Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی۔

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    صدر نے غلط بیانی کی قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے،رضا ربانی

    پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت عارف کی جانب سے کیا گیا ٹویٹ غیر مناسب تھا ،

    رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صدر ریاست کے سربراہ ہیں انکے پاس آئینی راستہ موجود تھا ،آرٹیکل 75 کے تحت وہ بلز کو واپس بھیج دیتے ،جس طرح دیگر بلز واپس بھیجے تھے یہ بھی اسی طرح واپس بھیج دیتے یہ کیا بات ہوئی وہ دستخط بھی نہیں کرنا چاہتے کچھ کہنا بھی نہیں چاہتے ہیں ، میں یہ سمجھتا ہوں یہ کوئسچن آف لاء سے زیادہ کوئسچن کو فیکٹ کا معاملہ ہے ،صدر آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلمینٹ کا حصہ ہیں ،صدر کو سینٹ کی کمیٹی کے رو برو پیش ہونا چاہیے جو متعلقہ افسران ہیں جن کا تعلق اس واقعے سے ان کو وہاں پیش ہونا چاہیے ،اس کمیٹی کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ اصل حقائق کیا ہیں اگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی شروع ہوسکتی ہے ،

    صحافی نے سوال کیا کہ اگر دستخط نہیں کیے تو اس ایکٹ کی کیا حیثیت ہے؟ جواب دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ابھی واضح نہیں ہے کہ صدر نے دستخط کیے ہیں یا نہیں ،ایک طرف صدر کہہ رہے ہیں میں دستخط نہیں کیے اسکے بعد وہ کہہ ہیں میں معذرت خواہ ہوں متاثرین سے، آئین کا آرٹیکل 75 بڑا کلئیر ہے اس معاملے میں ،نو ستمبر کو صدر کی مدت ویسے ہی مکمل ہورہی ہے انکے خلاف سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،اگر سینیٹ اس نتیجے پر پہنچے کے صدر نے غلط بیانی کی ہے تو انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ،صدر کے مواخذے کا معاملہ الگ ہے لیکن سینیٹ انکوائری کرسکتی ہے ،

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری
    سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آئینی مدت پوری ہونے سے تین ہفتے قبل صدر کا ٹیوٹ سوالیہ نشان ہے، شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کے طرز عمل نے ملک کی ساکھ خراب کرنے کی ایک اور واردات ہے،اس سے پہلے صدر علوی غیر آینئی طریقے سے قومی اسمبلی بھی توڑ چکے ہیں، دنیا میں کوئی صدر سوشل میڈیا کے ذریعے آئینی امور نہیں نمٹاتے،سوشل میڈیا یا ٹویٹ کے زریعے آئینی زمیداری سے بری ہونا نامناسب ہے،لگائے گئے الزام سنگین ہیں لہٰزا تحقیق ضروری ہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دن رات محنت کرکے ملک کی ساکھ بحال کی ہے، کسی بڑے بحران سے بچنے کے لیے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں،90 دن کے اندر انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہوگا آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

  • صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس

    صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس

    صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں ہیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔


    جاری اعلامیہ کے مطابق خط میں مزید کہا گیا ہے کہ وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس ہونے کے بعد گریڈ 22 کی حمیرا احمد کو صدرمملکت کی سیکرٹری تعینات کیا جائے۔ تایم خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹویٹر پیغام میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل پردستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سےمتفق نہیں تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    یاد رہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے. میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی،حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔

    تاہم دوسری جانب صدر کے پرنسپل سیکرٹری نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے اور خط کے متن کے مطابق جاری کئے گئے بیان سے تاثر ملا کہ پرنسپل سیکریٹری بلوں کے حوالے سے بے ضابطگی کے ذمہ دار ہیں لہذا صدر مملکت سے درخواست ہے کہ ایف آئی اے سے انکوائری کرائے اور ذمہ دار کا تعین ہوسکے.

    انہوں نے مزید کہا آپ دونوں بلوں سے متعلق حقائق سے آگاہ ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تاخیر یا صدر کے احکامات کو نظر انداز کرنے میں میرا کوئی کردار نہیں، اور میں اس پر حلفاً بیان دینے کو تیار ہوں جبکہ آپ سے درخواست ہے کہ میری خدمات اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کرنے کے احکامات واپس لئے جائیں.

  • عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کیخلاف درخواست اعتراض کے ساتھ واپس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی دیگر مقدمات میں گرفتاری روکنے کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مزید ممکنہ گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی درخواست وکیل سلمان صفدر نےدائر کی جس میں عمران خان کی دیگرمقدمات میں روکنےکی استدعا کی گئی تھی،سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی، کہا کہ سپریم کورٹ میں اس نوعیت کی براہ راست درخواست نا قابل سماعت ہے-

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جب کہ درخواست گزار کے پاس ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا متعلقہ فورم موجود تھا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست میں آرٹیکل 184/3 کے اجزا کو پورا نہیں کیا گیا، درخواست گزار نے ذاتی مفاد سے متعلق درخواست 184/3 کے تحت دائر کی۔

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ثابت نہیں کر سکا کہ کون سا بنیادی حق متاثر ہوا اور یہ کیسے عوامی مفاد کا معاملہ ہے، ایک درخواست میں غیر متعلقہ نہ سمجھ آنے والی مختلف استدعا کی گئیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان اس وقت توشہ خانہ کیس میں اٹک جیل میں تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اور ان کے جیل میں قید ہونے کے بعد انہیں 19 اگست کو سائفر گمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

  • آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    ‏آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمات پر سماعتوں کے معاملے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ملک بھر میں ابھی تک آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی ایک عدالت قائم کی گئی جو اسلام آباد میں ہے، قانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔

    ذرائع نے کہا ہے کہ سائفر کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

  • سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    اسلام آباد: سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو اسلام آباد کے تھانہ ترنول پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو کار سرکار میں مداخلت کرنے پرگرفتارکیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی تھانہ ترنول پولیس نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی تھی، ایمان مزاری کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل شیریں مزاری نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی ایمان مزاری کو خواتین پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس افراد گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں خواتین پولیس اہلکار اور سادہ لباس میں ملبوس افراد ایمان مزاری کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی لے گئے ہیں۔

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    دوسری جانب گزشتہ روز سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وائس چیئرمین تحریک انصاف کو آج اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چئیرمین پی ٹی آئی کےخلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی اور یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہے-

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

  • شاہ محمود قریشی گرفتار

    شاہ محمود قریشی گرفتار

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی گرفتاری پر ردعمل دیا، ایک بیان میں عمر ایوب نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما پریس کانفرنس کے بعد گھر پہنچے ہی تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا، اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں امید تھی پی ڈی ایم حکومت کے نکلنے کے بعد لاقانونیت کا راج ختم ہو جائے گا ایسا لگتا ہے نگراں حکومت اپنی پیشرو فاشسٹ حکومت کے ریکارڈ توڑنا چاہتی ہے۔

    : پولیس نے شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیاذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کے معاملے پر گرفتار کیا گیا،انہیں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔


    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے 90 روز میں انتخابات کرانے اور لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،دوران کانفرنس سوال کیا آپ کسی ڈیل کے تحت جیل سے باہر ہیں؟ پرانہوں نے کہا کہ ان الزامات کو اہمیت نہیں دیتا اس لیے جواب نہیں دوں گا۔

    رفعت مختارآئی جی سندھ تعینات

    انہوں نے کہا تھا کہ انہوں ںے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ تحریک انصاف بطور پارٹی کشمکش کا شکار ہے، ہماری جماعت میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی مشکل حالات میں کام کر رہی ہے، عام انتخابات کے انعقاد میں آئین پاکستان کی 90 دن کی پابندی ہے پی ٹی آئی انتخابات میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، ہماری وکلاء کی ٹیم پٹیشن تیار کر رہی ہے جس کے لیے ایڈووکیٹ علی ظفر اور سلیمان اکرم راجہ وکلاء ٹیم کا حصہ ہیں۔

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات؟ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کر دی

    دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے آسٹریلین ہائی کمشنر سے ملاقات کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ آسٹریلین ہائی کمشنر نے ہمیں ناشتے کی دعوت پر بلایا اور وہاں ہم گئے، اس وقت امریکی سفیر کے علاوہ دیگر اہم ممالک کے سفیر بھی موجود تھے، ہم نے الیکشن اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بارے میں اپنا موقف ان کے سامنے رکھا اس ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی اور سائفر کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

  • خواتین کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی مستحکم ہو گی،فردوس عاشق

    خواتین کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی مستحکم ہو گی،فردوس عاشق

    استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جہانگیر خان ترین اور علیم خان کی قیادت پر خواتین رہنماوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آٸی کی سابق ایم این اے آسیہ عظیم اور آمنہ فاروق کی پارٹی میں شمولیت خوش آٸند ہے۔ ان کی شمولیت سے پارٹی میں خواتین ونگ مضبوط ہو گا ۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ چٸیرمین نے مختلف شعبوں سے خواتین کو پارٹی کا حصہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ خواتین رہنماوں کی صلاحیتوں کو آٸی پی پی مفادات نسواں کے لٸے استعمال کرے گی۔ آج کی ماں کل کے معاشرے کی یونیورسٹی ہے۔ایک ماں ہی اپنی تربیت سے معتدل سوچ کی حامل نسل پروان چڑھاتی ہے۔ انتہا پسندی انتشار اور پر تشدد ذہنیت کو معتدل بننے میں ماں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔خواتین کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی مستحکم ہو گی ۔

    دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی نے پنجاب میں پارٹی مضبوط کرنے کے لئے مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں، آئی پی پی نے گوجرانوالہ ڈویژن میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے حامد ناصر چٹھہ سے رابطہ کیا سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت سے بھی استحکام پاکستان پارٹی نے رابطہ کیا، جنوبی پنجاب سمیت دیگر اضلاع بھی بھی سیاسی شخصیات سے رابطے کئے گئے ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے چیف آرگنائزر نعمان لنگڑیال نے رابطہ کیا گیا، سیاسی رہنماؤں کو استحکام پاکستان پارٹی کی ٹکٹ دینے کی آفر کر دی گئی تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کے لیے رضامندی ظاہر کردی گئی ۔

    قبل ازیں تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی آسیہ عظیم اور سماجی ورکر آمنہ فاروق کی جہانگیر خان ترین سے ملاقات ہوئی ہے، آسیہ عظیم اور آمنہ فاروق نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا،جہانگیر ترین نے آسیہ عظیم اور آمنہ فاروق کو پارٹی مفلر پہنا کر انکا خیر مقدم کیا۔اس موقع پر اسحاق خان خاکوانی، عون چوہدری اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھے

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

     نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • اسلام آباد میں یونیورسٹی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    اسلام آباد میں یونیورسٹی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یونیورسٹی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے

    تھانہ شہزاد ٹاؤن نے طالبہ کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ، مقدمہ طالبہ کی مدعیت میں درج کیا گیا،درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ بلال زمان میرے گاؤں کا اور میرا کلاس فیلو بھی ہے جس سے کینٹین میں ملاقات رہتی، ایک روز میں بلال زمان کینٹین پر بیٹھے تھے کہ اس کا قریبی عزیز ولید بھی آ گیا ، بلال زمان نے کہا کہ کہیں جا کر جوس پیتے ہیں اور کچھ کھاتے ہیں، ہم تینوں پارکنگ میں آئے تو سفید رنگ کی مہران میں عدنان اور شیخ عدیل موجود تھےمجھے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر باقی تینوں پیچھے بیٹھ گئے،گاڑی چلتے ہی بلال زمان نے بیگ سے جوس نکالے اور ہم سب کو دیے، جوس پیتے ہی میں اپنے حوش وہواس کھو بیٹھی، جب ہوش آیا تو میں ایک خالی گھر میں تھی اور جسم پر کپڑے موجود نہیں تھے، بلال زمان نے پانی پلایا اور میری ویڈیو دکھائی اور کہا کہ کسی سے زکر نہ کرنا ورنہ یہ وائرل کر دوں گا، ویڈیو دکھانے کے بعد باری باری، بلال زمان، ولید، عدنان اور شیخ عدیل نے جنسی زیادتی کی، ولید اور بلال زمان 5 چھ ماہ مجھے بلیک میل کرتے رہے اور جنسی زیادتی کرتے رہے،ملزمان مجھے بلیک میل کر کے پیسے اور زیورات لیتے رہے جو میں گھر سے چوری کر کے دیتی رہی،ملزمان نے مجھے شہر سے باہر جانے کا کہا جس پر میں نے انکار کیا تو میری ویڈیوز حسیب نامی لڑکے کو دیں اور وائرل کر دیں تب میں نے والدین کو ساری حقیقت سے آگاہ کیا

    taliba fir

    درج مقدمہ میں لکھا گیا کہ طالبہ ہمدرد یونیورسٹی میں پڑھتی ہے جو کامسٹ یونیورسٹی کے قریب ہے،

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

     تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات

  • آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

    دونوں بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہو چکے ہیں صدر مملکت کو دونوں بل گزشتہ حکومت نے بھیجے تھے صدر کے دستخط کے بعد دونوں بلز قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل منظورہونے کے بعد توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیجے گئے تھے 27 جولائی کو سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا تھا

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟