Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے
    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    تمہارے لیے جہاد سب سے بہتر ہے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    التوبة : 41

    اور فرمایا
    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں سراسر نا پسند ہے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    البقرة : 216

    *جہاد،دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب، غموں اور پریشانیوں سے بچنے کا زریعہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
    الصف : 10
    تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    الصف : 11

    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ”
    مسند احمد 22172
    اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے زریعے غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے

    *جہاد ،اقامت دین اور حفاظت اسلام کا بہترین زریعہ ہے*

    ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
    (بخاري كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابٌ: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} [التوبة: 5]،25)
    ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

    جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”
    مسلم 1922
    یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے دفاع کیلئے ہمیشہ ایک جماعت قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی

    ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
    وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ
    (مسلم، كِتَابُ الْإِيمَانِ،بَابُ الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ،124)
    اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ،جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔

    *جہاد، مومنین کے سینوں کو ٹھنڈا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرتا ہے*

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ
    ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔
    التوبة : 14
    وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 15

    *اکٹھی پانچ بشارتیں*

    ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں

    1 اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہو گا

    2 دوسرا یہ کہ ’’ يُخْزِهِمْ ‘‘ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا

    3 تیسرا یہ کہ ’’ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ ‘‘ ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں غلبہ عطا کرے گا۔
    اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہو سکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہو جائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔

    4 چوتھا یہ کہ ’’وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ تمھارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔

    5 پانچواں یہ کہ ’’ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ‘‘ ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔
    (تفسیرالقرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ)

    حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں
    دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے

    *جہاد کی تیاری سے دشمن مرعوب ہوکر دب جاتا ہے اور امت محفوظ ہوجاتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
    اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
    الأنفال : 60

    اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے ہمارے استاذ گرامی لکھتے ہیں
    یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔نیز مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق بھی شامل ہیں۔
    علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا

    *جہاد، مظلوموں کی مدد کا اہم راستہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    اور فرمایا
    أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
    ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے۔
    الحج : 39

    *جہاد چھوڑنے سے ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے*

    سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے
    ” إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ ؛ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ”
    (ابو داؤد، کِتَابُ الْإِجَارَةِ،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ،3462صحیح)
    ” جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے ، کھیتی باڑی ہی پر مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہو گی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔ “

    اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
    اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    التوبة : 39

    *امت مسلمہ کی معاشی ترقی جہاد سے ہی وابستہ ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ”
    بخاري،معلقا تحت الحديث 2757
    مسند احمد، 5093
    میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا گیا ہے اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی گئی ہے

    اور اللہ تعالیٰ اسی جہاد کے مفید اثرات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا
    اور تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    الأحزاب : 27

    *جہاد اور مسلمانوں کی تعداد*

    جہاد کی فرضیت سے پہلے تیرہ سالہ مکی اور ایک سالہ مدنی زندگی میں بھرپور دعوتی سرگرمیوں اور جد و جہد کے باوجود جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس میں 313 مسلمان شامل تھے اور شاید کہ تب تک مجموعی تعداد 1000 سے متجاوز نہ ہو گی
    لیکن اس جنگ کے ثمرات دیکھیں کہ ٹھیک ایک سال بعد تعداد اس سے ڈبل ہوجاتی ہے اور اس کے چھ سال بعد جب مکہ فتح کیا تو بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور خواتین کے علاوہ صرف لشکر اسلام کی تعداد دس ہزار تھی
    پندرہ دن بعد حنین و ہوازن کی طرف رخ کیا تو یہی لشکر 12 ہزار نفوس پر مشتمل تھا اور اس کے ایک سال بعد تبوک کی طرف روانگی ہوئی تو اسلامی لشکر 30 ہزار جنگجوؤں کی تعداد میں تھا
    عزت و قوۃ کے یہ سب مظاہر جہاد فی سبیل اللہ کے ثمرات ہیں

    اسی فتح، نصرت اور جہاد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
    جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
    النصر : 1
    وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
    اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔
    النصر : 2
    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
    تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
    النصر : 3

    ہمارے حافظ صاحب لکھتے ہیں
    *جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔*
    تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ

    *ایک ایک آدمی کو تین تین سو اونٹ دے دیئے گئے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    40 ہزار بکریاں
    24 ہزار اونٹ
    6 ہزار قیدی
    اور اس کے علاوہ بے شمار نقدی، سونا چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آیا

    صحیح مسلم میں ہے
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    ایسے ہی آپ نے
    ابوسفیان بن حرب اور اس کے بیٹے یزید و معاویہ کو سو سو اونٹ عطا کیئے
    ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    ان کے بیٹے یزید رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    دوسرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ

    حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو 200 اونٹ عطا فرمائے
    بحوالہ الرحیق المختوم

    یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی بدولت ممکن ہوا

    *دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں*

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    *5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے کا سالانہ بجٹ*

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 300 من کھجور (جوکہ 12000 کلو بنتی ہے) 60 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 75 من جو (جوکہ 3000 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    75 من جو تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 62 لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ 5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    نوٹ، ایک وسق تقریباً 3 من 30 کلو کا ہوتا ہے

    *5 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بجٹ*

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ(موجودہ سونے کے ریٹ 1 لاکھ 20 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے) 5 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    *ہر بچے کا وظیفہ مقرر کیا جانے لگا*

    تاریخ کی یادوں میں یہ بات معروف ہے کہ عھد فاروقی میں مسلمانوں کے ہربچے کا وظیفہ بیت المال سے جاری کردیا جاتا تھا

    اور یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا کوئی خلیفہ افق پر چھائے ہوئے بادلوں کو جب برسے بغیر واپس جاتے ہوئے دیکھتا تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا تم جہاں کہیں بھی برسو گے آخر تمہارا خراج تو میرے پاس ہی آئے گا

    *فتوحات کا سیل رواں*

    مولانا اقبال کیلانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب "جہاد کے مسائل” کے مقدمہ میں بڑی خوبصورت ترتیب سے چند فتوحات کا تذکرہ کیا ہے

    آپ لکھتے ہیں
    عہد صدیقی 632 ء تا 635 ء (دورانیہ تقریباً اڑھائی سال)
    اس دوران حیرہ اور عراق فتح ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت، مرتدین، اور منکرین زکوٰۃ کا خوب بندوبست کیا گیا

    عہد فاروقی 635ء تا 645ء
    635ء میں اسلامی فوجیں ایران میں داخل ہوئیں اور 642ء تک (صرف 7 سالوں میں) قادسیہ، مدائن، جلولاء، حلوان، خوزستان، اصفہان،ہمدان، رے، طبرستان، آزربائیجان، آرمینیا، کرمان اور خراسان فتح ہوئے
    دوسری طرف
    635ء میں دمشق
    636ء میں حمص، انطاکیہ، بیت المقدس
    638ء میں پورا ملک شام فتح ہوا
    641ء میں مصر
    647ء میں تیونس
    653ء میں الجزائر، یونان اور قبرص
    670ء میں قیروان
    674ء میں بخارا
    675ء میں سمر قند فتح ہوا
    693ء میں اسلامی فوجیں ساحل اطلس تک پہنچ چکی تھی
    700ء میں ایشیاء کوچک میں داخل ہوئیں
    711ء میں ایک طرف طارق بن زیاد نے سپین اور آدھا فرانس فتح کرلیا تھا تو دوسری طرف محمد بن قاسم کراچی سے ملتان تک اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا
    809ء میں کارسیکا
    810ء میں سارڈینا
    823ء میں کریٹ
    826ء میں سسلی
    846ء میں جنوبی اٹلی اور
    870ء میں مالٹا مسخر ہوا

    *جہاد کی برکت سے صرف 200 سال میں بحر اسود سے لیکر ملتان تک اور سمرقند سے لیکر فرانس تک 90 لاکھ مربع میل پر اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا*

    *بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ*

     تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
     خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

     مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
     تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا

    اور آپ نے مزید لکھا

     تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
    خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
     دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
     کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
     شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
     کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

     ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
     پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
     تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
     تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
     نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
     زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

    *جہاد کی تازہ بشارتیں*

    فی زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کس قدر خیر اور برکت رکھی ہے

    1️⃣ یہ کل کی بات ہے جب امریکہ بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت 100 سے زائد ملکوں کو ساتھ لیئے نہتے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارے سامنے چار گھنٹے نہیں ٹھہر سکتے
    مگر چشم فلک نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی امریکہ صرف 20 سال کے مختصر عرصے میں راتوں رات ایسے بھاگا کہ سیکیورٹی پر مامور افغان فورسز کو بھی معلوم نہیں ہونے دیا

    اور تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے صلیبی اتحاد کی مثال نہیں ملتی لیکن مزے کی بات ہے کہ اتنی بڑی ذلت آمیز شکست کی مثال بھی شاید کہیں نہیں ملے گی

    2️⃣ اگر تھوڑا پیچھے چلیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ بہادر کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے یہ مجاہدین امریکہ کی آمد سے صرف 11 سال پہلے دنیا کی بہت بڑی سپر پاور روس کو شکست کے مزے چکھا کر ابھی پوری طرح سے تازہ دم بھی نہیں ہوئے تھے

    3️⃣ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سرخ ریچھ کے آنے سے صرف 60 سال قبل انہی مجاہدین کے آباؤ اجداد ایک ایسی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں جو اپنے آپ کو برطانیہ عظمی کہلواتی تھی اور "عظمی” کا لاحقہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہی برطانیہ سکڑ کر افغانستان سے بھی چھوٹا ہوگیا ہے اور "عظمی” تو دور کی بات "برطانیہ” بھی نہیں رہا اس کی جگہ "انگلینڈ” نے لے لی ہے

    *گویا 1919 تا 2021 صرف ایک صدی میں جہاد کی برکت سے ایک ایسی قوم نے تین سپر پاوریں ڈھیر کردیں کہ جنہیں ڈھنگ سے کپڑے بھی استری کرنے نہیں آتے*

    4️⃣ اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو برصغیر سے انگریز کا نکلنا اور وطن عزیز پاکستان کا قیام پزیر ہونا کسی سیاسی یا جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم ثمرہ ہے
    (ان شاء اللہ اس موضوع پر جلد ہی لکھنے کا ارادہ ہے جس میں دلائل سے یہ بات ثابت کی جائے گی کہ قیام پاکستان، جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہوا ہے)

    5️⃣ جہاد افغانستان سے وطن عزیز پاکستان میں خوشحالی، فراوانی اور آسودگی پیدا ہوئی ہے اگر ہم 1980 سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں وہ بہت سی نعمتیں اور سہولیات نظر نہیں آئیں گی جنہیں ہم آج استعمال کر رہے ہیں
    صرف چینی اور آٹے کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر آٹا حاصل کرتے تھے اور چینی تو صرف سرکاری ڈیپو سے ہی ملا کرتی تھی اور وہ بھی محدود مقدار میں کہ کوئی اس سے زیادہ نہیں لے سکتا تھا اور اس کے لیے بھی پہلے کارڈ بنوانے پڑتے تھے
    گویا اس جہاد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ایک طرح سے قحط سالی کا خاتمہ کیا

    6️⃣ اگر یہ بات کہوں کہ وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کی شکل میں بے پناہ قوۃ بھی اسی روسی جہاد کی بدولت حاصل ہوئی ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روس کے خلاف لڑنا پوری دنیا کی مجبوری بنا دیا تھا جس کی وجہ سے سب لوگ پاکستان کے محتاج تھے اور یہی وہ حالات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی طاقتوں کے ناچاہتے ہوئے بھی ایٹمی پروگرام پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ورنہ نارمل حالات میں یہ ممکن ہی نہیں تھا

    7️⃣ اور پھر امریکہ کے خلاف ہونے والے جہاد 2001 سے پہلے اور بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت فرق نظر آتا ہے
    وطن عزیز پاکستان میں نظر آنے والی بہترین سڑکیں، اعلی کوالٹی کی گاڑیاں، انڈسٹریل پروگریس، بڑھتا ہوا تجارتی حجم، اور افواج پاکستان کی دسترس میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ اور پاکستان کا مضبوط ہوتا ہوا دفاع 2001 سے پہلے کہاں نظر آتا تھا

    8️⃣ اسی کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان کے اندر سوشلزم کا نظریہ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا روٹی کپڑا اور مکان کے بظاہر خوبصورت نعرے کی آڑ میں اسے نافذالعمل بنانے کے منصوبے تشکیل دیئے جا رہے تھے کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں جگہ جگہ سرخ انقلاب کے حق میں وال چاکنگ نظر آتی تھی بہت سے لوگ اپنے آپ کو کامریڈ یا سرخے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے قریب تھا کہ پاکستان سوشل ازم کی گود میں چلا جاتا مگر جہاد کی برکت دیکھئے کہ وطن عزیز میں ایک گولی چلائے بغیر کیسے اس ممکنہ انقلاب کو الٹ کر رکھ دیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ماسکو میں بھی اسے راندہ درگاہ قرار دیا گیا

    9️⃣ اسی کی دہائی سے پیچھے چلیں جائیں تو وطن عزیز پاکستان میں داڑھی، ٹوپی، پگڑی اور برقعے کے وہ مظاہر نظر نہیں آتے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کوئی بڑا عالم ہوتا تو شاید اس کے چہرے پر داڑھی نظر آتی تھی یا پھر کوئی بوڑھا داڑھی رکھ لیتا نوجوانوں میں تو اس بات کا تصور بھی نہیں تھا
    آدھے رخسار تک پہنچتی ہوئی لمبی لمبی قلمیں رکھنے کا رواج عام تھا اور شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
    مگر اس کے بعد سے اب تک روزبروز یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے
    نوجوانوں کے چہرے داڑھی سے سجتے سنورتے نظر آرہے ہیں اور یہی شرح نمو برقعے اور پردے کی ہے
    یہ تصور عام تھا کہ نماز، آذان اور مسجد میں جانا تو بوڑھوں کا کام ہے مگر اب اللہ کے فضل سے مساجد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد دکھائی پڑتی ہے

    🔟 آپ حیران ہوں گے کہ روسی اور امریکی دونوں حملوں کا اصل ٹارگٹ اسلام اور مساجد و مدارس کو کنٹرول بلکہ ختم کرنا تھا امریکی صدر بش نے تو مدارس اسلامیہ کی بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ "ہم مجھر پیدا کرنے والے جوہڑ بند کردیں گے”
    مگر اللہ کا فضل اور جہاد کی برکت دیکھیں کہ اسی دوران وطن عزیز پاکستان میں مساجد و مدارس کا جال بچھا دیا گیا جتنی خوبصورت مساجد آج موجود ہیں پہلے کہاں نظر آتی تھیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مدارس کی عمارتیں عالم کفر کا منہ چڑا رہی ہیں کوئی چلے اور دیکھے جامعہ محمدیہ، سلفیہ ،مرکز طیبہ ،جامعہ رحمانیہ ،دارالعلوم، حقانیہ، بنوریہ کی وسیع رقبے پر مشتمل فن تعمیر کی عظیم شاہکار عمارتیں اور پھر ان مدارس کا میس شیڈول دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ عالم کفر تو انہیں مٹانے آیا تھا مدارس اور ان کے طلبہ کی تعداد میں ساٹھ ستر فیصد اضافہ ہوا ہے

  • عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ جنگ والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیک اکاؤنٹ‌سے خبر نشر کی گئ ہے . ہم اس بیان کی تردی کرتے ہوئے ہیں.واضح‌رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مبینہ ایک تویٹ کہاگیا تھا کہ مسلمان کی کافر سے دوستی ناممکن ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان سے منسوب عید کے بعد غزوہ ہند کے اعلان کا فیک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا . جسے ملک کے معروف صحافیوں ، عسکری تجزیہ نگاروں اور الیکٹرانک میڈیا سے شئر کی گیا. افغان طالبان کے ترجمان زبیج اللہ مجاہد نے اس پوسٹر کی تردید کرتے ہو کہا کہ ہے جس ٹویٹڑ اکاونٹ سے یہ پوسٹر شئر کیا گیا ہے وہ فیک اکاؤنٹ ہے تمام میڈیا کے ادارے نوٹ کر لیں

    کل طالبان سے منسوب ایک فیک پوسٹر میں یہ طالبان سے متعلق یہ بیان دیا گیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک امارات اسلامیہ کی ہندوستان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔ فتح کابل کے بعد ، امارات اسلامیہ نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کو بھی فتح کرنا ہے ان شاء اللّٰہ۔ اس کے بعد ہندوستان کے دو انتخاب ہیں ، یا تو مکمل ہتھیار ڈالنا اور اسلام قبول کرنا یا غزوہِ ہند کا سامنا کریں۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    جان اچکزئی کی ٹویٹ

    زید حامد کی ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261864387515744257?s=20

    زید حامد کی ایک اور ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261854126432018433?s=20

  • اشرف غنی کے تاخیری حربے از عدنان عادل

    اشرف غنی طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان سے مصالحتی عمل میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث گزشتہ ہفتہ افغان طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ختم کردی اور ان کا وفد افغان دارلحکومت سے واپس قطر روانہ ہوگیا۔تئیس مارچ کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپوکابل گئے تھے جہاں انہوں نے اشرف غنی کو صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ طالبان سے مصالحتی معاہدہ پر عملدرآمد کریں ورنہ امریکہ یکطرفہ طور پر اپنی تمام افواج افغانستان سے نکال لے گا اور انکی حکومت کو ایک ارب ڈالر کی وہ امداد نہیں دے گا جسکا وعدہ کیا گیا تھا۔ امریکہ کی اس تنبیہ کے باوجود اشرف غنی نے طالبان سے حالیہ بات چیت میں سخت روّیہ اختیار کیا اور اُن پندرہ سینئرطالبان کمانڈروں کو قید سے رہا کرنے سے انکار کردیاجس کامطالبہ طالبان کررہے تھے۔ حالانکہ طالبان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار کابل انتظامیہ کے وجود کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس سے بات چیت شروع کی تھی۔ مائک پومپیو کے کابل میں ناکام مشن کے بعد امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی چند روز پہلے تنبیہ کے انداز میں یہ بیان دیا کہ امریکہ افغانستان کو اسی صورت میں مالی امداد دے گا جب وہاں تمام فریقوں پر مشتمل حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس کا لب و لہجہ خاصا سخت تھا۔ اس پیغام کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اب بین الاقوامی امداد دینے والے افغانستان میں پہلے کی طرح کام نہیںکریں گے۔ عالمی امدادسب فریقوں پر مشتمل حکومت کو ہی دی جائے گی۔اس اعتبار سے ایلس ویلز کی تنبیہ پومپیو سے بھی ایک قدم آگے تھی کہ انہوں نے نہ صرف امریکی امداد بلکہ تمام عالمی امداد کو افغان امن عمل اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام سے مشروط کردیا۔یہ امریکی وارننگ اس لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ افغانستان حکومت کا اسّی فیصد سے زیادہ بجٹ بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک گزشتہ اٹھارہ برسوں میں کابل حکومت کو براہ راست ایک سو چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم دے چکے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کااپنی فوجیں افغانستان میں رکھنے پر جو اخراجات ہوئے وہ اس کے سوا ہیں۔ ان حالات میں اشرف غنی کا طالبان سے مذاکرات میں ہٹ دھری پر مبنی روّیہ بلاوجہ نہیں ہے۔ جب انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان نے قطر میں امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے ۔اس سے اشرف غنی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مستقبل میں افغانستان میں طالبان کو اپنا بڑااتحادی اور شریک کار بنانا چاہتی ہے۔امریکہ افغانستان میںجو وسیع البنیاد حکومت بنانے کی بات کررہا ہے اس میں طالبان غالب ہونگے ۔

    اشرف غنی اور ان کی اتحادی لبرل اشرافیہ اقتدار میں جونئیرحصہ دار ہونگے۔ امریکہ کے طالبان سے معاہدہ کے نتیجہ میں بھارت کو بھی بڑا دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ وہ امریکہ کا شریک کار بن کر افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔بھارت کی پالیسی یہ رہی ہے کہ کابل میں ایسی حکومت قائم رہے جو علاقائی سیاست میںاس کی حامی اور پاکستان کی مخالف ہو‘ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں اس کی مددگار ہو۔امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار کم سے کم رہ جائے گا جبکہ پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہوجائے گا۔ امریکہ اور طالبان معاہدہ صرف افغانستان نہیں بلکہ علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس معاہدہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ کی وسط ایشیائی تزویراتی پالیسی میںبھارت کی جگہ پاکستان کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ اسی لیے بھارت طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ بھارت کا کابل کی لبرل اشرافیہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے جس پر وہ بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے۔اشرف غنی کے ارد گرد جو لوگ ہیں انکے دہلی کے حکمرانوں سے گہرے روابط ہیں۔موجودہ حالات میں ان دونوں کا مشترک مفاد یہ ہے کہ طالبان کو کابل میں حکومت بنانے کا موقع نہ مل سکے۔ مصالحتی عمل کو اتنا طویل اور پیچیدہ بنادیا جائے کہ امریکہ اور طالبان کا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوجائے۔ یہ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے افغانستان میں طویل مدتی‘ تزویراتی مفادات ہیں۔ وہ اگر یکطرفہ طور پر فوجوں کا انخلا کرے گا ،تو اسکے خطہ میں مفادات اور اسکی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا ۔اس لیے صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرسکیں گے۔ بھارت سفارتی سطح پر ہر وہ کوشش کرے گا جس سے صدر ٹرمپ کواپنی دھمکی پر عمل کرنے سے کچھ عرصہ کے لیے باز رکھا جاسکے۔

    منصوبہ یہ ہے کہ وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں کم سے کم اتنی تاخیر ہو جائے کہ اس سال نومبر میںامریکہ کے صدارتی الیکشن گزر جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جائیںاور نیا ڈیموکریٹک صدرانکی پالیسی جاری نہ رکھے‘ طالبان سے معاہدہ توڑ دے۔یوں ایک بار پھر بھارت اور افغان لبرل اشرافیہ کا گٹھ جوڑکابل پر براجمان رہے۔ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈیموکریٹ صدورپاکستان کی بجائے بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں ۔ امریکہ اور طالبان کے معاہدہ کے بعد بھارت نے اشرف غنی کو ڈٹ جانے کی تھپکی دی ہے جس سے اُن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ورنہ وہ اور افغان لبرل اشرافیہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک دن بھی امریکی امداد کے بغیر گزارہ کرسکیں‘ نہ وہ امریکی افواج کی مدد کے بغیر طالبان کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اگلے چند مہینوں میں واضح ہوجائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے افغان منصوبہ پرکس قدر ثابت قدمی سے عمل کرتی ہے اور طالبان غنی انتظامیہ پر اپنا دباؤ کس قدر بڑھاتے ہیں۔

    عدنان عادل

  • ملٹری کیمپ پر خودکش حملہ، پانچ فوجی زخمی

    کابل: دارالحکومت میں ملٹری کے تربیتی مرکز پر خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین فوجی زخمی ہوگئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کارروائی کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی اور نہ ہی دھماکے میں کوئی اہلکار جاں بحق ہوا۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں خودکش حملہ آور نے ملٹری ٹریننگ سینٹرکےقریب خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔ادھر افغان صوبے فاریاب میں فورسز کے فضائی حملےمیں دوافغان طالبان کمانڈرملااحمد اورقاری معراج ہلاک جبکہ دو طالبان زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    یاد رہے کہ 2 نومبر کو افغانستان کے دو صوبوں میں بم دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    پہلا دھماکہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے تخار کے ضلع درقد میں ہوا جس کے نتیجے میں اسکول جانے والے 9 طلب علم جاں بحق ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا بم سڑک کنارے نصب تھا اور جیسے ہی بچے یہاں سے گزرنے لگے زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 9 بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    گورنر تخار جواد ہجیری کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے گیارہ سال کے درمیان تھیں جبکہ تین بچے تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح دوسرا دھماکہ پکتیکا کے گاؤں سلطان میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت 7 جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

  • پاکستانی سفارت کاروں کوہراساں کرنے کی اطلاعات !

    کابل: ایک طرف اسلام آباد میں اپنوں نے غیروں کو خوش کرنے کے لیے اودھم مچا رکھا ہے تودوسری طرف افغان حکام پاکستانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بننے لگے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    مولانا کا ’’حلوہ مارچ‘‘قائداعظم کی اپوزیشن اورفواد چوہدری کا جلوہ

    تفصیلات کے مطابق افغان حکام پاکستانی سفارت کاروں کو نقل و حرکت کے دوران روکنے لگے ہیں، سفارت خانے کے ذرایع نے بتایا کہ افغان حکام سفارت کاروں کی گاڑیاں روک کر نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔بتایا گیا کہ سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز شروع ہوا، سفارت کاروں کو آتے جاتے روک کر ان سے نازیبا زبان میں گفتگو کی جاتی ہے۔

    آزادی مارچ ، شہباز شریف کا سی وی اوربلاول کی معصومیت کے تذکرے

    پاکستان نے معاملہ افغان وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھا لیا ہے، تاہم دوسری طرف افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل افغانستان کی سیکورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت پانچ شہری اور 6 جوان زخمی ہو گئے تھے۔

    معروف اینکرمبشرلقمان نے دھرنا ختم ہونے کی پشین گوئی کردی

  • افغان طالبان کے خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک

    افغان طالبان کے خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک

    کابل : خود کش حملے نے افغان کتھ پتلی حکومت اور اتحادیوں کو ہلا کر رکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکا اور رومانیہ کے 2 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق خودکش کار بم دھماکا مصروف سفارتی علاقے میں ہوا جہاں امریکی سفارتخانہ بھی قائم ہے جبکہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔نیٹو ریزولیوٹ مشن کے بیان کے مطابق دو سروس اراکین ‘کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے’، بیان میں ہلاک اراکین کے نام یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    کابل سے ذرائع کے مطابق یہ چوتھا امریکی اہلکار تھا جو گزشتہ دو ہفتے کے دوران افغانستان میں ہونے والے حملوں میں نشانہ بنا۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ خودکش دھماکے میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ 12 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔چند گھنٹے بعد افغان طالبان نے پڑوسی صوبے لوگر میں افغان ملٹری بیس کے باہر کار بم دھماکا کیا جس میں 4 شہری ہلاک ہوئے۔

  • بہت جلد افغان طالبان سے 13 ہزار امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا ، زلمے خلیل زاد

    بہت جلد افغان طالبان سے 13 ہزار امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا ، زلمے خلیل زاد

    دوحہ:افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا فائنل راونڈ شروع ، افغان طالبان سے بہت جلد امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا، اس سلسلے میں‌ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پھر قطر روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کامیاب اختتام کے قریب ہیں۔زلمے خلیل زاد نے قطر روانگی سے قبل کہا کہ امریکا دوحہ میں بقیہ تمام معاملات کے تصفیے کے لیے تیار ہے۔

    امریکی خصوصی ایلچی نے کہا کہ امن عمل کی کامیابی سے افغان عوام داعش کو شکست دینے کی مزید مضبوط پوزیشن میں آ جائیں گے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نومبر 2020 میں امریکی انتخابات سے پہلے افغانستان سے 13 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔دوحہ مذاکرات کے نئے راؤنڈ میں امریکی انخلا کی ٹائم لائن طے کرنے کے بدلے تشدد میں کمی اور داعش یا القاعدہ کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے افغان طالبان کے وعدے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

  • 11 شہریوں کی ہلاکت، اقوامِ متحدہ حرکت میں آگیا

    11 شہریوں کی ہلاکت، اقوامِ متحدہ حرکت میں آگیا

    کابل:پاکستانی سرحد کے نزدیکی صوبے میں افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں11 افغان شہری مارے گئے ۔حکومتی سیکیورٹی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کا کہنا ہے کہ پکتیا میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہ پر آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 11 عسکریت پسند مارے گئے جن میں 2 عسکری کمانڈر بھی تھے۔

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن کا کہنا ہے کہ اسے تلاشی کے عمل کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ٹیمز اس کی تحقیقات کررہی ہیں۔اقوام متحدہ نے حکومت افغانستان سے اس سارے معاملے کی رپورٹ مانگ لی ہے.

    ذرائع کے مطابق مقامی سیاستدان کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے عیدالاضحٰی کی تعطیلات کے دوران طالبعلموں کی ایک تقریب کو نشانہ بنایا۔پکتیا کی صوبائی کونسل کے رکن اللہ میر خان بہرمزوئی نے بتایا کہ ’یونیوسٹی کے ایک طالبعلم نے اپنے ہم جماعتوں کو عشایئے پر مدعو کر رکھا تھا، جب سیکیورٹی فورسز نے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں باہر نکال کر ایک ایک کر کے قتل کردیا‘۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • انگلینڈ سے پے درپے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم آج کس کے مدمقابل ہونے جارہی ہے

    انگلینڈ سے پے درپے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم آج کس کے مدمقابل ہونے جارہی ہے

    دورہ انگلینڈ کی تلخ یادیں لیے پاکستانی ٹیم آج ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں افغانستان سے ٹکرائے گی. دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ ورلڈ کپ جوکہ اسی ماہ میں شروع ہو رہا ہے. اس کے وارم اپ میچز کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں آج پاکستان اور افغانستان مدمقابل ہوں گے. افغانستان کی نسبت پاکستان کی ٹیم زیادہ مضبوط نظر آتی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایک روزہ میچز میں پے درپے 10 میچز میں شکست کھانے والی ٹیم آج افغنستان کے خلاف کیا رنگ دکھاتی ہے. محمد عامر اور وہاب ریاض کی شمولیت سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں.