Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

    کراچی: زرمبادلہ کے ذخائر میں جاری مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 2.381 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اختتام پر زر مبادلہ کے ملکی ذخائر کا حجم 13997 ارب ڈالر تھا، اس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم 9.390 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 4.607 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
    تاز
    3 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا حجم 16.378 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، اس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم 11.695 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ ذخائر کا حجم 4.683 ارب ڈالر ہے۔

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جاری مالی سال کے آغاز سے لے کر اب تک اسٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر میں 2.305 ارب ڈالر اور بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر میں 73 ملین ڈالر کااضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی کی شادی پر لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

  • سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ

    سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ

    کراچی: مجموعی طور پر سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ ہوا-

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 278 روپے 48 پیسے پر بند ہوا تھامجموعی طور پر سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ ہوا انٹربینک میں سال 2024 میں ڈالر مجموعی طور پر 3 روپے 31 پیسے سستا ہوا سال 2023 کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 281 روپے 86 پیسے تھی۔

    سال 2024 میں انٹربینک میں ڈالر کی بلند ترین سطح 281 روپے 89 پیسے جبکہ ڈالر کی کم ترین سطح 277 روپے 51 پیسے تھی، سال 2024 میں انٹربینک میں ڈالر 4 روپے 37 پیسے کے بینڈ میں رہا۔

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی

    مریم نواز کی کاوشیں، پنجاب بدلنے لگا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سال 2025 کا نیوزی لینڈ سے آغاز، شاندار آتش بازی

  • ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    اسٹیٹ بینک نے تمام ایکسچینج کمپنیز کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کااعلان کردیا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنیز کا پیڈ اپ کیپٹل بڑھا کر ایک ارب روپے کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی منظوری کے 3ماہ کے اندر ایکسچینج کمپنیز کو کاروبار کا آغاز کرنا ہوگا۔ ایکسچینج کمپنیاں لائسنس یا آٹ لیٹس اب کسی اور ادارے کو منتقل نہیں کرسکیں گی۔ایکسچینج کمپنی کی معطلی یا منسوخی کے بعد 60 روز میں فارن کرنسی اسٹیٹ بینک میں جمع ہوگی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنی کو لازمی نقد کی صورت میں پیڈ اپ کیپٹل رکھنا ہوگا۔ پیڈ اپ کیپٹل قوانین پر مکمل عملدرآمد 2027 تک کرنا ہوگا۔ ملک بھر کی تمام ایکسچینج کمپنیز کا پیڈ اپ کیپٹل مرحلہ وار بڑھے گا۔ ایکسچینج کمپنیز کو دسمبر 2025 تک 60کروڑ اور دسمبر2026 تک 80 کروڑ روپے پیڈ اپ کیپٹل برقرار رکھنا ہوگا۔

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

  • اسٹیٹ بینک کا  انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان

    اسٹیٹ بینک کا انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قومی انعامی بانڈز کی واپسی کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا ہے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ 40 ہزار، 25 ہزار، 15 ہزار اور 75 سو روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈز کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ساڑھے7 ہزار، 15 ہزار، 25 ہزار اور 40 ہزار مالیت کے انعامی بانڈز واپس کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2024 ہے انعامی بانڈز اسٹیٹ بینک، بینکنگ سروسزکارپوریشن اور کمرشل بینکوں سے واپس یا تبدیل کرائے جاسکتے ہیں-

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    اسٹیٹ بینک نے بانڈر خریداروں کو خبردار کیا ہے کہ آخری تاریخ کے بعد کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی،اس لیے ان بانڈز کو واپس کرنے کی آخری تاریخ سے پہلے ضروری اقدامات کرلیں۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

  • سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    سال 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد اضافہ

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سال 2024 کے دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں 11.58 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2024 تک بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.05 ارب ڈالر رہا، جو کہ سال 2023 کے ابتدائی 11 مہینوں میں 1.84 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح، 2024 کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں تقریباً 21.34 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری میں 23 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 2.25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس میں سب سے زیادہ اضافہ نجی شعبے میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی صورت میں ہوا ہے، جو 31 فیصد بڑھ کر 3.41 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اس کے علاوہ، نجی شعبے سے براہ راست سرمایہ کاری کے اخراج میں بھی 93.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 1.04 ارب ڈالر بیرون ملک منتقل ہوئے۔

    اسٹاک مارکیٹ اور حکومتی شعبے میں سرمایہ کاری کا تجزیہ
    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سال 2024 کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ سے 10.77 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔ اوسطاً، اس دوران ہر ماہ 98 لاکھ ڈالر کی رقم نکالی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی شعبے میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ سرکاری شعبے سے 19.86 کروڑ ڈالر نکالے گئے، جبکہ سرکاری شعبے سے ماہانہ اوسط اخراج 1.8 کروڑ ڈالر رہا۔

    اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، خصوصاً نجی شعبے میں براہ راست سرمایہ کاری کی شکل میں۔ تاہم، حکومتی اور اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ کاری کا اخراج تشویش کا باعث بنا ہے، جو ملک کی اقتصادی صورتحال اور بیرونی سرمایہ کاروں کی مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور نجی شعبے کو بیرونی سرمایہ کاری کے اخراج کی وجوہات کا جائزہ لے کر اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

    بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے روایتی اور اسلامی بینکوں کو مارکیٹ آپریشن کے لیے فراہم کی گئی فنڈنگ کی رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی کے مطاقب اسٹیٹ بینک کی جانب سے روایتی اور اسلامی بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے 7 اور 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں فراہم کیے گئے ہیں۔روایتی بینکوں کو 7 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 2956 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں،یہ فنڈنگ 13.05 فیصد سالانہ شرحِ سود پر کی گئی ہے۔روایتی بینکوں کو 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 7707 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، انہیں یہ فنڈنگ 13.04 فیصد سالانہ شرحِ سود پر کی گئی ہے۔اسلامی بینکوں کو 7 دن کے لیے 410 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، انہیں یہ فنڈنگ 13.09 فیصد سالانہ شرحِ منافع پر کی گئی ہے۔اسلامی بینکوں کو 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 106 ارب روپے کی فنڈنگ 13.09 فیصد سالانہ شرح سود پر کی گئی ہے۔

    سونے کی قیمتوں میں آج بھی بڑی کمی

    اسلام آباد،بلوچستان کے اسکول اور کالجز میں تعطیلات کا اعلان

    کراچی :جماعت اسلامی کا پانی کے بحران پر احتجاج کااعلان

  • اسٹیٹ بینک ذخائر میں کروڑوں ڈالرز کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک ذخائر میں کروڑوں ڈالرز کا اضافہ

    ایک ہفتےمیں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اسٹیٹ بینک زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد12ارب8کروڑ ڈالرسے تجاوزکرگئے ہیں۔کمرشل بینکوں کے ذخائر 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 4 ارب 55 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک اورکمرشل بینکوں کےذخائر 16 ارب 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر16ارب 63 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں۔دوسری جانب زیرگردش کرنسی کے حجم میں ہفتہ واربنیادوں پر2.9فیصدکااضافہ جبکہ زروسیع(ایم ٹو) میں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 6 دسمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں زیرگردش کرنسی کاحجم 9293ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 2.9فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ ہفتے میں زیرگردش کرنسی کاحجم 9035ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا،جاری مالی سال کے آغازسے لیکراب تک زیرگردش کرنسی کے حجم میں مجموعی طورپر1.5فیصدکی نموہوئی ہے۔ 6 دسمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں زروسیع(ایم ٹو) کاحجم 35128ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 3.3فیصدکم ہے، پیوستہ ہفتہ کے اختتام پرزروسیع کاحجم 36337ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔جاری مالی سال کے آغازسے لیکراب تک زروسیع میں مجموعی طورپر3.9فیصدکی کمی ہوئی۔ اعدادوشمارکے مطابق چھ دسمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں بینکوں کے پاس موجودڈیپازٹس کاحجم 25789ارب روپے ریکارڈ کیا گیا .

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

  • پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر  میں  72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر میں 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال کے 5 مہینوں میں 94 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق نومبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، نومبر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس فروری 2015 کے بعد بلند ترین ہے، نومبر 2024 میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 2.35 ارب ڈالر رہا۔

    اسٹیٹ بینک کیمطابق مالی سال کے 5 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 94 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس رہا جولائی سے نومبر تک تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 14.55 ارب ڈالر رہا، جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 کروڑ ڈالر رہا پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں، مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 ارب ڈالر رہا، پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق خسارے کی ادائیگی کے لیے رواں سال 33 فیصد اضافی رقوم رہیں پانچ مہینوں میں ورکرز ترسیلات 14.76 ارب ڈالر موصول ہوئیں، پانچ مہینوں کی بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے بعد 94 کروڑ ڈالر اضافی رہے، نومبر میں آئی ٹی برآمدات 32.4 کروڑ ڈالر رہیں، اکتوبر کے مقابلے میں نومبر کی آئی ٹی برآمدات 2 فیصد کم رہیں۔

  • اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کردی، جس کے بعد ملک کی شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا، جس میں شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی گئی، کمی کے بعد شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی،اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل پانچویں مرتبہ شرح سود کم کی ہے، اس ماہ مہنگائی کی شرح میں 4.9 فیصد کمی ہوئی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 13 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے ، پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا،پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا ، کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے ، امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی ،معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں-

  • نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل،شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان

    نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل،شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان

    کراچی:اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل بروز پیر 16 دسمبر کو کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : افراط زر میں نمایاں کمی کے پیش نظر شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان ہے16 دسمبر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان سےقبل مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہوگامعاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد پالیسی ریٹ کا اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری جانب صنعت کار پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان ہے۔

    ایک سروے کے مطابق 71فیصد افراد پالیسی ریٹ میں کم از کم 2فیصد کمی کی توقع کر رہے ہیں، تاہم 29 فیصد کا خیال ہے کہ شرح سود میں50 سے150 بیسز پوائنٹس کمی ہوگی،71 سے 63فیصد کو شرح سود میں 2 فیصد،30 فیصد کی رائے میں ڈھائی فیصد جبکہ 7 فیصد کو ڈھائی فیصد سے زائد کمی کی امید ہے،جون 2024 ے بعد سے مسلسل 4اجلاس میں شرح سود میں 7 فیصد کمی کی جا چکی ہے-