 ہزار افراد روزانہ مختلف کیسز اور دیگر امور لئے آتے ہیں پورے جوڈیشل کمپلیکس میں تمام موبائیل کمپنیوں کے سگنلز بہت کمزور ہی بعض اوقات سگنلز چلے جانے سے عدالتی امور بھی متاثر ہوتے ہیں کمزور موبائیل سگنلز سے جج ، وکلاء ، سائلین سب متاثر ہورہے ہیں کچھ ہفتے قبل پی ٹی اے ٹیم نے کمپلیکس کا دورہ کیا اقدامات کی یقین دہانی کرائی لیکن کچھ نہ ہوا اس لیے موبائل سگنلز سسٹم جلد از جلد جوڈیشل کمپلیکس میں انسٹال کرکے سگنلز کو ٹھیک کریں "ترجمان پی ٹی اے سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

     دنیا کا سب سے بڑا پروجیکٹ حکومت سندھ کی سیلاب متاثرین کے لئے ہاؤسنگ اسکیم ہے

     ہے گھرکی خواتین کے نام اس کی ملکیت کے کاغذات بھی دے رہی ہے

    pta

  • رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    نگران حکومت نے رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

    رجسٹرڈ افغان مہاجرین کیلئے رجسٹریشن کارڈ کی مدت میں 6 ماہ توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا،نگران وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری پر منظوری دیدی،پی او آر میں توسیع کا اطلاق رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور ان کے فیملی ممبرز پر ہوگا،وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے پی او آر کی مدت بڑھانے کی سفارش کی تھی،ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ نے پی او آر کی مدت میں 31 دسمبر 2023 تک توسیع کی تجویز دی،پی او آر میں توسیع کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے 31 دسمبر 2023 کیلئے ہوگا،رجسٹرڈ افغان مہاجرین کیلئے رجسٹریشن کارڈ کی مدت 30 جون 2023 کو ختم ہوگئی تھی،پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے ممبران بیرسٹر گوہر،بابر اعوان کی ملاقات ہوئی ہے

    پی ٹی آئی وفد نے ملاقات میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرنے کا مطالبہ کی،پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کو انتخابی مہم میں رکاوٹوں سے آگاہ کیا،ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن سے بابر اعوان اور میں نے ملاقات کی،ملاقات ہماری درخواست پر ہوئی، تقریبا 45 منٹ کی ملاقات ہوئی جس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبرز موجود تھے،ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ الیکشن کمیشن کو دیا، ہم نے کہا کہ ہمیں میٹنگ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بینرز پرنٹ نہیں ہونے دیئے جارہے،ایک نوٹیفیکیشن جاری کریں جس میں ہمیں فئیر اینڈ فئیر الیکشن کی مہم کی اجازت دی جائے،

    بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ہم نے یہ بھی کہا کہ نگران حکومت فنڈز جاری کررہی ہے جو نہیں کرسکتی،الیکٹرک کمپنیز کے ڈسکوز جاری کرنے والے ن لیگ کے امیدوار ہیں،ہمارا انتخابی نشان کا آرڈر ابھی تک ریلیز نہیں کیا گیا ان کو کہا ہے کہ تفصیلی آرڈر جاری کیا جائے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا، کوئی چئیرمن مائنس نہیں ہوگا جو چیرمین پی ٹی آئی ہیں وہ رہیں گے، الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے لیول پلیئنگ فیلڈ کے لئے کردار ادا کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے ہماری تمام جائز گذارشات پر کہا سب مانی جائیں گی،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،آج کی میٹنگ سے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا،

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • جیل ٹرائل،جج کی  تعیناتی، انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی

    جیل ٹرائل،جج کی تعیناتی، انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نےسماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے حوالے سے غلط رپورٹنگ ہوئی ہے ، اخبار کی وضاحت اتنی نہیں تھی جتنی غلط خبر لیڈنگ اخبار میں چھپی ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں بنچ پر مکمل اعتماد ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے موکل سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیں، اگر آپکو اس عدالت پر اعتماد نہیں تو بھی ہمیں بتا دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں اس عدالت پر مکمل اعتماد ہے، عدالت نے کہا کہ ایک معروف اخبار میں اس کیس سے متعلق غلط خبر شائع کی گئی،ہائیکورٹ نے اُس غلط خبر پر وضاحتی پریس ریلیز جاری کی، اخبار نے تردید شائع کی لیکن وہ اتنی واضح نہیں تھی جتنی کہ غلط خبر،

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بچوں کی جیل سماعت میں موجودگی کی درخواست خارج کر دی، 2 اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا،اگلے روز ایک دستاویز سامنے آیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کیلئے جیل ٹرائل کیا جا رہا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے میں کیا لکھا گیا؟ وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز سے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا،وزارت قانون کے بعد کے نوٹیفیکیشنز بھی پہلے نوٹیفکیشن کا تسلسل ہے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جیل وزٹ کے دوران ہم نے دیکھا تھا کہ وہاں ایک ہال ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میڈیا، فیملی ، پبلک اگر جیل ٹرائل دیکھنا چاہے تو ان کو اجازت ہونی چاہئے سب دیکھیں گے اس کیس میں جرم موجود ہی نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب incompatible manner میں ٹرائل آگے نہ بڑھایا جائے انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیئے،سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی
    سائفر کیس تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کی، دوران سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور کے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پراسیکیوٹر سپریم کورٹ میں مصروف ہیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل ایڈووکیٹ علی بخاری نے سماعت دو بجے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج خصوصی ڈویژن بنچ ہے، اسے کل کیلئے رکھ لیتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث سماعت کل تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ریاض کی یونیورسٹی کی 700  پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    ریاض کی یونیورسٹی کی 700 پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    سعودی عرب کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی سے ملاقات کی۔

    مدد علی سندھی نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور پر وقار ادارہ ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم کے معیار، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کو ترجیح دی ہے۔ وزیر تعلیم نے سعودی عرب کو QAU میں 15 ریسرچ فیلوشپس کی پیشکش بھی کی۔

    مدد علی سندھی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا کام اور کوششیں مثالی ہیں۔ وزیر نے IIUI میں سسٹمز کی اپ گریڈیشن کی تعریف کی۔ مدد علی سندھی نے کہا کہ IIUI میں تعلیم کا معیار ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کی قیادت میں مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

    مدد علی سندھی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان شریعت، عدلیہ کے کردار، اسلامی قانون اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تعلیمات کے حوالے سے تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے لیے فوری کام ہونا چاہیے۔ مدد نے کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی پہلو کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی جو کہ اب دی جاۓ گی۔

    مدد اور ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کرنے کے لیے یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کے تبادلے شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ ہم نے پاکستانی طلباء کو 700 وظائف کی پیشکش کی ہے اور ہم اس تعداد کو پاکستان کی وزارت تعلیم کی خواہش کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    وزیر تعلیم نے مدارس کے مذہبی رہنماؤں کو تربیت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور مملکت سعودی عرب پاکستان میں مدارس کے علماء کو تربیت دے کر مدد کر سکتی ہے۔ مد د نے پاکستانی عوام کے لیے عربی زبان کے کورسز بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ سعودی عرب میں عربی زبان کے بہترین ادارے ہیں جو فاصلاتی تعلیم یا اساتذہ کے تبادلے کے ذریعے اپنے پروگراموں کو پاکستان کی یونیورسٹیوں تک بڑھا سکتے ہیں۔

    رپورٹ، محمد اویس اسلام آباد