Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • القاعدہ نے ایک بار پھر افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں،امریکی اخبار

    القاعدہ نے ایک بار پھر افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں،امریکی اخبار

    امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوبارہ قیام اور 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد القاعدہ نے ایک بار پھر ملک میں اپنے تربیتی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مغربی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروہوں پر نظر رکھنے والی ٹیم کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ 3 برس کے دوران القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں کم از کم 8 تربیتی مقامات قائم کیے ہیں،طالبان کی جانب سے دوبارہ ایسا ماحول فراہم کیے جانے سے القاعدہ کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق القاعدہ کے علاوہ داعش سے وابستہ گروہوں سمیت دیگر مسلح تنظیموں نے بھی افغانستان میں نئے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں ان گروہوں کی موجودگی افغانستان کے 34 میں سے کم از کم 14 صوبوں میں سامنے آئی ہے۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے پہلے کے دور سے مختلف ہے اس وقت القاعدہ کی توجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی پر تھی، جبکہ اب افغانستان میں موجود زیادہ تر شدت پسند گروہ مقامی اور علاقائی تنازعات پر توجہ دے رہے ہیں، طا لبان بھی اس بات سے محتاط ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے ایسی سرگرمیاں دوبارہ نہ ہوں جن کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کی توجہ طالبان حکومت کی جانب مبذول ہو۔

    جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے انسداد دہشت گردی کے ماہر بروس ہاف مین نے کہا کہ وہ 11 ستمبر سے پہلے کے منصوبے کے مطابق دور کے دشمن کو نشانہ بنانے پر عمل نہیں کر رہے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ مقامی اور علاقائی کامیابیوں کے ذریعے دوبارہ اپنی طاقت اور رفتار حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں بھولے نہیں ہیں۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں قائم نئے کیمپوں میں جنگجوؤں کو ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد اور گوریلا جنگ کی تربیت دی جا رہی ہے اس کے علاوہ بعض مقامات پر انکرپشن، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت کے شواہد بھی ملے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے رابطہ کار کولن اسمتھ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے بنیادی گروہ کے جنگجوؤں کی تعداد ممکنہ طور پر 100 یا اس سے بھی کم ہےالقاعدہ اب خود بڑے آپریشن کرنے کے بجائے دوسرے گروہوں کو مشاورت، تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہےہم نے القاعدہ کو دوسرے گروہوں کے لیے ایک مشاورتی سروس کے طور پر کام کرتے دیکھا ہے، جہاں وہ خفیہ کارروائیوں اور معلومات کی سیکیورٹی جیسے معاملات میں مشورہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی جانب سے مدد حاصل کرنے والے بڑے گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی بھی شامل ہے، یہ تنظیم پاکستا ن کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    اقوام متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں القاعدہ کے جنگجو ٹی ٹی پی کے لیے خودکش حملہ آوروں کی تربیت کر رہے تھے کولن اسمتھ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 7 ہزار تک ہو سکتی ہےٹی ٹی پی نے افغانستان کے کم از کم 4 صوبوں میں تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں القاعدہ اور طالبان کی شمولیت بھی بتائی گئی ہے، ٹی ٹی پی پاکستان کے فوجی ٹھکانوں اور دیگر اہداف پر سرحد پار سے سیکڑوں حملے کر چکی ہے۔

    دوسری جانب القاعدہ کی بڑی حریف داعش نے بھی افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی ہے داعش خراسان، جسے آئی ایس آئی ایس-کے بھی کہا جاتا ہے، نے تقریباً 2 ہزار افراد کو بھرتی کیا ہے اور شمالی افغانستان کو وسطی ایشیا میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے اپنا اہم مرکز بنایا ہے القاعدہ اور داعش ایک دوسرے کی سخت حریف ہیں اور دونوں شدت پسند گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ اور جنگجوؤں کی بھرتی کے معاملے پر مقابلہ جاری رہتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں دونوں گروہوں کی توجہ زیادہ تر افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک سے افراد کو بھرتی کرنے پر ہے، جبکہ 1990 کی دہائی میں القاعدہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو افغانستان لاتی تھی 11 ستمبر کے حملوں میں شامل 19 افراد میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

    جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی دہشت گردی کی ماہر سارہ ہارموش نے کہا کہ القاعدہ کے میڈیا مواد سے جو کچھ میں نے دیکھا ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ اس وقت غیر ملکی جنگجوؤں کی تلاش میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے،وہ اپنی صلاحیتیں دوبارہ بنانے کی کوشش کے دوران عالمی توجہ نہیں چاہتے۔

    القاعدہ کے دوبارہ افغانستان میں قدم جمانے کی کوششوں نے اس لیے بھی تشویش پیدا کی ہے کیونکہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں اس کے تربیتی کیمپ 11 ستمبر کے حملوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر چکے تھے۔

    امریکی 11 ستمبر کمیشن کے مطابق حملوں کے مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد نے 1996 میں افغانستان کے تورا بورا میں القاعدہ کے ایک مرکز میں ہائی جیک کیے گئے طیاروں کو امریکی عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، بعد میں اسامہ بن لادن نے قندھار کے قریب ایک مقام پر اس منصوبے کی منظوری دی 11 ستمبر کے حملوں میں استعمال ہونے والی چار پروازوں کو ہائی جیک کرنے والے تمام 19 افراد نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپوں یا محفوظ ٹھکانوں میں وقت گزارا تھا۔

    امریکی اور دیگر سیکیورٹی حکام کے مطابق 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں انٹیلی جنس اور نگرانی کی صلاحیتیں کم ہوئی ہیں، جس کے باعث نئے تربیتی کیمپوں پر نظر رکھنا مشکل ہو گیا ہے،اس کے باوجود 2022 میں کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے ظاہر ہوا کہ امریکی انٹیلی جنس اور فضائی کارروائی کی کچھ صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں۔

    القاعدہ کی قیادت اب مصری شہری سیف العدل کے پاس ہے، جو 1988 میں افغانستان پہنچنے کے بعد کئی برس تک وہاں تربیتی کیمپ چلانے میں مدد کرتا رہا تاہم حکام کا خیال ہے کہ سیف العدل اب بھی ایران میں روپوش ہے۔

    ماہرین کے مطابق 11 ستمبر کے بعد دنیا بھر میں سخت کیے گئے سفری ریکارڈ، نگرانی اور دیگر سکیورٹی اقدامات کے باعث افغانستان کے تربیتی کیمپوں میں بیرون ملک سے آنے والے افراد پر نظر رکھنا آسان ہوگا،اسی وجہ سے القاعدہ اور داعش اب آن لائن بھرتی پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور مغربی ممالک میں موجود اپنے حامیوں کو مقامی طور پر اکیلے حملے کرنے پر اکسا رہے ہیں۔

  • افغانستان میں داعش خراسان اب بھی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے ،روس

    افغانستان میں داعش خراسان اب بھی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے ،روس

    روس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان اب بھی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان اور افریقہ کے بعض علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

    روسی مندوب نے کہا کہ مختلف خطوں کے درمیان غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور ایک علاقے میں حاصل ہونے والے جنگی تجربے کو دو سرے علاقوں تک منتقل کرنے کا چیلنج اب بھی حل نہیں کیا جا سکا، دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈے، مالی معاونت اور حملوں کی منصوبہ بندی و رابطہ کا ری کے لیے نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی نیٹ ورکس کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہی ہیں۔

    انہوں نے ان خطرات کو سرحدوں سے ماورا قرار دیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیاروسی مندوب نے کہا کہ داعش خراسان نے گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں کئی مہلک حملے کیے ہیں اور افغانستان سے باہر بھی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

    انہوں نے 22 مارچ 2024 کو ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر ہونے والے دہشتگرد حملے کو بھی نمایاں مثال قرار دیا، جس میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے تھے اور داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی،ایسے واقعات نے عالمی سطح پر اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ افغانستان ایک با ر پھر دہشتگردی کو دوسرے ممالک تک منتقل کرنے کا مرکز بن سکتا ہے۔

  • گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے ،پاکستانی مندوب

    گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے ،پاکستانی مندوب

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ابھرنے والی دہشتگردی اور کالعدم تحریک طالبان پاکسان (ٹی ٹی پی )، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی( بی ایل اے) سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب کے دفتر جاری اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں نائن الیون حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر سلامتی کونسل کی خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے 9/11 کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں 7 پاکستانی بھی شامل تھے۔

    انہوں نے امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں،اس صدی کے آغاز سے اب تک سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 90 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی فعال انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کے باعث ہی ممکن ہوئیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے آج دنیا کو دائیں بازو کی انتہا پسندی، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دہشتگردی کے تسلسل کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے بڑھتے استعمال جیسے نئے اور سنگین خطرات کا سامنا ہے،مناسب ریگولیشن کی عدم موجودگی میں یہ خطرہ مزید کئی گنا بڑھ جائے گا۔

    عاصم افتخار نے افغانستان سے ابھرنے والی دہشتگردی پر خصوصی اور شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ محض گزشتہ 3 برسوں کے دوران 4700 سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کے ان واقعات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جن کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسی تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔

    دہشتگردی کی بنیادی وجوہات پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ انسدادِ گردی کی عالمی حکمت عملی کے تمام ستونوں پر متوازن عملدرآمد ناگزیر ہے انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والے عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے والی غاصب قوتوں کا بھی ہر صورت احتساب ہونا چاہیے اور انہیں ریاستی جبر کی کھلی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔

  • افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی۔

    پی ایم ڈی سی کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کیلئے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے افغان طلبہ کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کریں۔

    موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے میڈیکل، ڈینٹل داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، افغان شہریوں کو میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت نہیں ہو گی فغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کی جائے، میڈیکل و ڈینٹل ادارے سابقہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کریں۔

    تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے والے اداروں کو 3 روز میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ، ہدایات پر عمل نہ کرنے، معلومات چھپانے یا غیر مجاز سہولت کاری پر کارروائی ہو گی، پی ایم ڈی سی کے مطابق خلاف ورزی پر پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی ہوسکتی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلا ت کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے،بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انہیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کرے۔

    سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ وہ اپنے دور اندیشی سے عاری اور سیاسی محرکات پر مبنی فیصلے کو واپس لے، جس کے ذریعے افغان طلبہ کو تعلیم کے حصول کی ان کی جائز کوشش سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اپنے ماضی کے اُس انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کے بھی منافی ہے، جب پاکستان ایک مثالی میزبان ملک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دروازے بند کرنا غلط پالیسی ہے!

    افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصوراحمد خان نے بھی ایکس پر کہا کہ میں پی ایم ڈی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ افغان طلبہ کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلوں سے متعلق اپنے فیصلے پر انسانی ہمدردی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تہذیبی و تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کرے، ان طلبہ کو اپنی متعلقہ ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کی تعلیم مکمل ہوتے ہی انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔

  • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید

    خواتین کیخلاف امتیازی پالیسیاں،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے افغان طالبا ن رجیم پرشدید تنقید کی-

    طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان میں خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی کا سلسلہ بدستور جاری ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان میں خواتین کیخلاف ناانصافی اورپابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ کردیا.

    یواین سیکریٹری جنرل نے طالبان رجیم میں افغان خواتین کیخلاف غیرمنصفانہ پالیسیوں پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے خوا تین کیخلا ف امتیازی پالیسیاں ان کی زندگی کے ہرشعبے کو متاثرکررہی ہیں، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیاں افغان عورتوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،افغان خواتین پرپابندیاں افغانستان کی معاشی ترقی، استحکام اورعالمی انضمام میں بڑی رکاوٹ ہیں، افغان خواتین کےاقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پرعائد پابندی فوری طورپرختم کی جائے.

    ماہرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کی تعلیم اورروزگارپرعائد سخت پابندیوں نے انسانی حقوق کی صورتحال کوتشویشناک حد تک سنگین بنا دیا ہے،طالبان رجیم کے زیراثرافغانستان میں انسانی حقوق اورسیاسی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال بدستوردنیا کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے.

  • افغان شہریوں کے لیے ویزوں کے دوبارہ اجرا کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،پاکستان

    افغان شہریوں کے لیے ویزوں کے دوبارہ اجرا کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،پاکستان

    پاکستان نے افغانستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسانی بنیادوں پر ویزوں کا دوبارہ اجرا شروع کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

    پاکستان کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو شکریہ کے تحفے کے طور پر دہشتگردی ہی ملی، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی جب تک ایسا نہیں ہوتا، افغانستان کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ معطل رہے گا۔

    پاکستان کے مطابق، جب تک افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور موثر کارروائی نہیں کرتا، دو طرفہ تعلقات اور رابطوں میں لچک پیدا نہیں کی جا سکتی۔

    پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پہلی ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی سلامتی ہے، انسانی ہمدردی کے تقاضے قومی سلامتی کی قیمت پر پورے نہیں کیے جا سکتے افغانستان سے مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے پیش نظر پاکستان قبل از وقت ویزا سہولیات دوبارہ شروع کرکے سیکیورٹی خطرات مول نہیں لے سکتا۔

    پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کو افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی د ہشتگرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے،ایک پاکستانی فرد کی جان و سلامتی پورے افغانستان سے زیادہ اہم ہے،یہ تمام مسائل ا فغان طالبان حکومت کی دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دہشتگردی میں ملوث اپنے بھا ئیوں کو ترجیح دیتی ہے۔

  • گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کیخلاف کارروائیاں،74 طالبان ہلاک اور 35 زخمی،افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ

    گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کیخلاف کارروائیاں،74 طالبان ہلاک اور 35 زخمی،افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ

    افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک کے 14 صوبوں میں طالبان کے خلاف کم از کم 43 کارروائیاں کیں، جن میں 74 طالبان ارکان ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔

    افغان انٹرنیشنل کے مطابق یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست سے اگست کے اختتام تک جاری رہنے والی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں ان طالبان ارکان کو نشانہ بنایا گیا جن پر افغان شہریوں کی گرفتاری، تشدد اور ہراساں کرنے کے الزامات ہیں۔

    یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان ہلال کاکڑ نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ سب سے اہم کارروائی قندھار میں طالبان کے ایک فوجی کور پر براہِ راست حملہ تھا، جبکہ سب سے بڑا حملہ ہلمند کے ضلع نوزاد میں ایک فوجی اڈے پر کیا گیا،کارروائیوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچا جبکہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے کچھ گولہ بارود بھی قبضے میں لیا،فرنٹ افغان عوام کو طالبان سے نجات دلانے اور ایک خوشحال و آزاد افغانستان کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔

    یونائیٹڈ فرنٹ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے خاتمے اور عوام کی مرضی پر مبنی نظام حکومت کی بحالی تک وہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے فرنٹ نے گزشتہ ماہ قندھار، ہلمند، بادغیس، غور اور فریاب سمیت مختلف علاقوں میں حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں مبینہ طور پر ہلاک طالبان ارکان کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔

    سابق افغان فوجی کمانڈر سمیع سادات کی قیادت میں یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست کو طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

  • یورپ کے کئی ممالک میں جرائم پیشہ افغان باشندوں کیخلاف  کریک ڈاؤن میں تیزی

    یورپ کے کئی ممالک میں جرائم پیشہ افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی

    جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک نے منشیات، انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کردیا.

    جرمن وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی نے مزید 23 افغان باشندوں کو لیپزگ سے چارٹر پرواز کے ذریعے کابل ڈی پورٹ کردیا،ڈی پورٹ کیے گئے افغان باشندوں کی اکثریت سنگین جرائم میں ملوث اور سزا یافتہ ہے، جرمن وزیر داخلہ الیکگزینڈر وڈ برنٹ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ مستقبل میں صرف مجرم ہی نہیں بلکہ انہیں بھی ڈی پورٹ کیا جائے گا جنہیں جرمنی چھوڑنے کا حکم دیا جا چکا ہے.

    اس سے قبل 28 جولائی 2026 کو بھی جرمنی نے 31 افغان شہریوں کو افغانستان ڈی پورٹ کردیا تھا.

  • طالبان حکومت نے افغانستان میں ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی لگا دی

    طالبان حکومت نے افغانستان میں ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی لگا دی

    افغانستان میں طالبان حکومت نے ہر قسم کے مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

    افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے 22 اگست کو پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا، جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ قانون کی منظوری طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ نے دی ہے، طالبان کی وزارتِ داخلہ کو اس قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    نئے قانون میں پولیس کے لیے ’شرطہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، قانون 53 دفعات پر مشتمل ہے اور اس کی دفعہ 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’پورے افغانستان میں تمام مظاہرے ممنوع ہیں،قانون میں ’’شرطہ‘‘ یعنی پولیس کے فرائض اور اختیارات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی حکام، عدالتوں کی ذمہ داریاں اور افراد پر عائد پابندیوں کی وضاحت کی گئی ہے۔

    پولیس کو سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے، ہوائی اڈوں اور ان کی تنصیبات کی حفاظت، غیر مجاز اسلحے اور گولہ بارود رکھنے و استعمال کی روک تھام، حادثات اور ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو بچانے کے اقدامات کرنے اور عوام کی املاک و اثاثوں کے تحفظ سمیت مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

    قانون میں ’’صاحب الشرطہ‘‘ یا سکیورٹی اہلکار کی تعریف ایسے شخص کے طور پر کی گئی ہے جسے طالبان کے سربراہ کی جانب سے وزارتِ داخلہ میں دارالحکومت اور صوبوں میں سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران عوامی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، تشدد اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

    طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر چکے ہیں ، طالبان حکومت سیاسی جماعتوں و تحریکوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کو تسلیم نہیں کرتی۔

  • افغانستان میں خواتین کے حقوق اور انسانی بحران مزید سنگین

    افغانستان میں خواتین کے حقوق اور انسانی بحران مزید سنگین

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہوگئے، اس عرصے کے دوران ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال اور انسانی بحران مزید سنگین ہوگیاہے-

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت میں بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق مسلسل محدود کیے جا رہے ہیں اور انہیں تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اپنے فیصلے کرنے کی آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے یونیسکو کے مطابق اس وقت افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔

    رپورٹ میں افغانستان کے بچوں کی غذائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر 10 افغان بچوں میں سے ایک شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جس سے ملک میں جاری انسانی بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین سے متعلق پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے عالمی برادری سے مالی معاونت برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی افغانستان میں خواتین کے لیے خصوصی نمائندہ سوزن فرگوسن نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خواتین کے لیے کام کرنے والی 74 تنظیموں میں سے تقریباً نصف کو اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔

    سوزن فرگوسن کے مطابق افغانستان کے لیے 1.7 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل کی گئی تھی، تاہم اب تک اس رقم کا صرف 25 فیصد ہی فراہم کیا جا سکا ہےگزشتہ سال افغانستان میں خواتین کے لیے کام کرنے والی تین چوتھائی تنظیموں کو فنڈنگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، افغانستان اس وقت خواتین کے حقوق کے شدید بحران سے گزر رہا ہے، اس لیے حکومتوں اور عالمی عطیہ دہندگان کو افغان خواتین کے لیے مالی معاونت جاری رکھنی چاہیے تاکہ ان کے لیے ضروری پروگرام مکمل طور پر بند نہ ہوں۔

    سوزن فرگوسن کے مطابق طالبان حکومت خواتین کے حقوق محدود کرنے والے 100 سے زائد احکامات جاری کرچکی ہے ان پابندیوں کے تحت افغان لڑکیوں کو ثانوی اسکول اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے، جس کے باعث ملک کی خواتین اور لڑکیوں کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔