Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    بلے کا نشان،پی ٹی آئی سے سوال کریں میں انکا ترجمان نہیں، مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے متعلق معاملات کا پی ٹی آئی ہی بہتر بتا سکتی ہے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے،نگران حکومت آئینی اور قانونی حکومت ہے،نگران حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی ہے،الیکشن کمیشن کی مالی، انتظامی اور سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے آئینی طور پر پابند ہیں،سیکورٹی کے مسائل حقیقی ہیں، ہمیں ان کا ادراک ہے، انہیں بہتر کریں گے،ملک میں سوال اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں، انشاءاللہ انتخابات 8 فروری 2024ءبروز جمعرات کو ہوں گے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ میری ملاقات بہت اچھی رہی ہے ، ہر دن اچھا دن ہے اور ہر موقع اچھا موقع ہے، صحافی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی انتخابات میں اپنے نشان کے ساتھ شرکت کرے گی, جس کے جواب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ یہ سوال پی ٹی آئی سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گےکیا نہیں، میں پی ٹی آئی کا ترجمان نہیں،

    واضح رہے کہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کی الیکشن کمیشن آمد ہوئی تھی، جہاں انکی الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات ہوئی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن جلد ہی پیٹشن تیار کرے گا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ایکٹویسٹ صنم جاوید خان کی اپیلٹ ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صنم جاوید کی درخواست پر سماعت کی،صنم جاوید کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر جس اکاؤنٹ کی بات کر رہے ہیں یہ پرانا اکاؤنٹ ہے، الیکشن کمیشن نے کوئی دو دن پہلے یہ رول نکالا ہے جس کے باعث صنم جاوید کے کاغذات مسترد کیے گئے ہیں.

    عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل یہ بتائیں کیا یہ الیکشن کی تاریح اناؤنس ہونے سے پہلے الیکشن ترمیم کی ہے یا بعد میں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ یہ رول میں الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کی تاریح دینے سے پہلے ترمیم کی گئی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    صنم جاوید کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ایپلٹ ٹریبونل اور ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔ اپیلٹ ٹریبونل نے جوائنٹ اکاؤنٹ کو بنیاد بنا کر کاغذات مسترد کیے۔ صنم جاوید کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی منظور کرے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی سماعت کل صبح ہو گی

    قبل ازیں الیکشن کمیشن کی بلے کے نشان کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا تھا سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اپیل واپس کر دی تھی،،رجسٹرار آفس نے اپیل کیساتھ منسلک دستاویزات پڑھے جانے کے قابل ہونے کا اعتراض عائد کیا،

    تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے کی بحالی کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی، تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے،توہینِ عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری اور اراکینِ الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں ،بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا تھاالیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا ،اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹر نے شرکت کی

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا، فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے،

    تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • نادرا کی جانب سے تیارکردہ انتخابی فہرستوں میں سنگین خامیاں

    نادرا کی جانب سے تیارکردہ انتخابی فہرستوں میں سنگین خامیاں

    اسلام آباد: نادرا کی جانب سے تیارکردہ انتخابی فہرستوں میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق شمالی وزیرستان ،اورکزئی ، ٹنڈو اللہ یار اور کوئٹہ میں الیکٹورل رول میں خواتین ووٹرز کو مردوں جبکہ مرد ووٹرز کو خواتین ووٹرز کے الیکٹورل رول میں شامل کر دیا گیا ہے، جب کہ کوئٹہ اور اورکزئی میں مرد ووٹرز کو خواتین کی انتخابی فہرستوں میں اندراج کردیا گیا ہے۔

    انتخابی فہرستوں میں غلط اندراج سے ووٹرز کو انتخابی عمل میں مسائل پیش آنے کے خدشات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی جانب سے نادرا کو انتخابی فہرستوں کو درست کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں، انتخابی فہرستوں میں تصحیح نہ ہونے کی صورت میں مرد ووٹرز کو خواتین ووٹرز کے ساتھ ووٹ کاسٹ کرنا پڑے گا۔

    یوکرینی صدر کا مغربی ممالک سے شکوہ

    دوسری جانب ملک میں عام انتخابات 2024 کا ایک اور مرحلہ مکمل ہوگیا،ریٹرننگ آفیسرز کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر فیصلے کا عمل مکمل ہوگیا۔ انتخابی شیڈول کے مطابق 11 جنوری کو امیدواروں کی نظرثانی فہرست جاری ہوگی، 12 جنوری تک امیدوار کاغذات نامزد گی واپس لے سکیں گے۔ 13 جنوری کو نشانات الاٹ ہونگے اور حتمی فہرست جاری کی جائیگی، ملک میں عام انتخابات کیلئے پولنگ 8 فروری کو ہوگی، الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 28 ہزار 626 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے۔

    لیگی رہنما پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد

    علاوہ ازیں پیپلزپارٹی نے خیبرپختونخوا سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے، امیدواروں کی فہرست چیئرمین کے سیکرٹریٹ سے ان کے پولیٹیکل سیکرٹری جمیل سومرو نے جاری کی ،علاوہ ازیں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 7 اور صوبائی اسمبلی کی 13 نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کر دیا، قومی اسمبلی کی نشست این اے 192 کشمور پر میر شبیر علی بجارانی جبکہ این اے 200 سکھر سے نعمان السلام الدین شیخ پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

    لائبیریا کی سابق چیف جسٹس اور وزیر انصاف کو قتل کے الزام میں عمر …

    کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 232 زرتاش ملک اور این اے 233 پر ندا عاصم پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات لیں گے جبکہ این اے 234 کی نشست پر محمد علی راشد پیپلز پارٹی کے نمائندے ہوں گے اسی طرح کراچی کی ہی قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 پر سلیم مانڈوی والا اور این اے 250 خواجہ سہیل منصور پیپلزپارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

  • پی پی 145 سے امیدوار میاں جنید نے علیم خان کی حمایت کر دی

    پی پی 145 سے امیدوار میاں جنید نے علیم خان کی حمایت کر دی

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117کے صوبائی حلقے پی پی 145سے امیدوار پنجاب اسمبلی میاں جنید ذوا لفقار نے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کی اور آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے عبدالعلیم خان کی انتخابی مہم میں اپنافعال کرداراداکرنے کا اعلان کیا۔

    اس اہم بریک تھرو پر میاں جنید ذوالفقار کا کہنا تھا کہ کسی بھی حلقہ میں عبدالعلیم خان جیسی انسان دوست شخصیت کا انتخانات میں حصہ لینا وہاں کے شہریوں کی خوش نصیبی ہوگی کیونکہ وہ سیاست سے زیادہ غریب اور پسے ہوئے طبقات کی خدمت کو فوقیت دیتے ہیں۔ میاں جنید ذوالفقار نے سابق صوبائی وزیر میاں خالد محمود کی موجودگی میں اپنے تمام ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کا کہنا تھاکہ ہمارا منشور بلا امتیاز عوامی خدمت اور شہریوں کے دیرینہ مسائل حل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف پوش آبادیاں نہیں پسماندہ علاقے بھی جدیدشہری سہولیات کے برابر کے حقدار ہیں،ہر شہری کا ریاست اور حکومت پر جس طرح حق ہے اُسے اُس کے مطابق معیار زندگی بہتر کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ کہ ان شاء اللہ استحکام پاکستان پارٹی اقتدار میں آ کر ہر شہری کو تعلیم،صحت اور روزگار کی سہولتیں دے گی،ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت اورقابلیت کی کوئی کمی نہیں صرف انہیں مناسب مواقع میسر آئیں تو یہ مٹی بہت زرخیز ثابت ہو سکتی ہے۔

    عبدالعلیم خان نے میاں جنید ذو الفقار اور اُن کے ساتھیوں کو پارٹی میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔شاہدرہ کی معروف سیاسی شخصیات میاں ابصار اجمل، محمد ذیشان،میاں ثاقب اجمل،محمد طاہر، ملک عمیر اور میاں عاقب اجمل بھی اس موقع پر موجود تھے جنہوں نے عبدالعلیم خان کی انتخابی ٹیم میں دن رات کام کرنے اور اُن کی کامیابی کیلئے کاوشوں کا یقین دلایا۔

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    ایمانداری کے ساتھ خدمت کی،فحش ویڈیو وائرل ہونے کے بعد زبیر عمر کا ردعمل آ گیا

    ویڈیو لیک کلب میں اب تک کون کون ہوا شامل؟ کن اہم شخصیات کی "ویڈیوز ہوئیں "لیک”

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • کندھ کوٹ،الیکشن کمیشن آفس سے چار ملازمین کی لاشیں برآمد

    کندھ کوٹ،الیکشن کمیشن آفس سے چار ملازمین کی لاشیں برآمد

    سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں الیکشن کمیشن آفس سے 4 ملازمین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں

    اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،ابتدائی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آفس کے کمرے میں گیس لیکج کی وجہ سے چار ملازمین کی موت ہوئی ہے،پولیس نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا کہنا ہے کہ ملازمین کمرے میں سو رہے تھے، گیس لیکج کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے،گیس لیکیج سے جاں بحق ہونے والے 3ملازمین کا تعلق لاڑکانہ سے اور ایک کا تعلق کندھ کوٹ سے ہے،گیس لیکج سے جاں بحق ملازمین میں الیکشن افسر مشتاق مگسی، ڈیٹا انٹری آپریٹر فرید احمد، ڈیٹا انٹری آپریٹر ماجد علی اور عبدالرؤف شامل ہیں.

    چار ملازمین کی وفات پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا اظہار افسوس
    دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ممبران الیکشن کمیشن نے کشمور میں گیس لیکیج کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 4 ملازمین کی المناک وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق کشمور میں گیس لیکیج کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 4 ملازمین وفات پاگئے ، وفات پانے والوں میں الیکشن آفیسر، 2 ڈیٹا انٹری آپریٹر اور ایک سب اسسٹنٹ شامل ہیں۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اپنے پیغام میں مرحومین کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد فخر عالم نے ملازمین کی ہلاکتوں کا نوٹس لے لیا،چیف سیکریٹری سندھ نے کمشنر لاڑکانہ و ڈی آئی جی لاڑکانہ سے رپورٹ طلب کرلی،چیف سیکریٹری محمد فخر عالم سندھ نے ملازمین کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے یا مسترد ہونے پر الیکشن ٹریبونل میں فیصلوں کا آخری روزہے۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کل جاری کریں گے ،12جنوری کو امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،12جنوری کو ہی امیدواروان کی حتمی فہرست جاری کردی جاۓ گی،13جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے

    این اے 130 ، نواز شریف کے خلاف اپیل خارج،کاغذات نامزدگی درست قرار
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کردی گئی،الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنادیا اور نواز شریف کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے،نواز شریف کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا،نواز شریف کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ اقامہ میں نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف الیکشن لڑنے کے اہل نہ تھے،آر او نے غیر قانونی انکے کاغذات نامزدگی منظور کیے،

    کاغذات نامزدگی،مریم کیخلاف اپیل خارج، جمشید چیمہ،مسرت جمشید کے کاغذات منظور،رانا ثناء اللہ کے مد مقابل پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات مسترد
    فیصل اباد سے سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹر نثار جٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،اوکاڑہ: پی پی190 سے مہر عبدالستار کی بیگم شاہرہ بی بی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 190 سے رہنما پاکستان تحریک انصاف مہر عبدالستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    مریم نواز کے حلقہ این اے 119سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیدیئے ،پی ٹی آئی امیدوار ندیم شیروانی نے مریم نواز کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل دائر کی تھی

    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ ،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈووکیٹ آصف شہزاد ساہی امیدوار کی طرف سے پیش ہوئے،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے این اے 121 اور پی پی 153 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،
    دونوں میاں بیوی پر اشتہاری ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا

    پرویز الٰہی کے 4صوبائی اور دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،پرویز الٰہی کے این اے 64گجرات، پی پی32,34, این اے69منڈی بہاوالدین ، پی پی42منڈی ، این اے59تلہ گنگ، پی پی23 تلہ گنگ سے کاغذات مسترد ہوئے تھے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنایا،مونس الہٰٗی کے دوقومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج ہو گئی،مونس الہی کے این اے64گجرات،پی پی32,34 این اے69منڈی بہاوالدین کاغذات مسترد ہوئے تھے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
    حماد اظہر نے ٹرببونل کے فیصلے کے خلاف درخواست داٸر کر دی ، درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر اور ٹریبونل نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود کاغذات مسترد کیے گئے،عدالت کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے ، حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،

    ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات پی پی 56 سے منظور
    لاہور ہائیکورٹ: ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن ایپلیٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،ایپلیٹ بنچ نے حلقہ پی پی 56 نارووال سے مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے.

    کاغذات نامزدگی مسترد،شاہ محمود قریشی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہائیکورٹ میں چیلنج کردی، شاہ محمود قریشی کے پی پی 218، این اے 151 اور 150 سے کاغذات مسترد کیے گئے تھے،شاہ محمود قریشی نے تین حلقوں سے کاغذات مسترد کیے جانے کے اقدام پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ شاہ محمود کی درخواست پر سماعت کرے گا

    صدر عارف علوی کے بیٹے سمیت تحریک انصاف کے 4 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت
    سندھ ہائیکورٹ، این اے 241 سے تین پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے خرم شیر زمان،مزمل اسلم اور اواب علوی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ،اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی اعتراض کنندہ کے اعتراضات مسترد کردئیے تھے ،تینوں امیدواروں کے خلاف محمد دوست نے درخواستیں دائر کررکھی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار محمد دوست کون ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوست محمد محب وطن پاکستانی ہے، ان کا مقصد کرپٹ لوگوں کو اسمبلی میں جانے سے روکنا ہے،جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ” اچھا پھر تو ہماری بھی ان سے ملاقات سے کروایئےگا” دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے این اے 236 سے عالمگیر خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے تماشا لگا رہے ہیں، کس طرح الیکشن کروارہے ہیں،کراچی NA-236 سے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹربیونل بینچ نے منظور کر لیے.

    حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    جلال پور بھٹیاں: حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغزات نامزدگی منظور ہو گئے، حلقہ PP-37سے محمد آصف چھٹہ کے کاغزات نامزدگی آر او نے مسترد کیے تھے ،لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنادیا حلقہ PP-37سے آصف چھٹہ کی اپیل منظورہو گئی،

    پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور
    لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور کرلیے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریٹرننگ افسر کے اعتراض مسترد کردئیے،عدالت نے علی امتیاز وڑایچ کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا،

    حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چنیوٹ کے نوجوان محمد ثاقب خان کے قومی اسمبلی حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کیجانب سے مسترد کرنیکے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے اپیل پر سماعت کے بعد آر او کےاعتراضات ختم کردیئے۔ محمد ثاقب خان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،محمد ثاقب خان کی طرف سے نامور وکیل میاں اشفاق علی نے الیکشن اپیل کی پیروی کی

    کاغذات نامزدگی مسترد،صنم جاوید کے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں کی درخواست دائر
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،صنم جاوید کے والد نے ٹریبونل کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل اور آر او نے قانون کے منافی فیصلہ سنایا ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،
    پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور کے پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،ٹریبونل کے جج جسٹس احمد ندیم نے اپیل منظور کرلی ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیئے، منظور کئے جائیں،

    اعظم خان نیازی کی پی پی 160 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ٹریبونل کے جج جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیل پر سماعت کی

    فیصل آباد سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر حافظ ممتاز کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورکر لئے گئے،این اے 98 پی ٹی آئی آئی امیدوار حافظ ممتاز احمد کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،شانگلہ سوات سے امیدوار تحریک انصاف عبدالمنعم کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • این اے 242، مصطفیٰ کمال امیدوار، کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ایم کیو ایم

    این اے 242، مصطفیٰ کمال امیدوار، کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ایم کیو ایم

    کراچی کے حلقہ این اے 242 سے مصطفیٰ کمال امیدوار ہیں ، ن لیگ سے اس حلقے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی، ایم کیو ایم نے تردید کر دی

    ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ این اے 242 کراچی پر سیٹ ایڈجسمنٹ کی خبر کی تردید کرتے ہیں،این اے 242 کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، این اے 242 سے مصطفیٰ کمال ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خبریں آئی تھیں کہ این اے 242 پر ن لیگ اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی ہے، مصطفیٰ کمال مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے دستبردار ہو گئے ہیں

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے این اے 242 کراچی سے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں،اسی حلقہ سے مصطفیٰ کمال بھی امیدوار ہیں، ن لیگ کی کوشش ہے کہ اس حلقہ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے تا ہم ابھی تک ن لیگ ایم کیو ایم کو نہ منا سکی، شہباز شریف نے گزشتہ دنوں‌کراچی کے دورے کے دوران ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات بھی کی تھی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    خواجہ سرا نایاب علی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار، نایاب علی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں مسترد، کر دی گئیں،

    ریٹرننگ افسر نے آر او کا فیصلہ برقرار رکھا،ایپلیٹ ٹریبیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ سرا نایاب علی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا نایاب علی کے کاغذات منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا،درخواست گزار الماس بوبی نے نایاب علی کے کاغذات منظوری کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا

    خواجہ سرا نایاب علی کا منشور کیا؟ الیکشن جیتنے پر اسلام آباد والوں‌کیلیے کیا کریں گی؟
    اس موقع پر نایاب علی کا کہنا تھا کہ ٹربیونل نے اعتراض کی درخواست مسترد کر دی گئی، اگر کسی خواجہ سرا کو الیکشن لڑنے سے روکتے ہیں تو اس کے اوپر سزا ہے، مخالفین کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے،میرا منشور بہت سادہ ہے، غریبوں اور امیروں کےلئے بڑا مخصوص پیکج موجودہے، اسلام آباد میں کہیں دولت کی فراوانی ہے کہیں ،تو کہیں کچی آبادیاں ہیں میں اقتدار میں آتی ہوں‌تو کچی بستوں کو منظور کرواؤں گی، اسلام آباد میں پانچ سو فیصد پراپرٹیز ٹیکس نافذ ہے وہ ختم کرواؤں گی،صحت کے حوالہ سے کوئی سسٹم نہیں، اس پر کام کروں گی ، انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے قانون سازی میرے منشور کا حصہ ہے، الیکشن مہم شروع ہو چکی ہے،میری کمیونٹی کے لوگ میرے ساتھ ہیں،

    نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں،

    واضح رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی کے اسلام آباد سے الیکشن لڑنے پر اپنے ہی ساتھی ٹرانس جینڈر نے مخالفت کر دی تھی۔اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، فیڈرل شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ کی جنس شناخت سے متعلق سیکشن کو اسلامی تعلیمات کیخلاف قرار دیا،وفاقی شرعی عدالت کے 19 مئی 2023 کے آرڈر کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،نادرا نے عدالتی احکامات کی روشنی میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز معطل کر رکھے ہیں،نایاب علی نے اپنی جنس سے متعلق معلومات چھپائیں جسے فیڈرل شریعت کورٹ نے مرد ڈیکلیئر کیا، امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ذرائع آمدن بھی نہیں بتائے، اسلام آباد کے حلقہ این اے 46 اور این اے 47 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں.

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے