Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • 25 ارکان پنجاب اسمبلی کے نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ

    25 ارکان پنجاب اسمبلی کے نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن میں 25 ارکان پنجاب اسمبلی کے نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی اور منحرف ارکان کے وکلا کے دلائل مکمل ہو گئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے منحرف ارکان کیخلاف نااہلی ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجا تھا

    الیکشن کمیشن میں منحرف ارکان کے خلاف سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پی پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کی تشہیر کی چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کے دلائل سنے منحرف ارکان نے کہا کہ انہیں یہ نہیں کہا گیا کہ پرویز الٰہی کو ووٹ نہیں دینا جس پر وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسد عمر نے بطور پارٹی سیکریٹری جنرل تمام ارکان کو خط لکھ کر آگاہ کیا منحرف اراکین نجی ہوٹل میں اکٹھے ہوتے رہے 7 اپریل کو ارکان کو دوبارہ شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے دستاویزات کورئیر کرنے کا اوریجنل ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا علیم خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے نئی دستاویزات جمع کرانے پر اعتراض کیا ممبر نثار درانی نے استفسار کیا اس موقع پر نیا ریکارڈ جمع کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ جس پر وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ پہلے فوٹو کاپیز تھیں اب اصل ریکارڈ جمع کرا رہے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 16 اپریل کو تمام منحرف ارکان نے وزیراعلٰی کیلئے حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کیا، پی ٹی آئی منحرف ارکان کے ووٹ سے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 16 اپریل کو پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اس سے اسمبلی کا وقار کم ہوا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی رکن نے ووٹ کاسٹ کرنے سے انکار نہیں کیا

    الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کے منحرف ارکان کی نااہلی سے متعلق ریفرنسز پرفیصلہ کل 12 بجے سنائے گا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس پر ہوئی سماعت

  • ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    ہم نے الیکشن کمیشن کو کاروائی سے نہیں روکا،قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،عدالت

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ کے خلاف پٹیشن کو بھی یکجا کر کے سماعت کی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن، اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سمجھتا ہے کسی اکاؤنٹ میں کچھ مسئلہ ہے تو پارٹی کو شوکاز کرے گا، اسکروٹنی کمیٹی دو کیسز میں بنی ہے، ایک پی ٹی آئی کے خلاف دوسری ہماری دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے,

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے ا سکروٹنی کمیٹی مخصوص کیسز میں ہی بنتی ہے،وکیل نے کہا کہ عامر کیانی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹسز جاری کر رکھے ہیں،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بڑے اختیارات ہیں،وکیل نے کہا کہ ہماری طرف سے الیکشن کمیشن میں تاخیر نہیں ہے آج بھی وکیل انور منصور پیش ہوئے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف درخواست 2014 میں دائر ہوئی،دیگر جماعتوں کے خلاف درخواست 2020 میں آئی،پی ٹی آئی چاہتی ہے دونوں کو ایک ساتھ چلائیں،یہ چاہتے ہیں 2014 اور 2020 والے کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی ایک کے خلاف پہلے فیصلہ کریگا تو اس کے سیاسی اثرات ہونگے، یہ آئینی عدالت ہے ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کہیں گے، الیکشن کمیشن کا تو کام ہے ہر سال ا سکروٹنی کرنا، کیا ایسا نہیں ہو رہا؟الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے سیاسی جماعتوں کیلئے مشکلات ہونگی، وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا لیکن انہوں نے چیزیں فراہم نہیں کیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ اس عدالت کی معاونت کر دیں، وکیل نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں جو کیس حتمی مرحلے میں ہے اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں دیگر کی کارروائی تیز کر دیتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتیں اس درخواست میں اپنا جواب جمع کرائیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس دوران الیکشن کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ،جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے تو نہیں روکا،شاہ خاور ایڈوکیٹ نے کہا کہ وہ تو ہم بھی نہیں کہہ رہے کہ کارروائی روک دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی بات مناسب ہے کہ سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جانی چاہیے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن تو اس بات کو یقینی بناتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا ہے،ایک بات تو واضح ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اب جا کر اگر اس قانون پر عملدرآمد ہو رہا ہے تو اس پر بھی اعتراضات ہیں سیاسی جماعتوں کا اس ملک میں بڑا اہم کردار ہے، اس ملک نے سیاسی جماعتوں کو بہت خراب کیا ہے،کسی سیاسی جماعت کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ انہیں سنگل آؤٹ کیا جا رہا ہے

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس پر ہوئی سماعت

    پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس پر ہوئی سماعت

    پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی وکلا نے بیان حلفی اور جواب الجواب کی دستخط شدہ کاپی جمع کرا دی الیکشن کمیشن میں منحرف اراکین کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل دیئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے نیا جواب الجواب آج جمع کرا دیا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو دستخط شدہ کاپی جمع کرانے کی ہدایت کی تھی،غیر دستخط شدہ دستاویزات جمع کروانے کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟ وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نئے جواب الجواب کو مسترد کرے،وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ ایم این ایز کے کیس میں الیکشن کمیشن نے نیا ریکارڈ جمع کرانے کی درخواست مسترد کی،اس کیس میں جواب الجواب کی اڑ میں مزید ریکارڈ جمع کرایا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہے جواب الجواب میں جمع ریکارڈ کیس کا حصہ بنانا ہے یا نہیں

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے غیر دستخط شدہ جواب الجواب کو کارروائی سے حذف کرتے ہوئے آج جمع کرایا گیا دستخط شدہ جواب الجواب منظور کرلیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آج جمع کرائے گئے جواب کے تحت کارروائی بڑھائی جائے

    وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ ایم پی اے عظمیٰ کاردار کا کیس مختلف ہے عظمیٰ کاردار کی پارٹی رکنیت ختم کردی گئی، عظمیٰ کاردار کو پارٹی کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں بھجوایا گیا،پارٹی رکنیت ختم ہونے کے باعث عظمیٰ کاردار پارٹی ہدایات پر عمل کی پابند نہیں تھیں،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات نہ ہونے پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا،

    علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی اور چیئرمین میں واضح فرق ہے،ممبر ناصر درانی نے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے.، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں16اپریل کو علیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، 4اپریل کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پورا کیس بنایا گیا ہے،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا ریفرنس میں کہیں زکر نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی،پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ نہ آنے پر ارکان کسی کو بھی ووٹ دینے کیلئے آزاد تھے،وزیر اعلیٰ کےلیےدوسری پارٹی کے رکن کا انتخاب کیا گیا جمہوریت میں پارلیمانی پارٹی کے اندر گفت و شنید ہونا ضروری ہے، ممبر نثار درانی نے استفسار کیا کہ سب سیاسی جماعتوں کے اندر ایسی ہی صورتحال ہے،ممبر شاہ محمود جتوئی نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر تحریک عدم اعتماد آئی، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جمہوریت میں پارٹی کے اندر اختلافی بات بھی سنی جاتی ہے،پارٹی ارکان کے وزیر اعلیٰ کیلئے دوسری جماعت کی حمایت پر اعتراض تھے، سیاسی جماعت، پارلیمانی پارٹی سربراہ اور پارٹی سربراہ میں واضح فرق ہے پارٹی سربراہ کوئی بھی ہوسکتا ہے،آئین میں اہم فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو دیا گیا ، وزیراعلیٰ کے الیکشن کیلئے ہدایات پارلیمانی پارٹی کی جانب سے آنی تھیں،ریفرنس میں پارلیمانی پارٹی ہدایات کا کوئی ذکر نہیں ہے، عمران خان نے یکطرفہ طور پر پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا،پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کی بجائے ارکان کو عمران خان کی جانب سے ڈکٹیٹ کیا گیا،پارٹی چیئرمین کی یہ ہدایت بھی علیم خان کو موصول نہیں ہوئی، شوکاز نوٹس آرٹیکل 63 اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا،علیم خان کے خلاف الزامات کا کوئی وجود نہیں، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت نہ ہو تو رکن ووٹ ڈالنے میں آزاد ہوتا ہے؟ آج الیکشن کمیشن میں نیا جواب الجواب جمع کرایا گیا،

    ممبر نثار درانی نے استفسار کیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد تھا یا نہیں؟ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر تھا، اسپیکر خود بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار تھے،ہائیکورٹ حکم کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی صدارت کی،سبطین خان اور سید عباس علی شاہ نے عمران خان کی جانب سے جواب الجواب جمع کرایا، عمران خان نے جواب الجواب اپنے نام سے جمع نہیں کرایا،جعلی جواب الجواب جمع کرانے کے سنگین نتائج ہیں، کچھ تو ہے جو عمران خان اپنی بجائے کسی اور کے نام سے ریکارڈ جمع کرا رہے ہیں، قانون شہادت آرڈر کے تحت جواب الجواب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،الیکشن کمیشن آج جمع کرائے جواب الجواب کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنائے،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے وکیل پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کو پہلے نمبر لگنے دیں،نمبر لگنے کے بعد نوٹس جاری کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے گا،سپریم کورٹ نے فواد چودھری کو بطور وکیل بات کرنے سے روک دیا ،عدالت نے پی ٹی آئی کو الیکشن پلان سمیت دیگر اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دے دی تحریک انصاف کی فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے سے روکا جائے،غیر قانونی طور پر نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر دیا گیا

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر د ی سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی- درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے

    عدالت میں پیشی کے بعد سپرریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو ہر وقت انتخابات کے لیے تیار رہنا چاہیے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق معاملے میں الیکشن کمیشن کی بدنیتی شامل ہے ملک میں 2 وزرئے اعظم ہیں، حکومت کو آئے ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا اور 4 غیر ملکی دورے ہوگئے ہیں ایک وزیر خزانہ لندن میں دوسرا پاکستان میں بیٹھا ہے ہم مستحکم معیشت چھوڑ کر گئے تھے، یہ لوگ پاکستان کو دیوالیہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ثاثے غیر ملک چلے جائیں، اسٹاک ایکسچینج میں مندی ہےاور ڈالر 193 روپے کا ہوا ہے، ڈیڑھ ماہ میں پورے ملک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے سری لنکا کے پاس تیل امپورٹ کرنے کے پیسے نہیں تھے یہاں بھی ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • ابھی بھی ہم کہیں انحراف نہیں ہوا تو دنیا ہم پر ہنسے گی، پی ٹی آئی وکیل کے دلائل

    ابھی بھی ہم کہیں انحراف نہیں ہوا تو دنیا ہم پر ہنسے گی، پی ٹی آئی وکیل کے دلائل

    ابھی بھی ہم کہیں انحراف نہیں ہوا تو دنیا ہم پر ہنسے گی، پی ٹی آئی وکیل کے دلائل

    پی ٹی آئی کے پنجاب میں منحرف اراکین کے حوالہ سے درخواست پر الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر قانونی نکات اٹھاوں گا،وکیل منحرف اراکین نے کہا کہ جواب الجواب میں کئی ایسی دستاویزات ہیں جو کیس کا حصہ نہیں، اس موقع پر ایسی دستاویزات جمع نہیں کرائی جاسکتیں،الیکشن کمیشن کو پہلے سے موجود ریکارڈ پر ہی فیصلہ کرنا ہوگا، اخباروں کے تراشے جواب الجواب میں شامل کیے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا اعتراض جمع کرادیجیے گا،ہم نے رجسٹر کرلیا ہے،

    بیرسٹر علی طفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان قومی اسمبلی کیس میں بڑا فیصلہ سنایا پنجاب کے منحرف ارکان کا کیس مختلف ہے، آرٹیکل 63 اے سپریم کورٹ میں بھی زیر بحث ہے،انحراف کی صورت میں نا اہلی تاحیات ہے یا نہیں اس کو نہیں چھیڑوں گا،آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کے سنگین نتائج ہیں، پارٹی جماعت کا رکن پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرے تو آرٹیکل 63 اے لاگو ہوگا،وزیر اعلیٰ پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں ارکان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی،منحرف اراکین نے پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر مخالف پارٹی کو ووٹ کاسٹ کیا،ووٹ کاسٹ کرتے ہی ارکان انحراف کے جرم کے مرتکب ہوچکے ہیں،دیکھنا ہے پارٹی نے ارکان کو ووٹ سے متعلق ہدایات جاری کیں یا نہیں، انحراف کے بعد ارکان کے خلاف پارٹی چیئرمین نے ریفرنسز بھجوائے،انحراف کے بعد پارٹی چیئرمین رکن کو صفائی کا موقع دے گا جو پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے پارٹی چیئرمین منحرف رکن کو معاف کر سکتا ہے یا کارروائی کیلئے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے نہیں تھا تو کئی وزرائے اعظم ساتھیوں کے چھوڑنے پر مستعفی ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا آئین میں ایسی شق چاہتا ہوں کہ کوئی انحراف نہ کرے،نواز شریف نے بھی پارٹی انحراف کیخلاف آئین میں شق شامل کی تھی، نواز شریف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بھی نااہلی کی شق شامل کی تھی،اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کو موجودہ شکل میں شامل کیا گیا،عدالتیں پارٹی سے انحراف کو کینسر قرار دے چکی ہیں کیس بڑا واضح ہے ،الیکشن کمیشن کے پاس سنہری موقع ہے ،اس کیس کو technicalities کا شکار نہ ہونے دیں ،تاریخ آپ کو یاد رکھے گی ،انحراف ہوا ہے اور اس کے نتائج واضح ہیں ، اتحادی حکومت میں پارٹی چیئرمین کی ہدایات دوسری جماعتوں پر لاگو نہیں ہوں گی منحرف اراکین کے خلاف پارٹی چیئرمین کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکا ہے،چیف الیکشن کمشنر ریفرنسز پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں،ریفرنس پر پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے کی وجوہات جاننا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،پارٹی پالیسی سے انحراف ثابت ہوگیا تو جرم مکمل ہوگیا،ابھی بھی ہم کہیں انحراف نہیں ہوا تو دنیا ہم پر ہنسے گی، قوم اس وقت اپنی توقعات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب دیکھ رہی یے،الیکشن کمیشن کے پاس قوم کی توقعات پر پورا اترنے کا سنہری موقع ہے، منحرف ارکان کو 3 مرتبہ شوکاز نوٹسز بھجوائے گئے، حمزہ شہباز کا ایک الیکشن مشہور فلیٹیز ہوٹل میں بھی ہوا وہاں بھی منحرف ارکان موجود تھے ،الیکشن کمیشن فیصلہ دیکر نئی روایت رقم کرے،

    ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرے گا، الیکشن کمیشن میں سماعت ،پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے

    الیکشن کمیشن میں منحرف اراکین کے وکیل شہزاد شوکت کے جواب الجواب پر اعتراض عائد کر دیا گیا،وکیل منحرف ارکان شہزاد شوکت نے کہا کہ جواب الجواب اور عمران خان کا بیان حلفی جمع کرائیں، جواب الجواب میں جعلی دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئیں،جواب الجواب کی اصل دستاویز ابھی تک نہیں جمع کرائی گئیں الیکشن کمیشن نے تصدیق شدہ جواب الجواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    الیکشن کمیشن ،وکیل فیصل چودھری نے بیرسٹر علی ظفر کے دلائل ایڈاپٹ کر لیے ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ صرف دو مزید نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں،یکم اپریل کو پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس لاہور میں ہوا، وکیل فیصل چودھری نے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے منٹس الیکشن کمیشن میں پڑھ کر سنائے اور کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ کے الیکشن کیلئے ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا،عمران خان نے 5 اپریل کو لاہور میں پارلیمانی پارٹی اجلاس کی صدارت کی،منحرف ارکان نے مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈالنا تسلیم کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں ہمارے لوگوں کو ایوان میں گھسنے تک نہیں دیا گیا، ممبر شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ ووٹ کاسٹ ہوگیا تو تکنیکی باتوں میں اپ کیوں جارہے ہیں، وکیل فیصل چودھری نے وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں پیش کردیا ،

    وکیل فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ ایسا تو اسکول کے الیکشن میں نہیں ہوتا جیسے وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں ہوا،ووٹ عمران خان کا اور نعرے نواز شریف کے ایسا قابل قبول نہیں،

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

  • تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

    منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے ریفرنس کو مسترد کئے جانے پر تحریک انصاف عدالت جائے گی، سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو انتہائی جانبدارانہ اورمتعصبانہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی صدر مملکت کی بجائے عمران خان کے کٹھ پتلی بن گئے ہیں عمران خان میگا سیکنڈلز کے احتساب اور حساب سے خوفزدہ ہوکر اداروں کو متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش میں ہے اتحادی حکومت انتخابی اصلاحات کے بعد آزادانہ صاف اور شفاف انتخابات کرائے گی الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے وکیل کا فارن فنڈنگ گڑ بڑ تسلیم کرنا اعتراف جرم ہے پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن کے سامنے عمران خان کے با خبر ہونے کی گواہی دیکر ٹھوس ثبوت فراہم کر دیا ہے آئین کے تحت ملک دشمن ممالک کے شہریوں سے فنڈنگ لینے والا پارٹی سربراہ غداری کے زمرے میں آتا ہے پی ٹی آئی دور میں 3 اپریل سے اب تک آئین شکنی عناصر کے خلاف آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کن کارروائی ہوگی آئینی ہتھیار کے زریعے نکالے گئے آئین شکن عناصر کیساتھ آئین اور قانون کے مطابق نمٹا جائے الیکشن کمیشن نے قانون اور قوائد کے تحت پی ٹی آئی منحرف اراکین کے خلاف ریفرینس مسترد کیا ہے،

    گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا تھا، قائم مقام سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکین قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، الیکشن کمیشن نے راجہ ریاض، نورعالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین، عاصم نذیر،نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ ہونے سے بچ گئے

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

  • دیکھنا ہوگا کہ کتنا پیسہ پاکستانی قوانین کے مطابق وصول کیا گیا،پی ٹی آئی وکیل

    دیکھنا ہوگا کہ کتنا پیسہ پاکستانی قوانین کے مطابق وصول کیا گیا،پی ٹی آئی وکیل

    دیکھنا ہوگا کہ کتنا پیسہ پاکستانی قوانین کے مطابق وصول کیا گیا،پی ٹی آئی وکیل

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے دلائل دیئے، انور منصور نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس کمپنی کو بینک کا آڈٹ کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے اسکروٹنی کمیٹی کے اندر کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نہیں تھا، اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے ایک اکاونٹ پر سنگین اعتراضات عائد کیے، اسکروٹنی کمیٹی نے غلط انداز میں پی ٹی آئی کے اکاونٹس کے بیلنس کا موازنہ کیا ہے،ہمارے پیش کردہ دستاویزات کو الیکشن کمیشن درست قرار دیکر قبول کرے، اسٹیٹ بینک سے منگوایا ریکارڈ پی ٹی آئی فنڈز وصولی کیلئے نہیں تھا پی ٹی آئی کے ڈونیشن وصول کرنے کیلئے مخصوص اکاونٹس تھے،سینٹرل فنانس کمیٹی ان اکاونٹس کو مینج نہیں کر رہی تھی غلط تاثر دیا گیا کہ اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ پی ٹی آئی نے چھپایا ہے،دیکھنا ہوگا کہ کتنا پیسہ پاکستانی قوانین کے مطابق وصول کیا گیا،اس کیس میں ہمیں امریکہ، کینیڈا یا کسی دیگر ممالک کے قوانین کا موازنہ نہیں کرنا، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے مطابق صرف پاکستانی سے فنڈنگ وصول کی جاسکتی ہے،اسکروٹنی کمیٹی نے اے سٹار ریٹڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی رپورٹ کو مسترد کیا،

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

    ا اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ عمران خان نے بھارت کی پالیسی کی تعریف کی

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    میں آپکی توقعات سے بھی بڑا ایکشن لونگا،چیف الیکشن کمشنر

  • پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل کرنے کا ریفرنس مسترد

    اسلام آباد:پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی نااہل ہونے سے بچ گئے،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کو نا اہل کرنے سے متعلق ریفرنس مسترد کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق قائم مقام سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکین قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، الیکشن کمیشن نے راجہ ریاض، نورعالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین، عاصم نذیر،نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ ہونے سے بچ گئے۔

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان کے وکیل بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا تھا نہ پی ٹی آئی چھوڑی ہے اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی، بعد میں پارٹی نے کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹ نہیں دینا جو ثابت کرتا ہے کہ پارٹی نے تسلیم کیا نور عالم ان کا رکن ہے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ نور عالم نے 3 اپریل کو اجلاس میں شرکت کی، پی ٹی آئی نے کہا تھا اجلاس میں شرکت کریں، پارٹی نے دوبارہ کوئی ہدایت نہیں کی آپ اجلاس میں شرکت نہ کریں، نور عالم نے کسی اور پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے پوچھا کیا نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر ان کے وکیل نے کہا تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا، یہ کہتے ہیں بچوں کی شادی نہیں ہو گی، یہ ہمارے بچوں کے لیے اتنی فکر مند کیوں ہیں۔

    ممبر کمیشن ناصر درانی نے پوچھا کہ کیسے نتیجہ نکالا الیکشن کمیشن کا 5 رکنی بینچ ہی فیصلہ سنا سکتا ہے؟ جس پر گوہر خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ دے چکا ہے۔

  • نا اہلی ریفرنسز پر فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کر لیا

    نا اہلی ریفرنسز پر فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کر لیا

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف نا اہلی ریفرنسز پر فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کرلیا جو آج 3 بجے سنایا جائے گا

    پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف نا اہلی ریفرنسز پر سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی ، منحرف رکن نور عالم کے وکیل نے دلائل دیے کہ نورعالم خان اب بھی پارٹی کا حصہ ہیں انہوں نے پارٹی کے کچھ فیصلوں سے اختلاف کیا جو جمہوریت کا حصہ ہیں نورعالم خان کے وکیل نے دلائل دیے کہ نوعالم خان ںے کبھی ایسا تاثر نہیں دیا کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں 19 مارچ کو انہیں شوکازنوٹس موصول ہوا جس کا 22 مارچ کوجواب دیا گیا نورعالم نے پارٹی کے کچھ فیصلوں سے اختلاف کیا جوجمہوریت کاحصہ ہے، ارٹی چیئرمین نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی جس پر 3 اپریل کونورعالم خان نےقومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی

    ممبر الیکشن کمیشن ناصر درانی نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کاآئین اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟ آرٹیکل 63 ون اے کیا کہتا ہے؟ وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ نورعالم خان نےکسی اورپارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی، تاثردیا گیا نورعالم خان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے ممبر ناصر درانی نے استفسار کیا کہ کیا نورعالم نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ نورعالم خان نے تحریک عدم اعتماد پرووٹ کاسٹ نہیں کیا، ووٹنگ سے پہلے نورعالم خان کو منحرف قرار دے دیا گیا، نورعالم خان پرآرٹیکل 63 ون اے کا اطلاق نہیں ہوتا الیکشن کمیشن نے ارکان قومی اسمبلی کے خلاف نا اہلی ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج 3 بجے سنایا جائے گا۔

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

  • عمران خان انتشار پاکستان میں پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ کار بن رہے ہیں،اکبر ایس بابر

    عمران خان انتشار پاکستان میں پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ کار بن رہے ہیں،اکبر ایس بابر

    عمران خان انتشار پاکستان میں پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ کار بن رہے ہیں،اکبر ایس بابر

    تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کرنے والے رہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ عمران خان نے بھارت کی پالیسی کی تعریف کی

    اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کا خواہاں ہے ،عمرا ن خان ملکی ادارو ں کے خلاف بول رہے ہیں ،پی ٹی آئی نے امریکا میں 2 کمپنیاں قائم کیں،پی ٹی آئی کے 11 اکاؤنٹس اسد قیصر اور دیگرچلاتے تھے،عمران خان بھارت کا انتشار پاکستان میں پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ کار بن رہے ہیں،احسن اقبال کو اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے خط لکھا،پھر سپریم کورٹ می لکھا اور ریکارڈ سامنے آیا ہے،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اچانک پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے نام سے چلنے والے کیس کا ٹائٹل تبدیل کردیا اب یہ کیس پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 6 کے تحت شکایت یعنی ممنوعہ فنڈنگ کے نام سے چلے گا

    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کیس کی سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی مزید ریکارڈ دینے کی درخواست مسترد کردی الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا منحرف اراکین نے پی ٹی آئی کے مزید ریکارڈ دینے کی مخالفت کی تھی

    پی ٹی آئی وکیل فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کروں گا،الیکشن کمیشن فیصلے کی کاپی فراہم کرے،یہ کیس ہماری نظر میں متنازعہ ہوچکا ہے،

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر