Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار دے دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس درخواست پر سماعت کی ، عمران خان کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہرعدالت میں پیش ہوئے ، سیشن عدالت نے 18 مارچ کو عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس آمد پر وارنٹ منسوخ کر دیئے تھے ، آج عدالت نے درخواست غیر موثر قرار دے دی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حاضری فائل گم ہونے کے معاملے پر سماعت ہوئی، عدالت نے توشہ خانہ کیس میں حاضری فائل گم ہونے پر آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ ٹرائل کورٹ سے بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حاضری فائل گمشدگی سے متعلق 10 روز میں رپورٹ پیش کریں

    واضح رہے کہ عمران خان عدالت پیش ہوئے تھے اس وقت تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی تھی جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، اس دوران عدالت نے فائل پر دستخط کروانے کے لئے اسلام آباد پولیس کے ایس پی، وکیل اور شبلی فراز کو بھیجا تھا تا ہم فائل ایس پی سے کہیں کھو گئی،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • انسداد دہشت گردی:عمران خان  کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    انسداد دہشت گردی:عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی: اے ٹی سی اسلام آباد میں عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،جج راجہ جواد عباس نے درخواست کی سماعت کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اے ٹی سی اسلام آباد میں دائرکر دی –

    عمران خان کےخلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری

    دوران سمات وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گزشتہ پیشی سب کے سامنے ہے-

    جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا لیکن ہم نے نہیں دیکھا ہماری کیبل نہیں چل رہی تھی، وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے،عمران خان نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ ہزاروں کارکنان نکل آتے ہیں،عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-پراسیکیوٹر نے عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی-

    پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیئے کہ عمران خان کا برتاؤ دیکھ لیں، جب ضمانت میں توسیع چاہیے تو عدالت پیش ہونا پڑتاہے۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد سے 400 میٹر دُور ہے، کیسے پیش ہوں گے-

    رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    عدالت نے کہا کہ اگر عمران خان ساڑھے 3 بجے تک لاہور ہائیکورٹ پیش ہوگئے تو ٹھیک ورنہ فیصلہ کردیاجائےگا جج نے استفسار کیا کہ اگر آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور ہوجاتی ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں گے؟ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو اب تک طلب نہیں کیا، ضمانت کی درخواستیں آپ خود دے رہے ہیں۔

    وکیل نےعدالت میں کہا کہ عمران خان قانون کے تحت چلتےہیں زندہ رہے تو ضرور عدالتوں میں پیش ہوں گےجج نے استفسار کیا کہ عمران خان کو اگر عدالت آنا ہےتو وہ تاریخ ہمیں بتا دیں۔ بعض اوقات بارات بڑی ہوتی ہے، آپ کو معلوم ہے پوٹھوہار میں استقبال کیسا ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت میں 4 اپریل تک توسیع کر دی گئی انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی عمران خان آج لاہور ہائیکورٹ پیشی کے باعث پیش نہیں ہوئے تھے

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

  • رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    اسلام آباد: حکومت نے رواں برس کے لیے زکوۃ کا نصاب جاری کردیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزارت برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ نے سال 2023ء کے لیے زکوٰۃ کا نصاب جاری کردیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق سیونگ اکاؤنٹ میں کم از کم ایک لاکھ تین ہزار روپےرکھنے والے صارفین سے زکٰوة کی کٹوتی ہوگی اس سے کم رقم رکھنے والے افراد زکوۃ کٹوتی سے مستثنی ہوں گے۔

    دوسری جانب جامعہ نعیمیہ لاہور نے رمضان المبارک میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی شرح کا اعلان کردیا۔ جامعہ نعیمیہ کے مطابق گندم استعمال کرنے والوں کو صدقہ فطر 300 روپے فی کس اداکرنا ہوگا جبکہ جو کے حساب سے یہ شرح 450 روپے، کھجورکے تناسب سے 1600 روپے، کشمش کے مطابق 2500 روپے اور منقیٰ کے حساب سے 5 ہزار روپے اداکرنا ہوں گے۔

    اسی طرح 30 روزوں کا فدیہ گندم کے تناسب سے 9 ہزار روپے،جو کے حساب سے 13 ہزار500 روپے، کھجورکے مطابق 48 ہزارروپے، کشمش کے حساب سے 75 ہزار جبکہ منقی کے حساب سے ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنا ہوگا،کفارہ صوم کیلئے60 روزے یا 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلایاجائےسرکاری سبسڈی والاآٹااستعمال کرنے والے صدقہ فطر وفدیہ صوم150ادا کرسکتے ہیں۔

    لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں رہنے والے متعلقہ اجناس کی مقامی قیمت کی مناسبت سے صدقہ فطر اورفدیہ صوم اداکریں۔گندم کانصاب آدھاصاع ہے جو ایک کلو9سوگرام ہے۔جبکہ جو ایک صاع ہے جوکہ 3کلو840گرام ہے۔مخیر حضرات اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کریں۔

  • اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بارش برسانے والا نیا سسٹم آج سے ملک میں داخل ہو گا جو کل تک ملک کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج سے جمعہ کے روز تک اسلام آباد ،سندھ ، پنجاب، بلوچستان ،خیبر پختو نخوا،کشمیر اور گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں میں تیزبارش کا امکان ہے ۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق اسلام آبادمیں گرج چمک کےساتھ مزید بارش کا امکان ہے،خیبرپختونخوابالائی پنجاب اوربلوچستان میں بارش متوقع ہے، آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں بھی بارش کاامکان ہے،پنجگور،کیچ،گوادر،پسنی،جیوانی،لسبیلہ اوردالبندین میں بارش متوقع ہے،قلات،خضدار،تربت،آواران اور مکران میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری،گلیات،خطہ پوٹھوہار،گوجرانوالہ اورمنڈی بہاؤالدین میں بارش متوقع ہے،ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد،جھنگ،خوشاب،بہاولنگراورقصورمیں کاامکان ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کےمطابق اوکاڑہ،شیخوپورہ،حافظ آباد،لاہور،قصور،گجرات اور نارووال میں بھی بارش متوقع جبکہ سیالکوٹ،میانوالی اورسرگودھا میں چند مقامات پر بارش کاامکان ہے سوات،دیر،مالاکنڈ، مانسہرہ،ایبٹ آباد ،بالاکوٹ میں بار ش کا امکان ہے کوہاٹ،کوہستان،پشاور،مردان،کرم،وزیرستان میں بھی تیزہواوں کےساتھ بارش متوقع ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

  • اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    افتخارحسین عارف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، سابق صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سابق سربراہ اردو مرکز لندن،تہران میں ایکو (ECO) کے ثقافی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس وقت مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کی اصل تاریخ پیدائش 21 مارچ 1944ء ہے جبکہ کاغذات میں 1943ء درج ہے سو اسی نسبت سے آپ کے بارے لکھا جاتا ہے کہ آپ 21 مارچ، 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا۔ پھر پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔

    بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین بنے۔ اس کے بعد اکادمی ادبیات کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ جبکہ نومبر 2008ء سے مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے کے بعد آج کل اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ایکو تنظیم کے ثقافتی شعبے کو سبنھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں ہونی والی ادبی اور علمی محفلوں کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں افتخارعارف صاحب کی شرکت تقریبا ایک لازمی امر بن گئی ہے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کا اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔

    اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بنا پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارہواں کھلاڑی
    ۔ (2)مہر دو نیم
    ۔ (3)حرفِ باریاب
    ۔ (4)جہان معلوم
    ۔ (5)شہر علم کے دروازے پر
    ۔ (6)کتاب دل و دنیا کلیات
    ۔ (7)Writen in the
    ۔ Season of Fear
    ۔ (8)مکالمہ
    ۔ (9)در کلوندہ
    ۔ (10)افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو

    اہم اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔ Faiz International Award 1988
    ۔۔۔۔۔۔ Waseeqa-e-eEtraaf 1994
    ۔۔۔۔۔۔ Baba-e-Urdu Award 1995
    ۔۔۔۔۔۔ Naqoosh Award 1994
    ۔۔۔۔۔۔ تمغا حسن کارکردگی1989
    ۔۔۔۔۔۔ ستارۂ امتیاز1999
    ۔۔۔۔۔۔ ہلال امتیاز2005

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
    ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

    دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
    آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
    جان بہت شرمندہ ہیں

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
    کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

    بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
    اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
    جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

    راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
    اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

    زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
    میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

    میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
    جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

    دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
    اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
    اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
    ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
    ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

    جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
    پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

    بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
    عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

    کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
    عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
    جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
    کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

    اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
    اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
    کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

    خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
    اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
    وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

    روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
    زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

    یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
    یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

    شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
    سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

    مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
    مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

    اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
    دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
    ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

    وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
    نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
    جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
    اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

    جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
    جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    بس ایک خواب کی صورت کہیں ہے گھر میرا
    مکاں کے ہوتے ہوئے لا مکاں کے ہوتے ہوئے

    کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
    عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں

    سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
    اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

    کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
    نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
    ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

    اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
    یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

    تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
    کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا

    یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
    ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
    میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

    ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
    زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
    ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
    تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

    میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
    مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

    میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
    اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے

    یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
    جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

    کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
    بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

    روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
    رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے
    مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
    اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
    ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
    یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

    جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
    اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
    صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

    ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
    تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

    خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
    ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

    یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
    اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

    سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

    عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
    نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

    ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
    عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے

    ہمیں بھی عافیت جاں کا ہے خیال بہت
    ہمیں بھی حلقۂ نا معتبر میں رکھا جائے

    یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
    اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

    کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
    جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
    راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

    جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
    ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

    مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
    بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

  • سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی،عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت

    سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی،عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت

    سیاسی جماعتوں کی سکروٹنی میں تاخیر کیخلاف فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریری جواب جمع کروا دیا گیام اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم الیکشن کمیشن کو ڈائریکشن دے سکتے ہیں یا نہیں؟ بیرسٹر علی گوہر نے عدالت میں کہا کہ سکروٹنی کمیٹی الیکشن کمیشن کی تشکیل کردہ کمیٹی ہے ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کے سکروٹنی کمیٹی کو ہدایات دے سکتی ہے

    وکیل پی ٹی آئی عمائمہ انور خان نے عدالت میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن کو ہدایات دینے سے متعلق عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کیس کی سماعت 29 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی

    سیاسی جماعتوں کے اکاونٹس جانچ پڑتال سے متعلق کیس ،آخری موقع مل گیا

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی، تہلکہ خیز انکشاف

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    جو سب کوکہتا تھا رسیدیں دو،اب منہ چھپاتا پھر رہا ہے،پی ڈی ایم جلسہ سے رہنماؤں کے خطاب

  • خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے وارنٹ معطلی میں توسیع

    خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے وارنٹ معطلی میں توسیع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خاتون جج کو دھمکی کے کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی معطلی میں 24 مارچ تک توسیع کر دی گئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی عدالت میں خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے جونیئر وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ سینئر وکیل لاہور سے آرہے ہیں سماعت میں وقفہ کیا جائے جس پر عدالتی عملے نے سماعت کے لیے 11 بجے کا وقت دے دیا ،بعد ازاں سماعت شروع ہوئی تو دونوں طرف سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا اور ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدرگیلانی کی رخصت کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی اور عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی معطلی میں 24 مارچ تک توسیع ہوگئی

    گزشتہ سماعت پر ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدرگیلانی نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے تھے اور انہیں آج 20 مارچ تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا کیس میں 13 مارچ کو سول جج ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ رانا مجاہد رحیم نےعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے عدالت نے عدم پیشی پر عمران خان کو 29 مارچ تک گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا ،14 مارچ کو ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدرگیلانی نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 16مارچ تک معطل کردیے تھے،16 مارچ کو عدالت نے پھر وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے 20 مارچ تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان توشہ خانہ کیس: جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت  کا تحریری حکم نامہ جاری

    عمران خان توشہ خانہ کیس: جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس ، جوڈیشل کمپلیکس میں سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر شیٹ گم ہونے کے بعد نئی آرڈر شیٹ تیار کرلی گئی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیاگیا ہےآئندہ سماعت پرفوجداری کارروائی کے قابل سماعت ہونےپردلائل ہوں گے ،18مارچ کی تین دفعہ کی سماعتوں کا الگ الگ حکم نامہ جاری کیا گیا ایس پی سمیع ملک ، عمران خان کے وکلا بیرسٹر گوہر ، خواجہ حارث کے بیانات حکم نامے کا حصہ ہیں-

    چیئرمین سینیٹ نےشبلی فراز کے گھر پر چھاپے کا نوٹس لے لیا

    سیشن کورٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کئےگئے تحریری حکمنامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا گم شدہ آرڈر شیٹ کمپیوٹر میں محفوظ ہے ، فائل گم ہونے کے تنازعہ کے حل کے لیے فائل دوبارہ بنائی گئی ہے ، دن ساڑھے 3 بجے عدالت کو بتایا گیا عمران خان عدالت پہنچنے والے ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان چاربجےپیش ہوں عدالت کومطلع کیا گیا پتھراؤ کی وجہ سے عمران خان کاعدالت پہنچنا مشکل ہے ، عدالت کو بتایا گیا مناسب ہو گا گاڑی سے ہی عمران خان کے دستخط کروا لیے جائیں ،لوگوں کی جان ، املاک کے تحفظ ، ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے گاڑی سے حاضری لگوانے کی ہدایت کی –

    ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور بوندا باندی کا امکان

    حکمنامے میں کہا گیا کہ شبلی فراز ، بیرسٹر گوہر اور ایس پی سمیع ملک کو دستخط کرانے بھیجا ،عدالت کو بعد میں بتایا گیا آرڈر شیٹ گم ہو گئی ہے –

  • جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم

    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار 59 پی ٹی آئی کارکنوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک امان نے سماعت کی۔ پولیس کی جانب سے 60 ملزمان کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر ایک اور مقدمہ درج

    ضلع کچہری کی عدالت میں پیش ملزمان میں پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی امجد خان نیازی بھی شامل ہیں، عدالت نے زخمی ملزمان کا طبی معائنہ کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی گئی جبکہ وکلا نے سابق ایم این اے امجد خان نیازی کا میڈیکل کروانے کی بھی استدعا کی عدالت نے آئی او کو حکم دیا کہ تمام ملزمان کو ایک ایک کر کے لائیں-

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ملزم افضل کا 24 مارچ کا قطر کا ویزہ لگا ہوا تھا، ملزم افضل بائیکیا پر اپنے گھر جا رہا تھا جسے پولیس نے راستے سے گرفتار کر لیا، پولیس نے ہوٹلوں سے دکانوں سے جاکر لوگوں کو اٹھایا ہے۔

    آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    پی ٹی آئی وکلا نے ملزم افضل کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ملزم کا مستقبل خراب ہو جائے اس کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں عمران خان کے آنے سے قبل پولیس نے گرفتاریاں کیں اور پولیس نے تمام گرفتار کارکنوں کو دہشتگردی کے مقدمے میں نامزد کر دیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میرا اختیار نہیں کہ اس کیس میں کسی کو بری کر سکوں کیونکہ اس میں دہشتگردی کی دفعہ لگی ہے،صرف اس لیےکیس سن رہاہوں کہ یہ گرفتار ہیں، پولیس 24 گھنٹے سے زیادہ انہیں اپنے پاس رکھ نہیں سکتی عدالت میں زخمی ملزمان کی جانب سے زخم بھی دکھائےگئے-

    انشا آفریدی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

    پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ ملزم محمد افضل ایک گھر میں کام کرتا تھا جو اب باہر جا رہا ہے، ملزم محمد افضل بائیکیا پر اپنے گھر جارہا تھا کہ پولیس نے اس کو اور بائیکیا ڈارئیور کو ماراعدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسے مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے، ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس نے کہا کہ جی 11 والی طرف جانے سے گریز کریں۔ زخمی ملزمان کی جانب سے عدالت میں زخم دکھائے گئے۔

    پی ٹی آئی وکلا کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ کیسے چلےگا؟ بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس پر عدالت نے کہا کہ میڈیا پر دو طرفہ صورتحال دیکھ رہے تھے، ایس ایچ او رمنا نے عدالت کو دکھایا وہ بھی زخمی ہوئے۔

    پولیس کی درخواست پر عدالت نے پی ٹی آئی رہنما امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم دے دیا عدالت نے پولیس کو شدید زخمی افراد کا پمز سے میڈیکل کروانےکا حکم بھی دیا۔

    غنڈہ نہیں ہوں مگرسلمان خان کو مارنے میں غنڈہ بن جاؤں گا، لارنس بشنوئی

  • عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر ایک اور مقدمہ درج

    اسلام آباد:عمران خان سمیت دیگر 17پی ٹی آئی رہنماؤں پر ایک اور مقدمہ درج

    باغی ٹی وی: جوڈیشیل کمپلیکس اسلام آباد والے سانحے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر رہنماوں پر مقدمہ درج کر لیا گیا ایف آئی آر میں علی نواز اعوان، عامر محمود کیانی، اسد قیصر، فرخ حبیب، اسد عمر، عمر ایوب، جمشید مغل، علی امین گنڈا پور، احسان خان نیازی، محمد عاصم اور شبلی فراز بھی نامزد ہیں۔

    اے این ایف کی مختلف کارروائیاں،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد

    ایف آئی آر تھانہ رمنا کے ایس ایچ او رشید کی مدعیت میں درج کی گئی مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان 3:30 پر ہجوم کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچے جبکہ عمران خان کے ہمراہ آنے والے ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا –

    مقدمےمیں لکھا گیاکہ مظاہرین پولیس اہلکاروں سے 8اینٹی رائٹ کٹس بھی چھین کرلےگئے مظاہرین نےپارکنگ ایریا میں کھڑی دو سرکاری گاڑیاں اور 7موٹرسائیکل جلائیں،مظاہرین نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر 16 گاڑیاں اورچارموٹر سائیکل ڈنڈوں اورپتھروں سےتوڑی مقدمے میں دہشتگردی، کار سرکار میں مداخلت، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ملتان اور کراچی میں آج بوندا باندی کا امکان