Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی ایم این اے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران، دونوں فریقین نے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے، موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے لیے موسمیاتی فنانس، زرعی بیمہ، شہری سیلاب سے نمٹنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    یو این ڈی پی-پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین نے بھی وزیر اعظم کی معاون کو موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ نئے عالمی مالیاتی طریقہ کار کا مقصد پہلے سے طے شدہ مالیات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں تحفظ کے خلا کو ختم کرنا ہے۔اس اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے، انہوں نے وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید مشیر کو آگاہ کیا کہ ولنر یبل ٹونٹی گروپ (Vulnerable Twenty Group (V20)) نے گروپ آف سیون (G7) اور دیگر معاون ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کا آغاز کیا تاکہ مزید سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
    ”بنیادی طور پر، موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ پہلے سے ترتیب دیا گیا جو ٹرگر پر مبنی مالی وسائل ہے اور آفات کے مد مقابل فوری طور پر دستیاب فنڈ ہے جو کہ معیشت، کاروبار کے لیے انتہائی موثر اور تیز ترین طریقہ ہے۔ یہ بات یو این ڈی پی کی پاکستان میں ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کے دوران واضح کی۔

    یو این ڈی پی پاکستان کی سینئر عہدیدار نے وزیراعظم کی معاون کو آگاہ کیا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ممالک کو موسمیاتی خطرات اور اثرات کو مزید سمجھنے کے لیے جامع مدد فراہم کرنا اور تحفظ کے خلا کو پورا کرنے کے لیے جدید حل اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے حل کرنا اس اقدام کا ایک بہت بڑا مقصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا ایک اور اہم مقصد پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو گرانٹ پر مبنی مالی اور تکنیکی امداد کی فراہمی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کی کوششوں سے منسلک کمزور کمیونٹیز کے مالی تحفظ کے لیے حل نکالنا اوراس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔دریں اثنا، یو این ڈی پی-پاکستان کی نمائندہ نے بھی وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم کو ملک کی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے اقدام کے ذریعے فراہم کردہ مالی اور تکنیکی مدد تک رسائی کے لیے ان کی تنظیم کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    رومینہ خورشید نے یو این ڈی پی – پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کی کہ ان کی فراخدلانہ پیشکش کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی وزارت کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے دوچار شعبوں، بالخصوص زراعت، شہری سیلاب اور آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ابتدائی انتباہ کے لیے پاکستان کی معاونت کی جا رہی ہے۔رومینہ خورشید عالم نے یو این ڈی پی – پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین کو بتایا کہ ”میں کسی بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گی جس سے ہمیں لوگوں کی زندگیوں اور معاش اور سماجی و اقتصادی شعبوں خصوصاً زراعت، پانی، توانائی، صحت، تعلیم کو موسمیاتی موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے”۔وزیر اعظم کی معاون نے کہا کہ وسیع تر مالی تحفظ، تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی پالیسی کے تحت فراہم کردہ ردعمل پاکستان میں خطرات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نقصانات کا مؤثر جواب دینے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران، پی ایم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ پچھلی دہائی کے دوران، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جو کہ انسانی بقا اور ماحولیاتی نظام کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    وزیر اعظم کی معاون نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طوفان، خشک سالی اور سیلاب نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی مسلسل اور زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سست آغاز کے اثرات کے ساتھ یہ انتہائی موسمی واقعات تمام ممالک، بالخصوص سب سے زیادہ کمزور ممالک اور کمیونٹیز کے لیے کی پائیدار ترقی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔وزیراعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی کارروائی اورتبدیلیوں سے موافقت کے لیے سرمایہ کاری کے باوجود، آب و ہوا سے متعلق نقصانات کے بقایا خطرات اب بھی برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا، ”جب آب و ہوا سے متعلق کوئی آفت آتی ہے، تو بہترین نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لیے انتہائی موثر اور تیز رفتار طریقے سے فوری مالیات فراہم کرتے ہیں۔”

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے  فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے تعینات فوجی دستوں کا دن منایا جا رہا ہے
    اقوام متحدہ کے امن مشن میں تعینات پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند کردیا،پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن کے فوجی دستوں کی تعداد اقوام متحدہ کے امن دستوں میں سب سے زیادہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس وقت تقریباً تین ہزار امن دستے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، 1960 کے بعد سے پاکستان نے دنیا کے تقریباً تمام براعظموں سمیت 29 ممالک میں، اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں، اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں 235,000 فوجیوں کا تعاون کیا ہے۔

    پاکستانی خواتین کے امن دستے بھی دنیا کے مختلف جنگ زدہ خطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،پاکستان کے امن فوجی دستے اس وقت اقوام متحدہ کے مختلف بڑے مشنوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان فوجی دستوں کی اکثریت ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو (ڈی آر سی)، سوڈان کے علاقے دارفور اور وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں تعینات ہے،ان دستوں کے فرائض میں عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے فلاحی کاموں کو سرانجام دینا ہے، مختلف پروگراموں کے تحت پاکستانی امن فوجی دستے مقامی آبادی کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر وغیرہ کی بنیادی تعلیم بھی فراہم کر رہے ہیں،پاکستان کی زیادہ تر خواتین امن فوجی طبی خدمات سرانجام دے رہی ہیں،اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستانی خواتین کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے،2020 کے دوران کانگو میں پاکستانی خواتین پر مشتمل امن فوجیوں کے 15 رکنی دستے کو بہترین کارکردگی پر میڈل سے نوازا گیا ہے،اس15 رکنی دستے میں ماہر نفسیات، ڈاکٹرز، نرسز، انفارمیشن آفیسر، لاجسٹک آفیسر سمیت دیگر افسران شامل تھیں جنہوں نے انتہائی لگن اور انتھک محنت کے ساتھ دیار غیر میں پیشہ وارانہ کارکردگی سے دنیا کو متاثر کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ،اقوام متحدہ نے پاکستانی خواتین پیس کیپرز کی ان خدمات کو خوب سراہا ہے

    181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دیں،ترجمان پاک فوج
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کو اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے اپنی دیرینہ وابستگی پر فخر ہے۔ ہمارے امن فوجیوں نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے، مجموعی طور پر 181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں،امن کے اس عالمی دن پر، ہم عالمی امن کے عظیم مقصد کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،پاکستان یونیفارم میں خواتین کی بہتر نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی یکساں صنفی برابری کی حکمت عملی سمیت سیکریٹری جنرل کے ایکشن فار پیس اقدام، جو ان کی صلاحیت کو بڑھا کر اقوام متحدہ کے امن مشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک کوشش ہے، کے لیے بھی پرعزم ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کی شراکت بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ہماری قوم کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پاکستانی امن دستے شورش زدہ علاقوں میں مقامی کمیونٹیز کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن ہر سال 29 مئی کو منایا جاتا ہے، اس موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان سمیت امن مشن میں شامل دیگر ممالک کی امن کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا جاتا ہے۔

    پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔وزیراعظم
    وزیرِاعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن پرپیغام میں کہا ہے کہ امن مشن کا شورش زدہ علاقوں میں قیامِ امن اور شہریوں کے تحفظ کیلئے کلیدی کردار ہے۔پاکستان کے امن دستوں کو خراجِ تحسین، جن کی خدمات نمایاں ہیں، دو لاکھ 30 ہزار امن اہلکار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ عالمی امن کی خاطر 181 اہلکار شہید ہوئے، ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔پاکستان امن وانصاف کے حصول کیلئے پر عزم ہے، ہم پُرامن اور انسانیت کی فلاح پر مبنی مستقل کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    امن مشن کی 75 ویں سالگرہ،شہداء پاکستان کیلئے اعزازات کا اعلان

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

  • غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے،سیکرٹری جنرل  اقوام متحدہ

    غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

    جنیوا:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ پٹی میں جاری جنگ انسانیت کے لیے جہنم سے کم نہیں، غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیےمشرق وسطی کا خطہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، وہاں جاری کشیدگی کو روکنا ناگزیر ہو گیا ہے غزہ پٹی میں جنگ بندی مشرق وسطی میں کشیدگی کی فضا کو کافی حد تک کم کرنے کیلئے مددگار ثابت ہوگی، غزہ پٹی میں جاری جنگ کے باعث امدادی ادارے کام کرنے سے قاصر ہیں۔

    دوسری جانب سرائیلی میڈیا مین رفح حملے کے لیے امریکی حمایت کی خبریں گردش کررہی ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کو ایران کے خلاف محدود کارروائی کی شرط پر رفح میں فوج داخل کرنے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

    اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    العربیہ کے مطابق امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے بعد فلسطینی ایوان صدر نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہےفلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نے ’عرب ورلڈ نیوز ایجنسی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جامع جنگ شروع نہ کرنے کے بدلے میں اسرائیل کو رفح میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بارے میں بات کرنا "خطرناک” ہے، اور ہم واشنگٹن سے اس کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    اخبار "اسرائیل ہیوم” نے تین اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے رفح پر حملہ کرنے کے اسرائیلی فوج کے منصوبے کی منظوری اس شرط پر ظاہر کی ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملہ نہیں کرے گاانہوں نے نشاندہی کی کہ رفح کے حوالے سے جو اسرائیلی منصوبہ امریکی انتظامیہ کو پیش کیا گیا تھا اس میں جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع شہر سے شہری آبادی کو نکالنے کے طریقے شامل تھے۔

    ایران اسرائیل کے جوہری ری ایکٹر کو براہ راست نشانہ بنانے میں کامیاب رہا،اسرائیلی اخبار

    ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو "اپنی سیاسی چال میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے رفح شہر پر منصوبہ بند حملے کے حوالے سے امریکی سہولیات حاصل کرنے کے لیے ایرانی حملے کا فائدہ اٹھایا ہے، رفح آپریشن کے قریب ہونے کے دیگر اشارے بھی ملے ہیں، اسرائیلی فوج نے توپ خانے کے یونٹس اور بکتر بند دستوں کو دوبارہ غزہ کی پٹی میں منتقل کر دیا ہے، جس کو رفح میں جنگی کارروائیوں کی تیاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت رکوانے کی امریکی درخواست مسترد

    انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ عرصے میں اسرائیلی وزارت دفاع نے 40,000 خیموں کی خریداری کا اعلان کیا ہے، جو رفح سے شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی کے علاقوں میں جانے والے شہریوں کے لیے مختص کیے جائیں گے،اسرائیل نے آخری لمحات میں کم از کم دو بار ایران کے خلاف اپنا ردعمل منسوخ کیا،مصری ذرائع نے عرب میڈیا کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مصری فوج نے رفح کے ساتھ سرحد کے ساتھ شمالی سینا میں الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ رفح شہر پر اسرائیلی حملے کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے-

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت میں 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور شہداء میں 14 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں جبکہ زخمی بچوں کی تعداد 12 ہزار سے زائد ہے۔

  • دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے موسمیاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے انسانوں کے پاس صرف دو سال باقی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈٰیا کے مطابق ایجنسی کے ایگزیکوٹیو سیکرٹری سائمن اسٹیل کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ انتباہ ایک ڈرامائی بیان لگتا ہے لیکن جلد اقدامات بہت ضروری ہیں انہوں نے کہ یہ سوال کہ دنیا کو بچانے کے لیے دو سال اصل میں کس کے پاس ہیں؟ تو اس کا جواب اس کرہ ارض کا ہر فرد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرتی اور سیاسی سطح دونوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں اور اپنے گھریلو اخراجات میں تک موسمیاتی بحران کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ مذکورہ واررنگ بالخصوص جی 20 ممالک کے لیے تھی جن میں امریکہ، چین اور بھارت جیسے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک زمین پر 80 فیصد گرمی پیدا کرنے والے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

  • ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ

    ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ذیلی شعبے فوڈ ویسٹ انڈیکس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 19 فیصد فضلہ کے طور پر ضائع کیا گیا ہے جو کہ تقریباً 1.05 ارب میٹرک ٹن خوراک کے برابر ہے، رپورٹ میں 2030 تک خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے ہدف سے متعلق ممالک کی جانب سے اٹھائے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی خوراک کے کُل فضلے میں سب سے بڑا حصہ گھرانوں سے آتا ہے جو کہ 60 فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد ریسٹورنس سے اور باقی دکانوں اور سپراسٹور سے آتا ہے، رپورٹ میں انفرادی طور پر بھی جائزہ لیا گیا جس میں پتہ چلا کہ ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے جو کہ عالمی سطح پر یومیہ 1 ارب ضائع شدہ کھانا بنتا ہے-

    حماس کے حملے میں اسرائیلی کمانڈو ہلاک،16 فوجی زخمی

    رپورٹ میں حکومتو ں، مقامی اداروں اور صنعتی گروپس کی اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی کو اپنانے پر زور دیا گیا اور بتایا گیا کہ شرا کت داری سے ہی عالمی سطح پر کھانے کے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے، مطالعے کے شریک مصنف کلیمنٹین او کانر کا کہنا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن تعاون اور موثر انتظامی امور کے ذریعے اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے …

    دوسری جانب نائجیریا میں بوسارا سینٹر فار ہیویورل اکنامکس میں پراجیکٹ ایسوسی ایٹ فدیلا جمارے جو کینیا اور نائیجیریا میں خوراک کے ضیاع کی روک تھام کا مطالعہ کرتی ہیں، نے کہا کہ خوراک کا ضائع ہونا اور خوراک کی غیر موثر پیداوار ان لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے جو پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں یا صحت بخش کھانے کے متحمل نہیں ہیں، دنیا بھر میں 80 ملین سے زیادہ افراد کو بھوک کا سامنا ہے جبکہ عالمی سطح پر خوراک کے بحران میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

    30 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

  • امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے    اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو ویٹو کرنے کی دھمکی

    امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو ویٹو کرنے کی دھمکی

    جنیوا:امریکا نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 20 فروری کو ہونے والی ووٹنگ کو ویٹو کرنے کی دھمکی د ی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق الجزائر کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 20 فروری کو ووٹنگ کرائے جانے کا امکان ہے، جس کے لیے الجزائر نے ایک ہفتے قبل قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھاالجزائر نے اپنی درخواست میں اپیل کی تھی کہ ووٹنگ منگل کو کرائی جائے تاہم اب امریکا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس قرارداد پر ووٹنگ کے عمل کو ویٹو کردے گا۔

    اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کا متن حساس مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتا تھا اس لیے حمایت نہیں کرسکتے۔

    روس کو بڑی کامیابی،یوکرین کے اہم قصبےپر قبضہ کر لیا

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو منظور کرنے کے لیے اس کے حق میں کم از کم 9 ووٹوں کی ضرورت ہو گی اور یہ بھی کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین یا روس میں سے کوئی بھی قرارداد کو ویٹو نہیں کرے، اس سے قبل بھی امریکا غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کی مذمتی قرارداد کو ویٹو کرچکا ہے اور ایسا وہ اسرائیل سے دوستی نبھانے کے لیے کرتا ہے۔

    فلسطینی اتھارٹی نے حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی

    رواں سال رہائش کی خلاف ورزیوں کی صورت میں عازمین کا معاوضہ واپس کیا جائے …

  • اسرائیلی فوج  کی خان یونس میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے مرکز پر بمباری

    اسرائیلی فوج کی خان یونس میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے مرکز پر بمباری

    غزہ : اسرائیلی فوج نے خان یونس میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے مرکز پر بم برسا دئیے۔

    باغی ٹی وی:غیرملکی میڈیا کےمطابق اس حملے میں عمارتوں میں آگ لگ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں امدادی ایجنسی کےمرکز پرگرنےوالےبموں میں 9 فلسطینی شہید ہوگئےاور کئی زخمی ہیں اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں مزید 250 فلسطینیوں کو شہید کردیا جب کہ جبالیہ کیمپ میں بھی رہائشی عمارت کو تباہ کردیاگیا۔

    غزہ کی پٹی میں ’اونروا‘ کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے کل بدھ کو اعلان کیا کہ اقوام متحدہ کے ادارے سے وابستہ ایک مرکز میں دسیوں ہزار بے گھر افراد موجود ہیں، اس پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ثنا اللہ مستی خیل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی

    تھامس وائٹ نے "ایکس” پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ خان یونس میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے ایجنسی سے منسلک ایک تربیتی مرکز جس میں 10,000 بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں پربھی بمباری کی گئی ہےجس کے نتیجے میں عمارتوں میں آگ لگ گئی ہے اور بڑی تعداد میں انسانی جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی فوج دو دن سے مرکز تک محفوظ رسائی کو روک رہی ہے اور لوگ ایجنسی سینٹر کے اندر پھنس گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل نے کہا کہ بدھ کے روز جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں ایجنسی کی پناہ گاہ کو نشانہ بنانے والے حملے میں جنگ کے اصولوں کی "صاف خلاف ورزی” کی گئی ہے۔

    فیلپ لازارینی نی ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ پناہ گاہ پر حملہ جنگ کے بنیادی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں”۔

    والدین نے بلڈ کینسر میں مبتلا 5 سالہ بچہ صحتیابی کیلئے گنگا میں ڈبو نے …

    اسرائیل کیجانب سے خان یونس سے لاکھوں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی پر مجبور کردیا گیا ہے،علاوہ ازیں فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی جوابی وار کیے جس میں کئی اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے، فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں ایک اسرائیلی ڈرون طیارہ جب کہ کئی ٹینک اور بلڈوزر تباہ ہوئے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ میں بدترین غیرانسانی صورتحال پر بھوک سے 5 لاکھ فلسطینیوں کی جان کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، ادھر اٹلی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں زخمی 100 فلسطینی بچوں کا علاج کرانےکا اعلان کیا ہے۔

    انتخابات 2024: سنی تحریک نے ن لیگ کی حمایت کردی

  • نگران وزیراعظم سے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی ملاقات

    نگران وزیراعظم سے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی ملاقات

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے اقوام متحدہ میں موجود پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم نے منیر اکرم کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی پر سراہا، وزیراعظم نے منیر اکرم کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو تواتر سے اجاگر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عالمی سطح پر ملک کی معاشی فلاح و بہبود کے لیے مواقع کی نشاندہی کرنا پاکستان کے تمام سفارتی نمائندوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، منیر اکرم نے وزیراعظم کو اپنے مشن کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور وزیراعظم سے خارجہ پالیسی کے ضمن میں ہدایات لیں

    قبل ازیں نگران وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان انوار الحق کاکڑ نے یوم حق خود ارادیت کے موقع پر پیغام میں کہا کہ آج دنیا بھر کے کشمیری اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان (یو این سی آئی پی) کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جس کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا فیصلہ جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔ آج کا دن کشمیریوں کے اس ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا اعادہ ہے جو بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ساڑھے سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اس بنیادی حق کا استعمال نہیں کر سکے۔ بھارت جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 5 اگست 2019 سے، بھارت ایک سازشی عمل میں مصروف ہے ، جس کا مقصدمقبوضہ جموں کشمیر کی آبادی کے ڈھانچے اور سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر کے کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنا ہے۔جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کی جانب ایک اور قدم ہے۔ اس طرح کی قانون سازی اور انجینئرڈ عدالتی فیصلوں کے ذریعے کشمیریوں کی حقیقی امنگوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) ہر سال "عوام کے حق خود ارادیت کی عالمگیر احساس” پر ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس کا مقصد جبری قبضے میں رہنے والے لوگوں کی حالت زار اور حقوق کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانا ہے۔

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ، اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے کہ IIOJK کے لوگ اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا استعمال کریں۔ پاکستان بہادر کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق سمیت ان کے حقوق کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ کی تقرری،عرب امارات کی قراردادسلامتی کونسل میں منظور

    اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کی تقرری کیلئے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو گئی

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کے لئے قرارداد کی امریکہ نے بھی حمایت کی،جب قرارداد پیش کی گئی تو اس وقت روس اور چین رائے شماری کے اجلاس میں نہیں تھے، 13 اراکین نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیئے،

    افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کی تقرری کا مقصد طالبان رہنماؤں سے رابطے بڑھانا ہے ،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا،جس کے بعد قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی جو منظور کر لی گئی ہے،قرارداد متحدہ عرب امارات اور جاپان کی جانب سے پیش کی گئی تھی،قرارداد میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوص مقرر کرنے کا مقصدافغان خواتین کی محفوظ،مکمل،مساوی،اور بامعنی شرکت کے ساتھ پرامن افغانستان ہے جو بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر دوبارہ شامل ہو،

    دوسری جانب طالبان حکومت کے افغانستان میں خواتین کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے،اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق افغانستان میں زچگی کے دوران ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون کی موت ہوتی ہے ، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کو عالمی سطح پر زچگی اور بچوں کی شرح اموات کا سامنا ہے جہاں 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 638 خواتین کی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ نے خبردار کیا کہ 51 ہزار اضافی زچگی اموات، 4.8 ملین غیر ارادی حمل، اور 2025 تک خاندانی منصوبہ بندی کے کلینک ختم ہو جائیں گے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق افغانستان میں خواتین صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس سے ماؤں اور بچوں کی شرح اموات میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ بچیوں کی شادیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات اور عسکریت پسندوں سے خواتین کی جبری شادیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ،خواتین کا معائنہ کرنے والے مرد ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے،ہسپتالوں اور کلینکس کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ صرف خواتین عملے کو ہی خواتین مریضوں کی دیکھ بھال کی اجازت دیں،ڈبلیو ایچ او کے مطابق افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی شدید کمی ہے، 10 ہزار افغانیوں کے لیے صرف 4.6 ڈاکٹر، نرسیں اور دائیاں ہیں جو کہ معیاری سطح سے تقریباً پانچ گنا کم ہیں، اگست 2021 میں طالبان کی واپسی نے صحت کے بحران کو مزید بڑھا دیا، خواتین کا طبی شعبہ شدید متاثر ہوا جسکی وجہ سے خواتین کو بنیادی زندگی کے حقوق اور تعلیم میں پابندیوں کا شدید سامنا ہے، دور دراز علاقوں میں ہر 1 لاکھ بچوں کی پیدائش پر 5 ہزار زچگی کی اموات خطرناک حد تک بڑھی ہیں، خواتین کو ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے پہاڑی رستے کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے وہ رستے میں ہی دم توڑ دیتیں ہیں،سرکاری ہسپتالوں تک رسائی ناممکن ہونے کی وجہ سے خواتین کو بچے کی پیدائش کے لیے اپنی ادویات خود لانے کی ضرورت ہوتی ہے، ایک ڈیلیوری کی لاگت تقریباً 2 ہزار افغانی ($29) روپے یے، جو کہ بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہیں، ڈلیوری کے چارجز زیادہ ہونے کی وجہ سے 40 فیصد افغان خواتین گھر پر اور 80 فیصد دور دراز علاقوں میں بچے پیدا کرتی ہیں،2021 میں طالبان کے قبضے سے پہلے افغانستان میں تشدد سے بچ جانے والی خواتین کے لیے 23 ریاستی سرپرستی کے مراکز تھے جو کہ موجودہ انتظامیہ کے تحت بند کر دیے گئے ہیں ،طالبان حکومت خواتین کی صحت کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اسے مغربی تصور قرار دیتے ہیں،

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے غلطی سے فلسطین کے حق میں ہاتھ اٹھادیا

    اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے غلطی سے فلسطین کے حق میں ہاتھ اٹھادیا

    جنیوا: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق قرارداد پر رائے شماری ہوئی جس میں امریکی مندوب نے غلطی سے فلسطین کے حق میں ہاتھ اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ویڈٰو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز سرخ ملبوس میں براجمان امریکی مندوب نے قرارداد کے لیے رائے شماری کے شروع ہوتے ہی فلسطین کے حق میں ہاتھ اٹھایا جس پر امریکی مندوب کےپیچھے بیٹھی ہوئی امریکی عہدیدار نے اس غلطی کو بھانپتے ہی تیزی سے اس کا ہاتھ نیچے کیا اگر امریکی عہدیدار ایسا نہ کرتی تو ووٹ شمار کرلیا جاتا اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مستقل امریکی مندوب نے ساتھی عہدیدار کا شکاریہ بھی ادا کیا
    https://x.com/NuryVittachi/status/1738423105650065632?s=20
    دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قرارداد 2720 بسلسلہ غزہ امدادی سرگرمیاں کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے اس قرارداد میں ہنگامی بنیادوں میں غزہ کے متاثرین کے لیے محفوظ اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کو ممکن بنایا جائے گا اور ایسی کوششیں کی جائیں گی جس کے نتیجے میں غزہ میں ایک مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کی جاسکے۔

    وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صحیح سمت میں درست قدم ہے یہ جنگ کو روکنے اور غزہ میں موجود شہریوں کو جنگ سے بچانے کے لیے ایک اہم اور بہت کارآمد قدم ہوگا۔

    سعودی وزارت خارجہ نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے غزہ کے رہنے والوں کے مصائب پر بین الاقوامی برادری اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے تاکہ غزہ میں منظم انداز سے جاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل جرائم کا خاتمہ ہو سکے اور اسرائیلی فوج کے غزہ میں موجود نہتے شہریوں کے قتل اور جبری نقل مکانی کے سلسلے کو روکا جا سکے۔

    واضح رہے کہ غزہ کے باشندوں کے لیے امداد کی ترسیل تیز اور آسان بنانے کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد پر رائے شماری چار بار موخر ہوئی تھی امریکہ کو اس قرارداد کے متن پر تحفظات تھے اس نے قرارداد کی منظوری کی راہ میں دیوار بننے کے بجائے رائے شماری سے الگ رہنے کو ترجیح دی روس نے بھی قرارداد کے متن کو کمزور قرار دیتے ہوئے رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔