Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں اضافہ

    زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں اضافہ

    کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہو گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 19 ارب 61 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے5 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 14 ارب 58 کروڑ 65 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی اور کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 2 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف سے موصول ہونے والی 1.2 ارب ڈالر کی قسط آئندہ ہفتے سرکاری ذخائر میں ظاہر ہوگی۔

    سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت کا سخت کارروائی کا عندیہ

    بنگلادیش میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

  • پریزم پلس ادائیگی اور تصفیے کا نیا نظام متعارف

    پریزم پلس ادائیگی اور تصفیے کا نیا نظام متعارف

    اسٹیٹ بینک نے پریزم پلس ادائیگی اور تصفیے کا نیا نظام متعارف کرا دیا۔

    گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریزم پلس ادائیگی کے نظام کا اجرا کردیا ہے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پریزم پلس نظام مالیاتی نظام تیز،محفوظ اور مؤثر ادائیگی کو یقینی بنائے گا، اسٹیٹ بینک کا پر یزم پلس نظام بینکنگ شعبے میں اہم پیشرفت ہے،ادائیگی کے جدید نظام سے شفافیت آئے گی، معیشت میں بینکنگ شعبے کا اہم کردار ہے،بینکنگ کے شعبے میں بنیادی اصلاحات لائی جارہی ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق پریزم پلس پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا، خاص طور پر گورنمنٹ سیکیورٹیز کے لین دین کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب بڑا قدم ہے،اس نظام کو بین الاقوامی آئی ایس او 20022 میسجنگ اسٹینڈرڈ کے مطابق تیار کیا گیا ہے جو کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ مالیاتی نظاموں میں رائج ہے، یہ پیشرفت اسٹیٹ بینک کو جلد ترقی یافتہ ممالک کے مرکزی بینکوں کی صف میں لاکھڑا کرے گی۔

    چینی وزیر خارجہ 21 اگست کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    آئی ایم ایف کے پاکستان سے مزید مطالبات

    26 نومبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مزید 4 کارکنوں کو سزائیں

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران بڑا اضافہ ہو گیا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہو گیا،اس اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب 24 کروڑ 32 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں،کمرشل بینکوں کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 5 ارب 25 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ہیں، 8 اگست کو ملک کے مجموعی زر مبادلہ کے ذخائر 19 ارب 49 کروڑ 67 لاکھ ڈالر تھے۔

    ادھرکریڈٹ ریٹنگ کی عالمی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مزید بہتر کردی ہےموڈیز نے پاکستان کے کریڈٹ آؤٹ لک کو مثبت سے مستحکم کردیا، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر کے سی ڈبل اے ون کردی ہےپاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کریڈٹ ریٹنگ اس سے پہلے سی ڈبل اے ٹو تھی۔

    موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کرنے کی وجہ پاکستان کی بہتر بیرونی پوزیشن ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں جاری ریفارمز بھی اپ گریڈ کا سبب ہیں،توقعات ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھتے رہیں گے، پاکستان کو آفیشلز پارٹنرز کی ضرورت رہے گی۔

  • شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    کراچی:اسٹیٹ بینک نے نئی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ تمام معاشی اعشاریے دیکھ کر شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا،مئی اور جون میں مہنگائی کی شرح میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 7 اعشاریہ 2 فیصد ہے،ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے، ترسیلات زر 38 ارب ڈالرز سے زائد رہیں، گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر تقریباً 30 ارب ڈالرز تھیں۔

    فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، چین

    جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں تمام ادائیگیاں وقت پر کی گئیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 5 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال میں گروتھ ریٹ 2.7 فیصد رہا، رواں مالی سال میں زرعی شعبہ بہتر ہونے سے نمو بڑھے گی، موجود مالی سال میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔2022میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال انتہائی خراب تھی ،کرنٹ اکاؤنٹ 14سال بعدسرپلس کی بلند سطح پر پہنچا،زرمبادلہ ذخائر بہتر ہو کر 14ارب ڈالر سےتجاوز کرگئے،گزشتہ سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 2.7فیصد تھا،زرعی شعبے کی ترقی گزشتہ سال صرف اعشاریہ 6فیصد تھی-

    انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں آئندہ بھی اضافے کا امکان ہے، معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، ایکسپورٹس 4 فیصد بڑھی ہیں، موجود مالی سال میں ترسیلات زر 40 ارب ڈالرز سے زائد رہنے کا امکان ہے جبکہ جی ڈی پی گروتھ سوا تین سے سوا چار فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    سندھ:مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

  • اوورسیز پاکستانیوں نےترسیلات زر وطن بھیجنےکا نیاریکارڈ قائم کر دیا

    اوورسیز پاکستانیوں نےترسیلات زر وطن بھیجنےکا نیاریکارڈ قائم کر دیا

    اسٹیٹ بینک نےمالی سال 2025 کےاختتام پر ترسیلا ت زر کی تفصیلات جاری کر دی ہیں،اوورسیز پاکستانیوں نےڈالرز وطن بھیجنےکا نیاریکارڈ قائم کر دیاہے- ۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 25-2024 میں 38 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ترسیلا ت زر موصول ہوئیں،جون 2025 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیو ں نے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر وطن بھیجے،گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تر سیلا ت زر میں 26.6 فیصد اضافہ ہوا۔

    ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال 2024 کے 30 ارب 30 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 8 ارب ڈالر سے زائد کا نمایاں اضافہ ہے، سعودی عرب 82 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا،متحدہ عرب امارات، برطانیہ اورامریکہ سے بھی تر سیلا ت زر موصول ہوئیں۔

  • وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 76 ہزار 45 ارب کی سطح پر پہنچ گئے۔

    اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں جس کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 53 ہزار 460 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضہ 22 ہزار 585 ارب روپے ہو گیا۔

    دستاویز کے مطابق ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 8 ہزار 312 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے پہلے 11 ماہ میں حکومت کا قرضہ 7 ہزار 131 ارب روپے بڑھا، مئی میں قرضے میں 1109 ارب روپے کا اضافہ ہوا،اپریل 2025 تک حکومتی قرضے 74 ہزار 936 ارب روپے جبکہ مئی 2024 تک حکومتی قرضے 67 ہزار 733 ارب روپے تھے۔

    ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    بااثر خاتون کا کلاتھنگ اسٹور کے ملازم پر تشدد ، ویڈیو وائرل

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

  • چین کا پاکستان پر ایک اور اعتماد، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور

    چین کا پاکستان پر ایک اور اعتماد، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور

    چین نے پاکستان کو دیے گئے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرضے کو رول اوور کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس گزشتہ تین سال سے موجود 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرض ایک بار پھر رول اوور کیا گیا ہے، جب کہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے دیگر کمرشل قرضے بھی مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر دو ماہ قبل پاکستان کی جانب سے واپس کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے بھی ایک ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

    ملک نے 50 کروڑ ڈالر کی ملٹی لیٹرل فنانسنگ بھی حاصل کی ہے، جو آئی ایم ایف سے طے شدہ معاہدوں کے تحت 30 جون تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچانے کی شرط پوری کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

    افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

  • گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں بڑا اضافہ

    گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں بڑا اضافہ

    کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں بڑا اضافہ ہوا ہے-

    اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 9 مئی کو 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 10 ارب 40 کروڑ 31 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی ہے 9 مئی کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 15 ارب 61 کروڑ 31 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 21 کروڑ 7 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والی قرض کی دوسری قسط ایک ارب 2 کروڑ30 لاکھ ڈالر 16 مئی کو جاری ہونے والے اعداد وشمار میں شامل ہوں گے۔

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    کراچی:اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں مجموعی طور پر 23 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا اور زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 10 ارب 33 کروڑ 25 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں 2 مئی کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کا حجم 15 ارب 48 کروڑ 26 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

    اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کے پاس اس وقت 5 ارب 15 کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 23 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا اور کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے،انور مقصود

    اگر امن کی ہماری خواہش کو کمزوری سمجھا گیا، تو ہم ہر سطح پر جواب دیں گے،شازیہ مری

    امریکی وزیرخارجہ کا پاک بھارت کشیدگی پر وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

    کراچی: اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے شرح سود 12 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کردی گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں کمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہےکہ بجلی کی سرکاری قیمتوں میں کمی اور غذائی گرانی نے مہنگائی کی شرح تیزی سے کم کی ہے۔ مہنگائی کا منظر نامہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں مزید بہتر ہوا ہے ہیڈلائن مہنگائی اپریل میں اعشاریہ تین فیصد رہی اور قوزی مہنگائی بھی نو فیصد سے کم ہوکر آٹھ فیصد ہوئی ہے کرنٹ اکاونٹ سرپلس ہے جبکہ معاشی نمو رواں مالی سال ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد کے درمیان رہنےکی توقعات ہیں۔

    کمیٹی کے مطابق مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر ہوجائیں گے تجارتی ٹیرف سے پیدا ہوئی بے یقینی کیفیت اور بین الاقوامی سیاسی حالات معیشت کے لیے چیلنجز بن سکتے ہیں،اسٹیٹ بینک کی کوشش ہے کہ مہنگائی قابو میں رہے اور معاشی نمو پائیدار رہے، اس منظر میں ایم پی سی نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کرکے محتاط زری پالیسی مؤقف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔