Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • مولانا سے ایسی ہی توقع تھی، صاحبزادہ حامد رضا

    مولانا سے ایسی ہی توقع تھی، صاحبزادہ حامد رضا

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ، پی ٹی آئی کے اتحادی صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا کا کردار خوش آئند ہے، مولانا سے ایسی ہی توقع تھی ،

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی نہیں پتا کہ ترمیم کون لے کر آرہا ہے،جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اس پر مولانا کبھی اتفاق نہیں کریں گے، جو میڈیا پر مسودے کی بھرمار ہے وہ اصل مسودہ نہیں ہے، ہمیں مسودے کے کچھ محرکات معلوم ہوئے ہیں ، اوور آل ہی ہمارا اعتراض ہے لیکن بعض چیزیں بالکل قبول نہیں،حکومت آئینی ترمیم لانے جا رہی دوسری طرف اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی مسودہ شیئر نہیں کیا،ترمیم میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ناقابل قبول ہیں ،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اچھا کردار ادا کیا، مجھے افسوس بلاول بھٹو پر ہے جو منہ پر جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور اصل میں جمہوریت کا جنازہ نکال رہے ہیں،آ رٹیکل 8 حکومت ترمیم کرنا چا رہی ہے، خبر ملی ہے کہ یہ آئین کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ نے 7ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر سرکاری سطح پر منانے اور سرکاری چھٹی کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی،سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس مقررہ وقت سے 8منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔سینیٹر عطاالرحمن نے قرارداد پیش کی کہ 7ستمبر 1974کا تاریخی دن جس دن جس دن پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا کی یاد میں مناتے ہوئے: یہ دیکھتے ہوئے یہ دن بلاشبہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس دن مسلمانوان کی طویل جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی یہ احساس کرتے کہ ان تاریخی لمحات کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے لہذا سینیٹ آف پاکستان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ یہ دن سرکاری سطح پر نایا جائے اور اس دن کو قومی سطح پر چھٹی کا اعلان کیا جائے ۔قرار متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ ڈپٹی چیئرمین نے سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا

    واضح رہے کہ سینیٹ میں آج آئینی ترامیم کا مسودہ پیش نہ کیا جا سکا، سینیٹ اجلاس اب دوبارہ کب ہو گا؟ اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم حکومت جب آئینی ترمیم کے حوالہ سے ہوم ورک مکمل کر لے گی، مطلوبہ نمبرز پورے ہو جائیں گے تو سینیٹ اجلاس پھر بلایا جائے گا.

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • آئینی ترامیم ایک دو دن نہیں، یہ مہینوں کا کام ہے۔عمر ایوب

    آئینی ترامیم ایک دو دن نہیں، یہ مہینوں کا کام ہے۔عمر ایوب

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم ایک دو دن نہیں، یہ مہینوں کا کام ہے۔

    عمر ایوب گوجرانوالہ میں سیشن کورٹ میں پیش ہوئے، عدالت پیشی کے موقع پر عمر ایوب کا کہنا تھاکہ یہ سارا فراڈ ہے، حکومت جو ترامیم کرنے جا رہی ہے وہ بڑی خطرناک ہیں، یہ غلط ترامیم کرنا چاہ رہے ہیں، یہ سپریم کورٹ کے اوپر ایک عدالت بنانا چاہ رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ اپنی من مانی وہاں سے کروائیں، اس کی ہم نے مخالفت کی،مولانا فضل الرحمٰن نے بھی مخالفت کی ہے، جب ترامیم ہوتی ہیں تو ایک ایک شق پر بحث ہوتی ہے، اینٹی منی لانڈرنگ پر 8 ماہ لگے اور اٹھارہویں ترمیم پر ایک سال لگا تھا، آئینی ترامیم کے لیے ایک دو دن نہیں، یہ مہینوں کا کام ہے،حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں، آرام سے بیٹھ جاہیں، انہوں نے ہمارے بندوں کو اٹھایا جس کی شکایت کمیٹی میں بھی کی تھی، میں نے کہا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا کر ترامیم کروانا چاہتے ہیں،ایسا نہیں ہو گا،ممبر کی کنپٹی پر پستول رکھ کر کچھ نہیں کرنے دیں گے، ہم صحیح رستے پر ہیں، رب ایسے حالات بنائے گا یہ چیزیں نہیں ہوں گی.

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • مولانا فضل الرحمان کا ردعمل مثبت ہے، عرفان صدیقی

    مولانا فضل الرحمان کا ردعمل مثبت ہے، عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما،سینٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے کوئی وقت نہیں مانگا،مولانا نے صرف اتنا کہا تجاویز کو تفصیل کیساتھ دیکھنا ہے

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا اصولی طور پر بہت سی چیزوں پر ایگری کرتا ہوں،مولانا نے کہا میں نے لوگوں کے سامنے جانا ہے اور خود تفصیلات کو جاننا چاہتا ہوں،ڈھائی 3 گھنٹوں کی ملاقات میں دیکھا مولانا کا ردعمل مثبت تھا،مولانا نے حکومت اور حکومت نے مولانا کی رائے سے اتفاق کیا مزید کچھ دن انتظار کیا جائے،وقت دیا ہے تاکہ مولانا فضل الرحمان اپنی رائے قائم کر سکیں، مولانا فضل الرحمان جزیات دیکھیں گے اور اپنی رائے دیں گے،اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جائے گا،آئینی مسودہ کبھی پبلک نہیں ہوتا، قانون مطلوبہ اکثریت مانگتا ہے اگر حاصل نہیں ہوتی تو کوئی قیامت نہیں آتی، آئینی ترمیم ہو جائے گی اس میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی، وقت کا تعین نہیں ہے ہفتہ دس دن بھی لگ سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ آئینی ترامیم کے مسودے بارے بات کی جائے تو گزشتہ 48 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم گزشتہ شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسودے کی کاپی ان کے پاس آ چکی ہے، وہیں جے یو آئی کے مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مسودہ ہمیں نہیں ملا، مسودہ ملنے کے بعد غور خوض کریں گے ،اتنی جلدی ہی کیا ہے، ایک ماہ بھی مشاورت میں لگ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد آئینی ترامیم منظور کی جائیں ،لیکن حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے اس سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس ملتوی کروانا پڑے، نواز شریف بھی گزشتہ روز اسلام آباد گئے اور آئینی ترامیم کے لئے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر نواز شریف اجلاس ملتوی ہونے کے بعد واپس آ گئے

    حکومت کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو منایا جائے، مولانا فضل الرحمان سے حکومت کے مسلسل رابطے جاری ہیں، تحریک انصاف بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں ہے،گزشتہ رو زہونے والے خصوصی کمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،اجلاس میں پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے، اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • سپریم کورٹ،وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب

    سپریم کورٹ،وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب

    سپریم کورٹ، وفاق اور چاروں صوبوں میں ترقیاتی فنڈز کا معاملہ،عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کرلی

    عدالت نے کہا کہ حالیہ منظور شدہ بجٹ کی سالانہ ترقی پلان سمری فنانس سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کے دستخط سے پیش کی جائے،عدالت نے بلاک مختص کردہ اسکیمز یا امبریلا اسکیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں،کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی.

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عوامی پیسے کے تحفظ کے تناظر میں کیس سن رہے ہیں حکومتیں پیسے ضرور خرچ کرے لیکن شفافیت ہونی چاہیے ،شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی اسکیمز انفرادی شخصیات کی بنیاد پر نہ چلائی جائیں، ضیاءالحق نے اراکین اسمبلی اور سینٹرز کیلئے ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسے دینے کی روایت شروع کی، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے بھی کافی مشکلات ہیں، عوامی فنڈز کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ منصوبے ضرور بنائیں لیکن سب کچھ آئین کے تحت ہونا چاہیے، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو منصوبے لٹک جاتے ہیں،ترقیاتی منصوبے انفرادی شخصیات کے تحت نہیں ہونے چاہیں،ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں منصوبے کیا بنائے جا رہے ہیں، شفافیت ہونی چاہیے،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • آئینی ترامیم  میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا،

    آئینی ترمیمی بل میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں،عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم سے متعلق بل حکمران اتحاد کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتوار کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اس ضمن میں حکومت بل پاس کروانے کے لئے اپنے نمبر پورے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے

    مجوزہ آئینی ترامیم میں 54 تجاویز شامل ہیں، آئین کی63،51،175،187، اور دیگر میں ترامیم کی جائیں گی، آئین کے آرٹیکل63 میں ترمیم کی جائیں گی، منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائےگی،آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائےگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں بھیجا جاسکےگا، چیف جسٹس پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائےگی، آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرےگی،آئینی عدالت کے فیصلے پراپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے،آئینی عدالت میں آرٹیکل 184،185،186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائےگا۔

    آئین کا آرٹیکل 181 ججزکی عارضی تقرری سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے مشاورتی اختیار سماعت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 رکن پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ڈی فیکشن کلاز ہے اورپارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز تقرریوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل187 مکمل انصاف سے متعلق ہے۔

    آئینی ترمیمی بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جا رہی ہے،چونکہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طریقے سے اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے مقاصد کے لیے مزید ترمیم کرنا مناسب ہے۔ یہ ایکٹ آئین (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کہلائے گا۔یہ ایکٹ فوراً نافذ ہو جائے گا۔آئین کے نئے آرٹیکل 9A کا اندراج۔- آئین میں، آرٹیکل 9 کے بعد، مندرجہ ذیل نئی دفعہ 9A کو داخل کیا جائے گا، یعنی:-"9A. صاف ستھرا اور صحت مند ماحول، ہر شخص کو صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا حق حاصل ہوگا۔آرٹیکل 17 میں ترمیم، لفظ سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت سے تبدیل کردیا جائے۔حکومت پاکستان کے خلاف کام کرنے والی جماعت کا معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 48: وزیراعظم، کابینہ کی صدر کو ایڈوئز کسی عدالت اور ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔وضاحت: آرٹیکل 48 میں سے ایڈوائز میں سے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو نکال دیا گیا ہے۔
    آرٹیکل 63 اے میں تین ترامیم تجویز، ووٹ شمار ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جائے گا،آرٹیکل 68: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے خلاف پارلیمان میں بات نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 78: آئینی عدالت میں جمع ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو جائے گی۔ آرٹیکل 81: تین ترامیم شامل، لفظ وفاقی آئینی عدالت شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 100: اٹارنی جنرل پاکستان وہ شخص تعینات ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔آرٹیکل 111: ایڈوائزرز صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بات نہیں ہو سکے گی۔ آرٹیکل 165اے: انکم ٹیکس شق میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا۔ آرٹیکل 175 اے: آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی اور ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے، جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی، وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ چیئرپرسن ہو گا۔جوڈیشل کمیشن میں چیئرمین کے علاوہ 12 ارکان ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت کے دو ججز، چیف جسٹس سپریم کورٹ، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو گا۔ قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی کی سفارش اسپیکر کی نامزد کردہ 8 رکنی قومی اسمبلی کی کمیٹی کرے گی۔پہلی بار آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی صدر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی،چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام کمیٹی تین سینئر ترین ججز میں سے کرے گی۔ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی کا کمیشن سالانہ جائزہ لے گا۔ اگر کسی جج کر کارکردگی تسلی بخش نہیں تو وقت دیا جائے گا ورنہ کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ بھیجے گی۔آرٹیکل 175 بی میں ترمیم: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی تعیناتی اور دائرہ کار،آرٹیکل 176 میں ترمیم: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کہا جائے گا۔ آرٹیکل 176اے کی شمولیت: دوہری شہریت کا مالک وفاقی آئینی عدالت کا جج نہیں ہو سکتا۔ آرٹیکل 177: سپریم کورٹ ججز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 177 اے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے حلف سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 178اے: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی۔آرٹیکل 179: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہو گی۔ 179 اے، 179 بی: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کا جج صدر مملکت عارضی طور پر تعینات کریں گے۔آرٹیکل 182اے کی شمولیت: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں ہو گی۔ آرٹیکل 184: دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازعہ وفاقی آئینی عدالت دیکھے گی۔

    مفاد عامہ کے معاملات پر تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مفاد عامہ کے تمام مقدمات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔ 184 اے کی شمولیت: ہائی کورٹس کے آئینی معاملات پر فیصلے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج ہو سکیں گے۔آرٹیکل 185: ہائیکورٹس کی اپیلیں سپریم کورٹ سنے گی، آئینی سوالات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ آرٹیکل 186: صدرارتی ریفرنس پر سماعت آئینی عدالت کرے گی۔ آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی مقدمہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائیکورٹ کو بھجوا سکے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا خود کو منتقل کر سکتی ہے۔رٹیکل 187 میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کسی بھی متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے۔آرٹیکل 188: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار رکھیں گی۔آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کا کسی بھی قانونی اصول حکم نامہ سپریم کورٹ سمیت ساری عدالتوں پر بائنڈنگ ہو گا۔سپریم کورٹ کا قانونی اصول پر کوئی بھِی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 190: تمام جوڈیشل اتھارٹیز وفاقی آئینی عدالت کی مدد کی پابند ہوں گی۔ آرِٹیکل 191: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت اپنے قواعد و ضوابط بنائیں گے۔ آرٹیکل 192: ہائی کورٹس کے ججز کی تعداد کا تعین ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہو گا۔ آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا۔ ہائیکورٹ جج کے لیے ہائیکورٹ وکالت کا کم از کم 15 سال کا تجربہ، 15 سال جوڈیشل آفس کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا،آرٹیکل 199: ہائی کورٹ از خود آرڈر جاری نہیں کر سکے گی۔قومی سلامتی سے متعلقہ کسی شخص پر ہائی کورٹ حکم جاری نہیں کر سکے گی۔آرٹیکل 200: صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کر سکیں گے۔ آرٹیکل 202: ہائیکورٹ قواعد و ضوابط ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنائے جا سکیں گے۔ آرٹیکل 204: توہین عدالت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی، آرٹیکل 205: وفاقی آئینی عدالت کی تنخواہیں مقرر کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 206: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے استعفے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 207: جج آفس آف پرافٹ نہیں لے سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 208: وفاقی آئینی عدالت کے افسران کی تعیناتیوں سے متعلق الفاظ کی شمولیت ہے،آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلیاں، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئینی عدالت کا سینئر ترین جج، ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ آرٹیکل 210: کسی شخص کو طلب کرنے کا کونسل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کا اختیار ہو گا۔ آرٹیکل 215: چیف الیکشن کمشنریا الیکشن کمیشن کا کوئی ممبر نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 215 میں ون اے کا اضافہ: چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اکثریتی قرار داد سے دوبارہ نئی ٹرم کے لیے تعینات ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 239: آئینی ترمیم کے خلاف کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موثر نہیں ہو گا۔

    آرٹیکل 243: مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتیوں، دوبارہ تعیناتیوں، ایکسٹیشن، مدت ملازمت پاک فوج کے قوانین کے مطابق ہوں گے اور انہیں دو تہائی اکثریت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248: صدر، گورنرز کو آئین و قانون کے تحت قائم عدالتوں سے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔رٹیکل 255: حلف سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 259: صدارتی ایوارڈز میں سائنس و ٹیکنالوجی، ادویات، آرٹس اور پبلک سروس کا اضافہ، آرٹیکل 260: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ،: شیڈول تین میں اضافہ: حلف نامے میں وفاقی آئینی عدالت کا حلف شامل ہے،شیڈول چار میں تبدیلی: کنٹونمنٹ ایریاز میں الفاظ لوکل ٹیکس، سیس، فیس، ٹول اور دیگر چارجز کو شامل کیا گیا ہے۔شیڈول پانچ میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ شامل ہے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/further-to-amend-the-Constitution-of-the-Islamic-Republic-of-Pakistan.pdf” title=”further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan”]

    ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئے کمیشن ہو گا جس کے چیئرپرسن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے،دو سینئر جج وفاقی آئینی عدالت کے کمیشن کے رکن ہوں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر جج، وفاقی وزیر قانون،اٹارنی جنرل بھی رکن ہوں گے،ایک سینئر ایڈووکیٹ یا ایک وکیل جس کی سپریم کورٹ میں کم از کم بیس سال کی پریکٹس ہووہ بھی رکن ہو گا ،سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دودو اراکین بھی کمیشن کے رکن ہوں گے. ایک رکن حکومت اور ایک اپوززیشن کی طرف سے ہو گا، نامزدگی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کریں گے،

    "(2B) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شق (2) میں کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے اور اس عدالت کے پانچ اگلے سینئر ترین جج اس کے ممبر ہوں گے۔ شق (2) کے پیراگراف (iv)، (v) (vi) اور (vii) میں کمیشن کے دیگر ارکان ہوں گے۔(xiii) شق (2B) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا داخل کیا گیا، درج ذیل نئی شق (2C)،داخل کیا جائے گا:”(2C) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر، وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کا مقصد، نامزد شخص کا نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، وزیراعظم تقرری کے لیے اسے صدر کے پاس بھیجیں گے،بشرطیکہ وفاق کے پہلے چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر صدر اعظم کے مشورے پر کرے گا۔

    "(2D) قومی اسمبلی کی کمیٹی، اس کے بعد اس آرٹیکل میں کمیٹی کہلائے گی، قومی اسمبلی کے سپیکر کے نامزد کردہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔(2E) ہر پارلیمانی پارٹی کو، جہاں تک ممکن ہو، کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی۔(2F) کمیٹی، اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، متعلقہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سات دنوں کے اندر نامزدگی بھیجے گی جیسا کہ اس آرٹیکل کی شق (2C) اور (3) میں فراہم کیا گیا ہے۔(2G) کمیشن یا کمیٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ صرف اس میں خالی جگہ ہونے یا اس کے کسی اجلاس سے کسی رکن کی غیر موجودگی کی بنیاد پر غلط یا سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔(2H) کمیٹی کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جائیں گے اور اس کی کارروائی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔(21) آرٹیکل 68 کی دفعات کارروائی پر لاگو نہیں ہوں گی۔(2J) کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔ "(3) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر، کمیٹی کی سفارش پر، تین سینئر ترین افراد میں سے کیا جائے گا۔

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    صدر مملکت کسی بھی جج کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
    (7) وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا سوائے اس آرٹیکل کے فراہم کردہ۔(8) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس کا مشاہدہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کریں گے۔کونسل کی طرف سے بنائے گئے قواعد کے تابع، کونسل کا ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں ایسے دیگر افسران اور عملہ شامل ہوگا، جیسا کہ ضروری ہو۔”

    آئین کے آرٹیکل 210 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے جہاں کہیں بھی واقع ہو، الفاظ "وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ” کے متبادل ہوں گے۔ اور(ii)شق (2) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے "وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ” کی جگہ دی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں(ا)موجودہ پہلی شرط کے بعد، مندرجہ ذیل نئی شرط ڈالی جائے گی:”مزید یہ کہ کمشنر اور ایک رکن اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود، جب تک اس کا جانشین دفتر میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:”؛ اورموجودہ دوسری شرط میں، لفظ "مزید” کے لیے لفظ "بھی” بدل دیا جائے گا۔شق (1) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا ترمیم کی گئی، درج ذیل نئی شق (1A) داخل کی جائے گی:”(1A) وہ شخص جو کمشنر کے عہدے پر فائز ہو یا،ایک رکن، ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے،ایک اور مدت کے لیے اسی دفتر میں دوبارہ تعینات کیا گیا۔”آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 239، شق (5) کے لیے، درج ذیل کو تبدیل کیا جائے گا،

    سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے باوجود،یا ہائی کورٹ، آئین کی کوئی شق یا اس میں کوئی ترمیم کسی بھی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت یا ہائی کورٹ میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی فیصلہ، حکم یا اعلان کوئی قانونی اثر اور باطل نہیں ہوگا۔”

    آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل 243 میں، شق (4) کے بعد، درج ذیل نئی شق (5) ڈالی جائے گی، شق (4) میں مذکور سروسز چیفس کی تقرری، دوبارہ تقرری، توسیع، سروس کی حدود، ریٹائرمنٹ یا برطرفی مسلح افواج سے متعلق قوانین کی دفعات کے مطابق ہوگی،آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ بل کے تحت سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ اس سے آرمی ایکٹ کو مزید مستحکم اور محفوظ بنایا جائے گا۔

    آئین کے آرٹیکل 255 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 255، شق (2) میں، الفاظ "وہ شخص” کے لیے، دوسری بار آنے والے الفاظ”ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صوبے کے معاملے میں اور چیف جسٹس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت، دیگر تمام معاملات میں” کو تبدیل کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کے سوموٹو اختیار کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہائی کورٹس کے اختیارات میں کمی آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے نظام کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ عدالتی نظام میں مزید نظم و ضبط اور شفافیت لائی جا سکے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/the-President-may-remove-the-Judge-from-office.pdf” title=”the President may remove the Judge from office”]

  • آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم حکومت کے لئے درد سر بن گئیں، مولانا فضل الرحمان کے گھر کے چکر، منانے کی کوششیں ،پھر مولانا کے کہنے پر ہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا،آج کیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش ہو پائیں گی؟

    آئینی ترامیم کے مسودے بارے بات کی جائے تو گزشتہ 48 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم گزشتہ شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسودے کی کاپی ان کے پاس آ چکی ہے، وہیں جے یو آئی کے مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مسودہ ہمیں نہیں ملا، مسودہ ملنے کے بعد غور خوض کریں گے ،اتنی جلدی ہی کیا ہے، ایک ماہ بھی مشاورت میں لگ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد آئینی ترامیم منظور کی جائیں ،لیکن حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے اس سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس ملتوی کروانا پڑے، نواز شریف بھی گزشتہ روز اسلام آباد گئے اور آئینی ترامیم کے لئے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر نواز شریف اجلاس ملتوی ہونے کے بعد واپس آ گئے اور آج دوبارہ لاہور سے اسلام آباد جائیں گے، نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں سے مشاورت بھی کی ہے.

    دوسری جانب گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو اس دوران صحافیوں نےو فاقی وزیر خواجہ آصف جو نمبر پور ے ہونے کے دعوے کر ررہے تھے کو گھیر لیا اور سوال کیا جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، لگتا ہے نمبر پورے نہیں تھے اس لیے اجلاس ملتوی ہوا،صحافی کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کیا کہتے ہیں؟ جس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے نہیں پتا میں اسمبلی میں تھامجھے فیکٹس کا نہیں پتا کیا ہوا ہے،

    حکومت کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو منایا جائے، مولانا فضل الرحمان سے حکومت کے مسلسل رابطے جاری ہیں، تحریک انصاف بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں ہے،گزشتہ رو زہونے والے خصوصی کمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،اجلاس میں پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے، اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    علاوہ ازیں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کیا ہیں؟ یہ نہ اپوزیشن کو پتہ ہے، نہ اتحادی جماعتوں کو، وہ قانون سازی ہونی چاہیے جو ملک اور عوام کے مفاد میں ہو،کابینہ ارکان سے بھی آئینی ترامیم کو چھپایا جا رہا ہے، اگر یہ آئینی ترامیم ملکی مفاد میں کی جا رہی ہیں تو انہیں چھپایا کیوں جا رہا ہے؟ یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کے لیے ہیں یا اس کو کنٹرول کرنے کے لیے؟ اگر حکومت مسودہ شیئر کرے تو اس پر ہم اپنا آؤٹ پٹ دیں گے، آپ یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے مجبور کیا ہے؟ آپ کو جلدی کیا ہے؟ ججز کی مدتِ ملازمت بڑھانے کے معاملے کی مخالفت کر رہے ہیں، حکومت کے ساتھ نہیں، حکومت ترامیم کا مسودہ دکھائے اور حکومت کو ہمیں منانا ہو گا کہ وجوہات کیا ہیں، اگر آپ عدلیہ میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں، جب مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ مسودے میں ہے کیا؟ تو میں کیا بات کروں

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی ضمانت منظور

    پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی ضمانت منظور

    انسداد دِہشتگردی عدالت اسلام آباد ،پی ٹی آئی ایم این ایز کے خلاف تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے تمام مقدمات میں پی ٹی آئی ایم این ایز کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ،عدالت نے 30,30 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کیں،عدالت نے پی ٹی آئی کے تمام گرفتار ایم این ایز کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ،ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دِہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے کی

    دوران سماعت پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ ایم این اے احمد چٹھہ مقدمے میں نامزد ہیں، مقدمے میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کی سزا کم سے کم تین سال ہے، ضمانت منظور نہ کی جائے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ شیر افضل مروت، احمد چٹھہ و دیگر ایم این ایز سے کچھ برآمد ہوا ہے،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نہیں کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ،عدالت نے تمام مقدمات میں پی ٹی آئی کے گرفتار ایم این ایز کی 30، 30 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین اسمبلی میں شیر افضل مروت، شیخ وقاص، زین قریشی، احمد چٹھہ، عامر ڈوگر، یوسف خان، نعیم علی شاہ اور دیگر شامل ہیں،اراکین پر تھانہ سنگجانی، ترنول، نون اور تھانہ سنبل میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں

    ملیالم فلم انڈسٹری مالی ووڈ میں "می ٹو” کے چرچے،جنسی استحصال کے 17 واقعات رپورٹ

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر سب کا اتفاق رائے ہو جائے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم پر مزید اتفاق رائے کی ضرورت ہے، مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں ان کی کوشش ہے کہ 18 ویں ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی متفقہ ہو،جمہوری اتفاق رائے کے لئے یہ سب چلتا ہے ،مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں متفقہ آئینی ترمیم ہو 18 وی ترمیم کی طرح ، اگر ایک دن مزید تاخیر ہوجائے توکوئی حرج نہیں،ہم نے پارلیمنٹ میں ماحول سازگار بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی 2روز پہلے تشکیل دی، ہم تو 2006ء سے کوشش کر رہے ہیں کہ میثاق جمہوریت پر مکمل عمل درآ مد ہو،مولانا صاحب کافی چیزوں پر راضی ہیں، اگر آئینی ترمیم کیلئے ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کر لیں گے، ہماری کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر اکثریت کا اتفاق رائے ہو،اسمبلی میں ماحول خراب تھا ہم نے اس کو بہتر کیا، ایک سیاسی جماعت کے قائد نے عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کیا، ان کو جواب دینا ہو گا، ادارے کے ہیڈ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہم میثاق جمہوریت کو مکمل کرنا چاہتےہیں ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کوئی بڑی بات نہیں.

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    دوسری جانب مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا،گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے فوری بعد ہی ملتوی کر دیا گیا تھا،اب قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے سینیٹ کا اجلاس بھی آج ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایوان بالا کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ شروع ہو گا

    دوسری جانب پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی، جے یو آئی اور حکومتی اتحاد کی جماعتیں آئینی عدالت پر مشروط رضامند ہیں،اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بل پر مزید مشاورت کرنے کی تجویز دی جبکہ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے۔

    آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، چند روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم میں ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی تھی،بعد ازاں بلاول زرداری نے بھی مولانا سے ملاقات کی تھی اور واپسی پر وکٹری کا نشان بنایا تھا،سابق وزیراعظم نواز شریف کی بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،

  • آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    ضلع خیرپور کو گیس نہ دینے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نواٹس ضمیر حسین نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ سپیشل اکنامک زون کو گیس دی جائے ۔ اس وجہ سے اکنامک مکمل فعال نہیں ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ خیرپور میں 7 سے 8سال کی ذخائر باقی رہ گئے ہیں جہاں سے گیس نکل رہی ہے وہاں نہیں دی جاتی بلکہ مین پول میں گیس شامل ہوتی ہے ۔اکنامک زون کے لیے30فیصد ایل این جی اور 70فیصد قدرتی گیس دی جاتی ہے ۔

    سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آج اور کل بھی اجلاس بلایا گیا ہے سارے ملک میں باز گشت ہے کہ آئینی ترامیم لائی جارہی ہے آئین میں ترمیم جمہوری نظام میں نارمل ہے وہ قوانین جو اس ملک کو چلانے میں مدد دہتے ہیں عوام کی بہتری کے لیے ہوتے ہیں وہ اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ کسی بھی قانون سازی کے لیے جلدی میں پکڑا جاتا ہے کہ اس کو پاس کردیں کبھی آئی ایم ایف اور باقیوں کہاجاتا ہے قانون سازی کو بلڈوز کیا جارہا ہے ۔ممبران کو توڑا جارہاہے رحیم یار خان کا الیکشن ہوا اور فورا اس کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کردیا ہے کیوں کہ ان کو ممبران چاہیے ۔ آئینی ترمیم اتحادیوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا گیا ہے 9ستمبر کا واقع نہ دہرایا جائے ۔ ایوان میں مکمل بحث ہونی چاہیے ۔ آئین کی ترمیم کو معمولی ترمیم نہیں سمجھ سکتے ہیں ترمیم کو مکمل مسٹری بنایا ہواہے تیار نہیں تھے تو ایوان کیوں بلایا گیا ۔ ترمیم کے لیے آپ کے نمبر پورے نہیں ہیں آپ نکاح بالجبر کررہے ہیں ۔ وزیرقانون کو ایوان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں ترمیم جب لائی جاتی ہے تو عوام کو قائل کیا جاتا ہے ترمیم کو شروع سے ہی متنازعہ بنادیا گیا ہے پارٹی کی شناخت نظریہ سے ہوتی ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے اس ملک کو متفقہ آئین دیا تھا آج پیپلزپارٹی جمہوری اقتدار کو پسے پشت ڈال رہی ہے ۔ پارٹی نظریہ کو چھوڑ دے تو وہ سکڑجاتی ہیں ۔ پارٹی اصول کے بجائے مفادات کی سیاست کریں تو اس کا حجم سکڑ جاتا ہے ان کو پارلیمنٹ میں آنے کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال ہے یہاں ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ بلوچستان میں امن وامان کی خطرناک صورتحال ہے خیبرپختونخوا ایک تجربہ سے گزر رہاہے اصل قربانیاں کے پی کے کے عوام نے دی ہے ان کا کلچر تاریخ تباہ ہوئی ہے جن قوتوں نے 40سال پہلے جس جنگ میں مبتلا کیا تھا آج بھی وہی کررہے ہیں عبدولی خان نے اس وقت کہاتھا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے ،اگر ملک کے مفاد میں قانون سازی کررہے ہیں تو چیئرمین صاحب آپ ہمارے ساتھ شیئر کریں خاص طبقے کی مفادات کے لیے قانون سازی ہورہی ہے ۔ پارلیمان ہر قسم کی قانون سازی کرسکتا ہے اگر ان کے پاس مطلوبہ ارکان ہوں ۔ آپ آئین کی بنیاد کو تبدیل کررہے ہیں 8فروری کا الیکشن ٹھیک تھا جب الیکشن ہی ٹھیک نہیں تو آئین میں ترمیم کیوں کررہے ہیں اچھا کام سامنے اور برا کام رات کے اندھیروں میں کیا جاتا ہے ۔حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے جلدی میں کام کئے جارہے ہیں۔ آئین کی حفاظت کی ذمہ داری پیپلزپارٹی اور ان کے نوسہ بلاول پر بھی ہے ۔ گیلانی کے خلاف عدالت میں نواز شریف گئے تھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالا مقدمے بنائے ۔ ایک دوسروں کا چور آپ کہتے تھے ہم نے شہبازشریف پر ایک کیس منی لانڈرنگ کا کیا تھا ۔آپ ملک میں این آر او ون اور ٹو کیا تھا ۔ جس سے جمہوریت کو نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے ایماندار لوگ بھی کرپشن کرنے لگے۔وزیراعلیٰ کے پی کے کے خلاف باتوں مذمت کرتے ہیں ۔خیبرپختونخوا کے عوام وزیراعلیٰ کے پی کے کی سپورٹ کرتے ہیں۔ کل فکس میچ کے ذریعے ایوان کو ڈسٹرب کیا گیا ۔ میں نے چیئرمین صاحب آپ کو درخواست کی ہے کہ اپوزیشن میں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو حکومتی بنچوں پر بیٹھایا جائے اس کا غلط تاثر جاتا ہے

    حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔اسحاق ڈار
    چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ مجھے ابھی بھی بل کا نہیں پتہ ہے ۔قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کافی چیزیں زیر بحث آئی ہیں وہ اپنے چیئرمین سے پوچھ لیں کہ کیا چیزیں زیر بحث آئی ہیں۔ آج اجلاس اس لیے بلایا ہے کہ آپ کے دس ارکان قید ہیں وہ گھومیں پھریں ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔ انہوں نے ماضی میں تیز ترین قانون سازی کی ۔ ہم حکمت علمی کے ساتھ کام کررہے ہیں کوئی چھپ کرکام نہیں کررہے ہیں ۔ میثاق جمہوریت میں تھا کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے میثاق جمہوریت پر عمران خان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ 18ویں ترمیم میں ہم جو ترمیم نہیں کر سکے وہ اب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سول بیوروکریسی کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جارہی ہے ۔18ویں ترمیم میں جو مسائل ہیں ان کو ٹھیک کیا جائے گا ۔عجیب فیصلہ آیا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیں گےتو ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا اور نااہلی بھی ہوگی ۔عوام کو انصاف نہیں ملتا ہے 11سال پہلے فوج داری ریٹ دی ہیں ابھی تک نہیں لگی ہیں ۔ہمارے حکومت میں ایک بھی نیب کا کیس اپوزیشن پر نہیں بنایا گیا ہے ۔اگر کوئی بنایا ہے تو مجھے بتائیں ۔ سیاسی بیان پر عمران خان نے 126دن کا دھرنا دیا ۔ اکانومی کا بیڑا غرق کیا گیا ۔ قائد حزبِ اختلاف کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ کوئی سرپرائز نہیں ہے ۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے ہم نے میزائل پروگرام شروع کیا پابندیوں کا دور بھی گزارا ہے ۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا اپنے پارٹی کے احکامات کے خلاف ووٹ دینے والا صرف نااہل ہوگا اس کا ووٹ نہ گننے کا فیصلہ آئین کے خلاف تھا ۔سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک پارٹی کو آؤٹ آف دی وے جاکر ریلیف دے رہی ہے ۔ ہم عوام کی مفاد میں آئینی ترمیم لارہے ہیں ۔ خارجہ پالیسی عوامی مفاد میں بنے گی،سینیٹر سرمد علی نے کورم کی نشاندہی کردی ۔ جس پر پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی گئی۔ جس پر اجلاس اتوار 4بجے تک اجلاس ملتوی کردیا گیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر