Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود الیکشن کمیشن ایسا رویہ اپناتا ہے جو اس کے آئینی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتا، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ اسے دوسرے آئینی اداروں اور ووٹ کے بنیادی حق کو نظرانداز کرنے کا اختیار حاصل ہے، انتخابات جمہوریت کی زندگی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کے آزاد انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کا غیرجانبدار محافظ رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ الیکشن کمیشن کا حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر ہو تو یہ سیاسی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا، انتخابی عمل کی حفاظت کا مرکز عوام کے ووٹ کا حق ہے، حق ووٹ کے استعمال سے جمہوری نظام میں طاقت اور قانونی حیثیت عوام کی مرضی سے حاصل ہوتی ہے۔

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم

    ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم

    اسلام آباد: ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اورسنیٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کے مطابق ڈیڈ لائن تک سالانہ گوشوارے جمع نہ کروائے تورکنیت معطل ہوجائےگی،31دسمبرتک 517 ارکان نےسالانہ گوشوارےجمع نہیں کرائےتھےجب تک گوشوارےجمع نہیں کراتے تب تک ارکان کسی کارروائی میں حصہ نہیں لےسکیں گے،گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے والے ارکان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

    31دسمبرتک چیئرمین سینیٹ،وزیراعلیٰ بلوچستان نےگوشوارےجمع نہیں کرائےتھے اس کے علاوہ سینیٹ کے 23 ،قومی اسمبلی کے 116 ارکان نےگوشوارےجمع نہیں کرائےتھےپنجاب 208،سندھ اسمبلی کے 55 ارکان نے اب تک گوشوارے جمع نہیں کرائے ،خیبرپختونخوا 91اوربلوچستان اسمبلی کے 24ارکان نے بھی گوشوارے جمع نہیں کرائےتھے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران "بیٹ مین” کے گھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کی تعیناتی کالعدم قرار دیدی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے محفوظ فیصلہ جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی اے آر سی کو چارج چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کر کے نیا چیئرمین تعینات کیا جائے،جسٹس بابر ستار نے 15 مارچ 2024 کا آفس میمورنڈم کالعدم قرار دیا-

    تنگوانی: تھانہ تنگوانی کی حدود سے دو افراد اغوا، پولیس خاموش

  • شاہد خاقان عباسی کی جماعت عوام پاکستان رجسٹر  ہو گئی

    شاہد خاقان عباسی کی جماعت عوام پاکستان رجسٹر ہو گئی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جماعت عوام پاکستان کو رجسٹر کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق شاہد خاقان عباسی جماعت کے کنوینر اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل سیکریٹری ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان کے انٹراپارٹی الیکشنز بھی تسلیم کرلیے ہیں، عوام پاکستان نے 26 جون کو انٹرا پارٹی الیکشنز کی تفصیلات جمع کرائیں تھی۔خیال رہے کہ عوام پاکستان پارٹی کے بعد الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 168 ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ یکم فروری 2023 کو شاہد خاقان عباسی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مریم نواز کو اوپن فیلڈ ملنی چاہیے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ میں نے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفی جب مریم نواز چیف آرگنائزر بنی تو پارٹی کے صدر شہباز شریف کو دے دیا تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں پارٹی کا عہدہ دوبارہ قبول نہیں کروں گا، پارٹی نے بے پناہ عزت دی ہے، لاہور سے انتخاب کے لیے میاں صاحب نے خاص طور پر اس کا بندوبست کیا۔انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میرا گھر ہے، 35 سال سے اس جماعت میں ہوں.

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    7 ممالک سے آج 258 پاکستانی نکالےگئے

  • الیکشن کمیشن کی انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی مخالفت

    الیکشن کمیشن کی انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی مخالفت

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کی ہے-

    باغی ٹی وی: منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور کا اجلاس ڈاکٹر ہمایوں مہمند کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے بیرون ملک پاکستانیوں کو آن لائن ووٹ کا حق دینے پر بریفنگ دی گئی۔

    الیکشن کمیشن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق آسٹریا کے سوا کسی ملک میں نہیں، انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق آسٹریا کے سوا کسی ملک میں نہیں، الیکشن کمیشن نے حکومت کو ہیکنگ کے خطرات سے آگاہ کردیا تھا، نجی و بعض ممالک کے ہیکرز بھی مسئلہ پیدا کرسکتے ہیں، عام انتخابات میں تو بالکل انٹرنیٹ ووٹنگ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔

    سال 2024 نے کسی کی دولت کو دگنا کیا تو کچھ کواربوں کا نقصان

    حکام نے بتایا کہ بھارت کے اوورسیز بھی اپنے ملک میں آکر ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں، اگر کوئی بھارتی بیرون ملک ہے مگر اس کے پاس صرف بھارت کی شہریت ہے تو اسے پوسٹل بیلٹ کی اجازت ہے، انٹرنیٹ ووٹنگ کی صرف دنیا میں سفارت کاروں کو اجازت دی جاتی ہے بھارت میں اوورسیز اپنے کسی قریبی عزیز کو ووٹ دینے کیلئے نامزد کرسکتے ہیں اور اگر کوئی بھارتی بیرون ملک ہے اور تو اُسے پوسٹل بیلٹ کی اجازت ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹر سرمد علی نے سوال اٹھائے کہ اگر دوہری شہریت والے ارکان پارلیمنٹ نہیں بن سکتے تو وہ ووٹ کیسے دے سکتے ہیں؟ دوسری صورت میں انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیئے، اگر ارکان پارلیمنٹ کو دوہری شہریت کا حق نہیں دیا جاسکتا تو بیوروکریسی و ججوں کو دوہری شہریت کا حق کیوں ہے؟

    سال 2024 میں پاکستانی روپے کی قدر میں 1.17 فیصد اضافہ

    سینیٹر پرویزرشید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سمیت پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے قائل کرنے کے لیے کمیٹی کا وفد لے کر چلتے ہیں، جس پر کامران مرتضی نے کہا کہ سعودی عرب سیاسی وفد نہ لےکر جائیں وہاں سیاسی سرگرمیاں منع ہیں، دیکھنا کہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا وفد ہی سعودی عرب میں سیاسی سرگرمیوں پر گرفتار نہ کرلیا جائے۔

    شبلی فراز نے تجویز دی کہ سعودی عرب سمیت تمام ممالک کو سفارتخانوں کو خطوط لکھے جائیں، جو سفارتخانوں کا جواب آئے اس کے مطابق حل نکالا جائےہمیں تسلیم کرناچاہیئے کہ ہم الیکشن میں دھاندلی روکنے کی باتیں تو کرتے ہیں مگر روکنے کے لیے اقدامات نہیں کرتے، ای ووٹنگ یا جو بھی طریقہ ہو حل پر بات کی جائے، بھارت کے انتخابات متنازعہ نہ ہونے سے ملک کہاں سے کہاں پہنچ گیا، ہم اپنے انتخابات ہی غیر متنازعہ نہیں کراسکے تو ترقی کہاں سے کریں گے، بطور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ای ووٹنگ مشین مقامی سطح پر تیار کروائی تھی اور چیلنج کیا کہ اسے ہیک کرکے کوئی دکھائے، الیکشن کمیشن کی نیت ہی نہیں تھی کہ ای ووٹنگ ہو۔

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیا آئین میں ترمیم ای ووٹنگ کے لیے ہونی چاہیئے، جس پر کامران مرتضی نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتحابات کے نتائج سے ڈرا ہوا ہوں۔

  • قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے اخبارات اور میڈیا میں آنے والی 2024کے قومی انتخابات کے حوالے سے فافن کی تجزیاتی رپورٹ کو قطعاً گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس رپورٹ کا ماخذ اور دارو مدار کلیتاً الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج ہیں جو مکمل طور پر فراڈ اور فارم47کی بنیاد پربنائے گئے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق سیف الدین ایڈوکیٹ ن نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات 2023میں جعل سازی کے کامیاب تجربہ کے بعد 2024کے قومی انتخابات کو بھی تختہ مشق بنایا گیا ، ان انتخابات میں جن کٹھ پتلی پارٹیوں کے ذریعے حکومت تشکیل دینا مقصود تھا ان کے لیے پولنگ اسٹیشنوں میں پڑنے والے ووٹو ں اور پریذائڈنگ آفیسرز کی جانب سے جاری کردہ فارم 45کے برعکس جعلی فارم 47بنائے گئے اور انتہائی غیر مقبول اور عوام کے ٹھکرائے ہوئے امیدواروں اور جماعتوں کی جیت کا اعلان کیا گیا ۔اس طرح کا تجزیہ جاری کر کے فافن نے اپنی ساکھ کو متاثر کیا ہے ، اس سلسلے میں ہم فافن کو باقاعدہ خط بھی تحریر کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنی اس رپورٹ کو فوری واپس لے کیونکہ جعل سازی کے ذریعے مرتب کردہ انتخابی نتائج کو کسی معقول تجزیہ اور رپورٹ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ۔ قائم امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پورے ملک میں بدترین دھاندلی کی گئی لیکن سندھ بالخصوص کراچی میں یہ معاملہ انتہاکو پہنچ گیا اور ایم کیو ایم جیسی جماعت جسے کراچی سے حقیقتاًایک سیٹ بھی نہیں ملی ، اس کو قومی و صوبائی اسمبلی میں بھاری تعداد میں نشستیں دے دی گئیں ، صوبائی و قومی اسمبلی کی نشستوں پر کونسلر کے برابر ووٹ لینے والی جماعت کو لاکھوں ووٹ دکھا کر بڑی جماعتوں کی صف میں کھڑا کر نے کی کوشش کی گئی ، اسی طرح جعل سازی کے ذریعے کراچی سے پیپلز پارٹی کو بھی کئی سیٹیں قومی اور صوبائی اسمبلی کی دے دی گئیں جبکہ کراچی کے شہری پیپلز پارٹی کے متعصب رویے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہیں ، سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی ‘دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی اور تیسرے نمبر پر تمام تر جعل سازی کے باوجود پیپلز پارٹی تھی لیکن کراچی کے میئر کے عہدے پر اس کا قبضہ کروایا گیا اور بہت سے ٹائون اور یوسیز بھی پیپلز پارٹی کودے دی گئیں ، قومی انتخابات میں بھی کراچی میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ووٹ اتنے زیادہ تھے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اس کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتیں لیکن بیشتر نشستیں ان دونوں پارٹیوں میں بانٹ دی گئیں ۔
    قومی انتخابات میں جعل سازی کی وجہ سے ووٹوں اور نشستوں سب کا تناسب درہم برہم ہو گیا ہے اور ہاری ہوئی جماعتوں کے امیدواروں کو جیت کا پروانہ تھما کر حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں ، اس طرح کی حکومتوںکی کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ اخلاقی ۔ ان شاء اللہ جلد وہ وقت آئے گا جب ان اسمبلیوں کے اقدامات اور آئینی ترامیم سب غیر قانونی اور کالعدم قرار پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بیان کردہ مختلف پارٹیوں کے ووٹوں اور قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، مسلم لیگ ن ایک مسترد شدہ جماعت ہے جسے دوسری مسترد شدہ جماعتوں کے ساتھ ملا کر غیر قانونی حکومت تشکیل دی گئی ہے ۔

  • اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے  ملتوی

    اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

    اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے 3 حلقوں کے لئے نئے الیکشن ٹریبیونل کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی-

    باغی ٹی وی : نئے اسلام آباد الیکشن ٹربیونل نے 18 دسمبر سے 5 ماہ بعد کام کا آغاز کیا تھا اور فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ٹریبیونل کارروائی روکنے کے حکم امتناع کی وجہ سے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی ہوئی الیکشن ٹربیونل نے تمام فریقین کو 24 دسمبر کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

    نئے الیکشن ٹربیونل میں علی بخاری اور دیگر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کی کاپی پیش کی گئی، جسٹس طارق جہانگیری نے بطور الیکشن ٹریبونل جولائی میں آخری سماعت کی تھی جسٹس ریٹائرڈ شکور پراچہ نے بطور نئے الیکشن ٹریبیونل 18 دسمبر سے کارروائی شروع کی تھی-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے 3 امیدواروں علی بخاری، عامر مغل اور شعیب شاہین نے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

  • اراکین پارلیمنٹ اور  اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 اراکین کو نااہل قرار دے دیا تھا، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 11 اور سندھ اسمبلی کے 7 اراکین کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے اسلام آباد کے تین بڑے ہوٹلوں کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کر کے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

    ایف بی آر کے اسٹنٹ کمشنر محمدعتیق اکبر نے ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تینوں ہوٹلز کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کیا ہے اسلام آباد میں سیل کیے جانے والے ہوٹلوں میں سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ کے ہوٹلز شامل ہیں، سیل کیے جانے والے ہوٹلوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف  مل گیا

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو بطور رکن اسمبلی بحال کر دیا۔ عادل بازئی کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل منظور کر لی گئی، الیکشن کمیشن کا 63-اے کےتحت ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حقائق جانچنے کیلئے کمیشن نے انکوائری کیا کی؟ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بس بڑے صاحب کا خط آگیا تو بندے کو ڈی سیٹ کردو یہ نہیں ہو سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پیمانہ تو سخت ہونا چاہیے تھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایک شخص کہتا ہے بیان حلفی میرا نہیں تو الیکشن کمیشن تعین کیسے کرتا ہے؟الیکشن کمشین نے حقائق کا تعین کیسے کیا؟ کونسا قانون الیکشن کمشین کو اختیار دیتا ہے کہ وہ انکوائری کر سکے؟وکیل ن لیگ حارث عظمت نے کہا کہ عدالت کے سوالات بہت اچھے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال اچھے ہیں لیکن آپ جواب نہیں دے پا رہے،

    الیکشن کمیشن نے تو بلڈوزر لگایا ہوا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کی تمام عدالتوں سے بالاتر ہے؟آپکو کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں، کیا آپ کسی کو نہیں مانتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں اور مجسٹریٹوں کو بھی نہیں مانتے، خود بھی انکوائری نہیں کرتے،کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا ٹرائل کرنے کا اختیار ہے؟ٹرائل کورٹ کی پاور الیکشن کمیشن کے پاس کہاں سے ہے؟ الیکشن کمیشن نے تو بلڈوزر لگایا ہوا ہے،

    عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    ہم خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں،سعودی ولی عہد

    ہوٹل میں غیر اخلاقی سرگرمیاں،خواتین سمیت 9 ملزمان گرفتار

  • سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی،عدالت نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطور ایم این اے بحال کر دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔