Baaghi TV

Tag: امریکا

  • معاہدے کے تحت تہران کو اہم اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں،ڈی جے وینس

    معاہدے کے تحت تہران کو اہم اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں،ڈی جے وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے مجوزہ معاہدے کے تحت تہران کو اہم اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں-

    فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، دو سری شرط آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا ہے، جبکہ تیسری شق ایران کو ممکنہ اقتصادی اور سفارتی فوائد فراہم کرنے سے متعلق ہے اگر ایران دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بند کر دے، جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی بحالی کی حمایت ترک کر دے اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرے تو اسے حقیقی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں-

    جے ڈی وینس کے مطابق اگر ایران ان شرائط پر عمل نہیں کرتا تو اسے کسی قسم کا فائدہ نہیں ملے گا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کی صورت میں امریکا ہر حال میں فائد ے کی پوزیشن میں رہے گا،واشنگٹن کی کوشش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو، عالمی توانائی کی ترسیل بحال رہے اور خطے میں طویل المدتی استحکام پیدا کیا جا سکے ایران کے فیصلے ہی طے کریں گے کہ اسے معاہدے کے فوائد ملتے ہیں یا نہیں ملتے ہیں۔

  • بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل  خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔

    بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔

    سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔

    لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔

  • ایران معاہدہ: امریکا نے اسرائیل کو تفصیلات دینے سے انکار کردیا

    ایران معاہدہ: امریکا نے اسرائیل کو تفصیلات دینے سے انکار کردیا

    امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے،جس پر اسرائیلی حکام نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات سے متعلق مفاہمتی یادداشت تک رسائی کی باضابطہ درخواست کی تھی، تاہم واشنگٹن نے اسے مسترد کردیا، امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق حساس نوعیت کا ہے، اس لیے معاہدے کی مکمل تفصیلات اسرائیل کے ساتھ شیئر نہیں کی جاسکتیں،امریکی فیصلے نے تل ابیب کے حکام کو حیران کر دیا، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق امور پر طویل عرصے سے قریبی مشاورت رہی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ایرانی ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر ختم کرنے، جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں معطل کرنے کی تجاویز شامل ہیں ممکنہ معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شق بھی شامل ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مسودے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ امریکا مذاکرات سے قبل 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہےمجوزہ معاہدے میں ایران کےمیزائل پروگرام اور علاقائی اتحادی گروپوں کی حمایت کو حتمی مذاکرات کا حصہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جبکہ کسی بھی حتمی سمجھوتے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔

  • حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام  اور  اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام اور اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان نہیں چھوڑا مزاحمتی گروہوں کی مسلسل موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کی حمایت میں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اقدام کیا اور اس حوالے سے تہران کی جانب سے انہیں براہِ راست کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو ختم کیے جانے یا اس کی طاقت کمزور ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں، حزب اللہ کی صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی طاقت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے دکھائی گئی قوت درا صل برفانی تودے کی صرف نوک تھی۔

    ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے حامی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس علاقے سے گزرنے سے گریز کیاانہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ لبنان میں ہونے والی پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

  • حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    فلسطین تنظیم حماس نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ امید ہے معاہدے سے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت ختم ہوگی، امید ہے معاہدہ علاقائی مسائل میں مثبت اثرات کا حامل ہوگا معاہدے سے لبنان اور دیگر محاذوں پر ہونے والے حملے رُکنے کی بھی امید ہے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی اسرائیلی جنگ جاری رہنے تک خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔

    واضح رہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کر دی ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران نے دستخط کر دیے ہیں امریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس جبکہ ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک مختصر اور عمومی نوعیت کی دستاویز ہے جو تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیر کو ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی۔

    اس موقع پر فرانسی صدر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو  منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو جمعے سے قبل ہی عوام کے سامنے جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جے ڈی وینس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد معروف نشریاتی اداروں سے گفتگو کی، جہاں انہوں نے ایران معاہدے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیا جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کے روز متوقع ہے، معاہدے کی بعض تفصیلات ابھی تک زیر غور ہیں، تاہم دونوں فریقین اہم نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں،صدر ٹرمپ معاہدے کی تفصیلات کو جلد عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

    اے بی سی نیوز کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے متعلق معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات کے بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

    سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران کو معاہدے کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔

    سی این بی سی کے پروگرام ’اسکواک باکس‘ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، تاہم امریکا کے پاس مذاکرات میں مضبوط پوزیشن موجود ہے اور ’تمام اہم کارڈز‘ امریکا کے ہاتھ میں ہیں۔

    سی این این کے پروگرام ’دی لیڈ‘ میں انہوں نے ریپبلکن حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

    فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو اسے کسی بھی جانب سے مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

    این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے خاتمے کے مجوزہ فریم ورک کے تحت بین الاقوامی جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران کا دورہ کریں گے اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کی مسلسل میڈیا مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی اور عوامی سوالات کا جواب دینے اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار  کی تعریف

    چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف

    چین نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدےکا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پیشرفت میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے،پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتتے ہوئے چینی ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک طے شدہ شیڈول کے مطابق معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    لن جیان نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ تمام متعلقہ فریق امن کے راستے پر کاربند رہیں گے اور اپنے اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کریں گے،انہوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی ذرائع کی حمایت جاری رکھے گا، چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    چینی ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ سے سیاسی مکالمے اور پرامن مذاکرات کو تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیتا آیا ہے،امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت نہ صرف علاقائی کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ وسیع تر استحکام اور امن کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنا اس کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے، پاک۔ایران تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر ایرانی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے حصول کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی، سیاسی، سفارتی، سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد پیش کی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت، عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط کے فروغ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔

  • اسرائیل  امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔

    اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 14 جون کو اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہےانہوں نے امریکی بحری ناکہ بند ی فوری طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے ٹول فری کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، سب کو مبارک ہو میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکا کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظو ری دیتا ہوں دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔

  • امت مسلمہ  اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    امت مسلمہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ جینیوا میں امریکا اور ایران کےد رمیان معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے مستقل خاتمے کا اعلان کردیا ہے، فریقین نے مشکلات حالات میں صبر، تحمل اور دانشمندی کا دامن نہیں چھوڑا، امریکا اور ایران کے درمیان جینیوا میں ہونے والی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے-

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےوزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ ساز لمحات سے گزر رہا ہے اور حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کے عزت و وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے اس حوالے سے معاہدے پر جمعہ کے روز دستخط کیے جائیں گےپاکستان کو حالیہ عرصے میں ایسا اعزاز پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔

    خواجہ آصف نے ایرانی قیادت اور عوام کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سخت اور مشکل حالات میں ایرانی قیادت نے اپنی قوم کی بہترین انداز میں رہنما ئی کی اگر امت مسلمہ اسی طرح اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو وہ وقت دور نہیں جب مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے اگر گزشتہ دہائیوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اسی نوعیت کا مضبوط تعاون موجود ہوتا تو پاکستان کئی مزید بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کر چکا ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کی کوششوں کا اللہ تعالیٰ نے آج بڑا ثمر عطا کیا ہے، پاکستان نے ایک سال قبل ایک اور جنگ بھی لڑی جس میں مسلح افواج نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ملک اس وقت دہشتگردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے جو دراصل 25 کروڑ عوام کی مشترکہ جنگ ہے، قومی اتحاد کے ذریعے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے پاکستان معاشی محاذ پر بھی آگے بڑھ رہا ہے اور انشا اللہ مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی، انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیر دفاع نے امریکی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے ان کا کردار قابلِ تعریف ہے، انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دہائیوں سے جاری ناانصافیوں کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے انہوں نے خلیجی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اس موقع پر امت مسلمہ کے اتحاد میں کردار ادا کریں، ان کا موقف تھا کہ ہمیں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے بھی متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔