Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • خلیل الرحمان قمر سے بھی بڑا ڈرامہ،غیرملکی خاتون سے زیادتی کا ڈراپ سین،خاتون "پاکستانی”نکلی

    خلیل الرحمان قمر سے بھی بڑا ڈرامہ،غیرملکی خاتون سے زیادتی کا ڈراپ سین،خاتون "پاکستانی”نکلی

    بیلجیئم کی جعلی خاتون کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا

    غیر ملکی خاتون سے مبینہ جنسی تشدد کا ڈراپ سین ہوگیا ہے، خاتون پر جنسی تشدد کے شواہد ملے اور نہ ہی وہ غیر ملکی شہری ہے،پولیس ذرائع کے مطابق، خاتون پوٹھوہاری زبان بولتی ہے، میڈیکل رپورٹ میں خاتون پر جنسی تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے بیلجیئم سفارت خانے نے بھی خاتون کے بیلیجیئم کی شہری ہونے کی تردید کی،سفارت خانے نے جواب دیا کہ ان تفصیلات سے مماثلت رکھنے والے کسی بھی بیلجیئم شہری نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا، خاتون اردو اور پنجابی میں روانی رکھتی ہے، تاہم اب تحقیقات کے بعد سامنے آیا کہ خاتون پاکستانی نکلی، زیادتی کا الزام لگا دیا اور خود کو غیر ملکی شہری کہا،فیشیل ریکوگنیشن (چہرے کی پہچان) کے ساتھ نادرا نے فراڈ خاتون کا سراغ لگا لیا، خاتون کا اصل نام فروا کیانی ہے اور راولپنڈی کی رہائشی ہے،خاتون کی نیشنلٹی پاکستانی ہے.

    https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1824061422562644323

    قبل ازیں خاتون کو ہاتھ پاؤں باندھ کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی 6 کی گلی میں پھینکنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی کی زیرِ نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،خاتون پولیس کو بیان دینے سے انکاری تھی،پولیس کے مطابق خاتون سے بیان دینے کا پوچھو تو کہتی ہے کہ مجھے نیند آئی ہے، مجھے کچھ پتہ نہیں،

    پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کے مطابق چند روز قبل بارش کے باعث خاتون گھر آئی تھی، خاتون بھیگی ہوئی تھی، جسے گھر کے کپڑے فراہم کیے تھے،گرفتار شخص نے بتایا ہے کہ خاتون کو تھانہ ویمن پولیس چھوڑ کر آیا تھا، پھر خاتون کو پولیس نے لا وارث ہونے کی بنا پر ایدھی ہوم چھوڑا،پولیس ذرائع نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون کو کس نے باندھا؟ کس نے گلی میں پھینک دیا؟ یہ تا حال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

  • گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان سے فرار ہو گئے ہیں

    سینئر صحافی و خاتون اینکر غریدہ فاروقی نے ایکس پر پوسٹ کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار 7 اگست کو ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ ثاقب نثار پہلے دبئی اور وہاں سے اب لندن موجود ہیں۔

    ایک اور ٹویٹ میں غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید سے اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق اس بات کے ٹھوس شواہد ثابت ہو چکے ہیں کہ جنرل فیض اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا مضبوط گٹھ جوڑ تھا؛ جس میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدے پہنچائے گئے، عدلیہ کو مینیج کیا گیا، ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور دیگر کئی سنگین نوعیت کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں،ان شواہد کی روشنی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی گرفت میں آنے والے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اگلی گرفتاری عنقریب ان کی ہو

    صحافی حسن ایوب نے غریدہ فاروقی کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غریدہ پھر یہ معاملہ صرف ثاقب نثار تک تو نہیں رکے گا کیونکہ اسکے بعد تو ایف بی آر کے سامنے والی عمارت میں موجود معزز یا معززین کو بھی اس میں شامل کرنا پڑیگا۔

    واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،آج دوبارہ مزید گرفتاریاں ہوئی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے ساتھ تین دیگر ریٹائرڈ افسران بھی فوج نے تحویل میں لیے ہیں۔ تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • جوان بلوچستان میں شہید،ہمارے پاس گولیاں بندوقیں نہیں،ڈی آئی جی ریلوے

    جوان بلوچستان میں شہید،ہمارے پاس گولیاں بندوقیں نہیں،ڈی آئی جی ریلوے

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا رمیش لال کی صدارت میں اجلاس ہوا

    رمیش لال نے کہا کہ سی او ریلویز دفتر سے نہ نکلے تو اس کو کچھ معلوم نہیں ہوگا،آ ئی جی ریلویز کو مستعد ہونا پڑے گا، حکومت چلی جاتی ہے تو پالیسی بدل جاتی ہے ،اگر وزیر اعظم بھی غلط کرے گا تو کمیٹی اس کو قبول نہیں کرے گی،

    کراچی کینٹ میں ریلویز اسکول پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی، حکام وزارت ریلوے نے کہا کہ اسکول ایک کمپنی ٹی سی ایف اور آی سی ڈبلیو ایف کے پاس ہے، ٹی سی ایف اور آئی سی ڈبلیو ایف نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ،رمیش لال نے کہا کہ لوگ مجھے آکر اسکول کے بارے میں شکایات کر رہے ہیں،22 تاریخ کو ریلوے کی کمیٹی ہوگی،اس میں ڈی جی ایجوکیشن ریلویز کو بلائیں، ایک سال سے اس اسکول کا معاملہ حل نہیں ہورہا ہے، ریلوے حکام نے کہا کہ کراچی میں اسکول کے معاملہ پر منسٹری کی جانب سے کام ہونا ہے، رمیش لال نے کہا کہ 24 سال سے ریلویز کمیٹی کا ممبر ہوں،میں یہاں زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہتا،ممبر لاء صاحب آپ کی کتنی تنخواہ ہے؟ ممبر لا نے کہا کہ سر تین لاکھ روپے کے قریب تنخواہ ہے، رمیش لال نے کہا کہ ہر کمیٹی میٹنگ پر ممبر لاء کو لازمی آنا چاہیے، ہم نے ریلوے کے ہر وکیل کی فی پیشی فیس دس ہزار سے تیس ہزار کر دی ہے،ریلوے حکام نے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں ریلوے کے پاس کوئی اسکول نہیں، لاہور ریلوے اسکول نے 95٪ ریزلٹ دیا ہے، رمیش لال نے کہا کہ اس اسکول کے پرنسپل اور اساتذہ کو تعریفی لیٹر دیا جائے،ممبر لا نے کہا کہ وزیراعظم ہاوس نے کہا ریلویز کے تمام کیسسز کو ایک اپلیکیشن پر لایا جائے،

    ریلوے حکام ریلوے کو کما کر دینا نہیں چاہتے،چیزیں بھوت بنگلہ بن گئیں،رمیش لال
    کنوینر کمیٹی حکام ریلوے پر برہم ہو گئے، رمیش لال نے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے لیے کام کریں، قانونی طور پر کوئی کام کرانے آئے تو ہوتا ہی نہیں ہے، ریلوے حکام ریلوے کو کما کر دینا نہیں چاہتے،ڈی ایس ریلوے تو دفتر سے نکلتا پسند ہی نہیں کرتا،ریلوے کیسے ترقی کرے؟ریلوے بورڈ فائلوں میں بند ہے،مہربانی کریں اور کام کرائیں، سب چیزیں بھوت بنگلہ بن گئےہیں، افسران کہتے ہیں قانون کے زریعہ ہمارے تک پہنچنے والے رشوت نہیں دیں گے، لوگ ناجائز تجاوزات ہٹا نہیں سکتے، کیا کمیٹی نے ٹھیکہ اٹھا لیا ہے سب کرنے کا؟ حکام ریلوے نہیں کر سکتے تو ہم نیب اور ایف آئی اے کو لکھیں گے،لکھیں گے کہ ڈی ایس ریلویز کو ٹائٹ کریں،ہم سیاست دان ہیں ہم نے جیل کوڑے سب بھگتے ہیں،یہ جو جج صاحبان آج کر رہے ہیں ہم نے بھگتا ہے، اگلی کمیٹی میٹنگ پر مظہر علی شاہ چئیرمین ریلویز لازمی آئے،

    ریلوے پولیس کے ڈی آ ئی جی عبدالرب نے کمیٹی ریلوے پولیس کی بری حالت پر توجہ دلانے کی کی کوشش کی اور کہا کہ ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں،ہمیں شہداء پیکج نہیں دیا جا رہا ہے، ہمارے ادارے پاس سہولیات نہیں ہیں،ہمارے دفاتر محفوظ نہیں ہیں، ایم ایل ون کے لیے ہمارے پر سیکیورٹی کے لوگ موجود نہیں ہیں، ریلوے پولیس کے لیے نئی بھرتیاں کی جائے، ہمارے پاس کوئی افسر آنا ہی چاہتا، ہمارے جوان بلوچستان میں شہید ہورہے ہیں،ہمارے پاس گولیاں اور بندوقیں نہیں ہیں، والٹن ریلوے پولیس اکیڈمی نے ایف آئی اے کے کانسٹیبل ٹرینڈ کیے، ممبر کمیٹی وسیم قادر نے کہا کہ ریلوے پولیس کے معاملہ پر وزیر اعظم سے ہر صورت بات کریں گے، ڈی آیی جی عبدالرب نے کہا کہ ریلوے پولیس کو مدد کریں اور سہولیات دیں ہم آپ کو پنجاب پولیس سے بہتر کارکردگی دیں گے،

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فیض حمید کورٹ مارشل کے سلسلے میں مزید تین  ریٹائرڈ فوجی  افسران گرفتار

    فیض حمید کورٹ مارشل کے سلسلے میں مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران گرفتار

    جنرل ر فیض حمید سے تعلق کی بنا پر 3 سابق فوجی افسران کو بھی فوجی تحویل میں لے لیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے ساتھ تین دیگر ریٹائرڈ افسران بھی فوج نے تحویل میں لیے ہیں۔ تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے، کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں،ریٹائرڈ افسران نے ملی بھگت سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام کو ہوا دی،ان افسران نے فوجی نظم و ضبط کے خلاف کام کیے۔

    گرفتار دو ریٹائرڈ بریگیڈیئر کا تعلق چکوال سے، تھے فیض حمیدکے کار خاص
    فیض حمید کیس میں کن ریٹائرڈ فوجی افسران کو حراست میں لیا گیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے نام ظاہر نہیں کئے،دوسری جانب صحافی عامر الیاس رانا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فوجی تحویل میں لئے گئے تینوں افسران کے نام سامنے آگئے،گرفتار افسران میں دو بریگئڈیر ایک کرنل شامل ہیں ،بریگیٖڈیئر ر غفار ،ر نعیم گرفتار فسران میں شامل تینوں افسران پیغام رسانی کا کام کرتے تھے ،تینوں افسران سیاسی جماعت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کےدرمیان رابطہ کاری میں شامل تھے،دونوں ریٹائرڈ بریگیڈیئر کا تعلق چکوال سے ہے اور یہ جنرل فیض کے خاص اور منظور نظر افسران تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی پیغام رسانی اور سہولت کاری میں بھی ملوث تھے

    واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    پانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ فوج جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے تفتیش کررہی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے مجھےاس سے کیا ہے،جنرل فیض حمید کا احتساب کررہے ہیں اچھی بات ہے،لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں ،آئی بی کی رپورٹس تھیں موجودہ اسپیکرپنجاب اسمبلی ہروقت جنرل باجوہ کے پاس بیٹھے رہتے تھے ،جنرل باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پرجنرل فیض حمید کو ہٹایا تھا،جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی، وزیردفاع نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی بات کر کے میرے موقف کی تائید کی ہے، خواجہ آصف نے کہا ہے جنرل ریٹائرڈ باجوہ ایکسٹینشن چاہتے تھے، یہ میرے موقف کی تائید ہے،جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے میری حکومت گرائی،

    اگر 9 مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،9مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا،عمران خان
    مخصوص نشستوں کے فیصلہ پرعمل نہ کرکے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کرینگے ،پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اورآئین کی خلاف ورزی پرمیں پارٹی کوابھی سے تیارکررہا ہوں،خواجہ آصف نے کہا ہے فیض حمید کا 9 مئی کے واقعات سے براہ راست تعلق ہے، سارا معاملہ میری گرفتاری سے شروع ہوا، اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر 9 مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں،9مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا،جہاں جہاں آگ لگی، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں،سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائیں اور ہمیں قصوروار ثابت کریں،جس نے میری گرفتاری کا آرڈر دیا وہی سازش میں ملوث ہے،چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ لندن پلان کا حصہ تھے،قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد کمیشن اور بھٹو کا کیس یاد آگیا، ہماری پٹیشن نہیں سن رہے، ان کا مسئلہ یہ ہے 8 فروری کو پی ٹی آئی الیکشن جیت گئی،چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن اب فراڈ الیکشن کوچھپا رہے ہیں،پنڈی کے سابق کمشنر نے ایک ایک بات ٹھیک کہی تھی،یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ ملیں اور یہ آئینی ترمیم کر سکیں، یہ اب تیسری دفعہ آئین شکنی کر رہے ہیں،پہلے 90 روز میں انہوں نے الیکشن نہیں کروائے، پھر اکتوبر میں بھی الیکشن سے بھاگ گئے، اب یہ تیسری دفعہ آئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں،سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں پارٹی کو تیار رہنے کو کہا ہے،

    گفتگو سے قبل جیل عملے نے عمران خان کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے روک دیا، ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل اور عمران خان کی آپس میں تلخی ہوئی، عمران خان نے کہا کہ مجھے نہ روکو، یہ اوپن کورٹ ہے، مجھے میڈیا سے بات کرنے دو،

    فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخی ہوئی تھی،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی شرط تھی کہ فیض حمید کو ہٹائیں،فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخی ہوئی تھی،فیض حمید کو اس لیے میں نہیں ہٹانا چاہتا تھا کیونکہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ انگیج تھا،وہ پاکستان میں دہشت گردی ختم کرنے کا سنہری موقع تھا،جنرل فیض نے ملک سے دہشتگردی ختم کرنے کا مکمل پلان بنا کر اپوزیشن کو دیا تھا،فیض حمید کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، وہ 3 سال تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا،میں بار بار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو کہتا رہا فیض حمید کو نہ ہٹائیں،باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے کیلئے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا،یہ کہتے ہیں کہ ہم نے طالبان کے ساتھ معاہدے کیے اور انہیں واپس لا کر ٹھہرایا اگر ایسی بات ہے تو اب کراس بارڈر دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے؟ ہمارے دور میں کیوں دہشت گردی نہیں ہوئی؟ جنرل فیض زلمے خلیل زاد اور طالبان کو میرے پاس لے کر آیا تھا، اب جتنی دہشت گردی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو ٹھہراتا ہوں،آج تمام طالبان ہمارے خلاف ہو چکے ہیں، روزانہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں،آپ جو مرضی آپریشن کر لیں یہ سرحد کراس کر کے دوسری جانب چلے جائیں گے اور دوبارہ واپس آ جائیں گے،

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • عمران ،بشریٰ کے تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے،عدالت

    عمران ،بشریٰ کے تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے،عدالت

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری غیرقانونی قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار نے سماعت کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا کال اپ نوٹس مبہم ہے، نیب کو نوٹس جاری کرنے کا یہ طریقہ کار نہیں ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نیب کے اس طرح کے کئی کال اپ نوٹسز کالعدم قرار دے چکی ہے، کیا آپ نیب کے کال اپ نوٹسز کا دفاع کرینگے؟ اگر نیب کی انکوائری بلغارین سیٹ سے متعلق ہے تو وہ نوٹس میں لکھ دیں، عمران خان کو 13 جولائی کی Magic date کو گرفتار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نیب گرفتار نہ کرتا تو وہ جیل سے باہر آ جاتے، نیب کا پہلا کال اپ نوٹس تو درست نہیں، دوسرا ہمیں دکھا دیں، آپ نیب کے مبہم کال اپ نوٹس پر گرفتار کا جواز کیسے پیش کرینگے؟ یہ عدالت آج ہی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے سکتی ہے،عدالت کو مطمئن کریں کہ نیب اپوزیشن کو دبانے کیلئے استعمال نہیں ہو رہا،

    تحائف کی ذمہ داری سیکرٹری کابینہ کی، نیب نے سیکرٹری کابینہ کو مرکزی ملزم کیوں نہیں بنایا؟عدالت
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے توشہ خانہ کے دیگر تحائف پر بھی کسی کے خلاف انکوائری کی ہے؟ کیا کابینہ ڈویژن کی فہرست کے مطابق کسی ایک شخص نے بھی تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرایا ہے؟ نیب نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہے کہ وہ استعمال نہیں ہو رہے، نیب نے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ آزادانہ کارروائی کر رہے ہیں، نیب نے دیگر زیادہ مہنگے تحائف پر اپنی آنکھیں بند کیسے کیں؟ نیب نے صرف یہ کیس کیسے پِک کر لیا ہے؟ نیب نے یہ ریفرنس دائر کیوں نہیں کیا، تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟ نیب واضح کہہ دے کہ انہوں نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری کو پروٹیکٹ کرنا ہے، سیکرٹری کابینہ توشہ خانہ کا کسٹوڈین ہوتا ہے، اگر کوئی تحائف جمع نہیں کراتا تو سیکرٹری کابینہ نے اقدامات کرنے ہیں، نیب نے سیکرٹری کابینہ کو مرکزی ملزم کیوں نہیں بنایا؟ اگر کوئی تحائف لے کر جاتا ہے تو وہ مرکزی ملزم تو بن ہی نہیں سکتا، کیا نیب نے سیکرٹری کابینہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں؟

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب نے گرافٹ جیولری کے ایک تحفے کی بنیاد پر پہلا ریفرنس بنایا، دوسرا ریفرنس بلغاری سیٹ کے تحفے کی بنیاد پر بنایا گیا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ چیئرمین نیب دیگر 56 تحائف کو الگ سے کیس کیلئے بھی رکھ سکتے ہیں؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ جی، قانون میں اس حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے نیب کے تفتیشی افسر کو حکم دیا ہے کہ وہ آج یا کل جا کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سوالنامے دے کر جواب لیں، ہم آئندہ سماعت پر اِس کیس کو فِکس کرینگے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سلمان صفدر صاحب عمران خان اور بشریٰ بی بی کے تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ہمارے لیے اس کیس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے،

    قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ نئے ریفرنس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے دائر کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب و دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری غیرقانونی ہے، رہا کرنے کے احکامات دیے جائیں، آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے،عمران خان، بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہوئے،گرفتاری کی ضرورت نہیں، عدت کیس میں رہائی کے فوراً بعد عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی ضرورت نہیں، اعلیٰ عدلیہ نے بار بار کہا صرف نامزد ہونے پر کسی بھی شخص کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے، عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے.

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ  وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    سینیٹر پلوشہ خان کی صدارت میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ہوا،

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل زیر بحث آیا،بل سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے ایوان بالا میں پیش کیا گیا تھا،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کافی عرصہ سے مشاورت کی جارہی تھی،ڈیٹا پروٹیکشن بل پر جون میں مشاورت مکمل کرلی گئی،جلد اسکا ڈرافٹ حتمی شکل اختیار کرلے گا، نیا بل جو 2023 میں بنا اس میں ڈیٹا کی سیکورٹی کی شقیں شامل کی ہیں، ڈیٹا منی ہے ڈیٹا پیسے کمانے کا ہی ذریعہ ہے، قانون سازی کی جارہی ہے، کمپنیوں کو کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کروانے کا پابند بنایا جائے گا، کمپنیاں پاکستان میں ڈیٹا رکھنے سے گھبرا رہی ہیں، 100 مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ 2023 کا بل شئیر کیا گیا اور مشاورت کی گئی، اسٹیک ہولڈر کے چند ایشوز ہیں ہم انکی بات نہیں سنیں گے،مجوزہ قانون میں ایک فیصد گراس ریونیو یا 2 لاکھ ڈالر تک جرمانہ رکھا گیا ہے، اس جرمانے پر اسٹیک ہولڈرز کا اعتراض ہے کہ یہ بہت زیادہ ہے،

    کمیٹی نے جرمانے کی شرح ایک فیصد تک ریونیو پر کرنے کی تجویز دیدی،حکام نے کہا کہ مجوزہ قانون میں ڈیٹا کے سرور پاکستان میں رکھنے کی پابندی ہوگی،پلوشہ خان نے کہا کہ انفرادی یا حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے، حکام وزارت آئی ٹی نے کہا کہ قانون بن جانے سے گوگل سمیت کمپنیوں کو اس قسم کا ڈیٹا پبلک کرنے سے روکا جاسکے گا، سینیٹر افنان اللہ نےکہا کہ وزارت ایک متفقہ بل کا ڈرافٹ تیار کرلے تاکہ ڈیٹا پبلک اور شئیر ہونے سے روکا جا سکے، انوشہ رحمان نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل کے ڈرافٹ کو تیار ہوئے 6 سال ہوگئے کیوں یہ ڈرافٹ کابینہ کو نہیں بھجوایا گیا؟اس پراسیس کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنایا جائے،یورپی یونین کے قانون میں عمر کی حد 18 سال تک ہی رہا ہے، ہمیں اسٹیک ہولڈرز کی بات ماننے کی ضرورت نہیں ہے، یورپی یونین میں صارفین کا ڈیٹا 2 سال تک ہی رکھا جا سکتا ہے،

    سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ اس بل پر کام مکمل کرلیا گیا ہے امید ہے یہ بل جلد کابینہ سے منظور کرایا جائے گا، سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ یہ کابینہ سے منظور شدہ ہے، سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ وہ پرانا بل ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ بل اسی پر مبنی ہے آپ بل تیار کرکے پارلیمنٹ میں بھیج دیں،ممبر لا وزارت آئی ٹی نے کہا کہ ہمیں دوبارہ کابینہ کو ہی بھجوانا پڑے گا، سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ اس بل کو ہم نے اٹارنی جنرل آفس بھجوانا ہے،ارکان قائمہ کمیٹی نے بل ڈرافٹ کابینہ کے بجائے کمیٹی میں پیش کرکے منظور کرانے کی سفارش کردی،پلوشہ خان نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس بل کو کمیٹی منظور کرلے گی،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی کا ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر سخت نوٹس
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس سست پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ سیکرٹری آئی ٹی نے اعتراف کرلیا کہ ملک میں موبائل نیٹ ورکس پر انٹرنیٹ سلوہوا ہے جبکہ وائی فائی پر معمول کے مطابق چل رہاہے ۔جبکہ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹرنیٹ سلو ہونے کی ہمارے پاس کوئی شکایت نہیں آئی ہے ۔کمیٹی نے فائر وال کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ موخر کردی.

    انٹرنیٹ سست ہونے سے کم از کم 500 ملین کا نقصان ،لوگوں کا روزگار تباہ
    اراکین کمیٹی نے انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔سینیٹر افنان اللہ خان نے کہاکہ سوشل میڈیا واٹس ایپ پر میڈیا ڈاون لوڈنگ اپ لوڈنگ نہیں ہورہی ،بہت سے ای کامرس کے فورمز چھوڑ کر جارہے ہیں،سینیٹر ہمایوں نے کہاکہ آپ نے لوگوں کا روزگار تباہ کردیا ہے،پہلے ہی سرمایہ کاری نہیں اس طریقہ سے سارا کاروبار تباہ ہوجائے گا، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سست ہونے سے بزنس متاثر ہو رہا ہے،سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا، واٹس ایپ پر ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ نہیں ہو رہی،انٹرنیٹ سست ہونے سے کم از کم 500 ملین کا نقصان ہوا ہے، سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نیٹ ورکس پر مسئلہ ہے وائی فائی پر نہیں ہے، پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس انٹرنیٹ سروس سے متعلق کوئی شکایت ہی نہیں آئی ہے ۔کمیٹی نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سلو ہونے سے نقصانات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کمیٹی نے دو ہفتوں میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے فائر وال سے متعلق قائمہ کمیٹی کا ایجنڈا ملتوی کردیا گیافائر وال سے متعلق پی ٹی اے نے آج قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش کرنا تھیں فائر وال سے متعلق پی ٹی اے نے حکام کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایجنڈا ملتوی کردیا ۔فائر وال پر قائمہ کمیٹی نے ان کیمرا بریفنگ طلب کر رکھی تھیں۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےسیکرٹری کابینہ کامران علی افضل پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیوں نہ آپ پر فرد جرم عائد کریں، سچ بتائیں چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ کے نوٹی فیکیشن کے پیچھے کون ہے؟ کس کے کہنے پر نوٹی فیکیشن جاری ہوا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں،چئیرمن وائلڈ لائف کی تبدیلی کے احکامات وزیر اعظم نے جاری کئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے الزام وزیر اعظم پر لگا دیا ہے، سیکرٹری کابینہ نے بھائی کو بچانے کیلئے الزام وزیر اعظم پر عائد کردیا ہے،سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم کو بس کے نیچے دھکا دیدیا ہے، مارگلہ ہلز سے متعلق حکم کے بعد سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا، فریقین کی رضامندی سے حکم جاری ہوا پھر پروپیگنڈہ کون کر رہا ہے، آپ کے بھائی لقمان علی افضل کدھر ہیں، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نہیں معلوم وہ کدھر ہیں،

    2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ پروپیگنڈہ وار سپریم کورٹ کیخلاف کیوں چل رہی ہے، اسلام آباد میں کئی جگہوں پر ہاوسنگ سوسائٹی کےاشتہارات لگے ہیں،وکیل نجی ہاؤسنگ نے کہا کہ ہماری سوسائٹی خیبر پختونخوا میں ہے،ہماری سوسائٹی کے درجنوں اشتہارات اسلام آباد میں لگے ہیں، سی ڈی اے کے افسر نے رابطہ کرکے سوسائٹی کے مالک سے سپانسر مانگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے کس افسر نے رابطہ کیا،وکیل نے کہا کہ یہ مجھے نہیں معلوم ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰیٰ نے کہا کہ مارگلہ ہلز میں آپ سوسائیٹی کیسے بنا رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی اپنی ملکیتی اراضی ہے اس پر منصوبہ شروع کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات کدھر ہے،وکیل نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات میرے موکل کے پاس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شاہ صاحب اپنے موکل کو بلالیں،2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،مارگلہ ہلز کے معاملہ پر وزارت داخلہ وزارت کابینہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے ملوث ہیں،

    آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،تاثر دے رہا کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،چیف جسٹس
    وکیل شاہ خاور نے کہا کہ میرا موکل ڈیڑھ گھنٹے میں سپریم کورٹ میں پہنچ جائینگے،میرا موکل صوابی سے نکل آیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے موکل کا نام کیا ہے، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کا نام صدیق انور ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موکل کا پورا نام بتائیں، وکیل نے کہا کہ موکل کا پورا نام کیپٹن صدیق انور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کے موکل کو بھی توہین عدالت کو نوٹس جاری کریں،آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،آپ کے موکل نے نام کیساتھ ریٹائرڈ بھی نہیں لکھا،کیا آپ کا موکل تاثر دے رہا ہے کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،اس ملک میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے،ساری حکومت آج عدالت میں کھڑی ہے لیکن معلوم کچھ نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل پارک کو مجموعی طور پر بچانا ہے، خوبصورتی ساری مارگلہ ہلز کی ہے،

    ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، سپریم کورٹ پر سب سے پہلے ہم نے انگلی اٹھائی،10,10 سال سے خلاف قانون بیٹھنے والوں کو واپس بھیجا، ڈیپوٹیشن والوں کو واپس کرنے پر بھی شور مچا،کہا گیا کہ چیف جسٹس نے یہ کردیا وہ کردیا،ذاتی حملہ کرا لو، گالی گلوچ کرا لو بس،میں آزادی اظہار رائے ہر یقین رکھتا ہوں،آج تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی،سیکریٹری کابینہ نے سچ نہ بولا تو نتائج بھگتیں گے، زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،ایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں جو دفاع کر سکے،

    عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری پھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی طر ف سے 190 ملین پاؤنڈزکیس کا تذکرہ بھی کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری کروپھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،ان 190 ملین پاؤنڈزوالوں سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا،اس وقت کی حکومت نےبرطانیہ سے ملنے والے پیسے طاقتورشخص کو دے دیئے،برطانوی حکومت نےپیسے واپس بھجوائے مگراسی چوری کرنے والے شخص کوواپس کردیئے گئے،شکرہے کہ بیرون ممالک کی ایسی ایجنسیاں ہیں جوفعال ہیں،ججزکوگالیاں دینے کیلئے کرایہ کے بندے رکھ لیتے ہیں،اگرہمت ہے توہمارے سامنے آکربولیں ہم جواب دیں گے

    پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ایسا ہی ہے توپارلیمنٹ بند کر دیں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزاردت داخلہ کے ماتحت کیوں کیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس کو درخواست آئی کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تصوراتی بات لگتی ہے وزارت ہاؤسنگ سی ڈی اے کے ماتحت ہے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے،پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ہم تو کہہ رہے ہیں سی ڈی اے کو بھی وزارت داخلہ سے نکال دیں،اگر ایسی بات ہے تو وزارت تعلیم کو وزارت ریلویز میں ڈال دیں،کیوں نہ وزارت داخلہ کو نوٹس کریں سارا گند ہی ختم ہو جائے گا،پارلیمان کس لیے ہوتا ہے پارلیمان میں ایسے موضوعات پر بحث کیوں نہیں ہوتی،اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کردیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں آرٹیکل 99 کے تحت رولز آف بزنس بنتے ہیں جس سے معاملات چلائے جاتے ہیں،

    جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بات تو کر سکتے ہیں،کوئی طاقتور آیا ہو گا اور اس نے کہا ہو گا سی ڈی اے کو میری وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں پلاٹس وغیرہ کے بھی معاملات ہوتے ہیں، ،جسٹس نعیم اختر افغان نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے،کیا سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت رہنا چاہیے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ سے عملدرآمد کرنے کیلئےپاور مل جاتی ہے،پولیس اور انتظامیہ بھی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی طبعیت ٹھیک ہے،آپ اتنے اہل نہیں ہیں کہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروا سکیں ،اگر ایسی بات ہے تو ایف بی آر کو بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،پھر ٹیکس نہ دینے والوں کو پولیس پکڑ لے گی،جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز آف بزنس کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ڈویژنز کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتی رہتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت داخلہ وزیر اعظم آفس سے بھی زیادہ طاقتور ہے،

    سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا، بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا،سیکرٹری کابینہ نے بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،طاقتور شخصیات نے اپنی مرضی سے کام کروائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد کی سب سے قیمتی جگہ کونسی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتی جگہ شاید ون کانسٹیٹیوشن ایونیو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلڈنگ کی بات نہیں کر رہے جگہ کا پوچھ رہا ہوں،اسلام آباد میں سب سے مہنگی جگہ ای سیکٹر ہے،آپکو پتا ہے ای سیکٹر کس نے بنوایا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بارے علم نہیں،وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ اسلام آباد کا ای سیکٹر ضیا الحق کے دور میں بنوایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل ضیا الحق کے حکم پر ای سیکٹر بنایا گیا، مارگلہ ہلز کے سامنے ہونے کی وجہ سے ای سیکٹر سب سے مہنگا ہے،چاوپر سے حکم آیا ضیا الحق کا تو کسی نے آگے سے اعتراض نہیں کیا ہوگا،

    لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے مارگلہ میں کمرشل سرگرمیاں روکنے کا کہا نوٹیفکیشن نکلنے لگے، یہاں کہا جاتا ہے مارگلہ میں پودے لگا رہے ہیں،کوئی آدھے دماغ والا آدمی بھی ایسی بات نہیں بولے گا، جنگل میں پودوں کی افزائش خود ہوا کرتی ہے، چیف جسٹس نےضیا دور میں پولن کا باعث بننے والے درختوں کی شجرکاری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ چار دہائی پہلے ایک صاحب آئے اور پیپر میلبری لگاتے رہے، کسی ایکسپرٹ سے پوچھا بھی نہیں کیا ہو گا،مونال کے مالک نے سپریم کورٹ کیخلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا، کہتے ہیں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے،اپنے کسی اور ریستوران میں انہیں ملازمت دے دیں،لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،

    سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟چیف جسٹس کا پائن سٹی کے مالک سے استفسار
    ڈی جی گلیات اور پائن سٹی کے مالک کیپٹن رصدیق انور پیش ہو گئے ، ڈی جی گلیات نے عدالت میں کہا کہ ہم نے پائن سٹی کوتعمیرات سے روکا یہ اسٹے لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدیق انور سے استفسار کیا کہ آپ وہاں کیاں بنانا چاہتے ہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں میں کچھ نہیں بناؤں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیا اب بھی فوج میں ہیں؟ نام کیساتھ ریٹائرڈ کیوں نہیں لکھا؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں 1999 میں ریٹائرڈ ہو گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی کے ساتھ آپکا ایڈریس جی ایچ کیو کا کیوں ہے؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ جب یہ رجسٹرڈ کروایا تب ایڈریس یہی تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ سروس میں ہوتے ہوئے بزنس کر سکتے تھے؟جب آپ ریٹائرڈ ہوئے آپ کی تنخواہ کیا تھی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ اس وقت کم تنخواہیں تھیں میری سات ہزار روپے تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے گاؤں کی زمین بیچی تھی، میں نے پھر یہ زمین نواب آف خان پور سے خریدی، مارگلہ پہاڑ بھی نواب آف خان پور کے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیایہ اللہ کے نہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہاکہ اللہ نے ہی انہیں دیئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فوجی ہیں کس طرح کی بات کر رہے ہیں؟آپ مارگلہ کو تباہ کر رہے ہیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں تو مارگلہ کو بنا رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنا قدرت نے دیا ہے آپ اسے چھوڑ دیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ چھوڑ دیتا ہوں، میں صرف نیچر ایڈونچر پارک بنانا چاہتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی نام سے تو لگتا ہے یہ رہائشی منصوبہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے اس نام سے نقصان اٹھایا ہے سوچتا ہوں نام بدل دوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نام نہیں کام ہی بدل دیں، یہاں تعمیرات نہیں ہو سکتیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے وہاں نئے درخت بھی لگائے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ آپ کا صدقہ جاریہ رہے گا ثواب آپ کو ملے گا،نیشنل پارک میں تعمیرات نہیں ہو سکتیں ہمارا فیصلہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نیشنل پارک میں نہیں ہوں یہ میری ملکیتی زمین ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ملکیت رکھیں مگر اس پر تعمیرات نہیں کر سکتے، خاور شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنی زمین پر قانونی کاروبار ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اپنا پلاٹ بھی ہو سی ڈی اے باونڈری وال کے اندر ایک حد تک آپ کو تعمیرات نہیں کرنے دیتا،

    محسن نقوی کو بڑا جھٹکا،وائلڈ لائف کوموسمیاتی تبدیلی سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس
    سپریم کورٹ نے سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی، اٹارنی جنرل کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی حکومت نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا،عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان علی افضل نے سپریم کورٹ کیخلاف مہم چلائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ملازمین بے روزگار ہو گئے، بادی النظر میں لقمان علی افضل کا عدلیہ مخالف مہم چلانا توہین عدالت ہے، لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا،

    مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، مونال ریسٹورینٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،سپریم کورٹ کے مقدمات کو کور کرنے والی خاتون صحافی مریم نواز خان نے ایکس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس پوسٹ کئے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈز عوام کا چوری ہو جائے کوئی خبر نہیں چلتی مگر پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں دینے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،

    موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں 190 ملین پاونڈز اور ملک ریاض کا نام لیے بغیر تذکرہ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا 190 ملین پاونڈ حکومت اسی شخص کو دے دے جس نے لوٹے تو کوئی خبر نہیں چلتی لیکن پیسے دے کر اخبارات خرید کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، آج کل بس موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے ، دس دس سال سے بیٹھے ڈیپوٹیشن پر ملازمین کو واپس بھیجا تو یہ دو نمبر کے لوگ کہتے ہیں چیف جسٹس نے پتا نہیں کیا کر دیا ،

    چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،چیف جسٹس
    مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع ہوٹل مونال 11 ستمبر 2024 کو بند ہونے جا رہا ہے، ہوٹل انتظامیہ نے باقاعدہ اعلان کر دیا،مونال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم 11 ستمبر 2024 سے مونال کو بند کر رہے ہیں،سپریم کورٹ کے حکم پر مونال کو بند کیا جا رہا ہے،مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کوبند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے،مونال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ،2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے، یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا لیکن اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • آئین کو تبدیل ، بنیادی حقوق   نکال دیں ، ہمارا دائرہ اختیار ختم کر دیں،عدالت برہم

    آئین کو تبدیل ، بنیادی حقوق نکال دیں ، ہمارا دائرہ اختیار ختم کر دیں،عدالت برہم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کے لاپتہ کارکن فیضان کی بازیابی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ،یہ کون ہے ؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پی ٹی آئی میڈیا سیل سے ہیں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،لاپتہ پی ٹی آئی کارکن فیضان کی عدم بازیابی پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے میں سخت اظہار برہمی کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو تبدیل کر دیں بنیادی حقوق اس میں سے نکال دیں ، ہمارا دائرہ اختیار ختم کر دیں ملک کو اسی طرح چلائیں ، مجھے نہیں معلوم اسٹیٹ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتی ،آپ اس کی گرفتاری ڈال دیں ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن ملک اس طرح نا چلائیں،وزارت دفاع وزارت داخلہ اسٹیٹ سب اس سے خوش ہیں ،لاپتہ شہری فیضان کی بازیابی کا کیس ،مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ کیا ہو رہا ہے اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ،پہلے جس بنچ میں کیس تھا انہوں نے لکھا ہے یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے

    یہ گندے درخواست گزار ہیں ہم درخواست مسترد کر دیتے ہیں، میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آپ ہمیں کس طرف لے کر جا رہے ہیں، عدالت
    سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزاروں نے صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اسٹیٹ کونسل کے دلائل پر برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صاف ہاتھوں سے درخواست دائر نہیں کی، اس لیے درخواست خارج کر دیں؟آپ چاہتے ہیں کہ میں خدمت گزار جج بن جاؤں؟یہ گندے درخواست گزار ہیں ہم درخواست مسترد کر دیتے ہیں، میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آپ ہمیں کس طرف لے کر جا رہے ہیں،

    دنیا یہاں آئے سرمایہ کاری کرے اور لوگ مسنگ بھی ہوں گے اور عدالتیں بھی کچھ نہیں کر سکیں گی،عدالت
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظالمانہ عمل ہے اس صورت حال میں آئینی عدالتوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ دنیا بھی دیکھ رہی ہے پاکستانی عدالتیں (لاپتہ افراد) ان کیسز میں کیا کر رہی ہیں ، یا پھر یہ کہیں دنیا یہاں آئے سرمایہ کاری کرے اور لوگ مسنگ بھی ہوں گے اور عدالتیں بھی کچھ نہیں کر سکیں گی،وفاقی حکومت کا مطلب وزیراعظم اور وفاقی کابینہ ہے اور ذمہ داری آخر کار ایگزیکٹو ہیڈ پر آتی ہے .حکومت کو اس معاملے پر اغواء کاروں کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ یہ تو ہمیں نہیں پتہ کہ اغواء کار کون ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک ساتھی جج نے سخت آرڈر کیا تو حکومتی پروپیگنڈا مشینوں نے اسکے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا، میں اس کیس میں آرڈر پاس کروں گا،

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست،سیکرٹری دفاع طلب

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کی درخواست،سیکرٹری دفاع طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے بھائیوں کے بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکیس کی سماعت کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بیمار ہیں وہ ہسپتال میں داخل ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جس نمبر سے انکے والد کو کال گئی وہ تو انکے بھائی کا نمبر ہے،سکریٹری صاحب آئے ہیں ،سکریٹری داخلہ عدالت میں پیش ہو گئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ تجربے والے آدمی لگتے ہیں آپ کو پتہ ہے ذمہ داریاں کیسے نبھانی ہیں ، اس پر کیا کہیں گے، کیا سکریٹری دفاع بھی عدالت میں موجود ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ سکریٹری دفاع نہیں جوائنٹ سیکریٹری ڈیفنس عدالت آئے ہیں ،عدالت نے سکریٹری دفاع کو 20 اگست کو دوبارہ طلب کر لیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ کیس آئندہ منگل تک یہ کیس ختم ہو جائے گا، سرکاری وکیل نے کہا کہ سکریٹری دفاع لاہور ہیں آگے ویکنڈ ہے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سکریٹری دفاع کو کہیں اس مرتبہ اپنے ویکینڈ کی قربانی دیں، میں اس پر تفصیلی آرڈر جاری کروں گا، عدالت نے کیس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید