Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • ہم حاضرہم قربان:اے اہل پاکستان:دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہونےکی کوشش ناکام:4جوان وطن پرقربان

    ہم حاضرہم قربان:اے اہل پاکستان:دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہونےکی کوشش ناکام:4جوان وطن پرقربان

    راولپنڈی: دہشت گردوں کی شمالی وزیرستان کے راستے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں 4 سپاہی شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے حسن خیل کے مقام پر افغانستان سے داخلے کی کوشش کی، سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کوشش ناکام بنادی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کو بھاگتے ہوئے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، فائرنگ کے تبادلے میں 4 سپاہی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں حوالدار وجاہت عالم، سپاہی ساجد عنایت، سپاہی مقبوول حیات اور سپاہی ساجد علی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    واضح رہے کہ 11 مارچ کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، مارے گئے دہشت گرد متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    مقامی لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھر پور تعاون کا اظہار کیا۔

  • افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے   وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان کی حکومت نے اسلام آباد میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں وزیرخارجہ امیرخان متقی کے بجائے اپنے نمائندے کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا جہاں افغانستان کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ تھا ۔

    اس حوالے سے افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا تاکل کا کہنا تھا کہ وزارت کے حکام نے محمد اکبر عظیمی کو نامزد کیا ہے جو اسلام آباد میں اجلاس میں طالبان حکومت کے وفد کی قیادت کریں گے۔اور پھرمحمد اکبرعظیمی نے شرکت کی

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ قبل ازیں طالبان حکومت نے دسمبر میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیرخارجہ امیرخان متقی کو بھیج دیا تھا۔

    اسلام آباد میں اوآئی سی کے گزشتہ اجلاس میں وزرائے خارجہ کے گروپ فوٹو میں افغان وزیرخارجہ کی عدم موجودگی پر اجلاس میں ان کی شرکت سے متعلق بڑی بحث ہوئی تھی جبکہ افغانستان کی نشست بدستور خالی تھی اور امیر متقی آخری قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔

    اس مرتبہ افغآن طالبان حکومت نے اب او آئی سی اجلاس میں اپنی شرکت کو کم سطح پر کیوں رکھا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ چونکہ ابھی تک افغآنستان کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا اس لیے او آئی سی کے منتظمین نےیہ فیصلہ کیا کہ افغآنستان کواس حد تک اہمیت دی جوباعث نزاع نہ بنے ، انہیں‌ اصولوں کے پیش نظر افغان حکومت کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کے بجائے افغان وزارت خارجہ کے عہدیدار کو بھیجا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ او آئی سی کے تمام 57 اراکین میں سے کسی ریاست نے تاحال طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کی ہے۔اقوام متحدہ کی طرح افغانستان کی نشست سرکاری سطح پر تاحال اشرف غنی کی سابق حکومت سے جڑی ہوئی ہے۔

    دوسری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انسانی بنیاد پر اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے زیرانتظام ایک فلاحی فنڈ بھی تشکیل دیا جارہا ہے، جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے افغانستان میں انسانی مددکے لیے براہ راست استعمال کیا جائے گا۔

    اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طحہ نے دسمبر میں منعقدہ اجلاس میں او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ، آئی ایس ڈی بی، ٹرسٹ فنڈ سے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر فنڈ کے لیے درخواست کی تھی کہ انسانی بنیادوں پر مالیاتی بہاؤ اور بینکنگ چینلز بحال کرنے ک لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے علاوہ ایران اور بنگلہ دیش نے بھی اپنے وزرائے خارجہ کو اس اہم ایونٹ میں شرکت کے لیے نہیں بھیجا بلکہ وزارت خارجہ کے سینیئر افسران کو بھیجا ہے

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔

  • ازبکستان کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات

    ازبکستان کے نائب وزیر خارجہ فرقت صدیقوف نے آج جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف (COAS) جنرل قمر جاوید باجا سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جس کی جڑیں مذہبی وابستگی، مشترکہ اقدار، جیو سٹریٹجک اہمیت، باہمی فائدہ مند اور بڑھے ہوئے اقتصادی اور دفاعی تعاون کے امکانات ہیں۔ دونوں نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے کوششوں سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

    معزز مہمان نے علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے او آئی سی کی 48ویں وزرائے خارجہ کونسل کی میزبانی پر پاکستان کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

    قبل ازیں مصر کے وزیر خارجہ سمیح حسن شکری نے آج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاع و سلامتی کے تمام شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان حقیقی برادرانہ تعلقات ہیں اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔


    او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی 48 ویں کونسل کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے،آرمی چیف نے اسے افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے اور عالمی برادری کو ایک مشترکہ وژن اور مشترکہ حکمت عملی پر لانے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا تاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا حل تلاش کیا جا سکے۔

    مصری وزیر خارجہ نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    انہوں نے او آئی سی کی 48 ویں وزرائے خارجہ کونسل کی میزبانی پر پاکستان کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔

  • یوم خواتین پرطالبان نےخواتین تنظیموں کوخون کےعطیات کی مہم سے روک دیا

    یوم خواتین پرطالبان نےخواتین تنظیموں کوخون کےعطیات کی مہم سے روک دیا

    کابل: افغانستان میں عالمی یوم خواتین پر سماجی تنظیموں کی جانب سے خون کے عطیات کی مہم کو روک دیا۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا تاہم افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کو ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی بلکہ خون کے عطیات جمع کرنے کی مہم کو بھی روک دیا۔

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع…

    افغان دارالحکومت کابل میں خواتین کے حقوق کی تنظیم کے ارکان معروف اسپتال کے باہر خون کے عطیات جمع کر رہے تھے اسپتال انتظامیہ نے بھی اجازت دے دی تھی تاہم بعد میں کیمپ کو بند کروا دیا گیا۔

    تنظیم کی سربراہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پہلے ان کا ارادہ خواتین کے عالمی دن پر ایک مظاہرہ کرنا تھا جس میں طالبان کی جانب سے خواتین پر تعلیم، مکازمت اور کاروبار کے دروازے بند کرنے کے خلاف احتجاج کیا جاتا۔

    چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    تاہم طالبان کی جانب سے احتجاج پر کریک ڈاؤن یا تشدد کے باعث احتجاج کے بجائے خون کا عطیات جمع کرنے کی مہم کا فیصلہ کیا لیکن اسے بھی بند کرادیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےعالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ یوم خواتین افغانستان کی خواتین کے لئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے کا اچھا موقع ہے افغان خواتین کوشریعت کے مطابق حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں ہم اپنی افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرتے ہیں، انشاء اللہ

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

  • یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    کابل: خواتین کے عالمی دن کے موقع پرافغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ حکومت خواتین کومذہبی حقوق دینے کے لئے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےعالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یوم خواتین افغانستان کی خواتین کے لئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل


    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ افغان خواتین کوشریعت کے مطابق حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں ہم اپنی افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرتے ہیں، انشاء اللہ


    گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت نے خواتین کوشرعی حدود میں رہتے ہوئے حقوق دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    عالمی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں بیک وقت منایا جاتا ہےعالمی یوم خواتین کا آغاز سوا ایک صدی قبل 1909 سے ہوا تھا، اس دن کو منانے کا آغاز 1908 سے قبل امریکی فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کی جانب سے اپنی تنخواہ مرد حضرات کے برابر کرنے کے لیے کیے گئے احتجاجوں کے بعد ہوا۔

    عورت مارچ کی جانب سے مطالبات سامنے آ گئے

    خواتین کے احتجاج کے بعد ہی وویمن نیشنل کمیشن بنایا گیا، جس کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تحریک چلائی گئی اور پہلی بار فروری 1909 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا لیکن بعد ازاں اس دن کو 8 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ (یو این) نے بھی 1977 میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی منظوری دی اور تب سے اس دن کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جانے لگا ہے۔

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

  • عراق و افغانستان پر حملوں کے فیصلے میں غلط ہوسکتا ہوں، ٹونی بلیئر

    عراق و افغانستان پر حملوں کے فیصلے میں غلط ہوسکتا ہوں، ٹونی بلیئر

    لندن: برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عراق اور افغانستان پر حملوں کے حوالے سے غلط ہوں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے بی بی سی ریڈیو فور کو انٹرویو دیتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ عراق اور افغانستان کے بارے میں غلط ہوں مگر انہوں ںے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے عراق اور افغانستان پر حملوں کے فیصلوں کا بھرپور دفاع بھی کیا۔

    ٹونی بلیئر کیتھولک عقیدے کے حامل ہیں۔ انھوں نے موسٹ ریورینڈ جسٹن ویلبی کو بتایا کہ ان کے عقیدے نے انھیں اس حقیقت سے سمجھوتے میں مدد دی تھی کہ لوگ اُنھیں ناپسند کرتے ہیں۔

    ٹونی بلیئر نے کہا کہ انھوں نے جو فیصلے کیے وہ پیچیدہ تھے انھوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ان سیاست دانوں پر بھروسہ نہ کریں جو انھیں ’سادہ نعرے‘ دیتے ہیں مجھے وہی کرنا تھا جو میں صحیح سمجھتا تھا۔

    انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں ٹونی بلیئیر نے کہا کہ سیاسی رہنما کا یہ کردار ہی نہیں ہے کہ وہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی برائی کی جڑ کو اکھاڑ پھینکیں اس وقت جو صحیح لگا وہ فیصلہ کیا لیکن ہو سکتا ہے کہ عراق اور افغانستان پر حملوں کے فیصلے میں غلط ہوں۔

    برطانیہ کے بعد عرب امارات میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کی شامت آگئی

    ان فیصلوں کے نتیجے میں کچھ لوگوں کی جانب سے انھیں ناپسند کیے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر بلیئر نے کہا میرے نزدیک مسیحی عقیدے کے بارے میں سب سے زیادہ طاقتور چیز، یا شاید آپ عام طور پر کسی بھی مذہبی عقیدے کے بارے میں کہہ سکتے ہیں، یہ ہے کہ آپ کسی بڑی اور وسیع چیز کو خود سے زیادہ اہم تسلیم کرتے ہیں۔

    ٹونی بلیئر نے کہا کہ فیصلے کا صحیح یا غلط ہونا ایک علیحدہ بات ہے بڑے فیصلوں میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں شامل تمام عناصر کیا ہیں؟-

    انہوں نے کہا کہ مجھے اکثر لگتا ہے کہ میرے اور مثال کے طور پر کسی مسلمان کے درمیان زیادہ قدریں مشترک ہوں گی کیونکہ وہ بھی صاحبانِ ایمان ہیں۔ ایسا اُن لوگوں کے ساتھ نہیں ہو گا جو (عقیدے کو) صرف دکھاوے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    احساس جرم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلیئر نے کہا جب آپ سے کچھ غلط ہوا ہو تو آپ کو اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیےمیرے خیال میں سیاست میں آپ ایسا کر سکتے ہیں میرے خیال میں اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو لوگ آپ کی زیادہ عزت کرتے ہیں سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جو درحقیقت بہت پیچیدہ ہے، اس میں لوگ سادگی کی تلاش کرتے ہیں۔

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ’کم از کم اس پیچیدگی کی حقیقت کا احترام کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ اسے کسی سادہ نعرے تک محدود کر دیا جائے کیونکہ جن سیاستدانوں پر آپ کو واقعی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے وہ ایسے لوگ ہیں جو آ کر آپ کو سادہ نعرے سناتے ہیں۔

    انٹرویو میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ یوکرین یورپ کی دہلیز پر ایک آزاد و خود مختار ملک ہے ان کا کہنا تھا کہ اس پر حملہ اور قبضہ ہمارے مفادات کے خلاف ہے۔

    دنیا بھر کے دیگر تنازعات میں مداخلت کرنے کے اپنے فیصلوں پر انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کے بارے میں دانائی پر مبنی نظریے کا مطلب ہے کہ آپ کے لیے یہ بہتر ہے کہ آپ کسی ایسی چیز کو روکنے کے لیے کام کریں جو بالآخر کہیں نہ کہیں آپ کو متاثر کر سکتی ہے

    انہوں نے کہا جب آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے کہ جس میں آپ کو یہ یقین ہو کہ آپ کے ملک کے مفادات کے لیے یہ ضروری ہےکہ آپ کسی برے واقعے کوروکیں، تو آپ کےلیے یہ ضروری ہےکہ آپ اس کے لیے کھڑے ہوں، اور آپ اسے روکنے کے لیےضروری اقدام کریں۔

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

  • ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والے سراج الدین حقانی پہلی بار منظر عام پر آگئے۔

    باغی ٹی وی : تفسیلات کے مطابق کابل میں طالبان حکومت میں بڑی سطح پرپہلی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں امارت اسلامیہ پولیس نے نئے یونیفارم کے ساتھ شرکت کی سراج حقانی کابل میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں میڈیا اور عوام کے سامنے آئے۔

    طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    طالبان حکومت کی وزارت اطلاعات نے تصدیق کی کہ سراج حقانی پہلی مرتبہ عوام اور میڈیا پر آئے ہیں، نائب افغان وزیر اعظم ملا عبد الغنی برادر کے پرنسپل سیکریٹری عبداللہ عظام نے سراج حقانی کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

    وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب بھی کیا اور خطاب میں افغانستان چھوڑنے والوں کو کہا کہ وہ وطن واپس آجائیں۔

    سراج حقانی نے کابل میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہماری جدوجہد اور واحد آرزو اسلامی نظام کا قیام رہی۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

    انہوں نے کہا کہ جو شہری افغانستان سے باہر جاچکے ہیں وہ اپنے ملک واپس آجائیں، عام معافی کے اعلان کے تحت تمام شہریوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

    سراج حقانی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ کابل اور دیگر شہروں میں کلیئرنس آپریشن کے دوران پولیس اہلکار شہریوں سے نرم رویہ رکھیں اور اگر آپریشن کلین اپ کے دوران کسی شہری سے کوئی بھی مسئلہ ہو تو علماء سے مشاورت کریں۔

    کابل:آپریشن کلین اپ میں 9 اغوا کاروں سمیت 68 جرائم پیشہ افراد گرفتار

    خیال رہے کہ افغانستان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پولیس اکیڈمی کی تقریب میں سراج الدین حقانی کو پہلی مرتبہ لائیو دکھایا اس سے پہلے سراج حقانی کی صرف ایک مبہم تصویر میڈیا پر تھی، سراج حقانی آج سے پہلے ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی تصویر یا ویڈیو میڈیا پر نہ آئے۔

    طالبان کی امریکا سے جنگ کے دوران امریکا نے سراج حقانی کو انتہائی مطلوب شخص قرار سخص قرار دے رکھا تھا،اور ان کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام تھا سراج حقانی اب بھی امریکا اور اقوام متحدہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

  • افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد

    افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد

    نیویارک : افغان طالبان کی توجہ روس امریکہ جنگ سے ہٹانےکےلیے افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر امداد ،اطلاعات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک نے انسانی ہمدردی کے تناظر میں افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم طالبان حکومت کے کنٹرول میں جانے کے بجائے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مختص کی گئی امداد افغانستان ریکنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ میں سے ہیں اور یہ گذشتہ دسمبر میں ادا کیے گئے 28 کروڑ ڈالر اے آر ٹی ایف فنڈز کے علاوہ ہے، جس کا مقصد سردیوں کے مہینوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کی مدد کرنا تھا۔

    واشنگٹن میں قائم ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فنڈز گرانٹس کی شکل میں فراہم کیے جائیں گے جس کا مقصد ضروری بنیادی خدمات کی فراہمی میں مدد، کمزور افغان عوام کے تحفظ، انسانی سرمائے اور اہم اقتصادی اور سماجی خدمات کے تحفظ میں مدد اور مستقبل میں انسانی امداد کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔‘ ورلڈ بینک نے گذشتہ اگست کے آخر میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کابل کو دی جانے والی اپنی امداد معطل کر دی تھی۔ اے آر ٹی ایف ایک ملٹی ڈونر فنڈ ہے جو لاکھوں افغانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی امداد کو مربوط بناتا ہے اور ڈونر پارٹنرز کی جانب سے عالمی بینک اس کا انتظام کرتا ہے۔

    اے آر ٹی ایف طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تک افغانستان کے لیے ترقیاتی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا جو حکومت کے بجٹ کو 30 فیصد تک مالی اعانت فراہم کرتا تھا۔ عالمی بینک طالبان حکومت کو براہ راست رقم فراہم کرنے سے قاصر ہے جسے بین الاقوامی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے، اس لیے بینک نے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فنڈز اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف جیسی تنظیموں کو بھیجے ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی بڑی آبادی کو خوراک کی قلت اور بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ ’اس نئی امداد کا مقصد ’کمزور افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور انسانی سرمائے اور اہم اقتصادی اور سماجی خدمات کے تحفظ میں مدد کرنا ہے۔‘

    امداد کے بغیر پہلا بجٹ اس تمام صورتحال کے باوجود طالبان حکومت نے دو دہائیوں میں پہلی بار غیر ملکی امداد پر انحصار کیے بغیر 17 دسمبر 2021 کو اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تھا۔ ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بجٹ کو منظر عام پر لانے سے قبل منظوری کے لیے کابینہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ گذشتہ برس طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد عالمی ڈونرز نے افغانستان کی مالی امداد روک دی تھی اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں نے بھی کابل کے بیرون ملک موجود اربوں ڈالرز کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ سال 2021 میں اشرف غنی کی حکومت کے آخری بجٹ کو آئی ایم ایف کی رہنمائی کے تحت بنایا گیا تھا جس کو 219 ارب افغانی (اس وقت 2.7 ارب ڈالر) کی امداد اور 217 ارب افغانی ملکی آمدنی کے باوجود خسارے کا سامنا تھا۔

  • طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے اصولوں‘ کے مطابق اگر خواتین بیرون ملک سفر کرتی ہیں تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی :طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص بغیر کسی معقول وجہ کے افغانستان نہیں چھوڑ سکتا اور ایسے سفر کو روکا جائے گا خواتین ’مذہبی عذر کے بغیر‘ ملک کو تنہا نہیں چھوڑ سکتیں اور خواتین طالبات کے لیے افغانستان سے باہر سفر کرنے کا حل تلاش کیا جائے گا۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

    فرانس 24 کے مطابق کہ ملک چھوڑنے سے ان افراد کو روکا جا رہا ہے جن کے پاس اس کی کوئی خاص یا ٹھوس وجہ نہیں ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ کہ بنا کسی ٹھوس یا معقول وجہ کے ملک چھوڑنے والے افراد یا خاندانوں کو ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام روک دیں گے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے اصولوں‘ کے مطابق اگر خواتین بیرون ملک سفر کرتی ہیں تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے اور یہی شریعت کا بھی قانون ہے ’جو لڑکیاں سکالرشپ حاصل کرتی ہیں اور انہیں تعلیم کے لیے دوسرے ممالک جانا پڑتا ہےان کےلیے بیرون ملک جانے کا ایک طریقہ کار بنایا جائے گا۔

    تاہم بیرون ملک سفر کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں بڑی تعداد انسانی حقوق کے کارکنوں اور افغانستان کے اندر مطلوب افراد کی ہے جو ملک سے باہر جانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

    کابل:آپریشن کلین اپ میں 9 اغوا کاروں سمیت 68 جرائم پیشہ افراد گرفتار

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ بیرون ملک افغان پناہ گزین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے انخلا کا عمل روک دیا جائے گا بیرون ممالک میں کچھ افغان انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ (طالبان) نہیں چاہتے کہ دوسرے افغانوں کا بھی ایسا ہی انجام ہو۔

    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سفری پابندیاں اس وقت تک عائد رہیں گی جب تک یقین دہانی نہ کرا دی جائے کہ بیرون ملک جانے والے افغانوں کی زندگیوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت نے کبھی بھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ انخلا کا عمل غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ہم نے کہا تھا کہ امریکہ ان افراد کو لے کر جا سکتا ہے جن کے متعلق اسے تشویش ہے لیکن یہ وعدہ ہمیشہ برقرار تو نہیں رہے گا۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اعلان کردہ نئی سفری پابندیوں سے وہ افغان شہری سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جنہوں نے غیر ملکی افواج یا تنظیموں کے ساتھ ماضی میں کام کیا تھا اور اس وقت پوری امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ بیرون ملک پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ایسے افغان شہریوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اعداد و شمار کے تحت 31 اگست تک ایک لاکھ 20 ہزار افغان اور دہری شہریت رکھنے والے افراد کو افغانستان سے نکلنے میں مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    واضح رہے کہ خواتین پر پہلے ہی شہروں اور قصبوں کے درمیان سفر کرنے پر پابندی ہے جب تک کہ کسی قریبی مرد رشتہ دار کے ساتھ نہ ہوں طالبان نے گذشتہ سال دسمبر میں ملک کے اندر خواتین کے سفر کے حوالے سے سلسلہ وار حکم نامے جاری کیے تھےاس وقت، طالبان کی وزارتِ کمان اور امتناع کی طرف سے ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا، جسے گاڑی چلانے والوں میں تقسیم کیا گیا تھا، اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔

    اس ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیوروں کو گاڑی میں بے پردہ خواتین کو نہیں بٹھانا چاہیے، گاڑی میں میوزک نہیں بجانا چاہیے اور جو خواتین پانچ کلومیٹر سے زیادہ سفر کر چکی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی ہم سفر نہیں ہے انہیں گاڑی میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    طالبان کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ کابل اور دیگر علاقوں میں گھر گھر تلاشی کا مقصد کابل اور دیگر شمالی صوبوں میں ’کلیئرنگ آپریشنز‘ تھا تاکہ افغان تاجروں اور شہریوں کے تحفظ کو بہتر طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد