Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں

    اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں

    اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں-

    اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت نے اسکیم کے لیے رواں بجٹ میں 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ جون 2027 تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فائنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس اسکیم سے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ اور پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے افراد مستفید ہو سکیں گے،اس کے تحت تیار شدہ گھر، فلیٹ، پلاٹ کی خریداری یا پلاٹ پر گھر کی تعمیر کے لیے قرض حاصل کیا جا سکے گا۔

    اعلامیے کے مطابق اسکیم کے تحت 250 گز تک کا گھر اور 1,500 مربع فٹ تک کا فلیٹ خریدا جا سکے گا، جبکہ گھر، فلیٹ، پلاٹ یا تعمیراتی مقاصد کے لیے بینک ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کریں گے قرض کی مدت 20 سال ہوگی اور ابتدائی 10 سال کے لیے 5 فیصد کا فکسڈ مارک اپ لاگو ہوگا، قر ض کےحصول کے لیے آن لائن پورٹل بھی قائم کر دیا گیا ہےجبکہ بینک درخواست گزاروں سے کسی قسم کے پروسیسنگ چارجز وصول نہیں کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق تنخواہ دار افراد صرف سیلری سلپ کی بنیاد پر قرض کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ دکانوں یا غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد بجلی کے بل یا موبائل ٹاپ اپ کے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی درخواست جمع کرا سکیں گے بینک درخواست موصول ہونے کے بعد 15 روز کے اندر درخواست گزار کو فیصلہ دینے کے پابند ہوں گے اسکیم کے تحت قرض لینے والوں کو بغیر کسی جرمانے کے قرض کی قبل از وقت یکمشت ادائیگی کی سہو لت بھی حاصل ہوگی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، جو ہر سال تقریباً ساڑھے 3 لاکھ گھروں کے اضافے سے بڑھ رہی ہے جون 2026 تک بینکوں نے مجموعی طور پر 293 ارب روپے کے ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے ہیں، جبکہ ہاؤسنگ فائنانس سے مستفید صارفین کی تعداد 65 ہزار 414 ہے۔

  • ترسیلات زر میں اضافےپروزیراعظم کا  سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکر

    ترسیلات زر میں اضافےپروزیراعظم کا سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکر

    جون 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب امریکی ڈالرز پاکستان آئے،ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 18.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025کےدوران 41.6 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں،ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا،جون 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 3.475 ارب ڈالر رہیں، جو مئی کے مقابلے میں 18 فیصد کم تاہم جون 2025 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہیں ترسیلاتِ زر کا بیشتر حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے موصول ہوا،برطانیہ اور امریکا بھی پاکستان کو زیادہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ممالک میں شامل ہیں ۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باوجود جاری کھاتے کو سرپلس رکھنے میں مدد دی اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جون 2026 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں سے 83 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 79 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 51 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

    اسٹیٹ بینک نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے، تاہم ماہرین نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ترسیلاتِ زر سے متعلق بعض مراعاتی اسکیموں کے خاتمے کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے ترسیلات زر میں اضافےپر سمندرپارمقیم پاکستانیوں سےاظہارتشکرکیا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ترسیلا ت زر میں 8.6 فیصد اضافہ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،سمندرپارمقیم پاکستانی ہماراقیمتی سرمایہ ہیں، پوری قوم کوان پرفخرہے،سمندرپارمقیم پاکستانیو ں کی بہبود کیلئے اقدامات اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

  • ریاستی  بینک کا عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کیلئےاہم فیصلہ

    ریاستی بینک کا عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کیلئےاہم فیصلہ

    عدالت کے حکم پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عام شہریوں کے پیسوں اور بینک اکاؤنٹ کی حفاظت کے لئےاہم فیصلہ کیا ہے۔

    عدالت کے حکم پر کارروائی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے بینکوں کو سختی سے پابند کیا ہے کہ وہ کسی بھی گاہک کا اکاؤنٹ بغیر کسی ٹھوس قانونی وجہ، بڑی اتھارٹی کی منظوری اور پوری تصدیق کے بغیر بلاک یا بند نہیں کر سکتے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر کسی قانونی اختیار کے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے پر روک لگا رکھی تھی اسی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے معزز جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسٹیٹ بینک کو خصوصی ہدایت دی تھی کہ وہ بینکوں کے لیے ایک ایسا پکا اندرونی نظام اور طریقہ کار طے کرے جس سے عام شہریوں کو تنگ نہ کیا جائے عدالت کے اسی حکم پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب اپنی ایک تفصیلی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس کی کاپی بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو نیا ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے صاف کہا ہے کہ کسی بھی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے پر پابندی لگانا، اسے منجمد کرنا یا اس کے چلنے پر کسی بھی قسم کی روک ٹوک لگانا صرف اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جائے گا۔

    اسٹیٹ بینک کے حکام نے اپنے نئے ہدایت نامے میں بینکوں کو آرڈر دیتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر بینک احتیاط کے نام پر یا غیر ارادی طور پر گاہکوں کے اکاؤنٹس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں، لیکن اب ایسی کسی بھی احتیاطی پابندی سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کوئی غیر ضروری نقصان یا تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے کسی بھی گاہک کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے مکمل قانونی اختیار کا ہونا اور اچھے طریقے سے چھان بین اور تصدیق کرنا لازمی ہوگا۔

    اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ ان نئی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنے کے لیے اپنے بینک کے اندر ایک اچھا اور مضبوط نظام بنائیں تاکہ کسی بھی عام آدمی کا اکاؤنٹ غلطی سے بھی بند نہ ہو اور لوگوں کا بینکوں پر اعتماد بحال رہے۔

  • ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    اسلام آباد: حالیہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں قومی خزانے پر قرضوں کا دباؤ نسبتاً کم ہوا ہے، مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا مرکزی حکومتی قرض 81.9 کھرب روپے ہے، جبکہ 97 سے 100 کھرب روپے کے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں نجی شعبے کے واجبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

    مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے معاشی اعشاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کی تصدیق کی ہے کہا کہ پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی تناسب جو پہلے 76 فیصد تھا، اب نمایاں طور پر کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے سال 2023 میں حکومتی قرض بڑھنے کی رفتار 23 فیصد کی تشویشناک سطح پر تھی، جو موجودہ معاشی اقدامات کی بدولت اب محض 5 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 15 سالوں میں سب سے کم رفتار ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مقامی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھا کر 3.8 سال کر دی گئی ہے، جس سے قرضوں کی فوری واپسی کا خطرہ اور دباؤ کم ہوا ہے،اس کے علاوہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار 4.7 کھرب روپے کے قرضے قبل از وقت ختم یا واپس کر دیے گئے ہیں انہی اقدامات کی بدولت مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 6.94 کھرب روپے رہ گئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 2 کھرب روپے کی خطیر بچت ہوئی ہے۔

    مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں وفاقی آمدن کا 64 فیصد حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث درآمدی بل کی ادائیگی کی گنجائش 2 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 3 ماہ تک پہنچ گئی ہے ، قرضوں کی واپسی میں مثبت پیش رفت اور ذخائر میں اضافہ دیرپا حکومتی پالیسیوں اور مؤثر معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے،زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور ملکی معیشت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے 15 جون 2026 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کمیٹی نے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا، اس سے قبل اپریل 2026 کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کیا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں اور جیو پولیٹیکل حالات کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے اجلاس میں ایران امریکا معاہدے ، تیل کی گرتی قیمت اور بجٹ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، بیان کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمت کے دباؤ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری اور بجٹ کے فوری بعد آنے والی یہ مانیٹری پالیسی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد ہے جبکہ اس سے قبل مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

    مالیاتی ماہرین اور بروکریج ہاؤسز کی آراء شرحِ سود میں اضافے اور اسے برقرار رکھنے (Status Quo) پر برابر منقسم تھیں، تاہم کمیٹی نے محتاط معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔

  • شرح سود کا تعین، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

    شرح سود کا تعین، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

    آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا،جبکہ آج ہونے والا مانیٹری پالیسی جائزہ مالی سال 2025-26 کا آخری جائزہ ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر افراط زر پر موجود دباؤ اور اس سے متعلق عوامل کو بھی زیر غور لایا جائےگا مانیٹری پالیسی کمیٹی اپنےجائزے کے دوران مہنگائی کی صورتحال کا تجزیہ کرے گی،مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث افراط زر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی اہمیت دی جائے گی، کیونکہ گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزے میں انہی خدشات کی بنیاد پر شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 27 اپریل کو ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد مقرر کی گئی تھی اس فیصلے کی وجہ مہنگائی کے ممکنہ دباؤ اور بیرونی عوامل کو قرار دیا گیا تھا۔

  • ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں  3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی حجم 22.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.48 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 17.21 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 1.09 کروڑ ڈالر بڑھ کر 5.45 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا ریسرچ ایجنڈا 2026-29 بھی جاری کر دیا ہے، جس میں ادارے کی آئندہ تحقیقی ترجیحات کو 3 بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے،ریسرچ ایجنڈے کے مطابق توجہ جن اہم شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں افراطِ زر کی حرکیات اور مالیاتی پالیسی، مالیاتی شعبے کی بہتری اور استحکام، اور ساختی معاشی تبدیلی و ترقی شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ اور ریسرچ ایجنڈے کا اجرا معاشی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول

    اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحت توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر وصول کر لیے ہیں-

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس میں ای ایف ایف کے تحت پاکستان کے لیے تیسرے جائزے کی منظوری دی اور 760 ملین امریکی ڈالر کی قسط جاری کرنے کی اجازت دی اسی طرح بورڈ نے آر ایس ایف کے تحت دوسری قسط کی مد میں 154 ملین ایس ڈی آر کی ادائیگی کی بھی منظوری دی۔

    اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مجموعی طور پر 914 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جو تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہیں یہ رقم 12 مئی 2026 کو اسٹیٹ بینک کو منتقل کی گئی، یہ رقوم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کی جائیں گی، جس سے ملک کے مجموعی ذخائر میں بہتری متوقع ہے۔

  • پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کی تصدیق کردی ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو 23 اپریل کو یو اے ای کو مزید ڈیڑھ ڈالر ادا کرنے ہیں، یو اے ای کو مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا، بیرونی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ رول اوور کردیے جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی میں باقاعدہ معاہدہ طے پاگیا اور دستخط بھی ہوگئے ۔

    واشنگٹن میں منعقد تقریب کے دوران سعودی فنڈ کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے،وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے-

    یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی،جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان طے پایا جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کے روز اہم پالیسی شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر ہی برقرار رکھا جائے بینک کے مطابق اس فیصلے کی تفصیلی وضاحت پر مبنی بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 2024 کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے 2023 میں شرح سود ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی تاہم مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد اسے بتدریج کم کیا گیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان

    دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جو عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے پاکستان اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ملک میں مہنگائی پر پڑتا ہے۔

    پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں کمی