Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • عامر لیاقت کی قبر کشائی کی درخواست پر عدالت نے لواحقین کو طلب کر لیا

    عامر لیاقت کی قبر کشائی کی درخواست پر عدالت نے لواحقین کو طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے حوالہ سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    سٹی کورٹ میں عدالت نے درخواست پر سماعت کے بعد عامر لیاقت کے لواحقین اور ایس ایچ او تھانہ بریگیڈ کو نوٹس جاری کر دیا ہے، عدالت نے 18 جون کو لواحقین اور ایس ایچ او سے جواب طلب کیا ہے، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت کے لواحقین خود عدالت پیش ہوں یا اپنا جواب جمع کروائیں،

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ارسلان نے عدالت میں موقف اپنایا کہ کہ ڈاکٹرعامر لیاقت کی اچانک پراسرار موت ہوئی ہے جس کی وجہ کا تعین بہت ضروری ہے عامر لیاقت حسین کی اچانک موت سے ان کے مداحوں میں شکوک و شبہات ہیںشبہہ ہے کہ عامر لیاقت کو جائداد کے تنازع پر قتل کیا گیا ہےعامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے خصوصی بورڈ تشکیل جائے کیوں کہ وجہ موت کا سامنے آنا ضروری ہے

    دوسری جانب ڈاکٹر عامر لیاقت کی وفات کے باعث خالی ہونے والی این اے 245 کراچی کی نشست پرالیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیا، اس نشست پر الیکشن 27 جولائی کو ہو گا ضمنی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی 22 سے 24 جون تک جمع ہوں گے اسکروٹنی27 جون جبکہ حتمی فہرست 6 جولائی کو جاری کی جائے گیامیدواروں کو انتخابی نشان7 جولائی کو جاری کئے جائیں گے

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ہیں

    اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟

    عامر لیاقت نے دانیہ سے صلح کیلئے پیغام بھجوایا تھا۔جنازے میں شرکت کریں گے۔ ساس

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے،دوبارہ گنتی کی درخواست دیدی،حافظ سعد رضوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کے آخری وقت میں جیتنے پر تحریک لبیک نے دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی ہے

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ اہلیان کورنگی نے بوسیدہ سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر ہمیں سپورٹ کیا ٹی ایل پی کے کارکنان نے ہر مشکل میں پولنگ جاری رکھوائی تا ہم انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ بکس اٹھائے گئے یہ الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالیہ نشان ہے صرف ایک پولنگ بوتھ پر ٹی ایل پی کے 74 ووٹ مسترد کیے گئے ہمارے امیدوار نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے دھاندلی میں ملوث ہر کردار کو بے نقاب کریں گے ہم نے چھٹی کے روز ووٹنگ کی درخواست دی تھی

    واضح رہے کہ این اے 240 کورنگی کراچی 2 کے ضمنی الیکشن کے 309 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج آگئے جس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے محمد ابوکر10683 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے شہزادہ شہباز ز10618 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

    الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ کا ٹرن اور 8.38 فیصد رہا، کل ووٹرزکی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 855 ہے

     ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما نے نتائج ماننے سے انکار کردیا 

    گاڑی پر فائرنگ، حافظ سعد رضوی کا کارکنان کے نام اہم پیغام جاری

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    ہرمظلوم کا ساتھ دیں گے، ہم ہر ظالم کا ہاتھ روکیں گے،حافظ سعد رضوی کا اعلان

    قیادت نا اہلوں سے نکل کر ناقابل اعتبار لوگوں کے ہاتھ آ گئی،حافظ سعد رضوی

    وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد،حافظ سعد رضوی نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    سعد رضوی نے کہا ہے کہ چولستان پانی کی بوند بوند کو ترس گیا،

  • این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    کراچی:کراچی کے حلقے این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، لانڈھی میں فائرنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن نمبر 53 سے پولنگ کا عملہ بھاگ گیا، عملہ غائب ہونے پر نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پانچ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا انتقال ہوا۔

    خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی و دیگر جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔
    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

    ریجنل الیکشن افسرکے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا، واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اور پولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کی خالی نشست پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جس میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

    اس سے پہلے ٹی ایل پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ لانڈھی گوشت مارکیٹ پولنگ اسٹیشن نمبر1 ایم کیو ایم کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جس میں پریزائیڈنگ افسر بھی ملوث، ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    اس حوالے سے ٹی ایل پی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ کراچی ضمنی الیکشن این اے 240 میں ٹی ایل پی ضلع جنوبی کے امیر علامہ سلطان مدنی نے ایم کیو ایم کے کارکن کو بیلٹ پیپرز چوری کرنے پر پولیس کے حوالے کیا ہے ، ٹی ایل پی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر کو بھی پولیس کے حوالے کیا گیا.

    ادھر اطلاعات کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 66 اور 67 پر ووٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

    پریذائیڈنگ آفیسر کے مطابق پولنگ اسٹیشن 66 اور 67 پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ سست ہے، امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی آمد میں تیزی آئے گی۔این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ڈی آر او ندیم حیدر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    اس موقع پر ڈی آر او ندیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حلقے میں 203 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز میں تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ حکومت نے اس حلقے میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
    قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔

    حلقہ این اے 240 میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں، 309 پولنگ اسٹیشنز اور 1236 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔

    اس حلقے میں 106 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز اور 812 پولنگ بوتھس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی نشست ایم کیو ایم کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    https://twitter.com/WaqasJuttReal/status/1537335249264328706

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی ان کے مقابلے میں موجود ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کاشف قادری بھی ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مقابلے میں شامل نہیں۔

  • کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 میں پولنگ کا عمل جاری ہے پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : حلقےمیں کل 309 پولنگ اسٹیشن قائم کیےگئےہیں 5 لاکھ 29 ہزار 855 افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے حلقہ این اے 240 پرضمنی انتخاب کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس کے ساتھ سندھ رینجرز بھی سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان

    ضمنی انتخاب کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کے خصوصی دستے بنائے گئے ہیں۔ کراچی پولیس کے 1500 سے زائد اہلکار الیکشن کے دوران سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی کے درمیان مقابلہ ہے قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لئے پیپلزپارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری بھی میدان میں اترے ہیں جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    وفاقی وزیر سالک حسین کا پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ

    ضمنی انتخاب کے لئے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

  • کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی :کراچی ضمنی الیکشن،جوڑ توڑ جاری،پی پی اورایم کیوایم کے درمیان سخت مقابلہ ،اطلاعات کے مطابق سیاسی ماحول ایک بارپھر گرم ہے اورسیاست کے ایوانوں میں جہاں ایک طرف دوستیاں ہیں تو وہاں دوسری طرف حلقے کی سیاست میں انتہائی مخالفت بھی جاری ہے، کچھ ایسا ہی کراچی میں ہورہا ہے جہاں ایک مرنے والے قومی اسمبلی کے رکن کے حلقے میں ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے ،کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے240 پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے چند گھنٹے قبل متعدد امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    ذرائع کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 سے ایم کیو ایم پاکستان کے رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست پر پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے ایک روز قبل بھی جوڑ توڑ جاری ہے اور متعدد آزاد امیدواروں نے دستبرداری اور کئی سیاسی جماعتوں اور برادریوں نے انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق عجیب صورتحال ہے، وہ پارٹیاں‌ اس وقت پارلیمنیٹ میں موجود ہیں وہ وہاں توایک دوسرے کا دم بھررہی ہیں لیکن حلقے میں ایک دوسرے کی مخالفت کررہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آزاد امیدوار عمیر علی انجم ایم کیو ایم امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار نعیم حشمت نے بھی دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف)، مئیو برادری اور قریشی برادری نے اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک اورآزاد امیدوار شاہین خان نے مہاجر قومی موومنٹ کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا ہے، دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ناصر لودھی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    دستبرداری اور حمایت کے اعلان کے بعد اب حلقے میں 6 سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 15 آزاد امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مذکورہ حلقے میں حلقےمیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، مہاجر قومی موومنٹ اور ٹی ایل پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    واضح رہے کہ کل این اے 240 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات مکمل کرنے کے بلند وبانگ دعوے کئے گئے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔پولنگ سامان کی ترسیل کے لئےحاصل ٹرانسپورٹ ناکافی ہونے کے باعث عملہ انتخابی مواد اپنی مدد آپ کے تحت متعلقہ پولنگ اسٹیشن لے جارہاہے،کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں امن وامان کی صورت حال کوبہترکرنےکے لیے متعلقہ سیکورٹی حکام کوشاں ہیں

  • مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    مراد سعید کے پاس گھر نہیں، شہباز شریف بیٹے کے مقروض،بلاول کے اثاثے بھی سامنے آ گئے

    الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    وزیراعظم شہباز شریف 24 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، وزیراعظم شہباز شریف 14 کروڑ روپے سے زائد کے مقروض ہیں شہباز شریف نے سلمان شہباز سے 6 کروڑ روپےسے زائد کا قرض لے رکھا ہے، شہباز شریف کے پاس 2گاڑیاں، بینک بیلنس 2 کروڑروپے سے زائد کا ہے،شہباز شریف بیرون ملک 13 کروڑ 74 لاکھ روپے کے اثاثوں کے بھی مالک ہیں

    شہباز شریف نے بیویوں نصرت شہباز اور تہمینہ درانی کے اثاثے بھی ڈکلیئر کر دیئے، شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز 23 کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالک ہیں شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کے اثاثوں کی ملکیت 57 لاکھ 60 ہزار ہےشہباز شریف کے اثاثوں میں 2020 کی نسبت 2021 میں 3 لاکھ روپے کی کمی آ ئی ،

    الیکشن کمیشن نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں وزیرخارجہ بلاول بھٹو ایک ارب 60 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں، بلاول بھٹو کے ذمہ 3 لاکھ 34 ہزارروپے واجب الادا ہیں بلاول بھٹو نے بیرون ملک اپنے کاروبار بھی ظاہر کیے بلاول بھٹو کا بینک بیلنس 12 کروڑ روپے سے زائد کا ہے،

    آصف علی زرداری 71 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں آصف زرداری کا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں ہے،

    پی ٹی آئی کے مراد سعید کا کوئی اپنا گھر نہیں، مراد سعید کے پاس ایک گاڑی اور 15 تولہ سونا ہے،مراد سعید کے اکاونٹس میں 29 لاکھ 63 ہزار سے زائد رقم ہے، عمر ایوب ایک ارب 19 کروڑ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں عمر ایوب کے ذمہ 11 لاکھ 55 ہزار روپے واجب الادا ہیں عمر ایوب نے بیرون ملک بزنس کی تفصیلات بھی جمع کرائیں،اسد قیصر ساڑھے 8 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک، ایک کروڑ 17 لاکھ سے زائد کے مقروض ہیں،سابق اسپیکر اسد قیصر کے پاس 6 کروڑ 72 لاکھ سے زائد کی جائیداد ہے اسد قیصر نے 58 لاکھ روپے کا بزنس ظاہر کیا ہے،اسد قیصر ایک گاڑی کے مالک، 96 لاکھ سے زائد رقم بینک بیلنس کے مالک ہیں

    پرویز خٹک 16 کروڑ 71 لاکھ کے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں،پرویز خٹک3 کروڑ روپے بینک بیلنس اور 2 کروڑ 56 لاکھ روپے کے مقروض ہیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

  • عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ

    عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے 2021 کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں

    عمران خان کے 2020 کی نسبت 2021 کے اثاثوں میں 6 کروڑروپے سے زائد کا اضافہ ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 14 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں ،عمران خان کے 2020 میں اثاثوں کی کل مالیت 8 کروڑ سے زائد تھی،عمران خان پر 2020 میں 7 کروڑ روپے سے زائد کا قرض تھا، 2020میں قرض کی رقم شامل کر کے اثاثوں کی مالیت 15 کروڑ روپے سے زائد تھی، 2021کےاثاثوں کے مطابق عمران خان کے ذمہ کچھ واجب الادا نہیں،عمران خان نے زمان پارک، میانوالی اور بھکر میں وراثتی زمین ظاہر کیں،

    چیئرمین تحریک انصاف نے بنی گالا گھر کو گفٹ ظاہر کیا ہے،عمران خان گرینڈ حیات اسلام آباد ٹاور میں ایک کروڑ 19 لاکھ روپے فلیٹ کے مالک ہیں عمران خان کا اندرون یا بیرون ملک کوئی کاروبار نہیں،نہ ہی کوئی ذاتی گاڑی ہے،عمران خان کا بینک بیلنس 6 کروڑ 3 لاکھ روپےسے زائد ہے، عمران خان کے 2 ڈالرز اکاونٹس میں 3 لاکھ 29 ہزار ڈالرز ہیں، عمران خان کے ذمہ 2020 میں 7 کروڑ روپے واجب الادا، 2021 میں کوئی قرض نہیں عمران خان نے گزشتہ سال کا 7 کروڑ روپے قرض ادا کر دیا

    عمران خان نے اثاثوں میں 2 لاکھ روپے مالیت کی 4 بکریاں بھی ظاہر کی ہیں،چیئرمین تحریک انصاف کے پاس 5 لاکھ مالیت کا فرنیچر ہے، عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کرائی بشریٰ بی بی کے پاس 431 کینال کی پاکپتن میں دو مختلف زمینیں ہیں، بشریٰ بی بی بنی گالا اسلام آباد میں 3 کینال کے گھر کی مالک ہیں،

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف

    پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف

    پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی،پی ٹی آئی وکیل کا اعتراف
    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کاز لسٹ میں آج بھی فارن فنڈنگ لکھا ہوتا ہے، پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ کیس ممنوعہ فنڈنگ کا ہے،فارن فنڈنگ نہیں، چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ آپکا موقف درست ہے،آئندہ کیس کو فارن فنڈنگ نہ لکھا جائے، ۔چیف الیکشن کمشنر نے انور منصور سے کہا کہ آپ کے موکل بھی میڈیا پرفارن فنڈنگ کا لفظ استعمال کرتے رہے ہیں آپ کا مؤقف درست ہے اس لیے ہدایات جاری کی ہیں

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس پر الیکشن ایکٹ نہیں بلکہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 لاگو ہو گا پی پی او کے تحت فارن فنڈنگ میں غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیاں آتی ہیں، الیکشن ایکٹ 2017 میں پاکستانی شہریوں کے علاوہ کسی سے بھی فنڈز لینے پر ممانعت ہے 2017 تک کے تمام کیسز پر 2002 کے قانون کا ہی اطلاق ہو گا بھارت میں بیرونِ ملک رہائش پزیر شہری بھی سیاسی پارٹی کو چندہ نہیں دے سکتے بھارت میں دہری شہریت کی اجازت نہیں جبکہ پاکستان میں قانون موجود ہے ،اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ فارن فنڈڈ پارٹی کے حوالے سے بھی قانون واضح ہے

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ فارن فنڈڈ جماعت کے خلاف الیکشن کمیشن نہیں وفاقی حکومت کارروائی کر سکتی ہے اسکروٹنی کمیٹی کو تمام تفصیلات اور مؤقف سے آگاہ کیا تھا اسکروٹنی کمیٹی صرف قانون میں درج طریقہ کار کے مطابق پڑتال کر سکتی ہے اسکروٹنی کمیٹی نے قرار دیا کہ جو ہمارے معیار پر پورا اترتا ہے اس کو ہی قبول کریں گے ہمارا قانون بہت واضح ہے جہاں جہاں رپورٹ میں مسائل تھے ان کی میں نے نشاندہی کر دی رپورٹ بھارتی قانون کی بنیاد پر بنائی گئی ہے ہمارا اور بھارت کا قانون بہت مختلف ہے کوشش کر رہا ہوں کہ آج لمبے لمبے دلائل نہ دوں ان سے کہا گیا آپ کا انفارمیشن کا ذریعہ کیا ہے اور ہم سے کہا گیا کہ آپ ثابت کریں ٹی او آرز درخواست گزار کی انفارمیشن کی بنیاد پر بنائے گئے فارا سے ڈاؤن لوڈ کی گئی ان کی لسٹ کمیٹی نے قبول نہیں کی خود ڈاؤن لوڈ کی اسکروٹنی کمیٹی نے قرار دیا کہ اکبر ایس بابر کی دستاویزات قابلِ تصدیق نہیں دستاویزات مسترد ہونے کے بعد اکبر ایس بابر کا کیس سے تعلق ختم ہو جاتا ہے اکبر ایس بابر صرف اپنی دستاویزات کی حد تک کمیشن کو مطمئن کر سکتے ہیں ڈونرز کی تفصیلات تحریکِ انصاف اپنے طور پر شفافیت کے لیے جمع کرتی تھی قانون میں ڈونرز کی تفصیلات کو 2020 میں لازمی قرار دیا گیا پارٹی اکاؤنٹس میں ممنوعہ فنڈنگ آئی بھی ہے تو واپس کر دی گئی اسکروٹنی کمیٹی نے فنڈنگ کے ذرائع مانگے تھے جو دیے اور ثابت بھی کر دیے

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ یہ صرف اپنی حد تک دلائل دے سکتے ہیں جو اکاؤنٹس اصلی ذرائع سے نہیں وہ درست نہیں ہیں، کمیٹی نے محنت سے کام کیا لیکن درست حقائق کا جائزہ نہیں لے سکی میری استدعا ہے کہ اس درخواست کو ختم کیا جائے میں کچھ دنوں تک دستاب نہیں ہوں گااگر درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے نئی چیز آئی اور میری ضرورت ہوئی تو پیش ہو جاؤں گا پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے

    اکبر ایس بابر کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ عدالت میں لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتے ہیں مجھے بھی اتنے ہی دن ملنے چاہئیں جتنے ان کو ملے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ آپ کو بھی دلائل دینے کا مکمل موقع دیا جائے گاالیکشن کمیشن آف پاکستان نے کیس کی سماعت پیر 20 جون تک ملتوی کر دی

    اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر کوہمیں دلائل دینے کا کہا گیا جومختصر ہوں گے عمران خان کی وجہ سے آج ہم اس نہج پر پہنچے ہیں،شوکت ترین نے اعتراف کیا کہ 76 فیصد قرضہ بڑھایا گیا،معیشت تباہ ہوتی ہے تو قومی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے، افسوس ہے عمران خان کے بیان کا کسی ادارے نے نوٹس نہیں لیا،عمران خان اداروں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے فارن فنڈنگ کیس کہا جارہا تھا الیکشن کمیشن نے تسلیم کرلیا وہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس سن رہے ہیں

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

  • اگر سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوجائے تو کتنی اچھی بات ہوگی،عدالت

    اگر سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوجائے تو کتنی اچھی بات ہوگی،عدالت

    اگر سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوجائے تو کتنی اچھی بات ہوگی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کی جانب سے انور منصوراو شاہ خاور ایڈووکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے الیکشن کمیشن اور دیگر جماعتوں کے وکلا بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، وکیل پی ٹی آئی انور منصور نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوجائے تو کتنی اچھی بات ہوگی،انور منصور نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے صرف ایک سیاسی پارٹی کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے ایک بڑی سیاسی جماعت کے خلاف کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سنا گیا،،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تو کہا کہ ٹائم فریم میں ہی سب کو سنا جائے گا،اگر باقی سیاسی جماعتیں اس بات کو نیب کیسز کے لیے لیں لے تو کیا ہم اس کو ڈائرکشن دے سکتے ہیں ؟ اس وقت عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کا کوئی فیصلہ موجود نہیں، فریقین کے دلائل مکمل ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلدیاتی انتخابات کے اعلان سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن چیلنج کر دیا گیا،ن لیگ اورپیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی،درخواستمیں سیکریٹری داخلہ، وفاق بذریعہ وزیراعظم کے سیکریٹری اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے،

  • بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لئے دائر متفرق درخواست نمٹاتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجواتے ہوئے 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ میں پاکستان پیپلز پا رٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لئے متفرق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس شمس محمود مرزا نےپاکستان نژاد امریکی شہری سید اقتدار حیدر کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ

    درخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور بلاول بھٹو زرداری کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت دو پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، ایک کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں، دوسری پیپلز پا رٹی پارلیمنٹرین کے نام سے رجسٹرڈ ہے، جس کے سربراہ آصف علی زر داری ہیں۔

    درخواست گزار نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے این اے 200 لاڑکانہ سے الیکشن پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر لڑا، ان کا اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا الیکشن ایکٹ 2017کی خلاف ورزی ہے، اس غیر آئینی اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں جن پر کمیشن فیصلہ نہیں کر رہا، عدالت الیکشن کمیشن کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے۔

    خیبر پختونخوا محکمہ ٹرانسپورٹ کا پرانی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ

    درخواست گزارسید اقتدار حیدر نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن قوانین کے تحت کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری جماعت کا پرچم اور انتخابی نشان استعمال نہیں کر سکتی جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین کے انتخابی نشان تیر کو استعمال کیا بلاول بھٹو کا اقدام الیکشن ایکٹ کے سیکشن دوسوپندرہ کی ذیلی شق تین کی خلاف ورزی ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے پرچم کو غیر قانونی طور پر اپنی جماعتی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں آصف علی زرداری کا اقدام الیکشن ایکٹ کے سیکشن 200 کی خلاف ورزی ہے، لہذا عدالت بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کو نااہل قرار دے۔

    صدرملکی معاملات میں رکاوٹ نہیں بنتےمگرہمارے صدربن چکے ہیں،شاہد خاقان عباسی