Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغانستان میں انخلا کے دوران  چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    افغانستان میں انخلا کے دوران چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا فوجی سازوسامان اب کچھ پرانا ہو چکا ہے، تاہم امریکا اسے واپس حاصل کرسکتا ہے۔

    فاکس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، جی 7 اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کو انتہائی افسوسناک قرار دیا صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام امریکی سازوسامان کی واپسی چاہتے ہیں، جس کی مالیت کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا گیا ہے کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا –

    ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انخلا کرتے تو اسے وقار اور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتے اور تمام فوجی سازوسامان واپس لے جاتے ان کی حکومت افغانستان سے انخلا کے دوران ایک ایک چیز واپس لانے کا ارادہ رکھتی تھی اور فوجی کیمپوں کے خیمے تک اتارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مستقبل میں افغانستان کو دی جا نے والی کسی بھی مالی امداد کو وہاں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ سامان قدرے پرانا ہو چکا ہے، لیکن اس کی واپسی اب بھی علامتی اور عملی طور پر اہمیت رکھتی ہے-

    امریکی صدر کے حالیہ بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد بارہا کہہ چکا ہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے ہاتھ لگے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ،پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود جدید امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

  • انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض طالبان عناصر کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اطلاعات بھی موجود ہیں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ چین نے قرارداد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے یوناما کی حمایت جاری رکھے گا اور ایک ایسے پُرامن افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور تعاون کے ساتھ رہ سکےیوناما مہاجرین اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بھی معاونت فراہم کرے یوناما کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے جائز سلامتی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، عاصم افتخار نے یوناما کے سربراہ کی تقرری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے خالی اسامی جلد پُر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے،عاصم منیر

    افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے،عاصم منیر

    پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی پالیسیاں عدم استحکام اور دہشتگردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں،افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے-

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت دہشتگردی کی معاونت، پشت پناہی اور مالی مدد کر رہا ہے اور بعض دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے مارچ میں کی جانے والی کارروائیاں افغانستان سے سرگرم دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں اور ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔

    ان کے مطابق پاکستان نے کارروائیوں کے دوران ڈرونز اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا جبکہ حملے سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ انداز میں کیے گئے پاکستان نے کسی اسپتال، منشیات بحالی مرکز یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا اور حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی گئیں جن سے اہداف کی نوعیت واضح ہوتی ہے افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

    اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں کیونکہ دہشتگردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے بعد یہ روابط مزید نمایاں ہوئے ہیں گزشتہ سال دہشتگردی کے واقعات میں 1200 سے زائد پاکستانی شہید ہوئےجموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی بھارت کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور اسے بھارت سے معاونت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔

    پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازعات کے اثرات پاکستان نے برداشت کیے ہیں جبکہ افغانستان میں امن، خوشحالی اور استحکام کا سب سے زیادہ فائدہ بھی پاکستان کو ہی پہنچ سکتا ہے خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ایک مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔

    امریکا کی ایران پر بمباری، جواباً امریکی بحری بیڑے پر ایرانی ڈرون حملہ

  • حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    اقتدارپرقابض طالبان رجیم نےقانون اورانصاف کو پس پشت ڈال کراپنےہی شہریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے افغان میڈیا اورسوشل میڈیاپروائرل ویڈیوز نےطالبان رجیم کی دہشتگردی اورانتہا پسندی کوبےنقاب کردیا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق صوبہ ہرات میں طالبان فورسزنےرجیم کےمظالم کیخلاف احتجاج کرنےوالےمظاہرین پرسیدھی گولیاں چلا دیں، جہاں طالبان فورسزکی اندھادھند فائرنگ سےایک شخص ہلاک اور22 افراد شدید زخمی ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق ہرات میں احتجاج حالیہ دنوں میں طالبان رجیم کی جانب سےخواتین کی گرفتاریوں کیخلاف کیاجارہا تھا ۔ کشیدگی بڑھنے پر قابض طالبان رجیم نےاحتجاج کو دبانے کے لیے علاقے میں اضافی نفری بھیج دی ہے سوشل میڈیا پروائرل ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہےکہ طالبان اہلکارافغان شہریوں کو تلاشی کے نام پرہراساں کررہےہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شریعت کا لبادہ اوڑھےطالبان رجیم اپنےحق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کوبندوق کےزورپردبانےکی ناکام کوشش کررہی ہے ہرات کی سڑکوں پربہتا معصوم شہریوں کاخون افغان طالبان رجیم کےظلم وجبرکے خاتمےکاپیش خیمہ ثابت ہوگا۔

  • روس کا افغانستان میں موجود   ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    روس کا افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ کے دوران روس نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور داعش خراسان (ISIS-K) سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کی مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے،انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر خطے کے امن و استحکام کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں، ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے خدشات خطے کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں روس کے بیان نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں موجود شدت پسند دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو مزید تقویت دی ہے، روس کی جانب سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات کا ذکر اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشو یش کی عکاسی کرتا ہے۔

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن توصیف جرال خود کو پولیس کے حوالے کردیا

  • طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

    ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے طالبان رجیم کی ناکام اور سخت پالیسیوں کے باعث ملک سیاسی، اقتصادی اور انسانی مسائل کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے ملک کی تقریباً آدھی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے طالبان رجیم کے دوران 400 سے زائد صحت کے ادارے بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہو گئے ہیں افغا نستا ن عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کے آدھے حصے کو عملی طور پر نظام سے باہر کر دیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچہ، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے افغانستان ایک دہشت گرد گروہ کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

  • طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کے جنسی اورانسانیت سوزمظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اورجنگجوؤں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا افغان انٹرنیشنل کے طالبان حکام اورجنگجوؤں نے افغان خواتین کوانفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،طالبان حکام خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں ۔

    یوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کرتشدد،بدسلوکی اورجنسی استحصال کا نشانہ بنایا افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ معاملے کی آزاد، شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں ۔

  • حکومت مسلسل عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کررہی ہے،رانا ثنااللہ

    حکومت مسلسل عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کررہی ہے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پوری دنیا اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا کررہی ہے، لیکن موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم جنگی صورتحال کے باعث بڑے ریلیف پیکج میں مشکلات پیش آئیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کررہی ہے جبکہ معاشی ٹیم مختلف امور پر مذاکرات میں مصروف ہے اگر خطے میں جنگی صورتحال نہ ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف ایک بڑا ریلیف پیکج دیتے، تاہم موجودہ حالات کے باوجود عوام کو سہولتیں دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سرحد پار سے دہشتگرد پاکستان میں کارروائیاں کررہے ہیں اور حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں سرحدی نقل و حرکت اہم وجہ ہے انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ بھارت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے، کیونکہ بارڈر سیکیورٹی بہتر ہونے سے دہشتگردی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا جبکہ پاکستانی افواج بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت سے دہشتگرد عناصر کا مقابلہ کررہی ہیں بہت جلد پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوجائے گا اور ملک امن کا گہوارہ بنے گا، پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، اور اگر کسی معاہدے میں فلسطین کو تسلیم کیا جاتا ہے اور فلسطینی قیادت اسے قبول کرتی ہے تو پاکستان بھی اس فیصلے کی حمایت کرے گا۔

  • پاک افغان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، دفتر خارجہ

    پاک افغان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، دفتر خارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

    ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر عارضی وقفے کے اعلان کے باوجود افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور دراندازی کی کوششیں بلا تعطل جاری رہیں، مارچ میں پاکستان کے جنگ بندی اقدام کے باوجود افغانستان سے حملے جاری رہے، افغان طالبان کی بلااشتعال سرحد پار فائرنگ اور دہشتگرد کارروائیوں میں 52 شہری شہید اور 84 افراد زخمی ہوئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کار ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں ترجمان نے افغان حکام کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا۔

    پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اصولی مؤقف کی روشنی میں دیکھے اور حقائق پر مبنی غیر جانبدار رائے اختیار کرے۔

  • جعلی دستاویزت پر افغانستان جانے کی کوشش  میں 5 افراد گرفتار

    جعلی دستاویزت پر افغانستان جانے کی کوشش میں 5 افراد گرفتار

    امیگریشن حکام نے پشاور میں طورخم بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

    پشاور میں طورخم بارڈر پر جعلی دستاویزات کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی،پشاور میں طورخم بارڈر پر امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی منی فیسٹ کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد نادرا سسٹم کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھےملزمان نے جعلی منی فیسٹ حاصل کرنے کے لیے فی کس 50 ہزار روپے ادا کیے ابتدائی تفتیش کے دوران ’فہد‘ نامی ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی عمل میں سہولت کاری کر رہا تھا گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔