Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • سزا کے فیصلے تک الیکشن سے نہیں روکا جا سکتا،وکیل عمران خان

    سزا کے فیصلے تک الیکشن سے نہیں روکا جا سکتا،وکیل عمران خان

    لاہور ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ، حلقہ این اے 89 اور این اے 122 سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3رکنی فل بینچ نے سماعت کی،فل بینچ میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس جواد حسن شامل ہیں ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے عذیر بھنڈاری ایڈوکیٹ پیش ہوئے،بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے،وکیل عمران خان نے کہا کہ آریٹکل 17 ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے ۔الیکشن لڑنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔کرپٹ ہونے پر بھی کسی کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔میری سزا کے خلاف پیل زیر سماعت ہے۔ میری سزا کے فیصلے تک مجھے الیکشن سے روکا نہیں جا سکتا ۔موجودہ کیس میں الیکشن لڑنے کا اہل ہونا یا نا اہلی کا اختیار ریٹرننگ افسر کے پاس نہیں، یہ اختیار عدالت کا ہے، سزا یابی کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، 18 ویں ترمیم کے پہلے کرپشن کے زریعے نا اہل ہونے کا معاملہ اخلاقی پستی سے علیحدہ تھا، اخلاقی پستی کا معاملہ کرپٹ پریکٹس سے مختلف ہے،

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف درخواستوں میں سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس سامنے آئے ہیں، عدالت نے کہا کہ عدالت نے ہفتے اتوار کو بھی ان کیسز کی وجہ سے چھٹی نہیں کی ، جسٹس جواد حسن نے کہا کہ عدالت نان سٹاپ الیکشن کے کیسز کی سماعت کررہی ہے ،ہفتے اتوار کو نجی مصروفیات کے باوجود ان کیسز کی سماعت کی ،وکیل عمران خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے ہمارے سامنے ساری صورتحال ہے ،الیکشن کمیشن کے پاس کسی کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہم یہاں ای سی پی کے اختیارات کو نہیں سن رہے بلکے آر او کے فیصلے کے خلاف درخواست سن رہے ہیں،

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے دونوں درخواستوں کی مخالفت کی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں ۔بانی چیئرمین کی سزامعطل ہوئی ہے بری نہیں ہوئے،معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، لارجر بنچ نے درخواستوں پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریٹرننگ افسران نے دونوں حلقوں میں حقائق کے برعکس کاغذات مسترد کیے ،ریٹرننگ افسران نے سزا یافتہ ہونے کا اعتراض عائد کیا ، این اے 122 میں تجویز کنندہ کا اسی حلقہ کا نہ ہونے کا اعتراض عائدکیا گیا ، دونوں اعتراضات قانون کے مطابق نہیں ، عدالت ریٹرننگ افسران اور الیکشن اپیلٹ بنچ کے فیصلے کالعدم قرار دے۔عدالت بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے ،

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان)  نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان) نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی، شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں تو سماعت کا معلوم ہی نہیں، کوئی نوٹس نہیں ملا۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کمیشن نے جیل ٹرائل نہیں کرنا،سماعت کمیشن میں ہونے کا نہیں پتا تھا۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ جیل میں گزشتہ سماعت میں تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔ شعیب شاہین نے کہا کہ یہ زیادتی ہے، ہمیں لیول پلئینگ فیلڈ بھی نہیں مل رہی۔ ہمارے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ آپ ہمیں گالیاں نکالیں تو ہم آگے سے کچھ نہ کریں؟شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم جماعتیں کیا کچھ نہیں بولیں انہیں تو کسی نے نہیں بلایا۔ رحیم یار خان میں ہمارے 150 لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ دییے گئے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ تو آپ کیوں حملے کرتے ہیں انتخابی عملہ پر۔ شعیب شاہین نے کہا کہ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ممبر سندھ نے کہا کہ جس طرح جیل میں ملزم نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا۔

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اس کیس کو ملتوی کر دیں، آپ ہم سے تنقید کا حق بھی چھین رہے ہیں، بلّے کا نشان بھی چھین لیا، اب الیکشن کے دنوں میں ہمارے لیڈر پر توہین الیکشن کمیشن کی سزا ہو جائے گی،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے چھینا نہیں، آپ کو دیا نہیں تھا، اس کیس کو دو سال ہو گئے ہیں، اس وقت آپ کی حکومت تھی،شعیب شاہین نے کہا کہ اللہ کرے فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو، ہمارے اندر لاوا پکا ہوا ہے، ہم اس کا اظہار نہ کریں،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ رحیم یار خان میں آپ کے وکلاء نے حملہ کیا تنقید ہونی چاہیے گالی تو نہیں ہونی چاہیے، یہ کیسز 2021 سے پڑے ہیں، آپ نے کیس کو اتنا طول دے دیا جیل میں جو ہوا اس پر ہم خاموش رہے جیسے ملزم نے جیل میں کیا ایسا ہم نے پہلے نہیں دیکھا، ہم بہت کچھ کر سکتے تھے،الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں الیکشن کمیشن نے توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور فواد چوہدری پر فردِ جرم عائد کر دی تھی،

    چارج شیٹ کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری نے 2022ء میں الیکشن کمیشن کے خلاف منصوبہ بندی سے تضحیک آمیز مہم کا سلسلہ شروع کیا ملزمان نے ایک نہیں متعدد بار الیکشن کمیشن اور سربراہ کے خلاف متعصبانہ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی، ملزمان نے 12جولائی 2022ء کو بھکر میں عوامی جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ملزمان نے 18جولائی اور 27 جولائی کو عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن اور سربراہ پر من گھڑت الزامات عائد کیے،ملزمان نے 4 اگست اور 10 اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کیا، عمران خان اور فواد چوہدری نے جلسوں میں آئینی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بنایا ،مطلوبہ شواہد، ویڈیوز اور دستاویزات کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا جائے ملزمان نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توہین کی سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے تحت الیکشن کمیشن ملزمان کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے.

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پرانے سیاست دان آج بھی نفرت کی سیاست کر رہے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری نے ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں، مگر مشکل فیصلے لینے پڑیں گے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقریبا 17 وزارتیں ہیں جو چل رہی ہیں جو کام نہیں کرتی، وفاق میں 17 وزارتیں بند کرنے سے سالانہ تین سو ارب بچا سکتے ہیں،یہ پیسہ پاکستان کے عوام پر خرچ کریں، سولر کے ذریعے بجلی مفت دیں،مزدور کارڈ کے ذریعے پیسے دیں تو مزدور کو تحفظ ملے گا،میں خود یہاں سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جو بھی سیلاب آیا اس میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ سندھ کا ہوتا ہے، صحت، انفراسٹرکچر، زراعت، گھر سب تباہ ہوجاتے ہیں، فلڈ روکنے کے لئے جو بند بنائے تھے، اس سیلاب میں پانی اس لیول تک پہنچا اب اسکو ڈبل کریں گے، قدرتی آفت بتا کر نہیں آتی، انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام نہیں ہوا، کام کرتے ہیں لیکن آفت میں جو نقصان ہوتا اسکے ذمہ دار ہم نہیں، ہمیں ان کاموں کو ترجیح دینی ہو گی، حل یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت بنے تا کہ میگا پروجیکٹ مکمل کر لیں، بلدیاتی نظام میں بھی ہم بہتری لانا چاہتے ہیں، ہم نے لاڑکانہ شہر میں بلدیاتی نظام بہتر کیا،لاڑکانہ میں ہر گھر سے کچرہ اٹھایا جاتا ہے، ہم اس منصوبے کو قمبر شہداد پور سمیت سب علاقوں میں لے کر جائیں گے.

    پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف کام کیا بلکہ عوام کی نمائندگی کی، قائد عوام نے اپنی زمین غریب کسان کو دی، مزدور کو دی،ن لیگ سیاست نہیں کرنا چاہتی اپنے مخالفین کو پچ سے آوٹ رکھنا چاہتی ہے، ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ن لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،اب مقابلہ تیر اور شیر کا ہے، ہمارا ساتھ دیں،پنجاب میں ہمارے صوبائی امیدواروں کو تیر کے نشان سے محروم رکھا، چیف جسٹس چاہتے تو سیاسی فیصلہ دے سکتے تھے مگر انہوں نے روایت نہیں توڑی قاضی فائز عیسیٰ جب سے چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں ،پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت کو انٹراپارٹی الیکشن اور ارکان کو نکالنے کے ثبوت نہیں دیئے ،پی ٹی آئی کا عدالت پر سارا ملبہ ڈالنا ناانصافی ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی قوت نہیں جو الیکشن کو ملتوی کرنا چاہے گی ، 18 جنوری کو دادو اور نوشہرو فیروز میں جلسہ کروں گا، 19 جنوری کو رحیم یارخان میں ہمارا جلسہ ہوگا،سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور وفاق میں بھی حکومت بنائیں گے.

    پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی،بلاول
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی، ہم عوام کے ساتھ ملکر ایک ایسا عوامی بجٹ لائیں گے جس سے عوامی مسائل حل ممکن ہوگا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا میں آپکا شکرگزار ہوں، 2008 سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، شہید محترم بینظیر بھٹو کے لوگوں کا ساتھ دیا،میں نے فیصلہ لیا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ سے میں نے خود الیکشن لڑنا ہے تا کہ میں خود عوام کی ذمہ داری لے سکوں اور انکا خیال کروں،ہم ملکر محنت کریں گے، آپ میرے نمائندے بن کر عوام کی خدمت کرتے رہیں، میرے اور عوام کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے، میرا پیغام عوام تک اور عوام کا پیغام مجھ تک پہنچانا ہے، مسائل بتائیں تا کہ حل نکال سکیں، میں چاہتا ہوں کہ جس طرح قائد عوام کے ساتھ کام کیامیرے ساتھ بھی کام کریں،کل پیپلز پارٹی کا عوامی معاہدہ کا لاڑکانہ میں فنکشن کر رہا ہوں، اس میں تفصیلا منشور ،ایجنڈہ بیان کروں گا،پیپلز پارٹی کا منشور گھر گھر لے کر جانا ہے اور عوام کو بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے.

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری کی گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی،بلاول کے ہمراہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھول چڑھائے،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے مزار پر بھی حاضری دی،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید میر مرتضی بھٹو اور شہید میر شاہنواز بھٹو کے مزارات پر بھی پھول چڑھائے، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہدائے جمہوریت کے مزارات پر ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے دعائیں کیں.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    bilawal

  • جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی

    جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی

    جماعت اسلامی،پی ٹی آئی کے دفاع میں سامنے آگئی،جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی بارے فیصلہ کیا کہ انکا نشان نہیں ہونا چاہئے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی وراثت پر چل رہی ہیں، جمہوریت دشمن پارٹیاں‌ہیں، ان سے بھی نشان لیں، اگر نہیں لیں گے تو یہ لیول پلینگ فیلڈ نہیں ہے،آج ہم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، آزاد امیدواروں پر میرا خیال ہے زرداری صاحب زیادہ کامیابی حاصل کر لیں گے،ا س فیصلے کے نتیجے میں کتنا غیر جمہوری عمل ہو گا کسی نے سوچا؟نشان چھین رہے ہیں ، کسی کو آگے لارہے ہیں کسی کو پیچھے ، لیول پلیئنگ فیلڈ کہاں ہے آزاد امیدواروں کی آصف زرداری منڈی لگائیں گے

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا ملک کی معیشت میں 40 فیصد سے زائد شیئر ہے، اس شہر کو بری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے، صنعتوں کو بھی گیس نہیں مل رہی، گیس کے ذخائر کم نہیں ہیں، جو حکومتیں پچھلے عرصے میں رہیں وہ تازہ دم ہوکر آرہی ہیں کہ ہمیں ووٹ دو، ایران گیس پائپ لائن پر کام بند ہو گیا، غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، امریکی غلام ہیں کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر کام نہیں ہو رہا، اب گیس کے بحران پر خاموش نہیں رہا جاسکتا ہے، کراچی کی اکثر آبادیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہے، 18 جنوری کو سوئی گیس کے آفس کے باہر دھرنا دیں گے، جو لوگ پریشان ہیں جماعت اسلامی ان کی آواز ہے،حکومتوں میں رہنے والی پارٹیاں اس مسئلے کو اٹھا سکتی ہیں، یہاں پانی کا شدید بحران ہے، سیوریج کا نظام خراب ہے، گٹر کے ڈھکن تک تو دے نہیں سکے، قبضہ میئر گٹر کے ڈھکن فراہم نہیں کر رہے اور جھوٹ بولتے رہتے ہیں، چند گٹر کے ڈھکن دے کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو جائے گا.

     مریم نواز کے خطاب کا محور عمران خان پر تنقید رہا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،

    نیشنل پارٹی کے چھ رکنی وفد کی قیادت پارٹی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی ،ملاقات میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف بھی شریک ہوئے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل، سردار ایاز صادق ، مریم اورنگزیب بھی ملاقات میں موجود تھیں ،نیشنل پارٹی کے وفد میں میر کبیر، سردار کامل، جان محمد، طاہر بزنجو اور ایوب ملک شامل تھے

    نوازشریف نے مرحوم میر حاصل خان بزنجو کی ملک وقوم اور جمہوریت کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ،عبدالمالک بلوچ نے مقدمات سے بریت پر نوازشریف کو مبارک پیش کی ،ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور 8 فروری کو عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا ،عبدالمالک بلوچ نے ملک بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے لئے قائد نوازشریف کے وژن اور کاوشوں کو بھی سراہا ،قائدین نے پاکستان کے لئے مل کر چلنے اور سیاسی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا

     مریم نواز کے خطاب کا محور عمران خان پر تنقید رہا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    پنجاب سے پیپلز پارٹی کے سات امیدوار تیر کے انتخابی نشان سے محروم

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب سے پیپلز پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلی کے 7 امیدوارن کو تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    این اے 122 سے عاطف چوہدری کو تیرکی بجائے فاختہ کا نشان دیا گیا ،این اے 59 چکوال سے حسن سردار کو تیر کی بجائے ریڈیو کا نشان الاٹ کیا گیا،این اے 58 چکوال سے زولفقار علی خان کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا ،پی پی 163 سے فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی کا نشان دیا گیا ،پی پی 20 چکوال سے چوہدری نوشاد خان کو تیر کی بجائے انار کا نشان دیا گیا ہے ،پی پی 119 کے امیدوار مجاہد اسلام کو وہیل چئیر اور پی پی 21 چکوال سے راجہ امجد نور کو بھی تیر کا نشان نہیں دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی نائب صدر و سینیٹر ،سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے پنجاب میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان تیر میں رد و بدل پر تشویش کا اظہار کیا ہے،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی آزاد امیدواروں کی فہرست میں شمولیت پر تشویش ہے، ہم پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان کی درستگی کا مطالبہ کرتے ہیں، پی پی163 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار فیاض بھٹی کو تیر کے بجائے کیتلی، پی پی 119 سے مجاہد اسلام کو تیر کے بجائے ویل چیئر کا انتخابی نشان دیا گیا، پی پی 21 چکوال 2 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد نور اور پی پی 20 چکوال کے امیدوار چوہدری نوشاد کو بھی آزاد امیدوار بنا دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات درج کروا چکی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ان بےضابطگیوں کی جلد از جلد درستگی کی جائے گی

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    آزاد امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے بشری بی بی کو آگے لانے کا فیصلہ

    تیر کا نشان نہ ملنے پر پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا
    چیف الیکشن کمشنر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اور خط لکھا گیا ہے،سنٹرل الیکشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کوپی پی 21 (چکوال II) پر پی پی پی پی کے امیدوارکو تیر کانشان جاری نہ کرنے پر خط لکھا ہے، خط میں کہا ہے کہ پی پی پی کے امیدواروں کو "تیر” کا نشان الاٹ نہ کرنے کی شکایات کے سلسلے کے تسلسل میں ہے ، ہمارے امیدوار مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی ٹکٹ کا الاٹ ہونا اور متعلقہ آر او کے پاس بروقت جمع کروانے کے باوجود پارٹی انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا ہے، ان کو آزاد امیدوار کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم مذکورہ آر او کو ہدایت کریں ،وہ پی پی 21 چکوال II کے لیے مسٹر راجہ امجد نور کو پی پی پی پی کا نشان "تیر” جاری کریں۔

    2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے ہی متنازعہ کیا جارہا ہے،چودھری منظور
    سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی چودھری منظور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے امیدواران کو ٹکٹ جاری کیے کافی جگہوں پر نشان آلاٹ ہوئے ہیں،الیکشن ایکٹ کے تحت امیدواران پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے دستخط کا ٹکٹ دے گا،آر او پابند ہے تو دستخط والے ٹکٹ کو نشان الاٹ کرے گا،کچھ امیدواروں کو آزاد کردیا گیا ہے کچھ کو آزاد کیا جارہا ہے،ہماری دو جماعتیں ہیں دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہے سب تیر کے نشان سے الیکشن لڑ رہے ہیں،بدقسمتی سے ہمارے 7 امیدواروں کو نشان نہیں دیا گیا انہیں آزاد کردیا گیا اور نشان آلاٹ کردیے گیے ہیں،ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی تو ہمارے سیکرٹری جنرل نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا یے ابھی تک اسکا جواب نہیں آیا،الیکشن کمیشن کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے آر اوز کو تنبیہ کرنی چاہیے اور ہمارے امیدواران کو نشان آلاٹ کریں،اس طرح یہ الیکشن شفاف نہیں ہونگے یہ ایک طرح کی دھاندلی کی ابتدا ہے،2013 اور 2018 کے الیکشن ہونے کے بعد متنازعہ ہوئے،2024 الیکشن کو ہونے سے پہلے متنازعہ کیا جارہا ہے،الیکشن کمیشن ایسے حالات کیوں پیدا کررہے ہیں جس سے الیکشن فری اینڈ فئیر نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو،

  • پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم

    پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم

    پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا،قومی اسمبلی کی اقلیتی نشتوں کے کوٹے سے بھی محروم ہوگئی

    الیکشن کمیشن نے اقلیتی امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کردی،قومی اسمبلی کی 10 مخصوص نشستوں پر 37 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردے دیا،پی ٹی آئی کے اقلیتی امیدوار فہرست میں شامل نہیں ،پی ٹی آئی کی جانب سے اقلیتی امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو دی تھی ،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا واپس لینے کا حکم دیا تھا.

    دوسری جانب الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کردیئے گئے ،ریٹرننگ افسران انتخابی نشانات سمیت امیدواروں کی حتمی فہرستیں آج آویزاں کریں گے، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں حصہ نہیں لے سکے گی ،ریٹرننگ افسران الیکشن ایکٹ سیکشن 68 کے تحت حتمی فہرستیں مرتب کریں گے،ریٹرننگ افسران فہرست الیکشن کمیشن کو بھی بھجوائیں گے،الیکشن ایکٹ کے تحت کمیشن حتمی فہرستیں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرے گا،پی ٹی آئی امیدوار بلا پر الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لگ سکیں گے،پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے لئے مختص انتخابی نشان الاٹ کیے گئے ،آزاد امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن نے 177 نشانات مخصوص کر رکھے ہیں

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

     آر او کو دھمکیاں‌دینے پر امیدوار کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج 

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    الیکشن کمیشن کی سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے معذرت

    افواہیں سن کر مجھے بڑا عجیب لگا، تحریک انصاف نے ٹکٹ کہاں سے لئے

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن کی سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن حکام نےسینٹ سیکرٹیریٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ قرارداد کا اجلاس میں جائزہ لیا،الیکشن کمیشن نے صدر مملکت سے مشاورت کے بعد پولنگ کیلئے آٹھ فروری 2024 کی تاریخ مقرر کی۔امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن نے نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ماضی میں بھی عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات موسم سرما میں ہوتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آٹھ فروری کو انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں بھی یقین دہانی کروا چکا ہے۔اس مرحلے پر الیکشن کمیشن کے لیے عام انتخابات کو ملتوی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

    الیکشن ملتوی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے چیئرمین سینیٹ کو خط
    دوسری جانب سینیٹ میں الیکشن کے التوا کی قرارداد پیش کرنے والے آزاد سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ سینیٹ نے 5 جنوری کو الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد پاس کی تھی، یہ باعث تشویش ہے کہ الیکشن کمیشن نے تاحال 8 فروری کے انتخابات ملتوی کرانے کے کوئی اقدامات نہیں کیے، قرارداد میں نشاندہی کیے گئے تحفطات پر توجہ دینی چاہیے تھی، بطور ایوان کے کسٹوڈین مداخلت کر کے میری قرارداد پر عمل درآمد کی موجودہ صورت حال معلوم کی جائے، یقینی بنایا جائے کہ 8 فروری کے انتخابات ملتوی کیے جائیں

    واضح رہے کہ سینیٹ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جو منظور بھی کر لی گئی تھی، سینیٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    نتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

  • آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    آر او کو ہراساں کرنے پر تحریک انصاف امیدوار،حامیوں‌پر مقدمہ درج

    رحیم یارخان تحریک انصاف کے امیدوار کی جانب سے مرضی کا انتخابی نشان مانگنے اور آر او کو دھمکیاں‌دینے پر امیدوار کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے

    پولیس حکام کے مطابق تحریک انصاف کے وکلا اور امیدواروں کے خلاف تین مقدمے درج کئے گئے ہیں، مقدمے دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے ہیں،مقدمے میں این اے 171 سے تحریک انصاف کے امیدوار، اسکے حامی اور وکلاء کو نامزدکیا گیا ہے، درج مقدمے کے مطابق ملزمان نے آر او آفس میں گھس کر آر او محمد شفیق کے ساتھ بدتمیزی کی، گالم گلوچ کی، گریبان پکڑا، دھمکیاں‌دیں، زبردستی اپنی مرضی کا نشان مانگا

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے رحیم یار خان میں امیدوار کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر ، ڈپٹی ریٹرننگ آفیسرز کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیا تھا،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 171میں امیدوار نے آر او، ڈی آر او کو ہراساں کیا،امیدوار نے الیکشن عمل میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے موقع پر مداخلت کی،چیف الیکشن کمشنر نے چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی آر او سے معلومات حاصل کیں، صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب امیدوار کے ہمراہ منگل کو الیکشن کمیشن اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا.

    واضح رہے کہ رحیم یار خان میں ڈی سی اور ڈی آر او آفس میں تحریک انصاف کے امیدوار زبردستی گھس گئے تھے اور حلقہ این اے171 سے پی ٹی آئی امیدوار انتخابی دستاویزات میں من پسند رد و بدل کرنا چاہتے تھے اس موقع پر تحریک انصاف کے امیدوار کے حامیوں نے دفتری عملے سے بد تمیزی کی، سرکاری انتخابی دستاویزات چھیننے کی کوشش کی، ممتاز مصطفیٰ کے حامیوں نے ڈی آر و اور عملے کو یرغمال بنایا.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    لیول پلینگ فیلڈ،پی ٹی آئی نے درخواست واپس لے لی

    تحریک انصاف نے لیول پلیئنگ فیلڈ کے تحت الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست سماعت سے قبل ہی واپس لے لی،

    تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پرسماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کرنی تھی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب کی رپورٹس پر جواب طلب کررکھا تھا،سماعت سے قبل ہی پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ عدالت پیش ہوئے، لطیف کھوسہ نےکہا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ، جسٹس مسرت ہلالی نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ آپ بتا رہے تھے کہ آپ نے کسی جماعت سے اتحاد کیا ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں وہی تو بتا رہا ہوں کہ ہمیں اتحاد بھی نہیں کرنے دیا گیا،ہم نے آپکی خاطر تحریک چلائی، اپنا خون دیا، اگر آج بھی آپ پر مشکل وقت آتا ہے تو ہم جان دینے کو تیار ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس دن ہمارے سامنے بیرسٹر گوہر صاحب کا کیس آیا، ہم نے ریاست کو احکامات دئیے، یہ بھی کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر مطمئن نہیں ہوتے تو ہمیں تحریری طور پر آگاہ کریں، جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے کچھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ابھی تک بیرسٹر گوہر صاحب کی طرف سے کچھ بھی تحریری طور پر نہیں آیا،اس حوالے سے اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو ہم وہ بھی کریں گے، ہمارے سامنے الیکشن کا معاملہ اٹھا، ہم نے تاریخ دلوائی ، کیا آپ تاریخ دلوا سکے تھے؟ قانون ہم نہیں بناتے ، قانون پر عمل کرواتے ہیں، آپ کو قانون نہیں پسند تو بدل دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہعوامی نیشنل پارٹی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس دیا، تحریک انصاف کو کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کل پتہ چلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے آئین کے مطابق ابھی وقت موجود تھا، اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کو نشان واپس لوٹایا، لطیف کھوسہ صاحب یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، آپ سینئر وکیل ہیں،آپ پاکستان کے سارے ادارے تباہ کرہے ہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ سے لیول پلئنگ فیلڈ لینے آئے تھے آپ نے اپنے فیصلے سے ہماری 230 نشستیں چھین لیں، آپ کا شکریہ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہمارا فیصلہ ماننا ہے مانیں نہیں ماننا تو آپ کی مرضی ہے، اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے تو تحریک انصاف کی فیلڈ ہی چھین لی، لیول پلیئنگ فیلڈ کا اب کیا سوال رہ گیا، کسی کو ڈونگا، کسی کو گلاس اور کسی کو بینگن کا نشان دیدیا گیا،ہم آپ کی عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے آئے تھے،آپ نے 13 جنوری کی رات 11:30 پر ایسا فیصلہ سنایا جس سے تحریک انصاف کا شیرازہ بکھر گیا، ہم اب کیا توقع کریں کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی،

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پرنمٹا دی

    واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے 3 جنوری کو ہونے والی سماعت میں ریمارکس دیے تھے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات یقینی بنائے،تحریک انصاف کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پرالیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست 26 دسمبر کو دائرکی گئی تھی

    قبل ازیں لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور چاروں ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے نئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی،درخواست میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبران کو کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے ملک کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں رکاوٹ ڈالی گئی،پکڑ دھکڑ پر چھ رہنماؤں کے بیان حلفی جمع کرادیئے۔

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،