Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • اراکین پارلیمنٹ اور  اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 اراکین کو نااہل قرار دے دیا تھا، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 11 اور سندھ اسمبلی کے 7 اراکین کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے اسلام آباد کے تین بڑے ہوٹلوں کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کر کے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

    ایف بی آر کے اسٹنٹ کمشنر محمدعتیق اکبر نے ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تینوں ہوٹلز کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کیا ہے اسلام آباد میں سیل کیے جانے والے ہوٹلوں میں سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ کے ہوٹلز شامل ہیں، سیل کیے جانے والے ہوٹلوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف کیس کی سماعت آج (پیر) کو ہوئی، جس کی سربراہی ممبر سندھ نثار درانی نے کی۔

    تین رکنی بینچ کے سامنے کیس کی سماعت جاری تھی، تاہم عمران خان کی حاضری کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے عمران خان کی پیشی کے حوالے سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 15 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔عمران خان کی پیشی کے حوالے سے عدالت میں ایک نیا موڑ آیا، جب وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش ہونے دیا جائے گا، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ "ہماری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں، لیکن جیل حکام کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ جیمرز کی وجہ سے ویڈیو لنک فعال نہیں ہو سکا، اور جیل حکام بالکل تعاون نہیں کر رہے ہیں۔” وکیل فیصل چوہدری نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن نہیں تو الیکشن کمیشن عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل حکام کی جانب سے عدم تعاون پر توہین کا کیس بنتا ہے۔ تاہم ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ "آپ تو کیس لڑ رہے ہیں، ہم کیس کو کیسے ڈراپ کر سکتے ہیں؟”الیکشن کمیشن نے جیل حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔ اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی تکنیکی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے پیشی میں تاخیر ہو رہی ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملزم کی حاضری کے بغیر شواہد ریکارڈ نہیں کیے جا سکتے۔

    یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب اگست 2022 میں الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کی توہین اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے متعدد بار اپنے بیانات، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں الیکشن کمیشن اور اس کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 اگست 2022 کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف مواقع پر اپنی تقاریر میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی اور سکندر سلطان راجا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19 جولائی، 20 جولائی اور 7 اگست 2022 کو عمران خان کے بیانات مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے، جن میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ 15 جنوری 2024 تک یہ معاملہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اور آیا جیل حکام اپنی جانب سے تعاون کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کیس میں ایک طرف تو عمران خان کے خلاف توہین کا الزام ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو اس کیس میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ممکن بنائی جائے۔

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فیصل آباد،پیزا ڈکیتی کی چوتھی واردات،پولیس بے بس

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

  • سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف  مل گیا

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو بطور رکن اسمبلی بحال کر دیا۔ عادل بازئی کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل منظور کر لی گئی، الیکشن کمیشن کا 63-اے کےتحت ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حقائق جانچنے کیلئے کمیشن نے انکوائری کیا کی؟ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بس بڑے صاحب کا خط آگیا تو بندے کو ڈی سیٹ کردو یہ نہیں ہو سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پیمانہ تو سخت ہونا چاہیے تھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایک شخص کہتا ہے بیان حلفی میرا نہیں تو الیکشن کمیشن تعین کیسے کرتا ہے؟الیکشن کمشین نے حقائق کا تعین کیسے کیا؟ کونسا قانون الیکشن کمشین کو اختیار دیتا ہے کہ وہ انکوائری کر سکے؟وکیل ن لیگ حارث عظمت نے کہا کہ عدالت کے سوالات بہت اچھے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال اچھے ہیں لیکن آپ جواب نہیں دے پا رہے،

    الیکشن کمیشن نے تو بلڈوزر لگایا ہوا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کی تمام عدالتوں سے بالاتر ہے؟آپکو کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں، کیا آپ کسی کو نہیں مانتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں اور مجسٹریٹوں کو بھی نہیں مانتے، خود بھی انکوائری نہیں کرتے،کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا ٹرائل کرنے کا اختیار ہے؟ٹرائل کورٹ کی پاور الیکشن کمیشن کے پاس کہاں سے ہے؟ الیکشن کمیشن نے تو بلڈوزر لگایا ہوا ہے،

    عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    ہم خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں،سعودی ولی عہد

    ہوٹل میں غیر اخلاقی سرگرمیاں،خواتین سمیت 9 ملزمان گرفتار

  • سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی،عدالت نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطور ایم این اے بحال کر دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

  • ضمنی بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی،جماعت اسلامی نےا لیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی

    ضمنی بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی،جماعت اسلامی نےا لیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی

    کراچی: جماعت اسلامی نے 14 نومبر کے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں مبینہ طور پر بدترین دھاندلی و مینڈیٹ پر ڈاکے کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست ضمنی انتخابات کے امیدوار یوسی 7 ٹی ایم سی ماڈل ٹاؤن ضلع کورنگی انصار اللہ اور یوسی 7 وارڈ 1 ٹی ایم سی ضلع کورنگی کامران سولنگی نے جمع کرائی درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، حکومت سندھ اور صوبائی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھاندلی کی گئی جبکہ درخواست کے ساتھ فارم 11 اور12 سمیت تمام تحریری ثبوت بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش کردیئے گئے ہیں۔

    جماعت اسلامی کے امیدواروں نے درخواست میں کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں نے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران سے ان کے دستخط شدہ فارم 11 اور12 حاصل کیے تھے جن کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار بھاری اکثریت کامیاب قرار پائے،انہوں نے مؤقف اپنایا کہ فارم 11 اور 12 میں کامیابی کے باوجود آراو آفس سے جاری شدہ انیکس اے اور فارم 13 میں نتائج تبدیل کر کے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو کامیاب ظاہر کیا گیا۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کو دھاندلی شدہ نشستوں کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روکے جماعت اسلامی ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پری پول دھاندلی اورالیکشن نتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے انتخابات سے پہلے اور ووٹنگ کے دوران بھی الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کرچکی ہے، جماعت اسلامی بد ترین دھاندلی اورعوامی مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • اراکین اسمبلی سے شریک حیات  و  بچوں کے اثاثوں، واجبات کے گوشوارےطلب

    اراکین اسمبلی سے شریک حیات و بچوں کے اثاثوں، واجبات کے گوشوارےطلب

    اسلام آباد: اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی ممبران کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال2023-24 کے جمع کروانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2024ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت تمام اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال2023-24مجوزہ فارم۔بی کی صورت میں مقررہ تاریخ سے پہلے یا 31دسمبر 2024 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا دیں۔ سیکشن 137 کے مندرجات ذیل میں بھی دیے جاتے ہیں۔ سیکشن 137- اثاثہ جات اور واجبات کے گوشواروں کی فراہمی۔ ہر ممبر اسمبلی و سینٹ سابقہ 30 جون تک کے اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے بصورت مجوزہ فارم۔بی ہر سال 31دسمبر سے پہلے یا 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔ سیکشن137 کی ذیلی شق(2)کے تحت کمیشن ایک پریس ریلیز کے ذریعے ہر سال یکم جنوری کو مقررہ تاریخ تک مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے نام شائع کرے گا۔ 16جنوری کو ایک حکم کے تحت کمیشن 15 جنوری تک مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی رکنیت معطل کردے گا اور مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے تک وہ پارلیمنٹ و اسمبلی کی کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اگرکوئی ممبر اپنے پیش کردہ گوشواروں میں کسی قسم کی غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو کمیشن سیکشن 137 کے تحت گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر اس بد عنوانی کے جرم کے ارتکاب کی پاداش میں کاروائی کرے گا۔ اس حوالے سے تیار کردہ ہدایات / راہنمائی کے ساتھ مقررہ فارم۔بی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد، متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفاتر، سینٹ سیکرٹریٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریٹ سے مفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، فارم۔بی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

  • جارجیا میں اپوزیشن اہلکار نے  الیکشن کمیشن کے سربراہ پر  سیاہی پھینک دی

    جارجیا میں اپوزیشن اہلکار نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر سیاہی پھینک دی

    جارجیا میں اپوزیشن جماعت کے اہلکار نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر دھاندلی کا الزام لگا کر سیاہی پھینک دی،واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن کے سربراہ گیورگی کالادرویش پارلیمانی انتخابات کے بعد نتائج کی توثیق کے لیے موجود تھے اپوزیشن جماعت کے اہلکار نے غصے میں الیکشن کمیشن کے سربراہ گیورگی کالادرویش پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔
    polictics
    وائرل ویڈیو میں اپوزیشن اہلکار کو الیکشن کمیشن کے سربراہ پر سیاہی پھینکتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ سیاہی پھینکنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کو اپوزیشن جماعت کے اہلکار کے پیچھے بھاگتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
    politics
    واقعے سے پہلے، اپوزیشن پارٹی لے رکن نے کمیشن ممبر کو بتایا کہ ووٹ کے سرکاری نتائج ووٹروں کے "حقیقی انتخاب” کی عکاسی نہیں کرتے،جس پر الیکشن کمیشن ممبر نے کہا کہ دباؤ، دھونس اور ذاتی توہین” کے استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ ووٹ میں دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    جب میٹنگ دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن ممبر نے کہا کہ یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ انتخابات میں ہیرا پھیری کی گئی ہو۔

  • الیکشن کمیشن کا امیر جماعت اسلامی پر جرمانہ

    الیکشن کمیشن کا امیر جماعت اسلامی پر جرمانہ

    الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان پر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان پر کراچی کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر یہ جرمانہ عائد کیا گیا۔حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کا جواب گزشتہ روز جمع کرایا تھا، جس کے بعد ڈی ایم او نے اس کا جائزہ لیا اور انہیں 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا،حکم نامے کے مطابق ٹاؤن چیئرمین گلبرگ اور یوسی چیئرمین پر بھی 10، 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز حافظ نعیم الرحمان کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الدین نے کہا تھا کہ حافظ نعیم کو الیکشن کمیشن کا نوٹس "بنو قابل” پروگرام میں شرکت پر آیا تھا،ہم نے نوٹس کا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرایا، جس میں بتایا کہ یہ پروگرام غیر سیاسی تھا اور پورے پاکستان میں منعقد ہو رہا تھا، ہم نے وضاحت کی کہ اس پروگرام کا انتخابی عمل اور انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا،ایڈووکیٹ سیف الدین نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نوٹس جاری کیا۔

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • سیاسی جماعتوں کو سالانہ گوشوارے جمع کروانے کی مہلت مل گئی

    سیاسی جماعتوں کو سالانہ گوشوارے جمع کروانے کی مہلت مل گئی

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو سالانہ گوشوارے جمع کروانے کے لیے مہلت دے دی۔

    باغی ٹی وی : ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے 48 سیاسی جماعتوں کو سالانہ گوشوارے جمع نہ کروانے پر طلبی سے متعلق کیس کی سماعت کی ، دوران سماعت استحکام پاکستان پارٹی، پی ٹی آئی نظریاتی، ایم ڈبیلو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر کئی جماعتیں الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہو سکیں جب کہ سنی اتحاد کونسل، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، گرین ڈیموکریٹک پاکستان، پاک ڈیفنس مومنٹ، بی این پی مینگل، عام آدمی تحریک پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن میں پیش ہوئیں۔

    ممبر سندھ نے الیکشن کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے خلاف کیا کارروائی کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن حکام نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کا انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    مختلف سیاسی جماعتوں نے سالانہ گوشوارے جمع کروانے کے لیے مہلت کی استدعا کی جس پر الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو سالانہ گوشوارے جمع کروانے کیلئے مہلت کی استدعا منظور کر لی،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی-

    ایف بی آر کا بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ

  • پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کر دیا

    پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کر دیا

    پی ٹی آئی نے پنجاب الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
    پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے 30 ستمبر کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کردی ہے،سلمان اکرم راجہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان ملاقات الیکشن ٹریبونلز کی تبدیلی کی وجہ نہیں بن سکتی، الیکشن ٹریبونل کا جج کون ہوگا یہ فیصلہ چیف جسٹس کا اختیار ہے، چار اپریل کو لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار نے چھ الیکشن ٹریبونلز کو نوٹیفائی کیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کے بعد الیکشن ٹریبونلز کیلئے حاضر سروس ججز کے نام واپس ہوگئے، سپریم کورٹ کے 30 ستمبر کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

    واضح رہے کہ 30ستمبر کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے متفقہ فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے جج نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کی ملاقات نہ ہونے کو مدنظر نہیں رکھا، اگر ملاقات نہ ہونا مدنظر رکھتے تو ایسا فیصلہ نہ کیا جاتا، تنازع جب آئینی اداروں کے مابین ہو تو محتاط رویہ اپنانا چاہیے، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بطور عدالتی نظیر کسی فورم پر پیش نہیں کیا جا سکتا

    الیکشن ٹربیونلز سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل منظور،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا