Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے نواز شریف سرنڈر کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی آپ کا اسٹیٹس کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ابھی اشتہاری کا اسٹیٹس ہے، لیکن عدالتی فیصلے موجود ہیں سرنڈر کرنے پر پروٹیکشن دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کس فیصلے کی آپ بات کر رہے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عاصمہ عالمگیر کا کیس ہے جس میں فیصلہ ہوا تھا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن کے بعد حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی پراسیکیوشن کو سن کر حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ، میں نے اس ملک کی کسی عدالت کی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا ،میرے خلاف جتنے کیس بنے میں خود پیش ہوتا رہا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں کہ terrible کام ہائیکورٹ نے کیا ہے کہ عدم پیروی اپیل خارج کردی ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں ، اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آ رہے ہیںَ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی طرف سے کوئی ہے؟ نیب پراسیکیوٹر فوری عدالت کے سامنے پیش ہو گئے اور کہا کہ نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر پراظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ اگر یہی ہدایات ہیں تو اپیلوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں؟ کل تو آپ کہیں گے اپیلیں ہی کالعدم قرار دے دیں،نیب کو کیا پہلے ہی ہدایات ملی ہوئی ہیں؟یہ کرنا ہے تو پھر چیئرمین نیب سے پوچھیں آج ہی نوازشریف کی سزائیں کالعدم بھی کر دیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جب اپیل فکس ہو گی تو اس وقت ہدایات لے کر دلائل دیں گے،

    عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی،عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہوں عدالت پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے،درخواست پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ بنا کر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی.درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اسپیشل فلائٹ سے اسلام آباد آرہے ہیں،

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر ہونے کے بعد نیب کےپراسیکیوٹر بھی عدالت پہنچ گئے،نواز شریف کی لیگل ٹیم عدالت پہنچ گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کوئی اعتراض عائد نہیں کیا رجسٹرار آفس نے 3333/2023 اور 3334/2023 نمبر الاٹ کردیا گیا ، نواز شریف کی درخواست پر آج ہی بنچ تشکیل اور سماعت کا امکان ہے

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستیں آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کی دائری برانچ نے نوٹ بنا کر چیف جسٹس کے سیکرٹری کو بھجوا دیا، رجسٹرار آفس کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ” پٹشنر کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے ”

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے۔اس موقع پر عطا تارڑ نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکیا صرف کہا کہ "میں صرف قانونی ذمہ داری پوری کرنے آیا ہوں” اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف نے اسپیشل اٹارنی عطا تارڑ کے ذریعے دونوں درخواستیں دائر کیں عطا تارڑ نے بطور اسپیشل اٹارنی ہائی کورٹ میں بائیو میٹرک کرائی.

    مسلم لیگ ن نے حکمت عملی کے تحت آج درخواست دائر کی ہے اگر عدالت نے پہلے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تو نواز شریف لاہور کی بجائے پہلے اسلام آباد لینڈ کریں گے،اسکے بعد لاہور آئیں گے،

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران

    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران

    اسرائیلی افواج کو مفت کھانا فراہم کرنے کے اعلان پر میک ڈونلڈز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور معروف ملٹی نیشنل فاسٹ فوڈ چین کے بائیکاٹ کا مطالبہ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے اور گزشتہ دنوں دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر بائیکاٹ میکڈونلڈ ٹرینڈ کر تا رہا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ معروف ملٹی نیشنل فاسٹ فوڈ چین کی جانب سے اسرائیلی افواج کو مفت کھانا فراہم کرکے ان کی مدد کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

    خیال رہے کہ میکڈونلڈ نے اسرائیلی فوجیوں کو مفت کھانا بھیجنے کا اعلان اپنے آفیشل اسرائیلی برانچ انسٹاگرام ہینڈل پر تصاویر کے ساتھ کیا تھا اور اس میں انہوں نے کہا تھا "پانچ شاخیں کھولی ہیں جو صرف سیکیورٹی اور ریسکیو فورسز کو امداد اور عطیات سے متعلق ہیں، اور ہم روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 4000 کھانے اسرائیلی فوج کو عطیہ کریں گے۔” جبکہ یہ بات جب سوشل میڈیا پر آئی تو فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی پوسٹیں شروع ہوگئی اور دنیا بھر کے مسلمان برگر کمپنی کے اس اعلان سے ناخوش دکھائی دیئے تھے اور اسی وجہ سے لوگوں نے اس کمپنی کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ شروع کردیا.


    تاہم اس حوالے سے اب بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں میکڈونلڈ کو ویران پایا گیا ہے اور پارک میں کوئی بھی گاڑی نظر نہیں آرہی ہے اور اس ویڈیو میں ایک شخص کہہ رہا ہے یہی مسلمانوں کا کمال ہے کہ انہوں نے مکمل بائیکاٹ کردیا ہے اور اب یہ ویران پڑا ہوا ہے. تاہم دوسری جانب میکڈونلڈ سعودی عرب نے اس سب پر وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیلی فرنچائز کا خودمختار فیصلہ اور اقدام تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت

    جبکہ کمپنی نے اپنے اعلامیہ میں کہا تھا کہ میک ڈونلڈ کی انٹرنیشنل یا کسی بھی ملک میں موجود فرنچائز کے مالک کا اس اقدام کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور ہم نے ہمیشہ زور دیا ہے کہ ہماری ذمہ داری صرف سعودی سرحدوں تک محدود ہے اور ہماری قومی سرحدوں سے باہر جو کچھ بھی فرنچائز مالکان کرتے ہیں اس میں ہم کسی طور بھی شامل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں. ادھر پاکستانی برانچ نے بھی وضاحت میں کہا تھا ہم اس معاملے میں آزاد ہیں اور ان کا بیان بھی پہلے والے سے ملتا جلتا ہے.

  • سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    حکومت کے ناجائز اختیارات کے استعمال پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ،سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ حکومت شہریوں کیخلاف بے بنیاد اور جھوٹی کاروائیوں سے ہرہیز کرے،ا ختیارات کے باجائز استعمال سے عوام میں خوف اور عدم سیکورٹی کا احساس پیدا ہوتا ہے،خوف کا ماحول ریاستی اداروں کیخلاف نفرت پیداکرتا ہے،خوف کے ماحول میں میڈیا بھی آزاد کام نہیں کر سکتا،حکومت ناقدین اور سیاسی مخالفین کو اپنا دشمن نہ سمجھے،آئین ہر شہری کو سیاسی معاشرتی اور آزادی رائے کا حق دیتا ہے، شہریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا عوام تک معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہیں، آزادی رائے کا حق استعمال کرنے پر سیاسی ورکرز، صحافیوں و دیگر پر مقدمات کا اندراج ہو رہا ہے،یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ عوامی نمائندے،صحافی اور سیاسی ورکرز ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں،حکومت کی ایسی کاروائیاں آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ عماد یوسف کیس میں جاری کیا،جسٹس اعجاز الااحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عماد یوسف کو شہباز گل کیس سے بری کردیا تھا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی سفارشات کے تحت سرکاری ملازمین کی بحالی اور مستقل کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بحال اور مستقل ہونے والے سرکاری ملازمین کو بڑا دھچکہ لگ گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام وزارتوں اور محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ای او بی آئی ، سی ڈی اے، اوور سیز پاکستان فاؤنڈیشن خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں، پاکستان اسٹیل ملز، ایف آئی اے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں ، اگر کمیٹی کی ملازمین کی بحالی کی سفارشات پر عمل ہوا ہے تو محکمے ان احکامات کو ختم کریں ،

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کیخلاف درخواستوں گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کر لی گئی،کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے افسران کیخلاف تادیبی کاروائی غیر قانونی قراردے دی گئی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت اسپیشل کمیٹی اپنے مقرر کردہ اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتی، وفاقی حکومت نے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کو سپورٹ نہیں کیا، اسپیشل کمیٹی کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،کمیٹی کا پارلیمنٹ کو سفارشات بھیجنے کا مینڈیٹ تھا ، کمیٹی نے براہ راست اداروں کو ہدایات بھیجنا شروع کردی تھیں ،کمیٹی نے ای او بی آئی کو عدالتی فیصلے سے برطرف ہونے والے 358 ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ،ان تمام اقدامات سے تاثر دیا گیا کہ کمیٹی قانون سے بالا تر اور آئینی مینڈیٹ سے باہر ہے، خصوصی کمیٹی کے کام سے تاثر تھا کہ وہ اداروں میں اختیارت کی تقسیم کی اسکیم کیخلاف کام کررہی ہے، ایف آئی اے افسران کو کریمنل پروسیڈنگ کے لیے شوکاز نوٹس جاری کئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ رولز میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ کمیٹی حکومتی اداروں کو بلا کر احکامات جاری کرے،

    پاکستان اسٹیل ملز ، ای او بی آئی و دیگر نے خصوصی کمیٹی کی ملازمین کے حوالے سے سفارشات کو چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا ،خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی ،کمیٹی نے چیئرمین ای او بی آئی ، وزارتِ تعلیمات و دیگر کیخلاف سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر کارروائی کی ہدایت کی تھی ،قادر خان مندوخیل خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی کمیٹی کے چیئرمین تھے

  • اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟فیصلہ محفوظ

    اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟فیصلہ محفوظ

    احتساب عدالت اسلام آباد، ن لیگی رہنما اسحاق ڈار و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح احتساب عدالت پیش ہوئے،اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس پر سماعت جج محمد بشیر نے کی، اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ 22 نومبر 2022 کو بری کرنے کی درخواست پر دلائل سنے گئے،احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو بری کرنے کی درخواست پر فیصلہ بھی سنایاتھا،اسحاق ڈار کے ریفرنس پر احتساب عدالت فیصلہ پہلے ہی کر چکی ہے،پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا کہ ابھی تو پراسیکیوٹر نے بتانا ہے کہ کیس کو چلانا بھی بنتا ہے یا نہیں، وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ ریفرنس بند کرنے کی بجائے اسحاق ڈار کو بری کیا گیا تھا،پراسیکیوشن اسحاق ڈار کے خلاف ثبوت پیش کرنے پر ناکام رہی،سیکشن 9 اے 5 کو بھی ختم کردیا گیا، کیس سے تعلق ہی نہیں رہا،مکمل دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایاگیا،

    جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار اور دلائل سن لیں گے، آپ کو تو دلائل یاد ہوں گے، وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ ضرور، آپ کے سامنے دلائل دینے کے لیے ہی کھڑے ہیں،احتساب عدالت نے فیصلے میں تحریر کیاتفتیش کسی وجہ سے ٹھیک طرح سے نہیں ہوئی،عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ تفتیش کا طریقہ کار کیاتھا،کوئی ایسا گواہ نہیں آیا جس پر تفتیشی افسر نےکہاہو کہ اثاثہ جات سے متعلق دستاویزات غلط ہیں،جے آئی ٹی نہ تفتیشی افسر کوئی ثبوت اسحاق ڈار کے خلاف لایا،تفتیشی افسر نے جو ثبوت اکٹھے کرنے چاہیے تھے، نہیں کیے،

    اسحاق ڈار و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت مکمل ہوئی گئی،نیب پرایسکیوٹر اور اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح کے دلائل مکمل ہو گئے،کیا اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟ احتساب عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 21 اکتوبر کو محفوظ فیصلہ سنائیں گے

    احتساب عدالت نے اس سے قبل اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس داخل دفتر کر دیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ سماعت کی گئی

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    احتساب عدالت اسلام آباد ،بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت

    بشریٰ بی بی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس کی عدالت پیش ہوئیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کافی عرصہ ہوگیا آپ کو دیکھا نہیں، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے کہا کہ اب نارکوٹکس کی عدالت کا چارج مل گیاہے، وکیل لطیف کھوسہ نےکہا کہ جس دن احتساب عدالت نے درخواست ضمانت نمٹائی، اسی دن نیب نے نیا نوٹس بھیج دیا، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کو روسٹرم پر بلا لیا،بشریٰ بی بی روسٹرم پر آگئیں

    بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں ضمانت منظور کر لی گئی،ڈیوٹی جج راجاجواد عباس نے 31 اکتوبر تک بشریٰ بی بی نے درخواست ضمانتین منظور کرلی ،ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کی پانچ پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانتین منظور کرلی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تھانہ کھنہ میں دو اور ایک تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمات ،انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کردی،وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواستیں بحال کی ہیں اس کیس میں ملزم کی پروڈکشن لازمی ہیں، ہیلی کاپٹر پر لائیں ، جہاز میں یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی لازمی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے ، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 24 اکتوبر تک تینوں مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا,عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،

    پراسکیوٹر ،راجہ نوید نے کہاکہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پیش نہیں ہوتے تھے،عدالت سیکورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کرلے اس کے بعد فیصلہ کرے،پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی یہاں موجودگی کی وجہ سے دو مقدمات درج ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن آج کہہ رہی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی خدشات ہیں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیسز کا ریکارڈ کہاں ہے؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ آج ریکارڈ نہیں ہے، ریکارڈ پیش کردیں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج سیکورٹی خدشات والی ہماری بات پراسکیوشن خود دہرا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو کہتے تھے پیش ہوں ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی،چیئرمین پی ٹی آئی ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتے تھے،کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جج ملزم کے سامنے پیش ہونے جارہاہو،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی کا مسئلہ ہے تو کل جہاں ہم نے جانا ہے وہیں درخواستِ ضمانت سن لیں، درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،جج ابوالحسن ذوالقرنین نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو ہر ریلیف ملے گا جو آپ کا حق ہوگا، سلمان بھائی آپ بہت بڑے چیمبر سے ہیں، بغیر کسی تفریق کے کیس چلے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنائیں،الیکشن کمیشن

    اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنائیں،الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام اہل پاکستانی اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ووٹ کے اندراج کو یقینی بنائیں،

    ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹ کے اندراج میں صرف 10 دن رہ گئے ہیں ،25 اکتوبر 2023 کو ملک بھر میں تمام انتخابی فہرستوں کو منجمد کر دیا جائے گا ،جس کے بعد کسی بھی ووٹ کا نہ ہی اندراج ہو سکے گا اور نہ ووٹ کی منتقلی ہو سکے گی ،الیکشن کمیشن نے 28 ستمبر سے 25 اکتوبر 2023 تک انتخابی فہرستوں کو غیر منجمد کیا ہوا ھے،25 اکتوبر 2023 تک تمام اہل افراد جن کے پاس شناختی کارڈ موجود ہو وہ اپنے ووٹ کا اندراج کر سکتا ھے، تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بطور رجسٹریشن آفیسر تعینات ہیں

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ اندراج میں تمام افراد کو مکمل سہولت دی جارہی ھے ،ووٹ کا اندراج اور منتقلی فارم 21 پر ہوتی ھے،اگر کوائف یا ایڈریس میں کوئی غلطی ہو وہ بھی درست کی جا سکتی ہے۔انتخابی فہرستوں کو ملک بھر میں 20 جولائی 2023 کو منجمد کر دہا گیا تھا،ووٹ کا اندراج ووٹر کے شناختی کارڈ کے مطابق مستقل یا موجودہ پتہ پر کیا جاتا ہے، سرکاری ملازمین اگر کسی دوسرے ضلع یا صوبے میں تعینات ہیں تو اپنی پوسٹگ والی جگہ پر اپنا اور فیملی کا ووٹ درج کرا سکتا ھے، تمام اہل افراد آئندہ عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر یں گے ،ایسے تمام افراد جن کو 25 اکتوبر 2023 تک شناختی کارڈ جاری ہونگے انکے ووٹوں کے اندراج کو یقینی بنایا جائے گا

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • اسلام آباد،گاڑی روکنےکے اشارے پر ملزمان نے چلائی گولیاں

    اسلام آباد،گاڑی روکنےکے اشارے پر ملزمان نے چلائی گولیاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہاہے، چوری، ڈکیتی، چھینا جھپٹی کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں وہیں مجرم اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ تھانہ گولڑہ کے علاقہ ای 12 میں ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق پولیس پارٹی سیکٹر ای 12 میں گشت پر تھی کہ ایک مشکوک کارکو رکنے کا اشارہ کیا۔ کارسوار تین ملزمان نے اچانک پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے،پولیس پارٹی حفاظتی تدابیر کی وجہ سے فائرنگ سے محفوظ رہی۔ پولیس نے فرار ملزمان کا تعاقب کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ۔پولیس نے ملزم سے اسلحہ و ایمونیشن برآمد کرلیا۔ پولیس نے گاڑی بھی قبضہ میں لے لی جس سے گاڑی چوری کے آلات برآمد ہوئے۔ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔پولیس پارٹی پر فائرنگ کا مقدمہ تھانہ گولڑہ میں درج کرلیا گیا۔ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع پکار 15 یا ICT-15 ایپ کے ذریعے اسلام آباد پولیس کو دیں۔

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • نواز شریف واپسی؛ مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ کبھی بھلایا نہ  جائے گا. رانا ثناءاللہ

    نواز شریف واپسی؛ مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ کبھی بھلایا نہ جائے گا. رانا ثناءاللہ

    پاکستان مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی واپسی ایک اہم ایونٹ ہے اور پوری قوم اس کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ 21 اکتوبر کو مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ تمام ریکارڈ توڑ دے گا خیال رہے کہ لاہور میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت پنجاب کے تنظیمی عہدیداروں، ڈویژنل صدور اور کوآرڈی نیٹرز کی اہم زوم میٹنگ ہوئی جس میں پارٹی قائد نواز شریف صاحب کی 21 اکتوبر کی واپسی کے حوالے سے انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ بھی لیا گیا اور ساتھ میں مزید ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں.

    خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے تمام تنظیمی عہدیداران اور کوارڈینیٹرز کی طرف سے تیاریوں پر پیش کی جانے والی رپورٹس پہ اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور رانا ثناء اللہ کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ پنجاب کے طول و عرض میں اس وقت نوازشریف کی واپسی ہی ایک اہم ایونٹ ہے اور پوری قوم اس کی تیاریوں میں مگن ہے جبکہ 21 اکتوبر کو مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ کبھی بھلایا نہ جانے والا واقعہ ہوگا اور ہر جلسے کا ریکارڈ توڑ دے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 17 اکتوبر کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کا ہر غریب قائد کی واپسی میں اپنے حالات کو بدلنے کی امید کی طرح دیکھتا ہے یاد رہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر کا مزید کہنا تھاکہ مینار پاکستان کا تاریخی جلسہ اور قائد نواز شریف کی تقریر پاکستان کے روشن، پرامن اور معاشی مستقبل کی نوید ہوگا۔