Baaghi TV

Tag: اسلام

  • واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا      کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ لےآئیں:وزیراعظم کا  پیغآم

    واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ لےآئیں:وزیراعظم کا پیغآم

    نیویارک:واجب الاحترام والاکرام میری قوم کو مبارک ہو:اسلامو فوبیا کے خلاف آٔپکی دعائیں رنگ لے آئیں:وزیراعظم کا قوم کے نام پیغآم ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور او آئی سی کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلی ہے جس پر وزیراعظم عمران خان نے امت مسلمہ کو مبارکباد دی ہے۔

    عالمی میڈیا اس بات کوبیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہےکہ اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں ، عالمی میڈیا نے وزیراعظم پاکستان کوعالم اسلام کا ایک حقیقی رہنما قراردیا ہے

    تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں آوازاٹھائی، نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھے، مذہبی آزادی ہرشخص کا بنیادی حق ہے۔

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ملکوں میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسلاموفوبیا کوہوا دی جاتی ہے، اسلاموفوبیا کے خلاف آگاہی اور تدارک کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، اس سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اورمنافرت بڑھتی ہے۔

    منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت کوروکنا ہوگا، اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے مذہبی رواداری کا فروغ وقت کا تقاضا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف منظور کردہ قرارداد کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سےخوشی کا اظہار کیا گیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ میں آج امت مسلمہ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئے لہر کے خلاف ہماری آواز سنی گئی ہے، اقوام متحدہ نے او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، قرارداد میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغآم میں‌کہا ہےکہ یہ سب اللہ کی رحمت سے اور میری قوم کی دعاوں سے ممکن ہوا ہے آج اہل پاکستان اپنے رب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے

    وزیراعظم نے مزید لکھا کہ آج اقوام متحدہ نے بالاخر دنیا کو درپیش سنگین چیلنج کو تسلیم کر لیا ہے، اگلا چیلنج اس تاریخی قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

  • مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    یوپی :مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں،اطلاعات کےمطابق اتر پردیش میں الیکشن جیتتے ہی بی جے پی رہنما نند کشور گوجر نے افسران کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان نہیں ہونی چاہیے۔

    اترپردیش کے علاقے غازی آباد لونی سے دوبارہ منتخب ہونے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی نند کشور گوجر نے منتخب ہوتے ہی مسلم کش متعصبانہ حکم دے کر اپنی مسلم دشمنی کا اظہار کردیا ہے۔

    کشور نے لونی کے افسروں کو متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بھی گوشت کی دکان دکھائی نہیں دینی چاہیے، ان کے اس بیان سے وہاں کی اقلیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نند کشور گوجر نے افسران کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لونی کے افسران سمجھ لیں، انیہں ایک بھی گوشت کی دکان علاقے میں دکھائی نہیں دینی چاہیے، لونی میں صرف رام راج چاہیے اس لیے دودھ، گھی کھاؤ اور ونڈ بیٹھک کرو‘‘۔

    نند کشور اس سے قبل بھی اپنے متنازع بیان کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے لونی کے بہیتا حاجی پور گاؤں میں انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ علی کا نام لیتے ہیں انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’’علی کا نام لینے والوں کو لونی چھوڑنا ہوگا، اس انتخاب کے بعد لونی میں مکمل رام راج ہوگا‘‘۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی مسلم دشمنی کا اظہار وقتاْ فوقتاْ ہوتا رہتا ہے کبھی مودی حکومت کے کسی اقدام سے تو کبھی خود مودی یا انکے رہنماؤں کے بیانات سے۔

    بی جے پی حکومت کے اقدامات کیخلاف صرف عام مسلمان نہیں بلکہ خود بھارت میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت کے مسلمانوں پر مظالم کیخلاف معروف شاعر منور رانا نے اترپردیش چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا نے اعلان کیا تھا کہ اگر یوگی ادتیہ اترپردیش کا دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو وہ نقل مکانی کرلیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پرڈھائے جانیوالے مظالم اور انہیں درپیش مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95ہزار981شہریوں کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم681خواتین کو شہید کیا۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بھارت کی جاری ریاستی دہشت گردی کے دووران 22ہزار 943 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11ہزار 250خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبروریزی اور شوپیاں کی سترہ سالہ آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلو فر بھی شامل ہیں جنہیں بے حرمتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔بھارتی پولیس کے اہلکارنے جنوری 2018میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    بھارتی فوجیوں نے 10 فروری2021 کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیو اجس میں ایک بچی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ساتھ اپنے باغ میں کام کررہی تھی ۔ اس کی بہن کی چیخ و پکار پرمقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا ۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تھاتاہم بھارتی فوجیوںنے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوںکو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے ۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ34برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے ۔

    رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان ، سترہ سالہ الفت حمید ، انشا مشتاق،افرہ شکور ، شکیلہ بانو،تمنا،شبروزہ میر،شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی پولیس کے ایک کانسٹیبل اور ایس اپی او نے جموں کے علاقے ڈنسل میں ایک دلت بچی کی اجتماعی آبروریزی کی

    بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی اور ہراسانی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور بربریت سے بیواوں اور آدھ بیواوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بھارتی سفاکوںنے اپنی وحشیانہ کاروائیوں میں معصوم اور بیگناہ کشمیریوں کا خون بیدردی کے ساتھ بہا نے کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتاریوں کے بعد لاپتہ بھی کیا،جس کے باعث جہاں ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں وہیں ہزاروں کی تعداد میںایسی خواتین بھی ہیں جو آدھ بیوہ کہلاتی ہیں، خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کے جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔

    کشمیری خواتین کی مشکلات کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی،جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی آبروریزی اور دیگر جرائم کا تعلق ہے، بھارت خواتین کے حوالے سے دنیا کا ایک بدترین ملک ہے۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کو پورے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بھارت اور پورے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی تشدد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔

    عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کو اس صدمے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بیوائیں اور آدھ بیوائیں بھارتی مظالم اور سفاکیت گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ خواتین کا عالمی دن دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری خواتین کو سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے آگے آئے۔

  • فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

    فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

    دبئی : فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطانق ڈچ فٹ بال لیجنڈ کلیرنس اسیڈورف نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے، یہ بات 45 سالہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ سے جمعہ کو کہی۔

    اسیڈورف نے کہاکہ”میرے ’مسلم خاندان ’میں شامل ہونے کی خوشی میں تمام اچھے پیغامات کا خصوصی شکریہ۔ میں دنیا بھر کے تمام بھائیوں اور بہنوں، خاص طور پر میری پیاری اہلیہ صوفیہ کا ہم مذہب ہونے پر بہت خوش ہوں، جنہوں نے مجھے اسلام کا مفہوم مزید گہرائی سے سکھایا ہے۔ میں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا اور اپنے والدین کے ذریعہ اپنا نام برقرار رکھوں گا، کلیرنس اسیڈورف! میں اپنی ساری محبت دنیا میں ہر کسی کو بھیج رہا ہوں۔

    کلیرنس اسیڈورف نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران ایجیکس، ریئل میڈرڈ، انٹر میلان اور اے سی میلان سمیت کئی بڑے کلبوں کے لیے کھیلا تھا۔

    سابق ڈچ مڈفیلڈر نے چار یو ای ایف اے چیمپئنز لیگ ٹائٹل (1995 میں ایجیکس کے ساتھ، 1998 میں ریئل میڈرڈ کے ساتھ، 2003 اور 2007 میں اے سی میلان کے ساتھ)، 1997 میں ریئل میڈرڈ کے ساتھ ایک لا لیگا ٹائٹل اور 2004 اور 2011میں اے سی میلان کے ساتھ دو سیری اے ٹائٹل جیتے۔

    وہ محنتی اور ورسٹائل مڈفیلڈر تھا جو کم از کم چھ زبانیں بولتا ہے – ڈچ قومی ٹیم میں 87 بار کھیلا اور تین یو ای ایف اے یورپی فٹ بال چیمپئن شپ اور 1998 فیفا ورلڈ کپ میں کھیلا، بعد کے تین ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل تک پہنچے۔

    ریٹائر ہونے کے بعد، وہ اے سی میلان اور کیمرون کی قومی ٹیم سمیت متعدد ٹیموں کے مینیجر بن گئے۔

  • اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا

    نئی دہلی :اسلام میں حجاب مرضی نہیں فرض ہے: سابق بھارتی اداکارہ حق سچ بیان کرکے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کی سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے حال ہی میں بھارت میں ہونے والے حجاب تنازع پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    زائرہ وسیم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تحریری پیغام جاری کیا اور کہا کہ اسلام میں حجاب پہنا یا نہ پہننا اپنے ذاتی انتخاب پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک فرض ہے، جب ایک عورت حجاب کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے احکامات بجا لارہی ہے اور اس نے خود کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔

    سابقہ اداکارہ نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں بحیثیت ایک عورت کے جو شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ حجاب پہنتی ہوں، اس پورے نظام کی مخالفت کرتی ہوں جہاں خواتین کو صرف ایک مذہبی وابستگی کی وجہ سے حجاب کی وجہ سے ہراساں اور اسے پہننے سے روکا جا رہا ہے۔

    زائرہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مسلم خواتین کے خلاف تعصب کو فروغ دینا اور ایسا نظام قائم کرنا جہاں انہیں تعلیم اور حجاب میں سے ایک کو منتخب کرنا اور دوسرے سے دستبردار ہونا ہو، سراسر ناانصافی ہے۔

    انہوں نے ہندو انتہا پسندوں کے لیے کہا کہ آپ مسلم خواتین کو ایک بہت ہی محدود انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ آپ کے ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور جب وہ آپ کے بنائے گئے اصولوں کی پابند ہو جاتی ہیں تو آپ ان ہی پر تنقید کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم نے 2015 میں سپر ہٹ فلم دنگل سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا لیکن بعدازاں انہوں نے 2019 میں مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    مقبوضہ بیت المقدس:صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ،اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ پٹی پر بمباری کی ہے۔اس بمباری پرعالمی برادری خاموش ہے اور اس خاموشی کے عالم میں فلسطینیوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں‌

    المیادین کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقے الغول میں توپوں کے گولے داغے۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے جاری ہیں۔المیادین کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے القادسیہ چھاونی پر 5 مرتبہ بمباری کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس سے قبل غزہ کی پٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بطور مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہونا چائیے جو کوئی بات قرآن و حدیث کے ذریعہ سے مستند طریقہ سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہو کر رہنی ہے ہم اسے قبول کریں یاں نا کریں اللہ تعالی اس بات کو پورا کرکے چھوڑیں گے ان شاءاللہ-

    مگر افسوس کہ آج ہم تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے اللہ رب العزت نے بذریعہ وحی کلام الہی میں ارشاد فرما دیا تھا-

    یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ،اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ سورہ البقرہ

    افسوس مسلمان ہوتے ہوئے آج ہمارا اعتراض ہوتا ہے تو قرآن پر اعتراض ہوتا ہے تو حدیث رسول پر جبکہ ہنود و یہود و دیگر کفار کو نبی ذیشان کی ہر بات سے اتفاق ہے وہ الگ بات ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں یہ بھی میرے رب کی مرضی ہے –

    چودہ سو سال پہلے نبی ذیشان فرما کر گئے تھے کہ غرقد یہودویں کا درخت ہے اور یہودیوں کو قرب قیامت مجاھدین سے بچائے گا-

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کر دو
    سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے-

    مفسرین کے مطابق غرقد دراصل شجر یہود ہے جو گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت کہلاتا ہے یہ خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے جنت البقیع کا اصل نام بھی بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا،( صحیح مسلم)

    یہودیوں کا آج اس حدیث پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے اپنا سرکاری درخت غرقد کو بنا لیا آج ہر یہودی کے گھر،ان کے پارک،ان کی ہر بلڈنگ کے آس پاس غرقد نامی درخت لازمی لگا ہے اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ غرقد کے درخت اسرائیل میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فرمان نبی ذیشان جھوٹا نہیں حالانکہ وہ یہودی ہیں-

    دنیا کی کل آبادی پونے 8 ارب ہے جس میں سے عیسائی 31.5 فیصد مسلمان 23.2 فیصد اور ہندو 15 فیصد ہیں باقی دیگر مذاہب کے لوگ ہیں یعنی کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس کے باوجود آج ہم مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں فلسطین ہو یا افغانستان کشمیر ہو یا عراق ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور خاص کر فلسطین و کشمیر میں ہر ظلم کی حد کراس کی جا چکی ہے-

    کچھ دن قبل ایک ہندو پنڈت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ہندوؤں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کم ازکم 6 بچے ہر ہندو کے ہونے چائیے اور ہر ہندو کے گھر اسلحہ لازمی ہونا چائیے یعنی اس ہندو کو نبی کریم کی اس حدیث پر یقین ہے-

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا- (السنن الکبری۔ نسائی)

    اس حدیث کی رو سے ہندو ڈرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں غزوہ ہند پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے قرب قیامت عیسی علیہ السلام کے آنے تک غزوہ ہند ہونے کی بشارتیں ملتی ہیں مگر میں نے محض اس ایک حدیث کو بیان کیا ہے مگر افسوس کہ اس صیحیح سند کی حدیث سے انکاری ہمارے ہی کچھ بھائی بھی موجود ہیں جوکہ کہتے ہیں کہ غزوہ ہند تو ہو چکا جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی کب ہو چکا تو وہ کہتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے ہند پر یلغار کی تھی مگر اب تو ہند تقسیم ہو کر پاکستان اور کئی علاقوں میں بٹ چکا ہے اس لئے غزوہ ہند کا نام نا لو-

    ایسے دوستوں کے ہاں میری گزارش ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق اور بھی بہت سے روایات موجود ہیں جن پر ضعیف ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے میں ان پر بحث نہیں کرتا مگر ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ ہندوستان مٹ چکا ؟کیا ہند کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار رک گیا ؟کیا ہندو کی بدمعاشیاں ابھی بھی جاری نہیں ہیں؟کیا اللہ کے نبی کا فرمان کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا تم نے پڑھا نہیں؟ کیا کتاب اللہ اور کتب احادیث جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھری ہوئی نہیں ہیں ؟

    کیا ہند میں موجود تیس کروڑ مسلمان امن و سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں اور کیا وہاں ان کو مذہبی آزادی مکمل حاصل ہے ؟ کیا ابھی محض بیس سال قبل ہی انڈین گجرات میں مسلمانوں کو زندہ نہیں جلایا گیا ؟کیا ہند کی مساجد کو گرا کر مندر نہیں بنائے جا رہے ؟ کیا قرآن کی یہ آیت معاذاللہ منسوخ ہو گئی ؟
    آیت یہ ہے باترجمہ

    وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

    اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے-

    کیا آج بھی ہند و کشمیر کی بہن بیٹیاں ہمیں پکارتی نہیں کہ ہماری مدد کرو ؟ بھئی جب یہ ساری نشانیاں بموجب جہاد ابھی باقی ہیں تو پھر غزوہ ہند کیسے ہو چکا ؟

    وہ تو محمد بن قاسم نے ابتداء کی تھی ہند پر یلغار کی اس سے آگے محمود غزنوی و دیگر اس غزوہ ہند کو نے آگے بڑھایا مجاھدین کشمیر و پاک فوج اس وقت غزوہ ہند کا دستہ ہے جبکہ ہندوستان کی مکمل بربادی اور قرب قیامت تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہنا ہے

    ہاں وہ الگ بات ہے کہ کل کو ماضی میں آج کے کچھ آزاد ممالک بھی ہند کا حصہ تھے مگر ہند کا لفظ ابھی باقی ہے اور بہت سارا علاقہ ابھی باقی ہے اور کچھ بعید نہیں قرب قیامت یہ ہند بلکل چھوٹا سا زمین کا ٹکرا رہ جائے یا ہو سکتا ہے ہندو نجس پلید اپنے آگے والے چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضہ کرکے اس ہند کا حصہ بناتا رہے یہ سب آنے والے وقت کی باتیں ہیں مگر خدارا ہوش کیجئے احادیث نبویہ و فرمان الہٰی پر عمل کیجئے اور اپنے کشمیری و ہندوستانی بھائیوں کی مدد کیجئے جو کہ قرآن و حدیث سے تین صورتوں میں ثابت ہے –

    جہاد بالنفس، جہاد مال یعنی اپنے مال سے جہاد ،جہاد پر ابھارنا یعنی جہاد کیلئے ترغیب دینا چاہے و زبان سے دی جائے یا قلم سے یا کسی اور طریقے سے یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا جہاد کر سکتے ہیں لازم نہیں کہ آپ ہتھیار پکڑ کر ٹکرا جائیں کیونکہ جہاد بھی بغیر جماعت کے ہوتا نہیں-

  • قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں

    قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں

    سیول: قرآن مجید کا کورین زبان میں بھی ترجمہ مکمل:اسلام کی روشنی کی کرنیں مزید پھلینے لگیں ،اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر حامد یونگ نے قرآن مجید کا کوریائی زبان میں ترجمہ کرکے تاریخ رقم کردی، وہ دنیا کے پہلے کورین مسلمان ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

    اس ترجمے میں انہیں 7 برس لگے اور اب بالآخر کوریائی مسلمان اپنی زبان میں قرآن پاک پڑھ سکیں گے۔یہ بہت ضروری کام تھا تاکہ کوریا میں رہنے والے غیرمسلم افراد اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سیکھنے میں آسانی ہو۔

     

     

    ڈاکٹر چوئی نے مدینہ کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جنوبی کوریا کی ایک یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز اور عربی کے لیکچرار ہیں۔

    یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب جنوبی کوریا میں مسلمانوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، گو کہ مسلمان اقلیت میں ہیں لیکن پچھلی ایک دہائی میں ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

    کورین مسلم فیڈریشن کے اندازے کے مطابق اس وقت جنوبی کوریا میں 2 لاکھ مسلمان ہیں جو کہ کُل آبادی کا صرف 0.38 فیصد ہیں۔ان میں زیادہ تر مسلمان وہ طالبعلم اور ملازمین ہیں جو کہ ترکی، پاکستان اور ازبکستان سے آئے اور اب جنوبی کوریا کی شہریت اختیار کرلی۔