اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نےکہا ہےکہ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر عارضی وقفے کے اعلان کے باوجود افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور دراندازی کی کوششیں بلا تعطل جاری رہیں، مارچ میں پاکستان کے جنگ بندی اقدام کے باوجود افغانستان سے حملے جاری رہے، افغان طالبان کی بلااشتعال سرحد پار فائرنگ اور دہشتگرد کارروائیوں میں 52 شہری شہید اور 84 افراد زخمی ہوئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کار ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں ترجمان نے افغان حکام کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اصولی مؤقف کی روشنی میں دیکھے اور حقائق پر مبنی غیر جانبدار رائے اختیار کرے۔









