Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکی صدر  کا  چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دورۂ چین میں ممکنہ تاخیر پر امریکی وضاحت کو نوٹ کرلیا ہے-

    ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے انہوں نے چینی صدر کے ساتھ ملاقات کو قریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے،چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس دورے کا آبنائے ہرمز کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

    دوسری جانب امریکا اور چین کے درمیان پیرس میں ہونے والے حالیہ تجارتی مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جو دونوں بڑی معیشتوں کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا کرتے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال اور علی لاریجانی کا قتل،تحریر:فائز رحمان

    علی لاریجانی کی قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی،جعفریہ الائنس

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنیوالے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

  • فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    ایران نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے کہا ہے کہ ایران نے فیفا کے ساتھ ورلڈ کپ 2026 کے میچز کی میزبانی کے معاملے پر بات چیت شروع کر دی ہے تاکہ ایرانی ٹیم کے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو میں منعقد کیے جا سکیں۔

    پیر کے روز میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مہدی تاج کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے، ایسی صورت میں ایرانی ٹیم امریکا کا سفر نہیں کرے گی، ایران فیفا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ میچز میکسیکو منتقل کیے جا سکیں۔

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس سے قبل ایرانی وزیر کھیل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملوں کے بعد موجودہ صورت حال میں قومی ٹیم کے لیے عالمی ایونٹ میں شرکت مشکل ہو سکتی ہے ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت سمیت کئی سیاسی و عسکری شخصیات ہلاک ہوئیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت ہے تاہم ان کے مطابق اپنی سیکیورٹی کے پیش نظر ٹیم کے لیے امریکا میں کھیلنا مناسب نہیں ہو سکتا۔

    افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    واضح رہے کہ ایران نے 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جو 11 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا۔ ایرانی ٹیم کے دو گروپ میچز لاس اینجلس جبکہ ایک میچ سیئٹل میں شیڈول ہے،ایران ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ایشیائی ٹیم بھی ہے، جس نے 25 مارچ 2025 کو اپنی جگہ یقینی بنائی تھی۔

    یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی جو اس وقت تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

  • ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا، تازہ حملوں میں ایران کی جانب سے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی خلیجی خطے میں سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے ایرانی حملوں کی تصدیق کردی آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق یہ تازہ حملے ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام کیے گئے اور اسے رمضان میں والدہ کی گود میں خاندان کے ہمراہ شہید ہونے والے شیرخواربچے مجتبیٰ کے نام منسوب کیا گیا، حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل تھےاس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،ایرانی وزیر خارجہ

    دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں امریکا کی کم از کم 17 فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران کئی تنصیبات کو ایک سے زائد بار نشانہ بنا چکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خطے میں امریکا کی مجموعی طور پر 22 فوجی تنصیبات موجود ہیں جن میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 9 مارچ کو ایران نے قطر میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

    سردی کی لہر واپس ،17 سے 20 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی

    جنگ کے نتیجے میں اب تک امریکی ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو چکی ہے جب کہ تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں 15 افراد ہلاک اور 3369 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ کویت میں 6، اومان میں 3 اور سعودی عرب میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر  ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد:امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

    الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں،تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

  • ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل،  ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ : امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی

    ایران کیخلاف جنگ سے ٹرمپ کی پارٹی میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

    ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب پارٹی کے کئی بااثر رہنما اور کارکن اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضرو ری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے،مبصرین کے مطابق اس اختلاف نے پارٹی کے اندر نظریاتی تقسیم کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،صدر مملکت

    امریکی میڈیا کی معروف شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد نکل جانا چاہیے،کارلسن، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ صدر سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

    ریپبلکن ووٹروں میں بھی اس جنگ پر مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، اگرچہ کچھ حلقے اس اقدام کو ضروری قرار دیتے ہیں، تاہم بڑی تعداد اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتی ہے،امریکا میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے، ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    ایک عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔ جو ووٹر خود کو “میگا” یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریباً دس میں سے نو افراد جنگ کے حامی ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں حمایت کم اور مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

    امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا ہے، اسی طرح سابق رکنِ کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    کانگریس کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی، اب تک جنگ سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عراق میں طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کسی نہ کسی طرح آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔

    امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جاسکے ،دنیا کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے بحریہ تعینات کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اس دوران امریکا ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی کشتیوں یا جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    تاہم انہوں نے اس بات کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

  • پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر کھڑے طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جعلی قرار دیا ہے۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود پانچ امریکی طیارے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے میں متاثر ہوئے ہیں،متاثر ہونے والے طیارے بوئنگ کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر ہیں جو جنگی اور بمبار طیاروں کو دوران پرواز ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، حملے کے وقت یہ طیارے زمین پر کھڑے تھے اور میزائل حملے کے نتیجے میں انہیں نقصان پہنچا،پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے خطے میں امریکی افواج کی ایک اہم فوجی تنصیب سمجھا جاتا ہے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ اڈے پر چند روز پہلے حملہ ضرور ہوا تھا لیکن طیاروں کو نہ تو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی وہ تباہ ہوئے پانچ میں سے چار طیاروں کو تقریباً کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ دوبارہ سروس میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ ایک طیارے کو نسبتاً زیادہ نقصان پہنچا لیکن وہ بھی جلد دوبارہ پرواز کے قابل ہو جائے گا۔

    انہوں نے اس خبر کو شائع کرنے پر اخبار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایسی خبریں دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو۔

    ٹرمپ نے ایک علیحدہ پوسٹ میں لکھا کہ جعلی خبروں کا میڈیا یہ بتانے سے نفرت کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کتنا اچھا کام کیا ہے، جو مکمل طور پر شکست خوردہ ہے اور ایک ڈیل چاہتا ہے-لیکن ایک ایسا معاہدہ جسے میں قبول کروں گا! اس معاملے پر آپ کی توجہ کے لیے آپ کا شکریہ۔

    پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی فضائیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک آپریشن کے دوران دو سی 135 طیارے آپس میں ٹکرا گئے تھے،اس حادثے کے نتیجے میں ایک طیارہ تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

    امریکی سینٹ کام نے ایرانی جزیرے خارگ پر شبانہ آپریشن میں پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات جاری کردیں۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ شب خارگ جزیرے میں بڑے پیمانے پر آپریشن انجام دیا، اس دوران ایرانی بحریہ کی بارودی سرنگوں والی تنصیبات کو تباہ کیا گیا،حملوں میں میزائل گودام، بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور جزیرے میں ایران کے 90 سے زائد فوجی اہداف کامیابی کے ساتھ تباہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ خارگ سے ایندھن کی برآمدات بلا تعطل جاری ہیں اور وہاں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی عید کے چاند کے حوالے سے نئی پیشگوئی

    پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے،محمد اورنگزیب

    امریکی سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ میں حملہ

  • امریکی  سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ میں حملہ

    امریکی سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ میں حملہ

    تیسرے امریکی بینک سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ دونوں میں حملہ کیا گیا۔

    عرب خبررساں ادارے المیادین کے مطابق یہ حملہ آج علی الصبح نامعلوم ڈرونز کے ذریعے کیا گیا جس کی وجہ سے ان شاخوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

    چند روز قبل صیہونی حکومت نے ایران کے ایک بینک کو نشانہ بنایا اور بینک کے ملازمین کو قتل کردیا تھا،جس کے بعد ایران نے خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ معاشی مراکز اور بینکوں کو ہدف بنانے کا عندیہ دیا تھا۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے پروازوں کے لیے نیا نوٹم جاری

    پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ دشمن کے اقدامات نے ایران کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ خطے میں موجود امریکا اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی مراکز کے خلاف کارروائی کرے اس سلسلے میں گوگل، مائیکروسافٹ اور اوریکل جیسی بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے دفاتر اور مالیاتی ادارے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں،پاسداران انقلاب نے ایرانی عوام کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ ایسے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے دور رہیں جو امریکا یا اسرائیل سے وابستہ ہیں۔

    ایران،اسرائیل کشیدگی: میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید لہر، شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر حملے

  • امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے شہر پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کر نے کا اعلان کیا ہے-

    دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کو رواں ہفتے بندش کے ارادے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اہ وہ پاکستان کے شہر پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کر دے گا، جو افغان سرحد کے قریب امریکا کا سب سے اہم سفارتی مشن رہا ہے اور 2001 کے افغانستان پر حملے سے قبل، دوران اور بعد میں اہم آپریشنل اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا رہا، اس اقدام سے ہر سال تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، جبکہ امریکی قومی مفادات کی تکمیل یا پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس بندش پر غور ایک سال سے زائد عرصے سے کیا جا رہا تھا، جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں وفاقی محکموں کے حجم کو کم کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا،یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا حالیہ مظاہروں سے متعلق نہیں ہے، جن کے دوران کراچی اور پشاور میں امریکی قونصل خانے عار ضی طور پر بند کیے گئے تھے گذشتہ برس امریکی حکومت نے محکمہ خارجہ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی تھیں، جس میں کئی ہزار سفارتکاروں کی برطرفی اور یو ایس ایڈ کے عملے کی تقریباً مکمل برخاستگی شامل تھی تاہم پشاور کا قونصل خانہ محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کی وجہ سے بیرون ملک پہلی مکمل بند ہونے والی سفارتی مشن قرار پایا۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور قونصل خانے میں 18 امریکی سفارتکار اور دیگر سرکاری اہلکار، جبکہ 89 مقامی عملہ کام کرتا ہے قونصل خانے کو بند کرنے پر تقریباً 3 ملین ڈالر خرچ ہوں گے، جس میں سے 1.8 ملین ڈالر عارضی دفتر کے طور پر استعمال ہونے والے مضبوط ٹریلرز کی منتقلی پر خرچ ہوں گے۔باقی رقم قونصل خانے کے موٹر پول، الیکٹرانک اور ٹیلی کمیونیکیشن سازوسامان، اور دفتری فرنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی اور لاہور کے باقی قونصل خانوں میں منتقل کرنے پر خرچ کی جائے گی۔

    پشاور قونصل خانے کی افغان سرحد اور کابل کے قریب موجودگی نے اسے زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان جانے کے لیے کلیدی مرکز بنایا اور شمال مغربی پاکستان میں امریکی شہریوں اور افغان شہریوں کے لیے رابطے کا اہم نقطہ بھی رہا، جو امریکی امداد کے لیے رابطہ کرتے تھے۔

    حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہریوں اور دیگر افراد کے لیے قونصلر خدمات اب اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جو پشاور سے تقریباً 114 میل (184 کلومیٹر) کی دوری پر واقع ہے۔

    محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قونصل خانے کی بندش امریکی قومی مفادات کے فروغ، شہریوں کی مدد یا بیرونی امدادی پروگراموں کے مناسب نگرا نی کی صلاحیت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالے گی، کیونکہ یہ تمام کام اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے جاری رہیں گے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی