Baaghi TV

Tag: اسلام

  • معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
    عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
    بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
    عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
    لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
    اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
    عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
    جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
    اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
    اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
    اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔

    کفار مسلط ہم پر ہوۓ
    اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
    اب دین رہا جب ہم میں نہیں
    دنیا میں ہم کمزور ہوۓ

    عورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
    آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
    کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔

    جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔

    اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
    عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔

    آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
    اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
    جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

    آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
    اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔

    ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔

  • فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا

    "اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
    اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
    پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
    پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
    قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
    جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
    لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
    حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
    ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
    لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
    آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
    مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
    اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
    پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
    اشتہار تھا کہ
    شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
    ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
    اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
    اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
    ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
    "چاردیواری میں رہو”
    آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
    جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
    وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
    ترجمہ:
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

    میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
    اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
    ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
    حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
    اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
    مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
    دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
    اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
    مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
    بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
    ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
    میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔

  • عورت اور اسلامی معاشرہ  ….. محمد عبداللہ

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.

    ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
    عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.

    اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.

    ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.

    یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.

    بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.

    یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.

    لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.

    Muhammad Abdullah