Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پرانے سیاست دان آج بھی نفرت کی سیاست کر رہے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری نے ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں، مگر مشکل فیصلے لینے پڑیں گے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقریبا 17 وزارتیں ہیں جو چل رہی ہیں جو کام نہیں کرتی، وفاق میں 17 وزارتیں بند کرنے سے سالانہ تین سو ارب بچا سکتے ہیں،یہ پیسہ پاکستان کے عوام پر خرچ کریں، سولر کے ذریعے بجلی مفت دیں،مزدور کارڈ کے ذریعے پیسے دیں تو مزدور کو تحفظ ملے گا،میں خود یہاں سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جو بھی سیلاب آیا اس میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ سندھ کا ہوتا ہے، صحت، انفراسٹرکچر، زراعت، گھر سب تباہ ہوجاتے ہیں، فلڈ روکنے کے لئے جو بند بنائے تھے، اس سیلاب میں پانی اس لیول تک پہنچا اب اسکو ڈبل کریں گے، قدرتی آفت بتا کر نہیں آتی، انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام نہیں ہوا، کام کرتے ہیں لیکن آفت میں جو نقصان ہوتا اسکے ذمہ دار ہم نہیں، ہمیں ان کاموں کو ترجیح دینی ہو گی، حل یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت بنے تا کہ میگا پروجیکٹ مکمل کر لیں، بلدیاتی نظام میں بھی ہم بہتری لانا چاہتے ہیں، ہم نے لاڑکانہ شہر میں بلدیاتی نظام بہتر کیا،لاڑکانہ میں ہر گھر سے کچرہ اٹھایا جاتا ہے، ہم اس منصوبے کو قمبر شہداد پور سمیت سب علاقوں میں لے کر جائیں گے.

    پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف کام کیا بلکہ عوام کی نمائندگی کی، قائد عوام نے اپنی زمین غریب کسان کو دی، مزدور کو دی،ن لیگ سیاست نہیں کرنا چاہتی اپنے مخالفین کو پچ سے آوٹ رکھنا چاہتی ہے، ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ن لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،اب مقابلہ تیر اور شیر کا ہے، ہمارا ساتھ دیں،پنجاب میں ہمارے صوبائی امیدواروں کو تیر کے نشان سے محروم رکھا، چیف جسٹس چاہتے تو سیاسی فیصلہ دے سکتے تھے مگر انہوں نے روایت نہیں توڑی قاضی فائز عیسیٰ جب سے چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں ،پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت کو انٹراپارٹی الیکشن اور ارکان کو نکالنے کے ثبوت نہیں دیئے ،پی ٹی آئی کا عدالت پر سارا ملبہ ڈالنا ناانصافی ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی قوت نہیں جو الیکشن کو ملتوی کرنا چاہے گی ، 18 جنوری کو دادو اور نوشہرو فیروز میں جلسہ کروں گا، 19 جنوری کو رحیم یارخان میں ہمارا جلسہ ہوگا،سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور وفاق میں بھی حکومت بنائیں گے.

    پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی،بلاول
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی، ہم عوام کے ساتھ ملکر ایک ایسا عوامی بجٹ لائیں گے جس سے عوامی مسائل حل ممکن ہوگا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا میں آپکا شکرگزار ہوں، 2008 سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، شہید محترم بینظیر بھٹو کے لوگوں کا ساتھ دیا،میں نے فیصلہ لیا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ سے میں نے خود الیکشن لڑنا ہے تا کہ میں خود عوام کی ذمہ داری لے سکوں اور انکا خیال کروں،ہم ملکر محنت کریں گے، آپ میرے نمائندے بن کر عوام کی خدمت کرتے رہیں، میرے اور عوام کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے، میرا پیغام عوام تک اور عوام کا پیغام مجھ تک پہنچانا ہے، مسائل بتائیں تا کہ حل نکال سکیں، میں چاہتا ہوں کہ جس طرح قائد عوام کے ساتھ کام کیامیرے ساتھ بھی کام کریں،کل پیپلز پارٹی کا عوامی معاہدہ کا لاڑکانہ میں فنکشن کر رہا ہوں، اس میں تفصیلا منشور ،ایجنڈہ بیان کروں گا،پیپلز پارٹی کا منشور گھر گھر لے کر جانا ہے اور عوام کو بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے.

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری کی گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی،بلاول کے ہمراہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھول چڑھائے،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے مزار پر بھی حاضری دی،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید میر مرتضی بھٹو اور شہید میر شاہنواز بھٹو کے مزارات پر بھی پھول چڑھائے، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہدائے جمہوریت کے مزارات پر ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے دعائیں کیں.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    bilawal

  • جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی

    جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی

    جماعت اسلامی،پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی،جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی بارے فیصلہ کیا کہ انکا نشان نہیں ہونا چاہئے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی وراثت پر چل رہی ہیں، جمہوریت دشمن پارٹیاں‌ہیں، ان سے بھی نشان لیں، اگر نہیں لیں گے تو یہ لیول پلینگ فیلڈ نہیں ہے،آج ہم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، آزاد امیدواروں پر میرا خیال ہے زرداری صاحب زیادہ کامیابی حاصل کر لیں گے،ا س فیصلے کے نتیجے میں کتنا غیر جمہوری عمل ہو گا کسی نے سوچا؟نشان چھین رہے ہیں ، کسی کو آگے لارہے ہیں کسی کو پیچھے ، لیول پلیئنگ فیلڈ کہاں ہے آزاد امیدواروں کی آصف زرداری منڈی لگائیں گے

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا ملک کی معیشت میں 40 فیصد سے زائد شیئر ہے، اس شہر کو بری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے، صنعتوں کو بھی گیس نہیں مل رہی، گیس کے ذخائر کم نہیں ہیں، جو حکومتیں پچھلے عرصے میں رہیں وہ تازہ دم ہوکر آرہی ہیں کہ ہمیں ووٹ دو، ایران گیس پائپ لائن پر کام بند ہو گیا، غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، امریکی غلام ہیں کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر کام نہیں ہو رہا، اب گیس کے بحران پر خاموش نہیں رہا جاسکتا ہے، کراچی کی اکثر آبادیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہے، 18 جنوری کو سوئی گیس کے آفس کے باہر دھرنا دیں گے، جو لوگ پریشان ہیں جماعت اسلامی ان کی آواز ہے،حکومتوں میں رہنے والی پارٹیاں اس مسئلے کو اٹھا سکتی ہیں، یہاں پانی کا شدید بحران ہے، سیوریج کا نظام خراب ہے، گٹر کے ڈھکن تک تو دے نہیں سکے، قبضہ میئر گٹر کے ڈھکن فراہم نہیں کر رہے اور جھوٹ بولتے رہتے ہیں، چند گٹر کے ڈھکن دے کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے گا.

     مریم نواز کے خطاب کا محور عمران خان پر تنقید رہا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،

    نیشنل پارٹی کے چھ رکنی وفد کی قیادت پارٹی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی ،ملاقات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف بھی شریک ہوئے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل، سردار ایاز صادق ، مریم اورنگزیب بھی ملاقات میں موجود تھیں ،نیشنل پارٹی کے وفد میں میر کبیر، سردار کامل، جان محمد، طاہر بزنجو اور ایوب ملک شامل تھے

    نوازشریف نے مرحوم میر حاصل خان بزنجو کی ملک وقوم اور جمہوریت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ،عبدالمالک بلوچ نے مقدمات سے بریت پر نوازشریف کو مبارک پیش کی ،ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور 8 فروری کو عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا ،عبدالمالک بلوچ نے ملک بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے لئے قائد نوازشریف کے وژن اور کاوشوں کو بھی سراہا ،قائدین نے پاکستان کے لئے مل کر چلنے اور سیاسی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

     مریم نواز کے خطاب کا محور عمران خان پر تنقید رہا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب سے پیپلز پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے 7 امیدوارن کو تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    این اے 122 سے عاطف چوہدری کو تیرکی بجائے فاختہ کا نشان دیا گیا ،این اے 59 چکوال سے حسن سردار کو تیر کی بجائے ریڈیو کا نشان الاٹ کیا گیا،این اے 58 چکوال سے زولفقار علی خان کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا ،پی پی 163 سے فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی کا نشان دیا گیا ،پی پی 20 چکوال سے چوہدری نوشاد خان کو تیر کی بجائے انار کا نشان دیا گیا ہے ،پی پی 119 کے امیدوار مجاہد اسلام کو وہیل چئیر اور پی پی 21 چکوال سے راجہ امجد نور کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی نائب صدر و سینیٹر ،سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے پنجاب میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان تیر میں رد و بدل پر تشویش کا اظہار کیا ہے،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے، ہم پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان کی درستگی کا مطالبہ کرتے ہیں، پی پی163 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی، پی پی 119 سے مجاہد اسلام کو تیر کے بجائے ویل چیئر کا انتخابی نشان دیا گیا، پی پی 21 چکوال 2 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد نور اور پی پی 20 چکوال کے امیدوار چوہدری نوشاد کو بھی آزاد امیدوار بنا دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات درج کروا چکی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ان بےضابطگیوں کی جلد از جلد درستگی کی جائے گی

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    آزاد امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے بشری بی بی کو آگے لانے کا فیصلہ

    تیر کا نشان نہ ملنے پر پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا
    چیف الیکشن کمشنر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اور خط لکھا گیا ہے،سنٹرل الیکشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کوپی پی 21 (چکوال II) پر پی پی پی پی کے امیدوارکو تیر کانشان جاری نہ کرنے پر خط لکھا ہے، خط میں کہا ہے کہ پی پی پی کے امیدواروں کو "تیر” کا نشان الاٹ نہ کرنے کی شکایات کے سلسلے کے تسلسل میں ہے ، ہمارے امیدوار مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی ٹکٹ کا الاٹ ہونا اور متعلقہ آر او کے پاس بروقت جمع کروانے کے باوجود پارٹی انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا ہے، ان کو آزاد امیدوار کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم مذکورہ آر او کو ہدایت کریں ،وہ پی پی 21 چکوال II کے لیے مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی کا نشان "تیر” جاری کریں۔

    2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے ہی متنازعہ کیا جارہا ہے،چودھری منظور
    سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی چودھری منظور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے امیدواران کو ٹکٹ جاری کیے کافی جگہوں پر نشان آلاٹ ہوئے ہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت امیدواران پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے دستخط کا ٹکٹ دے گا،آر او پابند ہے تو دستخط والے ٹکٹ کو نشان الاٹ کرے گا،کچھ امیدواروں کو آزاد کردیا گیا ہے کچھ کو آزاد کیا جارہا ہے،ہماری دو جماعتیں ہیں دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہے سب تیر کے نشان سے الیکشن لڑ رہے ہیں،بدقسمتی سے ہمارے 7 امیدواروں کو نشان نہیں دیا گیا انہیں آزاد کردیا گیا اور نشان آلاٹ کردیے گیے ہیں،ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی تو ہمارے سیکرٹری جنرل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا یے ابھی تک اسکا جواب نہیں آیا،الیکشن کمیشن کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے آر اوز کو تنبیہ کرنی چاہیے اور ہمارے امیدواران کو نشان آلاٹ کریں،اس طرح یہ الیکشن شفاف نہیں ہونگے یہ ایک طرح کی دھاندلی کی ابتدا ہے،2013 اور 2018 کے الیکشن ہونے کے بعد متنازعہ ہوئے،2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے متنازعہ کیا جارہا ہے،الیکشن کمیشن ایسے حالات کیوں پیدا کررہے ہیں جس سے الیکشن فری اینڈ فئیر نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو،

  • پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم

    پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم

    پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم ہوگئی

    الیکشن کمیشن نے اقلیتی امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کردی،قومی اسمبلی کی 10 مخصوص نشستوں پر 37 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردے دیا،پی ٹی آئی کے اقلیتی امیدوار فہرست میں شامل نہیں ،پی ٹی آئی کی جانب سے اقلیتی امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو دی تھی ،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا واپس لینے کا حکم دیا تھا.

    دوسری جانب الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کردیئے گئے ،ریٹرننگ افسران انتخابی نشانات سمیت امیدواروں کی حتمی فہرستیں آج آویزاں کریں گے، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں حصہ نہیں لے سکے گی ،ریٹرننگ افسران الیکشن ایکٹ سیکشن 68 کے تحت حتمی فہرستیں مرتب کریں گے،ریٹرننگ افسران فہرست الیکشن کمیشن کو بھی بھجوائیں گے،الیکشن ایکٹ کے تحت کمیشن حتمی فہرستیں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرے گا،پی ٹی آئی امیدوار بلا پر الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لگ سکیں گے،پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے لئے مختص انتخابی نشان الاٹ کیے گئے ،آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن نے 177 نشانات مخصوص کر رکھے ہیں

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

     آر او کو دھمکیاں‌دینے پر امیدوار کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج 

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    الیکشن کمیشن کی سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے معذرت

    افواہیں سن کر مجھے بڑا عجیب لگا، تحریک انصاف نے ٹکٹ کہاں سے لئے

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن کی سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن حکام نےسینٹ سیکرٹیریٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ قرارداد کا اجلاس میں جائزہ لیا،الیکشن کمیشن نے صدر مملکت سے مشاورت کے بعد پولنگ کیلئے آٹھ فروری 2024 کی تاریخ مقرر کی۔امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن نے نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ماضی میں بھی عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات موسم سرما میں ہوتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آٹھ فروری کو انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں بھی یقین دہانی کروا چکا ہے۔اس مرحلے پر الیکشن کمیشن کے لیے عام انتخابات کو ملتوی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

    الیکشن ملتوی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے چیئرمین سینیٹ کو خط
    دوسری جانب سینیٹ میں الیکشن کے التوا کی قرارداد پیش کرنے والے آزاد سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ سینیٹ نے 5 جنوری کو الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد پاس کی تھی، یہ باعث تشویش ہے کہ الیکشن کمیشن نے تاحال 8 فروری کے انتخابات ملتوی کرانے کے کوئی اقدامات نہیں کیے، قرارداد میں نشاندہی کیے گئے تحفطات پر توجہ دینی چاہیے تھی، بطور ایوان کے کسٹوڈین مداخلت کر کے میری قرارداد پر عمل درآمد کی موجودہ صورت حال معلوم کی جائے، یقینی بنایا جائے کہ 8 فروری کے انتخابات ملتوی کیے جائیں

    واضح رہے کہ سینیٹ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جو منظور بھی کر لی گئی تھی، سینیٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    نتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

  • آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    رحیم یارخان تحریک انصاف کے امیدوار کی جانب سے مرضی کا انتخابی نشان مانگنے اور آر او کو دھمکیاں‌دینے پر امیدوار کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے

    پولیس حکام کے مطابق تحریک انصاف کے وکلا اور امیدواروں کے خلاف تین مقدمے درج کئے گئے ہیں، مقدمے دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے ہیں،مقدمے میں این اے 171 سے تحریک انصاف کے امیدوار، اسکے حامی اور وکلاء کو نامزدکیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق ملزمان نے آر او آفس میں گھس کر آر او محمد شفیق کے ساتھ بدتمیزی کی، گالم گلوچ کی، گریبان پکڑا، دھمکیاں‌دیں، زبردستی اپنی مرضی کا نشان مانگا

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے رحیم یار خان میں امیدوار کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر ، ڈپٹی ریٹرننگ آفیسرز کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیا تھا،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 171میں امیدوار نے آر او، ڈی آر او کو ہراساں کیا،امیدوار نے الیکشن عمل میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے موقع پر مداخلت کی،چیف الیکشن کمشنر نے چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی آر او سے معلومات حاصل کیں، صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب امیدوار کے ہمراہ منگل کو الیکشن کمیشن اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا.

    واضح رہے کہ رحیم یار خان میں ڈی سی اور ڈی آر او آفس میں تحریک انصاف کے امیدوار زبردستی گھس گئے تھے اور حلقہ این اے171 سے پی ٹی آئی امیدوار انتخابی دستاویزات میں من پسند رد و بدل کرنا چاہتے تھے اس موقع پر تحریک انصاف کے امیدوار کے حامیوں نے دفتری عملے سے بد تمیزی کی، سرکاری انتخابی دستاویزات چھیننے کی کوشش کی، ممتاز مصطفیٰ کے حامیوں نے ڈی آر و اور عملے کو یرغمال بنایا.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    تحریک انصاف نے لیول پلیئنگ فیلڈ کے تحت الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست سماعت سے قبل ہی واپس لے لی،

    تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پرسماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کرنی تھی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹس پر جواب طلب کررکھا تھا،سماعت سے قبل ہی پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ عدالت پیش ہوئے، لطیف کھوسہ نےکہا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ، جسٹس مسرت ہلالی نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے کسی جماعت سے اتحاد کیا ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں وہی تو بتا رہا ہوں کہ ہمیں اتحاد بھی نہیں کرنے دیا گیا،ہم نے آپکی خاطر تحریک چلائی، اپنا خون دیا، اگر آج بھی آپ پر مشکل وقت آتا ہے تو ہم جان دینے کو تیار ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس دن ہمارے سامنے بیرسٹر گوہر صاحب کا کیس آیا، ہم نے ریاست کو احکامات دئیے، یہ بھی کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر مطمئن نہیں ہوتے تو ہمیں تحریری طور پر آگاہ کریں، جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے کچھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ابھی تک بیرسٹر گوہر صاحب کی طرف سے کچھ بھی تحریری طور پر نہیں آیا،اس حوالے سے اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو ہم وہ بھی کریں گے، ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی ، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟ قانون ہم نہیں بناتے ، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہعوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، تحریک انصاف کو کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا، اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا، لطیف کھوسہ صاحب یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، آپ سینئر وکیل ہیں،آپ پاکستان کے سارے ادارے تباہ کرہے ہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ سے لیول پلئنگ فیلڈ لینے آئے تھے آپ نے اپنے فیصلے سے ہماری 230 نشستیں چھین لیں، آپ کا شکریہ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہمارا فیصلہ ماننا ہے مانیں نہیں ماننا تو آپ کی مرضی ہے، اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے تو تحریک انصاف کی فیلڈ ہی چھین لی، لیول پلیئنگ فیلڈ کا اب کیا سوال رہ گیا، کسی کو ڈونگا، کسی کو گلاس اور کسی کو بینگن کا نشان دیدیا گیا،ہم آپ کی عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے آئے تھے،آپ نے 13 جنوری کی رات 11:30 پر ایسا فیصلہ سنایا جس سے تحریک انصاف کا شیرازہ بکھر گیا، ہم اب کیا توقع کریں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی،

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پرنمٹا دی

    واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے 3 جنوری کو ہونے والی سماعت میں ریمارکس دیے تھے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات یقینی بنائے،تحریک انصاف کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پرالیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست 26 دسمبر کو دائرکی گئی تھی

    قبل ازیں لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور چاروں ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے نئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی،درخواست میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبران کو کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے ملک کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں رکاوٹ ڈالی گئی،پکڑ دھکڑ پر چھ رہنماؤں کے بیان حلفی جمع کرادیئے۔

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • پاک فوج بھی بیلٹ پیپرز کی نقل و حمل کے دوران سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں،الیکشن کمیشن

    پاک فوج بھی بیلٹ پیپرز کی نقل و حمل کے دوران سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں،الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ پریس میں اشاعت کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری متعلقہ ڈی آر اوز یا ان کے نامزد اہلکاروں کی ہوتی ہے-

    باغی ٹی وی :ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ بعض اخبارات میں بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ پریس میں اشاعت کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک ترسیل کے عمل کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے خبریں شائع ہوئی ہیں، بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ پریس میں اشاعت کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے دفاتر تک بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری متعلقہ ڈی آر اوز یا ان کے نامزد اہلکاروں کی ہوتی ہے جو اپنی نگرانی اور مقامی پولیس کے اہل کاروں کی حفاظتی تحویل میں بیلٹ پیپرز کی بحفاظت نقل و حمل کو یقینی بناتے ہیں ، بعض جگہوں پر حالات کی سنگینی کے پیش نظر پاک فوج کے اہلکار بھی بیلٹ پیپرز کی نقل و حمل کے دوران سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    عمران خان توشہ خانہ کیس،مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    سونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

  • الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    اسلام آباد: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ،سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکیل حامد خان نے دلائل شروع کئے،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ لاہور میں کیس زیر سماعت تھا تو پشاور ہائیکورٹ کیوں گئے،حامد خان نے کہا کہ دونوں کیسز الگ ہیں، الیکشن کمیشن ادارہ ہے متاثرہ فریق کیسے ہوسکتا ہے،الیکشن کمیشن کی اپیل ناقابل سماعت ہے-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 185 میں اپیل دائر کرنے کیلئے متاثرہ فریق کا ذکر موجود ہے؟ حامد خان نے کہا کہ اپیل کیلئے متاثرہ فریق کا لفظ موجود نہیں ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تحلیل کردے تو کیا ادارہ اپیل نہیں کر سکے گا؟،کمیشن کے کسی رکن کو ہٹایا جائے تو کیا کمیشن اپیل نہیں کر سکتا؟معاملہ اگر کسی رکن کی تعیناتی غیرقانونی ہونے کا ہو تو الگ بات ہے-

    حامد خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت درخواست گزار نہیں ہوسکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لئے پتہ نہیں اچھی خبر ہے یا بری کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا وقت سات بجے تک بڑھا دیا ہےآپ اپنے دلائل مکمل کریں فیصلہ بھی کرنا ہے،ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں درخواست دائر نہیں کر سکتی،الیکشن کمیشن کیخلاف کیسز ہوسکتے ہیں تو وہ اپنا دفاع کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر ہائی کورٹ خود اپیل کرے تو بات مختلف ہوگی، الیکشن کمشین نے انتخابی نشان جمع کرانے کیلئے سات بجے تک کا وقت دیا ہے،یہ پتا نہیں آپ کیلئے اچھی خبر ہے یا بری-

    حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے استدعا دلائل کے آخر میں کروں گا، چیف جسٹس نے حامد خان کو ہدایت کی کہ آپ اپنے دلائل جلدی مکمل کریں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امتیازی سلوک روا رکھا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے امتیازی سلوک کا معاملہ پٹیشن میں نہیں اٹھایا، 2021 میں آپ حکومت میں تھے الیکشن کمیشن تب سے الیکشن کا کہہ رہا ہے انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں،پھر آپ کس طرح سے کہہ سکتے ہیں امتیازی سلوک ہو رہا ہے،آپ کی پارٹی کے اپنے لوگ انتخابات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جسٹس وجیہہ الدین والا انتخاب کس سال میں ہوا تھا،اس انتخاب میں کتنے ایشوز ہوئے تھے یاد ہے،الیکشن کمیشن کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں-

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بااختیار ہونے میں کوئی دو رائے نہیں،اختیارات مختلف حالات کے مطابق دیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کےساتھ دوہرا معیار اپنایا،الیکشن کمیشن نے کسی دوسری جماعت کے انتخابات کی اس طرح سکروٹنی نہیں کی، چیف جسٹس نے کہا کہ جن کی سکروٹنی نہیں ہوئی انہیں فریق بناتے اور الگ الگ کیس کرتے، ایک سیاسی جماعت کا وجود ہی الیکشن کمیشن نے ختم کر دیا ہے؟ حامد خان نے کہا کہ درخواست گزاروں نےخود دستاویزات لگائی ہیں دو جماعتوں کی جہاں بلامقابلہ انتخاب ہوا-

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں کیخلاف کوئی شکایت آئی یا کمیشن سوموٹو لیتا؟ حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندہ تو ہمارے ملک میں مل ہی جاتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس وجیہ الدین نے بھی انتخابات کرائے تھے بہت شور پڑ گیا تھا، حامد خان نے کہا کہ سال 2011/12 کا پارٹی الیکشن میں نے کرایا تھا وجیہ الدین ٹربیونل تھے،انٹراپارٹی انتخابات اندرونی معاملہ ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،پشاور ہائیکورٹ میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتا-

    چیف جسٹس نے حامد خان کو دلائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی حامد خان نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے چیف جسٹس نے کہا کہ چودہ درخواست گزار بھی یہی حق مانگ رہے ہیں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسے پارٹی کے اندرونی معاملے میں مداخلت کر سکتا ہے،الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کیوں انتخابات سے باہر رکھنا چاہتا ہے، الیکشن کمیشن کروڑوں ووٹرز کو حق سے کیسے محروم کر سکتا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ڈرامائی الفاظ ہیں، اگر یہ چودہ لوگ الیکشن لڑتے تو ووٹرز کے حقوق کیسے متاثر ہوتے؟جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر ہی نہیں ہیں تو الیکشن کیسے لڑتے،آپ نے خود مانا تھا کہ اکبر بابر بانی رکن ہیں، بانی رکن اپنی پارٹی کےخلاف کیسے عدالتوں میں جا چکا ہے،اکبر بابر کو شوکاز جاری کیا گیا تھا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ شوکاز نوٹس دکھا دیں،حامد خان نے کہا کہ اکبر بابر کا پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج نہیں ہے، تین دن پہلے ایک بانی ممبر ایم کیو ایم میں شامل ہوا ہے، کیا بانی ممبر ہمیشہ ہی رکن رہ سکتا ہے؟ ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں کیس انتخابی نشان کا ہے اندرونی طریقہ کار کا نہیں، حامد خان نے کہا کہ پارٹی اگر کسی کو ممبر نہ مانے تو اس کا کام ہے خود کو عدالت میں رکن ثابت کرے،چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب وقت زیادہ لگے گا تو نتائج کیلئے بھی تیار رہیں،حامد خان نے کہا کہ مقبول سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر کرنے سے ووٹرز کے حقوق متاثر ہونگے، آئین قانونی اور سیاسی دستاویز ہے،پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کر لئے-

    پی ٹی آئی کیخلاف ایک اور درخواست گزار نورین فاروق عدالت میں پیش ہوئیں،دوران سماعت نو ین فاروق نے کہا کہ 1999 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنی اور خواتین ونگ کی مقامی صدر تھی نعیم الحق کی سیکرٹری کےطور پر بھی فرائض انجام دیتی رہی ہوں کسی اور جماعت کا حصہ نہیں بنی،الیکشن لڑنا چاہتی تھی لیکن موقع نہیں ملا، چاہتی تھی ہائی لائٹ ہو جاؤں عمران خان مجھے پارٹی کا اثاثہ اور انسائیکلوپیڈیا کہتے تھے-