Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا 9 اکتوبر کا فیصلہ جاری کردیا ہے، اڈیالہ جیل کی سماعت کا تحریری فیصلہ جج ابوالحسنات نے جاری کیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 اکتوبر کو چالان کے نقول فراہم کرنے کیلئےسماعت مقرر کی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں لانے کی ہدایت کی گئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا سماعت روکنے کیلئے کوئی عدالتی حکم سامنے نہیں لاسکے، اور انہوں نے معمول کے مطابق دلائل دینے کی استدعا کی، تاہم پی ٹی آئی وکلا کے مطابق ٹرائل ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستِ ضمانت زیرالتوا ہے شاہ محمود قریشی کے وکلا نے اوپن کورٹ میں سماعت سننے کی نئی درخواست دائر کی ہے۔

    تیز رفتار مسافر بس الٹ جانے سے متعدد افراد زخمی

    تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزمان کو چالان کے نقول فراہم کیے، دستخط کرنے بھی کی ہدایت کی، چالان کے نقول قانون کے مطابق فراہم کردیئے گئے، اور ملزمان کو آئندہ سماعت پر دستخط کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، ملزمان نے اگر نقول پر دستخط نہ بھی کیے تو دستخط غیر مؤثرسمجھے جائیں گے کیونکہ چالان وصول ہوچکا ہے آئندہ سماعت پر سختی سے قانون کے مطابق فردجرم عائد کی کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کے سیل کا مسلہ اُٹھایا، جس پر جج نے مسائل کو حل کرنے کیلئے اڈیالہ جیل میں سیل کا دورہ کیا، اور عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کے سامنے قائم دیوار کو توڑنے کا حکم دیا 17 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کیا جائے گا۔

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

  • نواز شریف  نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا.  ماہر قانون کا دعویٰ

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ آٹھ سات کی اکثریت سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی میں جو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت جو فیصلے ہوچکے ہیں، جن میں میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی شامل ہے، ان فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں ہوسکے گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ قانون بنایا تھا اس کے پیچھے یہی محرک تھا کہ ماضی میں جو فیصلے ہوئے ان کے خلاف اپیل کی جائے تاکہ میں نواز شریف اپنی نااہلی کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرسکیں، لیکن وہ دروازہ آج بند ہوگیا۔

    واضح رہے کہ انہوں نے نظرثانی اور اپیل کے حق میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی ایک محدود اپیل ہوتی ہے جس میں آپ کو بتانا ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس میں فاش غلطی کیا ہے اور سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل حق مل گیا ہے، آئندہ جو 184/3 کا فیصلہ ہوگا اس کے خلاف اپیل ہوسکے گی، اپیل میں آپ نئے سرے سے پورا کیس بحث کرسکتے ہیں، اس لیے اپیل ایک زیادہ مضبوط اور مستحکم علاج ہے، علاوہ ازیں اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرائے جانے کے باوجود سویلینز کے ملٹری ٹرائل شروع ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی اور حکم عدولی ہے، ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے ان کے حکم کے باوجود ٹرائل شروع کردیا گیا ہے، اٹارنی جنرل کا بھی خط لکھا جارہا ہے کہ انہوں نے عدالت کے سامنے واضح بیان دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، ان کے بیان کی بھی نفی کی جارہی ہے، ان پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بیان اور عدالت کے فیصلے کی حرمت کو قائم رکھیں۔

    واضح رہے کہ سینئیر ماہر قانون وسیم سجاد نے کہا کہ اس فیصلے کا سیاسی اثر یہ ہوگا کہ جو بھی 184/3 کے تحت لوگ نااہل ہوئے نمایاں طور پر نواز شریف اور جہانگیر ترین، ان کا خیال تھا کہ انہیں اپیل کا حق مل جائے گا، گو کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں مانا۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے یہ کہا تھا کہ تاحیات نااہلیت کی حتمی مدت پانچ سال ہوگی، جو قانون بن گیا ہے۔ تو جہاں تک قانون کا تعلق ہے نااہلیت پانچ سال بعد ختم ہوچکی ہے، اور انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین جب اپنے پیپرز فائل کریں گے تو ہوسکتا ہے اعتراض کیا جائے کہ یہ قانون غلط ہے اور آئین کے خلاف ہے تو یہ معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جائے گا کہ کیا الیکشن ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم درست ہے یا نہیں، آئندہ یہ سوال اٹھے گا اور اس کے سیاسی اثرات ہوں گے۔

    علاوہ ازیں وسیم سجاد نے کہا کہ میرے خیال میں نواز شریف کی نااہلیت کا معاملہ ریٹرننگ افسر کے سامنے اٹھے گا اور اس کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا یہ کہنے کا کہ میں قانون کو نہیں مانتا، وہ تو کہے گا کہ نااہلیت 5 سال کی ہے، لیکن اس کو چیلنج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک پیغام آتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے، اس فیصلے کا سیاق و سباق یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو آرٹیکل 191 کے تحت رول بنانے کی پاور دی گئی ہے، اسی آرٹیکل میں لکھا ہے ’This is subject to law‘ (یہ قانون کے تابع ہے)، تو سپریم کورٹ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا لاء کا مطلب یہ ہے کہ جو رولز بن گئے ہیں اس میں مداخلت ہوسکتی ہے اور رائٹ آف اپیل یا تین ممبرز کا جو بینچ بنا ہے یہ ہوسکتا ہے، یا لاء کو ہم محدود کریں اور اس کو اتنا وسیع نہ کریں کہ یہ سپریم کورٹ کے پہلے سے بنے ہوئے رولز میں مداخلت کرسکے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟
    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سویلنز کا ٹرائل آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تحت کیا جارہا ہے جس کو چیلنج کیا گیا ہے، اس ضمن میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا تھا کہ ہم کوئی ٹرائل شروع نہیں کریں گے، تو بادی النظر میں یہ سپریم کورٹ کی توہین ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین نے بھی اپنئے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا تھا یہ قانون تو بہتر ہے لیکن اس میں دو چیزیں غلط ہیں، ایک تو یہ کہ اپیل کا حق جو آپ دے رہے ہیں اس کو آئینی ترمیم کے زریعے دے سکتے ہیں، اور دوسرا ہمارا سوال یہ تھا کہ ماضی کے فیصلوں پر اس کا اطلاق نہیں کرسکتے۔ تیسرا ہمیں اعتراض یہ تھا کہ اگر آپ نے تین ججز کی کانسٹیٹیوشنل بینچ بھی کرنی ہے تو وہ بھی آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئین اور اداروں کی خالق پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں عوام کی مرضی شامل ہے کیونکہ اس میں عوام کے نمائندے شامل ہیں، اور عوام کا فیصلہ ہر ایک نے ماننا ہے، لیکن یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنی ذاتیات سے بالاتر ہوکر واقعی عوام کی مرضی اور صدق دل کے ساتھ قانون سازی کرتے ہیں یا نہیں۔

  • کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    عدالت عظمیٰ نے تاریخی ججمنٹ دے دی ہے یہ کہنا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان کا انہوں نے مزید کہا کہ آج جو تاریخی فیصلہ ہوا اس کے مطابق عدالت نے کہہ دیا ہے میاں نواز شریف کے پاس رائیٹ ٹو اپیل کا حق ختم ہوگیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نےقانون کے ماہر حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ کیا اب نواز شریف الیکشن لڑ پائیں گے یا پھر وہ تاحیات جیل میں ہی رہیں گے؟


    نااہل ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ ترمیم ہوگئی ہے الیکشن ایکٹ میں جس کے تحت اب نااہلی کا دورانیہ پانچ سال ہے اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ تو ٹو تھرڈ کے حساب سے پاس نہیں ہوا کیا وہ عدالت عظمیٰ کی ججمنٹ کے اوپر لاگو ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا ارٹیکل 6، 1، 2 ایف میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے نااہلی پانچ سال کیلئے ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    علاوہ ازیں انہوں نے نواز شریف کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ سزا کے دوران گئے تھے علاوہ ازیں اینکر پرسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ نواز ڈیل کرکے آرہے جبکہ اگر عدالت انہیں یہ سہولت فراہم کردے کہ ہم ان کے گھر کو سب جیل قرار دے رہیں تو پھر ایسا تو عمران خان سمیت دوسرے لوگ جو قید ہیں‌کو بھی حق ملنا چاہئے.

    وکیل نے کہا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ سزایافتہ شخص کو باہر ملک بھیج دیا گیا اور آج وہ چار سال بعد واپس آنے کی اپنی مرضی سے تیاری کررہے ہیں جبکہ یہ عدلیہ پر بھی سوال ہے کہ وہ اب تک وہ واپس کیوں نہ آئے.

  • سرفرانگا ریلی؛  عادل نعیم  کی جیت

    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت

    ٹیم ایچ پی آر عادل نعیم کا ویژن ہے کہ انہوں نے 2002 میں کار موڈیفیکیشن ورکشاپ کا آغاز کیا تھا۔ اور اس کے بعد سے وہ پاکستان میں آٹوموٹو کھیلوں میں ٹرینڈ سیٹر رہے ہیں۔ سرفرانگا ریلی میں عادل نعیم نے اے ریڈیڈ کیٹیگری میں شیورلیٹ سلوراڈو دوڑا کر 48 منٹ میں دن کا تیز ترین ٹائم جیت لیا جبکہ محمد مروت نے اے اسٹاک ٹویوٹا ٹیکوما چلایا انہوں نے بھی کامیابی حاصل کی تاہم ریلی ٹریک 75 کلومیٹر پر محیط ہے جبکہ سرفرنگا پاکستان میں دوسرا سب سے بڑا ریلی مقابلہ ہے۔

    عادل نعیم میں ہائپر کاروں کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا جذبہ کیساتھ عمدگی کی انتھک تلاش شامل ہے۔ ٹیلی کام کے شعبے میں 20 سال گزارنے کے بعد، انٹرکنکٹ سلوشنز سے عادل کی اسٹریٹجک صلاحیت موٹر اسپورٹس کے لئے ان کی محبت کے ساتھ یکجا ہو جاتی ہے۔


    جبکہ ریلی ریسر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد فتوحات حاصل کی ہیں اور ایچ پی آر میں عادل کی ٹیم نے بی ایم ڈبلیو ایم سیریز، فیراری، لیمبورگینی، برابس اور دیگر جیسے معروف برانڈز کو فروغ دیا ہے۔ ڈیزائن اور کارکردگی کے بارے میں ان کی فطری تفہیم نے ان ہائپر کاروں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ عادل نعیم کا سفر موٹر اسپورٹس اور آٹوموٹو جدت طرازی دونوں کو چلانے کے جذبے سے بھرپور مہارت کا حامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    جبکہ سی ای او عادل نے کار ریسنگ بارے اپنے جزبہ کو جاری رکھا ہوا ہے اور اس جزبے سے وہ لوگوں کیلئے بھی ایک رول ماڈل بنتے چلے جارہے جارہے جو اانجینئرز اور کار ریسر کیلئے ایک ہترین راستہ ہموار کررہے ہیں.

  • ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت ہوئی، کابینہ نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے حل کیا جائے، کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کی 1967ءسے پہلے کی حیثیت کو بحال کیا جائے، کابینہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں بالخصوص شہری آبادی پر بمباری کی شدید مذمت کی، وفاقی کابینہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گھیراﺅ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گھمبیر صورتحال بالخصوص خوراک اور پانی کی قلت جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا،کابینہ نے زور دیا کہ مقبوضہ فلسطین میں حالیہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے سات دہائیوں پر محیط ناجائز قبضے، نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری بمباری روکی جائے اور ناجائز محاصرے کو ختم کر کے متاثرین تک بین الاقوامی امداد کو پہنچنے دیا جائے،کابینہ نے حکومت پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں 1967ءکے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے پہلے کے مطابق ہوں اور اس کا دارالخلافہ القدس الشریف ہو،

    نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزراءکو صرف ضروری نوعیت کے غیر ملکی دورے کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو ہدایت کی کہ ایسے دورے نہ کئے جائیں جو ضروری نہ ہوں،کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج سہیل ناصر کی بطور ڈپٹی چیئرمین نیب تعیناتی کی منظوری دی،کابینہ نے سید احتشام قادر شاہ کی بطور نیب پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅنٹیبلٹی تعینات کرنے کی منظوری دی، کابینہ اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے لئے فنانشل ایڈوائزری کنسورشیم کی خدمات لینے کی منظوری دی گئی، کابینہ نے وزارت خارجہ کی سفارش پر بریگیڈیئر شاہد عامر افسر کو پاک چین تعلقات کے فروغ کے لئے چین کی طرف سے تفویض کردہ میڈل وصول کرنے کی منظوری دی، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین طے شدہ حوالگی کے معاہدے کے تحت دھوکے بازی کیس میں مطلوب پاکستانی شہری ملزم شہزاد احمد ولد ولی محمد قریشی کی حوالگی کی منظوری دی، کابینہ نے کویت اور پاکستان کے مابین طے شدہ حوالگی معاہدے کے تحت ایک اور پاکستانی مطلوب شہری ارشد علی ولد مظہر علی کی حوالگی کی بھی منظوری دی، وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 3 اکتوبر 2023ءکو منعقد ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی،اجلاس میں کاینہ کمیٹی آن اسٹیٹ اون انٹر پرائزز (ریاستی ملکیتی ادارے) کے بارے میں 21 اور 28 جنوری کو ہونے والے اجلاسوں میں فیصلوں کی توثیق کی،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ایسے افغان شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی جو گزشتہ 40 سالوں سے یہاں مقیم ہیں اور ان کے پاس پی او آر کارڈز موجود ہیں، ایسے افغان شہریوں کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہو رہی جنہیں پچھلی افغان حکومت نے سٹیزن شپ کارڈ جاری کیا گیا، ان کی تصدیق کے عمل میں اس وقت کی افغان حکومت کے نمائندے بھی شامل تھے، 31 اکتوبر کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن ان لوگوں کو دی گئی ہے جن کے پاس ویزا یا کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں، وہ غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ایسے غیر قانونی مقیم افراد واپس جانا شروع ہو گئے ہیں،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلے بھی سخت سردی اور گرمی میں انتخابات ہوئے، ریاست اگر چاہے تو کسی بھی موسم میں انتخابات ہو سکتے ہیں،اگر الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فروری کے آخر میں انتخابات ہوں گے تو لازمی ہونگے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ پی آئی اے نجکاری کے عمل کی معطلی کا امکان نہیں ، جن سیکٹر میں حکومت ناقابل برداشت نقصان اٹھا رہی ہے انکی نجکاری ہونی چاہیے،ہر مرحلے پر میں نے پی آئی اے کی نجکاری کی رائے دی،ماضی کی طرح جو فیصلہ حکومت کرے گی اسکے ساتھ کھڑا ہوں گا، پی آئی اے کی 713 ارب روپے کے قرضے ہیں ، جن اداروں میں خسارے کا سامنا ہے انکی نجکاری ہونی چاہیے،یہ یقین دلایا ہے کہ کوئی بھی ملازم بیروزگار نہیں ہوگا ،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

  • پائلٹ کو بحال کیوں نہیں جا رہا؟ سلیم مانڈوی والا

    پائلٹ کو بحال کیوں نہیں جا رہا؟ سلیم مانڈوی والا

    اسلام آباد،پی آئی اے میں پائلٹس کی لائسنس منسوخ ہونے کا معاملہ ،سینیٹر سلیم مانڈوی والا ڈی جی سول ایوی ایشن پر برہم ہو گئے،

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پائلٹ کے اوپر سے ایف آئی آر ختم ہو گئی ہے تو انہیں بحال کیوں نہیں کیا جا رہا ۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ میں ان کیمرہ بریفنگ دیکر تمام چیزیں کلئیر کر سکتا ہوں ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میں کسی ان کیمرہ بریفنگ میں شامل نہیں ہوں گا ابھی تفصیلات پیش کی جائے ۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ میں آپکو اس کمیٹی میں کوئی جواب نہیں دوں گا

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ لگتا ہے مانڈوی والا صبح کچھ کھا کر آئے ہیں اس لیے غصہ کر گئے ہیں ۔ہمارے پاس کار کا ڈرائیور پہلے گاڑی چلاتا ہے پھر لائسنس لیتا ہے ۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ میں چئیرمین کمیٹی کو تمام تر ڈاکیوومنٹ فراہم کر سکتا ہوں ۔جن پائلٹس کے لائسنس منسوخ ہوئے تھے وہ بلکل ٹھیک ہوئے تھے ۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میں عدالتی حکم کے مطابق بحال ہونے والے پائلٹس کی بات کر رہا ہوں ۔ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا تھا پائلٹس پر ایف آئی آر ہیں اس کے علاوہ کوئی ایشو نہیں ۔سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ ایوی ایشن کا جواب کے بعد ان کیمرہ سیشن کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    کوئی کہتا ہے پیٹرول نہیں دوں گا،بچے کہتے ہیں پی آئی اے کا ٹکٹ نہ دیں،سینیٹر محسن عزیز پھٹ پڑے
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا،پی آئی اے کی صورتحال پرارکان کمیٹی نےاظہار تشویش کیا، سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ پی آئی اے کا ہرروز سن رہے ہیں ہر روز، روز بدتر ہے،
    بزنس اور سروائیول پلان کیا ہے ان کے پاس؟ کوئی کہتا ہے پیٹرول کی شارٹیج ہے،کوئی کہتا ہے پیٹرول نہیں دوں گا،بچے کہتے ہیں پی آئی اے کا ٹکٹ نہ دیں، دوسری ایئرلائنز کا دیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ میٹنگ میں ان معاملات پر ان سے بریفنگ لیں گے، سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ منسٹر صاحب ہمیں اپنی شکل ہی دکھا دیں، منسٹر صاحب کبھی کسی ایک میٹنگ میں آجائیں گے؟ کمیٹی نے پی آئی اے کی صورتحال سے متعلق آئندہ اجلاس میں بریفنگ لینے کا فیصلہ کرلیا

    فلائنگ کلب کو کیا مشکلات درپیش ہیں؟ قائمہ کمیٹی نے بلانے کا فیصلہ کر لیا
    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ فلائنگ کلب تعلیمی ادارے ہیں،نہ صوبائی حکومتیں اور نہ وفاقی حکومت فلائنگ کلبز کو سپورٹ کرتی ہیں، ان فلائنگ کلبز کو کوئی گرانٹ نہیں ملتی، ان کو بھی آئندہ میٹنگ میں بلائیں کہنا کو کیا مشکلات درپیش ہیں،نرسریز کو تباہ کردیں گے تو یہاں کوئی فلائنگ سیکھے گا ہی نہیں،13 کلبز ہیں ان کو کیوں نہیں سپورٹ کرسکتے؟ ان کو بلا کر ان کی مسائل سنیں،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں فلائنگ کلبز سے متعلق معاملے پر مزید غور کرنے کا فیصلہ کرلیا

    جہازوں سے سامان کی شفٹنگ اور مسافروں کو تاخیر سے سامان ملنے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ کسٹم کو کہا ہے کہ آپ اپنی مین پاور کو بڑھائیں،سینیٹر شیری رحمان مسائل کا حل نہ ملنے پر حکام پر برہم ہو گئیں،اور کہا کہ گول گول باتیں ہورہی ہیں،کوئی بھی مسئلہ ہو کسی چیز کا یہاں حل نہیں ہے،ہم آپ کا ہی بھلا چاہ رہے ہیں،مسائل کا حل تو بتائیں، کسی چیز کا کوئی جواب نہیں ہوتا، ڈی جی سول ایوی ایشن آپ تو کب سے بیٹھے ہیں، ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ اڑھائی گھنٹے میں سامان آنے والی بات غلط ہے،سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بوسٹن ایئرپورٹ پر بیس منٹ سے آدھا گھنٹہ لگا ہے سامان ملنے پر،

  • گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، کم سن رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم حفیظ کو عہدے سے ہٹانے ، گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئیً،وزارت انسانی حقوق کی نمائندہ اور اسٹیٹ کونسل ذوہیب گوندل عدالت میں پیش ہوئے،سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے وکیل قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے فریقین کو چائلڈ ویلفئیر ، چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق گذارشات جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عامر فاروق نے سول جج کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے رضوانہ تشدد کیس کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،یہ کسی سے متعلق کوئی ذاتی نوعیت کا کیس نہیں بلکہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنا مقصد ہے ، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے اسکی روک تھام ضروری ہے ، ہمارا مقصد اس مسئلے کو ہائی لائٹ کرنا ہے کسی کو ٹارگٹ کرنا نہیں ،یہ سوشل ایشوز ہیں انکی روک تھام کے لیے حل نکالنا ہے ،طیبہ تشدد کیس بھی ہوا تھا اب یہ والا کیس سامنے آیا ہے ہم نے چائلڈ لیبر اور بچوں پر تشدد کے معاملے کو تفصیلی دیکھنا ہے ،بچوں کو پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل قیصر امام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس کی طرف سے آئے ہیں ، وکیل قیصر امام نے کہا کہ میں سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے میں پیش ہوا ہوں ، آرفن کئیر سنٹر بنانے چاہیے تاکہ کم عمر بچوں کو کام پر بھیجے سے بچایا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک میں کئی انسٹیٹیوٹ ہوتے ہیں جس میں بچے کام کرکے کوئی مکینک بن جاتا ہے کوئی اور ہنر سیکھ جاتا ہے ہمارے پاس پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے کچھ انسٹیٹوٹ ہیں جنھیں دیکھنا چاہیے ،

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن سنٹر موجود ہیں جنہیں کردار ادا کرنا چاہیے ، نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس بھی موجود ہیں ،وزارت انسانی حقوق بھی اس سارے معاملے کو دیکھتی ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق سے توقع ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنا کردار کرے گی وزارت انسانی حقوق بھی اپنا تفصیلی جواب جمع کروائے کہ کیسے گھریلو تشدد کے واقعات کو روکا جائے ،عدالت نے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔ خاقان عباسی

    نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔ خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔ عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری کو مل کر بیٹھنا چاہئے، فضل الرحمان اور چیف جسٹس بیٹھیں، یہ سب بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ آگے کیسے چلنا ہے۔ ان چھ لوگوں کو ساتھ بیٹھ کر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا اور ان کا آئینی کردار ہو نہ ہو یہ اثر انداز تو ہوتے ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج سارے ناکام، ہوچکے ہیں، آج سیاستدان بھی ناکام ہیں ، جو ججز نے کیا وہ بھی آپ کے سامنے ہے، مجموعی طور پر ایک نظام کی ناکامی ہے، آج بیٹھ کر اس نظام کے اندر راستہ ڈھونڈیں کہ ہم سب مل کر ملک کے حالات کو کیسے درست کریں گے۔

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ آئین جیسے کہتا ویسے الیکشن کرانا ضروری ہیں، مگر الیکشن مسائل کا حل نہیں نکال پائیں گے کیونکہ گزشتہ 3 سال میں ہر سیاسی جماعت اقتدار میں رہ چکی ہے، یہ سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل حل نہیں کرسکیں، مستقبل میں یہ جماعتیں کیسے مسائل حل کریں گی، موجودہ سیاسی جماعتیں مسائل حل کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے، مسائل حل کرنا سیاستدانوں کا کام ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے 35 سال پرانا تعلق ہے، لندن جاتا ہوں تو ان سے ملاقات ہوتی ہے، موجودہ حالات میں نواز شریف کا اہم کردار ہے، میں نے ان کو تجویز دی ہے کہ ’اس سال انہیں قومی سطح کی سیاست میں 40 سال ہوجائیں گے، تو ان کو کوئی حل ڈھونڈنا چاہیے‘۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات
    اسٹینڈرڈ چارٹرڈاور کراچی یونائٹیڈ کے تحت یوتھ فٹ بال لیگ، چھٹے ایڈیشن کا آغاز
    کوئلے کی کان میں دھماکہ؛ 11 مزدور زخمی
    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    خاقان عباسی نے مزید کہا کہ نواز شریف کو ہمیشہ مثبت سیاست کرتے دیکھا ہے۔ سیاست دانوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور سیاست دشمنی بن گئی ہے، تفریق سے ملک نہیں چلے گا جبکہ نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں۔

  • ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نئے مستقبل کیلئے نئی سوچ پیدا کی جائے ، ہمارے ہاں آئے روز ایک نئی جماعت آ کر تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے ،ووٹ کو جن سے خطرہ تھا اب وہ خطرہ ختم ہو چکا،ہم الیکشن کیلئے ہر وقت تیار ہیں ،جنوری میں بر فباری ہوتی ہے الیکشن پر اثر پڑے گا،جے یو آئی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کیلئے جدو جہد کی،ملین مارچ نے جمعیت علمااسلام کو بڑی سیاسی قوت ثابت کیا،ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے کہ ہماری طاقت کیا ہے، ،پیپلزپارٹی اندر اندر ایک فیصلہ کرتی ہے، باہر آکر سیاست کرتے ہیں،

    ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا فرض ہے فلسطین کی مددکریں،دنیا ہمیں غلام بنانا چاہتی ہےامت مسلمہ کو فلسطین کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔پاکستان کو بڑے غیر مبہم الفاظ کے ساتھ اپنا موقف دینا چاہیے۔دو جنگوں میں پاکستانی فوج فلسطین میں لڑی ہے اسرائیل کےخلاف اب پاکستان کو اسی روز میں واپس آجاناچاہیئے ، پیپلزپارٹی نے خود کہا تھا کہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونے چاہیے، نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیاں ہوں گی یہ لوگ اندر ایک فیصلہ کرتے ہیں باہر آکر سیاست کرتے ہیں کہ ہمیں اتفاق رائے اور نئی مردم شماری کےساتھ الیکشن میں جاناچاہئے، الیکشن کمیشن کام کررہا ہے ابہام کیوں پیدا کیے جارہے ہیں؟ہمارے لیے حالات مشکل ہیں، جب میں یہ بات کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے الیکشن ملتوی کرارہا ہے،ووٹ کوعزت کا نعرہ اس وقت تھا جب ووٹ کو خطرہ تھا.

    آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے،

    مستونگ اور ہنگو دھماکے قابل مذمت اور انتہائی افسوسناک ہیں ۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • تلخیاں ختم ، تعاون اور درگزر کا راستہ نکلنا چاہیے،صدرمملکت

    تلخیاں ختم ، تعاون اور درگزر کا راستہ نکلنا چاہیے،صدرمملکت

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی سےسابق وفاقی وزیر اورسینیٹر محمد علی درانی کی ملاقات ہوئی ہے

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات آزادانہ،منصفانہ،شفاف اورجامع ہونےچاہئیں، ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کیلئےتمام سیاسی جماعتوں اوراُن کی قیادت کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کے یکساں مواقع فراہم کیےجائیں، اگر لوگ اپنی پسند کے لیڈر منتخب نہ کر سکیں تو جمہوریت بے معنی ہو جاتی ہے ، معیشت سمیت تمام ممکنہ محاذوں پر مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک میں سیاسی، ادارہ جاتی اور اسٹیک ہولڈرز کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے، تلخیاں ختم ہونی چاہئیں ، تعاون اور درگزر کا راستہ نکلنا چاہیے، مشکل فیصلوں کیلئے عوامی حمایت اور مشترکہ ملکیت درکار ہوتی ہے، آئندہ عام انتخابات ملکی تعمیر ِنو کیلئے ضروری تحریک پیدا کرنے کا اچھا موقع ہیں،سیاسی شمولیت کا اہم اور واحد معاملہ ہی جمہوریت کی روح ہے ،

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم