Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • عام انتخابات 2024، ملک بھر میں پولنگ کا وقت ختم

    عام انتخابات 2024، ملک بھر میں پولنگ کا وقت ختم

    عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے،پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی تھی جو شام پانچ بجے تک جاری رہی، لک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، جو ووٹر پولنگ سٹیشن کے احاطے میں موجود ہیں وہ اب ووٹ ڈال سکیں گے، ملک بھر میں مجموعی طور پر پولنگ پر امن رہی، تا ہم انٹرنیٹ اور موبائل فون بند ہونے کی وجہ سے ووٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

    عام انتخابات کے دوران قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 855 حلقوں کیلئے 882 خواتین اور 4 خواجہ سراؤں سمیت ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ امیدوار وں نے حصہ لیا، جن کی تعداد 17 ہزار 816 بنتی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں عوام کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔ملک بھر میں عام انتخابات کے دوران جاری پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ الیکشن کی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، ہر حلقے کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے جاری کیا جائے گا۔

    قبل ازیں ملک بھر میں ذمہ دار پاکستانی شہری اپنا ووٹ کاسٹ کرنے گھروں سے نکل آئے ،ملک بھر میں عوام کی کثیر تعداد نےاپنا حق رائے دہی استعمال کیا،مختلف پولنگ سٹیشنوں پر عوام کی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے لمبی قطاریں موجود تھیں ،کراچی اور لاہور کی عوام بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے پولنگ سٹیشنوں پر پہنچ گئی تھی،اسلام آباد کی عوام بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے مختلف پولنگ سٹیشنوں پر پہنچی تھی ،وزیرستان کی عوام نے بھی ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،عوام کے مطابق پولنگ کا عمل پر سکون اور اطمینان بخش ہے.

    بنوں،آزاد امیدوار نے پولنگ سٹیشن پر گولیاں چلا دیں
    خٰیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں گولیاں چل گئیں، امیداور نےفائرنگ کر دی جس کے بعد پولنگ سٹیشن نمبر 104 پر پولنگ رک گئی،امیدوار نے پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، پولیس حکام کے مطابق پی کے 99 سے آزاد امیدوار حلیم زادہ نے فائرنگ کی ہے، اس امیدوار کی پی ٹی آئی نے حمایت کر رکھی ہے، پریزائیڈنگ آفیسر کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کے امیدوار اسلحہ کی نوک پر بیلٹ پیپر چھین کر لے گئے ہیں

    تلہ گنگ میں گولیاں چل گئیں،چار زخمی، گوجرانوالہ میں ایک زخمی، صادق آباد میں ڈنڈے چل گئے
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 تلہ گنگ میں انتخابی کیمپوں پر گولیاں چل گئیں،دو سیاسی جماعتوں کے مابین فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں، فائرنگ کا واقعہ اکوال میں پولنگ سٹیشن کے قریب آیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ریٹرننگ افسر نے پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کاعمل روک دیا ہے جبکہ زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تلہ گنگ منتقل کر دیا گیا ہے، دوسری جانب گوجرانوالہ میں بھی حلقہ این اے 79 میں گورنمنٹ ہائی اسکول واہنڈو پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکنوں میں ہوا، جھگڑے میں ن لیگ کا ایک کارکن زخمی ہو گیا،صادق آباد کی چک نمبر 171کے پولنگ اسٹیشن پر بھی دو سیاسی جماعتوں میں جھگڑے کے دوران ڈنڈے لگنے سے 5 افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ملتان۔ این اے 149 ، ن لیگ اور آزاد امیدوار کے سپوٹرز میں جھگڑا ہوا، کریم ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کی پرچی کاٹنے پر جھگڑا ہوا، کارکنوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی،

    حلقہ پی پی 276 ،ن لیگ اور آزاد امیدوار کے کارکنان میں جھگرا،فائرنگ،16 زخمی
    چوک سرور شہید: حلقہ پی پی 276 ، این اے 179 کے پولنگ اسٹیشن 68 چک نمبر 600 ٹی ڈی اے میں فائرنگ کا معاملہ ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار امجد پرویز چانڈیہ اور آزاد امیدوار ملک مرتضی رحیم کھر کے کارکنان کے درمیان پیش آیا ،، فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے 5 کارکن جبکہ آزاد امیدوار ملک مرتضی رحیم کھر کے 11 کارکن زخمی ہوگئے ، زخمی افراد کو فوراً ٹی ایچ کیو ہسپتال چوک سرور شہید منتقل کر دیا گیا ،4 افراد کو تشویشناک حالات میں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا،قومی حلقہ 174 پولنگ اسٹیشن چک نمبر 171 ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ووٹرز میں تصادم پانچ افراد زخمی ہسپتال منتقل کر دیئے گئے،

    ٹیکسلا، اٹک،حضرو میں پولنگ سٹیشن پر لڑائیاں،متعدد زخمی
    حلقہ این اے 54 ٹیکسلا پی پی 12 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول موہڑہ میں آئی پی پی کے سرور خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سعد علی گروپ کے کارکنوں میں جھگڑا ہوا، پولنگ سٹیشن کے باہر ہونے والے اس جھگڑے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔ حلقہ این اے 53 پنڈ جھاٹلہ میں خواتین کے پولنگ سٹیشن پر جھگڑا ہوا، جہاں خواتین آپس میں لڑ پڑیں۔ خواتین کے درمیان جھگڑا لائن میں دھکا لگنے کی وجہ سے شروع ہوا، پولیس اور انتخابی عملے نے جھگڑا ختم کروایا،این اے 49 اٹک میں مسلم لیگ( ن) اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں جھگڑا ہوگیا، جس کی وجہ سے 2 پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل عارضی طور پر روکنا پڑا۔ پولنگ سٹیشن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بھانگی حضرو پر پولنگ کا عمل روکا گیا، اس کے علاوہ پولنگ سٹیشن یوسی آفس نارٹوپہ اٹک پر بھی پولنگ کا عمل روکنا پڑا ،بعد ازاں پولنگ دوبارہ شروع ہو گئی.

    ہمایوں اختر خان کے ن لیگی امیدوار پر دھاندلی کے الزامات،پولنگ رک گئی
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 97 سے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار ہمایوں اختر خان نے ن لیگی امیدوار علی گوہر بلوچ پر دھاندلی کے الزامات عائد کردیئے،این اے 97 کے پولنگ اسٹیشن 223 اور 224 پر دھاندلی کے الزام کے بعد پولنگ روک دی گئی ہے،دونوں پولنگ اسٹیشن مسلم لیگ ن کے امیدوار علی گوہر بلوچ کے آبائی گاؤں میں ہیں، پولنگ رُکنے کے بعد پولیس اور فوج کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،فیصل آباد میں پولیس نے کیمپ اکھاڑ دیئے
    فیصل آباد میں پولیس نے کیمپ اکھاڑ پھینکے ہیں، فیصل آباد میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے کیمپ اکھاڑے ہیں این اے 101 میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے تھے جو چارسو کلو میٹر کی حدود میں تھے، پولیس نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کیمپ اکھاڑے، پولیس نے مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے کیمپ اکھاڑے ہیں

    سابق صدر آصف زرداری نے ووٹ کاسٹ کر دیا
    نواب شاہ ۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ایل بی او ڈی کالونی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا،آصف علی زرداری کاووٹر لسٹ میں سلسلہ نمبر 41,گھرانہ نمبر 11 ہے ، آصف علی زرداری کی پولنگ اسٹیشن آمد پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، ووٹ کے وقت آصف علی زرداری کے سیکیورٹی پر مامور عملے نے پولنگ اسٹیشن و پولنگ بوتھ کو اپنے سیکیورٹی حصار میں لے رکھا تھا

    نواز شریف، مریم نواز نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا
    سابق وزیراعظم نوازشریف نے ووٹ کاسٹ کردیا،چیف آرگنائزر (ن)لیگ مریم نواز نے بھی ووٹ کاسٹ کردیا،لیگی قائدین نےاین اے128میں ووٹ کاسٹ کیا، نواز شریف اور مریم نواز ووٹ دینے پہنچے تو عون چودھری نے ان کا استقبال کیا،نواز شریف اور مریم نواز نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر شیر پر مہر نہیں لگائی بلکہ عقاب کے نشان پر مہر لگائی اور آئی پی پی کے عون چودھری کو ووٹ دیا.اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو گا، لوگ خوشحال زندگی بسر کر سکیں گے،چیزیں سستی کریں گے، لوگوں کو ان کی دہلیز پر چیزیں میسر کریں گے، ووٹ سے ملک میں بدتہذیبی کا خاتمہ ہو گا،ملک میں ایک جماعت کومینڈیٹ ملناچاہیے مخلوط حکومت کانام نا لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہےحمزہ شہباز اور مریم نواز نےجیلیں کاٹیں ہیں بدتمیزی اور بدتہذیبی کا کلچر ختم کرناہےعوام ووٹ ڈالنےباہر نکلیں۔

    الیکشن انتظامات سے مطمئن نہیں ،مایوس کن اطلاعات ہیں، بیرسٹر گوہر
    بونیر ۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گووہر علی نے آبائی حلقہ میں ووٹ ڈال دیا،اس موقع پر بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ الیکشن انتظامات سے مطمئن نہیں ہوں، ابھی تک جو اطلاعات ہے وہ مایوس کن ہیں، انٹرنیٹ سروس بند کردنے سے شکوک وشبہات ہیں، پی ٹی آئی ورکرز تمام توجہ پولنگ اور نتائج پر مرکوز رکھے، بانی چیئرمین عوام کے خاطر جیل میں ہیں، اکثریت کو اقلیت میں بدلنے سے بہت بڑا نقصان ہو جائے گا،

    حنیف عباسی موبائل لے کر ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئے، کسی نے نہ روکا
    ن لیگی رہنما، و امیدوار حنیف عباسی نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑ ا دیں،الیکشن کمیشن نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ پولنگ اسٹیشنز پر موبائل فون لانے کی اجازت نہیں ہوگی مگر ن لیگ کے امیدوار حنیف عباسی پولنگ اسٹیشن کے اندر موبائل لیکر پہنچے اور ووٹ بھی کاسٹ کیا۔حنیف عباسی کو پریذائیڈنگ افسر سمیت کسی نے نہیں روکا، حنیف عباسی کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موبائل فون انکے ہاتھ میں ہے

    شیخوپورہ، کئی پولنگ سٹیشن پر جھگڑے، ایک پریذائیڈنگ افسر جھگڑے کے بعد فرار
    شیخوپورہ کے حلقے این اے 115 میں پولنگ اسٹیشن نمبر 169 پر پریذائیڈنگ آفیسر اور پولنگ ایجنٹس کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔جس کے بعد پولنگ کا عمل رک گیا ہے، خیرو پور ملیاں میں بھی جھگڑا کے باعث پولنگ کا عمل رک گیا۔اسی طرح این اے114 پر بھی جھگڑا ہوا ہے جس کے بعد پریذائیڈنگ آفسیر فرار ہو گیا ہے، این اے115پولنگ اسٹیشن بوتھ نمبر 159مکتہ گاؤں میں بھی جھگڑا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق پورب گاؤں فیکٹری ایریا کی حدودمیں بھی ووٹنگ کےدوران لڑائی جھگڑا ہوا ہے،پولیس کو مذکورہ علاقہ میں روانہ کردیا گیا ہے.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کراچی میں اپنا ووٹ کاسٹ کردیا
    صدر مملکت نے ووٹ ڈالنے کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندے منتخب کرنے کے لیے آپ کے ووٹ کے ذریعے آپ کی رائے مانگی ہے،ووٹ ڈالنا آپ کی اسلامی، آئینی اور شہری ذمہ داری ہے، میں بمعہ اہل و عیال اپنے پولنگ سٹیشن پر پہنچا، قطار میں کھڑے ہوئے اور ووٹ دیا، آپ سب سے بھی درخواست ہے کہ باہر نکلیں اور اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں، آج پاکستان کو آپ کی رائے کی اتنی ضرورت ہے جتنی پہلے کبھی نہیں تھی،

    sadar

    الیکشن کمیشن مانیٹرنگ سیل میں 25 شکایت موصول
    اسلام آباد سے پورے ملک میں انتخابات کی مانیٹرنگ جاری ہے،ترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنواری کے مطابق مرکزی الیکشن مانیٹرنگ کنٹرول سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، ملک بھر میں قائم ریجنل اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کنٹرول سینٹرز کے ساتھ ہر وقت رابطہ ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ مرکزی الیکشن مانیٹرنگ کنٹرول سینٹر میں موجود ہیں اور وہ الیکشن کے عمل کی بذات خود نگرانی کر رہے ہیں، پولنگ کا عمل پُرامن طور پر جاری ہے، کسی بھی شکایت کی صورت میں 111327000-051 پر فوری رابطہ کیا جاسکتا ہے،الیکشن کمیشن مانیٹرنگ سیل میں 25 شکایت موصول ہو گئیں، ترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنورای کے مطابق شکایات پولنگ تاخیر سے شروع ہونے کے متعلق ہیں،شکایات کا فوری ازالہ کر دیا گیا ہے ،ملک بھر میں پولنگ پرامن جاری ہے ،

    حلقہ این اے 150 کے پولنگ اسٹیشن 118 میں خواتین پولنگ اسٹیشن پر مرد اہلکار تعینات
    ملتان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 150 کے پولنگ اسٹیشن 118 میں خواتین پولنگ اسٹیشن پر مرد اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں،خاتون پولنگ ایجنٹ کے مطابق خواتین پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی کے لیے پولیس خاتون اہلکار بھی نہیں دی گئی،خواتین پولنگ ایجنٹ کا کہنا ہے کہ مرد اہلکار پولنگ اسٹیشن کے باہر ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشن کے اندر خاتون اہلکار نہیں ہیں.

    کئی پولنگ سٹیشن پر صرف ن لیگ کا پولنگ ایجنٹ، کہیں پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال دیا گیا
    لاہور کے متعدد پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ ایجنٹ غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہے،بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عمل صرف ایک جماعت کے پولنگ ایجنٹ سے شروع ہوا،لاہور کے حلقہ این اے 130 کے کئی پولنگ اسٹیشنز پر صرف ن لیگ کے ایجنٹ موجود ہیں،پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی کے ایجنٹ پولنگ اسٹیشن پر موجود ہی نہیں،دوسری جانب اٹک کے حلقہ این اے 50ٹو میں آزاد امیدوار ایمان طاہر کے پولنگ ایجنٹ کو تمام پولنگ اسٹیشن پر باہر نکال دیا گیا ،آزاد امیدوار ایمان طاہر کے ایجنٹ نےپولنگ اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا، ایجنٹس کا کہنا ہے کہ شفاف الیکشن کے نام پر دھاندلی جاری ہے،

    شہباز شریف نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا
    سابق وزیراعظم ،مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 128 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 82 پر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہناتھا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے ووٹ ڈالیں گے تو ملک کی تقدیر بدلے گی،عوام نے نواز شریف کو موقع دیا تو سب مل کر ملک کی تقدیر بدلیں گے، نفرتیں اور کدورتیں دور کریں گے
    shehbaz

    ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد آصفہ بھٹو کا پیغام
    پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا،آصفہ بھٹو نے نواب شاہ میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا، ووٹ دینے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ ووٹ ایک قومی فریضہ ہے، جسے میں نے تیر کے نشان پر مہر لگا کر ادا کردیا ہے،آئیے آپ بھی اس فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے تیر کے نشان پر مہر لگائیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بلاول بھٹو زرداری کو اس ملک کا وزیراعظم بنائیں

    پیپلز پارٹی رہنما سعید غنی نے ووٹ کاسٹ کردیا، اس موقع پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے، الیکشن کے دن موبائل بند کرنا درست عمل نہیں ، الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ فوری موبائل سروس بحال کی جائے،موبائل بند کرنا غیر دانشمندانہ عمل ہے کوئی حادثہ ہوجائے تو کسی سے رابطہ بھی ممکن نہیں ہوسکتا.

    کراچی کے ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا،سلمان عبداللہ مراد نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 231 اولڈ تھانہ ملیر کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کیا ایم کیو ایم کے سینئیر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا،ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا،سابقہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنا ووٹNA-19 صوابی میں کاسٹ کر دیا، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نعیم اختر افغان نے اہلیہ کےہمراہ ووٹ کاسٹ کردیا۔چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ نے بوائے سکاؤٹس ہیڈکوارٹر میں پولنگ سٹیشن پر ووٹ کاسٹ کیا،اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ عوام آج اپنے بہترین نمائندے منتخب کرنے کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کریں،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان پولنگ پر موجود پولنگ سٹاف اور ووٹرز سے گھل مل گئے،مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے ووٹ کاسٹ کر دیا،خواجہ آصف نے ایف جی اسکول کینٹ کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کیا.نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا،اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات ملک میں جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں،سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا، اسحاق ڈار نے ممتاز میموریل 26-J گلبرگ-III لاہور پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا، پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نےلالہ موسیٰ میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ،پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے این اے201سکھر میں ووٹ کاسٹ کردیا ، پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے جام نوازعلی میں اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا. پیپلزپارٹی کےرہنما نثارکھوڑو نےلاڑکانہ میں اپنا ووٹ کاسٹ کرلیا ،

    ٹرن آؤٹ بڑھنے کا امکان ہے، سید سردار علی شاہ
    عمرکوٹ پیپلزپارٹی امیدوار سید سردار علی شاہ نے مختلف پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا، سابق صوبائی وزیر تعلیم اور پی ایس 49 پیپلزپارٹی کے امیدوار سیدسردارعلی شاہ اپنے آبائی گاؤں کھاروڑوں سید میں ووٹ کاسٹ کردیا ، اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ پولنگ پرامن ماحول میں اور بہتر انداز میں جاری ہے، صبح کا وقت ہے ٹرن آؤٹ بڑھنے کا امکان ہے، پرامن ماحول میں پولنگ ہو اور صاف شفاف انتخابات ہوں، انشااللہ جیت پیپلزپارٹی کی ہوگی، انشااللہ بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم ہونگے،

    سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر عمر گل نے ووٹ کاسٹ کردیا ، اس موقع پر عمر گل کا کہنا تھا کہ بہتر پاکستان کیلئے میں نے آج اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے ، آپ لوگ بھی اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ہمراہ ووٹ کاسٹ کریں ،

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

    کئی حلقوں میں پولنگ تاخیر کا شکار
    پولنگ کا وقت شروع ہونے کے باوجود کئی حلقوں میں پولنگ تاخیر کا شکار رہی،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 شہزاد ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کے آغاز میں تاخیر ہوگئی ، شہزاد ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز بڑی تعداد میں موجود ہیں تاہم عملہ پولنگ کے انتظامات میں مصروف ہے،کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 250 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 262 سے 265 پر بھی پولنگ شروع نہ ہوسکی۔ پولنگ اسٹیشنوں پریزائیڈنگ افسران کے نہ پہنچنے کے باعث پولنگ شروع نہیں ہو سکی ہے، پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں،خیبرپختونخوا کے علاقے بونیر میں سرد موسم کے باعث مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر بھی پولنگ تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، بونیر کی پولنگ اسٹیشن نمبر 109 گرلز ڈگری کالج ڈگر میں پولنگ ایجنٹ اور ووٹرز ہی نہیں پہنچ سکے۔

    ملک بھر میں موبائل سروس بند،دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو ذمہ دار کون ہو گا؟ چیف الیکشن کمشنر
    نگران حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی، کہا جا رہا تھا کہ انتخابات کے روزموبائل سروس کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی، جس سے ووٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سروس بند ہو چکی ہے،ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے،امن و امان قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں،دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کو انٹرنیٹ سروسز کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دے گا،ہم کہیں موبائل سروس کھول دیں اور دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟دوسری جانب موبائل سروس بند ہونے سے ووٹ کاسٹ کرنے میں شہریوں کو مشکلات کا سامناہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ 8300 پر جو پولنگ اسٹیشن پر بتایا گیا وہاں آیا وہ کہہ رہے ووٹ نہیں آیا ،سروس بندش سے بھی مشکلات کا سامنا ہے،ملک بھر میں الیکشن کمیشن کا 8300 ایس ایم ایس سروس بڑی طرح متاثر ہوئی ہے،کروڑوں ووٹرز اپنے ووٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے محروم ہو گئے ہیں

    موبائل سروس بند کرنا دھاندلی کی ابتدا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
    انتخابات کے روز ملک بھر میں موبائل سروس بند ہونے پر مصطفی نواز کھوکھر خاموش نہ رہ سکے، کہتے ہیں کہ ملک بھر میں موبائل فون بند کرنا، دھاندلی کی ابتدا ہے، اسلام آباد کے دو حلقوں این اے 47، 48 سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ امیدواروں کا اپنے ایجنٹس اور انتخابی مشینری سے رابطہ کاٹنا سرا سر زیادتی ہے، کچھ عرصہ سے پولیس گردی کا بھی سامنا ہے، جب کہیں سے اطلاع آئے گی دیر ہو چکی ہو گی، دھونس اور دھاندلی کے الیکشنز نا منظور

    فیصل آباد،این اے 100 میں پیپلز پارٹی کی ایم این اے کی میدوار سدرہ سعید بندیشہ پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گئی،انکا کہنا تھا کہ پولنگ عملہ تاخیری حربے استعمال کر کے وقت ضائع کر رہا, انٹرنیٹ بند ہونے سے ووٹرز کو باہر نکالنے میں مشکل ہو رہی،دھاندہ میں پولنگ اسٹیشنز پر عملہ ووٹرز کو تنگ کر رہا,

    غیرملکی مبصرین کا این اے 47 کے ایف 6 میں قائم پولنگ اسٹیشن کا دورہ
    غیر ملکی مبصرین نے ایف سیکس ون میں پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا،غیر ملکی مبصرین نے پولنگ کا عمل کا جائزہ لیا،غیر ملکی مبصرین نے این اے 47 کے ایف 6 میں قائم پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا،غیر ملکی مبصرین نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا ،انتخابی عمل کے جائزے کے بعد غیر ملکی مبصرین نے میڈیا سے گفتگو کی،ہیڈ آف کامن ویلتھ ابزرور گڈ لک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات کا انعقاد خوش آیند ہے ، مختلف پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کی صورتحال سے مطمئن ہیں ، امید کرتے ہیں کہ ملک بھر میں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہوں گے ،انتخابی عمل پر امن اور پُرسکون طریقے سے جاری ہے ،الیکشن کمیشن کے کئے گئے انتظامات سے مطمئن ہیں ، ابھی انتخابی عمل شروع ہوا ہے، امید کرتے ہیں کہ سارا دن پولنگ کا عمل اسی طرح بغیر کسی وقفے کےجاری رہے گا ،

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • ملک کے  12 ویں عام انتخابات کیلئے آج پولنگ ہوگی

    ملک کے 12 ویں عام انتخابات کیلئے آج پولنگ ہوگی

    لاہور: پاکستان میں 1970 کے بعد آج 12ویں جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ کے زریعے ووٹرز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 855 حلقوں میں امیدوار چنیں گے ملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ 17 ہزار 816 امیدوار میدان میں ہیں، 882 خواتین امیدوار، 4 خواجہ سرا بھی جنرل نشستوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے، اور جمہوری عمل کیلئے 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ڈیوٹی دے گا-

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کے حوالے تمام سامان کی ترسیل مکمل ہوچکی ہے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہے گا ،ووٹ ڈالنے کیلئے ووٹرز کو اصل شناختی کارڈ دکھانا لازم ہوگا، قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید بیلٹ پیپر ہو گا،تمام حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جو ریٹرننگ افسر کے دفاتر سے جاری ہوں گے۔

    عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل و تدوین کیلئے الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا ، ملک بھر میں 16 ہزار 766 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس ،29 ہزار 985 حساس جبکہ 44 ہزار 26 پولنگ سٹیشنز نارمل قرار دیئے گئے ہیں انتہائی حساس قرار دیے پولنگ اسٹیشنز کے باہر فوج تعینات ہوگی پنجاب میں 5 ہزار 624 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے ہیں جن پر فی پولنگ اسٹیشن 5 اہلکار تعینات ہوں گے اسی طرح سندھ میں 4 ہزار 430 حساس پولنگ اسٹیشنز پر فی اسٹیشن 8 اہلکار ہوں گے خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 265 حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 9 اہلکار فی پولنگ اسٹیشن، جبکہ بلوچستان میں 1047 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 9 اہلکار ہوں گے۔

    5 لاکھ سکیورٹی اہلکار عام انتخابات میں ڈیوٹی پرتعینات ہوں گے، پولیس پہلے درجے پر، پیرا ملٹری فورسز دوسرے درجے، آخری اور تیسرے درجے میں پاک فوج بطورکوئیک رسپانس فورس تعینات ہوگی۔

    اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی کی 297 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی کی 130، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی کی 115 جبکہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر پولنگ ہو گی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جن پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

    پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور پنجاب اسمبلی کی 297 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 19 لاکھ 28 ہزار 119 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور بلوچستان اسمبلی کی 51 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے ہیں اور الیکشن کے دن ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے عزیز کو جتوانے کیلئے حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن کوشکایت موصول

    وزیراعلیٰ پنجاب کے عزیز کو جتوانے کیلئے حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن کوشکایت موصول

    پری پول دھاندلی کی پہلی شکایت الیکشن کمیشن کو موصول ہو گئی، امیدوار برائے حلقہ پی پی 31 گجرات مدثر رضا نے الیکشن کمیشن کو درخواست دے دی،

    درخواست گزار کا الزام لگایا کہ حلقے میں نگران وزیراعلی پنجاب کے قریبی عزیز شافع حسین کو جتوانے کے لیے حکومتی مشینری استعمال ہو رہی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں جعلی پوسٹل بیلٹ پیپرز تیار کر لیے گئے ہیں۔بیلٹ پیپرز پر ٹریکٹر کے نشان پر مہر لگا کر جعلی بیلٹ باکس میں بند کر کے تیار کر لیے گئے ہیں۔جعلی بیلٹ بکس کو اصلی بیلٹ باکس سے تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ سائل کے حلقہ میں امیدوار شافع حسین جو نگران وزیر اعلیٰ کے قریبی عزیز ہے اسی حکومتی آشیر باد بھی حاصل ، مذکورہ امیدوار الیکشن میں ناجائز اور غیر قانونی ووٹ پول کروانے کے لیے حکومتی مشینری اور ، ریٹرننگ آفیسر ، پریذائیڈنگ آفیسر اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہزاروں کی تعداد جعلی پوسٹل بیلٹ پیپرز ٹریکٹر کے نشان پر جعلی مہریں لگا کر جعلی بیلٹ باکس میں بند کرنے کے لیے تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیے ہیں، تاکہ مذکورہ امیدوار شافع حسین کو فائدہ پہنچانے کے لیے اصلی بیلٹ باکسز سے تبدیل کیے جا سکتے ہیں،

    درخواست گزار نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شافع حسین نے اپنے من پسند افسران کو اپنے حلقہ میں تعینات کروا رکھا ہے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار امیدوار پولیس کے سیکورٹی پلان کے تحت الیکشن والے دن سائل کے پولنگ ایجنٹ اور الیکشن ایجنٹ کو پولنگ سٹیشن پر نہیں آنے دیا جائے گا، جس سے نا صرف الیکشن کے عمل کی شفافیت متاثر ہو گی بلکہ الیکشن کے نتائج بھی سائل کے پولنگ ایجنٹوں اور الیکشن ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں نتائج تبدیل کر دئیے جائیں گئے۔

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • الیکشن کمیشن کی آزاد میدوار دانیال عزیز کیخلاف بڑی کاروائی

    الیکشن کمیشن کی آزاد میدوار دانیال عزیز کیخلاف بڑی کاروائی

    الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مسٹر دانیال عزیز امیدوار این اے 75نارووال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10فروری 2024ء کو الیکشن کمیشن میں مقر ر کر دی ہے ۔

    الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسٹر دانیال عزیز اگر جنرل الیکشن 2024 میں کامیاب قرار پاتے ہیں تو اُنکا حتمی نوٹیفکیشن کا اجراء الیکشن کمیشن کےفیصلے سے مشروط ہو گا ۔الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نارووال کی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا امیدوار بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور ڈسٹرکٹ مانیٹر نگ آفیسر کےجاری کردہ نوٹس کا نہ تو جواب دیتے ہیں اور نہ حاضر ہوتے ہیں ۔انہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا جو انہوں نے ادا نہیں کیا جس بنا پران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    تخت لاہور کا بڑا مقابلہ،کون بنے گا فاتح؟

    آٹھ فروری، ملک بھر میں عام انتخابات، تاہم سب کی نظریں لاہور پر جمی ہیں ، سابق وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، بلاول،علیم خان سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں، لاہور سے کون جیتے گا؟ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں.

    لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقے ہیں، سب امیدواروں نے بھر پور انتخابی مہم چلائی، لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول زرداری سمیت سب نے جلسے کئے، ریلیز نکالیں، کارنر میٹنگز کیں،تا ہم اب کل آٹھ فروری کو ووٹر فیصلہ سنائیں گے کہ لاہور کس کا؟لاہور میں پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے، ریٹرنگ افسران نے پریزائڈنگ افسر کو سامان حوالے کیا ،پولنگ اسٹیشنز پر سامان پاک فوج اور پولیس کی نگرانی میں منتقل کردیا گیا ،لاہور میں مجموعی طور پر 4 ہزار 3 سو 54 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے، لاہور میں 1120 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا ہے،حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 3110 بتائی گئی ہے،نارمل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 127 ہے۔

    این اے 130،نواز شریف بمقابلہ یاسمین راشد
    سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کے حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن لڑیں اور ہاریں، اب یاسمین راشد نو مئی کے مقدمات میں جیل میں ہیں، اور نواز شریف مقدمات سے بری ہو کر بھر پورمہم چلا چکے، نواز شریف نے مریم نواز کے ہمراہ این اے 130 کا دورہ کیا تھا،نواز شریف کی بھر پور مہم اور یاسمین راشد کا جیل میں ہونا،اسکے علاوہ یاسمین راشد کی مہم چلانے والوں کو روکے جانا، بھی دھاندلیوں میں شامل ہے،یاسمین راشد کو انتخابی نشان لیپ ٹا پ ملا ہے، جبکہ نواز شریف کا پارٹی نشان شیر ہے، این اے 130 سے نواز شریف جیت جائیں گے،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، جو پانچ سے چھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر لیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال احمد خان اور جماعت اسلامی کے صوفی خلیق احمد بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 130 سے کل 18 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 130لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 170، پی پی 173 اور پی پی 174 کے علاقے شامل ہیں۔این اے 130 لاہور میں انار کلی،سنت نگر،مزنگ،اسلام پورہ،گلشن راوی۔ساندہ۔ہال روڈ شامل ہیں، اس حلقے کی کل آبادی 8لاکھ 93ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 8ہزار ہے، جن میں‌سے مرد ووٹرز – 3لاکھ 23ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 85ہزار ہیں، اس حلقے میں کل پولنگ اسٹیشن – 376 بنائے گئے ہیں.

    این اے 127، بلاول زرداری بمقابلہ عطا تارڑ
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخ کو دہرانے کیلئے این اے 127 لاہور سے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں،بلاول زرداری اس بار لاڑکانہ اور لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لیاری سے نہیں لڑ رہے اس حلقے میں ن لیگ کے عطا تارڑ امیداور ہیں، پی ٹی آئی کے ملک ظہیر عباس کھوکھر اس حلقے سے امیدوار ہیں جن کا انتخابی نشان گھڑیال ہے،جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص،تحریک لبیک کے مطلوب احمد اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 127 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار خالد نیک ہیں، پیپلز پارٹی امیدوار بلاول کی اس حلقے میں مسلم لیگ ق، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء پاکستان ،جمعیت اہلحدیث نے حمایت کر رکھی ہے، اس حلقے میں پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیٹ جیت جائیں تا ہم ماضی میں اس حلقے سے ن لیگ جیتتی رہی ہے، اب اس حلقے میں بلاول اور عطا تارڑ کا مقابلہ ہے،اس حلقے کی کل آبادی 972,875 ہے، جہاں 519,150 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 274,000 جب کہ 245,000 خواتین ووٹرز ہیں۔یہ حلقہ PP-157، 160، 161، اور صوبائی اسمبلی کے 162 حلقوں پر مشتمل ہے، ماڈل ٹاؤن، بہار کالونی، قینچی، چونگی امرسدھو جیسے علاقے بھی اس حلقے میں شامل ہیں،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 27ہزار ہے، جس میں مرد ووٹرز – 2لاکھ 73ہزار،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 54ہزار ہیں، این اے 127 میں کل پولنگ اسٹیشن – 337بنائے گئے ہیں.

    این اے 123 ، شہباز شریف بمقابلہ لیاقت بلوچ
    این اے 123، سابق وزیراعظم شہباز شریف ن لیگ کی جانب سے اس حلقے میں امیدوار ہیں تو وہیں جماعت اسلامی کے امیر لیاقت بلوچ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں،تحریک انصاف کے افضال عظیم پاہٹ، پیپلز پارٹی کے محمد ضیاء الحق، جے یو آئی کے حیدر علی،تحریک لبیک کے امجد نعیم اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 123 لاہورمیں کماہاں روڈ۔بیدیاں روڈ،ڈیفنس ،گجو متہ شامل ہیں،کل آبادی – 8لاکھ 87ہزار 5سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 38ہزار 780ہے جن میں سے مرد ووٹرز – 1لاکھ 87ہزار 830،خواتین ووٹرز – 1لاکھ 50ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 222 بنائے گئے ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد سولہ ہے،این اے 123 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 157، پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 اور پی پی 164 کے مختلف علاقے شامل ہیں۔

    این اے 119، مریم نواز بمقابلہ شہزاد فاروق
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف امیدوار ہیں، صنم جاوید پی ٹی آئی امیدوار مریم نواز سے مقابلے میں‌دستبردار ہو گئیں جس کے بعد پی ٹی آئی کے اب امیداور شہزاد فاروق ہیں،پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد ، جماعت اسلامی کے ذولفقار علی ، جمعیت علماء اسلام کے راشد احمد خان اس حلقے سے امیدوار ہیں،این اے 119 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقے پی پی 149, پی پی 150, پی پی 151، پی پی 152 اور پی پی 170 شامل ہیں۔حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 119 لاہورمیں گڑھی شاہو، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، باغبانپورہ شامل ہیں، حلقے کی کل آبادی – نو لاکھ تینتیس ہزار دو سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار 829 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 77ہزار 172جبکہ خواتین ووٹرز – 2لاکھ 43ہزار 657 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 338 بنائے گئے ہیں.حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ ن کی خواتین نے گھر گھر جا کر مریم نواز کی کامیابی کے لئے مہم چلائی ہے، قوی امکان ہے کہ مریم نواز سیٹ جیت جائیں گی.

    این اے 122، خواجہ سعد رفیق بمقابلہ لطیف کھوسہ
    این اے 122 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پی ٹی آئی کی جانب سے آزاد امیدوار سردارلطیف کھوسہ آمنے سامنے ہیں۔این اے 122 سے مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں،جماعت اسلامی کی جانب سے اس حلقے میں ڈاکٹر زیبا وقار وڑائچ امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد اکیس ہے،این اے 122 لاہور میں بھٹہ چوک ،ڈیفںس،بیدیاں روڈ ،آرے بازار۔کینٹ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 53ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 70ہزار 536 ہے جس میں سے مرد ووٹرز – 2لاکھ 95ہزار اور خواتین ووٹرز- 2لاکھ 75ہزار 50 ہیں،کل پولنگ اسٹیشن 361بنائے گئے ہیں،این اے 122 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 155، پی پی 156 ، پی پی 157, پی پی 160 اور پی پی 170 کے مختلف علاقے شامل ہیں، 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑے تھے اور جیت گئے تھے تاہم عمران خان نے بعد ازاں یہ سیٹ چھوڑی، تو ضمنی انتخابات میں ہمایوں اختر کو ٹکٹ دیا جو خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہار گئے تھے.

    این اے 117، علیم خان بمقابلہ علی اعجاز
    این اے 117 پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی )کے امیدوار عبدالعلیم خان کا مقابلہ آزاد امیدوار علی اعجاز سے ہے، ن لیگ نے اس حلقے سے امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ علیم خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد، اس حلقے سے امیدوار ہیں، این اے 117 میں کل امیدواروں کی تعداد 20 ہے،این اے 117 لاہورمیں شاہدرہ،بادامی باغ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ دو ہزار پانچ سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 5لاکھ 20ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 82ہزار،خواتین ووٹرز – دو لاکھ 38ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 329بنائے گئے ہیں.این اے 117 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 145، پی پی 146 اور پی پی 147 شامل ہیں

    حلقہ این اے 120 پر مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق انتخابی میدان میں اترے ہیں، ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار عثمان حمزہ کامیابی کیلئے زور لگائیں گے۔

    این اے 128، عون چودھری بمقابلہ سلمان اکرم راجہ
    این اے 128پر استحکام پارٹی کے امیدوار عون چودھری کو آزاد امیدوار سلمان ا کرم راجا کا سامنا ہے،ن لیگ کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، ن لیگ نے عون چودھری کی حمایت کر رکھی ہے،پیپلز پارٹی کے عدیل غلام محی الدین ،جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ،جے یو آئی کے غضنفر عزیز اس حلقے سے امیدوار ہیں، اس حلقے سے کل 22 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 128 لاہور میں گلبرگ،ماڈل ٹاون۔فیروز پور روڈ۔گارڈن ٹاون،علامہ اقبال ٹاون،فیصل ٹاون۔گلاب دیوی ہسپتال شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 52ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 6لاکھ 78ہزار ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 48ہزار ہیں،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 30ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 433بنائے گئے ہیں،این اے 128 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے پانچ حلقوں پی پی 156، پی پی 161، پی پی 169، پی پی 170 اور پی پی 171 کے مختلف علاقے شامل ہیں.

    این اے 126 سیف الملوک کھوکر،بمقابلہ ملک توقیر کھوکھر
    این اے 126 لاہور سے ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے ملک توقیر کھوکھر، پیپلز پارٹی کے امجد علی، جماعت اسلامی کے امیر العظیم، مرکزی مسلم لیگ کے عمران لیاقت،تحریک لبیک کے محمد احمد مجید امیدوار ہیں، اس حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد – 19 ہے،این اے 126 لاہور میں شادیوال ۔جوہر ٹاون۔جوڈیشل کالونی۔ایکسپو سنٹر،واپڈا ٹاون۔ویلنشیا شامل ہیں،کل آبادی 9لاکھ 78ہزار ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 50ہزار ہے جس میں مرد ووٹرز – 1لاکھ 78ہزار جبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 71ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 223بنائے گئے ہیں.این اے 126 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی پی 162، پی پی 164، پی پی 167 اور پی پی 168 کے مختلف علاقے شامل ہیں

    این اے 125، 19 امیدوار میدان میں
    این اے 125 لاہور سے مسلم لیگ ن کے محمد افضل کھوکھر امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے جاوید عمر، پیپلز پارٹی کے چوہدری عبدالغفور میو، جے یو آئی کے نظام دین، تحریک لبیک کے خرم شہزاد، جماعت اسلامی کے ذبیح اللہ بلگن امیدوار ہیں،اس حلقے میں امیدواروں کی کل تعداد 19 ہے،این اے 125 میں ضمیر ٹاون، مانگہ منڈی، موہلنوال۔رائیونڈ روڈ، بھوبتیاں شامل ہیں،اس حلقے کی کل آبادی – 9لاکھ ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 40ہزار 6سو ہے ، مرد ووٹرز – 1لاکھ 86ہزار 2سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 54ہزار 4سو ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 214بنائے گئے ہیں.این اے 125 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 164، پی پی 165 ، پی پی 166 کے علاقے شامل ہیں۔

    این اے 124 سے 13 امیدوار میدان میں
    این اے 124 سے مسلم لیگ ن کے رانا مبشر اقبال،تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ ضمیر، تحریک لبیک کے عرفان بھٹی، مرکزی مسلم لیگ کے محمد امین ، جماعت اسلامی کے محمد جاوید امیدوار ہیں، اس حلقے میں کل امیدواروں کی تعداد 13 ہے،این اے 124 لاہور میں ہلوکی۔سادھوکی۔ویلنشیا ،پاک عرب سوسائٹی،باگڑیاں۔ چونگی امر سدھو شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 78ہزار 8سو ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 3لاکھ 10ہزار 116 ہے،مرد ووٹرز – 1لاکھ 69ہزار 6سوجبکہ خواتین ووٹرز – 1لاکھ 40ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 198 بنائے گئے ہیں،این اے 124 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چھ حلقوں پی پی 158، پی پی 159، پی پی 160 ، پی پی 163، پی پی 164 اور پی پی 165 کے مختلف علاقے شامل ہیں،

    این اے 121 لاہور سے ن لیگ کے شیخ روحیل اصغر،پی ٹی آئی کے وسیم قادر، پیپلز پارٹی کے افتخار شاہد، جماعت اسلامی کے عامر صدیقی، ایم کیو ایم کے عمران اشرف امیدوار ہیں،حلقے سے امیدواروں کی کل تعداد 15 ہے،این اے 121 لاہورمیں ہربنس پورہ۔سلامت پورہ۔تاج پورہ۔داروغہ والا۔فتح گڑھ شامل ہیں،کل آبادی – 9لاکھ 2ہزار 6سو ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 4لاکھ 67ہزارہے،مرد ووٹرز – 2لاکھ 47ہزار 571،خواتین ووٹرز – 2لاکھ 19ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 299بنائے گئے ہیں،این اے 121 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 149، پی پی 152، پی پی 153 اور پی پی 154 شامل ہیں۔

    این اے 118، حمزہ شہباز بمقابلہ عالیہ حمزہ
    این اے 118 لاہور ن لیگ کے حمزہ شہباز ، پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ، پیپلز پارٹی کے شاہد عباس، جے یو آئی کے محمد افضل، تحریک لبیک کے عابد حسین،جماعت اسلامی کے محمد شوکت امیدوار ہیں، اس حلقے سے 13 امیدوار میدان میں ہیں،این اے 118 لاہورمیں بادامی باغ، شاد باغ، دلی دروازہ۔ شیرانوالہ گیٹ۔ مستی گیٹ ، موچی گیٹ شامل ہیں،کل آبادی – نو لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ہے،رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد – 7لاکھ 35ہزار سے زائد ہے،مرد ووٹرز – 3لاکھ 94ہزار ہے،خواتین ووٹرز – 3لاکھ 41ہزار ہیں،کل پولنگ اسٹیشن – 463بنائے گئے ہیں،این اے 118 لاہور میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 147 پی پی 148 اور پی پی 149 شامل ہیں۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جماعت اسلامی، جے یو آئی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک لبیک کو کوئی سیٹ نہیں ملے گی، پیپلز پارٹی این اے 127 والی واحد سیٹ جیت سکتی ہے، ن لیگ لاہور سے اکثر سیٹیں جیتے گی، آزاد امیدوار ن لیگ کا مقابلہ کریں گے.

  • چیف الیکشن کمشنر کی چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    چیف الیکشن کمشنر کی چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے چاروں چیف سیکرٹریز اور ائی جیز کو فون کیا ہے

    چیف الیکشن کمشنر نے چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کر دی، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو مکمل کیا جائے، تاکہ ووٹرز، ڈی آر اوز اور آر اوز کے دفاتر کو سیکیورٹی فراہم کی جاسکے، چیف الیکشن کمشنر نےبلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،چیف الیکشن کمشنر نے ایسے واقعات کے فوری تدارک کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی

    واضح رہے کہ عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے ، پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے ہوئے، دونوں دھماکے انتخابی دفاتر میں ہوئے، بلوچستان میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 42 سے زائد زخمی ہو گئے۔پشین میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے،جبکہ قلعہ سیف اللہ میں جے یوآئی کے دفترکے قریب دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہو گئے بلوچستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، صوبہ بھر میں سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • لوک رحمت  کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار  بطور آزاد امیدوار میدان  میں ڈٹ گئے

    لوک رحمت کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار بطور آزاد امیدوار میدان میں ڈٹ گئے

    عام انتخابات میں لوئر چترال اور اپر چترال سے درجنوں افراد نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے کاغذات جمع کروائے مگر اب میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ تاہم لوک رحمت ڈٹے ہوئے ہیں.

    چترال میں صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 2 لوئر چترال ، پی کے 1 اور این اے ون چترال کے حلقے سے اس سال درجنوں سیاسی شخصیات نے عام انتخابات میں حصہ لیا ان میں سے کچھ پارٹی کی طرف سے اور زیادہ امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑانے کے خواہشمند تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ کئی پارٹی کے امیدوار ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوارں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیا اور کسی اور امیدوار کو موقع دے کر خود عام انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں ۔ اس تمام تر صورت حال میں سب سے دلچسپ امیدوار کالاش برادری کے آزاد امیدوار لوک رحمت ہی رہے جو کہ پاکستان اور بیرونی میڈیا پر زینت بنا اور سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھائے رہے ۔

    یاد رہے کہ لوک رحمت کا تعلق کالاش برادری سے اور کالاش برادری تعداد میں بہت کم ہے اس کے باجود بھی لوک رحمت میدان میں ڈاٹے ہوئے ہیں، وہ نہ جھکے اور نہ ہی ہمت ہارنے کا نام لے رہے بلکہ حوصلے بلند ہیں اور الیکشن میں کامیابی کے لیے پر عزم ہیں ۔ لوک رحمت کے مطابق وہ اپنے برادری کے نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ چترال کے نوجوانوں کو حوصلے دینے اور مایوسیوں سے نکلنے کے لیے میدان میں اترے ہیں ۔ معاشرے میں روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نوجوان بغیر کسی خوف کے ملک کی باگ ڈور میں حصہ لیں کیوں کہ روایتی سیاستدانوں نے ملک پاکستان کے نوجوان نسل کو وہ مستقبل نہیں دیا ہے جس کا نوجوان نسل حق رکھتا ہے ۔

    لوک رحمت چاہتے ہیں کہ چترال کے نوجوان خوف سے باہر نکل کر ملکی سیاست میں حصہ لیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں کیونکہ کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت نمایاں اور معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں ۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • عام انتخابات،ای ایم ایس بنانے والوں نے گارنٹی دینے سے انکار کردیا

    عام انتخابات،ای ایم ایس بنانے والوں نے گارنٹی دینے سے انکار کردیا

    الیکشن کمیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈ سعد نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ بند ہوتا ہے تو پریذائیڈنگ افسر کو نتائج بھیجنے میں مسئلہ ہو گا،اللہ کی ذات کے علاوہ کسی چیز کی کوئی گارنٹی نہیں۔

    الیکشن منیجمنٹ سسٹم مکمل آپریشنل،صحافیوں کو بریفنگ دی گئی، صحافیوں نے نیٹ ورک آپریشن سیل ایچ نائن کا دورہ کیا،ایچ نائین سیٹ اپ الیکشن کمیشن کا آئی ٹی سیٹ اپ ہے،پروجیکٹ ڈائریکٹر کرنل ر سعد نے میڈیا کو بریفنگ دی اور کہا کہ تمام آر اوز اور فیلڈ آفسز کو یہاں سے مانیٹر کر رہے ہیں ،آر اوز کی 859آر اوز لوکیشن ہیں ،ان کو دو دو کنکشن دئے گئے ہیں،تمام متعلقہ ٹیلی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں،ہر شخص اس سسٹم میں نہیں آسکتا،چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کا نظام چلتا رہے گا،چالیس انجنئیرز یہاں پر نیٹورک دیکھ رہے ہیں ،یہاں پر ای ایم ایس کا ہیلپ ڈیسک موجود ہے ،ای ایم ایس ہیلپ ڈیسک میں 8 اپریٹرز موجود ہے، ہر صوبہ کو دو آپریٹرز ڈیل کر رہے ہیں ،آج ہم ریٹرنگ آفسران کو پورٹل میں لوگ ان کروائیں گے

    صحافیوں کو میڈیا بریفنگ کے دوران کرنل ر یٹائرڈ سعد کا کہنا تھا کہ یہاں پر الیکشن کمیشن کی سافٹ وئیر پروجیکٹ تیار کیے جاتے ہیں ،پاکستان کی ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جس نے ای ایم ایس ڈویلپ کیا ہے،3 ہزار سے زائد لیپ ٹاپ اور 400 کے قریب ڈیسک ٹاپ کام کر رہے ہیں،ڈی آر اوز کی لائیو لوکیشن کواس سسٹم میں دیکھا جا سکتا ہے،صرف ان لوگوں کو سافٹ ویئر میں لاگ ان کر سکتے ہیں جن کو اجازت ہو گی،ہمیں نیپرا نے یقین دلایا ہے ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی،ہمیں انٹر نیٹ سے کوئی ضرورت نہیں انٹرنیٹ سے ای ایم ایس سسٹم کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ای ایم ایس میں سارا ڈیٹا آف لائن پڑا ہے، اس میں صرف ریزلٹ ڈالنا ہے

    کرنل ر سعد کا مزید کہنا تھا کہ رب کے ذات کے علاوہ کسی چیز کی گارنٹی نہیں،ہم انسان ہیں، ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں،سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کے باعث مختلف علاقوں میں رزلٹ کی تاخیر تو ہوسکتی ہے مگر رزلٹ پر فرق نہیں پڑے گا،ریٹرننگ افسر کے لئے ہمیں کوئی ایشو نہیں، انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں، ای ایم ایس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، مکران میں سیکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئی ہے، انٹرنیٹ نہ ہونے سے نتائج وصول ہونے میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے، بطور انسان کوشش کی ہے کہ الیکشن کے دن ای ایم ایس میں کوئی مسائل نہ ہوں، ، الیکشن کمیشن کو پہلے دن رزلٹ نہ پہنچے تو دوسرے دن آجائیں گے،کوئی بڑی بات نہیں،

    انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 595امیدواروں کو نوٹسز جاری
    الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال، اعدادو شمار جاری کر دیئے گئے، ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 595امیدواروں کو نوٹسز جاری کئے، امیدواروں کے علاوہ بلدیاتی نمائندہ اور سرکاری ملازمین کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹسز ارسال کیے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 261امیدوروں کو جرمانہ کیاگیا،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے خلاف 52شکایات کمیشن میں زیرالتواء ہے،ملک بھر میں 144ڈی آراوز اور1200مانٹرنگ افسران فیلڈ میں ہیں،کل بھی تمام دن مانیٹرنگ ٹیمیں فعال رہیں گی،انتخابات سے متعلق شکایات کیلئے ہماری ٹیلی فون لائنز 24گھنٹے فعال ہیں،

    سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ اور سائز سے متعلق چلنے والی ویڈیو گمراہ کن ہے، الیکشن کمیشن
    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سوشل میڈیا میں بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ اور سائز سے متعلق چلنے والی ایک ویڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیلٹ پیپر ہمیشہ سے امیدواران کی تعداد کے لحاظ سے سنگل، ڈبل اور ٹرپل کالم اور اردو حروف تہجی کی ترتیب میں پرنٹ کیا جاتا ہے اور اس دفعہ بھی اسی ترتیب سے پرنٹ کیا گیا ہے تاہم بیلٹ پیپر کی فولڈنگ اور الیکشن کے دیگر مراحل سے متعلق معلوماتی ویڈیوز الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر موجود ہیں۔ ووٹر ز کو سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں پر اعتبار کرنے کی بجائے معلومات کے لیے صرف الیکشن کمیشن کی جاری کردہ آگاہی ویڈیوز سے استفادہ کرنا چاہیے یا کسی شکایت کی صورت میں الیکشن کمیشن کے قائم کردہ Complaint Cell پر 000۔327۔111۔051 سے رابطہ کریں۔

    الیکشن سے ایک روز قبل الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بار بار بند
    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ قابل رسائی نہیں رہی ،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹس نے کام کرنا چھوڑ دیا، ویب سائٹ کا سرور ڈاون ہوگیاجس کے بعد الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بند ہو گئی،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹس پر بہت زیادہ لوڈ ہے،ہم نے ای سی پی کی ویب سائٹ کے علاوہ تین مختلف ناموں سے ویب سائٹس بنائی ہوئی ہیں،الیکشن کمیشن کا آئی ٹی کا عملہ خرابی کو دور کر رہا ہے، بعد ازاں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بحال کر دی گئی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • سلمان اکرم راجہ کی درخواست الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی

    سلمان اکرم راجہ کی درخواست الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی

    تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مستقبل کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کردی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، اب الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا ہے.فیصلے میں کہا ہے کہ امیدوار کو انتخابی نشان دیا گیا جو آزاد امیدواروں کو دیا گیا جس پارٹی سے امیدوار منسلک ہیں ان کا انتخابی نشان واپس لے لیا گیا ،سلمان اکرم راجہ نے رولز 94کے تحت خود کو پی ٹی آئی کاامیدوار درج کرنے کی استدعا کی تھی،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، فیصلے میں کہا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر انتخابی نشان واپس لیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا،فارم 33 میں پارٹی کا نام آزاد امیدوار کے نام کے ساتھ درج کرنے کی استدعا منظور نہیں کی جا سکتی،

    واضح رہے کہ سلمان اکرم راجہ نے پہلے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے وکیل سمیرا کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی،درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف 1996 سے الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے ،درخواست گزار این اے 128 سے پی ٹی آئی سے حمایت یافتہ امیدوار ہےانٹرا پارٹی الیکشن نہ کرنے پر انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے پارٹی تاحال موجود ہے، الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار ڈیکلیئر کردیا ہے ،عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد امیدوار ڈیکلیئر کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے، بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی کا امیدوار درج کرنے کا حکم دے،

    قبل ازیں این اے 128 سے پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ نے فارم 33 کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔درخواست میں کہا گیا کہ فارم 33 میں میرا نام آزاد کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر لکھا جائے ۔اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ پارٹی سرٹیفیکیٹ بھی لف کیا۔ ہماری جماعت کو انتخابی نشان نہیں ملا لیکن پی ٹی آئی بطور جماعت ختم نہیں ہوئی۔پارٹی اپنا وجود رکھتی ہے اور اس کے اراکین کو اپنی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لاہور ہائی کورٹ نے میری درخواست پر 25 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر کے 29 جنوری کو سنایا، لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دو دن میں فیصلے کی ہدایت کی،لیکشن کمیشن دو دن میں بھی فیصلہ کرتا ہے تو بھی انتخابات کا دن گزر چکا ہو گا۔فارم 33 پر میرا نام آزاد امیدوار کی بجائے پی ٹی آئی امیدوار کے طور پر درج کیا جائے۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی شرائط الیکشن کمیشن نے بتا دیں

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی شرائط الیکشن کمیشن نے بتا دیں

    الیکشن کمیشن،ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں کی وصولی،الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ10 اور11 فروری 2024 کو کھلارہے گا،

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی دوبارہ گنتی کیلئے درخواستیں صبح 8:30 سے شام 4:30 تک وصول کی جائیں گی،درخواستوں پرسماعت 10 اور11 فروری بروز ہفتہ اور اتوارکوبھی ہوں گی، پٹیشن جمع کرانے کیلئے ضروری ہدایات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود ہیں، امیدواران ایس اوپیزکے مطابق اپنی درخواستیں جمع کرواسکیں گے،پٹیشنزکی 9 کاپیاں،ایک اصل اور8 کاپیاں معہ مکمل تفصیل جمع کروانی ہوں گی، درخواست دہندہ درخواست کی سافٹ کاپی پی ڈی ایف میں مہیا کرےگا،درخواست دہندہ جو بھی ان کے پاس ثبوت ہوں گے وہ یو ایس بی میں دیں گے،درخواست دہندہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی درخواست کے ساتھ منسلک کریں گے،درخواست دہندہ اپنا درست موجودہ پتہ اور رابطہ نمبرلکھیں گے،درخواست دہندہ مدعا علیہان کے مکمل کوائف اورپتہ تحریر کریں گے، وکیل کے ذریعے درخواست دائرکرنے پروکالت نامہ لف کرنا ہوگا، صرف مقررہ تاریخ اوروقت پرموصول درخواستیں سماعت کیلئے مقررہوں گی،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں‌ 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 66 ہزار 398 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جب کہ پولنگ کیلئے 14 لاکھ 90 ہزار انتخابی عملہ ذمہ داریاں انجام دے گا، 16 ہزار 766 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 29 ہزار 985 کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دیے گئے ہیں جب کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے باہر پاک فوج تعینات ہوگی.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا