Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • کابل کے ہائی سکول میں 3 دھماکے ،4 افراد ہلاک ،متعدد زخمی

    کابل کے ہائی سکول میں 3 دھماکے ،4 افراد ہلاک ،متعدد زخمی

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک ہائی اسکول میں دھماکوں میں 4 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل کے ایک ہائی اسکول میں 3 دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔

    اسرائیل نے ’آئرن بیم‘ میزائل شکن لیزر سسٹم تیار کر لیا

    کابل میں پہلا دھماکہ ٹریننگ سینٹر کے باہر ہوا، جبکہ دوسرا دھماکہ اسکول کے قریب ہوا جب طلبا باہر آرہے تھے،تیسرا دھماکا بھی اسی وقت سکول کے قریب ہوا-

    روس کا یوکرینی شہر لیووف پر میزائل حملہ،6 افراد ہلاک متعدد زخمی

    دھماکوں کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کوگھیرے میں لے کرناکہ بندی کردی ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اب تک کسی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    اگر اسرائیل نے ایران کیخلاف کوئی قدم اٹھایا تو اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے،ایرانی صدر

    افغانستان کے وزیر داخلہ نے، عبدالرحیم شہید ہائی اسکول کے قریب دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی-

    کابل کے کمانڈر کے ترجمان خالد زدران نے کہا کہ ‘ایک ہائی سکول میں تین دھماکے ہوئے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصٰی میں تشدد کا مسلسل چوتھا روز، یہودیوں کی عبادت کیلئے…

  • افغانستان کے دو صوبوں میں بم دھماکے، 6 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    افغانستان کے دو صوبوں میں بم دھماکے، 6 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کابل: افغانستان کے دو صوبوں ہرات اور ہلمند میں ہونے والے 2 بم دھماکوں میں 6 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے شہر ہرات میں کھیل کے ایک میدان میں اس وقت دو بم دھماکے ہوئے جب وہاں نوجوان اور بچے کھیل رہے تھے بم دھماکوں میں ایک بچہ اور 5 نوجوان جاں بحق ہوگئے جب کہ 3 لڑکے شدید زخمی ہوگئے جنھیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے میدان میں دو بم اور بھی نصب تھے جنھیں بم ڈسپوزل کے عملے نے ناکارہ بنادیا۔

    ایم نائن موٹر وے پر تیز رفتار کار الٹنے سے ماں بیٹا جاں بحق،5 افراد زخمی

    جطالبان کے ایک عہدیدار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ نوبی صوبے ہلمند میں بھی کھیل کے ایک میدان میں مارٹر گولہ پڑا تھا جسے ناکارہ سمجھ کر بچے کھیل رہے تھے اور اسی دوران گولہ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 5 بچے جاں بحق ہوگئے اس واقعے میں دو بچے زخمی بھی ہوئے، جن کا ایک مقامی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

    طالبان اہلکاروں نے دونوں واقعات کے بعد جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہرات میں پھٹنے والے بم بارودی سرنگ تھیں جو زیر زمین بچھائی گئی تھی۔

    طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ہرات کے کھیل کے میدان میں پھٹنے والے بم حال ہی میں نصب کیے گئے تھے۔ تاہم ہلمند میں ہونے والا دھماکہ ایک حادثہ معلوم ہوتا ہے۔

    کوٹری: اسٹیشن کے قریب ریلوے مین لائن دھماکے سے اڑا دی گئی،ابتدائی تفتیش کے بعد…

    ہرات میں طالبان کے مقرر کردہ انٹیلیجنس دفتر کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حال ہی میں کھیل کے اس میدان میں موجود نہ پھٹنے والا گولہ بارود وہاں سے صاف کر دیا گيا تھا، جس کے بعد اس میدان کو محفوظ قرار دے دیا گيا تھا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ جو بم پھٹے، وہ وہاں کھیلنے کے لیے جانے والے بچوں اور نوجوانوں کے گروپ پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ہی نصب کیے گئے تھے فوری طور پر کسی بھی گروپ نے ہرات میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    گزشتہ برس اگست میں کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے ہی طالبان کو دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے شدت پسندوں کے خونریز حملوں کا سامنا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کا انوکھا کارنامہ ، گرفتار کئے گئے مبینہ دہشت گرد کے اغوا کا…

    طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغان معاشرے میں معاشی بحران بھی شدید تر ہو چکا ہے اور اس صورت حال میں بہت سے افغان بچے اپنے اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے دھاتی کوڑا کرکٹ جمع اور پھر اسے فروخت کر کے روزی روٹی کمانے پر مجبور ہیں۔

    دہائیوں سے جنگ زدہ ملک افغانستان میں زیر زمین بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا ہے جن کا شکار عمومی طور پر بچے ہوجاتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کے گھر پر حملہ :حملہ کرنے والے کون؟جان کرہرکوئی حیران

  • طالبان کا یکم رمضان کو ملک میں عام تعطیل کا اعلان

    طالبان کا یکم رمضان کو ملک میں عام تعطیل کا اعلان

    کابل: افغانستان کی نئی حکومت نے رمضان المبارک کے آغاز پر 2 اپریل کو ملک میں عام تعطیل کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : افغانستان کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں چاند نظر آنے کی شہادت ملی ہے جس کے بعد سے کل سے ماہ صیام کا آغاز ہوگا ساتھ ہی وزارت محنت اور سماجی امور نے پہلے روزے کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔

    پاکستان میں پہلا روزہ اتوار 3 اپریل جبکہ عیدالفطر 3 مئی 2022 کو ہوگی،رویت ہلال…

    افغانستان میں پہلے روزے کے موقع پر چھٹی کی تصدیق طالبان کے ترجمان و نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کی۔


    افغان طالبان کے ترجمان و نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر آج یعنی 2 اپریل کو ملک میں پہلے روزے کا اعلان کیا۔

    افغان ترجمان اور نائب وریز اطلاعات نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ طالبان کے ملک میں مکمل کنٹرول کے بعد یہ پہلا رمضان ہوگا۔

    یاد رہے کہ طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد افغانستان میں پہلا ماہ صیام ہوگا-

    رمضان المبارک 2022 کے لیے زکٰوۃ کا نصاب مقرر

    واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے جس کے بعد آج بروز ہفتہ 2 اپریل کو پہلا روزہ ہے جبکہ عمان، ملیشیا، انڈونیشیا، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش و دیگر کچھ ممالک میں کل پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے۔

    پاکستان میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا سید عبد الخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس چارسدہ روڈ پشاور پر قائم محکمہ اوقات کے دفتر میں ہوگا علاوہ ازیں رویت ہلال کمیٹی کی زونل اور اضلاعی کمیٹیاں اپنے اپنے مقامات بشمول مذہبی امور، کوہسار بلاک، اسلام آباد میں بیٹھیں گی جس میں وزارت مذہبی امور، محکمہ سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

    رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج

  • طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی

    طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی

    طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی کے مطابق اس کے پشتو، فارسی اور ازبک زبان کے نیوز بلیٹنز کو افغانستان میں نشر ہونے سے روک دیا گیا ہے جبکہ وائس آف امریکہ کو بھی وقتی طور پر نشریات روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    برطانوی قومی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے بی بی سی کے نیوز بلیٹن کو نشر نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی نے 27 مارچ کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی صورتحال اور ہنگامہ خیز حالات کے دوران یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔”

    طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

    بی بی سی ورلڈ سروس میں شعبہ لینگوئجز کے سربراہ طارق کفالہ کے مطابق 60 لاکھ سے زیادہ افغان بی بی سی کی، آزاد اور غیر جانب دارانہ صحافت” کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم بات ہے کہ انہیں اس رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

    مسلم مخالف فلم "دی کشمیر فائلز” پر سلمان خان کی مبارک باد


    بی بی سی کی ایک نیوز اینکر اور نامہ نگار یلدہ حکیم نے طارق کفالہ کے بیان کو ٹویٹ کیا ہے اس میں کہا گيا کہ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور فوری طور پر بی سی سی کے ٹی وی پارٹنرز کو اس کے نیوز بلیٹنز کو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت دیں۔

    افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ…


    افغانستان کے ایک میڈيا ادارے ایم او بی وائی گروپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان حکمرانوں نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کے حکم کے بعد وائس آف امریکہ کی نشریات کو بھی فی الوقت بند کرنے کا کہا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی اطلاعات ونشریات اور ثقافتی امور کی وزارت کے ایک ترجمان عبد الحق حماد نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک…

    واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا، جس پر بین الاقوامی میڈیا نے وسیع رپورٹنگ کی تھی اور اس کے فوری بعد بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو کام کرنے سے باز رکھنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے-

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

  • طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    افغانستان میں طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے تمام سرکاری محکموں میں ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں تمام ملازمین کو داڑھی نہ منڈوانے اور مقامی لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور متنبہ کیا گیا ہے کہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر نوکری سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک دیا

    سرکاری ملازمین کو اوّل وقت میں نماز کی ادائیگی اور دراڑھی نہ منڈوانے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی لباس پہنیں جس میں لمبی ڈھیلی قمیص، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور سر پر ٹوپی یا پگڑی شامل ہے۔

    ہدایات نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی نمائندے سرکاری دفاتر کے داخلی حصوں پر موجود ہیں جنہیں ملازمین پر نظر رکھنے اور نئے قوانین پر عمل دارآمد یقنی بنانے کیلئے تعینات کیا گیا ہے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کو تنبیہ کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو نوکری سے برطرف کردیا جائے گا۔

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    عالمی میڈیا کے نمائندے نے سرکاری ملازمین کے لیے ان پابندیوں کے بارے میں عوامی اخلاقیات کی وزارت کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    خیال رہے کہ پچھلے ہفتے طالبان نے سیکنڈری اسکولوں کو کھولنے کا حکم پہلے ہی دن واپس لیتے ہوئے تاحکم ثانی اسکول بند کردیئے تھے جب کہ کسی مرد سرپرست کے بغیر بیرون ملک جانے والی خواتین کو پرواز سے روک دیا گیا تھا۔

    طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

  • امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ نے اپنا کام بند کرتے ہوئے املاک کی تحویل امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے کر دی-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے امریکی بینکنگ نظام میں موجود افغان اثاثے منجمد کرنے کے اقدام کے باعث سفارتی مشن کو سخت مالی مشکلات کا سامنا تھا پابندیوں کی وجہ سے متعدد سفارتکار اور عملے کے اراکین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم تھے۔

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

    قبل ازیں رواں ماہ کےشروع میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ سفارتخانہ بند کردیا جائے گا اور سفارتکاروں کے پاس انسانی ہمدردی کے پیرول یا رہائش کے لیے درخواست دینے کے لیے 30 روز کا وقت ہوگا تاہم امریکا میں موجود سفارتی مشن کے ایک چوتھائی افراد نے اس وقت تک درخواست نہیں دی تھی۔

    گزشتہ ہفتے افغان سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ 16 مارچ 2022 سے افغانستان کے سفارتخانے اور قونصل خانوں نے اپنا کام روک دیا ہے اور اپنی املاک کی تحویل محکمہ خارجہ کو دے دی ہے اگست 2021میں طالبان کے جابرانہ اور غیر قانونی قبضے کے بعد بھی نیویارک اور لاس اینجلس میں موجود افغان سفارتخانہ اور قونصل خانہ اپنا کام جاری رکھ کر اور قونصلر خدمات فراہم کرتے ہوئے افغان عوام کی خدمت کے لیے پر عزم رہے۔

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع…

    خط میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران افغان سفارتخانے اور قونصل خانے کو بڑھتے ہوئے آپریشنل چیلنجز اور بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باعث وسائل محدود ہونے کا سامنا رہا اور سفارتی مشن نے امریکی محکمہ خارجہ سے معاونت مانگی محکمہ خارجہ نے تجویز دی کہ ویانا کنوینشن کے تحت سفارتخانے اور قونصل خانے کی تحویل امریکی حکومت کو دینا واحد قابل عمل آپشن ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ سفارتی مشنز کا آپریشن پائیدار نہیں ہے، سفارت خانے اور قونصل خانوں نے محکمہ خارجہ کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے۔

    تاہم امریکا میں افغان سفارت خانے اور قونصل خانے امید کرتے ہیں کہ خاص طور پر امریکا میں افغان شہریوں کے لیے ضروری قونصلر خدمات کی عدم موجودگی کے پیش نظر فوری طور پر کوئی عملی حل نکال لیا جائے گا۔

    ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    گذشتہ ماہ کے اوائل میں طالبان کے وزیر خارجہ نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے قریب ہے۔ اس سے قبل طالبان کے وفد نے کئی مغربی سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ناروے کا دورہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس اگست میں طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے دنیا بھر میں افغان سفارت خانے فنڈز کی کمی کے باعث بند ہو رہے ہیں جب کہ طالبان کے نامزد کردہ سفارت کاروں کو کوئی ملک تسلیم کرنے کا تیار نہیں۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

  • افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    امریکا اور اقوام متحدہ نے افغان طالبان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر شناخت کے حصول اور افغان معیشت کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    طالبان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں بدھ سے ہائی اسکول میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے لیکن بعد میں اپنے فیصلے کو یہ کہہ کر تبدیل کر دیا تھا کہ لڑکیوں کے لیے مناسب یونیفارم کا فیصلہ نہ ہونے تک اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اگر طالبان نے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو افغان عوام کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی کے امکانات اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے طالبان کے عزائم کو گہرا نقصان پہنچے گا۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ طالبان کا فیصلہ نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، بلکہ یہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی زبردست شراکت کے پیش نظر ملک کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ میں طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ یہ تاخیر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں لڑکیوں پر پابندی لگانے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف لڑکیوں کے اسکول یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔

    تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان حکمرانوں کو یاد دلایا کہ تعلیم ایک انسانی حق ہے اور امریکا اسکول کھولنے کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے طالبان کے بہانے کو مسترد کرتا ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں بہت سی لڑکیوں کی سیکنڈری کلاسوں میں واپسی ہو رہی ہے لیکن انہیں تاحکم ثانی گھر جانے کو کہا گیا ہے۔

     

     

    انٹونی بلنکن کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ہم افغان لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو تعلیم کو افغان معاشرے اور معیشت کی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کرنے کی راہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر شدید افسوس ہے اور انہوں نے طالبان کو یاد دلایا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کا تمام طلبہ، لڑکیوں اور لڑکوں، ان کے والدین اور خاندانوں نے بے صبری سے انتظار کیا ہے۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ بار بار وعدوں کے باوجود چھٹی جماعت اور اس کے بعد کی جماعتوں کی لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے میں افغان حکام کی ناکامی گہری مایوسی کو جنم دیتی ہے اور افغانستان کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ انہوں نے طالبان حکام سے اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے تمام طلب کے لیے اسکول کھول دیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے اپنے حالیہ دورہ کابل کے حوالہ دیا جس میں خواتین نے ان کو بتایا تھا کہ وہ خود طالبان سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف آبادی کو طاقت سے محروم کرنا غیر منصفانہ ہے، اس طرح کا امتیازی رویہ ملک کے مستقبل کی بحالی اور ترقی کے امکانات کے لیے بھی شدید نقصاندہ ہے۔

     

     

  • ہم حاضرہم قربان:اے اہل پاکستان:دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہونےکی کوشش ناکام:4جوان وطن پرقربان

    ہم حاضرہم قربان:اے اہل پاکستان:دہشت گردوں کی پاکستان میں داخل ہونےکی کوشش ناکام:4جوان وطن پرقربان

    راولپنڈی: دہشت گردوں کی شمالی وزیرستان کے راستے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں 4 سپاہی شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے حسن خیل کے مقام پر افغانستان سے داخلے کی کوشش کی، سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کوشش ناکام بنادی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کو بھاگتے ہوئے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، فائرنگ کے تبادلے میں 4 سپاہی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں حوالدار وجاہت عالم، سپاہی ساجد عنایت، سپاہی مقبوول حیات اور سپاہی ساجد علی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    واضح رہے کہ 11 مارچ کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، مارے گئے دہشت گرد متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    مقامی لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھر پور تعاون کا اظہار کیا۔

  • افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے   وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان نےاوآئی سی کانفرنس میں وزیرخارجہ کی بجائے وزارت خارجہ کےسینئرافسرکوکیوں بھیجا؟اہم حقائق آگئے

    افغانستان کی حکومت نے اسلام آباد میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں وزیرخارجہ امیرخان متقی کے بجائے اپنے نمائندے کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا جہاں افغانستان کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ تھا ۔

    اس حوالے سے افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا تاکل کا کہنا تھا کہ وزارت کے حکام نے محمد اکبر عظیمی کو نامزد کیا ہے جو اسلام آباد میں اجلاس میں طالبان حکومت کے وفد کی قیادت کریں گے۔اور پھرمحمد اکبرعظیمی نے شرکت کی

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ قبل ازیں طالبان حکومت نے دسمبر میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیرخارجہ امیرخان متقی کو بھیج دیا تھا۔

    اسلام آباد میں اوآئی سی کے گزشتہ اجلاس میں وزرائے خارجہ کے گروپ فوٹو میں افغان وزیرخارجہ کی عدم موجودگی پر اجلاس میں ان کی شرکت سے متعلق بڑی بحث ہوئی تھی جبکہ افغانستان کی نشست بدستور خالی تھی اور امیر متقی آخری قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔

    اس مرتبہ افغآن طالبان حکومت نے اب او آئی سی اجلاس میں اپنی شرکت کو کم سطح پر کیوں رکھا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ چونکہ ابھی تک افغآنستان کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا اس لیے او آئی سی کے منتظمین نےیہ فیصلہ کیا کہ افغآنستان کواس حد تک اہمیت دی جوباعث نزاع نہ بنے ، انہیں‌ اصولوں کے پیش نظر افغان حکومت کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کے بجائے افغان وزارت خارجہ کے عہدیدار کو بھیجا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ او آئی سی کے تمام 57 اراکین میں سے کسی ریاست نے تاحال طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کی ہے۔اقوام متحدہ کی طرح افغانستان کی نشست سرکاری سطح پر تاحال اشرف غنی کی سابق حکومت سے جڑی ہوئی ہے۔

    دوسری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انسانی بنیاد پر اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے زیرانتظام ایک فلاحی فنڈ بھی تشکیل دیا جارہا ہے، جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے افغانستان میں انسانی مددکے لیے براہ راست استعمال کیا جائے گا۔

    اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طحہ نے دسمبر میں منعقدہ اجلاس میں او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ، آئی ایس ڈی بی، ٹرسٹ فنڈ سے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر فنڈ کے لیے درخواست کی تھی کہ انسانی بنیادوں پر مالیاتی بہاؤ اور بینکنگ چینلز بحال کرنے ک لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے علاوہ ایران اور بنگلہ دیش نے بھی اپنے وزرائے خارجہ کو اس اہم ایونٹ میں شرکت کے لیے نہیں بھیجا بلکہ وزارت خارجہ کے سینیئر افسران کو بھیجا ہے

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔