Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    تہران: امریکا کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک ایران یا امریکا کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے-

    دوسری جانب اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہےلیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔

  • ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دینی چاہیے۔

    جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور د عویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کی متعدد کوششیں کیں اور اگر امریکا نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں موجود اپنی فوجی تنصیبات اور اڈوں پر تعینات اہلکاروں کو بھی خاموشی سے واپس بلانے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ اڈے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں،اگر امریکی فوجی اہداف ایران کی پہنچ سے دور ہوں گے تو ایرانی سخت گیر عناصر کے لیے امریکا کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنا مشکل ہو جائے گا واشنگٹن کو ایسے تمام عوامل ختم کرنے چاہئیں جو امریکا کو دوبارہ ایران یا اسرائیل کے ساتھ کسی نئے تنازع میں الجھا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ جو کینٹ نے ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دیا تھا ان کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ سیاسی معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

    دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

    ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

    قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

  • امریکا میں  چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ، پائلٹ سمیت 12 افراد ہلاک

    امریکا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ، پائلٹ سمیت 12 افراد ہلاک

    امریکی ریاست میسوری میں کینساس سٹی کے قریب ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 11 اسکائی ڈائیورز اور پائلٹ سمیت تمام 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میسوری اسٹیٹ ہائی وے پیٹرول نے بتایا کہ امریکا میں ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، طیارہ امریکی ریاست مسوری میں گرکر تباہ ہوا، طیارہ ٹیک آف کے بعد اچانک واپس پلٹا اور پھر گر گیا، طیارہ اسکائی ڈائیونگ کے لیے لوگوں کو لے جا رہا تھا اور حادثے کے بعد آگ لگ گئی۔

    حکام کے مطابق یہ حادثہ بٹلر میموریل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جو کینساس سٹی سے تقریباً 60 میل جنوب میں واقع ہے طیارے میں 11 اسکائی ڈائیورز اور ایک پائلٹ سوار تھا، جو موقع پر ہلاک ہوگئے ہیں۔ حادثے کے فوراً بعد طیارہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    میسوری ہائی وے پیٹرول کے سارجنٹ جسٹن ایونگ نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع ملی کہ ایک طیارہ گر گیا ہے اور اس میں آگ لگی ہوئی ہے طیارہ ایئرپورٹ کے ساتھ واقع ایک کھیت میں جا گرا جب کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی سڑک کو بند کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

    نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جب کہ ادارے کے ترجمان کے مطابق واقعے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی،حادثے کے بعد بٹلر پولیس ڈیپارٹمنٹ، بیٹس کاؤنٹی شیرف آفس اور دیگر امدادی ادارے موقع پر موجود رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ امن و مفاہمتی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام لانا ہے تاحال ایران کی جانب سے اس معاہدے پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے ہیں اور تہران میں اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔

    عہدیدار کے مطابق امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گامجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • نیتن یاہو  نے اسرائیل کوامریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے،اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

    نیتن یاہو نے اسرائیل کوامریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے،اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

    اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یائر لاپڈ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مجوزہ معاہدے میں اسرائیل جنگ کے دوران اپنے کسی بھی بڑے مقصد کو حاصل نہیں کرسکا ایرانی حکومت اب بھی قائم ہے، ایران کا میزائل پروگرام بدستور موجود ہے اور تہران مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ ترقی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یائر لاپڈ کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ’مکمل ناکامی‘ کا نتیجہ ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو ایک خودمختار ریاست کے بجائے امریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے پریس کانفرنسوں، میڈیا مہمات یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے اس ناکامی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم اس معاہدے کی تفصیلات اور حتمی شکل کے بارے میں مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔

  • امریکی فوج کا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ

    امریکی فوج کا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ

    واشنگٹن: امریکا میں تربیتی پرواز کے دوران ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی میرین کور کا ایف اے 18 ہارنیٹ طیارہ واشنگٹن میں معمول کی تربیتی پرواز کے دوان پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا اس دوران پائلٹ نے کامیابی سے ایجیکٹ کر کے اپنی جان بچا لی تاہم پائلٹ کو معمولی زخم آئے جس پر انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے،واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔

    واشنگٹن پولیس کے مطابق طیارہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً بارہ بج کر پندرہ منٹ پر رم راک جھیل کے قریب پیش آیا، طیارہ سیئٹل شہر سے تقریباً 55 میل جنوب مشرق میں حادثے کا شکار ہوا۔

    شیرف آفس نے ایک بیان میں بتایا کہ انہیں متعدد فون کالز موصول ہوئیں جن میں اطلاع دی گئی کہ ایک فوجی طیارہ کاؤنٹی کے ایک پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے اور پائلٹ نے طیارے سے ایجیکٹ کر لیا ہے۔

    بیان کے مطابق کاؤنٹی کے ماؤنٹین پاس ڈپٹی نے پائلٹ تک رسائی حاصل کی، جسے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں بعد ازاں اسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے کے نتیجے میں حادثے کے مقام پر آگ بھڑک اٹھی امریکی فوج کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور فوجی حکام جائے حادثہ پر عملہ اور ضروری وسائل تعینات کر رہے ہیں۔

    امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ ایف/اے-18 ہارنیٹ تھا، جو ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع میرین کور ایئر اسٹیشن میرامار سے وابستہ تھا، امریکی میرین کور کے بیان کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ تھرڈ میرین ایئرکرافٹ وِنگ کے تحت میرین ایئرکرافٹ گروپ 11 کو تفویض کیا گیا تھا اور حادثے کے وقت معمول کی تربیتی مشق میں حصہ لے رہا تھا میرین کور نے اس واقعے کو ایک غیر مہلک حادثہ قرار دیا ہے۔

  • جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈینیوکلئیرائزیشن‘ یعنی جوہری تخفیف کا معاملہ اب ناقابلِ واپسی طور پر ختم ہو چکا ہے-

    رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف بیانات اور سرگرمیاں ان کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں شمالی کوریا اب خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس پر دوبارہ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور سیئول کے حکام نے جنوبی کوریا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کے خلاف دفاعی تعاون اور تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی تھی دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ پلیٹ فارم ’نیو کلئیر کنسلٹیٹو گروپ‘ (این سی جی) کے تحت خطے میں دفاعی حکمت عملی اور ڈیٹرنس کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔