Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • توشہ خانہ کیس:  عمران خان کو تین سال کی سزا

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کو تین سال کی سزا

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی پانچ سال کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہو گئے ، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے،ملزم آج عدالت میں پیش نہیں ہیں، فیصلے کی کاپی آئی جی اسلام آباد کو عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرانے کا حکم دے دیا،سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی 5 سال کیلئے نااہل قراردے دیئے گئے،

    جج ہمایوں دلاورنے سماعت کی ،الیکشن کمیشن کے وکلاء امجد پرویز، سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی وکیل تاحال پیش نہ ہوا ،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ کیا کوئی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل آیا ہے؟ عدالت کی جانب سے دوسری بار کیس کال کرانے کی ہدایت کی گئی،

    جج ہمایوں دلاور نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کہہ دیں، کوئی شعر ہی کہہ دیں، امجد پرویزنے کہا کہ وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا، اُسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کو 10:30 تک مہلت دے دی ،سماعت 10:30 تک ملتوی کر دی گئی

    دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر گوہر کے معاون وکیل خالد چوہدری پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث نیب کورٹ میں مصروف ہیں، جج نے استفسار کیا کہ کس کیس میں خواجہ حارث مصروف ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہے، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکی وہاں کیا مصروفیات ہیں، کیا وہ ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دے رہے ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث دلائل نہیں دے رہے، وہاں موجود ہیں،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کتنے بجے پیش ہوں گے، معاون وکیل نے کہا کہ جیسے ہی وہاں سے فارغ ہوں گے، یہاں پیش ہو جائیں گے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواجہ حارث پیش نہیں ہوتے تو کیا صورتحال ہوگی؟ گزشتہ روز کے آرڈر میں پیشی کی واضح ہدایات تھیں، ایسی صورتحال میں تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں، خواجہ حارث 12 بجے پیش ہوں ورنہ فیصلہ محفوظ کرلیا جائے گا، عدالت نے سماعت 12 بجے تک ملتوی کر دی،

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت تیسرے وقفے کے بعد شروع ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکلاء پیش ہوئے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 بجے میں فیصلہ سناؤں گا،

    ساڑھے بارہ بجے خواجہ حارث ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ , کورٹ روم پہنچ گئے، خواجہ حارث نے کہا مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں میں کیس منتقلی کی درخواست دینے آیا ہوں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست مسترد کر دی گئی،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کیخلاف جرم ثابت ہوتا ہے، ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا،ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں،ملزم کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے ہیں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ عائد کرنے کا حکم بھی دیا، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو گرفتاری کا حکم بھی دیا

    ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اور احاطے کے اندر پولیس اور ایف سی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں اطراف خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے کمرہ عدالت کے اردگرد خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں کمرہ عدالت میں ان وکلاء اور صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی جن کے نام لسٹ میں موجود ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے اندر کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق سوموٹو کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    سپریم کورٹ نے چار ماہ بعد پنجاب انتخابات کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، تحریری فیصلہ جسٹس منیب اختر نے لکھا ہے

    جسٹس منیب اختر لکھتے ہیں "انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ پنجاب اور کے پی کے عوام کا مطالبہ ہے.الیکشن کمیشن کسی طور پر انتخابات کی تاریخ کو ازخود آگے نہیں بڑھا سکتا۔ الیکشن کمیشن اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا کہ انتخابات کی تاریخ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کا فرض نہ صرف انتخابات بلکہ ان کا منصفانہ اور شفاف انعقاد بھی یقنی بنانا ہے.الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا ماسٹر نہیں بلکہ وہ آئینی جزو یا ادارہ ہے”

    سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ یہاں کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ذمہ داری ہے انتخابات کرانا آرٹیکل 218/3 کے تحت الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ پنجاب انتخابات کے لیے سکیورٹی ہے اور نہ فنڈز ہیں عوام، سیاسی جماعتوں اور الیکٹوریٹس کے لیے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ کے پی اور پنجاب کے عوام کا درینہ مطالبہ ہے الیکشن کمیشن اپنی ایک آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دوسری ذمہ داری نظر انداز نہیں کر سکتا آئین ڈیوٹی اور پاورمیں فرق کو واضح کرتا ہےآئین الیکشن کمیشن کو انتخابات سے متعلق تمام معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کیا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے بھی الیکشن کمیشن سے اجازت لیں؟ الیکشن کمیشن کو فنڈزاورسکیورٹی کی عدم فراہمی پرعدالت میں آئینی درخواست دائر کرنی چاہیے تھی الیکشن کمیشن بتاتا کہ ایگزیکٹیو اتھارٹیز سکیورٹی اورفنڈز فراہم نہیں کر رہیں الیکشن کمیشن کو غیر قانونی آرڈر جاری کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ انتخابات وقت پر نہ بھی ہوں تو آرٹیکل 254 کا تحفظ حاصل ہو گا الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 254 کی بنیاد پر انتخابات میں التوا کا مؤقف غلط ہے آرٹیکل 254 کسی کو بھی آئینی ذمہ داری سے فرار کا راستہ نہیں دیتا

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتخابات میں رکاوٹ سے الیکشن کمیشن نے ایک طرح سے جمہوریت کو پٹری سے اتارا ہے، کے پی کے انتخابات سے متعلق معاملے کو ملتوی کیا جاتا ہے، تمام تر تفصیلی وجوہات کے ساتھ یہ عدالت کیس نمٹاتی ہے۔

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    جسٹس یحیئ آفریدی نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ جب ٹرانسفر درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہو تو فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا ؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی یہی قانون ہے۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی ، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کےخلاف عمران خان کی درخواست نمٹا دی

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ مقدمہ منتقلی کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی ،درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئی، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یقین ہے کہ ماتحت عدالت قانون کی پاسداری کریں گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق کیس منتقلی کی درخواست کے دوران ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی، چیرمین پی ٹی آئی نے کیس منتقلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس پر سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس کی سماعت کیلئے جسٹس مظاہر علی اکبر کی جگہ جسٹس حسن اظہررضوی کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے، جسٹس یحیٰی خان آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی، عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف چیئرمین نے یہ مقدمہ رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس فوری ریلیف نہ مل سکا سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن حکام چار اگست کو طلب کیا تھا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب کا معاملہ، الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ہم نے ریکارڈ مانگا ہے ، ممبر کے پی جسٹس ر اکرام اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ نے ہمیں دیں ہم نے اس کو دیکھنا ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں تین سے چار دن کی مہلت دے دیں دستاویزات مل جائیں تو بحث کریں گے الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات 13 جون 2021 سے زیر التواء تھے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرانا چاہتا ہوں،مجھے اس کیس کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات آئین میں ترمیم سے قبل کرائے گئے،پی ٹی آئی نے خود آئین میں ترمیم الیکشن کمیشن میں جمع کرائی،

    ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے لکھا 8 جون 2022 کو ترمیم کی،پی ٹی آئی نے 10 جون 2022 کو انٹرا پارٹی انتخابات کروائے،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کو کون سے دستاویزات چاہئے، چیف الیکشن کمشنر نے متعلقہ دستاویزات بیرسٹر گوہر کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،

    بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کردی،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر کہا جاتا تھا الیکشن کمیشن نوٹس دے ہم جواب دیں گے، ہم نے پی ٹی آئی کی درخواست پر آپ کو نوٹس کیا، الیکشن کمیشن نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظور کر لی ،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 8 اگست تک ملتوی کردی

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ، اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کردی ،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمارے کیسز سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں مقرر ہیں ، ہماری استدعا ہے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے آرڈرز کا انتظار کر لیں ، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے خواجہ حارث کی مرضی ہے، دلائل دیں نا دیں ، نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم دلائل دیں گے لیکن نیب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں کیس لگے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزنے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر دستاویزات ملزم نے اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں اس لیئے ناقابل قبول ہونے سے متعلق کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ۔اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جناب سے ریفرنس بھیجا گیا ۔توشہ خانہ کے تحائف سے نہ انکار کیا گیا نہ اقرار کیا گیا اور کہا گیا یہ ریکارڈ کا حصہ ہے ۔توشہ خانہ سے لیئے گئے تحائف اور قومی خزانے میں جمع کروائے گئے چالان بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں تحائف کی شناخت کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے ۔انھوں نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ کون کون سے تحائف انھوں نے لیئے ۔58 تحائف وزیراعظم اور اس کی اہلیہ کو ملے ۔ 14 تحائف کی ویلیو 30 ہزار سے زیادہ لگائی گئی جو خریدے گئے ۔ انکے مطابق 2 کروڑ 16 لاکھ 64 ہزار 600 کے چار تحائف خریدے گئے ۔ ایک گھڑی ، کف لنکس ، ایک گھڑی ایک انگوٹھی ، رولکس گھڑیاں ، آئی فون ، تحائف میں شامل ہیں ۔انھوں نے اپنے جواب میں کہا کہ استغاثہ نے کوئی شہادت پیش نہیں کی کہ تحائف کی مالیت 107 ملین تھی ۔استغاثہ نے شواہد پیش کیئے ہیں ۔تحائف کی لسٹ کو تسلیم کیا گیا ۔2018 -19 کے تحائف 20 فیصد ادا کرکے لیئے گئے ۔ کہا گیا کہ جیولری کے تمام تحائف بیگم وزیراعظم کو ملے ۔فارم بی میں جیولری کے کالم میں کچھ نہیں لکھا گیا ۔قیمتی آئٹم کا کوئی لفظ ہی فارم بی میں موجود نہیں ہے ۔بڑی چیزیں 107ملین کا گفٹ 58ملین میں فروخت کیا گیا 18-19میں ۔مارکیٹ ریٹ کے مطابق صرف 20فیصد توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے ۔ملزم کہتا ہے مجھ سے زیادتی ہو رہی ہے توشہ خانہ گفٹ پر ٹیکس بھی ادا کیا 9.5 ملین ،ملزم کہتا ہے میرے بنک اکاؤنٹ میں 28ملین سے کم رہ گئے، لیکن میرے بینک اکاؤنٹ میں 30ملین آئے . 30جون تک اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروانا لازمی ہے۔تحفہ 58ملین کا فروخت کیا اور 21.5ملین توشہ خانہ میں ادا کیاجبکے 9.5ٹیکس ۔ٹیکس ریٹرن پبلک دستاویزات نہیں ہے کوئی دوسرا شخص لے تو وہ جرم ہے فام بی پبلک دستاویزات ہیں جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے ۔ٹیکس ریٹرن نکلنے سے ایف بی آر کے افسر کے خلاف کاروائی بھی کی گئی ہے 29اکتوبر کو ٹیکس ریٹرن جمع کروائے گئے لیکن فام بی تاریخ 30جون ہے۔ملزم کہتا ہے ٹیکس ادا کیا وہ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن فام بی میں وہ رقم شو نہیں کروائی گئی ۔

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی 4گواہان کی استدعا اس لیے مسترد کی گئی کیوں وہ ٹیکس ریٹرن کے متعلق تھی۔ٹیکس ریٹرن کو عدالت غیر متعلقہ کہہ چکی ہے تو آپ اس پر دلائل نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کہتے کہ ٹیکس ریٹرن سے ثابت ہوتا میں نے بے ایمانی نہیں کی، ٹیکس ریٹرن کا تو کوئی کیس کے ساتھ تعلق ہی نہیں ہے،30 جون کو اثاثہ جات کا معاملہ لاک ہوجاتایے، پھر دستاویزات بے شک دسمبر میں جمع کرواتے رہیں،30 جون کی رات 9.5 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھے جو انہوں نے ظاہر نہیں کیا ،جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن کو اثاثہ جات پر دلائل دینے کی ہدایت کردی جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی پر الزامات الیکشن ایکٹ کے تحت لگائے گئے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ 58 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے دستاویزات میں ظاہر نہیں کیے، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ امجدپرویز صاحب! یہ تمام باتیں غیر ضروری ہیں، 30 جون کے اختتام پر کتنے ظاہر کرنے تھے؟ 22.5 ملین؟ 58 ملین یا 107 ملین روپے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو 58 ملین روپے ظاہر کرنے تھے جو نہیں کیے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ دو سالوں میں تو چیرمین پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہی نہیں،

    جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام پوائنٹس میں نوٹ کررہا ہوں، جج ہمایوں دلاور نے ای سی پی وکیل کو ہدایت کی کہ سال 2021 پر آئیں جس پر الزام ہےکہ غلط اثاثہ جات ظاہر کیے، وکیل ای سی پی امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی قیمتی تحائف کا کہتے ہیں؟ قیمتی تحائف کا تو خانہ فارم بی میں ہے ہی نہیں، قانون میں تو قیمتی تحائف کا زکر ہی نہیں، جیولری کا لفظ ہے جو لکھی نہیں گئی،چار سال میں چیرمین پی ٹی آئی اور ان کی فیملی کے پاس ایک تولہ جیولری کا نہیں،جج ہمایوں دلاورنے استفسار کیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کے دستاویزات کے مطابق 2020-21 میں کوئی جیولری لی ؟ ،وکیل ای سی پی امجدپرویز نے کہا کہ 2020-21 میں 5تحائف ہیں، ایک رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ اور دیگر تحائف ہیں کیا رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ جیولری نہیں ؟ میں مان ہی نہیں سکتاکہ چیرمین پی ٹی آئی کے پاس ایک بھی نہ گاڑی ہو نہ جیولری ہو،چار سالوں میں چیرمین پی ٹی آئی کے پاس صرف چار بکریاں رہیں، کیا ماننے والی بات ہے؟

    چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی،وکیل الیکشن کمیشن
    توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 11:30تک وقفہ کردیا گیا وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز کے حتمی دلائل مکمل ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی جیولری کے کالم میں لکھتے ہیں "جیولری ہے ہی نہیں”, چیرمین پی ٹی آئی اگر عوام کے سامنے جیولری اپنی ظاہر کردیتے تو کیا ہوجانا تھا،جب فارم میں جیولری لکھی ہے تو کسی وجہ سے لکھی ہے،
    ٹیکس ریٹرن میں توشہ خانہ کا لفظ لکھا ہے لیکن فارم بی میں توشہ خانہ کے تحائف نہیں لکھے،چیرمین پی ٹی آئی تین گھروں کے مالک ہیں، 3 کنال کا گھر اہلیہ کا ہے،چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی ہے،چیرمین پی ٹی آئی کے پاس فارم بی کے مطابق اپنی ایک بھی گاڑی نہیں،فارم میں اثاثہ جات ٹرانسفر کا کالم موجود ہے؟ فارم تو پوچھ رہاہے،

    توشہ خانہ کیس، آج دلائل لاک ہو جائیں گے،جج ہمایوں دلاور
    جج ہمایوں دلاور نے وکیل پی ٹی آئی نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حتمی دلائل کا آخری دن ہے، آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ آج تمام دلائل لاک ہوجائیں گے،درخواست اگر منظور ہوگئی تو بات ہی ختم،دوسری صورت میں آپ حتمی دلائل دیں، اچھے طریقے سے دیں،آپ نوجوان ہیں، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی، خواجہ حارث آجائیں گے تو پھر پنچنگ کریں گے،جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں پی ٹی آئی وکیل مرزا عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ سیشن عدالت فیصلہ جاری نہیں کرسکتی. الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ لگایا اثاثہ جات پر دلائل دیے ،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو دلائل کا معاملہ ڈیڑھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا نہیں ،وکیل پی ٹی آئی عاصم بیگ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا انتظار کرلیں، جلدی کیا ہے ،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ جی بلکل! عدالت کو جلدی ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کیوں نہیں روک رہی؟ فیصلہ لائیں آپ ،اسٹے کا کوئی فیصلہ ہے تو سیشن عدالت لے کر آئیں ، سیشن عدالت اگر جلدی کر رہی تو سپریم کورٹ میں یہ بات کیوں نہیں کرتے؟

    جج ہمایوں دلاور نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں، بولنے کا طریقہ ہوتاہے، آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں ،نان پروفیشنل طریقہ کار نہ اپنائیں، فیصلہ دکھائیں اعلیٰ عدلیہ کا، سیشن عدالت نے بار بار کہا ہےکہ فیصلہ جاری نہیں کرسکتا،خواجہ حارث کو کہیں ساڑھے بارہ بجے پیش ہوں ،جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکلاء نے جلدی جلدی کی رٹ لگائی ہوئی ہے آپ کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے،جج ہمایوں دلاور نے عدالتی عملے سے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کا نام وکالت نامہ میں چیک کرو، اگر وکالت نامے میں نام شامل نہیں تو کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردو،سیشن عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک توشہ خانہ کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا

    آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاور کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ تیسری بار شروع ہوئی،الیکشن کمیشن وکیل نے کہا کہ معافی چاہتاہوں، میں یونیفارم میں نہیں، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میرا جمعہ عدالت کی وجہ سے رہ گیا ہے، جمعہ کے دن کچہری کا وقت ساڑھے 12 تک ہوتا ہے ، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں کیا ہوا ہے؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث کے سپریم کورٹ میں دلائل جاری ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث آج اور کل شاید دستیاب نہ ہوں، ہم کہاں دوڑے جا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ خواجہ حارث نہیں تو آپ دلائل دے دیں، چیرمین پی ٹی آئی کے اتنے وکلاء ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں کبھی پہلے دلائل دینے سے بھاگا ہوں؟جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آپ سے قبل عاصم بیگ آئے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کو چھوڑ دیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ کیوں چھوڑ دیں مرزا عاصم بیگ کو؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیا جلدی ہے، ٹرائل تو کئی عرصہ چلتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ توشہ خانہ میں بی ایم ڈبلیو کا معاملہ بھی ہے، قوم جانتی ہے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ آپ کی قانونی ٹیم آپ سے مخلص نہیں، توشہ خانہ کیس کے لیے آج عدالت سے تین کالز کی گئیں، پی ٹی آئی نے درخواست کی کہ اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں پینڈنگ ہیں،پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے کہا کہ خواجہ حارث آج پیش نہیں ہوسکتے، عاصم بیگ، نعیم پنجوتھا، نیازاللہ نیازی عدالت موجود تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے حتمی دلائل 10 بجے تک مکمل کیے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 وکیل عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث ابھی بھی اعلی عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ بس یہی کہہ رہا ہوں کہ خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ بیرسٹر گوہرعلی اور نیازاللہ نیازی چیرمین پی ٹی آئی کے سینئیر وکیل ہیں، نیازاللہ نیازی کو حتمی دلائل دینے کے لیے ہدایت کی گئی، نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا اور کہا کہ جواب دیں کیا آپ دلائل دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں تو معاون وکیل ہوں، خواجہ حارث اور گوہرعلی دلائل دیتے ہیں، جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کیا کر رہے ہیں اس کیس میں؟ نیازاللہ نیازی نے بتایا کہ انہیں دلائل دینے کی ہدایت نہیں کی گئی، ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے بتایا خواجہ حارث ہی سینیئر وکیل ہیں، دلائل وہی دیں گے،خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں میں مصروف پیں تو سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کیا جاتا ہے، 3 بجے کے بعد دلائل دینے کا آخری موقع دیا جائےگا، ملزم کی حاضری سے استثنا کی درخواست بھی خواجہ حارث دیں گے، اگر خواجہ حارث نہ آئے تو سیشن عدالت فیصلہ محفوظ کرلے گی، ‏3 بجے کے بعد میں فیصلہ محفوظ کرلوں گا،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیس پر بہت خدشات ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ مجھے کچھ نیا بتائیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں ویسا نہیں کروں گا جیسے ہوتا رہا ہے،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار تو معافی عدالت نے دے دی ہے، اس کے بعد نرمی نہیں دی جائے گی، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ آپ جلدی غصے ہو جاتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ عدالت سب وکلاء کی عزت کرتی ہے لیکن عدالت کا ایک ڈسپلن ہے،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں بھی عدالت کا آفیسر ہوں، بدلہ لے سکتا ہوں، میرے ساتھ کچھ ہوا تو لوگ باہر کھڑے بھی ہوجائیں گے،

    توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان کو تین بجے تک حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا ، جج ہمایوں دلاورنے آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان 3 بجے عدالت پیش ہوں،خواجہ حارث آکر دلائل دیں نہ دیئے تو فیصلہ محفوظ کر لوں گا،

    جج ہمایوں دلاورنے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ لوگوں کو چائے پانی وغیرہ دیا جاتا ہے؟ جس پر صحافی نے جج کو جواب دیا کہ جی سر، کل تو چائے بھی پلائی گئی تھی، جج ہمایوں دلاور نے صحافیوں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چائے دراصل میں نے ہی آپ کے لیے بھیجوائی تھی، سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد چوتھی بار شروع ہوئی، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ بیرسٹر گوہرعلی صاحب کیا خبریں ہیں؟ وکیل گوہر علی نے چیرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثناء کی درخواست دائر کردی اور کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابل سماعت کے معاملے پردرخواست منظور کرکے معاملہ دوبارہ سیشن عدالت بھیجا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابلِ سماعت کا معاملہ دوبارہ سیشن عدالت کو بھیج دیا ہے، گواہان کی درخواست پر آئندہ ہفتے نوٹس جاری ہوئے اور اسٹے نہیں ملا،چیرمین پی ٹی آئی کی ٹرانسفر کی درخواستیں مسترد ہوگئی ہیں،جعلی فیس بک پوسٹس پر ایف آئی اے کو ڈائریکشن دی ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ اور ان کا کیا جنہوں نے جعلی فیس بک پوسٹس لہرائی ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ فیس بک پوسٹس لہرانے والوں پر آپ کو پیار آجاتا ہے، امجد پرویز کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل پہلے ہی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دے چکے ہیں ،عدالت نے ملزم عمران خان کو کل ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ، جج ہمایوں دلاود نے کہا کہ کل ملزم عمران خان کے وکلا پیش ہوں اور درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیں،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 بجے تک ملتوی کر دی اور کہا کہ سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، سماعتوں کے ریکارڈ کے مطابق ٹرائل اہنے اختتامی مرحلے میں ہے، ملزم نے ٹرائل کے اختتامی مرحلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کو ترجیح دی، عدالت نے قابلِ سماعت کے معاملے اور حتمی دلائل دینے کے لیے ملزم عمران خان کے وکلاء کو کل صبح ساڑھے 8 بجے طلب کرلیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون

    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون

    خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت پر قومی مکالمہ ہوا،وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے قومی مکالمے کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور انتخابی عمل میں خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کی نشاندہی کرتی ہے، جب خواتین ووٹر، امیدوار، انتخابی منتظم، یا انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تو سیاسی عمل زیادہ جامع ہوجاتا ہے، سیاسی اور انتخابی عمل میں خواتین کی مکمل شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،اگر خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کسی حلقے میں پول ہونے والے کل ووٹوں کے دس فیصد سے کم ہو تو الیکشن کالعدم ہوجاتے ہیں،قومی اسمبلی میں ہر صوبے، اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے لیے مختص نشستیں ہوں گی

    دوسری جانب خواتین کے بارے میں بڑھتے نفرت انگیز بیانات کا معاملہ ،قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے الیکشن کمیشن کے سامنے چارٹر اف ڈیمانڈ اور کوڈ آف کنڈیکٹ پیش کر دیا ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتی نفرت انگیز تقاریر پر اعلی ادرواں نے سر جوڑ لیے ، الیکش کمیشن میں چیف الیکشن کمیشن کمشنر کی زیر صدرات اجلاس ہوا، اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبرز اور سیکرٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی،قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیرپرسن نیلو فر بختاور اور لیگل ایڈویز شرافت علی چوہدری نے شرکت کی،

    الیکشن کمیشن میں خواتین کو معاشرے میں باعزت اور باقار بنانے کے لیے اعلی سطحی مینٹنگ کا انعقاد کیا گیا، اجلاس میں خواتین پارلیمنٹرین کے خلاف بڑھتی نفرت انگیز تقاریر پر بھی شدید تحظات کا اظہارکیا گیا، اجلاس میں سیاسی جماعتوں میں خواتین کی زیادہ شیمولیت , عام انتخابات میں خواتین کے جینڈر گیپ پر بھی بات چیت کی گئی، عام انتخابات میں ووٹرز لسٹوں میں خواتین ووٹرز کا گیپ کم ہونے پر بھی اطیمنان کا اظہار کیا گیا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کمیشن کی جانب سے پیش کیے جانے والے کوڈ آف کنڈیکٹ پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی،

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

     ہماری بیٹی آج سے ہمارے لئے مر گئی

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

     اگر بیٹی نے اسلام قبول کیا تو سب پاکستان کیوں نہیں جاتے

  • ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،جاوید لطیف

    ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،جاوید لطیف

    وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی گفتگو سے تاثر لیا گیا جیسے الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے ،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نئی مردم شماری پر الیکشن کی بات کہی تھی،حقائق یہی ہیں کہ نئی مردم شماری کے مطابق الیکشن ممکن نہیں، اسی لیے پرانی مردم شماری پر ہی الیکشن ہوں گے،ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،کچھ لوگ کہتے ھے کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی،پندرہ ماہ پہلے جو لوگ کمان میں تھے، انکا منصوبہ اس کمزور جمہوریت کو ختم کرنا تھا،آج شبر زیدی بات کر رہا ھے،کہ انتخابات کے بعد جو پارٹی حکومت بنائے گی وہ بدقسمت ہوگی، شبر زیدی کی یہ بات ٹھیک ھے،ہم ریاست بچا رہے ہیں، لوگوں کی آنکھوں میں ایک امید نواز شریف ہے، آنے والے انتخابات میں قوم کی امید نواز شریف ہے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف چوتھی دفعہ وزیراعظم بننے جا رہے ہیں،آج وزیراعظم دو دفعہ کہہ چکے ہیں کہ ادارے کے چیف کے خلاف بغاوت کی سازش ہوئی،دفاعی ادارے کے خلاف بغاوت کی جو سازش ہوئی اسکے پیچھے چھپے عناصر سامنے آئے ہیں،ایک ثابت شدہ مجرم کے اوپر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جارہا، اسکو ججز گیٹ سے نکالا جاتا ہے،اس شخص نے عدالتوں میں درخواستیں دینے کا ریکارڈ قائم کیا، کیا سانحہ نو مئی پر مزید کسی ثبوتوں کی ضرورت ہے،اگر کوئی قانون انسانی حقوق سے متصادم آتا ھے تو اسے ن لیگ کا بل کہا جاتا ہے، اگر کوئی ریلیف کا کام ہوتا ہے تو اسے اتحادی حکومت کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے،

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • الیکشن کمیشن،انتخابی نشانات الاٹ،استحکام پاکستان پارٹی کو "چڑیا” کی آفر

    الیکشن کمیشن،انتخابی نشانات الاٹ،استحکام پاکستان پارٹی کو "چڑیا” کی آفر

    الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات کیلئے انتخابی نشانات الاٹ کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ممبر نثار درانی کی زیر صدارت چار رکنی کمیشن نے سماعت کی،الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات کیلئے 23 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کردیے ،الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ کی انتخابی نشان کی درخواست پر فیصلہ روک دیا ،الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو چڑیا کا انتخابی نشان تجویز کردیا، الیکشن کمیشن نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی نے شاہین کا نشان مانگا جو پہلے سے آل پاکستان مسلم لیگ کے پاس ہے،استحکام پاکستان پارٹی نے ترجیحی لسٹ میں چڑیا کا نشان تیسرے نمبر پر رکھا،

    ممبر الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کے نمائندے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ چڑیا کا نشان لے لیں، یہ بھی شاہین کی طرح پرندہ ہی ہے،الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو شاہین کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی درخواست مسترد کردی

    استحکام پاکستان پارٹی کی تاحال رجسٹریشن زیر التواء ہے ،الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،

    الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کردیا ،جے یو ائی ف کو کتاب،رابطہ جمیعت اسلام کو انگوٹھی، پیپلز مسلم لیگ کو کپ، کسان اتحاد کو بالٹی کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا، ہزاری ڈیموکریٹک پارٹی کو چاند، پاکستان عوامی لیگ کو ہاکی اور پاکستان تحریک انسانیت کو چاقو کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا، پاکستان امن تحریک کو میزائل، تحریک تحفظ پاکستان کو پستول کا انتخابی نشان الاٹ کردیا گیا پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو شہید کو وکٹری، پاکستان فلاحی تحریک کو واسکٹ کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا گیا، جے یو آئی نظریاتی کو تختی، جدید عوامی پارٹی کو ہیلمٹ اور تحریک عوام پاکستان کو ٹیلیفون کا انتخابی نشان الاٹ کردیا گیا پاکستان فلاحی تحریک کو تھرموس اور اللہ اکبر تحریک کو جگ کا نشان الاٹ کر دیا گیا،

    الیکشن کمیشن نے آل پاکستان مسلم لیگ کے شاہین کے نشان کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد سے مشروط کردیا ،آل پاکستان مسلم لیگ نے 40 روز کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرا دی

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

    تحقیقاتی ایجنسیاں سیما کو واپس پاکستان بھجوانے پر غور کر رہی ہیں

     تحقیقاتی اداروں کو ابھی تک سیما اور سچن کی محبت پر یقین نہیں آیا 

    بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان پہلے بھی شادیاں ہوتی رہی ہیں،پہلے کس کس کی شادیاں ہوئیں جانتے ہیں

  • توشہ خانہ کیس،گواہان کی فہرست مسترد، کل فریقین حتمی دلائل کیلئے طلب

    توشہ خانہ کیس،گواہان کی فہرست مسترد، کل فریقین حتمی دلائل کیلئے طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن اور چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے خالد یوسف عدالت پیش ہوئے۔ عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، 12 بجے تک وقت دے دیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آج عمران خان کی جانب سے گواہان کی لسٹ فراہم کی جانی تھی۔ عدالت نے عمران خان کے وکیل خالد یوسف کو تنبیہ کی کہ گواہان کی لسٹ آج فراہم نہ کی گئی تو آپ کا حق ختم کر دیں گے اور کیس کی سماعت میں 12 بجے دوپہر تک وقفہ کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر عدالت کے روبرو پیش ہوئے،بیرسٹر گوہر کی جانب سے پرائیویٹ 4 گواہان کی لسٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی ،بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ ایک گواہ کا تعلق ٹیکس ریٹرنز سے ہے ،دوسرے گواہ کا تعلق نجی بینک سے ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ آج آپ نے گواہان کو پیش کرنا تھا صرف لسٹ کی فراہمی نہیں کرنی تھی، بیرسٹر گوہر نے کہاکہ کل تک کا ٹائم دیں ہم پیش کر دیں گے،،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ صبح سے دو سے تین مرتبہ سماعت میں وقفہ ہو اور اب بھی آپ ٹائم مانگ رہے ہیں

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    تیسری بار سماعت ہوئی تو جج ہمایوں دلاور نے ملزم عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ گواہان کہاں ہیں، وکیل ملزم نے کہا کہ گواہان سے متعلق تو ہم استدعا کر چکے ہیں کل تک کا ٹائم دیا جائے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے پرائیویٹ گواہان کو پیش کرنے کا آج کہا تھا، ابھی تک کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، کوئی سرکاری گواہ طلب کرنے کے لئیے درخواست نہیں دی گئی، بتایا جائے کہ پرائیویٹ گواہ کس طرح سے اس کیس سے متعلقہ ہیں،کیس ملزم کے فائل کردہ اثاثوں کا ہے، پہلے تین نام فراہم کردہ لسٹ میں ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں،یہ کیس انکم ٹیکس ریٹرن یا ویل سٹیٹمنٹ کا نہیں ہے، ملزم نے اپنے 342 کے بیان میں کہا وہ ٹیکس ریٹرن پر انحصار نہیں کرتے،گواہان کو پیش نہ کرنا کیس کو تاخیر کا شکار کرنے کے مترادف ہے، میں ہمشہ ڈیفنس سائیڈ کے کیس لڑتا رہا ہوں اور اسطرح کبھی گواہ پیش کرنے کا نہیں کہا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کی لسٹ پر آئین کہ یہ کون ہیں، وکیل ملزم نے کہا کہ گواہ عثمان علی نے چیئرمین پی ٹی آئی کا فارم بی تیار کیا تھا،میں نے اپنے اثاثے وقت پر جمع کروائے، میں اپنے گواہ کو عدالت لانا چاہتا ہوں،
    کوئی ایم این اے اپنا فارم خود نہیں فل کرتا، 24 گھنٹے سے کم وقت میں ہمیں کہا گیا کہ گواہ کو پیش کریں، دو دن کا وقت دیا جائے تاکہ ہم اپنے گواہ عدالت میں پیش کر سکیں، اگر گواہان کیس سے متعلقہ نہ ہوئے تو عدالت بےشک بیان ریکارڈ کروانے سے روک دے، 500 صفحات سے ذیادہ کا میٹرل ہے پرسوں تک کا عدالت وقت دیں،تمام گواہ عدالت میں آئیں گے اور بتائیں گے کہ دستاویزات سہی تھے یا نہیں،‏ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے، ہمیں ایک طرح کی لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،عدالت کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے،

    جج ہمایوں دلاور نے کھلی عدالت میں فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے وکیل بیرسٹر گوہر نے ڈیفنس کے گواہان کی فہرست فراہم کی مگر عدالت میں پیش نہیں کیا، چار گواہان کی فہرست عدالت کو دی گئی، عدالت سے استدعا کی گئی کہ گواہان کے بیانات کیلئے تاریخ دی جائے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے گواہان کی فہرست پر اعتراضات اٹھائے، سرکاری گواہان کہ فہرست بھی آج فراہم کی جانی تھی جو نہیں کی گئی، ‏ملزم کی جانب سے پرائیویٹ گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور نہ ہی سرکاری گواہان کی فہرست دی گئی، گواہان کی فہرست میں ٹیکس کنسلٹنٹ اور اکاؤنٹنٹ شامل ہیں، کیس فارم بی اور جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق فارم بی ملزم نے خود جمع کروانا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق ملزم اپنے جواب میں بھی ٹیکس ریٹرن پر انحصار نہیں کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل مطابق گواہان کیس سے متعلق نہیں اور کیس کو تاخیر کا شکار کرنا ہے، وکیل ملزم گوہر علی کے مطابق گواہان اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں، گواہان کو پیش کرنے کے حوالے سے عدالت سے جمعہ تک کا وقت مانگا گیا، ملزم کے خلاف الزام اثاثے چھپانے کا ہے اور جھوٹا بیان حلفی دینے کا ہے، ڈیفنس کونسل نے تسلیم کیا کہ چاروں گواہان ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں، عدالت انکم ٹیکس اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے حوالے سے انٹریوں کو نہیں دیکھ رہی، ملزم گواہان کو کیس سے متعلقہ ہونے کو عدالت میں ثابت نہیں کرسکے، گواہان کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عدالت حتمی دلائل کیلئے کل دونوں فریقین کو طلب کرتی ہے، اگر کوئی بھی حتمی دلائل کے لئیے پیش نہیں ہوتا عدالت فیصلہ کر دے گی،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب فراہم کی جانے والی لسٹ کو مسترد کر دیا ،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے وکلا گواہان کو کیس سے متعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے، عدالت نے فریقین کو حتمی دلائل کیلئے کل طلب کر لیا،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کل فریقین حتمی دلائل نہیں دیتے تو فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گا، عدالت نے کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی .

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے الیکشن ترمیمی بل 2023 کی منظوری دے دی

    بل وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کی جانب سے پیش کیا گیا، بل کے مطابق جاری معاشی منصوبوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کا اختیار نگران حکومت کو ملے گا نجکاری کمیشن ایکٹ، انٹر گورنمنٹل پرائیویٹائزیشن ایکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبے شامل ہیں

    بل میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی نشست پر 8000 سے کم جبکہ صوبائی اسمبلی نشست پر 4000 سے کم ووٹوں کے فرق پر دوبارہ گنتی ہوگی پریزائڈنگ افسران نتیجے کو فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے پابند ہوں گے حتمی نتیجے کی تصویر بنا کر ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کے ساتھ شئیر کی جائے گی الیکشن ٹربیونل میں ریٹائر ججز کو شامل نہیں کیا جائے گا،پریزائڈنگ افسر نتیجہ الیکشن کی رات 2 بجے تک دینے کا پابند ہو گا الیکشن نتائج جمع کرانے کی ڈیڈ لائن اگلی صبح 10 بجے تک ہو گی نادرا الیکشن کمیشن کو نئے شناختی کارڈ کے ریکارڈ فراہم کرنے کا پابند ہوگا،امیدوار 60 روز میں قومی اسمبلی،سینیٹ سیٹ کا حلف لینے کا پابند ہو گا سینیٹ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر تعلیمی قابلیت کے علاوہ 20 سالہ تجربہ درکار ہو گا، حلقہ بندیاں آبادی کے تناسب پر ہی کی جائیں گی،حلقہ بندیوں کا عمل انتخابی شیڈول کے اعلان کے 4 ماہ قبل مکمل ہو گا،حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کرے گا،حتمی نتائج کے تین روز میں مخصوص نشستوں کی حتمی ترجیحی فہرست فراہم کرنا ہوگی،قومی اسمبلی نشست کے لئے 40 لاکھ سے ایک کروڑ تک خرچ کرنے کی اجازت ہوگی، اگر الیکشن عملے کی وجہ سے الیکشن میں خرابی ہوتی ہے تو عملے کے خلاف کارروائی ہو گی صوبائی نشست کے لئے انتخابی مہم پر 20 سے 40 لاکھ خرچ کرنے کی اجازت ہوگی ،امیدوار 10 روز میں حلقے پولنگ عملے کی تعیناتی چیلنج کر سکے گا،سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشن کے باہر ڈیوٹی دیں گے،ہنگامی صورتحال میں سیکیورٹی اہلکار پریزائڈنگ افسر کی اجازت سے اندر آ سکیں گے،خواجہ سراؤں کو انتخابات لڑنے اورووٹ ڈالنے کی اجازت حاصل ہو گی مقررہ وقت میں انٹرا پارٹی انتخابات منعقد نا کرنے پر پارٹی کو شو کاز نوٹس کا اجراء اور جرمانہ عائد ہوگا

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ نے مجوزہ ترمیم پر تنقید کی،پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی، پی ٹی آئی کے علی ظفر، ثانیہ نشتر نے بل کی مخالفت کی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں سیکشن 230 میں ترامیم کو مسترد کیا جائے،اگر یہ ایوان مسترد نہیں کرتا تو سپریم کورٹ دس دنوں میں ان ترامیم کو غیر آئینی قرار دے دی گی، سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ منتخب اور تعینات شدہ وزیر اعظم کو ایک جیسے اختیارات کیونکر دیے جا سکتے ہیں؟ میں سیکشن 230 میں ترامیم کی مخالفت کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی نے الیکشن یکٹ میں ترمیم کی مخالفت کر دی
    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سینیٹر علی ظفرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے بڑی خوش اسلوبی سے کام کیا،تین قسم کی ترامیم متعارف کرائی گئیں،کچھ ترامیم صرف ایک مخصوص جماعت پی ٹی آئی کے لئے تھیں،کمیٹی نے میرے اعتراض کے بغیر ہی ان ترامیم کو ختم کر دیا،عوام نے پارلیمان کو ایک مقدس اختیار دیا ہے،قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہے جس کے بعد ملک نگران موڈ میں چلا جاتا ہے،ساری دنیا میں پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں یہ تصور پایا جاتا ہے،آئین میں نگران وزیراعظم اور نگران کابینہ کے الفاظ استعمال کئے گئے،نگران حکومت منتخب نمائندہ حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی،نگران حکومت کی واحد زمہ داری صاف شفاف اور بروقت انتخابات کا انعقاد ہے،نگران حکومت روزانہ کے انتظامی امور چلا سکتی ہے،اگر نگران حکومت کو منتخب حکومت کے اختیارات دئے جاتے ہیں تو یہ آئین کو روندنے کے مترادف ہو گا،خواجہ آصف نے سپریم کورٹ میں کیس کیا کہ نگران حکومت کو صرف روزانہ کے انتظامات چلانے ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں کئی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے دیا،اور کہا کہ آج کمیٹی میں پوچھا کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟سوال یہ ہے کہ نگران حکومت کو مستقل کردار دینے کی ضرورت کیا ہے؟ایوان سے التجا ہے کہ اس ترمیم مسترد کیا جائے،اگر ہم نہیں کریں گے تو دس دن میں سپریم کورٹ مسترد کر دے گا،پی ٹی آئی نے الیکشن یکٹ میں ترمیم کی مخالفت کر دی

    کچے کے ڈاکوؤں نے نہ صرف ہندو برادری بلکہ مسلمانوں کی زندگی بھی جہنم بنا دی ہے،کیسو مال کھیئل داس
    رکن قومی اسمبلی کیسو مال کھیئل داس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے علاقے غوث پور میں مندر پر کچے کے ڈاکوؤں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں،پاکستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگ پاکستان کے برابر شہری ہیں،پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم کسی صورت اپنا ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے،کچے کے ڈاکوؤں نے نہ صرف ہندو برادری بلکہ مسلمانوں کی زندگی بھی جہنم بنا دی ہے،انہوں نے حکومت سے تمام پاکستانیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے اور فوج سے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا مطالبہ کیا۔

    سینیٹر دنیش کمارکا ہندو کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے سندھ کے علاقے غوث پور میں ڈاکوؤں کی جانب سے مندر پر حملہ کرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کرنے اور ہندو کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ممبر قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ نے سیلاب سے بننے والی صورت حال سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ موضع سانبل میں ایک نیا پل "دوست محمد برج” بنایا گیا ہے اس کی وجہ سے دریا کا رُخ تبدیل ہو گیا ہے۔ پورا علاقہ دریا برد ہو گیا ہے , اور جتنے گھر تھے وہ دریا میں بہہ گئے ہیں مختلف چھ دیہات کا بھی یہی حال ہے یہاں انتہائی غریب لوگ رہتے ہیں درخواست ہے کے بند باندھ کے دریا کو روکا جائے محکمہ آبپاشی اور دوسرے منسلک محکموں سے بھی اس ایوان کے توسط سے تعاون کی اپیل ہے۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آنے والے الیکشن پہلے سے بہتر ہوں اور شفاف ہوں انہوں نے نگران حکومت کے حوالے سے ترامیم کی بھی وضاحت کی

    دہشتگردی کا مقابلہ ہر صورت کیا جائے گا،اسپیکر
    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں مسجد میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی مذمت کی گئی، حملے میں شہید پولیس آفیسر کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی،اسپیکر کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک بڑے عرصے سے دہشتگردی سے نبرد آزما ہے، پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اداروں نے دہشتگردی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز سینہ سپر ہوکر دہشتگردی کا مقابلہ کررہی ہیں،ہمارے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،دہشتگردی کا مقابلہ ہر صورت کیا جائے گا، اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ملک کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک رکھے، آمین

    سینیٹر مشتاق احمد نے مجلس شورٰی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کل قبائلی علاقے کی علی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ کل خودکش حملے پولیس افسر اے ایس آئی کی شہادت ہوئی ہے اور ایک مسجد شہید ہوئی ہے یہ ایک انتہائی افسوسناک صورت حال ہے قبائلی اضلاع بدترین بد امنی کا شکار ہیں چند دن پہلے بّاڑا میں بھی حملہ ہوا تھا درخواست ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو بدامنی کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اس کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھانے جائیں قبائلی عوام کو امن چاہیے قبائلی علاقوں میں لاء اینڈ آرڈر کا برا حال ہے اس پر خصوصی توجہ درکار ہے۔

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل