Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • شہریوں کی کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟عدالت

    شہریوں کی کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟عدالت

    آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،

    کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی، وفاقی حکومت نے عدالت کو آگاہ کر دیا ،جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم جاری کیا ، عدالت نے سوال کیا کہ شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا وہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس سے متعلق مشاورت کریں گے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ مشاورت کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے، وزیراعظم کے سیکرٹری، سیکرٹری دفاع و داخلہ اور چیرمین پی ٹی اے نے اپنا جواب جمع کرایا، حکومت کے جواب کے مطابق کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی، حکومت کے جواب کے مطابق شہریوں کے فون ٹیپنگ یا سرویلینس کے لئے جج سے وارنٹ لیا جا سکتا ہے، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں،

    وزیراعظم آفس بتائے فون ٹیپنگ کی اجازت دی گئی؟ کسی کو اختیار دیا گیا یا وارنٹ حاصل کیے گئے؟ وفاقی حکومت کی جانب سے اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو تفصیلات جمع کرائیں، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری متعلقہ وزارتوں اور حساس اداروں نے سربراہان سے معاونت لے سکتے ہیں،عدالت امید کرتی ہے کہ وفاقی حکومت مطلوبہ معلومات کے ساتھ ایک واضح رپورٹ پیش کرے گی،پاکستان کے پاس باصلاحیت اور فعال نیشنل سیکورٹی انفراسٹرکچر موجود ہے،یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر کسی دشمن ایجنسی نے ملک کے اعلی ترین پبلک آفس کی کالز ریکارڈ کر لیں، یہ بھی نہیں مانا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر غیر ریاستی عناصر نے وزیراعظم آفس کی کال ریکارڈ کی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • سابق صدر آصف زرداری کو احتساب عدالت نے کیا طلب

    سابق صدر آصف زرداری کو احتساب عدالت نے کیا طلب

    احتساب عدالت اسلام آباد: ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس ،عدالت نے سابق صدرپاکستان آصف علی زرداری سمیت 15 ملزمان کو طلب کرلیا۔

    عدالت نے تمام ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کردیے۔عدالت نے ملزمان کو 18 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ملزمان میں سابق سیکرٹری اعجاز احمد خان، علی اکبر، اعجاز میمن، علی اکبر ابرو، بھی شامل ہیں،خواجہ عبدالغنی مجید، مناہل مجید، عبدالندیم بھٹو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں

    واضح رہے کہ نیب ترامیم کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی ختم کردی گئی تھی جبکہ احتساب عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے پر ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیاتھا،تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ کیس کھل گیا،

    حدیث اور سائنس کی روشنی میں کرونا وائرس 12مئی کے بعد ختم ہوجائے گا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

  • ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی
    اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلاء روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں، کیا ابصار عالم یہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ راستے میں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے،آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کہا کہ وفاقی حکومت فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل اسی سلسلے کی کڑی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہآپ نے ٹی او آرز اتنے وسیع کر دئے کہ ہر کوئی بری ہو جائے گا،اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ کون سے مخصوص واقعہ کی انکوائری کرنی ہے،ہمارا کام حکم کرنا ہے آپ کا کام اس پر عمل کرانا ہے.جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تب لوگ سبق لیں گے،حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے،اربوں روپے کا نقصان ہوا لیکن سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،6 فروری 2019 سے آج تک فیض آباد کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا کہ میں جو بھی کروں مجھے کوئی پوچھ نہیں سکتا، جس طرح نظرثانی درخواستیں واپس لی جارہی ہیں لگتا ہے کوئی ادارہ آزاد نہیں،کیا کینیڈا سے آنے والے نے ٹکٹ خود خریدی تھی؟ پاکستان کا اتنا ہی درد ہے تو یہاں آ کر کیوں نہیں رہتے؟ کیا ہماری حکومت نےکینیڈا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر انکے پورے ملک کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں؟

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی فیصلے کے بعد ملک آئین پر چل رہا ہے؟کیا آپ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ آج ملک آئین کے مطابق چل رہا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پر آج تک عمل کیوں نہیں کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے،

    عدالت نے پیمرا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے سابق چیئرمین کا بیان حلفی پڑھا ہے؟ پیمرا وکیل نے کہا کہ ابصار عالم کا بیان حلفی مجھے ابھی ملا ہے، عدالت نے سینئر وکیل حافظ ایس اے رحمان پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو بیان حلفی گھر جا کر دیتے؟ عدالت نے ڈی جی آپریشنز پیمرا کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کالا کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے؟ کیا آپ وکیل ہیں؟ ڈی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ کالا رنگ روٹین میں پہنا ہے،

    سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کر لیا ، چیرمین پیمرا کو ابصار عالم کے بیان حلفی کے حوالے سے طلب کیا گیا کیس کی مزید سماعت ساڑھے گیارہ بجے ہوگی.

    فیض آباد دھرنا کیس کی وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی،چئیرمن پیمرا سلیم بیگ روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین ابصار عالم نے ایک بیان حلفی دیا ہے،ہمیں تعجب ہوا،آپ کے وکیل نے کہا کہ وہ بیان حلفی پڑھا ہی نہیں ،چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے عدالت میں کہا کہ ابصار عالم نے جو کہا وہ انہی کے ساتھ ہوا ہو گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ یہ کبھی نہیں ہوا، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے کہا کہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا،ابصار عالم نے جو کچھ کہا مجھے ان حقائق کا علم نہیں، ریکارڈ چیک ہوسکتا ہے مگر جو ابصار عالم کے ساتھ ذاتی طور پر ہوا اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے میں کسی کو مارنا، تنگ کرنا نہیں آتا، کوئی ٹی وی چینل لوگوں کو فساد کیلئے اکسائے تو یہ آزادی اظہار نہیں، ایسا نہ ہو کہ ٹی وی چینل کا گلا گھونٹ دیں مگر قانون پر عمل ہونا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے سوال کیا کہ آپ کو اس فیصلے میں کچھ ہدایات دی گئی تھیں، کیا اُن پر عمل کیا یا آپ انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اوپر سے احکامات آئیں گے تو عمل کرینگے،عدالت نے چیئرمین پیمرا سے تنخواہ کا استفسار کیا جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ میری تنخواہ ساڑھے 4 لاکھ روپے ہے جو حکومت دیتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو تنخواہ حکومت نہیں،عوام دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے،آپ نے غلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی،کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا،آپ فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے،چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ 4 سال کی مدت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ پھر آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اِس وقت آپ کی عمر کیا ہے ؟،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اِس وقت میری عمر 63 سال ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ اِس وقت کیا ہوتا ہے؟،ہم آج تک کی عمر پوچھ رہے ہیں، کل کتنی عمر ہوگی وہ نہیں پوچھ رہے، ہر چیز کو مذاق بنایا ہوا ہے،سکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے سوال کیا کہ ابصار عالم نے تو نام لے لئے،آپ میں تو اتنی ہمت نہیں کہ نام لیں،چیئرمین جواب نہ دے سکے۔

    چیف جسٹس کی برہمی پر وکیل پیمرا نے وکلالت نامہ واپس لے لیا،وکیل پیمرا ایس اے رحمان روسٹرم سے ہٹ گئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو درمیان میں زیادہ بولنا ہے تو اپنا کنڈکٹ دیکھ لیں،آپ کا کام ہے اپنے موکل کو بتانا کہ فیصلے پر عمل کریں،آپ نے یہ نہیں کرنا تو الگ ہو جائیں،جسٹس اطہر من اللہ نے ایس اے رحمان کو دوبارہ مخاطب کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل جانے دیں انہیں ،یہ ان کا کنڈکٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زرا سا ہم نے آپ کو دبایا آپ نے کہا ہم عملدرآمد کرینگے،سب نے دائر کی تو آپ نے سوچا ہم بھی کر دیتے ہیں،ہم آپ کو مضبوط کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں بتائیں آپ کے امور میں کون مداخلت کر رہا ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہماری غلطی تھی نظرثانی درخواست دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی درخواست پر دستخط صرف چیئرمین پیمرا کے ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرثانی دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین کا اپنا تھا، چیئرمین صاحب آپ سے تین حکومتیں بہت خوش تھیں، کس سے ڈرتے ہیں؟ میری اور آپ کی عمر میں کچھ معلوم نہیں موت کب آ جائے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے پریس کانفرنس کی اور وزیراعظم کو خط لکھ کر بھی حقائق بتائے، حیرت ہے اس وقت کے وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف نے کچھ نہیں کیا، ابصار عالم نے خط وزیراعظم نوازشریف کو لکھا تھا، کرسی سے اترنے کے بعد ہر وزیراعظم کہتا ہے میں مجبور تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ اللہ آپ کو لمبی زندگی دے،مگر جانا ہم نے وہیں ہے،آپ ہمت پکڑیں بتادیں نظرثانی میں جانے کا کس نے کہا تھا،پیمرا میں منظوری ہوئی تو وہ کہاں ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ منظوری تحریری نہیں زبانی تھی،چیف جسٹس نے کہا کہ زبانی فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو بلا لیا اور کہا کہ یہ تو سچ نہیں بول رہے آپ ہی بتا دیں ،نظرثانی کا کس نے کہا تھا، ڈائریکٹر لا پیمرا نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون پڑھیں کیا پیمرا میں زبانی فیصلہ ہو سکتا،ہم آپ کو آج آپ کا قانون پڑھائیں گے،پہلے آپ پر کوئی دبائو نہیں تھا لیکن اب قانون کا دبائو ہوگا، آرڈر لکھوانے سے پہلے پھر پوچھ رہے ہیں کس نے حکم دیا تھا،عدالتیں اس لئے نہیں ہوتیں کہ ان کیساتھ کھیل کھیلا جائے،

    ابصار عالم نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب چیئرمین پیمرا تھا مجھے اُس وقت سٹاف کے ذریعے دھمکی آمیز کال کرائی گئی،کال ریکاڈ بھی ہوئی، وہ کال میں نے نواز شریف اور جنرل باجوہ کو بھی بھیجی،جو کال مجھے کی گئی اُس کا کوئی نمبر نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے وزیراعظم کو 8 مئی 2017 کو خط لکھا کہ میڈیا سے کچھ عناصر دھمکیاں دے رہے ہیں،میڈیا کے اندر کے عناصر کا وزیراعظم کیا کریں؟ ایسا ہی خط چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بھی لکھا گیا تھا، ابصار عالم نے کہا کہ خط میں درخواست کی تھی کہ حساس اداروں سے تفتیش کرائیں تاکہ ایسے عناصر اور سپورٹرز کیخلاف کارروائی ہو، کیبل آپریٹرز کے پاس حساس اداروں کے لوگ جاتے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ خط میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے آپ کو خط کو جواب دیا؟ابصار عالم نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی جواب نہیں دیا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ میں اتنی ہمت تھی کہ عہدے پر رہتے ہوئے آواز اٹھائی کہ سسٹم کیسے چلتا ہے، ابصار عالم نے کہا کہ سابق میجر جنرل فیض حمید اور انکے عملے نے نجم سیٹھی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،نجم سیٹھی نے جیو پر پروگرام کیا تھا، میں نے پروگرام بند کرنے سے انکار کر دیا،جنرل فیض نے حسین حقانی کے میڈیا بلیک آئوٹ کا بھی کہا جو میں نہیں مانا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہٹانے کی یہی وجہ تھی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میں ان کی جیب میں نہیں تھا اس لئے مجھے ہٹایا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے بعد والے چیئرمین پیمرا کہتے ہیں ان پر کوئی دبائو نہیں تھا،ابصار عالم نے کہا کہ میرے بعد آنے والے چیئرمین پیمر ا خوش قسمت ہیں، میرے دور میں 2 چینلز جن کو نمبروں سے ہٹایا گیا ، عدالتی حکم پر بحال کیا، میرے بعد کیا ہو ااس کے بارے میں علم نہیں،جو ریکارڈڈ کال آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بھیجی ، بندے کی نشاندہی نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیخلاف جو مقدمات ہوئے انکی تفصیل ہمیں دے دیں،آپ صفائی نہ دیں ہم نے پیمرا کو کہا تھا کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے، ابصار عالم نے کہا کہ جنرل فیض اور انکے عملے نے تین بار کال کرکے کہا 92 نیوز کو کھولو یا سب کو بند کر دو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کسی کی پیٹھ پیچھے بیان نہیں ہوتا، اگر حکومت کمیشن بنائے تو آپ وہاں پیش ہونگے؟ ابصار عالم نے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہ رہا ہوں پیش ہوکر بیان دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن پر الزام ہے ان کا بھی موقف لیا جائے گا اور شاید جرح بھی ہو،ابصار عالم نے کہا کہ جرح اور بیان دینے کیلئے تیار ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے چیئرمین پیمرا کے خطوط کا جواب نہیں دیا جو سنگین معاملہ ہے، ابصار عالم نے کہا کہ میرے خلاف تین درخواستیں دائر ہوئیں اور ایک منظور ہوگئی،فیض آباد دھرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے میری تعیناتی غیرقانونی قرار دی گئی،سپریم کورٹ سے میری اپیل وکیل کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی، اُس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں، آخری وقت تک لڑتے رہیں، اپیل بحالی کی درخواست دی جا سکتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم کے الزامات ہی کافی تھے کہ انکوائری کرائی جاتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا درخواستوں پر جو فیصلے آئے ہیں وہ جواب کا حصہ ہیں؟ ابصار عالم نے کہا کہ نہیں وہ فیصلے اس جواب کا حصہ نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کیا کارروائی ہوئی؟ان فیصلوں پر بات نہ کریں، جب تک دستاویز نہیں لگاتے، ابصار عالم نے کہا کہ عدالتی حکم پر سچ سامنے لایا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت پر کچھ نہ ڈالیں آپ آرام سےگھر بیٹھیں ،جو باتیں آپ کہہ رہے ہیں اس کا ریکارڈ بھی دیں،آپ کہہ رہے اگر بلایا ہوتا تو پیش ہوتا اس سے تو عدالت بری بن رہی ہے،ہم نے آپکو نہیں بلایا آپ خود آئے ہیں،آپ جو دستاویز فائل کرینگے تو اس کو دیکھ کر کارروائی کریں گے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں،جب آپ چیئرمین پیمرا تھے تب بھی یہ سب باتیں کرنی چاہیے تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کیخلاف درخواست گزار کون تھا؟ ابصار عالم نے کہا کہ منیر احمد نامی شخص کے حوالے سے سنا کہ وہ ایجنسیوں کا بندہ ہے، اس کے بعد مزید کسی تحقیق کی گنجائش نہیں تھی، چینل 92 نیوز بند کرنے پر جنرل فیض نے مجھے فون کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ وہ کیوں چاہتے تھے کہ 92 نیوز بند نہ ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ چینل 92 نیوز پرتشدد اور نفرت انگیز مواد نشر کر رہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں فوج کا افسر چاہتا تھا کہ پرتشدد کارروائی ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ روتے ہوئے دل کیساتھ کہ رہا ہوں بظاہر ایسا ہی لگتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا نے دبائو میں آ کر نظرثانی دائر کی ہے؟ کیا اوپر سے حکم آیا یا ٹاس کرنے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا؟ ابصار عالم نے کہا کہ مارچ 2019 میں نظرثانی دائر ہوئی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید تھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ گزشتہ 70 سال سے یہی ہو رہا تھا آج بھی جاری ہے،ابصار عالم نے کہا کہ تجربے کی بنیاد پر کہ رہا ہوں پیمرا کو وزارت اطلاعات یا ایجنسیوں نے نظرثانی کا کہا ہوگا،مجھے علم نہیں کہ زبانی حکم اگر کسی نے دیا تھا تو کون ہوسکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ انسان کو آزاد کر دیتا ہے،ہمارے سامنے تو آپ سچ بول نہیں رہے کمیشن شاید آپ سے اگلوا لے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کا خون بھی ہوجائے تو ہم نہیں دیکھیں گے، یہ کام پولیس کا ہے وہ تفتیش کرے، یہاں ہمارے حکم میں پیمر اکو اختیارات استعمال کرنے کا کہا گیا،پیمرا حکام اختیارات استعمال کرنے سے کترا رہے اور کہتے ہیں فیصلے پر نظر ثانی کریں،کیا اپ کو لگتا ہے کہ ہمارا فیصلہ غلط تھا اس پر نظر ثانی کی جائے، کیاآپ بتا سکتے ہیں کہ بطور سینئر صحافی کیا نظر ثانی درست دائر کی گئی اور کیوں دائر کی گئی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق یا وزارت اطلاعات ہوگی یا پھر کوئی ایجنسیاں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ نے اس وقت تقریبا سب کچھ بتا دیا تھا کہ کیا ہورہا ہے، لیکن آپ نے ایک ہمت کی اور چیزیں ریکارڈ پر لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین پیمرا صاحب آپ بتائیں کہ کیا ابصار عالم صحیح کہہ رہے ہیں؟آپ ہماری مدد نہیں کررہے ہیں، کیا اپ کمیشن میں سچ بولیں گے،سلیم بیگ آپ پرانے بیوروکریٹ ہیں کیا اپ کے خلاف درخواست دائر ہوئی ہے؟ چیف جسٹس نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب تعینات ہوئے اس وقت کتنے امیدوار تھے؟ابصار عالم نے کہا کہ اُس وقت 100 امیدوار تھے اور مجھے ایک کمیٹی نے تعینات کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ،ایک وقت میں سب سے بڑا فاشزم والا ملک جرمنی تھا لیکن اب وہ سب سے مہذب ملک ہے، ہمارے یہاں عجیب بات ہے کہ سچ کوئی نہیں بولے گا، بیگ صاحب کیا آپ کے ضمیر کا دروازہ کھٹکا یا نہیں، آپ یہ بتائیں نظرثانی درخواست دائر کرنا کس کا فیصلہ تھا،ابصا ر عالم نے کہا کہ پیمرا کو وزارت یا کسی ایجنسی نے نظرثانی دائر کرنے کا کہا ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ صاحب بتائیں کس نے کہا تھا نظرثانی دائر کریں،آپ بھی کمیشن کے سامنے جواب دیجئے گا،سچ ہمیشہ سامنے آکر ہی رہتا ہے،چیئرمین پیمرا ہماری مدد نہیں کر رہے نا کچھ بتا نہیں رہے،دھرنے والوں نے تو نہیں کہا تھا کہ نظرثانی دائر کریں ،یا آپ نے بس چلتے پھرتے نظرثانی دائر کر دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نظام کو ایکسپوز کرنا بہت بڑی بہادری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ترقی یافتہ ملک ماضی سے سیکھتے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا حکام کیساتھ ہم نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے کسی کا لحاظ نہیں کیا سسٹم کو ایکسپوز کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم صاحب آپ نے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے لی تھی،ابصار عالم نے کہا کہ وہ اپیل میرے وکیل کی پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی،اس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی،میں اللہ کے سو اکسی اور شخص کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں،آخری وقت تک لڑتے رہیں،اپیل بحالی کی درخواست دی جاسکتی ہے،، آج بھی ہم نے اپیلیں بحال کی ہیں،

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست واپس لینے کے معاملے پر شیخ رشید کو نوٹس جاری کر دیا ،اعجاز الحق نے عدالتی فیصلے میں حساس ادارے کی رپورٹ کی تردید کر دی،فیض آباد دھرنا کیس سماعت کے دوران اہم مکالمہ سامنے آیا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد سابق آرمی چیف تھے، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد صدر پاکستان بھی تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضیاء الحق کو سابق صدر نہیں مانتا ، عدالت میں ایسی غلط بیانی دوبارہ نہیں کرنا، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین میں لکھا ہوا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین سے نکال دیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر پانچ سال کیلئے ہی ہوسکتا ہے، بندوق کی زور پر کوئی صدر نہیں بن سکتا، سابق آرمی چیف کے بیٹے کا نام آئی ایس آئی نے غلط طور پر رپورٹ میں شامل کیا؟ وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں،

    تحریک لبیک کو بھی فارن فنڈنگ ہوئی، وکیل الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں اعتراف
    الیکشن کمیشن کے وکیل کو عدالت نے روسڑم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو ایک آزاد ادارہ ہیں ،کیا الیکشن کمیشن نے ایک فضول نظرثانی دائر کی جو اب واپس لینی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ کون تھا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سردار رضا اس وقت چیف الیکشن کمشنر تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جسٹس سردار محمد رضا؟ الیکشن کمیشن نے اب عملدرآمد رپورٹ دی ہے اس میں کیا ہے؟ دکھائیں کیا عملدرآمد کیا گیا؟ آج کل وکالت کم لفاظی زیادہ ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک کے ذمہ داروں کے ساتھ حافظ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارے میں انھیں حافظ کیوں کہہ رہے ہیں،آپ لوگوں سے مساوی سلوک نہیں کرتے،آپ نے عملدرآمد رپورٹ میں جو کچھ لکھا وہ فیصلے سے پہلے کا ہے، ہمارے فیصلے کے بعد کیا اقدامات لئے وہ بتائیں،کیا آپ نے ٹی ایل پی رجسٹر کرانے والے شخص کو بلایا؟ ٹی ایل پی رجسٹریشن کرانے والا شخص تو دوبئی میں رہتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کو بلایا تھا رجسٹر کرانے والے کو نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اس طرح کام کرتا ہے؟ راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہوجاتی ہیں؟کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اوپر سے حکم آتا ہے کچھ کہتے ہیں پہیے لگ جاتے ہیں،ایک دن درخواست آتی ہے اگلے دن الیکشن کمیشن نئی جماعت رجسٹر کر لیتا ہے،جیسے ایک شخص کہتے ہیں کیا یہاں کام پہیے لگا کر ہوتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا بیرون ملک رہنے والا سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والوں کے پارٹی رجسٹر کرانے والوں پر پابندی نہیں، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے دو ہزار شناختی کارڈ قانونی طور پر لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ٹی ایل پی والوں کے دو ہزار شناختی کارڈ کہاں ہیں؟ٹی ایل پی کی رجسٹریشن کا ریکارڈ کہاں ہے؟الیکشن ایکٹ 2017 پر عملدرآمد کا ریکارڈ کہاں ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کی ہیں، تحریک لبیک کو 15 لاکھ کی معمولی فارن فنڈنگ ہوئی جسے فارن فنڈنگ قرار نہیں دیا جا سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مان رہا کہ 15 لاکھ کی فارن فنڈنگ ہوئی،15 لاکھ الیکشن کمیشن کیلئے معمولی رقم ہوگی میرے لیے تو کافی رقم ہے،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس طرح آنکھوں میں دھول نہ جھونکے،جیسے ہمارے قانون کا بناوٹی کہا جاتا تھا الیکشن کمیشن ویسے کام کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے فارن فنڈنگ تو ہے لیکن بہت معمولی سی؟ پندرہ لاکھ روپے پینٹس ہیں تو مینگو کیا ہے؟پینٹس PeanutS لفظ سب سے پہلے کس نے استعمال کیا تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے امریکی صدر کو 1979 میں کم امداد دینے پر کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کا مونگ پھلی کا فارم تھا جس وجہ سے جملہ بولا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کیساتھ مخلص ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک کیساتھ مخلص ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ باقاعدہ سسٹم کے تحت ادارے تباہ کئے جائیں تو کس کی ملک سے کیا مخلصی ہوگی،جن کی تحقیقات ہونی تھیں انکی وکالت الیکشن کمیشن کے وکیل کر رہے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کا شہری نہ ہونے والا کیا جماعت رجسٹرڈ کروا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ الیکشن ایکٹ 2017 کے تابع ہیں تو بتائیں اس پر عمل کیا،چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی عملدرآمد رپورٹ مسترد کر دی اور کہا کہ یہ فائل آپ واپس لے جائیں اور بتائیں کیا آپ نے قانون پر عمل کیا،ہمارے فیصلے کو بھول جائیں اپنا قانون دیکھ کر بتائیں،کیا قانون صرف الماریوں میں رکھنے کیلئے ہے کیا اس پر عمل نہیں کرنا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی سچ بتانے کو تیار نہیں، سب کہتے ہیں اتفاقیہ تھا، کتنا حسین اتفاق ہے کہ وزارت دفاع، الیکشن کمیشن سمیت سب نے نظرثانی دائر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چار سال بعد نظرثانی درخواست مقرر ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بھی حسن اتفاق ہے، حسن اتفاق پر کوئی شعر ہی سنا دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بات نکلے گی تو بہت دور تک جائے گی، اس وقت یہی شعر اچھا ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کی نہیں کسی اور کی نمائندگی کر رہے ہیں،عدالت کو بالکل کوئی معاونت فراہم نہیں کی جارہیالیکشن کمیشن کے وکیل کوئی قانونی حوالہ نہیں دے رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چندہ دیا ہے،کیا آپ نے کبھی 680 روپے یا 1000 روپے دیئے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل میں نے چندہ دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کو کیا پتا جو پیسے دیئے جارہے وہ کہاں سے آئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پوچھا ہی نہیں تحریک لبیک کو چندہ دینے والے شیخ ریاض کون ہیں

    سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ سابق چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے بیان حلفی جمع کرایا ،بیان حلفی میں ایک انفرادی شخص اور انکے نامعلوم ماتحت اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کئے،ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ،ایک منظم طریقے سے ملک کے ادارے تباہ کئے گئے،اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل بارے بتایا،اٹارنی جنرل کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا،کمیٹی نے تحقیقات کیسے کرنی ہیں اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ حکومت انکوائری کمیشن تشکیل دے گی،اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل سے متعلق مہلت طلب کی،اٹارنی جنرل کے مطابق کمیشن تشکیل دیکر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا،حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا،آئی بی،وزارت دفاع اور پیمرا نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے بھی نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،تحریک لبیک نے کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں کی،تحریک لبیک کو فیض آباد دھرنا فیصلہ درست لگا ہوگا،انفرادی درخواست گزاروں کو ہم نہیں سنیں گے،تمام متعلقہ درخواست گزاروں کو ہم نے سن لیا ہے،ابصار عالم نے کچھ شخصیات پر الزامات عائد کیے،اگر حکومت کمیشن قائم کرتی ہے تو تمام الزامات کمیشن کے سامنے رکھے جائیں،ابصار عالم نے کہا وہ انکوائری کمیشن کے سامنے سارا بیان کھل کر دیں گے،سپریم کورٹ نے وزارت دفاع اور انٹیلی جنس بیورو کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں عدالت نے شیخ رشید کو نوٹسز جاری کردیئے،عدالت نے کہا کہ شیخ رشید کی درخواست خارج نہیں کی جاتی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں ، وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور پیمرا نے عدالتی حکم پر عملدرآمد جواب جمع کروا دیا وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے زمہ دار کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے ، الیکشن کمیشن نے جواب میں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا بتا دیا پیمرا نے بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام احکامات پر من و عن عمل کر چکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • جیل میں موجود  غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بھی افغانستان واپسی

    جیل میں موجود غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بھی افغانستان واپسی

    ملک سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کاانخلا،وزارت داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایڈ وائزری جاری کر دی

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پی او آر کارڈ ہولڈر جنہوں نے اپنے کارڈ کی تجدید کروا رکھی ہے انہیں ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا،پی او آر کارڈ رکھنے والوں اور اہل خانہ کے پاس ایف آر سی ہے تو انہیں ڈپورٹ نہیں کیا جائے گا،جن غیر ملکیوں کے پاس اے سی سی کارڈ ہے انہیں ملک بدر نہیں کیا جائے گا، درست ویزہ نہ رکھنے والوں یاویزےمیں توسیع نہ کرنے والوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا،اگر کسی فیملی کا کوئی مریض اسپتال میں ہے تو باقی فیملی کو ڈی پورٹ کیا جائے گا،مریض کو صحت مند ہونے پر ملک بدر کیا جائے گا،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی جائیدادوں کی تحقیقات کی جائے گی،

    پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں شہریوں کے انخلا کا معاملہ ،وزات داخلہ نے ہاٹ لائن اور یو اے ین نمبر جاری کردیئے ،
    افغان شہریوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں سے متعلق 051111367226 پر اطلاع دی جاسکتی ہے 051 9211685
    پر بھی اطلاع دی جاسکتی ہے ،نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا سلسلہ شروع،اسلام آباد سے 64 جیل میں موجود غیر قانونی قیام کرنے والے افراد کو اسلام آباد پولیس ، ضلعی انتظامیہ ، ایف آئی اے، اور جیل حکام نے روانہ کیا۔

    اپنے وطن واپس بھیجے جانے والوں کو اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں روانہ کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق غیر قانونی مقیم افراد کی دی گئی مہلت ختم ہونے پر انخلاء کا عمل شروع کیا گیا ہے،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کےلیے آگاہی پیغامات بھی نشر کیے جارہے ہیں۔غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پناہ دینا، ملازمت دینے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔پاکستان میں صرف پاکستانی قوانین کے مطابق رہنا ممکن ہے۔

    واضح رہے کہ غیرقانونی مقیم افراد کے ملک چھوڑنے کی مہلت ختم، اب ملک گیر آپریشن ہوگا، جس میں غیر قانونی افراد کو واپس بھیجا جائے گا، افغان کمشنریٹ کے مطابق منگل کے روز طورخم سرحد سے 21ہزار 536 افراد ہر مشتمل883 خاندان افغانستان واپس لوٹ کر چلے گئے،اکتوبر سے اب تک 5ہزار265 خاندانوں پر مشتمل ایک لاکھ 4ہزار85افراد اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں.

    نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ آج ہم نے 64 افغان شہریوں کووطن واپسی کا سفر شروع کرنے پر الوداع کہا، کسی بھی غیر ملکی جس کے پاس ضروری دستاویزات نہ ہونے پر کاروائی کی جائے گی ،غیر قانونی غیر ملکی کو اپنے وطن واپس بھیجنے کا عزم ہے، غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے خلاف آج سے آپریشن شروع ہوگا،آپریشن سوئفٹ ہوگا، ماردھاڑ نہیں ہوگی،غیرقانونی تارکین وطن کو سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی

    نگراں وزیر اطلاعات بلوچستان جان علی اچکزئی اور کمشنر کوئٹہ نے پریس کانفرنس کی ہے، جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ جن غیر مکیوں نے مہلت سے فائدہ نہیں لیا انکے خلاف کاروائیاں شروع ہوگئی ،پاکستان غیر ملکیوں کی جنت بن گیا تھا جو ملکی مفاد میں نہ تھا ،اب تک سو افراد گرفتار ہوچکے ہیں،اب تک چمن سرحد سے 35 ہزار افراد واپس جاچکے ہیں،جو پاکستانی مہاجرین کی مدد کررہے ہیں اں کا بھی ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے،جن مقامی افسران نے مہاجرین کو شناختی کارڈ بنا کر دیے ہیں ان کا بھی محاسبہ ہوگا ،جن افراد کو گرفتار کیا ہے ان کو ملک بدر کیا جارہا ہے،کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں ہولڈنگ سینٹرز فعال کئے ہیں ،ہولڈنگ مراکز میں رکھے افراد کو عارضی طور پر رکھنے کا انتظام کیا جارہا ہے،کوئٹہ سے چمن ریل اور سڑک کے زریعے منتقل کیا جائے گا ،قانون نافذ کرنے والے ادارے بھر پور اقدام کررہے ہیں،نادرا نے ستر ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے ہیں،جو لوگ غلط دستاویزات کی بنیاد پر بیرون ملک گئے انکے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی بلاک ہوگا،چمن سیمت چار مقامات پر غیر ملکی تارکین وطن کے لئے ایگزیٹ پوائنٹس بنائے گئے ہیں،ایران ،نائجیریا اور بھارت کے لوگ کو بھی فارن ایکٹ کے تحت بھیجا جارہا ہے

    غیر ملکییوں کا بے دخلی آپریشن ،سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر اعجازنے ہولڈنگ سینٹر میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہولڈنگ سینٹر میں محکمہ صحت کی جانب سے ہیلتھ ڈیسک قائم کیا گیا ہے،خواتین اور بچوں کیلئے صحت کی سہولیات ہولڈنگ سینٹر میں دی جارہی ہیں،ہولڈنگ سینٹر میں حاملہ خواتین کے علاج کی سہولت بھی میسر ہوگی۔حکومت کی جانب سے ہدایات ہیں کہ افغان پناہ گزینوں کیلئے صحت کی مکمل سہولت فراہم کی جائے۔ہولڈنگ سینٹر میں خواتین ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔ پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،حراست میں لیئے گئے غیر ملکی کو جانچ پڑتال کے لیے ہولڈنگ سینٹر منتقل کر دیا گیا ،ہولڈنگ سینٹر میں پولیس، ریسکیو، محکمہ صحت، نادرا، بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے،ہولڈنگ سینٹر کی عمارت کے چاروں اطراف سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ بھی جاری ہے،ہولڈنگ سینٹر کے اندر خصوصی طور پر 5 ڈیسک قائم کر دیئے گئے ،ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی خیابان سر سید کے ہولڈنگ سینٹر پہنچ گئی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • اسٹاک ایکسچینج ؛  100 انڈیکس میں 200 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک ایکسچینج ؛ 100 انڈیکس میں 200 پوائنٹس کا اضافہ

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری میں آج زبردست تیزی کا رجحان جاری ہے، کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کی ابتداء میں 100 انڈیکس میں 200 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس 51 ہزار 600 سے تجاوز کر گیا تھا، کاروبار کے درمیان مارکیٹ میں زبردست تیزی جاری ہوئی اور اس دوران 100 انڈیکس 1.04 فیصد اضافے سے 52 ہزار کی سطح عبور کرگیا تھا تاہم چند منٹوں بعد ہی 100 پوائنٹس سے زائد گر پی ایس ایکس 100 انڈیکس ایک بار پھر 52 ہزار سے نیچے آگیا۔

    آج 100 انڈیکس مجموعی طور پر اب تک 455 پوائنٹس بڑھا جو اس وقت 51 ہزار 938 پر ہے جب کہ گزشتہ روز پی ایس ایکس 100 انڈیکس 51 ہزار 812 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ دوسری جانب کاروباری ہفتے کے دوسرے روز 6 پیسے مہنگا ہو کر ملکی تبادلہ منڈیوں میں ڈالر کی خرید و فروخت 281 روپے ایک پیسے میں جاری ہے۔
    اسپیکر قومی اسمبلی کی روانڈا کے پارلیمانی وفد سے ملاقات
    جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کی ابتداء میں 6 پیسے مہنگا ہو کر ملکی تبادلہ منڈیوں میں ڈالر کی خرید و فروخت 281 روپے ایک پیسے پر پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 38 پیسے اضافے کے بعد 280 روپے 95 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی تاہم دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

  • گیس کی قیمتوں میں اضافہ ،  وزیر توانائی نے نئی قیمت بتادی

    گیس کی قیمتوں میں اضافہ ، وزیر توانائی نے نئی قیمت بتادی

    نگراں وزیر توانائی محمد علی نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور گھریلو صارفین کے آئندہ بلوں سے متعلق بتادیا ہے اور اسلام آباد میں نگراں وزیر توانائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا کہ گیس کی قیمتوں کےحوالے سے عوام کو آگاہی دینا چاہتے ہیں، یہ ایک مشکل فیصلہ ہے جبکہ اس موقع پر نگراں وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مفاد میں کیا گیا، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ضرورت697 ارب روپے کی ہے، تاکہ وہ گیس خرید سکے۔

    جبکہ محمد علی کا کہنا تھا کہ آج ہزار ارب روپے سے کم گیس نکال رہے ہیں، پچھلے 10 سالوں سے گیس ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں، آج سے چند سال پہلے ہم اپنے ذخائر سے گیس دیتے تھے، گیس کم نکل رہی ہے اس لیے آر ایل این جی امپورٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ 10 سال پہلے گیس کمپنیوں کا نقصان 18 ارب روپے تھا اور ہر سال یہ نقصان بڑھتا گیا ہے، اگر گیس کی قیمت نہ بڑھتی تو 400ارب روپے کا نقصان ہوتا۔
    نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس
    نیب ترمیم کیس؛ پہلی سماعت پر ہی وفاقی حکومت نے التوا مانگ لیا
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
    روانڈا سینیٹ کے صدر کی چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات
    تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ آرایل این جی کی قیمت مقامی گیس سے دگنی ہے، اقدامات کا مقصد آنے والے دور میں مہنگائی کو روکنا ہے، البتتہ 57 فیصد گھریلو صارفین کا ٹریف نہیں بڑھایا گیا، لہٰذا ان کا ٹیرف 1300 سے نہیں بڑھے گا، محمد علی نے کہا کہ 57 فیصد صارفین پر 10 روپے سے برھا کر 400 روپے فکسڈ چارج عائد کیا ہے تاکہ بوجھ کم سے کم پڑھے، اس کے بعد ان کا زیادہ سے زیادہ سے بل 1300 سے زیادہ نہیں آئے گا۔ نگراں وزیر تونائی نے کہا کہ جو زیادہ امیر ہیں وہ زیادہ ٹیرف دے اور جو غریب ہے وہ کم ٹیرف ادا کرے گا، البتہ یہ واضح کردوں کہ روٹی تندور والوں کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

  • روانڈا سینیٹ کے صدر کی چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات

    روانڈا سینیٹ کے صدر کی چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے روانڈا سینیٹ کے صدر ڈاکٹر کالندا فرانسواں زیویئر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کی پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقا ت جبکہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی روابط کو فروغ دینے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی، ”لک افریقہ“ پالیسی کے تحت دوطرفہ تجارت کو مزید بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان میں آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور پاکستان روانڈا کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات فروغ پا رہے ہیں اور افریقی بھائیوں کے ساتھ دوستانہ اور اچھے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ روانڈا خوبصورت اور صاف ستھرا ملک ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا افریقی ممالک نے آپس کے جھگڑے صبر وتحمل اور مل جل کر خود حل کیے ہیں۔ آج پاکستان اور روانڈا کے مابین دوستی کا نیا باب کھل رہا ہے۔ حکومت پاکستان اور سینیٹ آف پاکستان ہر طرح کے اچھے تعلقات،تعاون اور مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے دونوں ممالک کے تاجروں کے تعلقات مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے پارلیمانی روابط، سفارتکاری اور وفود کے تبادلوں پر پر زور دیا گیا۔ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ معاونت اور رابطہ کاری کیلئے خصوصی حکمت عملی وضح کر چکا ہے، ”لک افریقہ“ پالیسی کے تحت تعاون کی نئی راہیں کھلنے، بہتر روابط اور تجارتی تعاون میں مدد ملے گی.
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
    واضح رہے کہ پاکستان نے روانڈا میں اپنا سفارتخانہ قائم کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ امید ہے روانڈا بھی پاکستان میں اپنا سفارتخانہ قائم کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے تاجروں سرمایہ کاروں اور عوام کو سہولت میسر ہو۔ خطے میں امن اور ترقی کیلئے پارلیمانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جبکہ ہمیں پارلیمانی سفارت کاری کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی امن اور ہم آہنگی کے فروغ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اجتماعی کوششیں تیز کرنی ہوں گی،

  • وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    الیکشن کمیشن نے نگراں وفاقی وزرا کے خلاف درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ گزشتہ حکومت میں اہم پوسٹوں پر تعینات تھے جبکہ الیکشن کمیشن میں نگراں وفاقی وزرا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ہے اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی ہے۔

    واضح ہے درخواست گزار سید عزیزالدین کا کا خیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت پر آپ پیش نہیں ہوئے تھے، سید عزیزالدین کا کا خیل نے جواب دیا کہ میں تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا معذرت چاہتا ہوں جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ حکومت کی طرف سے الیکشن میں کون نمائندگی کررہا ہے۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کررہا ہوں۔
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    بشریٰ بی بی کی توشہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں 15 نومبر تک توسیع
    درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ گزشتہ حکومت فواد حسن فواد اور احد چیمہ اہم پوسٹوں پر فائز تھے، احد چیمہ کو معاون خصوصی سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے تاہم چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ ان کی سیاسی وابستگی ثابت ہوسکے۔ جس پر درخواست گزار نے کہا کہ وزیراعظم بھی سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، اور نگراں مشیر احد چیمہ گزشتہ حکومت میں اہم عہدے پر تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی نظرمیں وفاقی وزیر اور مشیر غیرجانبدار ہیں، الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا

    امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا

    امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر طلعت جہاں کو ہیوسٹن میں چاقو مار کر قتل کردیا گیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق52 سالہ ڈاکٹر طلعت جہاں خان کو ہفتے کی دوپہر امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں اُن کی رہائشی بلڈنگ میں چاقو بردار حملہ آور نے قتل کیا گیا جبکہ حملہ آور نے ڈاکٹر طلعت خان پر متعدد وار کیے اور وہ زخمیوں کی تاب نہ لاکر چل بسیں۔ ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجوہات معلوم نہ ہوسکیں۔

    تاہم بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر طلعت جہاں خان کو قتل کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 سالہ حملہ آور سفید فام مائلز جوزف فرِیڈ رِیش پر قتل کا فردِ جرم بھی عائد کر دیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ
    پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے
    ڈاکٹر طلعت کے رشتہ داروں کو کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ملزم کو کبھی نہیں دیکھا، وہ رواں سال جولائی میں واشنگٹن سے ٹیکساس منتقل ہوئی تھیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری 15 نومبر سے خیبرپختونخوا کا دورہ کرینگے

    بلاول بھٹو زرداری 15 نومبر سے خیبرپختونخوا کا دورہ کرینگے

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 15 نومبر سے خیبرپختونخوا کا دورہ کرینگے، اس دوران وہ مختلف اضلاع میں ورکر کنونشن سے خطاب کریں گے، سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی بھرپور انداز میں الیکشن میں حصہ لے گی جبکہ بلاول بھٹو زرداری خیبرپختونخوا میں آئندہ انتخابات کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز 15 سے 19 نومبر کے دوران پشاور، کوہاٹ، ملاکنڈ، ابیٹ آباد اور مردان میں ورکرز کنویشن سے خطاب کرکے کریں گے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں بلاول ہاؤس میں چیئرمین پیپلزپارٹی سے پارٹی کے رہنماؤں نے ملاقات کی، جس میں سیاسی صورتحال اور عام انتخابات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس ملاقات کرنے والوں میں شازیہ مری،اویس شاہ عدیل اختر شیخ اور دیگرشامل تھے تاہم دوسری طرف نواب شاہ زرداری ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری سے کارکنوں نے ملاقات کی۔ اس موقع پر منورتالپور،علی حسن زرداری، طارق آرائیں اور ستارکیریو بھی موجود تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    یو اے ڈبلیو نے جی ایم کے ساتھ معاہدہ کرلیا، ڈیٹرائٹ آٹومیکرز کے خلاف ہڑتال ختم
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    واضح رہے کہ آصف زرداری کو کارکنوں نے انتخابات سے متعلق تجاویز پیش کیں، سابق صدر نے کارکنوں کی تجاویز کو غور سے سنا۔ اور کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کی سیاست کرتی ہے، ہماری طاقت یہ ہے کہ عوام کا ہم پر اعتماد ہے اور آصف زرداری نے مزید کہا کہ جیالے بھٹوازم کے نظریئے سے جڑے ہوئے ہیں، پیپلزپارٹی بھرپور انداز میں الیکشن میں حصہ لے گی۔