Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان

    افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان

    اسلام آباد:افغان باقی کہسار باقی’ الحکم للہ الملک للہ:وزیراعظم کا”افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے “افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کردی.

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں “افغانوں کی زندگیاں بچاؤ” مہم کی تصویر شیئر کی ہے، اور کہا ہے کہ میں اس مہم میں اپنی آواز بھی شامل کروں گا۔

     

    وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ افغانستان میں پھیلنے والے انسانی بحران کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی بین الاقوامی مہم میں شامل ہوں، افغانستان میں لاکھوں افغانوں، خاص طور پر بچوں کو فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم مسلسل عالمی برادری سے اپیل کررہے ہیں کہ بھوک کے دہانے پر لاکھوں افغانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے،افغانستان کی مدد کرنا اقوا م متحدہ کےاصولوں کے مطابق فرض ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام چیف نے بھی افغانستان میں انسانی بحران پرالرٹ جاری کردیا ہے پاکستان ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرتا رہے گا مگر عالمی برادری کواقدام کرناہوں گے ، یہ سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ افغان عوام کو بحران سے بچایا جائے

     

     

    کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ سب راہرو ہیں واماندۂ راہ

    کڑکا سکندر بجلی کی مانند تجھ کو خبر ہے اے مرگِ ناگاہ

    نادر نے لُوٹی دِلّی کی دولت اک ضربِ شمشیر، افسانہ کوتاہ

    افغان باقی، کُہسار باقی اَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!

    حاجت سے مجبور مردانِ آزاد کرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہ

    محرم خودی سے جس دم ہُوا فقر تُو بھی شہنشاہ، مَیں بھی شہنشاہ!

    قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویش جس نے نہ ڈھُونڈی سُلطاں کی درگاہ

  • افغانستان پھربم دھماکوں سے گونج اٹھا:4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی

    افغانستان پھربم دھماکوں سے گونج اٹھا:4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی

    کابل:افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں بم دھماکے سے 4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکام نے بتایا کہ بم منی بس کے فیول ٹینک سے جوڑ دیا گیا تھا اور دھماکے میں 9 افراد زخمی ہوگئے.

    ہرات کے صوبائی ہسپتال کے سربراہ عارف جلال نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 4 خواتین بھی شامل ہیں منی بس پر بم دھماکے کی ہرات کے انٹیلیجنس دفتر کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے انٹیلی جنس دفتر کے ترجمان ثابت ہاروی کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے یہ دستی بم تھا اور مسافر بس کی فیول ٹینک سے جوڑ دیا گیا تھا.

    ہرات کی صوبائی پولیس اور محکمہ ثقافت نے بھی بم دھماکے کی تصدیق کی بم دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی خیال رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی امریکا کی سربراہی میں نیٹوفورسزکی جنگ کے بعد گزشتہ برس اگست میں طالبان کی واپسی کے بعد واضح کمی آئی ہے تاہم کابل اور دیگر شہروں میں اس طرح کے حملے ہوتے رہتے ہیں.

    ملک بھر میں ہونے والے اکثر دھماکوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے داعش افغانستان میں 2014 سے موجود ہے اور کئی بدترین حملے کرچکی ہے، جس میں ہزارہ برادری پر ہونے والے بدترین دہشت گردی کے واقعات بھی شامل ہیں.

    داعش کی جانب سے مسلسل ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آج ہونے والا دھماکا بھی ہزارہ برادری کے اکثریتی علاقے میں بس اسٹیشن کے قریب ہوا ہرات افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے لیکن حالیہ مہینوں میں پرامن رہا ہے.

    قبل ازیں 11 جنوری کو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں بم دھماکے سے 9 بچے جاں بحق اور دیگر 4 زخمی ہوگئے تھے ننگرہار میں طالبان کے گورنر نے بتایا تھا کہ پاکستان کی سرحد کے قریبی مشرقی صوبے کے علاقے میں ایک بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے. .

  • یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    یورپی یونین نے محدود عملے کے ساتھ افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کے مطابق افغانستان میں انسانی بنیادوں پر امداد کیلئے سفارتخانہ کھول رہے ہیں،یورپی یونین افغانستان کو اس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے-

    ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کا کہنا تھا کہ امداد کی فراہمی کیلئے کابل میں محدود ترین سطح پر موجودگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم طالبان حکومت کو یورپی یونین نے تسلیم نہیں کیا ہے-

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    دوسری جانب انسانی حقوق پرطالبان اورمغربی ممالک کے درمیان اجلاس آئندہ ہفتے ناروے میں ہوگا غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ناروے کے وزارت خارجہ کے مطابق طالبان وفدانسانی حقوق پرمذاکرات کے لئے آئندہ اوسلو آئے گا۔

    انسانی حقوق کی صورتحال پرطالبان کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس ،اٹلی اوریورپی یونین کے نمائندوں کے مذاکرات متوقع ہیں۔

    ناوے کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان وفد کی ناروے آمد کا مقصد یہ نہیں کہ طالبان کوتسلیم کرلیا گیا ہے لیکن جو لوگ ایک ملک چلا رہے ہیں ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔

    کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

  • امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا  بیان پر طالبان کا ردعمل

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے انخلا کے سوال پربھڑک اٹھے اور الٹا صحافیوں پر ہی سوال داغ دیا کہ کیا آپ افغانوں کو ایک حکومت پر متحد کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے فوجیوں کے انخلا اور 20 سالہ جنگ کو ضائع کرنے کے سوال پر صحافیوں پر برس پڑے اور جواب میں صحافیوں سے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ جنگ زدہ ملک میں سب کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں رہا تھا اور اگر آپ میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ہاتھ کھڑا کرے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ افغانستان حکومتوں کا قبرستان اسی لیے رہا ہے کیوں کہ وہاں اتحاد ناپید ہے ہم ہر ہفتے اس 20 سالہ جنگ پر ایک ارب ڈالر خرچ کر رہے تھے اور مزید اس خرچے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوا تھا اور ہم نے اسے عملی جامہ پہنایا ہے تاکہ قیمتی جانوں، وسائل اور اخراجات کو بچایا جا سکے۔

    دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے اتحاد سے ہی بیرونی حملہ آوروں اور طاقتور ممالک کو شکست دی۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    افغانستان میں طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنی ٹوئٹ میں افغانوں کے درمیان تقسیم اور اتحاد نہ ہونے کے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔


    ترجمان وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان غیر ملکی تسلط کے دوران کبھی متحد نہیں رہا بلکہ اکثریت حملہ آوروں کے خلاف اپنی قانونی جدوجہد میں مضبوطی سے متحد رہی ہے افغانستان کے بارے میں مسٹر بائیڈن کا "حکومت کا قبرستان” ہونے کا تبصرہ بذات خود افغان اتحاد کا اعتراف ہے۔


    ترجمان نے کہا کہ تقسیم نہیں بلکہ صرف "متحدہ” قومیں حملہ آوروں اور عظیم سلطنتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں قبضے کے خاتمے کے بعد، ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہم نےمحدود وسائل کے باوجود مختصر مدت میں امن قائم کیا مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا، اور ملک میں مرکزی حکومت قائم کرکے افغان قوم کو متحد کیاہم نے اتحاد کے ذریعے ہی خود سے بڑی قوتوں کو شکست دی۔


    ترجمان عبدالقہار بلخی نے مزید کہا کہ افغانوں کے درمیان معمولی اختلافات بھی بیرونی حملہ آوروں کی جانب سے اپنی بقا کے لیے اکسانے کے باعث ہوا تھا اور ایسا تب ہی ہوا ہے جب افغانستان پر بیرونی حملہ آور حکومت کر رہے ہوافغانوں نے اپنے مشترکہ اسلامی عقائد، وطن اور معروف تاریخ کے ذریعے بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دی اور اب ایک برابری کی قوم بننے کی جانب گامزن ہیں-

  • اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

    باغی ٹی وی: افغان اردو کے مطابق طالبان کے افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔


    افغان حکومت کی اکنامک کانفرنس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی، 40 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس کو آن لائن جوائن کیا،افغانستان کی معاشی صورتحال، نجی شعبہ اور بینکنگ سیکٹر کے مسائل پر بات چیت ہوئی-

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں، افغانستان کے وزیراعظم کے مطابق طالبان نے امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے پہلی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تسلیم کروانے کے لیے طالبان نے دنیا کی تمام شرائط پوری کی ہیں، اب بالخصوص اسلامی ممالک کو طالبان حکومت تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ جو لوگ ہم پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں وہ خود پابندیاں لگا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اگر انہیں واقعی انسانی معاشرے کا درد ہے تو آئیں افہام و تفہیم کے ذریعے انسانی مسائل پر قابو پانے کی طرف حقیقی قدم اٹھائیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ ہم عالمی برادری کی انسانی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ افغانستان کو موجودہ بحران پر قابو پانے کے بعد بھی ترقیاتی امداد کی ضرورت ہوگی لیکن ہمیں ترقیاتی امداد کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔


    جبکہ وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو بحال کرے اور افغانستان کو پیسے کی منتقلی میں امدادی تنظیموں اور افغانوں کے لئے تمام رکاوٹیں ختم کرے –


    قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا اقتصادی کانفرنس میں خطاب کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کا اچھا موقع ہے، غیر ملکیوں سرمایہ داروں کو سمجھنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ نے تسلیم کی تمام شرائط پوری کی ہیں-


    اقوام متحدہ کی ایلچی ڈیبورا لیونز نے کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انسانی امداد ایک عارضی حل ہے۔ معاشی مسائل کو بنیادی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور لڑکیاں معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں-

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    واضح رہے کہ ابھی تک کسی حکومت نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، کیونکہ افغانستان نے نئی حکومت میں ایسے کئی افراد کو اپنی عبوری حکومت کو شامل کیا ہے جن کے نام بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

  • افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    کابل: افغانستان کے صوبے کنٹرمیں فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق کنڑمیں فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کمانڈرکا بیٹا بھی شامل ہے واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    طالبان حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں افغانستان میں فائرنگ کے واقعات میں لوگوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری جانب منشیات کے عادی افراد طالبان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیںمنشیات کے عادی بے گھر افغان منشیات لینے کے لیے پلوں کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور طالبان اکثر انہیں پکڑتے اور مار تے پیٹتے ہوئے زبردستی علاج کے مراکز میں لے جاتے ہیں تاکہ سخت سردی کے باعث جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

    دارالحکومت کابل کے بحالی مرکز میں تقریباً 350 افراد پر مشتمل عملہ ہے اور یہ تقریباً ایک ہزارمریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے جبکہ نئے مریضوں کی آمد کے بعد وسائل محدود ہوگئے ہیں اس کے باوجود طالبان تقریباً 3 ہزار 500 منشیات کے عادی افراد کو بھی اسی بحالی مرکز میں لے آئے ہیں-

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    افغانستان ان چند ایک ممالک کے فہرست میں شامل ہے جہاں ہیروئن اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار موجود ہے، اس میں زیادہ تر دنیا کی بلیک مارکیٹوں میں برآمد کی جاتی ہے۔

    ایک ہسپتال کے سربراہ احمد ظاہر سلطانی منشیات کے عادی افراد کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کیا اور انہیں کابل میں منشیات کے بحالی سینٹر میں ڈال دیا گیا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

  • افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

    افغانستان میں زلزلے سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچادی زلزلہ افغانستان کے مغربی علاقوں میں آیا ہے زلزلے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور26 افراد جاں بحق ہوگئے زلزلے سے صوبہ بادغیس میں نقصان پہنچا امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 تھی۔

    رپورٹ کے مطابق زلزلے کے باعث کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں زلزلہ مقامی وقت کے مطابق 11 بجکر 40 منٹ پر آیا۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مغربی افغانستان میں صوبے بدغیث میں ڈسٹرکٹ گورنر محمد صالح نے بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں گرنے کے سبب 26 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جاں بحق ہونے والے افراد میں 5 خواتین اور 4 بچے بھی شامل ہیں۔

    بغدیث کے ضلع موقر میں بھی زلزلے کے اطلاع ہے تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے اب تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ 3 دن پہلے افغانستان میں ہندوکش کے علاقے میں بھی زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے جموں و کشمیر تک محسوس کیے گئے تھے تاہم کوئی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں آئی۔

    قبل ازیں گوادرشہراور مضافات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جس کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، زلزلے کے بعد لوگ گھروں اور دکانوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.0 اور گہرائی 25 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کا مرکز گوادر کے ساحل کے قریب سمندر میں تھا –

  • درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    ‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(ISSI) اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے محققین کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس ایس آئی) ایمبیسڈر اعزاز چوہدری اور صدر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، ایمبیسڈر ندیم ریاض اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی ،دوران اجلاس خطے میں روابط کے فروغ، کووڈ 19 کے بعد بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز زیر بحث آئے ،‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج اس بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظر نامے میں خارجہ پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں، تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ہمیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی سطح کی تحقیق کو منظرعام پر لانا ہوگا پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔آج بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا، پاکستان، نے ناقابل تردید شواہد پر مبنی "ڈوزیر "کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کی جانب مبذول کروائی،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مخدوش معاشی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی ،ہماری اہم سفارتی کامیابی ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے، عالمی منظر نامے میں ہمیں،درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ہم اپنے تحقیقی اداروں کو مزید فعال بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں اور وسائل بروئے کار لانے کیلئے پر عزم ہیں۔

  • اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    یروشلم :اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے افغان مہاجرین کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے 5 لاکھ ڈالرز عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، یا رہے کہ اسرائیل کا عطیہ اسی دن آیا جب اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 4.4 بلین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کی مدد کے لیے اسرائیل نے تاجکستان میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر امداد کے لیے اقوام متحدہ کو 500,000 ڈالر عطیہ کیے ہیں۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اُشپیز نے کہا کہ ان کے ملک کو "افغان طالبان سے بھاگنے والے افغانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر فخر ہے”۔

    اُشپیز نے مزید کہا کہ اس امداد نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی وابستگی کو اجاگر کیا،

    اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان میں 22 ملین افراد اور پڑوسی ممالک میں مزید 5.7 ملین بے گھر ہونے والے افغان – اس کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد – کو اس سال اہم امداد کی ضرورت ہے۔

    اپیل میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے لیے بین الاقوامی عطیات اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے لیے 623 ملین ڈالر کی درخواست کی گئی۔

    "ایک مکمل انسانی تباہی پھیل رہی ہے۔ میرا پیغام فوری ہے: افغانستان کے لوگوں پر دروازے بند نہ کریں،” اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا۔

    انہوں نے زور دیا کہ "ہماری مدد کریں وسیع پیمانے پر بھوک، بیماری، غذائی قلت، اور بالآخر موت کو روکنے میں،

    یاد رہے کہ پچھلے سال اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، ملک کے لیے غیر ملکی امداد بند کر دی گئی، جس نے کابل کو معاشی بحران میں ڈال دیا۔

    گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار زندگی بچانے والی امداد پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ UNHCR کی توجہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور مدد پر ہے۔

  • افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    کابل:افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ (NRF) اور طالبان کے درمیان شروع ہوئی بات چیت شر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق مزاحمتی محاذ کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کے روز کہا کہ امارت اسلامیہ کی ٹیم نے میٹنگ کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلنے پر مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مذاکرات میں ناکامی کو چھپایا جارہا تھا دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے نمائندے ہفتے کے روز ایران گئے اور پیر کو کابل واپس آگئے تھے لیکن اتنے دن گزرنے کے باوجود مذاکرات کوخفیہ رکھا گیا ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت جلد مذاکرات کا اگلہ دور بھی شروع کرنے پراتفاق ہوگیا ہے

    ذرائع کے مطابق شمالی اتحاد کے اہم رکن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے تہران کے زیر اہتمام طالبان حکام کے ساتھ اپنی دو روزہ میٹنگ کے دوران افغانستان میں ایک ثانوی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ٹیم کے رکن نے کہا کہ ان کے لیے ہماری تجویز واضح ہے اورایک ثانوی حکومت قائم کی جانی تھی جو اگلی حکومت کے لیے کام کرے گی اور عوام کو مساوی حقوق اور آزادی حاصل ہوگی۔ لیکن اگر طالبان کی رضا مندی نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں ۔

    دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ اس کی شمالی اتحاد کی ٹیم کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ بات چیت کرنے والی ٹیموں میں امارت اسلامیہ کے چار عہدیداران اور مزاحمتی محاذ کے پانچ ارکان نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق امارت اسلامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، قائم مقام وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف، قائم مقام وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی، قائم مقام نائب وزیر سرحد و قبائلی امور حاجی گل محمد نیکا، جب کہ اسماعیل خان، سابق جہادی رہنما مولوی حبیب اللہ حسام، عبدالحفیظ منصور، حسام الدین شمس بڈگی کے سابق گورنر او رغور کے سابق گورنر عبدالظاہر فیض زادہ کی جانب سے نمائندگی کی۔