Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    عمران خان بارے وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا بیان’پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں کو غلط سمجھا اور رپورٹ کیا گیا ہے۔
    گزشتہ ہفتے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ عمران اور ان کی پارٹی کے جیل ن بھیجے گئے رہنماؤں کے بغیر بھی منصفانہ انتخابات ممکن ہیں
    وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے وہ ’سیاسی عمل کو چلائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    پی ٹی آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے بغیر انتخابات غیر آئینی اور غیر قانونی ہوں گے۔
    ایک دن پہلے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) نے بھی وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کے ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے دعوؤں
    کو جمہوریت مخالف اور غیر معقول قرار دیا تھا۔


    کمیشن نے کہا تھا کہ وزیراعظم کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ان کا یا ان کی حکومت کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کہ منصفانہ انتخابات کیسے ہوں۔
    اب آج جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے صاف الفاظ میں یہ تجویز کیا کہ انتخابات میں حصہ لینا ایک حق ہے، لیکن جرائم
    پر سزا قانونی طور پر جائز ہے۔

    وزارت نے کہا کہ انٹرویو کو کچھ آؤٹ لیٹس نے توڑ مروڑ کر یہ تاثر دیا کہ کسی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    حکومت نے وزیر اعظم کے انٹرویو کے متن کی طرف توجہ مبذول کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم ذاتی انتقام کیلئے کسی کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے۔ لیکن ہاں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون مناسب ہو۔ کوئی بھی چاہے عمران خان ہو یا کوئی اور سیاستدان جو اپنے سیاسی رویے کے لحاظ سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے تو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم اسے سیاسی تفریق کے ساتھ تشبیہ نہیں دے سکتے۔

    وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما کسی بھی دوسری جماعت کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہیں۔ وزیراعظم کے بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی یا مجموعی طور پر پارٹی کے کسی بھی رہنما کے الیکشن لڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہے اور اس وقت قانونی الزامات کا سامنا کرنے والے کسی بھی فرد کے حوالے سے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

  • جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی

    جو ملکی حالات ایسے میں ایک نئی مؤثر جماعت بنے گی۔ خاقان عباسی


    سابق وزیراعظم شاہد خاقان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے‘ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں آئندہ عام انتخابات جنوری میں کرائے جانے کا اعلان ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد سے سیاسی جماعتیں اور رہنما خاصے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ نئی پارٹی کی ضرورت ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آج جو ملک کے حالات ہیں ، اس میں ایک نئی اور مؤثر جماعت بنے گی۔ ایسی جماعت ہو جس کا مقصد واضح ہو کہ کیا اور کیسے کرنا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ نئی پارٹی کا مقصد اگر اقتدار ہے تو پھر بات نہیں بنے گی ’اقتدار تو کسی اور طریقے سے ملتا ہے۔
    جبکہ رہنما ن لیگ نے مزید کہا کہ 35 سال سے ن لیگ کیساتھ ہوں آج میرے پاس لوگوں کے سوالات کا جواب نہیں ہے۔ ہم وہ فیصلے نہیں کر پائے جس کی ضرورت تھی۔ 16ماہ بہت ہوتے ہیں اصلاحات کا کوئی عمل شروع نہیں کیا، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ بڑی جماعتیں بیٹھ کر آگے کے راستے کا تعین کریں گی۔
    تاہم یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اشارہ دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ میں ن لیگ میں شامل ہوں، نئی جماعت بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں، تاہم ملک میں نئی سیاسی جماعت کی گنجائش موجود ہے۔
    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں 2 بیانیوں کی گنجائش نہیں ہے، مختلف بیانیے سے ابہام پیدا ہوتا ہے، شہبازشریف کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے، شہبازشریف کی میڈیا سے دوری سے ابہام بڑھا ہے، شاہد خاقان نے مزید کہا کہ میں اقتدار اورعہدوں کا متلاشی نہیں، 3 سال میں ہر سیاسی جماعت اقتدار کا حصہ رہی ہے، 90 فیصد کاموں میں طاقتوں کو عمل دخل نہیں ہوتا، جو آپ کرسکتے ہیں وہ تو کریں۔ سرمایہ کاروں کو اعتماد دلایا جاسکتا ہے، یہ فیصلے خود کر لیتے تو ایس آئی ایف سی کی ضرورت نہ ہوتی لیگی رہنما نے کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا ہے، ملک میں جو کچھ ہوا، عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ تمام لیڈر محب وطن ہیں، ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز آگے کے راستے کا تعین کریں، عوام کے مسائل کے حل کا ایجنڈا تیار کریں، الیکشن سے پہلے مستقبل کا ایجنڈا تیار ہونا چاہیے۔
    پی ڈی ایم حکومت کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 16ماہ طویل عرصہ ہوتا ہے، 16 ہفتے یا 16 گھنٹے میں بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن 16ماہ وہی کام ہوئے جو چیئرمین پی ٹی آئی کررہے تھے۔اگر جنرل باجوہ ریٹائرڈ رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے ۔۔ ان کے جانے کے بعد بھی آٹھ ماہ ملے، کچھ کام کر لیتے، وہ فیصلے نظر نہیں آئے جو ہونے چاہئیں تھے۔

  • سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔ پشاورہائیکورٹ کےایڈیشنل ججزکی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ بھی جاری کیا۔
    سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی ملک کو آئین کے تحت چلانے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے اختیارات واضح ہیں۔
    فیصلے کے مطابق سنیارٹی کا اصول سول سروس میں محکمانہ پروموشن کمیٹی کیلئے بنیادی جزو ہے، صرف سنیارٹی کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی جا سکتی، ترقی اور اعلیٰ تقرری کیلئے سنیارٹی کیساتھ میرٹ اور اہلیت بنیادی جزو ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ سنیارٹی کا جائزہ اُسی وقت لیا جاتا ہے جب میرٹ اور اہلیت پر تمام امیدوار یکساں ہوں، میرٹ سسٹم کے تحت ہی اہل اور قابل افراد کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔
    فیصلے کے مطابق ججز تقرری کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں تمام ارکان یکساں اہمیت کے حامل ہیں، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔
    سپریم کورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا کام نامزد ججز کی اہلیت اور قابلیت کا جائزہ لینا ہے، پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن دونوں اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مفروضوں اور من پسند آبزرویشنز پر مبنی نہیں ہوسکتا، پارلیمانی کمیٹی ججز کے نام منظور یا مسترد کر سکتی ہے، کمیشن کو واپس نہیں بھیج سکتی۔

    فیصلے کے مطابق عدالتوں کو ماضی کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔
    ججز تقرری کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کو سنیارٹی اصول کے مطابق سفارشات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
    پشاور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کالعدم قرار دی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ۔

    پشاورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کیا۔
    اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے تقرریوں میں شفافیت اہم ہے، تقرری میں شفافیت، احتساب، عوام کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ شفاف عمل کو اپنا کر ہی عدالتی آزادی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
    سپریم کورٹ کے جج کے اختلافی نوٹ کے مطابق من مانی فیصلے کا غیر منظم استعمال عدلیہ کی آزادی کو ختم کرتا ہے۔ میرٹ پر جج کی تقرری اہل افراد کی شناخت سے تقرری تک شفافیت سے ہی ممکن ہے۔

  • چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا ادارے کے اندر شفافیت پر زور

    چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کی بی آئی ایس پی ہیڈ آفس آمد جبکہ سیکرٹری بی آئی ایس پی کا انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کا استقبال کیا ترجمان کے مطابق چیئرمین بی آئی ایس پی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو بی آئی ایس پی اور اس کے دیگر اقدامات کے بارے میں جامع طور پر بریفنگ دی گئی جس کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات کی سماجی و معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ جن اقدامات پر بریفنگ دی گئی ان میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما پروگرام شامل ہیں۔
    ترجمان کے مطابق بریفنگ دوران بی آئی ایس پی میں غریب خاندانوں کی رجسٹریشن میں قومی سماجی و معاشی رجسٹری (NSER) ڈائنامک رجسٹری کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔ مزید برآں، چیئرمین بی آئی ایس پی کو ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن اقدام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ، جس کے تحت مستحقین اور غیر رسمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں میں تبدیلی کو یقینی بنایا جائیگا۔
    جبکہ ڈاکٹرمحمد امجد ثاقب نے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں میں مالی خواندگی اور سماجی ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بینکوں کے ذریعے ادائیگی کے طریقہ کار کو بہتر بنا نے اور مستحقین کی شکایات کا ازالہ سے بی آئی ایس پی کے امیج کو بہتر بنانے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اجتماعی طور پر درست سمت میں آگے بڑھنے کے لیے بی آئی ایس پی ٹیم کے تعاون پر زور دیا۔
    علاوہ ازیں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ادارے کے اندر شفافیت اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ دیگر تنظیمیں اور انفرادی مخیر حضرات اس نیک مقصد میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے بی آئی ایس پی ڈیٹا کے تحفظ اور غیر مجاز کٹوتیوں کی روک تھام کے اہم مسائل کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے خود احتسابی کے عمل کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے مستحقین کو غربت باہر نکلنے کی حکمت عملی پر بھی زور دیا۔

  • پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    پولیس عمران خان کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے لے کر روانہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا, گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس ٹیم نے سخت سکیورٹی میں عمران خان کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ اڈیالہ جیل منتقل کرنے والے قافلے میں پولیس کی 15 گاڑیاں، 2 بکتربند اور ایک ایمبولینس شامل تھی۔

    ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں ہائی سکیورٹی بیرک میں رکھا جائے گا۔
    جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بی کلاس بیرک فراہم کی جائے گی اور انہیں اسی بیرک میں رکھا جائے گا جس میں نواز شریف کو رکھا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے مخصوص کمرے کی صفائی کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور انہیں عدالتی احکامات کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔جیل ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کوجیل میں کمرہ واٹیچ باتھ دیا جائے گا تاہم ان کے کھانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے ایک ملازم 24 گھنٹے تعینات کیا جائے گا۔

    تاہم خیال رہے کہ اڈیالہ پاکستان کی منفرد حیثیت والی وہ جیل ہے جس میں عمران خان سے قبل تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف سمیت چار منتخب وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو رکھا گیا۔اڈیالہ جیل دراصل سینٹرل جیل راولپنڈی ہے اور اسے اڈیالہ جیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ضلع راولپنڈی کا ایک گاؤں اڈیالہ اس سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی مناسبت سے اس کا نام اڈیالہ جیل پڑ گیا ہے۔در اصل یہ پرانی ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی ہے، یہ جیل راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر ضلعی عدالتوں سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں دہگل کے قریب واقع ہے۔

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد آنے والے برسوں میں اس جیل کو ختم کر کے یہاں پارک بنایا گیا اور 1986میں جیل کو اڈیالہ منتقل کیا گیا۔اس جیل کو 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق کی حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔اس سے قبل راولپنڈی کی ضلعی جیل اس مقام پر واقع تھی جہاں آج جناح پارک واقع ہے اور یہ وہی جیل تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق کے دور حکومت میں قید میں رکھا گیا اور اسی جیل سے متصل پھانسی گھاٹ میں انھیں پھانسی بھی دی گئی۔

    نواز شریف دو مرتبہ اس جیل میں رہے۔ پہلی مرتبہ 1999 میں طیارہ سازش کیس میں اور دوسری مرتبہ پانامہ کیس میں انھیں اسی جیل میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں نواز شریف اڈیالہ جیل کے علاوہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھی قید رہے تھے۔نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔
    سابق صدر آصف علی زرداری بھی اپنی زندگی کا کچھ وقت اڈیالہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ستمبر 2004 سے 2006 تک ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ اڈیالہ جیل میں گزارا۔
    شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہ چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور جاوید ہاشمی بھی کچھ وقت یہاں گزار چکے ہیں۔

  • نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔ شاہد خاقان عباسی

    نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔ شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ آپ کی حکومت میں رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے، اس کے بعد بھی آپ کو 8 سے 9 مہینے ملے، کام کرلیتے۔
    نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن کی سیاست سے مطمئن نہیں ہوں، راستے کا تعین کریں پھر الیکشن میں جائیں ورنہ الیکشن انتشار کے علاوہ کچھ نہیں دے گا، پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوں کسی مشاورت میں شامل نہیں ہوں ، نواز شریف وزیراعظم بنے تو میں خود کو وزیر نہیں دیکھتا۔

    انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست گالی گلوچ کی ہے، 2013 سے 2018 تک خرابیوں کی طویل داستان ہے، کوئی شبہ نہیں کہ 2018کا الیکشن چوری ہوا، اب ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا ہے آگے کی طرف دیکھنا ہے، لوگ آج اسے مسئلہ نہیں سمجھتے حالانکہ خرابی کی جڑ یہی چیزیں ہیں، خرابیاں درست نہیں کریں گے تو مسئلہ آگے نہیں چلے گا۔
    ان کا کہنا تھاکہ اگر جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ آپ کی حکومت میں رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے، اس کے بعد بھی آپ کو 8 سے 9 مہینے ملے، کام کرلیتے، آپ اتنے وقت میں بہت فیصلے کرسکتے تھے،کارکردگی بہتر ہوسکتی تھی۔

    شاہد خاقان کا کہنا تھاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 3 سال 8 مہینے میں ایک پیسے کا کام نہیں کیا، ہم نے کیا کام کیے، ذرا اس کی فہرست بھی چیک کرلیں لیکن مجھے وہ فیصلے ہوتے نظر نہیں آئے جو ہونے چاہیے تھے۔
    سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز حکومت میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اسپیڈ نظر نہیں آئی جو ہونی چاہیے تھی، پچھلی حکومت نے بھی ساڑھے تین سال فیصلےنہیں کیے آپ کرلیتے آپ نےبھی نہیں کیے، قصور وار صرف شہباز شریف نہیں ہم سب ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ عمر عطا بندیال نے جاتے جاتے تحفہ دے دیا، نیب کو پرانی شکل میں بحال کردیا، آپ کو روز بیٹھ کر معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے، آج جمود اور خوف ہے حکومت کے اندر لوگ فیصلے نہیں کرتے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ آج نئی جماعت کی ضرورت بھی ہے اور جگہ بھی۔

  • گیس کی قیمتوں میں اضافے پرکام جاری، نگران وزیر توانائی

    گیس کی قیمتوں میں اضافے پرکام جاری، نگران وزیر توانائی

    نگران وزیر توانائی محمد علی کا کہنا ہےکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے پرکام جاری ہے،کم آمدنی والے افراد کے لیے ماہانہ 500 روپے سےکم کا بوجھ ڈالا جائےگا۔
    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر توانائی محمد علی کا کہنا تھا کہ ڈالرکی قیمت ضرور کم ہورہی ہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا 30 ستمبرکو ہی معلوم ہوگا۔
    نگران وزیر توانائی محمد علی کا کہنا تھا کہ ڈسکوز سمیت پاور ڈویژن کے 14 اداروں کی نجکاری چاہتے ہیں، ورلڈ بینک سے بھی اس بارے میں بات ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل آئی پی پیز کے ساتھ ماضی کے معاہدوں کو نہیں چھیڑسکتے، نجی شعبہ آئے ،کمائے، مگر ٹیکس پورا دے۔ جبکہ دوسری جانب آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ترجمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر چلنے والی خبروں پر بیان جاری کردیا۔
    ترجمان اوگرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پرقیاس آرائیوں سے بچنےکی اہمیت پر زور دیتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی قیمتوں اور ڈالر کی شرح تبادلہ پرمنحصر ہیں اور حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ ملک میں ڈالر سے روپے کی شرح تبادلہ میں بہتری آئی ہے اور پیٹرول کی نئی قیمتوں کے اعلان میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے اس لیے اس مدت میں قیمتوں پرقیاس آرائیاں تیل کی سپلائی چین میں خلل ڈال سکتی ہیں۔

  • سعودی عرب; ٹریفک حادثے میں جاں بحق 4 افراد کی میتیں  پہنچ گئیں

    سعودی عرب; ٹریفک حادثے میں جاں بحق 4 افراد کی میتیں پہنچ گئیں

    سعودی عرب میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد کی میتیں سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پہنچادی گئیں۔
    سیالکوٹ ایئرپورٹ سے ورثہ میتیں وصول کر کے بذریعہ ایمبولینس اوکاڑہ روانہ ہوئے۔
    مرحومین کی نماز جنازہ کل بروز منگل صبح 8 بجے گاؤں 14جی ڈی رضا آباد اوکاڑہ میں ادا کی جائیں گی۔

    اوکاڑہ کے شہری پانچ روز قبل سعودی عرب میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے، مرحومین میں دو سگے بھائی اور دو کزن شامل ہیں۔
    سمندر پار پاکستانیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت رقم اکٹھی کر کے ڈیڈ باڈیز پاکستان بجھوائیں۔
    واضح رہے کہ اوکاڑہ کا رہائشی خاندان روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھا، اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے بائیو میٹرک کے لیے جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت محمد طارق، محمد رمضان، عبدالشکور اور اسد علی کے نام سے ہوئی اور چاروں ایک ہی خاندان کے افراد تھے۔

  • مانیکا خاندان کی کرپشن کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    مانیکا خاندان کی کرپشن کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    خاور مانیکا کو گرفتار کرلیا گیا ہے سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں تحلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ مانیکا خاندان نے کرپشن کے پہاڑ لگا دیئے ہیں ، ان کا کہنا تھا سابق خاتون اول بشریٰ بیگم کے سابق شوہر خاور مانیکا گرفتار ہوگئے ہیں جو بدنام زمانہ مجرم ہیں۔

    سینئر اینکرپرسن نے اپنے ولاگ میں دعویٰ کیا کہ کیک بیکس صرف ماں نے نہیں بلکہ سوا ارب تو اسی پارٹی یعنی ملک ریاض بحریہ ٹاؤن والے سے لیئے ہیں، جبکہ خاور مانیکا نے بھی بہت کرپشن کی ہے ۔ اور 2018 میں وہاں سے ریٹائرڈ ہوگیا تھا۔

    جبکہ پہلے ان کی شادی اپنے قریبی رشتہ میں ہوئی جو چل نہ سکیں اور پھر انہوں نے بشریٰ مانیکا سے شادی کرلی، جس سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، تاہم جب بشریٰ نے عمران سے شادی کی تو خاور مانیکا نے انہیں طلاق دے کر بیٹی کی اچھی دوست سے شادی کرلی۔

    تاہم معروف صحافی نے دعویٰ کیا کہ خاور مانیکا پر یہ الزام ہے کہ وہ روائتی بدنام عنوان شخص ہیں، اور کرپٹ ترین بیوروکریٹ ہیں، اور انہوں نے اپنے علاقہ میں کئی زمینوں پر قبضہ کرلیا ہے، اور انہوں نے جعلی شناختی اور جعلی شادی شدہ ریکارڈ بھی بنایا گیا۔

    جب کہ بشریٰ بی بی کے بیٹا بھی پیچھے نہ رہا اور دس لاکھ روپے کی روزانہ ک بنیاد پر پنجاب میں تبادلے اور پوسٹینگ سے کماتا رہا اور انہوں نے تقربا ایک ماہ میں تین کروڑ تک کمائیں جو ایک مونگ پھلی ک دانا ہے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو بیرون ملک جانے کی کوشش میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔تفصیلات کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے امیگریشن نے خاور مانیکا کو دبئی جانے سے روک لیا،خاور مانیکا نجی ایئر لائن سے دبئی جارہے تھے، خاور مانیکا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے پر روکا گیا۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ خاور مانیکا کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہے،ایف آئی اے نے خاور مانیکا کو اینٹی کرپشن کے حوالے کردیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ خاور مانیکا سرکاری ملازم ہیں اور باہر جانے کا این او سی بھی ان کے پاس موجود تھا تاہم سٹاپ لسٹ میں نام ہونے کی وجہ سے انہیں روک لیا گیا۔

  • انجکشن سے بینائی متاثرہ افراد کی تعداد 77

    انجکشن سے بینائی متاثرہ افراد کی تعداد 77

    پنجاب میں انجکشن سے بینائی متاثرہ افراد کی تعداد 77 ہوگئی۔
    لاہور میں 25، ملتان میں 19، بہاولپور میں 17 اور قصور میں چار افراد کی بینائی متاثر ہوئی جبکہ انجکشن لگانے والوں میں لاہور کے 5، بہاولپور کے 4 اور ملتان کے 3 نجی کلینک شامل ہیں۔
    غیرقانونی غیر رجسٹرڈ کمپنی سے انجکشن کی فروخت پر 11 ڈرگ انسپکٹر کو معطل کردیا۔

    انجکشن فراہم کرنے والا ایک ملزم کو ملتان سے گرفتار کرلیا گیا۔ نگران وزیر برائے پرائمری ہیلتھ کیئر پنجاب جمال ناصر نے میو اسپتال لاہور میں متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور میڈيا کو بتایاکہ انجکشن ٹیسٹنگ لیب سے رپورٹ آنے پر کارروائی آگے بڑھائيں گے۔
    دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر کے اسپتالوں اور فارمیسیز کو بینائی متاثر کرنے والے انجکشن کے استعمال سے روک دیا۔

    ڈریپ حکام کاکہنا ہے کہ کسی اسپتال، لیباٹری یا فارمیسی کے پاس انجکشن کی ری پیکجنگ کالائسنس نہیں، مارکیٹ میں غیر رجسٹرڈ اور رجسٹرڈ دونوں طرح کے انجکشن موجود ہیں۔
    ڈریپ حکام کا کہنا تھاکہ درآمد شدہ انجکشن کا کوالٹی چیک مکمل ہونے تک استعمال نہ کیا جائے، مریض بھی آنکھوں کی بیماری کیلئے فی الحال یہ انجکشن لگوانے سے گریز کریں۔
    اُدھر لاہور میں ڈریپ نے میڈیسن ڈسٹری بیوٹرزکے دفاترپرچھاپے مارے ہیں اور انجکشن کی 110 وائلز برآمد کی ہیں جوڈرگ ٹیسٹنگ لیب بھجوا دیے گئے۔