Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایرانی ہیکرز امریکی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، ایف بی آئی ،سی آئی ایس اےکا الرٹ جاری

    ایرانی ہیکرز امریکی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، ایف بی آئی ،سی آئی ایس اےکا الرٹ جاری

    امریکا کے اہم سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایران سے منسلک سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملک بھر کے سرکاری اور نجی اداروں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ہیکرز انٹرنیٹ سے منسلک آلات اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

    امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (CISA)، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری مشترکہ مشاورتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران سے وابستہ سائبر عناصر انٹرنیٹ سے منسلک مختلف آلات اور نظاموں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ایف بی آئی کے سائبر ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بریٹ لیتھرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سائبر عناصر امریکی اہم انفراسٹرکچر کو مسلسل ہدف بنا رہے ہیں، اور ایف بی آئی ان حملوں کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی، ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانے اور انہیں اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جاری کردہ مشاورتی اعلامیہ نیٹ ورک سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو ضروری معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مشتبہ اور نقصان دہ سرگر میو ں کی بروقت نشاندہی کر سکیں، اپنے دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنا سکیں اور ایرانی سائبر عناصر کو امریکی عوام کے لیے ضروری خدمات میں خلل ڈالنے کے موا قع سے محروم کر سکیں۔

    امریکی حکام نے سرکاری اور نجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کا ازسرِنو جائزہ لیں، انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی حفاظت یقینی بنائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، تاکہ ممکنہ سائبر حملوں کے اثرات کو بروقت روکا جا سکے۔

  • امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی،جنگ کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر ایران نے بدھ کے روز تہران اور اس کے اطراف فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظریہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ پر مبنی ہےان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایرا ن کے کسی پل یا بجلی گھر پر بمباری کرے گا۔

    غیرملکی میڈیا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جنہیں امر یکا کی کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا یہ حملے صرف امریکی فوجی اہداف کے خلاف تھے اور ان کا مقصد کسی بھی صورت کویتی عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی سازوسامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے ہینگر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے العدیری (Al-Adiri) بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا ایرانی فورسز نے ایک مواصلاتی ٹا ور کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن ٹاورز پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔

    تاہم، اس خبر کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    محکمے کے مطابق سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات اور امریکا سے وابستہ کاروباری یا دیگر ادارے دنیا کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں محکمہ خارجہ نے خاص طور پر مشرقِ و سطیٰ میں موجود امریکیوں کو پروازوں اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں سے آگاہ رہنے اور خطے سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی گلوبل سائبر رسک کی چیف ایگزیکٹو جوڈی ویسٹبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں امریکی حکام ایسے متعدد سائبر حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں جنکا ہدف اسپتال، پانی کی فراہمی،فضلہ ٹھکانے لگانے کےنظام اور بجلی کی تنصیبا ت ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کے الیکٹرانک سائبر کمانڈ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے امریکا میں نجی شعبے کا منتشر نیٹ و رک ایسے حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس سے ان حملوں کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    امریکا کے سابق سفیر جوی ہڈ نے کہا ہے کہ اگر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے نہ ہوا تو امریکا، اسرائیل اور ایران سمیت تمام فریق نقصان اٹھائیں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مشاورت کیے بغیر ایران پر حملے کر کے ایک بڑی تزویراتی غلطی کی، جبکہ ایران بھی اپنے جوابی حملوں میں امریکا کے بجائے خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا کر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہیں، بصورت دیگر اس جنگ میں آخرکار ہر فریق کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

  • سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ طے

    سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ طے

    سعودی عرب اور امریکا نے پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مہارت اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی تاریخی اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل ہے اور گزشتہ برس ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکا کے دوران طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دیتا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے، یہ معاہدہ جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات سے ہم آہنگ مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

    سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے،جن میں ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،جبکہ جنوب مغربی ایران میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوگئے۔

    سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔

    سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق سے ملحق شلامچہ بارڈر کراسنگ کے قریب ایک مسافر ٹرمینل کے نزدیک دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ خوزستان کے مختلف شہروں، جن میں اہواز، ماہشہر، اندیمشک اور رامشیر شامل ہیں، میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں رامشیر میں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکا کے حالیہ حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 8 بتائی گئی تھی۔

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہروں سیریک اور جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی نگرانی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبہ بوشہر میں بھی رات کے دوران 2 دھماکے رپورٹ ہوئے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-

  • ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دے دی ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق، 30 سال پر محیط اس ممکنہ معاہدے میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی اور ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی کی تنصیب بھی قائم کی جا سکتی ہےاس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے قانون سازوں کی جانب سے سخت مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی اراکینِ اسمبلی کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو خود سے یورینیم افزودگی کی اجازت دینے سے خطے میں ا یٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایک نئی مقابلے بازی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

  • نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظور ی دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہےرپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔

    پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،تاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

    ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا-

    اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکےخلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے-

    سینٹ کام کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے حملوں میں ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔منگل کی رات کیے گئے یہ حملے تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، بوشہر، سیریک، بہبہان، امیدیہ اور تبریز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا،مقامی حکام نے تبریز کے مضافات میں فوجی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، تاہم شہر کے اندر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔ ایران اس ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا چکا ہے-

    امریکا اور ایران کے درمیان اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اس جنگ کے دوران ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے،واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پینٹاگون کو مزید 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس مطالبے پر ڈیموکریٹ ارکان نے شدید اعتراضات کیے-

    پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

    جنگوں میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز ایسے تمام مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرتے ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

  • اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں لبنانی ہم منصب جوزف عون سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے ہم پہلے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ان سے کافی عرصے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

    صدر ٹرمپ نے حالیہ ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران بھی حوثیوں نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، فی الحال حوثیوں نے سمندری راستوں کو بند نہیں کیا اور امریکا کو اس حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں،انھوں نے اپنی گفتگو میں 2025 میں حوثیوں کے خلاف ہونے والی امریکی فضائی کارروائی کا بھی ذکر کیا جو تقریباً دو ماہ تک جاری رہی تھی۔ اس مہم کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے بعد حوثیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔

    واضح رہے کہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی بندرگاہوں پر سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں بصورت دیگر ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اس دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے بعض آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  • امریکا نے ایران کیخلاف  اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    امریکا نے ایران کیخلاف اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے،لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔

    ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا،امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے،جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی،ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفا عی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے،امید ہے کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

  • ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے،گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو آئندہ ماہ سے نافذ ہوگا۔

    واضح رہے 20فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے مستقل ٹیکس لگانے کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر روک دیا تھا،عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو ختم کیا جو ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر لگائے گئے تھےکیونکہ عدا لت کے مطابق کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت ڈیوٹیز لگانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک اور قانون (Section 122) استعمال کر کے 15 فیصد عالمی ٹیکس لگایا تھا،اس قانون کے تحت ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے عارضی طور پرلگایا جا سکتا ہے جو اسی ہفتے 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔