Baaghi TV

Tag: الیکشنز

  • گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

    اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں، غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔

    گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔

    تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

  • گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی

    گلگت بلتستان الیکشن: نواز شریف نے ٹکٹ ہولڈرز کے ناموں کی منظوری دیدی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے مختلف حلقوں کے لیے نامزد امیدواروں کا اعلان کر دیا گیا۔

    جاری کردہ فہرست کے مطابق جی بی اے-1 گلگت-1 سے شفیق الدین، جی بی اے-2 گلگت-2 سے حافظ حفیظ الرحمٰن، جی بی اے-3 گلگت-3 سے محمد اقبال، جی بی اے-6 ہنزہ سے شہزادہ سلیم کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہےاسی طرح جی بی اے-7 اسکردو-1 سے محمد اکبر خان، جی بی اے-8 اسکردو-2 سے امتیاز حیدر خان، جی بی اے-9 اسکردو-3 سے اجمل حسین، جی بی اے-10 کھرمنگ سے سید محسن رضوی، جی بی اے-12 شگر سے محمد طاہر انہار شگری کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    فہرست کے مطابق جی بی اے-13 استور-1 سے فرمان علی، جی بی اے-14 استور-2 سے رانا محمد فاروق، جی بی اے-15 دیامر-1 سے عبد الوجد، جی بی اے-16 دیامر-2 سے انجینئر محمد انور، جی بی اے-17 دیامر-3 سے محمد زمان جبکہ جی بی اے-18 دیامر-4 سے ملک کفایت الرحمٰن کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا اس کے علاوہ جی بی اے-19 غذر ایک سے ظفر محمد، جی بی اے-20 غذر 2 سے عبدالجہان، جی بی اے-21 غذر-3 سے غلام محمد اور جی بی اے-22 گانچھے-1 سے محمد ابراہیم ثنائی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا انس-نے-تیچکرت-ھہلدعرس-ک-نامہ-0کی-ممیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو ہونے جارہے ہیں، اور الیکشن کمیشن نے باضابطہ شیڈول بھی جاری کردیا ہے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں دلچسپی لے رہے ہیں –

  • آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد کا اعلان

    آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد کا اعلان

    اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے آئندہ انتخابات 2026 میں مشترکہ طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور دیگر رہنما شریک ہوئے،جے یو آئی (ف) کے وفد کی قیادت مولانا سعید یوسف نے کی جبکہ مولانا امتیاز عباسی اور مولانا ادریس بھی موجود تھے۔

    فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے ہمیشہ جمہوری رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ اتحاد خطے کی سیاست میں مثبت تبدیلی لائے گا چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ دونوں جماعتیں اصولی بنیادوں پر اکٹھی ہوئی ہیں اور پیپلز پارٹی امیدواروں کے حق میں جے یو آئی بھرپور انتخابی مہم چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پلندری اور دھیرکوٹ میں پیپلز پارٹی جے یو آئی امیدواروں کی حمایت کرے گی جبکہ دیگر حلقوں میں جے یو آئی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

    مولانا سعید یوسف نے کہا کہ اتحاد خطے کی سیاست میں اہم پیش رفت ہے اور دونوں جماعتیں مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں گی اتحاد کا باضابطہ اعلان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد پر کیا جائے گا۔

    دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس اتحاد کو عوامی مفاد اور سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ جدوجہد سے انتخابی کامیابی حاصل کی جائے گی۔

  • فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006 کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

    حماس نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ غزہ کے علاقے میں جہاں انتخابات منعقد ہوئے، باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں ایک دو سری فہرست، جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا، صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

    مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی غزہ میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔

  • لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر پیدا ہونے والے تنازع کے دوران وکلا کے دو گروپوں میں ہاتھا پائی بھی دیکھنے میں آئی۔

    آزاد گروپ کے سربراہ احسن لون اور ان کے حامیوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد کیانی ہال میں جنرل ہاؤس کا اجلاس طلب کیا گیا اجلاس کے دوران دونوں گروپوں کے رہنما اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، جہاں ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

    صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب چند وکلا کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی وکلا نے ایک دوسرے پر لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کیا اسی دوران ایک خاتون وکیل اور ایک سینئر وکیل رہنما کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر موقع پر موجود ایک مرد وکیل نے خاتون وکیل کو تھپڑ مارے،اس دوران سینئر وکلا منع کرتے رہے بعد ازاں سینئر وکلا کی مزاحمت سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔

    اسحاق ڈار اور بحرینی وزیر خارجہ کاخطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

  • کوئی بھی صوبائی حکومت انتخابات کے لیے تیار نہیں،چیف الیکشن کمشنر

    کوئی بھی صوبائی حکومت انتخابات کے لیے تیار نہیں،چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے پنجاب حکومت کو قانون سازی فوری مکمل کرنے کا حکم دے دیا –

    باغی ٹی وی : چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف سیکرٹری، سیکرٹری بلدیات اوراسپیشل سیکرٹری بلدیات پنجاب الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی صوبائی حکومت انتخابات کے لیے تیار نہیں۔

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ 3 صوبوں اور کنٹونمنٹ میں جدوجہد کے بعد انتخابات کرائے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومتیں قوانین میں ترامیم کر کے انتخابات ملتوی کر دیتی ہیں پنجاب میں پانچ بار انتخابی قوانین تبدیل کیے گئے، الیکشن کمیشن 3 بار حلقہ بندیاں کر چکا، 2 بار الیکٹورل گروپس کی فہرست سازی ہوئی، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔

    ٹیکس اتھارٹی میں شفافیت لارہے ہیں، وزیر خزانہ

    چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا مسودہ اسمبلی میں پیش کر دیا، قانون سازی مکمل ہوتے ہی رولز بنائے جائیں گے، انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہیں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون سازی مکمل ہوتے ہی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، عاقب جاوید

  • اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے  ملتوی

    اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

    اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے 3 حلقوں کے لئے نئے الیکشن ٹریبیونل کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی-

    باغی ٹی وی : نئے اسلام آباد الیکشن ٹربیونل نے 18 دسمبر سے 5 ماہ بعد کام کا آغاز کیا تھا اور فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ٹریبیونل کارروائی روکنے کے حکم امتناع کی وجہ سے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی ہوئی الیکشن ٹربیونل نے تمام فریقین کو 24 دسمبر کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

    نئے الیکشن ٹربیونل میں علی بخاری اور دیگر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کی کاپی پیش کی گئی، جسٹس طارق جہانگیری نے بطور الیکشن ٹریبونل جولائی میں آخری سماعت کی تھی جسٹس ریٹائرڈ شکور پراچہ نے بطور نئے الیکشن ٹریبیونل 18 دسمبر سے کارروائی شروع کی تھی-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے 3 امیدواروں علی بخاری، عامر مغل اور شعیب شاہین نے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

  • امریکی انتخابات: ریما نےاپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

    امریکی انتخابات: ریما نےاپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

    واشنگٹن: اداکارہ ریما نے امریکا میں جاری انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ تصویر شیئر کی ہےانہوں نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ امریکی صدارتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال دیا ہے-
    us elections
    ریمانے اس حوالے سے مختلف انسٹا اسٹوریز بھی شیئر کی ہیں جن میں انہیں ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ووٹ کس کو کاسٹ کیا ہے-

    واضح رہے کہ امریکا میں گزشتہ روز 5 نومبر کو 47 ویں صدراتی انتخابات کا انعقاد ہوا، جس کے سلسلے میں اب پولنگ ختم ہو چکی ہے،50 امریکی ریاستوں میں سے 43 کے نتائج سامنے آ گئے ہیں،امریکی صدر کے انتخاب کیلئے انڈیانا اور کینٹکی کے بعد جارجیا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ ، ورجینیا اور فلوریڈا میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہےجس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا، ٹر مپ دوسری بار امریکی صدر بننے کے قریب،جارجیا میں بھی جیت گئے،ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے امکانات بڑھ گئے ، سات میں 2 سوئنگ اسٹیٹس جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں،پینسلوینیا کی 19الیکٹورل نشستیں بھی ٹرمپ کے نام ہو گئی ہیں،سوئنگ اسٹیٹس پینسلوینیا ،وسکونسن اور مشی گن میں بھی ٹرمپ آگے ہیں-

  • بھارت میں  مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کیلئے خود کو ’حاملہ‘ قرار دیدیا

    بھارت میں مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کیلئے خود کو ’حاملہ‘ قرار دیدیا

    ہریانہ: بھارت میں ایک مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کے لیے خود کو ’حاملہ‘ قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات 2024 کا تیسرا مرحلہ جاری ہے جہاں ایک مرد اُستاد نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے منفرد ڈرامہ رچایا،ریاست ہریانہ میں سرکاری سکول کی جانب سے الیکشن ڈیوٹی کیلئے اساتذہ کے ناموں کی فہرست تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ فہرست میں مرد ٹیچر ستیش کمار کا نام بھی شامل تھا جس میں ان کی جنس خاتون بتائی گئی،ستیش کمار نے الیکشن میں ڈیوٹی سے بچنے کے لیے خود کو صرف خاتون ظاہر نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ ایک حاملہ ہیں، ضلعی انتظامیہ نے شک کی بنیاد پر معاملے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔

    ڈنمارک کے سفیر نے نئی دہلی میں مودی حکومت کی نااہلی کا پول کھول …

    کمیٹی کی جانب سے بھارتی الیکشن کمیشن کے ساتھ معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا جس میں انکشاف سامنے آیا کہ فہرست میں ستیش کمار کو جان بوجھ کر خاتون لکھا گیا تاکہ ان کی ڈیوٹی نہ لگائی جائےاس بات کا علم ہونے کے بعد ڈی سی نے ستیش کمار، پرنسپل انیل کمار اور سکول کے کمپیوٹر آپریٹر منجیت کو طلب کیا اور اس معاملے کے حوالے سے پوچھا،سکول پرنسپل نے کہا کہ غلطی ان کی طرف سے ہوئی اور وہ نہیں جانتے کہ آخر یہ غلطی کس سے ہوئی ہے۔

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

  • الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے

    الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے

    ریسرچ کمپنی اپسوس (IPSOS) نے الیکشن 2024 کی شفافیت اور دھاندلی کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے ہر 5 میں سے 3 پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ’انتخابات کا انعقاد شفاف تھا۔

    باغی ٹی وی : اپسوس سروے کے مطابق 58 فیصد عوام نے کہا کہ،” الیکشن 2024 کے انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے” اسی طرح پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی عوام کا خیال ہے کہ الیکشن کے دن کا عمل منصفانہ اور شفاف تھا،اپسوس نے چاروں صوبوں سے 11 تا 19 فروری کے دوران 3 ہزار سے زائد لوگوں کا سروے کیا، جنہوں نے انتخابات کی شفافیت اور دھاندلی کے حوالے سے اپنی رائے دی-

    تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع

    سروے کے مطابق 58 فیصد عوام کا خیال ہے کہ ’الیکشن 2024 کے انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی عوام کا خیال ہے کہ ’الیکشن کے دن کا عمل منصفانہ اور شفاف تھا، پنجاب میں 63 فیصد، سندھ میں 62 فیصد، بلوچستان میں 55 فیصد، اسلام آباد میں 61 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں 33 فیصد عوام کے مطابق الیکشن شفاف کروائے گئے۔

    بھارت نے پاکستان آنے والے بحری جہاز کو روک لیا

    انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے 54 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ انتخابات شفاف منعقد ہوئے جبکہ 39 فیصد کا خیال ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی، انتخابات میں دھاندلی کے مجموعی تاثر کے حوالے سے عوام کا خیال ہے کہ ’خیبر پختونخوا میں 73 فیصد، اسلا م آباد میں 49 فیصد جبکہ سندھ میں سب سے کم 28 فیصد دھاندلی ہوئی، موبائل سروس بند کرنے کے حوالے سے 16 فیصد خیبر پختو نخوا جبکہ 45 فیصد بلوچستان کی عوام نے اس عمل کو بہترین قرار دیا.

    انتخابات کے بعد اپسوس سروے رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا۔

    سعودی عرب میں مساجد میں افطار کرنے پر پابندی عائد