Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    یروشلم :اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے افغان مہاجرین کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے 5 لاکھ ڈالرز عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، یا رہے کہ اسرائیل کا عطیہ اسی دن آیا جب اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 4.4 بلین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کی مدد کے لیے اسرائیل نے تاجکستان میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر امداد کے لیے اقوام متحدہ کو 500,000 ڈالر عطیہ کیے ہیں۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اُشپیز نے کہا کہ ان کے ملک کو "افغان طالبان سے بھاگنے والے افغانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر فخر ہے”۔

    اُشپیز نے مزید کہا کہ اس امداد نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی وابستگی کو اجاگر کیا،

    اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان میں 22 ملین افراد اور پڑوسی ممالک میں مزید 5.7 ملین بے گھر ہونے والے افغان – اس کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد – کو اس سال اہم امداد کی ضرورت ہے۔

    اپیل میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے لیے بین الاقوامی عطیات اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے لیے 623 ملین ڈالر کی درخواست کی گئی۔

    "ایک مکمل انسانی تباہی پھیل رہی ہے۔ میرا پیغام فوری ہے: افغانستان کے لوگوں پر دروازے بند نہ کریں،” اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا۔

    انہوں نے زور دیا کہ "ہماری مدد کریں وسیع پیمانے پر بھوک، بیماری، غذائی قلت، اور بالآخر موت کو روکنے میں،

    یاد رہے کہ پچھلے سال اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، ملک کے لیے غیر ملکی امداد بند کر دی گئی، جس نے کابل کو معاشی بحران میں ڈال دیا۔

    گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار زندگی بچانے والی امداد پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ UNHCR کی توجہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور مدد پر ہے۔

  • افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    کابل:افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ (NRF) اور طالبان کے درمیان شروع ہوئی بات چیت شر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق مزاحمتی محاذ کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کے روز کہا کہ امارت اسلامیہ کی ٹیم نے میٹنگ کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلنے پر مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مذاکرات میں ناکامی کو چھپایا جارہا تھا دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے نمائندے ہفتے کے روز ایران گئے اور پیر کو کابل واپس آگئے تھے لیکن اتنے دن گزرنے کے باوجود مذاکرات کوخفیہ رکھا گیا ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت جلد مذاکرات کا اگلہ دور بھی شروع کرنے پراتفاق ہوگیا ہے

    ذرائع کے مطابق شمالی اتحاد کے اہم رکن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے تہران کے زیر اہتمام طالبان حکام کے ساتھ اپنی دو روزہ میٹنگ کے دوران افغانستان میں ایک ثانوی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ٹیم کے رکن نے کہا کہ ان کے لیے ہماری تجویز واضح ہے اورایک ثانوی حکومت قائم کی جانی تھی جو اگلی حکومت کے لیے کام کرے گی اور عوام کو مساوی حقوق اور آزادی حاصل ہوگی۔ لیکن اگر طالبان کی رضا مندی نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں ۔

    دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ اس کی شمالی اتحاد کی ٹیم کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ بات چیت کرنے والی ٹیموں میں امارت اسلامیہ کے چار عہدیداران اور مزاحمتی محاذ کے پانچ ارکان نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق امارت اسلامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، قائم مقام وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف، قائم مقام وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی، قائم مقام نائب وزیر سرحد و قبائلی امور حاجی گل محمد نیکا، جب کہ اسماعیل خان، سابق جہادی رہنما مولوی حبیب اللہ حسام، عبدالحفیظ منصور، حسام الدین شمس بڈگی کے سابق گورنر او رغور کے سابق گورنر عبدالظاہر فیض زادہ کی جانب سے نمائندگی کی۔

  • بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کابل کے بازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کے پاس خریدنے کے پیسے نہیں، اقوام متحدہ نے یہ بات بتا کرساتھ ہی افغانستان میں انسانی بحران سے بچنےکیلئےامدادکی اپیل کردی ۔

    افغانستان میں سخت سردی کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے ،طالبان کے اقتدار پر قبضے اور بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے ملک کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق خراب معیشت کے باعث افغانستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیاجبکہ تقریباً 10 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے رواں سال 5 بلین ڈالرز امداد کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں مقیم 5.7 ملین افغان مہاجرین کی مدد کیلئے 623 ملین ڈالرز درکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ایڈ چیف مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان پر مکمل انسانی بحران منڈلا رہاہے،افغان عوام پر امداد کے دروازے بند نہ کریں، افغانستان میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بھوک، بیماری، غذائی قلت اور اموات کو روکنے میں اقوام متحدہ مدد کریں۔

    مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امدادی پیکج کےبغیر کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھی افغانستان کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کی بھرپورکوششیں جاری رکھے گا ،

  • اگرمالی امداد نہ دی گئی توافغانستان میں لوگ بھوک و افلاس سے مرجائیں گے،اقوام متحدہ

    اگرمالی امداد نہ دی گئی توافغانستان میں لوگ بھوک و افلاس سے مرجائیں گے،اقوام متحدہ

    جنیوا: اقوام متحدہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی قوتوں نے مالی امداد نہ کی تو افغانستان میں لوگ بھوک و افلاس کا شکارہوکرمر جائیں گےجبکہ ماہرین پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ افغانستان میں رواں برس 47 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کریں گے جن میں 11 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ نے افغانستان میں رواں برس 2022 میں بھوک و افلاس اور صحت عامہ سے نمٹنے کے لیے 5 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے انسانی المیے کے شکار ملک میں شہری گزر بسر کے لیے اپنی بچیوں کی شادیاں پیسوں کے عوض کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے جنگ کے زخم خوردہ افغان عوام کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے 4.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ مزید 62 کروڑ 30 لاکھ دیگر ممالک میں پناہ لینے والے لاکھوں افغانوں کی مدد کے لیے درکار ہوں گے یہ رقم افغانستان میں دو کروڑ 20 لاکھ افراد جب کہ پانچ پڑوسی ممالک میں 57 لاکھ سے زائد پناہ لیے ہوئےافغانوں کی ہنگامی بنیاد پر امداد پر خرچ ہوں گے۔

    اقوام متحدہ نے تاریخ میں پہلی بار کسی ایک ملک کے لیے 5 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی اپیل کی ہےطالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کردیا گیا تھا جس کے بعد سے ملک شدید مالی مسائل سے دوچار ہے اور غربت، مہنگائی، بے روزگاری کا سامنا ہے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا تھا کہ مریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی رسد بھی تعطل کا شکار ہے اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں-

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں،…

  • کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    تہران: ایران نے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے لیکن تاحال طالبان کو ’باضابطہ طور پر تسلیم‘ نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب خبررساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات “مثبت” رہے لیکن ایران اب بھی طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال ایران کے لیے ایک بڑی تشویش ہے اور افغان وفد کا دورہ انہی خدشات کے حوالے سے تھا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کی قیادت میں اپنے ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کی۔

    واضح رہے کہ اگست میں امریکا کے انتشار انگیز انخلا کے بعد طالبان کے وفد کا ایران کے لیے یہ پہلا دورہ تھا ایران کا سرکاری مؤقف ہے کہ وہ طالبان کو صرف اس صورت میں تسلیم کریں گے جب وہ ایک “جامع” حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ایران کے خصوصی ایلچی حسن کاظمی قومی نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے کئی دورے کیے ہیں تب سے ایران اور طالبان رابطے میں ہیں۔

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    خیال رہے کہ وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے وفد کے ہمراہ پڑوسی ملک ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان مہاجرین اور معاشی بحران سمیت اہم باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا وفد کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اس حوالے سے عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ یہ دورہ ایران کی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد افغانستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا ہے ایران اور افغانستان کے درمیان ابتدائی ملاقات وزارت خارجہ کی سطح پر ہوچکی ہے تاہم اب وزیر خارجہ بہ نفس نفیس ایران جا رہے ہیں۔

    افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا پڑوسی ملک ایران پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے اور اب مزید مہاجرین کی آمد کا اندیشہ لیے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کا خاکہ تیار کرنے کی کوششں کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو دہائیوں کے بعد دوبارہ قائم ہونے والی طالبان کی نئی حکومت کو بھی تاحال تسلیم نہیں کیا تاہم اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

  • افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    کابل: افغانستان کے مشرقی علاقے میں زور دار دھماکے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبے ننگرہار میں پھل فروش کا ٹھیلا اچانک دھماکے سے تباہ ہوگیا۔ درجن سے زائد بچے ٹھیلے والے سے پھل خرید رہے تھےدھماکے میں 9 بچے جاں بحق اور 4 شدید زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

    پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی افغانستان میں…

    ننگرہار کے گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ریڑھی کے زمین میں دبے مارٹر شیل سے ٹکرانے کی وجہ سے ہوا۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    دو دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران افغانستان میں مختلف گروپوں نے بارودی سرنگوں کا جال بچھا دیا ہے جب کہ تباہ ہونے سے بچ جانے والے کئی مارٹر شیلز جگہ جگہ زمین تلے دبے ہوئے ہیں ایسی بارودی سرنگوں اور مارٹر شیل کا زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں جو انھیں کھلونا سمجھ کر کھیلنے لگتے ہیں اور حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    گھر کے قریب سےکیوں گزرے؟ ملزمان نے شخص کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    واضح رہے کہ پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گرد محمد خراسانی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مارا گیا ہے پاکستان کو انتہائی مطلوب کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشتگرد محمد خراسانی آخر کار اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے دہشت گرد محمد خراسانی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ترجمان تھا جس کا اصل نام خالد بلتی تھا دہشت گرد محمد خراسانی میران شاہ میں دہشت ردی کا مرکز چلا رہا تھا تاہم آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے بعد محمد خراسانی افغانستان بھاگ گیا محمد خراسانی شاہد اللہ شاہد کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا ترجمان بنا۔

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    دہشت گردمحمد خراسانی پاکستان کے معصوم عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملوں اور کارروائیوں میں ملوث تھا، کالعدم ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کومتحد کرنے میں مصروف تھا اور وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا محمد خراسانی نے حال ہی میں پاکستان کے اندر مختلف کارروائیوں کا بھی اشارہ دیا تھا۔

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

  • عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت بڑے انسانی المیے سے گزر رہا ہے، اور عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے حوالے سے بتایا کہ جمعے کو سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔‘

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وسطی اور شمالی افغانستان کے بیشتر علاقے برف سے ڈھک گئے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی علاقے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔


    طالبان کے نائب وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس اگست میں طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دیئے تھے عالمی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد میں سے آدھی آبادی کا بھوک سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ملک میں افراطِ زر اور بے روزگاری کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    یاد رہے کہ ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور سفارت کاروں کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت کیے بغیر زبوں حالی کا شکار افغانستان کی معیشت تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

    واضح رہے ک سابق صدر اشرف غنی نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

  • پی آئی اے کی کامیابیوں کا سفر جاری:دنیا بھرسے اچھی خبریں‌آنے لگیں

    پی آئی اے کی کامیابیوں کا سفر جاری:دنیا بھرسے اچھی خبریں‌آنے لگیں

    کراچی:پی آئی اے کی کامیابیوں کا سفر جاری:دنیا بھرسے اچھی خبریں‌آنے لگیں ا،طلاعات ہیں‌ کہ دنیا بھر سے پاکستان کی قومی ایئرلائن نے زوال کے بعد اب پھر عروج کی طرف سفر شروع کردیا ہے ، یہی وجہ ہےکہ اب دنیا بھرسے پی آئی اے کے حوالے سے حوصلہ افزاخبریں آنے لگیں‌ ہیں‌ ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حقائق منظرعام پرآئے ہیں‌ جن کے مطابق مشکل حالات میں جب دنیا بھر کی فضائی سفر فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کردیئے تھے اس وقت افغانستان میں خطرہ مول لیکر پی آئی اے نے سفری سہولیات فراہم کی

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پاکستان سے دنیا بھرمیں جانے والے مسافروں میں سے زیادہ تعداد زائرین کی ہے جس کے تحت سعودی عرب ، ایران ، عراق اور ترکی میں لوگ جارہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ 17 سال بعد دمشق ، پانچ سال بعد مشد پی آئی اے نے پرواز کی جن میں‌ اے 320 نئے طیارے بیٹرے میں شامل کیئے گئے

    یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) نے پانچ سال کے وقفے کے بعد مشہد کے لئے پروازیں شروع کر دیں ہیں‌۔ نجی ٹی وی کے مطابق پی آئی اے نے تقریبا ً5 سال کے بعد مشہد ایران کی پرواز کا آغاز کردیا، اور طویل عرصے کے بعد پہلی پرواز پی کے 119 کے ذریعے 165 مسافر لاہور سے مشہد روانہ ہوئے،

    مشہد کی پروازیں پہلے سے شروع کی گئی نجف، بغداد اور دمشق کی پروازوں کے سلسلے کی کڑی ہیں، مشہد کی پرواز کے ساتھ زائرین کی تمام مقدس مقامات کی رسائی ممکن ہوگئی۔سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے کہا کہ مشہد کی پروازیں زائرین کی سہولت کے لئے چلائی جارہی ہیں، مشہد کے لئے براہ راست پروازیں زائرین کا دیرینہ مطالبہ تھا، پی آئی اے زائرین کو مقدس مقامات تک پہنچانے کے مذہبی فریضہ میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے، ان پروازوں سے زائرین کو براہ راست اور آسان سفر کی سہولت میسر آگئی۔

  • افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا

    افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا

    کابل:افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوجی کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے دنیا کی خطرناک ترین فوج بنانے پرکام شروع کردیا ہے ،

    ادھر بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کے ذمہ داران کےبیان سے اس چیز کے اشارے ملتے ہیں‌، ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ، افغانستان کی فوج میں ضرورت کی بنیاد پر خواتین کی بھرتی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان آرمی کے سابق ماہرین بھی مستقبل کی فوج کا حصہ ہوں گے۔

    انڈین ڈیفنس ریسرچ نے واویلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) فوج خودکش بمبار دستہ تیار کررہا ہے۔ اس کے لئے خودکش بمباروں (suicide Bomber) کی بھرتی کی جارہی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو کہا ہے کہ سوسائیڈ بامبر سے لیس یہ اسپیشل بٹالین مستقبل میں افغانستان آرمی کا حصہ ہوگی۔

    خاما نیوز کے مطابق، افغانستان کے ڈپٹی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خودکش بمبار دستوں سے تیار یہ اسپیشل فورس ڈیفنس منسٹری کے تحت رہے گی۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ، افغانستان کی فوج میں ضرورت کی بنیاد پر خواتین کی بھرتی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان آرمی کے سابق ماہرین بھی مستقبل کی فوج کا حصہ ہوں گے۔ میڈیا رپورٹ میں ایسے بتایا جارہا ہے کہ افگانستان ان سوسائیڈ بامبر کو تاجکستان کے ساتھ لگے شمالی سرحد پر تعینات کرے گا۔ لیکن ذرائع نے ایسی کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    اس سے پہلے افغانستان کے وزارت دفاع نے کہا تھا کہ وہ 1 لاکھ سپاہیوں کی فوج تیار کرے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق، نئی فوج سے جڑی تیاریاں جاری ہیں اور افغانستان اپنی ترجیحات کی بنیاد پر اس فوج کو تیار کرے گا۔ وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ جب نئے جوانوں کا انتخاب ہوجائے گا تو اُنہیں دستوں میں شامل کر کے اُنہیں ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا۔

    ادھریہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ امریکہ ،بھارت اور دیگراتحادی ملکوں سمیت بڑی بڑی طاقتوں پر اس وقت اس بات کا خوف طاری ہے کہ اگرواقعی افغان طالبان خودکش بمبارپرمشتمل فوج تیارکررہےہیں‌تو پھردنیا کے کسی ملک کے پاس اس کا توڑ نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ افغان فوج کا دنیا بھرکی افواج پرایک دباو ہوگا جو کہ افغان طالبان کےلیے حوصلہ مند جبکہ مخالفین کے لیے خوف کی علامت ہوگا

  • ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    کابل :ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت نے پڑوسی ممالک سے اپنے ہیلی کاپٹر واپس مانگ لیے۔

    افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے اُزبکستان اور تاجکستان کو منتقل کیے گئے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

    طالبان عبوری حکومت کے نائب ترجمان امام اللہ سمن غنی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق حکومت نے ازبکستان اور تاجکستان کو 40 سے زائد ہیلی کاپٹر منتقل کیے تھے۔

    افغانستان کی سابق ​​حکومت کے پاس 164 سے زائد ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے بہت سے امریکا نےعطیے میں دیے تھے۔

    مذکورہ ممالک کے حکام سے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے بات چیت شروع ہونے کا اعلان کرنے والے نائب ترجمان طالبان سمن غنی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر کب واپس کیے جائیں گے۔

    طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی واپسی کی درخواستیں اس سے قبل ازبکستان اور تاجکستان کی حکومتوں کو بھیجی جا چکی ہیں اور وہاں سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔

    15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سابق حکومتی ارکان نے بہت سے ہیلی کاپٹر پڑوسی ممالک کو منتقل کر دیے تھے۔اس کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان فضائیہ کے درجنوں پائلٹ بھی ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

    طالبان انتظامیہ کو پائلٹوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ کئی بار بیرون ملک فرار ہوجانے والے پائلٹس کی واپسی کا مطالبہ کر چکی ہے۔

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وادی پنجشیر اور دیگرعلاقوں میں ان ملکوں کی طرف سے جوہیلی کاپٹرافغانستان کی سرحدوں میں آکرمداخلت کرتے ہیں وہ بھی افغانستان کی ملکیت ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ازبکستان اور تاجکستان نے افغآن حکومت کے اس مطالبہ کو نظرانداز کردیا ہے اورکوئی مثبت جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے افغانستان اور ہمسائیہ ممالک کے درمیان حالات سردمہری کا شکار ہوسکتے ہیں