Baaghi TV

Tag: اسلام

  • رواں سال کتنے  مسلمانوں نےفریضۂ حج اداکیا؟سعودی محکمہ شماریات کی رپورٹ جاری

    رواں سال کتنے مسلمانوں نےفریضۂ حج اداکیا؟سعودی محکمہ شماریات کی رپورٹ جاری

    سعودی محکمہ شماریات نے مناسک حج کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں سال مجموعی طور پر ریکارڈ 17 لاکھ 7 ہزار 301 افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔

    محکمہ شماریات کے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس سال 165 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 15 لاکھ 46 ہزار 655 غیر ملکی حجاج کرام نے حج ادا کیا جن میں سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں،جبکہ سعودی عرب کے مقامی افراد کی بھی بڑی تعداد نے فریضہ حج ادا کیا رپورٹ کے مطابق اس سال 1 لاکھ 60 ہزار 646 سعودی شہریوں نے مناسک حج ادا کیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی تعداد میں سے 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد حجاج تھے جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار 905 تھی، 14 لاکھ 85 ہزار 729 غیر ملکیوں نے حج کے لیے فضائی راستہ اخیتار کیا جبکہ 54 ہزار 429 افراد زمینی راستے سے مبارک سفر کیا، علاوہ ازیں 6 ہزار 497 غیر ملکی حجاج سمندری را ستے سے مملکت پہنچے۔

    واضح رہے کہ سعودی محکمہ شماریات کے گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مطابق 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔

  • عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ آتی ہے تو گلیاں قربانی کے جانوروں سے آباد ہو جاتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا شور سنائی دیتا ہے، مگر ایک سوال ہر حساس دل سے ٹکراتا ہے: کیا عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، یا اس کے پس منظر میں کوئی ایسا عظیم سبق پوشیدہ ہے جسے ہم نے رسموں کی دھند میں کہیں کھو دیا ہے؟-

    اگر ہم اس عید کے اصل مرکز کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک بوڑھا باپ نظر آتا ہے، جس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایک فرمانبردار بیٹا، جس کی جوانی اطاعت اور تسلیم و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ محض قربانی کی داستان نہیں، یہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو ہے جس نے قیامت تک کے انسانوں کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھا دیا۔

    قرآن مجید میں وہ منظر کتنا ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:
    “اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟”

    یہ الفاظ محض ایک حکم سنانے کے نہیں، بلکہ ایک باپ کے شفقت بھرے اندازِ تربیت کے عکاس ہیں حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو حکم صادر کر دیتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو اعتماد دیا، اس کی رائے پوچھی، اسے اس عظیم امتحان کا شریک بنایا، گویا اسلام ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اولاد سے مکالمہ کیا جائے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کی جائے، صرف حکم چلانا کافی نہیں ہوتا، محبت اور اعتماد کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔

    پھر بیٹے کا جواب تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب بن جاتا ہے:
    “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

    کیا آج کے دور میں یہ جملہ صرف پڑھنے کے لیے رہ گیا ہے؟ ایک طرف والدین ہیں جو اولاد کو صرف دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اولاد ہے جو والدین کی نصیحت کو بوجھ سمجھتی ہے گھر ایک چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں حضر ت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد گھر کے اندر باپ اور بیٹے کے رشتے سے شروع ہوتی ہے۔
    عیدالاضحیٰ دراصل جانور کی قربانی سے پہلے اپنی انا، خواہشات، ضد، غصے اور نفس کی قربانی کا نام ہے حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، انہوں نے اپنے دل کے سب سے محبوب رشتے کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا عزم کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنے خواب—سب کو اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں کر دیا تھا۔

    آج مسلمان اگر اس عید کا اصل فلسفہ سمجھنا چاہیں تو انہیں اس مکالمے کو اپنے گھروں میں زندہ کرنا ہوگا باپ صرف حکم دینے والا نہ ہو بلکہ رہنمائی اور محبت کا پیکر بنے، اور بیٹا صرف آزادی کا طلبگار نہ ہو بلکہ ادب، احترام اور اعتماد کا استعارہ بنے اگر گھروں میں مکالمہ، محبت اور اطاعت کی یہ فضا پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں۔

    افسوس یہ ہے کہ ہم نے عیدالاضحیٰ کو گوشت تقسیم کرنے اور رسم ادا کرنے تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت؛ اس تک صرف دل کا تقویٰ پہنچتا ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے “اسماعیل” کو اللہ کے سپرد کرے اور اپنے نفس کے “بت” کو ذبح کر دے
    عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت صرف قربانی میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ اطاعت میں ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جھلکتا ہے یہی وہ سبق ہے جسے اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں زندہ کر لیں تو ان کے گھر بھی امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور معاشرہ بھی محبت، احترام اور ایمان کی خوشبو سے مہک اٹھے گا کیونکہ عید صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں، اعتماد، اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے سب سے محبوب کو قربان کرنے کے جذبے کا نام ہے۔

  • ایک بیان کے بعد  گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،حمزہ علی عباسی

    ایک بیان کے بعد گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،حمزہ علی عباسی

    ’’پیارے افضل‘‘ ڈرامہ سے غیر معمولی شہرت پانے والے حمزہ علی عباسی نے پنے حالیہ طویل اسلامی پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ ایک بیان کے بعد انہیں گستاخی کے الزامات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

    اداکار حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی زندگی کے ایک نہایت حساس اور چونکا دینے والے تجربے کا ذکر کیا حمزہ علی عباسی کے مطابق ایک پوڈکاسٹ کے دوران جب ان سے آخرت، اللہ اور ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ان تمام چیزوں پر یقین رکھتے ہیں، لیکن چونکہ انہوں نے اللہ کو دیکھا نہیں، اس لیے سو فیصد یقین کے ساتھ دعویٰ نہیں کرسکتے، ان کے بقول یہی جملہ ان کے لیے مشکل کا باعث بن گیا،اس بیان کے بعد انہیں متعدد وارننگ کالز موصول ہوئیں اور کچھ لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔

    اداکار کے مطابق بعض افراد نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ معافی مانگیں، دوبارہ کلمہ پڑھیں اور حتیٰ کہ اپنا نکاح بھی دوبارہ کریں اس حد تک ردعمل کا سامنا کرنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم انہوں نے اپنے مؤقف پر وضاحت دیتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ ان کا ایمان برقرار ہے اور ان کے الفاظ کو غلط انداز میں لیا گیا۔

  • اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے، اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے عالمی برادری نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ مضبوط بنائے، اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کےلیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

    صدر پاکستان کا کہنا تھا کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے، بیرون ملک پاکستانی، معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے،عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔

  • رمضان المبارک: کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہوں گے؟

    رمضان المبارک: کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہوں گے؟

    رمضان المبارک 2026 کی آمد میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں اور دنیا بھر میں روزوں کے دورانیے کے حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری 2026 کو متوقع ہے، تاہم اگر ہلال 18 فروری کو نظر آئے تو یہ ایک دن قبل شروع ہو سکتا ہے رمضان کے روزے گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم دورانیے کے ہوں گے، جس سے عبادت گزاروں کو کچھ راحت ملے گی۔

    خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی ہجری کیلنڈر قمری چاند کے مدار پر مبنی ہے، جس کے مطابق ہر ماہ 29 یا 30 دن پر مشتمل ہوتا ہے، چاند کے نظر آنے کی بنیاد پر مہینے کی شروعات طے کی جاتی ہے۔ رواں برس بھی رمضان کا آغاز تقریباً 10 سے 12 دن پہلے ہونے جا رہا ہے، جس کا اثر روزے کے دورانیے اور دن کی روشنی پر پڑے گا۔

    رمضان کے روزے کا آغاز صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے، اور روزے کی مدت ہر مقام پر سورج کے طلوع و غروب کے وقت کے مطابق مختلف ہوتی ہے جغرافیائی محل وقوع کے فرق کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں روزے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی ممالک جیسے روس کے شمالی حصے، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے کا دورانیہ 16 گھنٹے سے زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ مدت 20 گھنٹے تک بھی پہنچ سکتی ہے دوسری جانب جنوبی اور معتدل خطوں میں روزے کا دورانیہ نسبتاً کم رہے گا، بر ازیل، جنوبی افریقہ، چلی، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا جیسے ممالک میں روزے کا دورانیہ 11 سے 14 گھنٹے کے درمیان متوقع ہے۔

    علمائے کرام کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں دن یا رات غیر معمولی طور پر طویل یا مختصر ہو، وہاں مکہ مکرمہ یا کسی قریبی معتدل شہر کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنے کی اجازت ہے۔

  • شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    آج شب برات مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائے گی-

    اس سلسلے میں ملک بھر کی مساجد میں خصوصی شب بیداری کا اہتمام کیا گیا ہے،مساجد میں آج رات بھر نوافل ادا کیے جائیں گے، شہری رات بھر نوافل کے ساتھ خدائے بزرگ و برترکی بارگاہ میں اپنی، فیملیز اور احباب کی سلامتی، ملکی ترقی اور خوشحالی کی خصوصی دعائیں مانگیں گے اس کے علاوہ ذکر الٰہی کی خصوصی محافل، حسن قرات، حمد و نعت اور درود و سلام کی روح پرور محافل کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

    شب برأت میں شب کا مطلب رات ہے اور برأت کا مطلب رہائی یا آزادی ، شب برات جہنم کی آگ سے چھٹکارے ،گناہ بخشوانے کی رات ہے ، مسلمان اللہ تعالی کے حضورسجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، ملک بھر میں مساجد کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے، نفلی عبادات کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری اور ان کے ایصال ثواب کیلیے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کریں گے جبکہ آج شب برات کے احترام میں روزہ بھی رکھا جائے گا۔

    شب برأت کو لیلۃ المبارکہ اور لیلۃ الرحمۃ بھی کہا گیا ہے شب برأت دراصل اس عزم و عہد کی رات ہے جب بندہ اللہ سے مغفرت طلب کرکے گناہوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عزم و عہد کرتا ہے،اس بابرکت رات اہل ایمان رب کائنات کے حضور سربسجود ہو کر توبہ و استغفار، اپنے اعمال کی اصلاح، گناہوں سے توبہ، رزق میں برکت اور صحت و تندرستی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

    شب برات کے موقع پر ملک بھر کی مساجد میں خصوصی شب بیداری کا اہتمام کیا گیا اور فرزندان اسلام نوافل اور تسبیحات سمیت مختلف نفلی عبادات ادا کیں، اس کے علاوہ ذکر الٰہی کی خصوصی محافل، حسن قرات، حمد و نعت اور درود وسلام کی روح پرور محافل کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جہاں علمائے کرام ، مشا ئخ عظام اور مذہبی دانشوروں نے شب برات کی فضیلت اور امت مسلمہ کے لئے اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

  • غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کا 244 واں اجلاس چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختو نخوا میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہےاجلاس کے آغاز پر شہدا اور حال ہی میں وفات پانے والے سابق اراکین کونسل مولانا فضل الرحیم اور محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

    اجلاس میں قانونِ انفساخِ نکاح مسلمانان 1939 کے تحت اسبابِ فسخِ نکاح کا جائزہ لیا گیا کونسل نے خصوصی پارلیمانی سب کمیٹی برائے جنسی شمولیت (اسپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمینگ) کی تجاویز سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خاوند مفقود الخبر ہو اور بیوی کو عفت و عصمت کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ 2 سال انتظار کے بعد عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔

    اسی طرح نفقے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال، خاوند کے قید ہونے کی صورت میں 3 سال بعد فسخِ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے نامردی، فرائضِ زوجیت کی ادائیگی پر قدرت نہ ہونا، ذہنی امراض یا دیگر امراضِ خبیثہ کی صورت میں ایک سال انتظار کے بعد فسخِ نکاح کیا جا سکتا ہے باپ دادا کی جانب سے بچپن میں کیے گئے نکاح میں اگر سو اختیار ثابت ہو جائے تو بھی فسخِ نکاح ممکن ہوگا۔

    کونسل نے رحم کی پیوندکاری سے متعلق استفسار پر قرار دیا کہ ایسی خاتون جو تولید کی طبعی عمر گزار چکی ہو، چند شرائط کے ساتھ اس کے رحم کو بطور پیوندکاری منتقل کیا جا سکتا ہے نیو ڈورا پروڈکٹ (Dural Repair Patch) کے استعمال کے بارے میں کونسل نے قرار دیا کہ اس کا استعمال درست نہیں۔

    مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ سے متعلق کونسل نے منظوری دیتے ہوئے قرار دیا کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ قرآنی اور مقدس اوراق کو دیگر عام اوراق سے الگ ری سائیکلنگ کے مراحل سے گزارا جائے۔

    وزارتِ قانون و انصاف کے استفسار پر کونسل نے واضح کیاکہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

    اجلاس میں صاحبزادہ حسان حسیب الرحمان، طاہر محمود اشرفی، رانا شفیق پسروری، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، مفتی محمد زبیر، سید سعید الحسن، پیر شمس الرحمان مشہدی، بیرسٹر عتیق الرحمان بخاری، حافظ محمد امجد، علامہ یوسف اعوان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔

  • دنیا میں سب سے طویل اور سب سے مختصر دورانیے کا روزہ کہاں ہوگا؟

    دنیا میں سب سے طویل اور سب سے مختصر دورانیے کا روزہ کہاں ہوگا؟

    لاہور: رمضان المبارک 2025 میں کئی ممالک میں روزے کا دورانیہ سب سے طویل جب کہ دیگر میں مختصر ترین ہوگا-

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک میں روزے کا دورانیہ کہیں زیادہ تو کہیں کم ہوتا ہے،ایسا جغرافیائی محل وقوع کے باعث ہوتا ہے الجزائر میں سب سے طویل دورانیے کا روزہ یعنی 16 گھنٹے 44 منٹ کا ہوگا،اس کے برعکس صومالیہ میں صرف 13 گھنٹے کا روزہ ہوگا اس کے علاوہ زیادہ تر عرب ممالک میں 16 سے 17 گھنٹے کے درمیان کا روزہ ہوا کرے گا –

    اسکینڈینیویا ممالک میں روزے کے اوقات نمایاں طور پر طویل ہوں گےسویڈن، ناروے اور فن لینڈ جیسے ممالک میں، کچھ علاقوں میں روزے کا دورانیہ 20 گھنٹے سے زیادہ ہوگا، سویڈن کے کیرونا میں سورج صرف چند منٹوں کے لیے ڈوبتا ہے اور کچھ شمالی مقامات پر تو بالکل بھی غروب نہیں ہوتا۔

    رمضان المبارک میں بینکوں کے نئے اوقات کار کا اعلان

    گرین لینڈ کے دارالحکومت میں بھی "آدھی رات کے سورج” کے رجحان کی وجہ سے 20 گھنٹے تک روزہ رکھا جائے گاآئس لینڈ میں تقریباً 19 گھنٹے 59 منٹ کے روزے ہوں گے جب کہ فن لینڈ میں تقریباً 19 گھنٹے 9 منٹ کے روزے ہوں گے۔

    دوسری جانب برازیل، زمبابوے اور پاکستان وغیرہ میں روزہ 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان رہے گا ،جنوبی افریقہ میں تقریباً 11 سے 12 گھنٹے کے روزے کا دورانیہ رکھیں گے،بیونس آئرس، ارجنٹائن اور کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ میں تقریباً 12 گھنٹے کا ہوگا۔

    خفیہ دستاویزات کیس،ایف بی آئی نےقبضہ میں لیا سامان ٹرمپ کو واپس کردیا

    طویل ترین روزے والے ممالک؛

    سویڈن (کیرونا): 20 گھنٹے 30 منٹ
    ناروے: 20 گھنٹے 30 منٹ
    فن لینڈ (ہیلسنکی): 19 گھنٹے 9 منٹ
    آئس لینڈ (ریکجاوک): 19 گھنٹے 59 منٹ
    گرین لینڈ (Nuuk): 20 گھنٹے
    کینیڈا (اوٹاوا): 16.5 گھنٹے
    الجزائر: 16 گھنٹے 44 منٹ
    سکاٹ لینڈ (گلاسگو): 16.5 گھنٹے
    سوئٹزرلینڈ (زیورخ): 16.5 گھنٹے
    اٹلی (روم): 16.5 گھنٹے
    سپین (میڈرڈ): 16 گھنٹے
    برطانیہ (لندن): 16 گھنٹے
    فرانس (پیرس): 15.5 گھنٹے

    مختصر ترین روزے والے ممالک

    بیونس آئرس، ارجنٹائن: 12 گھنٹے
    کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ: 12 گھنٹے
    دبئی، متحدہ عرب امارات: 13 گھنٹے
    نئی دہلی، بھارت: 12.5 گھنٹے
    جکارتہ، انڈونیشیا: 12.5 گھنٹے
    مدینہ، سعودی عرب: 13 گھنٹے
    نیویارک، امریکہ: 13 گھنٹے (تقریبا)
    استنبول، ترکی: 13 گھنٹے (تقریبا)

  • رمضان کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا

    رمضان کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا

    اسلام آباد:پاکستان میں رمضان المبارک 1446 ہجری کا چاند نظر آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد پاکستان میں عشا کے بعد مساجد میں نماز تراویح کے اجتماعات ہوں گے جبکہ فرزندان اسلام پہلی سحری کی تیاری بھی کریں گےپاکستان بھر میں کل پہلا روزہ رکھا جائے گا اور شہری ماہ صیام کی سعادتیں، برکتیں حاصل کرنے کی کوششیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب، عرب امارات، امریکا اور جرمنی سمیت متعدد ممالک میں کل رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد وہاں پر آج پہلا روزہ رکھا گیا۔

    مالاکنڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پر ہراسانی کے الزامات ثابت،ملازمت سے برخاست

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک 1446 ہجری کے آغاز پر قوم کے نام پیغام جاری کیا ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے بیان میں قوم کو رمضان المبارک کے آغاز کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک بار پھر ہمیں رمضان المبارک کی سعادت نصیب ہو رہی ہے رمضان کا یہ مہینہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قربت عطا فرماتے ہیں۔

    پنجاب کے مختلف شہروں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 6 ملزمان گرفتار

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رمضان المبارک پر اپنے پیغام میں تمام مسلمانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ رمضان کا مقدس مہینہ ہمیں تقوی، صبر اور برداشت سکھاتا ہے، آئیں، رمضان میں صبر، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیں، غریبوں اور مستحقین کی مدد کریں اور عبادات کے ساتھ قومی یکجہتی۔ اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیں، رمضان میں غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا ایک بہت بڑی عبادت ہے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کریں تاکہ رمضان کی برکتیں سمیٹی جا سکیں، روزہ انسانیت کی خدمت اور اللہ تعالٰی کی قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، دکھی انسانیت کی خدمت کرکے ہی اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    رمضان کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا

  • ایک سال میں دو بار رمضان المبارک کے استقبال کیلئے تیار ہو جائیں

    ایک سال میں دو بار رمضان المبارک کے استقبال کیلئے تیار ہو جائیں

    سال 2030 میں مسلمان دو مرتبہ رمضان کا استقبال کریں گے، جو ایک نادر اور مبارک موقع ہوگا۔

    باغی ٹی وی :اسلامی ہجری کیلنڈر چاند کے مطابق جبکہ گریگورین کیلنڈر سورج کے گرد زمین کے چکر پر مبنی ہے، اسی فرق کی وجہ سے رمضان المبارک تقریباً ہر 30 سے 33 سال بعد ایک ہی عیسوی سال میں دو بار آتا ہےہجری سال 1451 میں رمضان 5 جنوری 2030ء کے آس پاس شروع ہوگا،ہجری سال 1452 میں رمضان 26 دسمبر 2030ء کو دوبارہ آئے گا،لہٰذا مسلمان 2030ء میں مجموعی طور پر 36 روزے رکھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ آخری بار ایسا موقع 1997ء میں آیا تھا، جبکہ اگلی بار یہ عظیم موقع 2063ء میں میسر ہوگا۔

    دوسری جانب سال 2025 سرمضان المبارک میں ایک حیرت انگیز فلکیاتی مظہر رونما ہونے جا رہا ہے، جو ہر 33 سال میں ایک بار دیکھنے کو ملتا ہے۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق، اس سال ہجری اور شمسی کیلنڈر میں ایک نادر اتفاق ہونے والا ہے،2025 میں رمضان المبارک کا آغاز یکم مارچ سے ہونے کا قوی امکان ہے، یعنی اسلامی مہینہ رمضان اور شمسی مہینہ مارچ ایک ہی دن سے شروع ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نایاب فلکیاتی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے، جو چاند اور سورج کے مداروں میں غیر معمولی توازن کو ظاہر کرتا ہے۔

    سعودی عرب کی جانب سے غزہ کے لیے مزید 34 طبی امدادی قافلے روانہ

    دنیا میں تاریخ اور دنوں کا حساب رکھنے کے لیے دو بڑے کیلنڈرز استعمال ہوتے ہیں؛ ایک شمسی کیلنڈر، جسے عیسوی کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے، اور دوسرا قمری کیلنڈر، یعنی ہجری کیلنڈر، جو چاند کے حساب سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ان دونوں میں فرق پایا جاتا ہے، لیکن 33 سال میں ایک بار ایسا نایاب موقع آتا ہے جب قمری اور شمسی مہینہ ایک ساتھ شروع ہوتے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ اتفاق زمین اور چاند کی حرکات میں غیر معمولی ریاضیاتی توازن کی علامت ہے، جو ایک خاص نظام کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے،یہ ایک نہایت دلچسپ اور منفرد فلکیاتی لمحہ ہوگا، جو اس سال کے رمضان المبارک کو اور بھی خاص بنا دے گا۔ کیا واقعی 2025 میں رمضان یکم مارچ سے شروع ہوگا یہ تو چاند پر ہی منحصر ہوگا۔

    اسٹیڈیم کا نام قومی مجرم کے نام پر رکھنا کسی صورت درست اقدام نہیں،امیر مقام

    ہجری کیلنڈر 354 یا 355 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ گریگورین کیلنڈر میں 365 دن ہوتے ہیں، اسی وجہ سے ہر سال رمضان المبارک تقریباً 10 دن پہلے آتا ہے۔ اس فرق کی بنا پر ہر 32 سے 33 سال بعد رمضان مختلف موسموں میں گردش کرتا ہے2007 سے رمضان گرمیوں میں آ رہا ہے، لیکن اب تقریباً 17 سال بعد یہ موسمِ سرما میں داخل ہو رہا ہے2028 (1449 ہجری) میں رمضان سردیوں کے عروج پر ہوگا،2044 (1466 ہجری) میں رمضان گرمیوں کے عروج پر ہوگا،2031 اور 2032 کے رمضان المبارک سال کے سب سے چھوٹے روزے ہوں گے، جن میں سحری سے افطار تک صرف ساڑھے دس گھنٹے کا وقفہ ہوگا۔ اور یہ سردیوں کا سب سے چھوٹا ترین رمضان ہوگا۔

    اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی روکنے پر حماس کا شدید ردعمل