Baaghi TV

Tag: امریکا

  • حجاب پابندی معاملے پر بھارت کا امریکا کو جواب

    حجاب پابندی معاملے پر بھارت کا امریکا کو جواب

    حجاب کے تنازع پر بیان پر بھارت نے امریکا کو خبردار کیا کہ بھارت کے اندرونی مسائل پر اشتعال انگیز تبصرے خوش آئند نہیں ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ریاست کرناٹک کے کچھ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ سے متعلق معاملہ کرناٹک کی ہائی کورٹ کے میں زیر سماعت ہے

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    ترجمان نے کہا کہ ہمارے آئینی ڈھانچے، جمہوری اخلاقیات اور سیاست میں جو مسائل بھی ہوئے انہیں درست کر لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ ارندم باغچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب باحجاب طالبہ کی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی اور اس معاملے پر کچھ ممالک نے بھارت سے سوال کیا تھا کہ حجاب پر پابندی کیسی شخصی آزادی ہے؟-

    خیال رہے کہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف دنیا میں آوازیں اٹھنے لگیں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے حجاب میں ملبوس مسلم لڑکیوں اور خواتین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے خلاف جہاں کئی مشہور شخصیات نے آواز اٹھائی ہے وہیں امریکا نے بھی حجاب پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے-

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    امریکا کے مذہبی آزادی سے متعلق ادارے کے اعلیٰ عہدیدار راشد حسین نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے مذہبی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے-

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

  • روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    نا صرف امریکہ نے روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے بلکہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : "بی بی سی ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی فوجی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے یوکرین میں باقی تمام امریکی شہریوں سے فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتی ہیں۔ امریکی شہری اگلے 48 گھنٹے میں ملک چھوڑدیں اگر ماسکو یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج نہیں بھیجیں گے-

    وائٹ ہاوس کے مطابق روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہوگا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہوگی۔

    بائیڈن نے این بی سی نیوز کو بتایا، "امریکی شہریوں کو اب چلے جانا چاہیے ہم دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ یہ بہت مختلف صورتحال ہے اور چیزیں تیزی سے ہاتھ سے نکل سکتی ہیں۔”

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کوئی ایسا منظر نامہ ہے جو انہیں فرار ہونے والے امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج بھیجنے کا اشارہ دے سکتا ہے، بائیڈن نے جواب دیا: "ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی جنگ ہے جب امریکی اور روس ایک دوسرے پر گولی چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے سے بالکل مختلف دنیا میں ہیں-

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے آسٹریلیا کے دورے پر جمعہ کو کہا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اور واضح رہے کہ اس میں اولمپکس کے دوران بھی شامل ہے چین میں سرمائی اولمپکس 20 فروری کو ختم ہونے والے ہیں۔

    امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سولیون نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر بیجنگ میں جاری سرمائی اولمپکس کے دوران حملہ کر سکتا ۔ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر مزید فوجی بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    انہوں نے کہا ہے کہ صدر پیوٹن کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کا حکم دے سکتے ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے کے پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی یوکرین میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے اپنے انتباہ میں لٹویا نے "روس کی طرف سے سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ” کا حوالہ دیا۔

    روس سرحد کے قریب 100,000 سے زیادہ فوجیوں کو جمع کرنے کے باوجود یوکرین پر حملہ کرنے کے کسی بھی منصوبے کی بارہا تردید کرتا رہا ہے لیکن اس نے ابھی پڑوسی ملک بیلاروس کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کی ہیں اور یوکرین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سمندر تک اس کی رسائی کو روک رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال…

  • امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    واشنگٹن: امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردے دیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق بھارت کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف دنیا میں آوازیں اٹھنے لگیں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے حجاب میں ملبوس مسلم لڑکیوں اور خواتین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے خلاف جہاں کئی مشہور شخصیات نے آواز اٹھائی ہے وہیں امریکا نے بھی حجاب پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے-

    بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار

    امریکا کے مذہبی آزادی سے متعلق ادارے کے اعلی عہدیدار راشد حسین نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے مذہبی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ


    انہوں نے مزید کہا کہ حجاب پرپابندی مذہبی آزادی پرکلنگ اورخواتین اورلڑکیوں کوزبردستی لباس کے انتخاب پرمجبورکرنے اورانہیں پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    مودی سرکار پر تنقید کی سزا ،خاتون صحافی رعنا ایوب کی 1 کروڑ روپے سے زائد رقم ضبط

  • امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    واشنگٹن: صدر جوبائیڈن نے امریکا میں منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون کے متاثرین میں برابر برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی مالیت 7 ارب ڈالر ہے جسے واپس کرنے کے بارے میں اب تک تذبذب کی شکار جوبائیڈن انتظامیہ نے آخر کار فیصلہ کرلیا امریکی صدر کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 7 ارب ڈالرز میں سے ساڑھے تین ارب افغان عوام اور ساڑھے تین ارب نائن الیون حملے کے متاثرین کو ادا کئے جائیں گے۔

    بھار ت میں کالعدم” تحریک طالبان انڈیا "کے قیام کا اعلان

    جمعے کو دستخط کیے جانے والے صدارتی حکمنامے کے مطابق انتظامیہ نیویارک کے فیڈرل ریزور میں منجمد افغان اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکے گی اور ان اثاثوں میں ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کی فلاح اور افغانستان کے مستقبل پر خرچ کیے جا سکیں گے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نائن الیون متاثرین کو رقم کی ادائیگی عدالتی فیصلہ آنے تک معطل رہے گی البتہ عدالت نے اجازت دی تو افغان عوام کو ساڑھے تین ارب ڈالر فوری طور پر ادا کردیئے جائیں گے۔

    امریکی صدر کے حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منجمد فنڈز میں ساڑھے تین ارب ڈالرز افغان عوام تک پہنچانے کے کا طریقہ کار طے کرلیا ہے تاکہ یہ رقم طالبان کے ہاتھ نہ لگے۔

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    جمعہ کو یہ صدارتی حکمنامہ ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکی حکومت کو گیارہ ستمبر کے حملوں میں متاثرہ خاندانوں کی طرف سے دائر کردہ مقدمات میں جواب جمع کرانے کی عدالت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب طالبان کے ترجمان نے اس امریکہ فیصلہ کو ’چوری‘ اور ’اخلاقی انحطاط‘ کی نشانی قرار دیا ہے۔

    قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے اس فیصلے کے بعد ٹویٹ میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا نے افغان فنڈز منجمد کردیئے تھے رواں برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہوں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ…

    خیال رہے کہ امریکا میں 7 ارب ڈالرز کے افغان فنڈز منجمد ہیں جب کہ نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والوں کے 150 خاندانوں نے زر تلافی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے دس سال قبل 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر گزشتہ برس لواحقین اور متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم کی پاسداری میں زرتلافی کی رقم امریکا میں منجمد افغانستان کے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز طالبان کو دینے کے بجائے اس ہمیں معاوضہ ادا کیا جائے۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے

  • سیاست میں آنے کا فیصلہ ملک کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے کیا،وزیراعظم عمران خان

    سیاست میں آنے کا فیصلہ ملک کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے کیا،وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے چینی یونیورسٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میری اولین ترجیح ہے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالوں۔

    باغی ٹی وی : چینی یونیورسٹی کی ایڈوائزری کمیٹی کے ڈائریکٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے 21 سال تک کرکٹ کھیلی، کھیل کا میدان چھوڑنے کے بعد سب سے پہلے کینسر اسپتال بنایا، عطیات کی مدد سے دوسرا کینسر اسپتال تعمیر کیا، تیسرا کینسر اسپتال بنانے پر کام کررہا ہوں، پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں یکسانیت نہیں اور ہر شخص کو اچھی تعلیم تک رسائی نہیں، میں نے اچھی تعلیم کے فروغ اور غریب طبقے کے لئے عطیات کی مدد سے 2 یونیورسٹیاں بنائیں۔

    آرڈیننس صرف اس وقت جاری ہو سکتا ہے جب ملک حالت جنگ میں ہو،عدالت

    وزیراعظم نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ ملک کرپشن کی وجہ سے غریب ہوتا ہے، جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکے وہ تباہ ہوتے ہیں، سیاست میں آنے کا فیصلہ ملک کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے کیا، میری پارٹی کا منشور قانون کی حکمرانی اور فلاحی ریاست کا قیام ہے، 22 سال جدوجہد کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوا، میری اولین ترجیح ہے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کوٹھہراتا رہا لیکن ہم امریکہ کے اتحادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ پر تھے امریکا کو جب پاکستان کی ضرورت ہوئی انہوں نے استعمال کیا جب نہ ہوئی تو چھوڑ دیا، امریکا کےافغانستان میں مقاصد واضح نہیں تھے، اسامہ بن لادن کے مارے جانےکے بعد ان کا مشن ختم ہوجانا چاہیےتھا،ہمیشہ یہ موقف رہا کہ افغانستان کا مسئلہ عسکری نہیں، میں پہلےدن سے افغانستان کے فوجی حل کا مخالف تھا، امریکیوں نےافغانستان کی تاریخ پڑھی ہی نہیں، افغان عوام آزاد خیال لوگ ہیں، وہ بیرونی حکمران کونہیں مانتے، جولوگ افغانوں کی تاریخ سے واقف ہیں وہ یہ اقدام نہ کرتےجو امریکا نے کیا۔

    بطور منتخب سینیٹر حلف اٹھانے کے لیے تیار ہوں ،اسحاق ڈار کا چیئرمین سینیٹ کو خط

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں مشکلات اور چیلنجز رہیں، 40 سال بعد آج افغانستان میں کوئی تنازع نہیں، کوئی خانہ جنگی نہیں، لیکن وہاں سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے، افغانستان کی معیشت کا 70فیصد انحصار غیرملکی امداد پر ہے، افغانستان میں طالبان حکومت کے آتے ہی دنیا نے ان کے اثاثے منجمد کردیئے ، مغربی قوتوں نے طالبان حکومت کو سزا کے طور پر بینک کھاتے منجمد کیے، پابندیوں کی وجہ سے افغانستان افراتفری کا شکار ہوا، طالبان حکومت پر پابندیاں لگانے سے نقصان افغان عوام کا ہو رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ امریکا طالبان حکومت اور عوام میں فرق نہیں کر پا رہا، اب مزید غلطیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

    وزارت اطلاعات ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں ناکام

    عمران خان نے مزید کہا کہ سنکیانگ صورتحال کا جائزہ لینے کےلیے ہم نے اپنا سفیر بھیجا تھا، پاکستانی سفیر نے کہا کہ مغربی میڈیا سنکیانگ صورتحال کو مختلف پیش کرتا ہے چین نے پاکستا ن کی ہمیشہ مدد کی اور ہرمشکل میں ساتھ کھڑارہا۔

    عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد بھارت کیساتھ تعلقات معمول پرلانا ترجیح تھی، مسئلہ کشمیرپاکستان اوربھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے، کیونکہ بھارت نے کشمیریوں کوحق رائے دہی سے محروم کررکھا ہے، بھارت اپنی ہی لگائی ہوئی نفرت کی آگ میں جل رہاہے سردجنگ سے پوری دنیا متاثرہوگی ، ایک اورسرد جنگ نہیں چاہتے۔

    وزیراعظم عمران خان کوملازمین پرترس آگیا:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

  • امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں اعلان

    امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں اعلان

    لاہور:امریکا پاکستان کیساتھ ملکر کالعدم ٹی ٹی پی کوختم کرنے کےلیے حاضرہے:امریکی جنرل کا کانگریس میں پالیسی بیان،اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ مل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا خاتمہ کرینگے۔

    امریکی افواج سنٹرل کمانڈ کے اگلے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مائیکل کوئریلا نے امریکی کانگریس کو بتایا امریکا پاکستان کے ساتھ ملکر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی پرتشدد دہشت گردتنظیم ہے جو پاکستان کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے۔ اسلام آباد اور واشنگٹن کی مشترکہ مفادات فہرست میں”تمام دہشت گرد تنظیموں” کا خاتمہ اور افغانستان میں مستحکم حکومت کا قیام بھی شامل ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر انسانی بحران کے باعث مہاجرین کی بڑی تعداد کے پاکستان ہجرت کرنے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ مشکل حالات میں بسنے والے افغان شہری پہلے ہی ملک چھوڑ کر جانا شروع ہو چکے ہیں۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن حد تک کام جاری رکھنا چاہتے ہیں، اسلام آباد کے خطے میں عسکریت پسند گروپوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر امریکا کے ساتھ بعض اوقات مخالفانہ تعلقات رہے ہیں لیکن واضح کرتا چلوں ہمارے مفادات مشترکہ ہیں۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کیخلاف آپریشن کے لیے متعدد بار پاکستان افغان طالبان کو کہہ چکا ہے کہ دہشتگردوں خلاف کارروائی کی جائے۔

    یاد رہے کہ چند ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان کی معاونت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ کچھ گروپوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    اس دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے چند روز بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ایک ماہ کے لیے سیز فائر ہو چکا ہے، تاہم کالعدم ٹی ٹی پی نے خود ساختہ طور پر خود ہی اس سیز فائر کو توڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    5 جنوری کو میڈیا سے گفتگو کے دوران ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہےنہ ان کے ساتھ اب جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہے،آپریشن جاری ہے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نو دسمبرکوختم ہوگیا۔جنگ بندی کایہ معاہدہ غیرریاستی جنگجوعناصر کے ساتھ مذاکرات سے قبل موجودہ افغان حکومت کی درخواست پراعتماد سازی کےلیے اٹھایا گیا۔

  • مایونیز پر جھگڑا،دوست نے دوست کی جان لے لی

    مایونیز پر جھگڑا،دوست نے دوست کی جان لے لی

    مایونیز پر جھگڑے کے دوران دوست نے دوست کو قتل کردیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست آئیوا میں محض مایونیز پر ایک دوست نے اپنے دوست پر گاڑی چڑھا کر اُسے قتل کردیا جس پر مقامی عدالت نے مجرم کو عمر قید کی سزا سنا دی 30 سالہ سولبرگ نے 29 سالہ ارلبیکر کے کھانے پر مایونیز گرا دیا تھا جس پر ارلبیکر کو شدید غصہ آیا اور جھگڑا شروع ہوگیا۔

    بیوی کا سرتن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار

    رپورٹ کے مطابق سولبرگ اور ارلبیکر نے رات کو ایک بار میں شراب نوشی کی تھی جس کی وجہ سے وہ شدید نشے کی حالت میں تھے واپسی میں سولبرگ نے اُس کے کھانے پر مایونیز گرا دیا جس پر ارلبیکر کو طیش آگیا اور دونوں میں جھگڑا شروع ہوگیا ارلبیکر نے جھگڑے کے دوران اپنے دوست کو قتل کرنے اور اس کے گھر کو آگ لگانے کی دھمکی بھی دی۔

    دونوں دوستوں کے درمیان جھگڑا طول پکڑ گیا ارلبیکر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور باہر کھڑے نشے میں دھت سولبرگ کو ٹکر مار کر اُس پر گاڑی چڑھادی گاڑی کو پیچھے لیا اور پھر دوبارہ اپنے دوست پر چڑھادی جس کی وجہ سے سولبرگ کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

    پاک افغان سرحد کے قریب برفانی تودے کی زد میں آکر19 افراد جاں بحق

    عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران عینی شاہدین اور مجرم کی جانب سے خود اعترافِ جرم کے پیشِ نظر ارلبیکر کو عمر قید کی سزا سنادی۔

    قبل ازیں ایران میں بیوی کا سر تن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار کر لیا گیا تھا :ایران میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کو سڑکوں پرچلتے دیکھا گیا تھا جس کے ہاتھ میں ایک خاتون کا تن سے جدا کیا گیا سر موجود تھا۔ یہ سر اس کی بیوی کا بتایا جاتا ہے جسے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر قتل کیا۔

    پولیس نے ملزم اور اس کےبھائی دونوں کو حراست میں لےکران سے پوچھ گچھ کی ہے دونوں نے پولیس کے سامنے قتل کی گھناؤنی واردات کا اعتراف کیا ہے ان دونوں افراد کو ان کے جرم کے چار گھنٹے بعد ہفتے کے روز جنوب مغربی شہر اہواس سے گرفتار کیا گیا-

    یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

  • اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں دفاعی میزائل نظام ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ امریکی صدر نے سال کے آخر میں اسرائیل کے دورے کا عندیہ بھی دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن اوراسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نےٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، ایران اور افغانستان میں سیکیورٹی معاملات کے علاوہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ…

    دونوں رہنماؤں نے 4 سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے جانے والے میزائل اور گولوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دفاعی نظام آئرن ڈوم سسٹم کی تیاری پر اتفاق کیااس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکی تعاون اور ٹھوس حمایت پر صدر بائیڈن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم بینیٹ نفتالی کو بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں اسرائیل کا دور ہ کریں گے جب کہ شام میں امریکی فوجی کارروائی میں داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت پر بھی گفتگو کی گئی۔

    علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جس میں خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    خیال رہے امریکی ثالثی میں اسرائیل کیساتھ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت 4 عرب ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔

    روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہو گئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے کمر کس لی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے۔

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی…

    یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد آج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پُرامید بھی ہیں جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد آزما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔

    واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔

    پیرو میں مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ،ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے پاکستان سے تعلقات کواہمیت دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی ہے جس کے دوران ایک صحافی نے ان سے پاکستان اور چین کے قریب آنے سے متعلق سوال پوچھ لیا۔

    ازبکستان: چڑیا گھرمیں ماں نے3 سال کی بیٹی کوریچھ کے پنجرے میں پھینک دیا

    صحافی نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ کیا پاکستان اور چین اس لیے قریب آئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا ان سے لا تعلق ہو گیا ہے؟

    پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کے سوال پر امریکی ترجمان نے جواب دیا کہ کسی ملک کے لیے ضروری نہیں کہ امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے چین کے قریبی تعلقات کے بارے میں ان دونوں ممالک کوہی بات کرنا چاہئیے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر ہے پاکستان سے اہم تعلقات ہیں۔پاکستان اورامریکا کے تعلقات کئی شعبوں پرمحیط ہیں جن کواہمیت دیتے ہیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے کئی شعبوں میں تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں امریکا سے تعلقات رکھنا کسی بھی ملک کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں دنیا کے ہرملک کے آپس میں تعلقات کے کچھ فائدے اورکچھ نقصانات ہوتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کا دفاع مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔دونوں ممالک کے ساتھ سیکورٹی تعاون ہے اورمل کر کام کررہے ہیں ، یمن کا تنازع حل کرنے کا واحد راستہ سفارتی حل ہے، ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت پر تشویش ہے۔

    دوکان سے مرغی خریدنے گیا شخص ایک لاکھ ڈالرزکا مالک بن گیا

    انہوں نے ترک صدر طیب اردوان کے دورۂ یوکرین سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ ترکی اہم نیٹو اتحادی ہے، یوکرین سے یک جہتی کرنے والے نیٹو اتحادی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم بہت سے مختلف طریقوں سے افغان عوام کی حمایت کر رہے ہیں، ہم افغان عوام کی انسانی ضروریات میں مدد کر رہے ہیں، افغانستان سے متعلق خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ فعال کام کر رہے ہیں، شراکت داروں سے مل کر کابل ایئر پورٹ کو سول طیاروں کے لیے فعال بنانے پر کام کر رہے ہیں طالبان کو افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت ہے، انہیں اپنے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بھی ضرورت ہے، طالبان ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغانوں کو محفوظ راستہ اور نقل و حرکت کی آزادی دیں۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد