Baaghi TV

Tag: اسلام

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔

  • منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    عائشہ ایک بہت ہی بااخلاق اور بہت سی خصوصیات کی حامل چھوٹی سی بچی تھی۔ ان کا گھرانہ کافی بڑا تھا اور تمام کزنز ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
    گھرانہ تو اسلامی تھا لیکن پردے کی طرف دھیان نہیں تھا پردے کو عام سی چیز سمجھا جاتا اور یہ تصور ذہن میں ڈالا جاتا کہ ان کزنوں سے کیسا پردہ…؟؟؟
    عائشہ بھی انہی سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی ننھی سی عمر میں آسمان کو چھو لینے اور تتلیوں کو پکڑنے کی امنگوں سے اپنے شب و روز گزارتے ہوئے آہستہ آہستہ بچپن کی دہلیز کو پار کر رہی تھی۔
    عائشہ جب کالج جانا شروع ہوئی تب جانے کیوں وہ بے چین رہنے لگی ۔اسے لگتا تھا کچھ کمی سی ہے اس کی زندگی میں ۔
    اسے عجیب سا احساس گھیرے رکھتا تھا جیسے زندگی میں کچھ غلط ہو ۔بہت سے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں آتے رہتے تھے لیکن وہ ان کا جواب نہیں جانتی تھی سو وہ مزید بے چین ہو جاتی ۔
    پھر اس نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے
    اسلامی تعلیمات کی مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا ۔
    وہ جیسے جیسے دین کو پڑھتی چلی گئی جیسے اسے اپنے ہر سوال کا جواب ملتا چلا گیا اس کی بےچینی کی وجہ سمجھ میں آتی چلی گئی وہ اس کمی کو سمجھنے لگی جو اسے مسلسل محسوس ہوتی تھی اور اسے بے چین رکھتی تھی ۔
    دین اسلام تو جیسے ٹھنڈی چھاؤں تھا اس کے احکامات تو جیسے اسی کو اپنی پناہ میں لینا چاہتے تھے ۔
    سو وہ احکامات کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتی۔
    گھریلو ماحول دیکھ کر اسکے جذبات کچھ ماند پڑ نے لگتے لیکن وہ ہر وقت دین کی تعلیمات کی جستجو میں رہتی ۔
    گھر میں سبھی کزنز کا آنا جانا تھا اور کوئی روک ٹوک نہیں تھی اتنی عمر ہو جانے کے باوجود کزنز کے ساتھ ہنسی مزاح اور کھیل کود چلتا رہتا لیکن عائشہ اب ان سب خرافات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے لیکن اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عائشہ کی کالج کی ایک سہیلی نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا۔ عائشہ اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اب وہ بھی پردہ شروع کرے گی۔ جب عائشہ نے پردہ شروع کیا تو الٹا اس کے کردار پر بہت سے سوال اٹھے اور بہت سی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    سبھی کہتے کہ پردہ اپنے انھیں کزنز سے کر رہی ہو جن کے ساتھ کھیل کود کر بڑی ہوئی ہو انہوں نے تو دیکھا ہوا ہے ان سے پردہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا لیکن عائشہ اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے پردے پر ڈٹی رہی اور ہر طرح کی تلخیاں اور نفرتیں برداشت کرتی رہی۔
    شروع شروع میں سب کو لگتا تھا کہ عائشہ نے غلط قدم اٹھایا ہے لیکن جلد ہی عائشہ کی ثابت قدمی اور دلائل نے سب کو احساس دلادیا کہ جس معاشرے میں پردہ نہیں کیا جاتا وہ معاشرہ کیسے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے ایسے گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جن کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔
    عائشہ کو دیکھ کر اور پردے کی رحمتیں دیکھتے ہوۓ عائشہ کی بہنوں اور کزنوں نے بھی پردہ شروع کردیا جو کہ ان کے والدین کی عائشہ کو دیکھ کر خواہش بن چکا تھا کہ ان کی بیٹیاں بھی پردہ کریں۔
    اور آج الحمدللہ عائشہ کو پردہ شروع کیے بہت سے سال گزر چکے ہیں اور پردے کی وجہ سے اس کی زندگی بہت مطمئن اور پر سکون ہے۔ اسے سسرال میں بھی کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا سب لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خواہش مند ہوتے ہیں کہ انکی اولاد بھی عائشہ کی طرح باعمل بن جاۓ۔

    جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

    یہ ایک عائشہ کی آب بیتی ہے اور ایسی بہت سی لڑکیاں معاشرے میں نظر آتی ہیں جو عائشہ جیسا بنتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو اسلامی تعلیمات سے دور رہتی ہیں اور پردے اور گھر کی چار دیواری کو قید خانہ اور داغ سمجھتی ہیں بہت سے مرد ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔
    آج کل ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ کزنز کے ایک دوسرے کے ساتھ غلط اور برے مراسم یہاں تک کہ چچی کی اپنے شوہر کے بھتیجوں کے ساتھ اور ممانی کی بھی اپنے شوہر کے بھانجوں کے ساتھ دوستیاں اور غلط مرسم۔ اور جب یہ معاملات ان کے شوہروں پر عیاں ہوتے ہیں تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے جنم لیتے ہیں خاندان تباہ ہوجاتے ہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم ہوجاتے ہیں اس طرح ایک ہنستے بستے گھرانے میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔

    اسی بے پردگی کی وجہ سے بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بہت سی عورتوں کو طلاق دلوا دی جاتی ہے اور اس کو ذلیل و رسوا کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
    جب عورتیں دین سے دوری اختیار کر کے شیطان کے پسندیدہ راستے پر چلیں گی تو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہی انکا مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی رب کی نافرمان اور خسارہ پانے والوں میں شامل ہوں گی۔
    رب کی تمام تر رحمتوں سے دور ہوجاۓ گی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
    اسلام عورتوں کو شیطان صفت لوگوں سے بچنے کے لئے ہی پردے کا حکم دیتا ہے۔
    آج اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتی ہیں اور پردے کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کی آنے والی نسلیں بھی برائیوں سے بچ جائیں گی اور معاشرہ اسلام اور امن و امان کا گہوارہ بن جاۓ گا۔
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب کو دین کی صحیح معنوں میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔

  • عورت اور اسلامی معاشرہ  ….. محمد عبداللہ

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.

    ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
    عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.

    اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.

    ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

    یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.

    بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.

    یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.

    لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

    Muhammad Abdullah