Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکہ نے افغانستان کے اثاثے بحال کرنے سے انکار کردیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر افغان سینٹرل بینک کے اثاثوں میں 7 بلین ڈالر جاری کرنے کی مخالفت کی اور فنڈز منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے پہلے مذاکرات میں پیش رفت دیکھنے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی معطل کر دیے ہیں۔یہ فیصلہ جنگ زدہ ملک کے امریکہ میں مقیم اثاثوں سے متعلق ہے، جنہیں بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ سال افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد منجمد کر دیا تھا۔

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    وال سٹریٹ جنرل نے کہا کہ فنڈز جاری کرنے سے انکار "افغانستان میں معاشی بحالی کی امیدوں کو ایک دھچکا ہے کیونکہ لاکھوں افراد کو طالبان کی حکمرانی کے ایک سال تک فاقہ کشی کا سامنا ہے۔”

    ابھی پچھلے ہفتے ہی، امریکہ، برطانیہ اور پانچ دیگر ممالک کے 70 ممتاز ماہرین اقتصادیات اور ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں واشنگٹن سے اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں "افغانستان میں رونما ہونے والی معاشی اور انسانی تباہی” اور امریکہ کے کردار کا حوالہ دیا گیا۔

    افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے ڈبلیو ایس جے کو بتایا، "ہم افغان سینٹرل بینک کی دوبارہ سرمایہ کاری کو قریب المدت آپشن کے طور پر نہیں دیکھتے،” انہوں نے مزید کہا، "ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس ادارے کے پاس تحفظات ہیں اور ذمہ داری سے اثاثوں کا انتظام کرنے کے لیے جگہ جگہ نگرانی ضروری ہے

    افغانستان کے لیے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خصوصی نمائندے، تھامس ویسٹ نے مزید کہا کہ "یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو طالبان کی جانب سے پناہ دینے سے دہشت گرد گروپوں کو فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے ہمارے گہرے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔”ایک سال قبل طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 10 بلین ڈالر کے اثاثے بیرون ملک منجمد کر دیے گئے تھے۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ

    امریکہ ان فنڈز کا بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے، تقریباً 7 بلین ڈالر، اور وہ افغانستان میں انسانی امداد کے لیے تقریباً 3.5 بلین ڈالر کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ بائیڈن نے فروری میں ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے کہ بقیہ 3.5 بلین ڈالر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کے لیے فنڈ کے طور پر مختص کیے جائیں۔

  • پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،نیڈ پرائس

    پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،نیڈ پرائس

    امریکا نے کہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے-

    باغی ٹی وی : امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں 20 سالہ امریکی مشن کے خاتمے کو تقریباً ایک سال ہوگیا، افغان انخلا کے ایک سال بعد آج ہم پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

    امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا،وائٹ ہاؤس

    نیڈپرائس نے کہا کہ آج ہم عالمی خطرات،چیلنجوں اور مواقع پر بہتر توجہ دینے کے قابل ہیں اور فوجی مشن کےخاتمےکامطلب افغانستان میں سفارتی اور فلاحی مشن کا خاتمہ نہیں ہے پچھلے ایک سال میں امریکی حکومت نے تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے،حال ہی میں کابل میں القاعدہ لیڈر ایمن الظواہری کی ہلاکت اس کا ثبوت ہے۔

    امریکی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں ہم افغان عوام کی فلاحی امداد جاری رکھیں گے جبکہ ہمیں طالبان حکومت سے توقع ہے کہ وہ افغان عوام سے کیے گئے وعدووں کی پاسداری کرے گی۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ…

    نیڈپرائس نے مزید کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں آج نیٹو پہلے سے زیادہ بامقصد ہے جبکہ ایران کے ایٹمی مسئلے کا سب سے مؤثر حل سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جوہری معاہدےکےلیےایران کو ہرصورت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ چین یک طرفہ طور پر آبنائے تائیوان کے اطرف اسٹیٹس کو بدلنا چاہتا ہے،امریکی ارکانِ کانگریس کے دورہ تائیوان معمول کی بات ہے جس پر چین کا رد عمل حد سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ ہے-

    نینسی پلوسی کے بعد امریکی قانون سازوں کا ایک اور وفد تائیوان پہنچ گیا

  • امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط  کیا،وائٹ ہاؤس

    امریکی انخلا کے فیصلے نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا،وائٹ ہاؤس

    واشنگٹن: جوبائیڈن انتظامیہ نے ایک بار پھرافغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے-

    باغی ٹی وی:برطانوی خبررساں ادرے ” روئٹرز” کےمطابق "Axios” ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ اگست 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کی پہلی سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ کانگریس میں ایک بل تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں صدر جو بائیڈن کے ایک سال قبل افغانستان سے فوجیں نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا گیا تھا۔

    افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک سال مکمل،ری پبلکن پارٹی کی جوبائیڈن انتظامیہ کیخلاف رپورٹ جاری

    "Axios” ویب سائٹ کی رپورٹ میں دستاویز کی کاپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میمو میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے فیصلے نے اہم فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو واپس لاکر قومی سلامتی کو مضبوط کیا ہے۔

    یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپبلکن قانون سازوں نے جوبائیڈن انتظامیہ کے خلاف رپورٹ جاری کی ہے جسمیں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا کے تربیت کردہ افغان کمانڈوزاوردیگر سکیورٹی اہلکاروں کےافغناستان میں رہ جانےسے امریکا کے لیے کافی سنگینی پیدا ہو سکتی ہےخصوصاً ایسی صورت میں کہ روس ، چین اور ایران ان تربیت یافتہ افغانوں کو اپنے فائدے کے لیے بھرتی کر سکتے ہیں یا انہیں دباؤ میں لا کر ان سے امریکہ کے خلاف کام لینے لگیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ اگست 2021 کو امریکی فوجیوں کے انخلاء اور کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انخلاء کے آپریشن میں امریکی تربیت یافتہ افغان کمانڈوز اور دیگر ایلیٹ یونٹس کو نکالنے کو ترجیح دینے میں ناکام رہی۔

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    واضح رہے امریکی انتظامیہ نے افغانستان سے اپنے لوگوں کو 15 اگست سے 30 اگست تک محفوظ انداز میں نکالا تھا۔ مجموعی طور پر انخلا کے اس آپریشن میں تقریبا 124000 لوگو ں کو افغانستان سے نکالا جا سکا ۔ لیکن افرتفری کی اسی اچانک اور افراتفری کے انداز کی وجہ سے 13 امریکی فوج ہلاک ہوئے ۔

    امریکی انتظامیہ اس انخلا کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے کہ اس 124000 افراد کو افغانستان سے نکالا اور ایک ایسی جنگ کو ختم کیا جو ختم نہ ہوسکنے والی بن جنگ چکی تھی، جس میں 3500 امریکی و اتحادی مارے گئے اور لاکھوں افغانی جاں بحق ہوئے۔

    لیکن ہزاروں امریکی تربیت یافتہ کمانڈوز اورافغانستان کے دیگر سکیورٹی اہلکار اور ان کی خاندانوں کو نکلا جا سکا نہ ان کے لیے امریکی انتظامیہ کوئی منصوبہ دے سکی ، نتیجتہ وہ افغانستان میں ہی رہ گئےری پبلکن پارٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان سابق افغان اہلکاروں کو ہلاک کر رہے ہیں اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں البتہ طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

    سابق لارڈ میئر برمنگھم کونسلر محمد عظیم انتقال کر گئے

  • طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 20 سال بعد امریکا نے افغانستان چھوڑا، توطالبان نےافغانستان کا کنٹرول سنبھالا، آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے-

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک سال پورا ہونے پر افغانستان نے پیر 15 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں افغان حکومت نے کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہونے پر 15 اگست کو پورے افغانستان میں عام تعطیل ہوگی۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1558506768677842947?s=20&t=KJurlkQsxaEYJFVuIn86LQ
    حکام نے ابھی تک ایک سال مکمل ہونے کی سالگرہ کے موقع پر کسی سرکاری تقریبات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اسی دن اُس وقت کے صدر اشرف غنی بغیر کسی کو بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے جب کہ افغان فوج نے معمولی سی بھی مزاحمت نہیں کی تھی پنجشیر میں تاحال طالبان مکمل طور پر اقتدار میں نہیں آسکے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان امیر کی جانب سے نامزد کردہ عبوری کابینہ امور مملکت چلا رہی ہے اور تاحال خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے جب کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

  • افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی: سابق سربراہ امریکی سینٹ کام

    واشنگٹن:افغانستان سے فوجی انخلا بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ، دبے دبے لفظوں میں افغانستان سے انخلا کے‌حوالےسے امریکی سینٹ کام کے سابق سربراہ جنرل کنیتھ مکینزی کا کہنا ہے کہ دوحہ امن عمل اور دوحہ معاہدہ افغانستان میں شکست کی وجہ بنے۔

    امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کنیتھ میکنزی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا غلطی تھی لیکن افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا میرا فیصلہ نہیں تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    ان کا کہنا تھا میری رائے میں امریکی افواج کو افغانستان میں رکنا چاہیے تھا، میرا کہنا تھا کہ 2500 امریکی فوجی اہلکاروں کا ایک ساتھ مکمل انخلا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ امریکی فوج ہٹے گی تو افغان حکومت گر جائے گی۔

    امریکی سینٹ کام کے سابق سربراہ نے کہا کہ افغانستان میں شکست کی سب سے اہم وجہ دوحہ امن عمل اور دوحہ معاہدے بنے، افغان حکومت کو ہمارے جانے کا یقین ہو گیا تھا جو ان کی شکست کا سبب بنا۔

    افغانستان:کابل میں دھماکا،18افراد ہلاک، متعدد زخمی

    جنرل کییتھ مکینزی کا کہنا تھا کہ شکست کا الزام افغانستان میں موجود امریکی کمانڈروں پر لگانا آسان ہے لیکن حقیقت میں یہ افغان اور امریکی حکومت کی ناکامی تھی۔

    القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے جنرل کنیتھ مکینزی کا کہنا تھا اسامہ بن لادن کو 2002-2001 میں پکڑنےکا موقع ملا تھا لیکن ہم نےایسا نہیں کیا، ہم نے پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کبھی بھی تسلی بخش طریقے سے حل نہیں کیا۔

    سی پیک منصوبوں کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

    یاد رہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔

  • افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ:افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس پچیس سے چھبیس جولائی تک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں شریک تمام فریقوں کی رائے میں اقتصادی ترقی کی بحالی اور مضبوطی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

    کانفرنس میں افغانستان کی عبوری حکومت ، چین، روس، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ایران، پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان، ماہرین اور سکالرز نے شرکت کی۔عالمی میڈ یا کے مطا بق افغان عبوری حکومت کے وفد کے سربراہ اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا کہ اس وقت افغانستان کا بنیادی کام معیشت کو ترقی دینا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی مندوب برائے افغان امور یوئے شیاؤیونگ نے اجلاس میں کہا کہ چین، افغانستان کو گورننس، سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان ن کے مابین دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

     

    Tag

    عالمی منڈی میں فرنس آئل مہنگا ہونے کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔دوطرفہ معاہدے کا مقصد پاکستان میں بجلی کی کمی کے پیش نظر پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے بجائے نسبتا سستے کوئلے کا حصول ہے۔

     

     

    اس معاہدے سے قبل ہی بلوچستان میں چمن بارڈر اسٹیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے کم مقدار میں کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ نئے معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں خرلاچی اور غلام خان کے کسٹم اسٹیشنز سے بھی کوئلے کی درآمد شروع ہوجائے گی۔

     

     

    درآمد شدہ کوئلہ دو پلانٹس حبکو اور ساہیوال پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا. سرکاری ذرائع کے مطابق کوئلے کی درآمد سے پاکستان کی توانائی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونے کی توقع ہے۔

    اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے قابل تجارت کرنسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں کافی کمی دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلے پاکستان کے تجارتی وفد کے کابل کے 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہونے والے 3 روزہ دورے کے دوران ہوئے۔

  • جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    پشاور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پشاور ائیرپورٹ سے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے والے افغان مسافر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ایف ائی اے امیگریشن کی باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والے افغان مسافر کو اف لوڈ کر کے گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق احمد شیخ محمدی نامی افغان مسافر نجی ائیر لائین سے پشاور سے سفر کر رہا تھا جبکہ مسافر کا پاسپورٹ شک کی بنیاد پر امیگریشن افیسر نے شفٹ انچارج کو ریفر کیا ملزم کو مزید قانونی کارروائی کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور کے حوالے کردیا۔

    پشاور: افغان شہریوں کیلئے جعلی دستاویزات بنانے والا ملزم گرفتار


    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا پشاورمیں ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے جعلی سفری دستاویزات بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا-

    مصر میں بس سڑک پر کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی،22 افراد ہلاک،33 زخمی ،پاکستان کا اظہار افسوس

    وچ نہر پشاور میں واقع اسٹیشنری اینڈ فوٹو اسٹوڈیو پر چھاپہ کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے میں ملوث ملزم ہارون بادشاہ موقع پرگرفتارہواتھاملزم کےقبضے سےجعلی ڈومیسائل، شناختی کارڈز، لیپ ٹاپس، محکمہ صحت اورتعلیم کے جعلی سرٹیفکیٹ برآمدہوئے،ایف آئی نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر تے ہوئے تفتیش کا آغاز کردیا ہے ۔

  • خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    کابل: طالبان نے خواتین ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جگہ متبادل کے طور پر کسی رشتے دار مرد کو ملازمت پر بھیجیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے ’’دی گارجیئن‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین ملازمین کو اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجنے کا کہا ہے حکومتی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی ملازمتوں سے گھر بھیج دیا گیا تھا،اور کچھ نہ کرنے کے لیے انہیں بھاری کم تنخواہیں دی گئی تھیں۔

    گارجیئن سےبات کرتے ہوئےکئی خواتین نےبتایا کہ طالبان حکام نے ہمیں کال کرکے کہا ہےکہ اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں۔ چند ایک خواتین کو بھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مرد رشتے داروں کو متبادل بناکر نہ بھیجا تو ایسی خواتین کی ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔

    طالبان حکومت کی جانب سے خواتین ملازمین کے لیے یہ حکم حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد آیا اور اس دوران خواتین کو ملازمتوں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خواتین سے متعلق ماحول سازگار ہونے پر انھیں ملازمتوں پر واپس بلالیا جائے گا۔

    طالبان پر خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت نہ دینے، لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش اور کابینہ میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونے پر شدید عالمی دباؤ ہے تاہم طالبان نے مؤقف اختیار کیا ہے وہ اپنے فیصلے اسلامی قوانین اور افغان کلچر کے مطابق کریں گے۔

    یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہاؤس نے مئی میں کہا: "خواتین کی ملازمت پر موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں 1 بلین ڈالر تک کا فوری معاشی نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے – یا افغانستان کی جی ڈی پی کا 5 فیصد تک انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً عالمگیر غربت ہے۔ "ایک پوری نسل کو غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا خطرہ ہے۔”

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ "رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    "اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے "افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک "تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ "خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”