Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت دائر

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت دائر

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی ،

    شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر اعتراضات کیساتھ سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کی . عدالت نے کہا کہ آپ نے دستاویزات ترتیب سے نہیں لگائیں اس لئے اعتراض لگا آپ دستاویزات کو ترتیب سےلگا کردوبارہ دے دیں.وکیل علی بخاری نے کہاکہ ہماری درخواست فوری معاملہ ہے اس لئے اگر جناب نوٹس فرما دیتے تو،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ دستاویزات ترتیب سے دے دیں پھر اس پر نوٹس جاری کردیتےہیں

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ایران جنگ بندی چاہتا ہے.  حسین امیرعبداللہیان

    ایران جنگ بندی چاہتا ہے. حسین امیرعبداللہیان

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کا کہنا ہے کہ ایران غزہ جنگ کا پھیلاؤ نہیں چاہتا ، آج سی این این سے گفتگو میں حسین امیرعبداللہیان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ جنگ پھیلے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر جانتا تھا حماس اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن امریکی انٹیلی جنس کی ابتدائی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ایرانی رہنما اس حملے سے حیران ہوئے۔

    امیرعبداللہیان نے حملوں سے ایران کے براہ راست تعلق کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہمیشہ سیاسی میڈیا اور فلسطین کے لیے بین الاقوامی حمایت رہی ہے۔ ہم نے اس سے کبھی انکار نہیں کیا تاہم امیرعبداللہیان نےمزید کہا کہ بغیر ثبوت فراہم کیے ایران کو خطے میں کسی بھی حملے سے جوڑنا ”بالکل غلط“ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خطے کے لوگ ناراض ہیں انہیں ہماری طرف سے احکامات موصول نہیں ہو رہے۔ وہ اپنے مفاد کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہوا، حماس نے کیا، وہ مکمل طور پر فلسطینی ردعمل تھا، واضح رہے کہ امریکا نے بھی منگل کو اقوام متحدہ کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ نہیں چاہتا، لیکن وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا اس کی پراکسیوں نے کہیں بھی امریکی اہلکاروں پر حملہ کیا تو واشنگٹن فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

    یاد رہے کہ پینٹاگون نے جمعرات کو کہا کہ امریکی فوج نے مشرقی شام میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے والے دو مقامات پر حملے کیے جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور اس کی حمایت کرنے والے گروپوں کے زیر استعمال ہیں۔

  • ایم کیو ایم پاکستان کا  کراچی میں  سیاسی قوت کا مظاہرہ

    ایم کیو ایم پاکستان کا کراچی میں سیاسی قوت کا مظاہرہ

    کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان نے سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس میں بڑی تعداد میں کارکنان نے لیاقت آباد کے اسٹوڈنٹس گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے میں شرکت کی جبکہ پارٹی کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے مگر سندھ کے شہری علاقوں کی خلیج باٹنے کی تمام قربانی ایم کیوایم دے چکی اور جلسے سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ صوبوں کو بھی ایک ایڈمنسٹریٹو یونٹ سمجھتی ہے۔ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے، صوبے دھرتی ماں نہیں ہوسکتے۔

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ جس قوم نے آزادی دی پاکستان کو جینے کا جواز دیا ان کو کیا دیا گیا، ہمیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو اب یہ دیوار اس قابل نہیں اور گر جائے گی جبکہ میں جمہوریت کے ساتھ اور جاگیر دارانہ نظام کیخلاف کھڑا ہوں، اب ایوان اور بیلٹ فیصلہ نہیں کریگا تو روڈ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔

    خالد مقبول کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے، پاکستان کو تینوں صوبے مل کر سولہ سو چالیس ارب دیتے ہیں، صرف کراچی ہی ایک ہزار چالیس ارب پاکستان کے خزانوں میں دیتا ہے تاہم یاد رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں۔ اس حوالے سے لیاقت آباد کے اسٹوڈنٹس گراؤنڈ میں جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں دس ہزار سے زائد کرسیاں لگائی گئیں۔

  • مری کی  چھا نگلہ گلی اور نواز شریف کی خفیہ ملاقاتیں

    مری کی چھا نگلہ گلی اور نواز شریف کی خفیہ ملاقاتیں

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ان دنوں مری کے نواحی علاقے چھا نگلہ کے مقام پر اپنی رہائش گاہ پر رہ رہے ہیں اور اس میں انکے ساتھ مریم نواز اور جنید صفدر کے علاوہ دیگر فیملی ممبران بھی موجود ہیں جبکہ نواز شریف سے مسلم لیگ کے قاٸدین کے علاوہ اہم سرکاری شخصیات کی بھی ملاقاتیں جاری ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ قائد ن لیگ اور مریم نواز کے درمیان آئندہ عام انتخابات میں سیاسی صورت حال پر طویل مشاورت جاری ہے اور اس سلسلے میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ نواز شریف قانونی ماہرین سے بھی آٸندہ کے لاٸحہ عمل پر ٹیلی فون کے ذریعے مشاورت کر رہے ہیں، اور چھانگلہ گلی جہاں ان دنوں شدید سردی پاٸی جاتی ہے اور یہاں نواز شریف کی رہاٸش گاہ پر گیس کی سہولت بھی میسر نہیں ہے جہاں پر شام کے وقت آتش دان جلا کر موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ اپنے باورچی کے ذریعے مزے مزے کے کھانوں سے بھی خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

    تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اگلے دو روز تک مری میں ہی قیام کریں گے۔ جبکہ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور پارٹی رہنماؤں نے ملاقاتیں کیں تھیں، سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں کامیاب ہو کرعوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں گے، نوازشریف کی قیادت میں ملک کو معاشی قوت بنائیں گے اور قوم کی امیدوں پر پورا اترے گے، 21 اکتوبر کے جلسے سے پارٹی کو بہت جذبہ ملا ہے۔

  • سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس،عام انتخابات،نیب ترامیم کیس،اگلے ہفتے مقرر

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا،

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے ،بنچ ایک چیف جسٹس قاضی فائز عیسی،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین پر مشتمل ہوگا ،بنچ دو میں جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک ہونگے ،بنچ تین جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا ،بنچ چار میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہونگے ،بنچ پانچ جسٹس منیب اختر،جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہوگا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت منگل کو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کرے گا،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہونگے ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بنچ کا حصہ ہونگے

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا ,90 روز میں انتخابات کرانے سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کو ہوگی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس، شیخ رشید نے بھی درخواست واپسی کی استدعا کر دی
    دوسری جانب سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس،چیئرمین عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ میرا تحریکِ لبیک یا ان کے شرکاء سے کوئی تعلق نہیں ہےمیرا تحریک لبیک کیساتھ کوئی رابطہ نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، میں اپنی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

  • نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    نگران حکومت کا وفاقی دارالحکومت کے دونوں بڑے ہسپتال فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(محمداویس)وفاقی وزارت قومی صحت کا وزارت کے زیر انتظام اداروں میں کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد، شہر کے دونوں بڑے ہسپتالوں میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے انتظامی عہدوں پر مستقل تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا،فوج سے دو حاضر سروس افسران مانگ لئے ۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق وزارت قومی صحت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ہسپتال(ایف جی پی سی) میں مستقل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو خط لکھ کر قابل اور اہل افسران کی تعیناتی کیلئے مدد مانگ لی ہے،باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع کو لکھے گئے خط میں وزارت صحت حکام نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں پمز اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں مستقل بنیادوں گریڈ اکیس کے قابل اور اہل افسران کی ضرورت ہے جو کہ وزارت صحت میں میسر نہیں ہے وزرات دفاع دونوں انتظامی افسران کی تعیناتی کیلئے افسران نامزد کرے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے دونوں ہسپتالوں میں وزارت قومی صحت کے تحت کام کرنیوالے تجربہ کار قابل اور ماہر افسران موجود ہیں تاہم وزارت صحت کیجانب سے اپنی وزارت کے ماتحت کام کرنیوالے افسران پر عدم اعتماد کا اظہار اور کسی دوسری وزارت کو خط لکھ کر مدد طلب کرنے کی یہ نرالی منطق ناقابل فہم ہے

    بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،ترجمان وزارت صحت
    دوسری جانب خبر کے ایک دن بعد ترجمان وزارت صحت کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی ریکروٹمنٹ رولز کے مطابق ہو گی ،اس سلسلے میں مروجہ طریقے کار کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے گا ، اس سلسلے میں انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں ، یہ فیصلہ وفاقی وزیر صحت کی سربراہی میں25 اگست 2023 ایک اجلاس میں ہوا تھا ،حکومت بھرتیوں میں شفافیت اور میرٹ پر سختی سے عمل کرنے کا عزم رکھتی ھے ،اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات /مفروضوں پر دھیان نہ دیں، کوئی غیر مصدقہ اطلاع اور مہم ہمیں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے مشن سے نہیں روک سکتی،وزارت صحت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے بہترین امیدواروں کے انتخاب کا عزم رکھتی ھے

    ترجمان وزارت صحت سے جب سوال پوچھے گئے تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا، ترجمان وزارت صحت سے پوچھے گئے سوالوں میں کہا گیا تھا کہ ساجد شاہ صاحب ہسپتالوں کے سربراہان کی بھرتی نہیں ہونی تعیناتی ہو گی اور وہ بھی گریڈ اکیس کے افسر کی جسکی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو ہے، وزارت نے کس انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں ؟ اور یہ بھی واضح کر دیں اس ردعمل کے بعد ہم یہ سمجھیں کہ وزارت نے جو خط وزارت دفاع کو لکھا وہ منسوخ ہوگیا یے؟ کیونکہ یہ مروجہ طریقہ کے تحت نہیں،میڈیا اور سوشل میڈیا پر تو وزارت کا جاری کیا گیا خط وائرل ہے کیا وہ مفروضہ اور غیر مصدقہ ہے ؟

    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی اسلام آباد کا ہنگامی اجلاس ،وزارت صحت کی طرف سے وفاقی دارالحکومت کے 2 بڑے ہسپتال پمز اور پولی کلینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی اسامیوں پر فوجی افسران کی تعیناتی کیلئے سیکرٹری دفاع کو لکھے گئے خط کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے ڈاکٹر میاں رشید ،ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ ،ڈاکٹر محمد اجمل ،ڈاکٹر عابد سعید،ڈاکٹر عمر فاروق ،ڈاکٹر رانا جاوید اور دیگر نے کہا کہ ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ وزارت صحت کو متنبہ کرتی ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہے۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام سول ڈاکٹرز کی توہین ہے ۔وزارت نے خط لکھ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔وزارت صحت کے اس اقدام سے سول سوسائٹی اور ادارے کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔پی ایم اے اسلام اپنے اداروں پر مکمل اعتماد کرتی ہے،ہمیں مکمل یقین ہے کہ مذکورہ ادارہ بھی وزارت صحت کے اقدام کا خیر مقدم نہیں کرے گا ۔پی ایم اے اسلام آباد کے مطابق ایسوسی ایشن ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    letter

  • کشمیریوں نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طورپر منایا

    کشمیریوں نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طورپر منایا

    اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیراور جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام 27 اکتوبر یوم سیاہ کے موقع پر اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھرمیں مقیم کشمیریوں نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طورپر منایا ۔ اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیراور جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام یوم سیاہ کے موقع پر اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرے کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما غلام محمد صفی نے کی جبکہ وزیر حکومت احمد رضا قادری نے آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مظاہرے سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل شیخ عبد المتین، سینئر حریت رہنما سید یوسف نسیم ،داود خان یوسفزئی ، راجہ شاہین ، سید گلشن اقبال ،شوکت بٹ ،انجینئر حمزہ محبوب ، زاہد اشرف ، مہتاب اشرف ،ڈائریکٹر لبریشن سیل سرور حسین گلگتی، راجہ خان افسر خان ، پاکستان مسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما سردار محمد صدیق ،نثار مرزا، سردار عبد الماجد ، سردار ساجد محمود ، سردار عظیم سرور،انچارج ڈیجیٹل میڈیا لبریشن سیل سردار نجیب الغفور خان، انعام الحسن کاشمیری، راجہ راشد رضا ، حکیم ندیم قادری ،سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    وزیر حکومت احمد رضا قادری نے کہا کہ 27 اکتوبر1947 کو بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برخلاف اپنی فوج سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتار کر جموں وکشمیر پرغیر قانونی اور غیر اخلاقی طورپر قبضہ کر لیاتھا۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام قانون تقسیم ہندوستان ، دو قومی نظریہ ، تمام ملکی اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلا ف ورزی اور کشمیری قوم کی خواہشات کے خلاف تھا ۔ہندوتوا کی پالیسی کا سب سے بڑا مظہر 27 اکتوبر کو ریاست پر ظالمانہ و غاصبانہ قبضہ تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے نے بھارت سے الحاق کی دستاویزات پر اپنے والد کے دستخطوں سے انکار کیا ہے۔بھارت نے کل ورکنگ بائونڈری پر پاکستانی علاقے میں اپنا ڈرون بھیج کر ہمیں اشتعال دلانے کی بھونڈی کوشش کی ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا ایشو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مساوات کے عظیم جذبے کے تحت جلد حل کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا میں امن قائم ہوسکے۔

    سینئر حریت رہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں کشمیریوں کا قتل عام بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے اور کشمیرمیں بھارتی قابض فوج کی بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیاں فورسز کو حاصل غیر ضروری اختیارات کا نتیجہ ہیں۔مقررین نے 27اکتوبر1947 کوجموں وکشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قراردیا جب بھارتی افواج نے زبردستی کشمیر میں داخل ہوکر کشمیریوں کی آزادی اور تمام جمہوری حقوق کو سلب کر کے اس سرزمین پر زبردستی قبضہ کرلیا تھا اور تب سے آج تک کشمیری عوام پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اورکشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے ہرقسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ حریت قائدین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کرر ہا ہے اور مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے تاہم کشمیری عوام بھارت کو اسکے ناپاک عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ حریت قائدین نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ دنوں میں کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کشمیریوں نوجوانوں کی نسل کشیُ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انھوں ٠نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ کشمیری ہر قیمت پر اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی مبنی بر انصاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کریں۔احتجاجی مظاہرہ کے اختتام پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کو بھارتی مظالم ، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، اور ریاست میں ڈیموگریفک تبدیلیوں کی مذمت اور حق خودارادیت کے حصول اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے مطالبے پر مبنی یادداشت پیش کی گئی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سردار نجیب الغفور خان نے ادا کئے ۔

  • ہمارے نظام عدل میں لاکھوں مقدمات فیصلے کے منتظر. خواجہ آصف

    ہمارے نظام عدل میں لاکھوں مقدمات فیصلے کے منتظر. خواجہ آصف

    سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "ہمارے نظام عدل میں لاکھوں اپیلیں/مقدمات فیصلے کے منتظر ھیں۔ سول مقدمات میں نسلیں انتظار میں مر جاتی ھیں فیصلے نہیں ھوتے۔ اسی طرح فوجداری مقدمات پھانسی یا قید کے متعلقہ فریق فیصلوں کے انتظار میں سالوں قید میں گزار دیتے ھیں انصاف نہیں ملتا۔ ایسی بے شمار مثالیں ھیں سالوں کی تاخیر کےبعد اپیل میں ملزم بری ھو تے ھیں تو وہ عمر کا بڑا حصہ ھمار ے نظام عدل کی بے حسی کی وجہ سے جیل میں گزا ر چکے ھوتے ھیں پورے خاندان تباہ ھو جاتے ھیں ۔ "


    جبکہ انہوں نے مزید لکھا کہ "شاید انصاف کی کرسی پہ بیٹھے منصفوں نے انگریزی کی کہاوت نہیں سنی justice delayed is justice denied
    اللہ سے ڈریں دنیا میں نہیں تو آخرت میں حساب اٹل ہے.”
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قومی ٹیم کو اپنے بقیہ میچز جیتنے کے ساتھ دوسری ٹیموں پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔
    لیوسٹن ماس شوٹر ، جسکی تلاش میں بدستور لاک ڈاؤن برقرار
    راولپنڈی پولیس کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے تفتیش کی اجازت مل گئی
    سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی وجہ سامنے آگئی
    تاہم اس کے جواب میں ایک صارف نے لکھا یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ عدالتیں نواز شریف کو تو 420 کی سپیڈ سے انصاف دے رہی ہیں اور باقی کیس لٹکے ہوئے ہیں ؟ مجھے تو یہی سمجھ آ رہی ہے۔ کل جب عدالت نے نواز شریف کے حق میں تیز ترین انصاف دیا اُسوقت تو آپ قہقہے لگا کر ہنس رہے تھے۔اُسی وقت آپ نے جج کے سامنے یہی بات کیوں نہ کی؟

  • صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان  گرفتار

    صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان گرفتار

    سکھر پولیس نے کچے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ کچے میں جاری آپریشن میں اہم پیش رفت سامنے آگئی جس میں صحافی جان محمد مہرکے قتل میں ملوث گرفتار کیے گئے 3 نامزد ملزمان میں شیرمحمد شیخ، رمضان شیخ اور بشیر مہر شامل ہیں۔ جبکہ ایس ایس پی سکھر کے مطابق جاں محمد مہر کے قتل کا منصوبہ شیر محمد شیخ کے گھر میں بنایا گیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ واردات کے بعد بشیر مہر نے ملزمان کو پناہ دی، ملزمان کو کچے میں محفوظ مقام فراہم کیا گیا۔

    خیال رہے کہ دو ماہ قبل صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کو قتل کردیا گیا تھا اور جان محمد مہر آفس سے گھر جارہے تھے کہ قاسم پارک کے قریب مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا جس کے بعد جان محمد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافی جان محمد مہر کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو صحافی جان محمد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ساتھ ہی ان کے بلند درجات اور ورثا کے صبر کے لیے دعا بھی کی تھی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی جان محمد مہر کے بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی اور جملہ لواحقین کے صبر جمیل کی دعا بھی کی تھی انصاف کا وعدہ کیا تھا.

  • فواد حسن فواد کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا  رکن مقرر کردیا گیا

    فواد حسن فواد کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا رکن مقرر کردیا گیا

    نگراں وزیر نجکاری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہنے والے فواد حسن فواد کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے رکن مقرر کردیا گیا ہے جبکہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نگراں وزیر نجکاری کی بطور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے رکن کی منظوری دے دی، وزیر نجکاری کی شمولیت کے بعد ای سی سی ارکان کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے اور نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اقتصادی رابطہ کمیٹی کی چیئر پرسن ہیں، کمیٹی اراکین میں تجارت، قانون، توانائی اور مواصلات کے وزراء شامل ہیں، نگراں وزیر منصوبہ بندی اور وزیر آئی ٹی بھی ای سی سی اراکین میں شامل ہیں۔

    تاہم واضح رہے کہ صدرمملکت عارف علوی نے فواد حسن فواد کو نگراں وفاقی وزیرمقررکیا تھا اور فواد حسن فواد کی تقرری کی منظوری نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے مشورے پر آرٹیکل 224 ون (اے) کے تحت کی گئی تھی.

    راولپنڈی پولیس کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے تفتیش کی اجازت مل گئی
    سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی وجہ سامنے آگئی
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی دن
    مختلف وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    خیال رہے کہ فواد حسن فواد عمران خان دور میں جیل میں بھی رہے ہیں‌اور لمبا عرصہ سزا بھگتی خیال کیا جاتا ہے انہیں نواز شریف کا کافی وفادار سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی باتیں چل رہی ہیں انہیں نواز شریف نے ہی اس عہدہ پر برجمان کروایا ہے.