Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل مسترد

    خواجہ سرا نایاب علی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار، نایاب علی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں مسترد، کر دی گئیں،

    ریٹرننگ افسر نے آر او کا فیصلہ برقرار رکھا،ایپلیٹ ٹریبیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ سرا نایاب علی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا نایاب علی کے کاغذات منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا،درخواست گزار الماس بوبی نے نایاب علی کے کاغذات منظوری کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا

    خواجہ سرا نایاب علی کا منشور کیا؟ الیکشن جیتنے پر اسلام آباد والوں‌کیلیے کیا کریں گی؟
    اس موقع پر نایاب علی کا کہنا تھا کہ ٹربیونل نے اعتراض کی درخواست مسترد کر دی گئی، اگر کسی خواجہ سرا کو الیکشن لڑنے سے روکتے ہیں تو اس کے اوپر سزا ہے، مخالفین کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں، اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے،میرا منشور بہت سادہ ہے، غریبوں اور امیروں کےلئے بڑا مخصوص پیکج موجودہے، اسلام آباد میں کہیں دولت کی فراوانی ہے کہیں ،تو کہیں کچی آبادیاں ہیں میں اقتدار میں آتی ہوں‌تو کچی بستوں کو منظور کرواؤں گی، اسلام آباد میں پانچ سو فیصد پراپرٹیز ٹیکس نافذ ہے وہ ختم کرواؤں گی،صحت کے حوالہ سے کوئی سسٹم نہیں، اس پر کام کروں گی ، انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے قانون سازی میرے منشور کا حصہ ہے، الیکشن مہم شروع ہو چکی ہے،میری کمیونٹی کے لوگ میرے ساتھ ہیں،

    نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں،

    واضح رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی کے اسلام آباد سے الیکشن لڑنے پر اپنے ہی ساتھی ٹرانس جینڈر نے مخالفت کر دی تھی۔اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، فیڈرل شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ کی جنس شناخت سے متعلق سیکشن کو اسلامی تعلیمات کیخلاف قرار دیا،وفاقی شرعی عدالت کے 19 مئی 2023 کے آرڈر کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،نادرا نے عدالتی احکامات کی روشنی میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز معطل کر رکھے ہیں،نایاب علی نے اپنی جنس سے متعلق معلومات چھپائیں جسے فیڈرل شریعت کورٹ نے مرد ڈیکلیئر کیا، امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ذرائع آمدن بھی نہیں بتائے، اسلام آباد کے حلقہ این اے 46 اور این اے 47 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں.

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    بانی پی ٹی آئی عمران خان این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب نہیں لڑسکیں گے

    لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ کے ٹریبونل نے بانی پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی پر فیصلہ سنادیا ،بانی پی ٹی آئی این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،بانی پی ٹی آئی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے نکات سامنے آگئے ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی پر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36 لاکھ 88 ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف رقم جولائی 2022 سے اکتوبر 2023 تک واجب الادا تھی ،بانی پی ٹی آئی عدالت سے سزا یافتہ اور الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہیں، بانی پی ٹی آئی نے غلط ڈیکلریشن دی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں،

    این اے 122 عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے آراو کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران این اے 122سے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے آر او کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان نااہل ہوچکے ہیں اور ان کے تجویزہ کنندہ کا تعلق بھی این اے 122 سے نہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی عمران خان کی اپیل کی مخالفت کی،الیکشن ٹربیونل کے جج نے آر او کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا.

    این اے 122، کاغذات مسترد ہونے پرعمران خان کی لیگل ٹیم کا ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
    این اے 122 سے سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے ٹریبونل کا فیصلہ ہائیکورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات بحال کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست میں استدعا کی جائے گی .

    آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ اپیلیٹ ٹریبونل،آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ،اثاثے چھپانے کے الزام میں شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے ،آزاد امیدوار شبیرکھوکھر نے پلاٹ اور گاڑی چھپائے تھے

    نواز شریف کے مقابلےمیں یاسمین راشد کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت
    اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس طارق ندیم نے یاسمین راشدکےکاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آر او کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی،الیکشن ٹربیونل نے یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور این اے 130 سے ان کے اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوگئے،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں ہر سماعت کر رہے ہیں،آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں،ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں،ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    این اے 46 اور 47 سے امیدوارخواجہ سرا نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں، خواجہ سرا کمیونٹی معصوم، سیاسی مخالف میرے ووٹ لڑںے کے خلاف ہیں

    الیکشن ٹربیونل میں کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اعتراضات کیس کی سماعت کے بعد خواجہ سرا نایاب علی کا کہنا تھا کہ میرے کچھ ایوارڈ اندر کیس میں دیئے گئے، میں انسانی حقوق کی سربلندی کے لئے کام کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی، چاہے انسانوں کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے ہو،میری کمیونٹی کے چند لوگ اعتراض کرتے ہیں، انہوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق کیا ہوا ہے،، وکلا حضرات انکو لطیف کھوسہ کی طرف سے فراہم کئے گئے ہیں،میرے مخالف وکلا کا تعلق لطیف کھوسہ کی فرم سے ہے، چند دن پہلے خبر چل رہی تھی کہ شعیب شاہین کے کاغذات مسترد اور خواجہ سرا نایاب علی کے منظور،یہ وائرل ہوئی تھی مجھے لگتا ہے کہ شاید اسکا بدلا لیا جا رہا ہے، شناختی کارڈ اصل شناخت ہوتا ہے،جو نام شناختی کارڈ پر ہے وہی نام کاغذات نامزدگی پر لکھا،خواجہ سرا کمیونٹی بہت معصوم ہے، پروپیگنڈہ کر کے انکو استعمال کیا جا رہا ہے، وہ میرے الیکشن لڑنے کے خلاف نہیں، میرے وکلا نے بالکل فری کیس لڑا ،کاغذاتِ نامزدگی فارم میں سورس آف انکم نہیں ہوتا، کاغذاتِ نامزدگی فارم میں اثاثوں کا پوچھا گیا ہے، میں ایل جی بی ٹی کیو ایجنڈہ کو پروموٹ نہیں کر رہی، یہ صرف الزامات ہی ہیں،

    واضح رہے کہ الیکشن ٹریبونل اسلام آباد میں نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پاکستان میں یہ کیس آف فرسٹ امپیریشن ہے ، ہم آپ کو سنیں گے، نایاب علی الیکشن ٹریبونل میں پیش ہوئیں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ جینڈر ایکس سے کیا ہوتا ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سر نادرا کا اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن ہے،فیڈرل شریعت کورٹ کی ججمنٹ بھی ہے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم اس کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں،ہم نے نادرا کو بھی یہاں بلایا ہوا ہے،دوران سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل درخواست گزار کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کیس سے متعلق تیاری بالکل نہیں ہے، آپ بے معنی دلائل دے رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بین الاقوامی ایل جی بی ٹی کیو کا ایجنڈا پروموٹ کیا جارہا ہے، ان کو بین الاقوامی سطح پر ایل جی بی ٹی کیو پروموٹ کرنے پر ایوارڈ دیا گیا ،یہ ہم جنس پرستی کے حق میں ہیں،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اس کا مطلب آپ قانونی نہیں اخلاقی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دینے کا کہہ رہے ہیں ،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ شو نہیں کی اور یہ اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہے اس لیے ان کے کاغذات مسترد کیے جائیں ؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ان کا جینڈر میل ہے، انہوں نے اپنے شناختی کارڈ میں جینڈر ایکس لکھا ہے،ان کا ارسلان کے نام سے شناختی کارڈ بنا ہوا تھا ، اب انہوں نے اسے بدل کر نایاب علی اور جینڈر ایکس کروادیا ہے ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اہم کیس جمع کروایا ہے ،یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے،انتخابات لڑنا ہر کسی کا حق ہے،

    عدالتی معاون کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے، معاون وکیل نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شہری کو الیکشن میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے، عدالت نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اس متعلق کیا کہتے ہیں ،عدالتی معاون وکیل نے ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 کہتا ہے جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جائے گی ، یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، یہ کہیں نہیں لکھا کہ صرف مرد اور عورت ہے الیکشن لڑ سکتے ہیں، اگر یہ خواتین کی ریزرو سیٹ پر لڑتی تو سوال اٹھتا کہ کیا ایک خواجہ سرا خواتین کی نشست پر الیکشن لڑ سکتا ہے؟ کیا آئین میں ایسی کوئی قدغن ہے کہ صرف مرد اور عورت ہی الیکشن لڑ سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہے نہیں ،
    الیکشن ایکٹ کے مطابق خواجہ سرا کو الیکشن لڑنے سے روکنا جرم ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ یعنی ان کو الیکشن لڑنے سے روک کر جرم کا ارتکاب کیا جارہا ہے؟ عدالتی معاون نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ نایاب علی کا شناختی کارڈ سسپینڈ کیا گیا اور فیڈرل شریعت کورٹ نے نایاب علی کو میل ڈکلیئر کیا ،درخواست گزار کے دونوں اعتراضات درست نہیں نا تو شناختی کارڈ منسوخ کیا گیا نا ہی فیڈرل شریعت کورٹ نے نایاب علی کو میل ڈکلیئر کیا ، پاکستان میں بھی اور دنیا بھی کئی خواجہ سرا انتخابات لڑ چکے ہیں ، پاکستان میں کسی خواجہ سرا کے پاس فی میل والا شناختی کارڈ نہیں ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نایاب علی کے اپنے تمام کاغزات جمع کروائے ہیں ،نایاب علی نے کوئی چیز نہیں چھپائی ، یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ نادرا حکام بتائیں آپ نے جینڈر ایکس کیوں لکھا ہے؟وکیل نادرا نے کہا کہ ٹرانسجیڈر رولز 2020 میں جینڈر ایکس سے متعلق لکھا ہوا ہے ، الیکشن ٹربیونل نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی کے اسلام آباد سے الیکشن لڑنے پر اپنے ہی ساتھی ٹرانس جینڈر نے مخالفت کر دی۔اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، فیڈرل شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ کی جنس شناخت سے متعلق سیکشن کو اسلامی تعلیمات کیخلاف قرار دیا،وفاقی شرعی عدالت کے 19 مئی 2023 کے آرڈر کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،نادرا نے عدالتی احکامات کی روشنی میں خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز معطل کر رکھے ہیں،نایاب علی نے اپنی جنس سے متعلق معلومات چھپائیں جسے فیڈرل شریعت کورٹ نے مرد ڈیکلیئر کیا، امیدوار برائے رکن قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ذرائع آمدن بھی نہیں بتائے، اسلام آباد کے حلقہ این اے 46 اور این اے 47 کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں.

    میہڑ:خواجہ سرا کے گھر سے چوری سرچ آپریشن کہ دوران پولیس پر فائرنگ

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • مرکزی مسلم لیگ کا قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کا قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹریٹ میں مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق کی آمد ہوئی،اعجاز الحق نے صدر مرکزی مسلم لیگ کو قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی،خالد مسعود سندھو کی طرف سے دعوت قبول کرلی گئی۔

    اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ضیاء اعجاز الحق نے کہا کہ میں مرکزی مسلم لیگ کے ساتھ گزشتہ 6 ماہ سے رابطے میں تھا۔ہم نے قومی یکجہتی اتحاد ترتیب دیا ہے۔اس اتحاد میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ شامل ہوئی ہے۔ہم ایک چھتری کے نیچے اکٹھے ہوکر پاکستان کے مفادات کے لیے الیکشن لڑیں گے۔ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی میں نظریہ پاکستان کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچی جارہی ہیں۔سیاستدان ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ہم نے قوم کو نظریہ پاکستان پر کھڑا کرنا ہے۔قومی یکجہتی اتحاد غربت اور مہنگائی کی ستائی ہوئی 25 کروڑ عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ہم پاکستان کو جس نظریئے پر بنا تھا اس پر لانا چاہتے ہیں، ہم سود پر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، عوام کے مفاد کی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، اس وقت ملک میں بہت اختلاف ہیں، کوئی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کو تیار نہیں، سولہ ماہ کچھ جماعتیں اکٹھی تھیں،انکی منزل اقتدار اور مفادات کی تھی، لوگ تماشا دیکھ چکے اب عوام کے مفاد کےلیے کام کرنا ہو گا اپنے سے بالاتر ہو کر پاکستان کے لئے ہم کام کرنا چاہتے ہیں، جس نظریئے پر ملک بنا تھا اس ڈگر پرملک کو لائیں گے.

    اعجاز الحق کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے امیدوار ایسے ہیں جو آزاد نہیں لڑنا چاہتے، بہت سے امیدوار ہمارے ساتھ شامل ہوں گے، ہم نظریہ پاکستان کے مطابق ایک اتحاد بنا چکے ، مفادات کی سیاست ختم کرنی ہو گی ،پاکستان کے عوام کے مفادات کی سیاست کرنی ہو گی، بے روزگاری،مہنگائی، لاقانونیت کے خلاف جنگ کرنی ہو گی،لوگ پریشان ہیں، ماضی میں حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، عوام کو کچھ نہیں دیا لیکن اپنے وارے نیارے ہو گئے،قومی یکجہتی اتحاد کے نام پر ہمارا الائنس بنا ہے،مرکزی مسلم لیگ ہمارے ساتھ شامل ہوئی، جے یو آئی س والوں سے بھی بات ہوئی، اگلے ایک دو دن میں وہ بھی اس اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں، الیکشن آٹھ فروری کو ہیں، وقت زیادہ نہیں ہے ہم نے کوشش کی کہ ایک نشان پر سب دوست الیکشن لڑیں لیکن اس کے لئے تاخیر ہو چکی ہے،ہم مشورہ کریں گے کہ کیسے الیکشن میں جائیں تا کہ قومی یکجہتی اتحاد کے امیدوار کیسے کامیاب ہوں.

    بہت ساری پارٹیاں اس اتحاد کا حصہ بننے جارہی ہیں،خالد مسعود سندھو
    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ہمارے مزاکرات کافی دیر سے چل رہے تھے۔ سیاسی انتشار کا خاتمہ قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے مرکزی مسلم لیگ قومی یکجہتی اتحاد میں شمولیت کا اعلان کرتی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ آج سے اس قومی یکجہتی اتحاد کا حصہ ہیں، اس اتحاد کا مقصد ملک کی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی استحکام کو مضبوط کرنا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد کی سیاست کی ہے اور ملک میں جاری انتشار کے خاتمے کے لیے گزشتہ ایک سال تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔بہت ساری پارٹیاں اس اتحاد کا حصہ بننے جارہی ہیں 8 فروری کا دن قومی یکجہتی اتحاد کی جیت دن ہوگا

    ملک کی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے

    بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے برابر کاشریک کریں 

    قرضے لیکر معیشت میں کبھی بھی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

  • ہمیشہ یہی کہا ہے چوہدری برادران کو اکٹھا چلنا چاہیے،چوہدری شافع حسین

    ہمیشہ یہی کہا ہے چوہدری برادران کو اکٹھا چلنا چاہیے،چوہدری شافع حسین

    مسلم لیگ ق پنجاب کے سیکرٹری جنرل، امیدوارپی پی 23 چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں پرویز الہٰی باہر آئیں اور الیکشن لڑیں، ہمیشہ یہی کہا ہے چوہدری برادران کو اکٹھا چلنا چاہیے،

    چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی فیملی نے دو سال خود ہی فیصلہ کرلیا تھا سیاست اپنی اپنی کرنی ہے،پاکستان میں اس وقت فیک ٹرینڈز چلا کر کنفیوژن پیدا کی جارہی ہے،نو مئی کو ایک پارٹی یوتھ ونگ صدر بوتل بم بنا کر جی ایچ کیو پھینکتا رہا،گجرات میں میرے مقابلے میں آصف زرداری نے امیدوار نہ کھڑا کرنے کی ذمہ داری لی ہے،ہمارے حمایتوں کو بیرون ممالک سے دھمکی آمیز کالیں کی جارہی ہیں، لوگوں کو ہماری حمایت سے روکنے کیلئے پیسوں کی آفرز کی جارہی ہیں،شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین نے خود حلقہ این اے 62 اور 63 مسلم لیگ ن کیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے انکار کیا ہے،وجاہت حسین کے بیٹے حسین الہٰی اور موسی الہیٰ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے

    پیر محمد احمد شاہ قادری گیلانی سجادہ نشین درگاہ عالیہ قادریہ قلندریہ ٹھینگ موڑ اللہ آباد قصور کی علماء کے ہمراہ مسلم لیگ میں شمولیت
    دوسری جانب مسلم لیگ ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ پنجاب کے سید پیر سید مناظر حسین گیلانی سے ملاقات کے بعد پیر محمد احمد شاہ قادری گیلانی زیب سجادہ نشین درگاہ عالیہ قادریہ قلندریہ ٹھینگ موڑ الہ آباد ضلعی قصور نے اپنے دیگر علماء فیاض چشتی، پیر اعجاز رضوی، محمد ایاز، چوہدری محمد علی، چوہدری غلام علی نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چوہدری شجاعت حسین،چوہدری سالک حسین اور چوہدری شافع حسین کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔پاکستان مسلم لیگ علماء ومشائخ ونگ پنجاب کے صدر پیر سید مناظر حسین گیلانی نے پیر سید مناظر حسین گیلانی اور ان کے ساتھی علماء کی مسلم لیگ میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ علماء مشائخ کی مسلم لیگ میں شمولیت سے پاکستان مسلم لیگ مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ علماء مشائخ پاکستان مسلم لیگ کی قابل فخر سیاسی و اخلاقی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے رواداری، اعتدال پسندی، برداشت اور بردباری جیسی اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ اور وطن عزیز میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی، جمہوری و اقتصادی استحکام کے لیے اپنی ملی، قومی و تنظیمی ذمہ داریاں پوری کریں

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

  • الیکشن کمیشن کا پولنگ کے دن ووٹر کا امتحان لینے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا پولنگ کے دن ووٹر کا امتحان لینے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کے دن ووٹر کا امتخان لینے کا فیصلہ کرلیا،

    قانون میں دئے گئے ووٹرز پر پولنگ سٹیشن بنانے کے بجائے ڈبل سے بھی زیادہ ووٹرز پر پولنگ سٹیشن بنادیئے، ایسے پولنگ اسٹیشن شہری علاقوں میں زیادہ بنائے گئے ہیں۔ پولنگ سٹیشنز 25سو ووٹرز پر بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے اور بوتھ بھی 4ہی رکھے گئے ہیں ۔قانون کے مطابق 12سو ووٹرز پر پولنگ سٹیشن اور 3سو ووٹرز کے لیے الگ پولنگ بوتھ بنانے کا قانون ہے،شہری علاقوں میں 25سو ووٹرز پر پولنگ سٹیشن بنایا گیا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ پولنگ سٹیشن مرد اور خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈرافٹ پولنگ سکیم 2024پنجاب کے تجزیے کے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں پولنگ سٹیشن بناتے ہوئے قانون کو بلکل نظر انداز کیا ہے اور شہری علاقوں میں پولنگ سٹیشن 12سو ووٹرز پر بنانے کے بجائے 25سو ووٹرز پر بھی بنائے گئے ہیں اور مخصوص جگہوں پر 6سو ووٹرز پر بھی الیکشن سٹیشن بنائے گئے ہیں قانون کے مطابق 3سو ووٹرز پر ایک پولنک بوتھ لازمی بنانے کا کہا گیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے 25سو ووٹرز پر بھی 4بوتھ بنائے ہیں اس طرح 6سو سے زائد ووٹرز پر ایک بوتھ بنایا گیا ہے جو کہ قانون کے بلکل خلاف ہے،سامنے آنے والے ڈیٹے کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں مرد اور خواتین کے قانون کے مطابق الگ الگ پولنگ سٹیشن بنائے جاسکتے تھے وہاں بھی 25 سوووٹرز پر مشترکہ سٹیشن بنائے گئے ہیں جبکہ وہاں پر 12سو سے زیادہ مرد اور 12سو سے زیادہ خواتین ووٹرز ہیں ۔

    ڈیٹا کے تجزیے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک ہی جگہ پر مرد اور خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جبکہ اگر خواتین اور مردوں کے الگ الگ سٹیشن بنائے جاسکتے تھے ۔ اس حوالے سے ترجمان الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا ۔(محمداویس)

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • آٹھ فروری کے بعد نو فروری بھی آئیگی،پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی

    آٹھ فروری کے بعد نو فروری بھی آئیگی،پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی

    عام انتخابات 2024 آٹھ فروری کو ہونے ہیں، الیکشن کے لئے انتخابی مہم جاری ہے، امیدوار جہاں جلسے ،کارنر میٹنگز کر رہے ہیں وہیں ووٹر سے ووٹ بھی مانگے جا رہے ہیں، ایسے میں سانگھڑ سندھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی دے رہے ہیں.

    سانگھر میں پی پی کے امیدوار علی حسن نے کارنر میٹنگ میں جیالوں‌سے خطاب کیا، انہوں نے ووٹ مانگے ، ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی علی حسن کا کہنا تھا کہ پارٹی امیدوار کو ہی کامیاب کروائیں ورنہ ان کے ساتھ حساب ہوگا، ورکرز اور جیالے مہربانی کرکے سیدھے ہو جائیں، پارٹی امیدوار کے ساتھ چلیں اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کروائیں، نہیں تو 8 کے بعد 9 فروری بھی آئے گی، پھر ان کے ساتھ جو حساب ہوگا وہ پورا سانگھڑ دیکھے گا

    پیپلز پارٹی امیدوار کی دھمکی پر الیکشن کمیشن کا نوٹس،
    سوشل میڈیا پر ضلع سانگھڑ سے پیپلز پارٹی کے پی ایس 41 کے امیدوار امیدوار علی حسن ہنگورجو کی وائرل ہونے والی ویڈیو کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے، ویڈیو میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع سانگھڑ سے پی ایس 41 کے امیدوار علی حسن عوام اور کارکنان کو دھمکیاں دیتے دکھائی دے رہے تھے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکرٹری الیکشن کمیشن علیل،اسپیشل سیکرٹری کو چارج مل گیا

    سیکریڑی الیکشن کمیشن کے علیل ہونے کا معاملہ،الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری ڈاکٹر سید آصف حیسن کو سیکریڑی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹی فکشن جاری کر دیا گیا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی غیر موجودگی اسپیشل سیکرٹری فرائض سرانجام دیں گے،سیکرٹری عمر حمید اپنی بیماری کے سبب الیکشن کمیشن میں بطور سکریڑی اپنی ذمہ درایاں سر انجام نہیں دے رہے

    دوسری جانب عام انتخابات کی تیارہاں،ملک بھر میں آر اوز کا الیکشن منیجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا، آر اوز انتخابی شیڈول میں امیدواروں کی حتمی فہرست آر ایم ایس کی ذریعے ہی الیکشن کمیش کو فراہم کریں گے ،آر اوز نے الیکشن منیجمنٹ سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ، ملک بھر کے آراوز الیکشن شیڈول کا آخری مرحلہ ای ایم ایس کی مدد سے مکمل کریں گے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے جی ایم ایس روٹر بھی تمام آر اوز کو پہنچا دیے گیے،ای ایم ایس کی مدد سے امیدواروں کے کوائف کی پی ڈی ایف کاپی تمام آر اوز کے پاس دسیتاب ہو گی، ننانون فی صد آر اوز کے دفاتر میں جی ایم ایس روٹر پر الیکشن سے متعلق کام جاری ہے

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا،چیف الیکشن کمشنر نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں الیکشن کی تیاری مزید تیز کرنے کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا،تمام ونگز کی جانب سے الیکشن کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی،آئی ٹی ونگ کی جانب سے بروقت نتائج کے حصول پر بریفنگ دی گئی، چیف الیکشن کمشنر نے آئی ٹی ونگ کو ہدایت کی کہ نتائج کا حصول بروقت یقینی بنایا جائے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

    این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

    کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 242 سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔

    باغی ٹی وی : شہبازشریف کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ الیکشن ٹرییوبنل میں پیش ہونے والے لیگی رہنما رانا مشہود نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ ملنے کا مطالبہ کرتے ہیں2018 میں اس ملک کے ساتھ زیادتی ہوئی جو اب نہیں ہونا چاہیے، چاہتے ہیں تمام جماعتوں کے امیدوار حلقوں میں مقابلہ کریں، 8 فروری کو پورے ملک شیر دہاڑے گا،ادھر کراچی میں سابق وزیراعظم شہبازشریف کیخلاف مسعود خان مندوخیل کی اپیل مستردکردی گئی –

    ٹریبونل نے این اے 242سے شہبازشریف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،ٹریبونل نے پی ایس 75ٹھٹھہ سے مصطفی امیر کے کاغذات نامزدگی منظورکرلئےجبکہ پی ایس 88کےامیدوار مولانا اورنگزیب فاروقی ،پی ایس 125 سے تحریک انصاف کے محمد فاروق کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے۔

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129سے تحریک انصاف کے میاں اظہر کو الیکشن کی اجازت مل گئی، اپیلٹ ٹریبونل میں میاں اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،عدالت نے این اے 129سے تحریک انصاف کے میاں اظہر کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے،اپیلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے اپیل منظور کی،جبکہ اپیلٹ ٹریبونل نے پی پی 150سے پی ٹی آئی کے عباد فاروق کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقراررکھا۔

    سابق صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا اور دونوں بیٹے انتخابات کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

    سندھ ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل میں ذوالفقار مرزا، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا اور دونوں بیٹوں کی کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،آر او نے ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا کے کاغذات نامزدگی نادہندہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کئے تھے،وکلا کے دلائل کے بعد ٹریبونل نے فیصلہ منظور کیا تھا۔

    بعدازاں ٹریبونل نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے این اے 223بدین سے ذوالفقار مرزا اور انکی اہلیہ فہمیدہ مرزا کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے جبکہ ان کے دونوں بیٹوں حسنین مرزا اورحسام مرزا صوبائی اسمبلی کی نشست پر کاغذات جمع کرا رکھے تھے، عدالت نے ان کے بھی کاغذات مسترد کردیئے۔

    نوابزادہ جمال رئیسانی کے کاغذات نامزدگی منظوری کا فیصلہ کالعدم قرار

    دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ کے قائم کردہ الیکشن ٹریبونل نے شپاکستان پیپلز پارٹی کے این اے 264 سے امیدوار نوابزادہ جمال رئیسانی کے کاغذات نامزدگی منظوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے اعتراض عائد کیا تھا کہ جمال رئیسانی کا ووٹ رجسٹر نہیں ہے، جمال رئیسانی نگراں وزیر کے طور پر کابینہ کا حصہ تھے،جس پر جسٹس عامر رانا نے کاغذات نامزدگی منظوری کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    گزشتہ روز سابق نگراں وزیر کھیل جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان ملک دشمن عناصر کی لگائی آگ میں جل رہا ہے، کالعدم تنظیموں کو کس نے اجازت دی کہ ہمارے پیاروں کو شہید کریں۔

    نگراں حکومت میں 25 سال کی عمر میں وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد نوابزادہ جمال رئیسانی بلوچستان کے سب سے کم عمر وزیر بن گئے تھے، جنہیں محکمہ کھیل، امور نوجوانان اور ثقافت کا قلمدان سونپا گیا تھا-

    نومبر 2023 میں جمال رئیسانی نے کہا تھا کہ وہ جلد اپنے نگراں وزیر برائے کھیل، ثقافت اور امور نوجوانان کے عہدے سے مستعفی ہو کر عام انتخابات میں حصہ لیں گے کیونکہ نگران حکومت میں اختیارات محدود ہونے کی وجہ سے عوام کی خدمت اس انداز میں نہیں کی جاسکتی جس طرح منتخب حکومت میں کی جا سکتی ہے۔

    ثناء اللہ زہری کے کاغذات کے خلاف اپیل خارج

    دوسری جانب لیکشن ٹریبونل نے سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری کے کاغذات نامزدگی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی ہے، ہے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف اپیل میں اقامہ اور بجلی کے بل کو جواز بناکر کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا۔

    اختر مینگل کو تینوں حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت

    الیکشن ٹریبونل نے سردار اختر مینگل کو دیگر تینوں حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت دیدی، ان کی خضدار اور قلات سے قومی اسمبلی جبکہ وڈھ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر اپیلیں منظور کی گئیں۔

    الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل نے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا –

    الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپیل پر سماعت کی، دوران سماعت عدالتی معاونین نے کہا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ خواجہ سراؤں کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا، ٹرانس جینڈر انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں، آئین کے تحت الیکشن میں حصہ لینے والوں پر جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہو گی، شریعت کورٹ نے خواجہ سراؤں کے انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی قدغن نہیں لگائی، خواجہ سرا اگر خواتین کی مخصوص نشستوں پر انتخاب لڑتا ہے تو اعتراض ہو سکتا تھا۔

    جسٹس ارباب طاہر نے کہا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے، انتخابات لڑنا ہر کسی کا حق ہے، الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    واضح رہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف ایک اور خواجہ سرا ندیم مظفر نے اپیل دائر کی تھی-

    سنی تحریک کے سابق سربراہ ثروت اعجاز قادری کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا گیا۔

    کراچی کے حلقے پی ایس 108 سے سنی تحریک کے سابق سربراہ ثروت اعجاز قادری کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے مسترد کیے اور انہیں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیاریٹرننگ افسر نے کہا کہ ثروت اعجاز قادری کے تجویز کنندہ کا تعلق دوسرے حلقے سے ہے۔

    دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان سے تحریک انصاف کے امیدوار علی امین گنڈاپور کی اپیل منظور کرلی گئی، الیکشن ٹربیونل نے علی امین کی این اے 44، پی کے 112 اور 113 پر الیکشن لڑنے کے لیے اپیلیں منظور کرلیں۔

    ادھر لاہور میں الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے پی پی 150 سے عباد فاروق کی اپیل مسترد کردی اور ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

    پشاور اپیلٹ ٹریبونل نےتحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا –

    پشاور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل نےتحریک انصاف کے صدر وسابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کی،اپیل پر سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی، پرویز الہی نے این اے 59 اور پی پی 23 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،الیکشن کمیشن کے لاء افسر فلک شیر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لاء ذوالقرنین حیدر عدالت پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے ریکارڈ عدالت پیش کر دیا،پرویز الہی کی جانب سے سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے،وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونل نے چودھری پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اپیلٹ ٹریبونل میں این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،اپیل کنندہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نوازشریف کو تاحیات نااہلی کی سزا ہوئی ہے،نوازشریف سپریم کورٹ پر حملے میں بھی ملوث ہیں،اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹریبونل کاغذات نامزدگی کا فیصلہ کالعدم قرارد ے ،الیکشن ٹریبونل نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔