Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نواز شریف کے ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم

    نواز شریف کے ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جائیداد ضبطگی کے احکامات واپس لے لیے

    عدالت نے نواز شریف کے ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم دیے دیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے احکامات جاری کئے،عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی پراپرٹیز،گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس واپس کرنے کا حکم دیا

    واضح رہےکہ احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے بعد جائیداد ضبطگی کے احکامات اکتوبر 2020 میں دیے تھے جس کے بعد نواز شریف کی لاہور میں 1650 کنال سے زائد زرعی اراضی اور لگژری گاڑیاں ضبط کی گئی تھی، نواز شریف لندن سے پاکستان واپس آئے تو عدالت میں سرنڈ ر کیا، جس پر عدالت نے نواز شریف کو ضمانت دی تھی، نواز شریف نے عدالت میں اثاثوں کی واپسی کی بھی درخواست دائر کی تھی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اعتراضات اٹھا دئیے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے اعتراضات سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرا دیئے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق کی کونسل میں شمولیت پر اعتراض کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے جسٹس نعیم اختر افغان پر بھی اعتراض کیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے ریفرنس اور شواہد کی نقول بھی مانگ لیں،

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جس انداز سے میرے خلاف کارروائی شروع کی گئی اِس سے میرے بنیادی قانونی حقوق سلب کئے گئے، انصاف کے صحیح تقاضے پورے کرنے کیلئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو میرے خلاف کیس نہیں سننا چاہئیے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرا دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ممبران میرے بارے میں جانبدار ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کا حصہ ہیں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے ممبران کو میرے خلاف جوڈیشل کمیشن کا حصہ نہیں ہونا چاہیے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم افغان کو میرے خلاف کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے جانبدار سپریم جوڈیشل کونسل کا جاری کردہ اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جانبدار ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا سپریم جوڈیشل کونسل اکثریت سے صرف حتمی رائے صدر مملکت کو بھجوا سکتی ہے جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو رولزبنانے کی اجازت ہی نہیں دیتا، چیف جسٹس اور جسٹس سردار طارق جوڈیشل کونسل رولزکوپہلے ہی غیر آئینی کہہ چکے ہیں، شوکاز نوٹس میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی دونوں ججز نے کوئی وجہ نہیں بتائی شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں بحث ہوئی نہ کسی سے معلومات لی گئیں جسٹس سردار طارق کے کیس میں کونسل نے شکایت کنندہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور شواہد مانگے میرے کیس میں شکایت کنندہ کو بلایا نہ ہی مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا جو موقع جسٹس سردارطارق کوکونسل کی جانب سے دیا گیا وہ مجھے نہیں ملا، میرے خلاف کارروائی سیاسی ایما پر ہو رہی ہے، میرے خلاف کارروائی غیر قانونی اور نامناسب ہے

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • اعجاز چودھری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اعجاز چودھری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،غزہ کی صورتحال پر سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں شرکت کیلئے سینیٹر اعجاز چوہدری کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سینیٹر اعجاز چوہدری کی پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،سینیٹر اعجاز چوہدری کی جانب سے وکلاء عمیر نیازی اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے،وکیل نے کہا کہ ہم نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے درخواست دی لیکن عمل درآمد نہیں ہوا، سینٹ کا اجلاس کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا جائے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو سینٹ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے جس بھی ممبر کو بلائیں،یہ سینٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ عدالت ایسی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی،وکیل نے کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں شرکت کی اجازت ہونی چاہئے، پہلے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے اسپیکر نے پروڈکشن جاری کئے تھے،اب سینٹ اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈر ہی جاری نہیں کئے جا رہے،چیئرمین سینٹ کو ہدایات دی جائیں کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری کریں،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا عدالت چیئرمین سینٹ کو ہدایات دے سکتی ہے؟ درخواست گزار سینٹ کا ممبر ہے سینٹ نے بلانا ہے کورٹ نے نہیں،عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    اعجاز چودھری کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، اعجاز چودھری پر نو مئی کے روز احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کا الزام ہے ، اعجاز چودھری کی آڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ بیٹے کے ساتھ بات کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ جناح ہاؤس میں ہم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے

  • مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    زمین ملکیت کیس، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، سالہا سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کریں گے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے

    عدالت نے کیس کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کر دیا، درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    ملک بھر کے شہداکے لواحقین فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئےشہدا فورم بنالیا پیر کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے استحکام اور انسداد دہشت کردی کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں سپریم کورٹ شہدا کا خون رائیگاں نہ جانے دے اپنے فیصلےپر نظرثانی کرے

    انور زیب کا کہنا تھا کہ شہدا فورم کا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو سپریم کورٹ ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ شہدا کے فرزند اور بھائی کی حیثیت سے آپ سے بات کر رہا ہوں،ہم آج یہاں اپنے شہدا کےلیے جمع ہوئے ہیں،ہم نے جو قربانیاں دیں وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے دیں، خدارا ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہدا کے لواحقین کو رنج کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہدا نے اس ملک کےلیے قربانیاں دیں،

    شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے،کارگل وار میں 400 شہدا کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہم اپنے شہدا کا خون کبھی رائگاں نہیں ہونے دیں گے،محمد جمشید کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کوسانحہ قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا،2013 میں میرے والد نے بلوچستان میں بم دھماکے میں اپنی جان دی،اس شہید نے اپنے ملک سے جو وفا کرنی تھی وہ وہ کر گئے،اس قوم نے اس شہید سے جو وفا کرنی ہے وہ نظر نہیں آ رہی، اس ملک کی ملٹری کورٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سول کورٹ کی اتنی اتھارٹی نہیں کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کی جانچ کر سکےآپ کی زندگی سے کوئی چلا جائے تو آپ کو اس دکھ کا اندازہ ہوگا،

    میر فرید رئیسانی نے کہا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں ایک جج نے دہشت گرد کو سزا دی، جیسے ہی جج عدالت سے نکلا اس پر حملہ کر دیا گیا،چیف صاحب خدارا شہدا کی فیملیز کی طرف دیکھاجائے، میانوالی اور پسنی میں ہمارے لوگوں پر حملہ ہوچکا، میں اپنے شہدا کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کروں،12 ربیع الاول کے جلوس کے شرکاء کو شہید کر دیا گیا، 21 ڈی سیکشن کو بحال کیا جائے تاکہ کلبھوشن کی طرح کوئی اور دہشتگردی نہ کرے،کلبوشن نے یہاں لسانیت کی بنیاد پر دہشتگردی کروائی،سول کورٹس اتنی طاقتور نہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلے کر سکیں،اگر ہم اپنے ملک کے لیے اپنے والدین کو قربان کر سکتے ہیں تو دوہری شہریت کیا چیز ہے،

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    اسلام آباد(محمداویس)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کی نااہلی، موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو وفاقی دارالحکومت میں بھی سروس بہترکرنے کا کام نہ کرسکی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس پر پی ٹی اے لکھا گیا خط بھی کام نہ آیا،جج نے دوبارہ چیئرمین پی ٹی اے کو مسئلہ حل کرنے کے لیے خط لکھ دیا،موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے سائلین وکیلوں اور ججوں کو بھی مسائل ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں کسی بھی کمپنی کے صیحیح سروس نہیں ہے اس مفاد عامہ کے کام کے لیے سیشن کورٹس بار بار کہہ رہی ہیں لیکن کچھ نہیں ہو رہا اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس ایف ایٹ سے جی الیون منتقل ہوئے 5 ماہ ہو چکے ہزاروں افراد روزانہ ان ڈسٹرکٹ کورٹس میں آتے ہیں حیران کن بات یہ ہے وفاقی دارالحکومت کے مرکز میں ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب واقع اس کمپلیکس میں پہلے دن سے موبائل سنگلز بہت ہی کمزور ہیں پی ٹی اے نے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے نہ کسی اور نے توجہ دینے کی زحمت کی .

    اب سیشن جج ویسٹ نے چیئرمین پی ٹی اے کو ایک خط لکھا کہ ” کچھ ہفتے پہلے ہی ٹی اے کی ٹیم یہاں آئی وزٹ کیا لیکن آج تک کچھ نہیں کیا اس کمپلیکس میں 15 سے 20 ہزار افراد روزانہ مختلف کیسز اور دیگر امور لئے آتے ہیں پورے جوڈیشل کمپلیکس میں تمام موبائیل کمپنیوں کے سگنلز بہت کمزور ہی بعض اوقات سگنلز چلے جانے سے عدالتی امور بھی متاثر ہوتے ہیں کمزور موبائیل سگنلز سے جج ، وکلاء ، سائلین سب متاثر ہورہے ہیں کچھ ہفتے قبل پی ٹی اے ٹیم نے کمپلیکس کا دورہ کیا اقدامات کی یقین دہانی کرائی لیکن کچھ نہ ہوا اس لیے موبائل سگنلز سسٹم جلد از جلد جوڈیشل کمپلیکس میں انسٹال کرکے سگنلز کو ٹھیک کریں "ترجمان پی ٹی اے سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

     دنیا کا سب سے بڑا پروجیکٹ حکومت سندھ کی سیلاب متاثرین کے لئے ہاؤسنگ اسکیم ہے

     ہے گھرکی خواتین کے نام اس کی ملکیت کے کاغذات بھی دے رہی ہے

    pta

  • رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق نگران حکومت کا بڑا فیصلہ

    نگران حکومت نے رجسڑڈ افغان مہاجرین سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

    رجسٹرڈ افغان مہاجرین کیلئے رجسٹریشن کارڈ کی مدت میں 6 ماہ توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا،نگران وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری پر منظوری دیدی،پی او آر میں توسیع کا اطلاق رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور ان کے فیملی ممبرز پر ہوگا،وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے پی او آر کی مدت بڑھانے کی سفارش کی تھی،ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ نے پی او آر کی مدت میں 31 دسمبر 2023 تک توسیع کی تجویز دی،پی او آر میں توسیع کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے 31 دسمبر 2023 کیلئے ہوگا،رجسٹرڈ افغان مہاجرین کیلئے رجسٹریشن کارڈ کی مدت 30 جون 2023 کو ختم ہوگئی تھی،پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا،الیکشن کمیشن کی تحریک انصاف کو یقین دہانی

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے ممبران بیرسٹر گوہر،بابر اعوان کی ملاقات ہوئی ہے

    پی ٹی آئی وفد نے ملاقات میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرنے کا مطالبہ کی،پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کو انتخابی مہم میں رکاوٹوں سے آگاہ کیا،ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن سے بابر اعوان اور میں نے ملاقات کی،ملاقات ہماری درخواست پر ہوئی، تقریبا 45 منٹ کی ملاقات ہوئی جس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبرز موجود تھے،ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ الیکشن کمیشن کو دیا، ہم نے کہا کہ ہمیں میٹنگ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بینرز پرنٹ نہیں ہونے دیئے جارہے،ایک نوٹیفیکیشن جاری کریں جس میں ہمیں فئیر اینڈ فئیر الیکشن کی مہم کی اجازت دی جائے،

    بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ہم نے یہ بھی کہا کہ نگران حکومت فنڈز جاری کررہی ہے جو نہیں کرسکتی،الیکٹرک کمپنیز کے ڈسکوز جاری کرنے والے ن لیگ کے امیدوار ہیں،ہمارا انتخابی نشان کا آرڈر ابھی تک ریلیز نہیں کیا گیا ان کو کہا ہے کہ تفصیلی آرڈر جاری کیا جائے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیٹ کا نشان پی ٹی آئی کا ہی ہوگا، کوئی چئیرمن مائنس نہیں ہوگا جو چیرمین پی ٹی آئی ہیں وہ رہیں گے، الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے لیول پلیئنگ فیلڈ کے لئے کردار ادا کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے ہماری تمام جائز گذارشات پر کہا سب مانی جائیں گی،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،آج کی میٹنگ سے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا،

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات