Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) نے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی رکنیت فوری طورپرمعطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جارجیا سے تعلق رکھنےوالے یو این ڈبلیو ٹی او کے سیکرٹری جنرل زراب پولولیکا شویلی نے،،رائے شماری کے بعد اپنے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ اعمال کے ہمیشہ نتائج ہوں گےامن ایک بنیادی انسانی حق ہے۔سب کو اس کی ضمانت دی جانا چاہیے‘‘۔واضح رہے کہ ان کے آبائی ملک پر 2008 میں روس نے حملہ کیا تھا۔

    287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد


    "روئٹرز” کے مطابق یو این ڈبلیو ٹی او کے 160 رکن ممالک میں سے دو تہائی سے زیادہ نے روس کی رکنیت معطل کرنے کی قرارداد کی حمایت کی ہے۔روس کی جانب سے تنظیم چھوڑنے کے فیصلے کے اعلان سے بہت پہلے رائے شماری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔اس کے بارے میں یو این ڈبلیو ٹی او نے کہا تھا کہ اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگے گا۔


    میڈرڈ میں قائم ادارے کے بدھ کو منعقدہ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ہسپانوی وزیرسیاحت ریئس ماروٹو نے کی۔ انھوں نے کہا کہ روس کی یلغارنے اقوام متحدہ کے اساسی اصولوں اور سیاحت کی نمائندگی کرنے والی اقدار مثلاً امن، خوش حالی اور آفاقی احترام کو مجروح کیا ہے۔انھوں نے مخاصمت کے خاتمے پر زور دیا۔


    ہسپانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ جب اسمبلی ’’روسی فیڈریشن کی پالیسی میں تبدیلی‘‘کا ادراک کرے گی تورُکنیت معطلی ختم کی جاسکتی ہے۔ اسمبلی کا اگلا اجلاس اب 2023ء میں ہوگا۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے یو این ڈبلیو ٹی او کو چھوڑنے کے فیصلے سے روس میں سیاحتی شعبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سیاحت اور خاص طور پراندرونی سیاحت کا شعبہ اپنی ترقی جاری رکھے گا۔انھوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ سیاحت کے لیے بیرونی رہ نما ہدایات بھی کھلی ہیں جو معیاراورقیمت کے لحاظ سے مسابقت کے سوالات پر زوردیتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر روس کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔اس کے بعد میں ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ادارے کو بھی چھوڑ رہا ہے۔

    روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی کے دوران میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔وہ یوکرین میں اپنی جنگی مہم کو اس ملک کو غیرمسلح کرنے اور اسے فاشسٹوں سے بچانے کے لیے’’خصوصی آپریشن‘‘ کا نام دیتا ہے۔

    یوکرین اور مغرب کا کہنا ہے کہ روس نے بلااشتعال جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ ایک جارحانہ جنگ لڑ رہا ہے۔

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

  • اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے باعث لاکھوں بچوں کے بھوک کی وجہ سے لقمہ اجل بننے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی افریقی ملک صومالیہ کو اس دہائی کی بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بینکوں کےاوقات کار میں تبدیلی،ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    صومالیہ یوں تو اکثر خشک سالی کا شکار رہتا ہے تاہم اس وقت یہ رواں دہائی کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔اس کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا اور کینیا بھی متاثر ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسیوں ورلڈ فوڈ پروگرام، فوڈ اینڈ ایگری لچر ایجنسی (ایف اے او) انسانی امدادی سرگرمیوں میں شامل ایجنسی او سی ایچ اے اور یونیسیف کے عہدیداروں نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے دستیاب امداد ختم ہوتی جارہی ہیں اور بہت سے متاثرہ صومالیوں میں اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے صومالیہ کے نمائندے الخضر دالوم نے کہا کہ حقیقت میں صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ ہم کسی بھوکے سے کھانا لے کر بھوک مری کی دہلیز پر پہنچ جانے والے لوگوں کوکھلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لاکھو ں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری

    اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل سے جون کے دوران مشرقی افریقہ میں بارش نہیں ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس کے علاوہ اناج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نیز یوکرین میں تصادم کی وجہ سے اناج کی سپلائی متاثر ہوجانے کے سبب اناج کی قلت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث صومالیہ کے 6 خطوں کو قحط زدہ علاقوں کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔

    ایک نئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ یعنی تقریباً 60 لاکھ افراد خوراک کی انتہائی شدید قلت سے دوچار ہیں قحط کی وجہ سے بچے اس کا سب سے زیادہ شکار ہوں گے۔ اس سال ہی تقریباً 14 لاکھ بچوں کو انتہائی قلت تغذیہ کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ان میں سے ایک چوتھائی کی بھوک کی وجہ سے ہلاکت ہوسکتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق صومالیہ میں قحط کے بحران پر قابو پانے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کی رقم درکار ہے جس میں سے اب تک صرف 4.4 فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے-

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صومالیہ میں سن 2011ء میں قحط اور تصادم کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اپنے ہی وزراء برطرف کر دیئے

  • پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    اسلام آباد:پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی (این جی اوز) کے لیے ساتویں مرتبہ دوبارہ رکن منتخب ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ انتخاب 13 اپریل بروز بدھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں ہوا۔یہ کمیٹی ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو اقوام متحدہ کے کام میں غیر سرکاری تنظیموں کی شرکت کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔

    وزارت خارجہ کے دفتر کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ این جی اوز کی ان درخواستوں پر غور کرتا ہے جو ” ای سو او ایس اور سی“ کو مشاورتی حیثیت اور ایکریڈیٹیشن حاصل کرنا چاہتی ہیں۔کمیٹی میں پاکستان کا انتخاب اقوام متحدہ کے کام میں اس کے کردار اور شراکت میں عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

    این جی اوز کی کمیٹی کے رکن کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا رہے گا جو دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ایک متنوع اور فروغ پزیر سول سوسائٹی ہے۔

    ہم نے ہمیشہ کثیرالجہتی بات چیت میں سول سوسائٹی کی مناسب شرکت کے عزم کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کا مظاہرہ کیا ہے جس کا مقصد انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجوں کا حل تلاش کرنا ہے۔

  • افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    امریکا اور اقوام متحدہ نے افغان طالبان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر شناخت کے حصول اور افغان معیشت کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    طالبان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں بدھ سے ہائی اسکول میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے لیکن بعد میں اپنے فیصلے کو یہ کہہ کر تبدیل کر دیا تھا کہ لڑکیوں کے لیے مناسب یونیفارم کا فیصلہ نہ ہونے تک اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اگر طالبان نے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو افغان عوام کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی کے امکانات اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے طالبان کے عزائم کو گہرا نقصان پہنچے گا۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ طالبان کا فیصلہ نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، بلکہ یہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی زبردست شراکت کے پیش نظر ملک کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ میں طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ یہ تاخیر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں لڑکیوں پر پابندی لگانے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف لڑکیوں کے اسکول یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔

    تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان حکمرانوں کو یاد دلایا کہ تعلیم ایک انسانی حق ہے اور امریکا اسکول کھولنے کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے طالبان کے بہانے کو مسترد کرتا ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں بہت سی لڑکیوں کی سیکنڈری کلاسوں میں واپسی ہو رہی ہے لیکن انہیں تاحکم ثانی گھر جانے کو کہا گیا ہے۔

     

     

    انٹونی بلنکن کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ہم افغان لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو تعلیم کو افغان معاشرے اور معیشت کی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کرنے کی راہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر شدید افسوس ہے اور انہوں نے طالبان کو یاد دلایا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کا تمام طلبہ، لڑکیوں اور لڑکوں، ان کے والدین اور خاندانوں نے بے صبری سے انتظار کیا ہے۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ بار بار وعدوں کے باوجود چھٹی جماعت اور اس کے بعد کی جماعتوں کی لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے میں افغان حکام کی ناکامی گہری مایوسی کو جنم دیتی ہے اور افغانستان کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ انہوں نے طالبان حکام سے اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے تمام طلب کے لیے اسکول کھول دیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے اپنے حالیہ دورہ کابل کے حوالہ دیا جس میں خواتین نے ان کو بتایا تھا کہ وہ خود طالبان سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف آبادی کو طاقت سے محروم کرنا غیر منصفانہ ہے، اس طرح کا امتیازی رویہ ملک کے مستقبل کی بحالی اور ترقی کے امکانات کے لیے بھی شدید نقصاندہ ہے۔

     

     

  • عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    اسلام آباد: عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی برادری سے اپیل کردی ،اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور ورلڈ مسلم کانگریس کے زیر اہتمام ایک ویبینار میں مقررین نے عالمی برادری پر زور دیاہے کہ وہ مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھارت کے استعماری ایجنڈے کا سنجیدگی سے نوٹس لے جو ہر طرح سے کشمیریوں اور انکے وسائل کو کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    این ایچ سی آر کے49ویں اجلاس کے موقع پرمنعقد کیے جانے والے ویبنار میں مصنف اور صحافی رابرٹ فاتینا ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیزسید محمد علی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قائم مقام ڈین ڈاکٹر اویس بن وصی ، یوتھ فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی سمیت انسانی حقوق کے ممتاز کارکنوں، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، ماہرین تعلیم اور دیگر نے شرکت کی ۔تقریب کی نظامت کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کی۔

    مقررین نے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموں و کشمیر میں آبادی کاری کے نوآبادیاتی بھارتی ایجنڈے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعمیر و ترقی کے نام پر علاقے کو مزید نوآبادیاتی بنایا گیا۔انہوں نے5 اگست 2019 کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے سیاسی، ثقافتی اور قومی تشخص کو مٹانے کے لیے پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت ریاستی آلات کو بے شرمی سے استعمال کر رہا۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا بھارت کی مقبوضہ علاقے کو نوآبادیاتی بنانے کی طویل تاریخ کا ایک اور قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آباد کاری کے بھارتی استعماری ایجنڈے کا مقصد نام نہاد ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنا ہے۔ویبنار کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی سازشوں اورچالوں کا موثر نوٹس لے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپناکردار ادا کرے۔

     

  • اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کا2روزہ 48واں اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی :سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا اور اسلامو فوبیا کے خلاف 15 مارچ عالمی دن قرار دینا بہترین کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گاعالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کی جائے گی مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان حل طلب معاملہ ہے اور ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جبکہ مذاکرات سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔

    قبل ازیں سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرناہوگا-

    سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہےکشمیریوں کویواین قراردادوں کےمطابق حق خودارادیت دیاجائے-

    انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کو او آئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے،افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے-

    اوآئی سی سیکریٹری جنرل ابراہیم حسین نے کہا تھا کہ یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے،مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو مل کر آگے جانا ہوگا روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا ،روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے-

    دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔

    اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-

    انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤ س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےلیے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دیں گے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔

    وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دیں گے، دھرنا دیں گے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ،فلسطین،موریطانیہ ،ترکی کے وزرائےخارجہ پارلیمنٹ ہاوس میں پہنچ چکے ہیں-

    چین کے اسٹیٹ کونسلر ،وزیر خارجہ وانگ ای وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب میں تہنیتی جملوں کا تبادلہ کیا-

    کویت اورتیونس اوربنگلادیش کے وزرائے خارجہ،قازقستان کےنائب وزیراعظم اوآئی سی بھی اجلاس کا حصہ ہیں سیکریٹری جنرل اوآئی سی کانفرنس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں-

    عراقی نائب وزیراعظم،صدراسلامی ترقیاتی بینک بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں گیانا کےوزیرخزانہ وفدسمیت او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس سے کچھ دیربعد خطاب کریں گے-

    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی ہال میں مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اور وفود موجود ہیں حکومت کو 3ماہ میں دوسری بار اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا-

    اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہےنئی حقیقتوں نے گلوبل آرڈر کو تبدیل کر دیا، غیر یقینی کی صورت حال ہےامید ہے کانفرنس سے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی نئی راہیں کھیلیں گی-

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) بروز منگل 22 مارچ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا موضوع ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری‘ ہے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود اجلاس میں موجود ہوں گے اور 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ میں اعزازی مہمان کی حیثیت سے بھی شرکت کر رہے ہیں-

    اجلاس میں تمام57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ،مبصرین اور مہمانوں کی آمد جاری ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج افتتاحی سیشن سے کچھ دیر بعد خطاب بھی کریں گے پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلام فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر ایک سو چالیس قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    صدر پاکستان وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گےجبکہ سعودی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کریں گے، اجلاس میں ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے، مختلف کلسٹرز قراردادوں کا جائزہ لیں گے۔

    اس کے علاوہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا، جس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی اور یکم اگست 2019کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے، افغانستان کے حوالے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔

    اجلاس کے اوپننگ اور کلو زنگ سیشن اوپن ہوں گے، 23 مار چ کو کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحٰہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کریں گے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ اور صدر اسلامى بینک سمیت کئی دیگر رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اوآئی سی کانفرنس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا جس کے مطابق 21 تا24 مارچ ریڈزون عام ٹریفک کے لیے مکمل بندہوگا۔

    گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے کا تاریخی موقع ہوگا، اجلاس میں خطےکو درپیش چیلنجز سے نمٹےکے لیے مشترکہ حکمت عملی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

    بروز پیر 21 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے۔ مسلسل دوسری بار او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام انہوں نے کہا کہ ’پوری اپوزیشن بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔‘

  • فن لینڈ مسلسل پانچویں بار دنیا کا خوش ترین ملک

    فن لینڈ مسلسل پانچویں بار دنیا کا خوش ترین ملک

    جنیوا: فن لینڈ نے مسلسل پانچویں بار دنیا کے خوش ترین ملک کا اعزاز حاصل کرلیا جب کہ اس دوڑ میں پاکستان، بھارت پر سبقت لے گیا۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ورلڈ ہیپینس رپورٹ میں سب سے زیادہ خوش اور ناخوش ممالک کی درجہ بندی کی گئی جس کے تحت سب سے خوش اورمطمئن ممالک میں پہلا نمبرفن لینڈ نے حاصل کیا جب کہ افغانستان سب سے آخری نمبر پر ہے۔

    ترکی نے یورپ اورایشیا کوملانے والا دنیا کا سب سے لمبا پل کھول دیا

    پانچ برس قبل 2018 میں فن لينڈ کو پہلی مرتبہ سب سے خوش ملک و قوم قرار ديا گيا تھا فن لينڈ کے جنگلات، وہاں عوام کو ميسر پبلک سروسز کا بلند معيار، حکام پر مکمل اعتماد، شفافيت اور جرائم اور عدم مساوات کی انتہائی کم شرح اس ملک کی خصوصیات میں شامل ہیں

    ڈنمارک، آئس لینڈ سوئٹزرلینڈ اور ہالینڈ بالتریب دوم سے پانچویں نمبر پر ہیں۔ اس سال سربیا، بلغاریہ اور رومانیہ نے بھی اپنا درجہ بلند کیا ہے تاہم لبنان معاشی بدحالی کے باعث خوش ترین ممالک کی فہرست میں افغانستان سے ایک نمبر پہلے یعنی 145 پر آگیا۔

    طاقتور عالمی قوتیں اس فہرست کے پہلے دس نمبر پر بھی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں رہیں آسٹریلیا 12، جرمنی 14، کینیڈا 15، امریکا 16 ، برطانیہ 17 اور فرانس 20 ویں نمبر پر ہے۔

    فہرست میں پاکستان کا نمبر ہے 103 جب کہ بھارت کہیں پیچھے 136 ویں نمبر پر ہے اس طرح پاکستان نے بھارت کو خوش ترین ممالک میں پیچھے چھوڑ دیا دیگر ایشیائی ممالک میں بنگلادیش 99 ویں نمبر پر ہے۔

    افغانستان 146 ممالک کی فہرست ميں سب سے نچلی پوزيشن پر رہا۔ واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے وہاں کے عوام شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ جبکہ جنگ زدہ لبنان بھی افغانستان سے ایک نمبر اوپر ہے۔

  • ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ:اقوام متحدہ میں سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد منظور

    ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ:اقوام متحدہ میں سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد منظور

    اقوام متحدہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سائیکل چلانے کو فروغ دینے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ” فوربز” کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ارکان نے 15 مارچ کو ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا تھا کہ سائیکل موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ہتھیار ہے۔

    مس یونیورس 2021 کا تاج مس پولینڈ کے سر پر سج گیا

    ترکمانستان کی طرف سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی تاہم جنرل اسمبلی سے مںظور کی گئی دیگر قراردادوں کی طرح اس پر بھی رکن ملکوں کے لیے عمل درآمد لازمی نہیں۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے شہری اور دیہی علاقوں کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سائیکل کو شامل کیا جائے سڑک پر سائیکل چلانے والوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھایا جائے ۔

    قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سائیکل کی سواری کے فروغ سے دیرپا ترقی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے لہذا دنیا بھر میں قومی ترقی کی پالیسی اور پروگرام میں سائیکل کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

    مہنگائی میں ہو شربا اضافہ: سری لنکا میں مظاہرین نے صدارتی دفتر پر دھاوا بول دیا

    واضح رہے کہ 2013 میں صدر گربنگولی بردی محمدوف نے تمام شہریوں کو بائک خریدنے کا حکم دیا اقوام متحدہ کی جانب سے سالانہ ورلڈ بائیسکل ڈے کے قیام کے پیچھے وسطی ایشیائی ہرمٹ ریاست کا ہاتھ تھا اس سال 3 جون کو بائیسکل کاپانچواں عالمی دن منایا جائے گا-

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سائیکل چلانے کے صحت پر اثرات:

    سائیکل چلانا ایک ایسی صحت مند سرگرمی ہے جو بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس سے جسمانی تندرستی اور چستی حاصل ہوتی ہے جبکہ بچوں کو مستعد رہنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    سائیکل ایک سادہ، سستی، قابل اعتماد، صاف ستھری اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار ذرائع آمدورفت ہے، جو ماحولیاتی انتظام اور صحت کو فروغ دیتی ہے۔ دو صدیوں سے استعمال ہونے والی سائیکل کی اہمیت، انفرادیت اور استعداد کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12اپریل 2018ء کو فیصلہ کیا کہ ہر سال 3جون کو دنیا بھر میں ’سائیکل کا عالمی دن‘ منایا جائے گا۔

    اس دن دنیا بھر میں اس مقصد کے لیے عالمی ادارہ جسمانی اور دماغی صحت اور تندرستی کو مستحکم کرنے اور معاشرے میں سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے قومی اور مقامی سطح پر سائیکلنگ ایونٹس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

    ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    سائیکل چلانا جسمانی ورزش کی بہترین قسم ہے جو اچھی صحت یقینی بنانے کے ساتھ ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ہے۔ سائیکلنگ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو طاقتور بنانے کے ساتھ مختلف اقسام کے کینسر سے بھی بچاتی ہے۔ سائیکل چلانے سے پٹھوں میں لچک اورمضبوطی آتی ہے اور جوڑوں کی حرکت بہتر ہوتی ہے جبکہ اسٹیمنا بھی بڑھتا ہے۔

    سائیکل چلانا دل کی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اور یہ انسان کو امراض قلب کی مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔ سائیکل چلانے سے دل، خون کی نالیاں اور پھیپھڑے سب مشق کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے ساتھ ہی سانس گہرا ہونے لگتا ہے اور جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے جو کہ صحت کے لیے فائدے مند ہوتا ہے۔

    سائیکل چلانا جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ اس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے جبکہ تشویش اور یاسیت گھٹتی ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

    مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    ہر عمر میں، جسمانی طور پر متحرک رہنے کے فوائد کہیں زیادہ ہوتے ہیں 2015ء میں ہالینڈ کی یونیورسٹی آف یوٹریچٹ میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سائیکل چلانے والے دیگر افراد کے مقابلے میں نہ صرف صحت مند ہوتے ہیں بلکہ ان سے لمبی عمر بھی پاتے ہیں۔

    یونیورسٹی کے محقق کالیجن کیمفیوس کے مطابق ایک گھنٹہ سائیکل چلانے والے افراد اپنی زندگی میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کر لیتے ہیں تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو لوگ ہفتے میں 74منٹ سائیکل چلاتے ہیں وہ سائیکل نہ چلانے والوں سے 6ماہ زیادہ زندگی جیتے ہیں۔

    سائیکلنگ کے ذریعے بڑی تعداد میں کیلوریز جلائی جاسکتی ہیں۔ وزن کم کرنے کےخواہشمند افراد کے لیے یہ ایک بہترین ورزش ہے جو جسم میں موجود زائد کیلوریز جلانے میں معاون ہو تی ہے۔ اس سے جسم میں خوراک کی تحلیل کی رفتار بڑھتی اور چربی پگھلتی ہے تحقیق کے مطابق ایک گھنٹہ مسلسل سائیکل چلانے سے 300کے قریب کیلوریز جلائی جاسکتی ہیں۔

    امریکا میں نشہ آور ادویات کی فروخت میں ملوث 16 معالجین کو قید کی سزا

  • میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    جنیوا:اقوام متحدہ نے میانمار میں گزشتہ برس فوجی بغاوت کے بعد انسانی حقوق کے حوالے سے پہلی جامع رپورٹ شائع کی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں انسانی زندگی کی شرمناک توہین اور انسانیت کے خلاف جرائم کے واضح شواہد ملے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل بیچلیٹ نے منگل کے روز پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ برس کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں فوج انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیو ں میں مصروف ہے۔ ان میں سے بعض جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

    انہوں نے رپورٹ سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ بہت سے لوگوں کو سر میں گولیاں ماری گئیں، زندہ جلا کرمار ڈالا گیا، کسی الزام کے بغیر گرفتار کیا گیا، اذیتیں دی گئیں یا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اس کے خلاف ”بامعنی کارروائی” کرنے کی اپیل کی۔

    بیچلیٹ نے کہا، "میانمار کے عوام کے ساتھ جس طرح کی زیادتی کی جارہی ہے اور بین الاقوامی قانون کی جس بڑے پیمانے پر اور کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے وہ ایک ٹھوس، متحد اور سخت بین الاقوامی کارروائی کا متقاضی ہے۔” میانمار آرمی کا کہنا ہے کہ امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔

    اس نے کسی بھی طرح کی زیادتی سے انکار کیا اور "دہشت گردوں” کو بدامنی پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد سے فوج اب تک اقتدار کو مستحکم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد سے فوج کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کے بعد مغربی ملکوں نے فوج پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ متاثرین کے ساتھ بات چیت نیز عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔

    اس میں تصاویر اور مصدقہ ملٹی میڈیا فائلز اور اوپن سورس سے دستیاب اطلاعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ فوج کو ملک کے دیہی علاقوں میں برطرف حکومت سے وابستہ ملیشیا کی جانب سے مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے سگینگ خطے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔

    ہلا ک ہونے والے بہت سے لوگوں کے ہاتھ اور پاوں بندھے ہوئے ملے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کایاہ ریاست میں عورتوں اور بچوں کی جلی ہوئی لاشیں پائی گئیں۔ ان میں سے بعض کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ انہوں نے بچنے کی کوشش کی تھی لیکن زندہ جلا دیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدگان کو پوچھ گچھ کے دوران اذیتیں دی گئیں، انہیں چھت سے الٹا لٹکایا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، منشیات کے انجکشن دیے گئے اور ریپ سمیت جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی ترجمان روینا شمداسانی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "ہمیں گزشتہ برس ایک پیٹرن کا پتہ چلا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بند، منظم اور مربوط حملے تھے۔

    اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔” خیال رہے کہ گزشتہ برس میانمار آرمی نے اقوام متحدہ اور اس کے آزاد ماہرین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ غیرمعتبر اطلاعات اور مخالف گروپوں کے بیانات پر انحصار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کم از کم 1600 لوگوں کو ہلاک کردیا جب کہ 12500 سے زائد قید میں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق کم از کم 440000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 40لاکھ کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن فوج نے نئے اور سابقہ ضرورت مند علاقوں تک رسائی بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ سن 2021 میں فوجی بغاوت سے پہلے بھی میانمار میں انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔

    ملک کی روہنگیا مسلم اقلیت کی ایک بڑی آبادی کو سن 2017 میں ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس وقت آنگ سان سوچی کی حکومت تھی۔ ان کی حکومت میں فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے متعدد گاوں جلا دیے اور شہریوں کو ہلاک کردیا۔

    اقوام متحدہ نے میانمار فوج کی اس کارروائی کو "نسلی تطہیر کی مثال” قرار دیا تھا۔

  • اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    نیویارک: اقوام متحدہ کی جانب سے 15 مارچ کو منظور کی گئی اسلاموفوبیا کے عالمی دن کی قرارداد پر بھارت نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ بھارت امید کرتا ہے کہ یہ قرارداد مستقبل میں پیش کی جانے والی مخصوص مذاہب فوبیا قراردادوں کیلئے نظیر نہیں بنے گی جس سے اقوام متحدہ ایک مذہبی کیمپ کی صورت اختیار کرلے۔

    واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ…

    انہوں نے کہا کہ ہندومت کے 1.2 بلین سے زیادہ پیروکار ہیں، بدھ مت کے 535 ملین سے زیادہ اور سکھ مت کے 30 ملین سے زیادہ، صرف ایک مذہب کے ساتھ فوبیا مخصوص نہیں کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ دنیا کے ساتھ ایک خاندان کی طرح برتاؤ کرے اور ایسے مذہبی معاملات سے بالاتر رہے جو ہمیں امن اور ہم آہنگی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے بجائے تقسیم کریں بھارت یہودی فوبیا، عیسائی فوبیا یا اسلاموفوبیا کی تمام کارروائی کی مذمت کرتا ہے لیکن ایسے فوبیا صرف ابراہیمی مذاہب تک محدود نہیں ہونے چاہیئں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے اس طرح کے مذہبی فوبیا نے غیر ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کو بھی متاثر کیا ہے جس کی عصری شکلیں ہندو فوبیا، بدھ مت فوبیا اور سکھ فوبیا ہے۔

    حیرت ہے اپوزیشن کے مقابلے میں حکومت بھی جلسے کرنے لگ گئی،چودھری شجاعت

    انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے پاس 16 نومبر کو رواداری کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ محض ایک مذہب کے خلاف فوبیا کو عالمی دن کے طور پر منائے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلی ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کے خلاف 15 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا او آئی سی میں مذکورہ قرارداد 2 سال قبل اُس وقت پیش کی گئی تھی جب ایک دائیں بازو کے انتہا پسند نے نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے میں 50 سے زائد نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔

    قرارداد منگل کو او آئی سی کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے پیش کیتھی جس کی منظوری کے بعد اب آئندہ 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے دن کے طور پر عالمی سطح پر منانے کی منظوری دی گئی ہے-

    دنیا بھارتی میزائل فائرکرنےکےواقعہ کا نوٹس لے: عسکری قیادت