Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • ڈی آئی خان میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ

    ڈی آئی خان میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ

    خٰبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں این جی او گاڑی پر حملہ ہوا ہے

    ڈیرہ اسماعیل خان تھانہ ہتھالہ کی حدود ٹانک روڑ پر بھگوال کے قریب ٹانک جاتے ہوئے اقوام متحدہ او پی ایف واٹر منیجمنٹ این جی اوز کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تاہم فائرنگ سے گاڑی میں سوار تمام افراد محفوظ رہے جبکہ گاڑی کو نقصان پہنچا ہے، اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،پولیس حکام کے مطابق اقوام متحدہ کی گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے گاڑی میں سوار افراد محفوظ رہے ،پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے.پولیس کے مطابق گاڑی پینے کے صاف پانی کے سیمپل کیلئے گئی ہوئی تھی۔

    اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد اقوام متحدہ کے اہلکار سخت سیکورٹی میں واپس روانہ ہو گئے ہیں، آئی جی خیبر پختونخوا نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے

  • اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) عزت مآب فلیپو گرانڈی (H.E. Filippo Grandi) نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    ملاقات میں وزیراعظم نے یو این ایچ سی آر کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کا حوالہ دیتے ہوئے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی میں اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کی حمایت کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغان مہاجرین کی انتہائی عزت اور وقار کے ساتھ میزبانی کی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کی اتنی بڑی آبادی کی میزبانی کرنے سے پاکستان پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اور اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے یو این ایچ سی آر پر زور دیا کہ وہ افغان مہاجرین کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک پائیدار حل کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان مہاجرین کی محفوظ اور باوقار وطن واپسی حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے مسئلے میں عالمی برادری پاکستان کو درپیش سماجی و اقتصادی چیلنجوں اور سلامتی کے خطرات کو مد نظر رکھے۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر حکومت پاکستان کو مثالی مہمان نوازی کے لیے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ یو این ایچ سی آر افغان مہاجرین کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر 7 سے 9 جولائی 2024 تک پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • عمران خان کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، وفاقی وزیر قانون

    عمران خان کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، وفاقی وزیر قانون

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اقوام متحدہ ورکنگ گروپ کے عمران خان کے حوالہ سے رپورٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر جیل میں ہیں، کئی مقدمات میں عمران خان کو ریلیف ملنا شفاف اور منصفانہ ٹرائل عدالتی نظام کا مظہر ہے،عمران خان کی گرفتاری اور زیر سماعت مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، خود مختار ریاست کے طور پر پاکستان میں عدالتوں کے ذریعے آئین اور مروجہ قوانین پر عمل ہوتا ہے،عمران خان کو ملکی آئین و قانون اور عالمی اصولوں کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں، کئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملنا شفاف اور منصفانہ ٹرائل عدالتی نظام کا مظہر ہے، آئین، قانون اور عالمی اصولوں سے ماورا کوئی بھی مطالبہ امتیازی، جانبدارانہ اور عدل کے منافی کہلائے گا.

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی طور پر قید کیا گیا ہے۔جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے صوابدیدی حراست سے متعلق ورکنگ گروپ کاکہنا ہے کہ مناسب یہ ہوگا کہ مسٹر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق معاوضے دیئے جائیں، انکی حراست کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے،عمران خان کی قانونی پریشانیاں، اُن کے اور تحریک انصاف کے خلاف جبر و زیادتی کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی طور پر قید کیا گیا ہے۔

    جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے صوابدیدی حراست سے متعلق ورکنگ گروپ کاکہنا ہے کہ مناسب یہ ہوگا کہ مسٹر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق معاوضے دیئے جائیں، انکی حراست کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے،عمران خان کی قانونی پریشانیاں، اُن کے اور تحریک انصاف کے خلاف جبر و زیادتی کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے،2024 کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی پارٹی کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی سیاسی ریلیوں کو روکا گیا،ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمران خان کی حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد انہیں سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دینا تھا عمران خان کے خلاف کارروائیاں شروع سے ہی قانون کی بنیاد پر نہیں تھیں اور مبینہ طور پر ان کارروائیوں کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن میں بڑے پیمانے میں فراڈ ہوا اور درجنوں پارلیمانی نشستیں چوری کی گئیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ورکنگ گروپ نے عمران خان کے خلاف مقدموں میں کئی قانونی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا اور یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تھا تا ہم حکومت نے کسی قسم کو کوئی جواب نہیں دیا.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد ابھی تک حکومت پاکستان کا کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا،عمران خان ابھی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، 2022 کے ماہ اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا جس کے بعد سے انہوں نے پی ڈی ایم حکومت اور اداروں کے خلاف تحریک چلائی، نومئی کا واقعہ بھی ہوا جس میں پاکستان دشمنی کا کردار ادا کرتے ہوئے عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا،نومئی کے بعد پی ٹی آئی رہنما پارٹی چھوڑنے لگے، کئی گرفتار تو کوئی روپوش ہو گئے،انتخابات ہوئے تو آزاد امیدوار جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت تھی وہ جیتے جس کےبعد پی ٹی آئی کے روپوش رہنما سامنے آنے لگے،تاہم مراد سعید ابھی تک روپوش ہیں، میاں اسلم اقبال سامنے آئے تھے تا ہم پھر روپوش ہو گئے، حماد اظہر بھی سامنے آنے کے بعد پھر روپوش ہو گئے ہیں

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں تین مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سزا معطل ہو چکی ہے تا ہم گزشتہ ہفتے عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی ،

    عمران خان پر نومئی، القادر ٹرسٹ سمیت دیگر کیسز بھی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی دوران عدت کیس میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    عمران خان کی گرفتاری پر پہلے بھی کہہ چکےیہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
    اقوام متحدی ورکنگ گروپ کی عمران خان سے متعلق رپورٹ پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے معاملے پر امریکا پہلے بھی کہہ چکا یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اقوام متحدہ اپنی رائے کی وضاحت خود کر سکتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے امریکی کانگریس میں پاکستان کے انتخابات میں مداخلت کی تحقیقات کی قرار داد کے حوالہ سے بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کانگریس امریکی حکومت کی ایک علیحدہ شاخ ہے، اس کی قانون سازی پر بات نہیں کر سکتے،

  • پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    پاکستان اقوام متحدہ کے کاربن ٹریڈنگ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے،رومینہ خورشید

    اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے ڈنمارک مشن کے 3 رکنی وفد نے سینئر ماہر اقتصادیات کی قیادت میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم سے وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام میں مشیر کاربن کریڈٹ مارکیٹس عروہ خان نے وزیر اعظم کی موسمیاتی مشیر رومینہ خورشید عالم کو کاربن مارکیٹ سے متعلق ان اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جن میں سیمنٹ، تیل اور سمیت مختلف شعبوں سے اپنے کاربن کریڈٹس کی فروخت سے پاکستان معاشی فوائد حاصل کرسکتا ہے،انہوں نے وزیر اعظم کے موسمیاتی معاون کو پالیسی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیمنٹ، فضلہ، ٹیکسٹائل، تیل اور گیس، ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سمیت مختلف ممکنہ شعبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی تنظیم کی مکمل تکنیکی اور غیر تکنیکی مدد کا بھی یقین دلایا۔

    دونوں فریقوں نے پاکستان کے مختلف صنعتی شعبوں کو بین الاقوامی کاربن تجارتی منڈیوں میں اپنے کاربن کریڈٹ فروخت کرنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم کی موسمیاتی معاون رومینہ خورشید نے ملاقات کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم کاربن مارکیٹوں کی جانب سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میں کاربن کریڈٹ پیدا کرنے اور کاربن کریڈٹس کی فروخت سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی غیر استعمال شدہ اقتصادی صلاحیت سے بہت زیادہ آگاہ ہیں۔”

    کاربن مارکیٹس بین الاقوامی تجارتی نظام ہیں جس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ختم کرنے یا کم کرنے والے اداروں سے کاربن کریڈٹ خرید کر ان کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹ فروخت اور خریدے جاتے ہیں۔

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • اسرائیلی فوج کا   غزہ میں امدادی ادارے اونرا کےمرکز کا نشانہ، 4 افراد  شہید

    اسرائیلی فوج کا غزہ میں امدادی ادارے اونرا کےمرکز کا نشانہ، 4 افراد شہید

    غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اونرا کے ایک اور مرکز کو نشانہ بنایا،حملے کے وقت وہاں درجنوں افراد موجود تھے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے اونرا کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال میں دوران علاج 4 افراد نے دم توڑ دیا جب کہ 6 زخمیوں کی حالت نازک ہے ترجمان نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والے اونرا کے ملازمین تھے یا امداد لینے کے لیے جمع ہونے والے فلسطینی تھے۔

    خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم اونرا کے مرکز پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نے امدادی سامان کے لیے جمع ہونے والے فلسطینی پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا گیا تھاایسے واقعات میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور عالمی رہنماؤں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات کی شدید مذمت کی تھی لیکن اسرائیل ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

    واضح ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ بلا تعطل 7 ماہ سے جاری ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 37 ہزار 598 ہوگئی۔

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،رومینہ خورشید عالم

    پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی ایم این اے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران، دونوں فریقین نے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے، موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے لیے موسمیاتی فنانس، زرعی بیمہ، شہری سیلاب سے نمٹنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    یو این ڈی پی-پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین نے بھی وزیر اعظم کی معاون کو موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ نئے عالمی مالیاتی طریقہ کار کا مقصد پہلے سے طے شدہ مالیات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں تحفظ کے خلا کو ختم کرنا ہے۔اس اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے، انہوں نے وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید مشیر کو آگاہ کیا کہ ولنر یبل ٹونٹی گروپ (Vulnerable Twenty Group (V20)) نے گروپ آف سیون (G7) اور دیگر معاون ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ کا آغاز کیا تاکہ مزید سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
    ”بنیادی طور پر، موسمیاتی خطرات کے خلاف گلوبل شیلڈ پہلے سے ترتیب دیا گیا جو ٹرگر پر مبنی مالی وسائل ہے اور آفات کے مد مقابل فوری طور پر دستیاب فنڈ ہے جو کہ معیشت، کاروبار کے لیے انتہائی موثر اور تیز ترین طریقہ ہے۔ یہ بات یو این ڈی پی کی پاکستان میں ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے رومینہ خورشید عالم سے ملاقات کے دوران واضح کی۔

    یو این ڈی پی پاکستان کی سینئر عہدیدار نے وزیراعظم کی معاون کو آگاہ کیا کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ممالک کو موسمیاتی خطرات اور اثرات کو مزید سمجھنے کے لیے جامع مدد فراہم کرنا اور تحفظ کے خلا کو پورا کرنے کے لیے جدید حل اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو مؤثر طریقے سے حل کرنا اس اقدام کا ایک بہت بڑا مقصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا ایک اور اہم مقصد پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو گرانٹ پر مبنی مالی اور تکنیکی امداد کی فراہمی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کی کوششوں سے منسلک کمزور کمیونٹیز کے مالی تحفظ کے لیے حل نکالنا اوراس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔دریں اثنا، یو این ڈی پی-پاکستان کی نمائندہ نے بھی وزیر اعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم کو ملک کی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے اقدام کے ذریعے فراہم کردہ مالی اور تکنیکی مدد تک رسائی کے لیے ان کی تنظیم کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    رومینہ خورشید نے یو این ڈی پی – پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کی کہ ان کی فراخدلانہ پیشکش کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی وزارت کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے دوچار شعبوں، بالخصوص زراعت، شہری سیلاب اور آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ابتدائی انتباہ کے لیے پاکستان کی معاونت کی جا رہی ہے۔رومینہ خورشید عالم نے یو این ڈی پی – پاکستان کی سینئر اہلکار وان نگوین کو بتایا کہ ”میں کسی بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گی جس سے ہمیں لوگوں کی زندگیوں اور معاش اور سماجی و اقتصادی شعبوں خصوصاً زراعت، پانی، توانائی، صحت، تعلیم کو موسمیاتی موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے”۔وزیر اعظم کی معاون نے کہا کہ وسیع تر مالی تحفظ، تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی پالیسی کے تحت فراہم کردہ ردعمل پاکستان میں خطرات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نقصانات کا مؤثر جواب دینے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران، پی ایم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ پچھلی دہائی کے دوران، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جو کہ انسانی بقا اور ماحولیاتی نظام کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    وزیر اعظم کی معاون نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ طوفان، خشک سالی اور سیلاب نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی مسلسل اور زیادہ شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سست آغاز کے اثرات کے ساتھ یہ انتہائی موسمی واقعات تمام ممالک، بالخصوص سب سے زیادہ کمزور ممالک اور کمیونٹیز کے لیے کی پائیدار ترقی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں۔وزیراعظم کی معاون رومینہ خورشید عالم نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی کارروائی اورتبدیلیوں سے موافقت کے لیے سرمایہ کاری کے باوجود، آب و ہوا سے متعلق نقصانات کے بقایا خطرات اب بھی برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں مزید تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا، ”جب آب و ہوا سے متعلق کوئی آفت آتی ہے، تو بہترین نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لیے انتہائی موثر اور تیز رفتار طریقے سے فوری مالیات فراہم کرتے ہیں۔”

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے  فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے تعینات فوجی دستوں کا دن منایا جا رہا ہے
    اقوام متحدہ کے امن مشن میں تعینات پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند کردیا،پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن کے فوجی دستوں کی تعداد اقوام متحدہ کے امن دستوں میں سب سے زیادہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس وقت تقریباً تین ہزار امن دستے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، 1960 کے بعد سے پاکستان نے دنیا کے تقریباً تمام براعظموں سمیت 29 ممالک میں، اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں، اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں 235,000 فوجیوں کا تعاون کیا ہے۔

    پاکستانی خواتین کے امن دستے بھی دنیا کے مختلف جنگ زدہ خطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،پاکستان کے امن فوجی دستے اس وقت اقوام متحدہ کے مختلف بڑے مشنوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان فوجی دستوں کی اکثریت ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو (ڈی آر سی)، سوڈان کے علاقے دارفور اور وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں تعینات ہے،ان دستوں کے فرائض میں عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے فلاحی کاموں کو سرانجام دینا ہے، مختلف پروگراموں کے تحت پاکستانی امن فوجی دستے مقامی آبادی کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر وغیرہ کی بنیادی تعلیم بھی فراہم کر رہے ہیں،پاکستان کی زیادہ تر خواتین امن فوجی طبی خدمات سرانجام دے رہی ہیں،اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستانی خواتین کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے،2020 کے دوران کانگو میں پاکستانی خواتین پر مشتمل امن فوجیوں کے 15 رکنی دستے کو بہترین کارکردگی پر میڈل سے نوازا گیا ہے،اس15 رکنی دستے میں ماہر نفسیات، ڈاکٹرز، نرسز، انفارمیشن آفیسر، لاجسٹک آفیسر سمیت دیگر افسران شامل تھیں جنہوں نے انتہائی لگن اور انتھک محنت کے ساتھ دیار غیر میں پیشہ وارانہ کارکردگی سے دنیا کو متاثر کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ،اقوام متحدہ نے پاکستانی خواتین پیس کیپرز کی ان خدمات کو خوب سراہا ہے

    181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دیں،ترجمان پاک فوج
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کو اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے اپنی دیرینہ وابستگی پر فخر ہے۔ ہمارے امن فوجیوں نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے، مجموعی طور پر 181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں،امن کے اس عالمی دن پر، ہم عالمی امن کے عظیم مقصد کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،پاکستان یونیفارم میں خواتین کی بہتر نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی یکساں صنفی برابری کی حکمت عملی سمیت سیکریٹری جنرل کے ایکشن فار پیس اقدام، جو ان کی صلاحیت کو بڑھا کر اقوام متحدہ کے امن مشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک کوشش ہے، کے لیے بھی پرعزم ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کی شراکت بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ہماری قوم کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پاکستانی امن دستے شورش زدہ علاقوں میں مقامی کمیونٹیز کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن ہر سال 29 مئی کو منایا جاتا ہے، اس موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان سمیت امن مشن میں شامل دیگر ممالک کی امن کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا جاتا ہے۔

    پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔وزیراعظم
    وزیرِاعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن پرپیغام میں کہا ہے کہ امن مشن کا شورش زدہ علاقوں میں قیامِ امن اور شہریوں کے تحفظ کیلئے کلیدی کردار ہے۔پاکستان کے امن دستوں کو خراجِ تحسین، جن کی خدمات نمایاں ہیں، دو لاکھ 30 ہزار امن اہلکار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ عالمی امن کی خاطر 181 اہلکار شہید ہوئے، ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔پاکستان امن وانصاف کے حصول کیلئے پر عزم ہے، ہم پُرامن اور انسانیت کی فلاح پر مبنی مستقل کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    امن مشن کی 75 ویں سالگرہ،شہداء پاکستان کیلئے اعزازات کا اعلان

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

  • غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے،سیکرٹری جنرل  اقوام متحدہ

    غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

    جنیوا:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ پٹی میں جاری جنگ انسانیت کے لیے جہنم سے کم نہیں، غزہ پٹی پر مشتمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیےمشرق وسطی کا خطہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، وہاں جاری کشیدگی کو روکنا ناگزیر ہو گیا ہے غزہ پٹی میں جنگ بندی مشرق وسطی میں کشیدگی کی فضا کو کافی حد تک کم کرنے کیلئے مددگار ثابت ہوگی، غزہ پٹی میں جاری جنگ کے باعث امدادی ادارے کام کرنے سے قاصر ہیں۔

    دوسری جانب سرائیلی میڈیا مین رفح حملے کے لیے امریکی حمایت کی خبریں گردش کررہی ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل کو ایران کے خلاف محدود کارروائی کی شرط پر رفح میں فوج داخل کرنے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

    اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    العربیہ کے مطابق امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے بعد فلسطینی ایوان صدر نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہےفلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نے ’عرب ورلڈ نیوز ایجنسی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جامع جنگ شروع نہ کرنے کے بدلے میں اسرائیل کو رفح میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے بارے میں بات کرنا "خطرناک” ہے، اور ہم واشنگٹن سے اس کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

    اخبار "اسرائیل ہیوم” نے تین اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے رفح پر حملہ کرنے کے اسرائیلی فوج کے منصوبے کی منظوری اس شرط پر ظاہر کی ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملہ نہیں کرے گاانہوں نے نشاندہی کی کہ رفح کے حوالے سے جو اسرائیلی منصوبہ امریکی انتظامیہ کو پیش کیا گیا تھا اس میں جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع شہر سے شہری آبادی کو نکالنے کے طریقے شامل تھے۔

    ایران اسرائیل کے جوہری ری ایکٹر کو براہ راست نشانہ بنانے میں کامیاب رہا،اسرائیلی اخبار

    ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو "اپنی سیاسی چال میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے رفح شہر پر منصوبہ بند حملے کے حوالے سے امریکی سہولیات حاصل کرنے کے لیے ایرانی حملے کا فائدہ اٹھایا ہے، رفح آپریشن کے قریب ہونے کے دیگر اشارے بھی ملے ہیں، اسرائیلی فوج نے توپ خانے کے یونٹس اور بکتر بند دستوں کو دوبارہ غزہ کی پٹی میں منتقل کر دیا ہے، جس کو رفح میں جنگی کارروائیوں کی تیاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت رکوانے کی امریکی درخواست مسترد

    انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ عرصے میں اسرائیلی وزارت دفاع نے 40,000 خیموں کی خریداری کا اعلان کیا ہے، جو رفح سے شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی کے علاقوں میں جانے والے شہریوں کے لیے مختص کیے جائیں گے،اسرائیل نے آخری لمحات میں کم از کم دو بار ایران کے خلاف اپنا ردعمل منسوخ کیا،مصری ذرائع نے عرب میڈیا کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مصری فوج نے رفح کے ساتھ سرحد کے ساتھ شمالی سینا میں الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ رفح شہر پر اسرائیلی حملے کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے-

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت میں 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور شہداء میں 14 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں جبکہ زخمی بچوں کی تعداد 12 ہزار سے زائد ہے۔

  • دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے صرف دو سال باقی ہیں،اقوام متحدہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے موسمیاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے انسانوں کے پاس صرف دو سال باقی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈٰیا کے مطابق ایجنسی کے ایگزیکوٹیو سیکرٹری سائمن اسٹیل کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ انتباہ ایک ڈرامائی بیان لگتا ہے لیکن جلد اقدامات بہت ضروری ہیں انہوں نے کہ یہ سوال کہ دنیا کو بچانے کے لیے دو سال اصل میں کس کے پاس ہیں؟ تو اس کا جواب اس کرہ ارض کا ہر فرد ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرتی اور سیاسی سطح دونوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں اور اپنے گھریلو اخراجات میں تک موسمیاتی بحران کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ مذکورہ واررنگ بالخصوص جی 20 ممالک کے لیے تھی جن میں امریکہ، چین اور بھارت جیسے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک زمین پر 80 فیصد گرمی پیدا کرنے والے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔