Baaghi TV

Tag: امریکا

  • نجی ٹی وی پرحساس معاملات پرگفتگواورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے:مریم اورنگزیب

    نجی ٹی وی پرحساس معاملات پرگفتگواورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے:مریم اورنگزیب

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک چینل پر چلنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی پرحساس معاملات پرگفتگواورحقائق کوغلط اندازسےپیش کرنا خطرناک ہے:

    اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراس قسم کی گفتگو کو اس انداز سے بیان کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد سازش کی بحث دفن ہوگئی ہے واضح ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی، اسے سازش دکھانے والے اصل میں سازش کررہے ہیں

    پاکستانی سفیر نے موقف اجلاس میں رکھا، ان کے مراسلے کے تناظر اور مواد کا بغور جائزہ لیا گیا ،سفیر کے موقف، تناظر اور ارادے کے واضح ہونے کے بعد یہ خبریں محض منفی سیاست کا حصہ ہیں ،جھوٹ کو خبر بنا کر پیش کرنا پاکستان کے قومی مفادات کے گلے پر چھری چلانا ہے

    آگے چل کرکہا گیا ہے کہ عمران صاحب بعض چینلز کو جھوٹی خبریں فیڈ کررہے ہیں جو ملک کے خلاف سازش ہے ،عمران صاحب کا جھوٹ پکڑا گیا ہے تو وہ میڈیا کے ایک حصے کو جھوٹی خبریں پھیلانے کے لئے استعمال کررہے ہیں ،نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعلامیے کے بعد اس نوع کی خبریں ملک کے ساتھ بھلائی نہیں،ملکی سلامتی افراد ، اداروں سے زیادہ مقدم ہوتی ہے۔

     

    اپنے جھوٹے بیانئے کو آنکھوں سامنے دفن ہوتے دیکھ کر “ ملک و قوم” کی قبر کھودنے کی کوشش کرنے والے ہی در اصل میر جعفر و میر صادق ہوتے ہیں ۔ایک نجی چینل پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے حوالے سے خودساختہ ، من گھڑت و شرم سے عاری خبر دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے “ خدارا ذاتی مفادات کو ملکی مفاد پہ ترجیح نا دیں ۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں “۔

     

    دوسری طرف وزارت خارجہ نے بھی اس حوالے سے معاملے کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ اسد مجید نے جو صورت حال تھی وہ بتادی ہے ،قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے سارا معاملہ رکھ دیا ہے

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرنے واضح کردیا ہے کہ امریکا پاکستان میں رجیم چینج میں ملوث ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے میں حکومتی دباؤ کے باوجود امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید ڈٹ گئے۔

    نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر اسد مجید پر بیان بدلوانے کے لیے حکومتی دباؤ کام نہ آیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسد مجید نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خط میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے، کیسے کہوں کہ یہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق مراسلے میں کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ہے۔

  • اب امریکا ہی میرا اصلی گھر ہے،شہزادہ ہیری

    اب امریکا ہی میرا اصلی گھر ہے،شہزادہ ہیری

    برطانیہ کے شہزادہ ہیری نے امریکا کو اپنا اصل گھر قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب امریکا ہی ان کا گھر ہے جبکہ اس سے پہلے شہزادہ ہیری کے وکیل نے لندن ہائیکورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ ہی شہزادہ ہیری کا گھر ہے اور یہی ان کا ہمیشہ گھر رہے گا۔

    امریکی عبادت گاہوں کی رکنیت میں کمی،گزشتہ برس 2 کروڑ 60 لاکھ امریکیوں نے باقاعدگی سے انجیل پڑھنا…

    نیدرلینڈز میں امریکی صحافی کو دیئے گئے انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے سکیورٹی اور دیگر وجوہات کو بنیاد بنا کر یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ وہ اپنی دادی یعنی ملکہ برطانیہ کی جون میں ہونے والی پلاٹینم جوبلی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے اپنے والد اور ولی عہد شہزادہ چارلس اور بھائی شہزادہ ولیم کی کمی محسوس ہونے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا خصوصی دورہ

    ہیری کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ محفوظ رہیں اور ان کے گرد صحیح افراد موجود ہوں۔

    تاہم شہزادہ ہیری کو اس متنازع انٹرویو پر برطانیہ میں عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

    سینیما کی بحالی کے بعد کتنے کروڑ سعودی شہری فلم دیکھ چکے ہیں؟

  • امریکی عبادت گاہوں کی رکنیت میں کمی،گزشتہ برس 2 کروڑ 60 لاکھ امریکیوں نے باقاعدگی سے انجیل پڑھنا چھوڑ دی،سروے

    امریکی عبادت گاہوں کی رکنیت میں کمی،گزشتہ برس 2 کروڑ 60 لاکھ امریکیوں نے باقاعدگی سے انجیل پڑھنا چھوڑ دی،سروے

    امریکن بائبل سوسائٹی کے سالانہ اسٹیٹ آف دی بائبل رپورٹ کیلئے سروے کرنے والے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ امریکیوں نے گزشتہ برس مکمل یا جزوی طور پر انجیل کو پڑھنا بند کردیا ہے ، اور اس کمی کا تعلق کورونا وائرس کی روک تھام کی وجہ سے گرجا گھروں کے بند ہونے سے ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کرسچنٹی ٹوڈے کے مطابق امریکن بائبل سوسائٹی کےکے مرکزی محقق جان پلاک نے 2022 کی رپورٹ میں لکھا کہ رپورٹ پر کام کرنے والی ٹیم نتائج سے حیران رہ گئی۔

    جان پلاک کے مطابق ہم نے اپنے حساب کتاب کا از سر نو جائزہ لیا، ہر چیز کو دوبارہ چیک کیا اور بار بار جانچا لیکن ہر بار ہمیں جو نتیجہ ملا وہ حیران کن، دل شکن ،چونکا دینے والا، مایوس کن اور انتشار انگیز تھا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں تقریباً 50 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ سال میں تین سے چار بار بائبل پڑھتے ہیں، 2011 میں یہ شرح اور بھی زیادہ تھی۔

    لیکن 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق اب صرف 39 فیصد امریکی ایسے ہیں جو سال میں تین سے چار بار یا اس سے زیادہ دفعہ بائبل کو پڑھتے ہیں مذکورہ بالا فیصد میں 2022 میں 11 پوائنٹس کی کمی آئی یہ اب تک کی سب سے بڑی تنزلی قرار دیا جا رہا ہے

    پلا ک نے کہا۔سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن جب یہ ٹھیک نہیں ہے تو ہم کیسے جواب دیں گے؟ یہ چرچ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ ہم انجیل پڑھنے والوں کی تعداد کو واپس بڑھانے ے قابل ہو جائیں گے لیکن یہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب ہم اکٹھے ہوں اور ہم کہتے ہیں کہ ہم اپنی کمیونٹیز کی اس امید کے ساتھ خدمت کرنے جا رہے ہیں جو ہمیں خدا کے کلام میں ملتی ہے۔ ”

    سروے کی رپورٹ کے مطابق، ایسا نہیں ہے کہ کبھی کبھار انجیل کو پڑھنے والے لوگوں کی تعداد کم ہوئی ہے بلکہ ایک کروڑ 30 لاکھ ایسے لوگ جو بائبل کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، خدا سے وابستگی کے جذبات رکھتے تھے اور مذہبی رغبت کےروز مرہ کی زندگی پر اثرات پر یقین رکھتے تھے انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ اب وہ مذہبی کتاب کم پڑھتے ہیں۔

    سروے کے مطابق اس وقت امریکا میں روزانہ کی بنیاد پر بائبل کی تلاوت کرنے والے افراد کی تعداد صرف 10 فیصد ہے جبکہ کورونا وبا سے قبل یہ تعداد 14 فیصد تھی۔

    پلاک کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بائبل کو پڑھنے اور چرچ کی حاضری ایک دوسرے سے منسلک ہے، جب کورونا وبا کی وجہ سے چرچ کی سروسز میں تعطل آیا اور لوگوں کی حاضری کم ہوئی تو بائبل پڑھنے والوں کی تعداد بھی تیزی سے نیچے آئی۔

    رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ آف دی بائبل سروے نے جنوری 2022 میں ڈیٹا اکٹھا کیا جب امریکا میں اومیکرون ویرینٹ آیا ہوا تھا اور زیادہ تر گرجا گھر کھلے ہوئے تھے لیکن اس وبا کے دور میں چرچ جانے والوں کی تعداد تیزی سے کم ہوئی اور پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق وبا کے دوران چرچ جانا چھوڑنے والے ایک تہائی افراد تو واپس ہی نہیں آئے۔ کچھ لوگوں نے آن لائن پریکٹس شروع کردی جبکہ بعض نے مکمل طور پرکنارہ کشی اختیار کرلی اور اسی دوران بائبل پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی واضح کمی آئی۔

    ایک اور سروے جو کہ لائف وے کی جانب سے کیا گیا، اس کے مطابق جو لوگ بائبل پڑھتے ہیں وہ بھی بہت زیادہ نہیں پڑھتے، ہر پانچ میں سے صرف ایک امریکی ایسا ہے جس نے بائبل کو مکمل پڑھا ہے جبکہ ہر چار میں سے ایک شخص ایسا ہے جس نے محض چند آیات ہی پڑھی ہیں۔

    پلاک کا کہنا ہے کہ بائبل پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی کے باوجود ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو بائبل کی جانب دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے کبھی نہ پڑھنے والے ایک تہائی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے کافی متجسس ہیں۔

    اس کا ثبوت یہ ہے کہ 2022 میں بھی بائبل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شائع شدہ بائبل کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    پلاک کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا عیسائیوں کیلئے حوصلہ افزا نہیں ہے تاہم یہ تنزلی اٹل اور ناقابل واپسی نہیں۔

    امریکی چرچ کی رکنیت سالوں میں سب سے کم ہے ،گیلپ سروے

    دوسری جانب امریکا میں عبادت گاہ جانے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے اور پہلی بار یہ شرح 50 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔

    دی نیوز نے "گرے نیوز” کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اس حوالے سے گیلپ نے سروے کیا جس کے نتائج کے مطابق 8 دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عبادت گاہ جانے والے افراد کی شرح 50 فیصد سے نیچے آگئی ہے۔

    گیلپ سروے کے مطابق 2020 میں سروے میں شامل 47 فیصد افراد نے کہا کہ وہ گرجا گھر (عیسائیوں کی عبادت گاہ)، کنیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) یا مسجد (مسلمانوں کی عبادت گاہ) جاتے ہیں۔

    عبادت گاہ جانے والے افراد کی تعداد 2018 میں 50 فیصد جبکہ 1999میں 70 فیصد تھی گیلپ کے محققین کے مطابق جب 1937 میں انہوں نے پہلی بار یہ سروے شروع کیا تو امریکی گرجا گھروں سے لوگوں کی وابستگی کی شرح 73 فیصد تھی جبکہ اس کے بعد 6 دہائیوں میں یہ شرح 70 فیصد کے قریب ہی رہی لیکن 21 ویں صدی میں اس میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوئی۔

    گیلپ کے مطابق عبادتگاہوں سے وابستگی کی شرح میں کمی کی سب سے اہم وجہ کسی بھی مذہب پر یقین نہ رکھنے والے امریکی شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہے گزشتہ دو دہائیوں میں کسی مذہب پر یقین نہ رکھنے والے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، 2000-1998 میں یہ شرح 8 فیصد تھی جو 2010-2008 میں بڑھ کر 13 فیصد اور گزشتہ تین برسوں میں 21 فیصد سے زائد ہوگئی۔

    گیلپ نے یہ بھی اطلاع دی کہ جب نوجوان نسل کی بات آتی ہے تو اس نے چرچ کی رکنیت میں کمی دیکھی ہے لیکن ریپبلکنوں کے ساتھ ساتھ شادی شدہ بالغوں اور کالج سے فارغ التحصیل افراد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے امریکا کے جنوبی حصے میں رہنے والے افراد اور سیاہ فام بالغ افراد میں عبادتگاہوں سے وابستگی کی شرح سب سے زیادہ پائی گئی۔

  • پاکستان کواہم شراکت دار پارٹنر کے طورپردیکھتے ہیں،نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام جاری رکھنا چاہتے ہیں،امریکا

    پاکستان کواہم شراکت دار پارٹنر کے طورپردیکھتے ہیں،نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام جاری رکھنا چاہتے ہیں،امریکا

    واشنگٹن: امریکا کا کہنا ہے کہ علاقائی اورعالمی مسائل پرپاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام جاری رکھنا چاہتے ہیں-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے 75سالہ تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں پاکستان کواہم شراکت دار پارٹنر کے طورپردیکھتے ہیں اور علاقائی اورعالمی مسائل پرپاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    توقع ہے پاکستانی مسلح افواج کیساتھ صحت مند تعلقات جاری رہیں گے، پینٹاگون

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر پاکستان کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے خصوصاً ایسے افغانستان کے لیے جو اپنے شہریوں بشمول اقلیتوں، خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کی عزت کرے۔

    قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ نے شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارک باد پیش کی تھی امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارک باد دیتے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، پاکستان 75 سال سے وسیع تر باہمی مفادات کا اہم شراکت دار ہے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعاون کو آگے بڑھانے کے منتظر ہیں، جمہوری اور مضبوط پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

    دریں اثنا پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکا کے پاکستانی مسلح افواج کے ساتھ ایک صحت مند ملٹری ٹو ملٹری تعلقات ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ یہ تعلقات جاری رہیں گے امریکہ کے "پاکستان کے ساتھ سلامتی اور استحکام کے حوالے سے مشترکہ مفادات ہیں خطے میں پاکستان کے کلیدی کردار اور دہشت گردی کی جنگ میں قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام خود اپنے ملک میں دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں امریکا نے اس خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنے مفادات کا اشتراک کیا۔

    امریکا کی شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد

    پینٹاگون کے ترجمان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستان میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اُٹھایا ہے اور امریکا سے دیرینہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ خطے میں امن،سکیورٹی اور ترقی کے مشترکہ مقاصدکے فروغ کاخواہاں ہے اور تعمیری و مثبت تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتا ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ اہم تعلق کو مساوات اور باہمی مفاد کی بنیاد پر مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے "دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ ایک خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے انتہائی اہم قرار دیتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ قیادت کوئی بھی ہو یہ بدستور برقرار ہے۔

    تاہم، ساکی نے صدر جو بائیڈن اور نئے وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان فون کال کے امکان پر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا تھا کہا تھا کہ "میرے پاس اس وقت کال کی کوئی پیشین گوئی نہیں ہے بلاشبہ، ہمارے پاکستان کے ساتھ ایک طویل، مضبوط اور مستقل تعلقات ہیں، ایک اہم سیکورٹی رشتہ ہے اور یہ نئے لیڈروں کے تحت جاری رہے گا-

    امریکا کا بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور مذہبی آزادی کی پابندی پر تشویش کا اظہار

  • امریکا کا بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور مذہبی آزادی کی پابندی پر تشویش کا اظہار

    امریکا کا بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور مذہبی آزادی کی پابندی پر تشویش کا اظہار

    واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بالخصوص مسلمانوں پر تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے معاملے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہےمسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں اور نوجوانوں کا سرکاری اور غیر سرکاری فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

    بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شرمناک ہیں،امریکا

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی انسانی حقوق کے گروپوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ حال ہی میں مودی حکومت نے ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی اگرچہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے لیکن آزادیٔ اظہار رائے اور میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں صحافیوں پر تشدد کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور بلاجواز گرفتاریاں کی گئیں بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کی فنڈنگ، یا آپریشنز اور پناہ گزینوں کی بحالی پر حد سے زیادہ پابندی والے قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہ بھارت میں حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات تشویشناک ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہورہا ہے انسانی حقوق کی پامالی میں سرکاری افسر، پولیس اہلکاراورجیل حکام ملوث ہیں بھارتی حکام سے ملاقاتوں میں انسانی حقوق کی اہمیت اوراس کی بلاتفریق فراہمی سے متعلق اپنے موقف سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

    بھارت انتہا پسندی میں تمام حدود پار کررہا ہے بالخصوص مسلم دشمن اقدامات نے دنیا بھر میں اس کے نام نہاد سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے کرناٹک جہاں رواں سال کے آغاز پر اسکولوں میں حجاب تنازع نے جنم لیا تھا وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم دشمنی میں ہندو انتہا پسند اقدامات بڑھتے جارہے ہیں مسلمانوں پر آئے دن نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور اب انہوں نے مسلمانوں کو معاشی بدحال کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے مندروں اور مذہبی میلوں میں حلال، مسلم تاجروں پر پابندی اور لاؤڈ اسپیکر پراذان کی پابندیاں لگائی گئیں بعد ازاں مسلم ٹیکسی ڈرائیورزکی خدمات حاصل کرنے اور مسلم پھل فروشوں سے پھل لینے پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں-

    دہلی فسادات،14 افراد گرفتار،بے گناہ مسلمان پھنسا دیئے گئے

    ہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرایسا نہیں کیا گیا تووہ لاؤڈ اسپیکرپر اذان سے قبل پہلے ‘ہنومان چالیسہ’ پڑھیں گے علاوہ ازیں ہندو تنظیموں نے مساجد میں اذان کے وقت ہندوؤں کی بھجن نشر کرنے کا منصوبہ بنایا ہندو کارکن بھرتھ شیٹی نے کہا تھا کہ یہ مہم بنگلورو میں یلہنکا کے انجنیا مندر میں صبح 5 بجے اذان کے وقت شروع ہوگی اس مہم کی منصوبہ بندی ریاست بھر میں کی گئی ہے ہندو تنظیمیں مسجدوں میں اذان کے عین وقت "اوم نمہ شیوائے”، "جئے شری رام” کے نعرے اور دیگر عقیدتی دعائیں نشر کریں گی-

    جبکہ بھارت میں ماہ رمضان میں مسلماںوں پر جینا تنگ کر دیا گیا ہے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد، املاک کی تباہی کے واقعات جاری ہیں مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر اتارنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مودی سرکار خاموش ہے، بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں ایک ہندو مذہبی جلوس کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے سلسلے میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے نئی دہلی کے مضافاتی علاقے جہانگیر پوری میں ایک تہوار کے موقع پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران گزشتہ روز 6 پولیس افسر اور متعدد دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے پولیس نے بتایا ہے کہ فساد میں ملوث دیگر افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے شناخت کی جارہی ہے-

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی،ہنگامے جاری،سعودی عرب،ایران کا ردعمل آ گیا

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمرانی نے حالیہ برسوں میں سخت گیر ہندو مذہبی گروہوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے عقائد کا دفاع کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں جبکہ ان کی پارٹی نے نریندر مودی کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کی تردید کی ہے-

    دہلی کے بعد آندھرا پردیش کے علاقے کرنول میں بھی فسادات ہوئے ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران دو گروپوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ اس واقعہ میں کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ صورت حال مکمل طور پر پرامن ہے۔

    حالات کشیدہ اس وقت ہوئے تھےجب شام کو ایک مسجد کے سامنے سے جلوس نکل رہا تھا چونکہ مسجد میں افطار اور نماز کا وقت تھالہذا نمازیوں نے جلوس کے دوران اونچی آواز میں موسیقی بجانے پر اعتراض کیا جس پر ہندو انتہا پسندوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور مسلمانوں پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا مسلمانوں نے بھی جوابی پتھراؤ کیا، ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے،جبکہ مسلمانوں کی جانب اللہ اکبر کے نعرے لگائےاطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پایا، پولیس نے واقعہ کی ویڈیو کی مدد سے 20 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور اضافی فورس تعینات کی گئی تھی جبکہ علاقہ میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی کیا گیا-

    اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصٰی میں تشدد کا مسلسل چوتھا روز، یہودیوں کی عبادت کیلئے مسلمانوں کو بے دخل…

  • سفاک پوتے نے 82 سالہ دادی کوفریج میں بند کر کے مار دیا

    سفاک پوتے نے 82 سالہ دادی کوفریج میں بند کر کے مار دیا

    واشنگٹن: امریکا میں سفاک پوتے نے اپنی 82 سالہ دادی کو مہینوں تک فریج میں بند کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست جیورجیا کے علاقے آرموکی میں انتیس سالہ روبرٹ کیتھ ٹنچر نامی شخص نے معمر خاتون کو شاپر بیگ میں بند کرکے فریج میں رکھا جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔

    ماں کو گھر میں دس برس تک قید رکھنے والا سفاک گرفتار

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈورس نامی ضعیف خاتون دسمبر میں حادثاتی طور پر گھر میں گر زخمی ہوئیں تو پوتے نے بجائے اسپتال لے جانے کے انہیں فریج میں بند کردیا جس سے وہ ہلاک ہوگئیں، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

    ابتدائی طور پر کہا جارہا ہے کہ ٹنچر ذہنی مریض ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ پاؤں پھسلنے کے باعث گری تھیں اور وہ زخمی حالت میں سانس بھی لی رہی تھیں لیکن ملزم نے اسی حالت میں انہیں بڑے سے فریج میں ڈال دیا تھا۔

    پولیس نے بتایا کہ خاتون کے اچانک غائب ہونے پر خاندان والوں نے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی، تحقیقات کے دوران حقیقت سامنے آئی، ملزم نے کہا وہ اپنی دادی سے بہت محبت بھی کرتا تھا۔

    قبل ازیں بھارتی ریاست تامل ناوڈو میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا تھا جس میں بیٹوں نے بوڑھی ماں کو 10 سال تک گھر میں قید رکھا تھا بھارتی ریاست تامل ناڈو کے علاقے تھنجاور میں اپنی 72سالہ ماں کو 10 سال تک گھر میں قید رکھنے پر ایک پولیس افسر سمیت دو بھائیوں کو گرفتارکیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا-

    بھارت: طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ،14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی

  • امریکا میں مسلح شخص کی شاپنگ مال میں فائرنگ،12 افراد زخمی

    امریکا میں مسلح شخص کی شاپنگ مال میں فائرنگ،12 افراد زخمی

    کولمبیا: امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کے شہر کولمبیا کے ایک شاپنگ مال میں مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے 12 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق شاپنگ مال میں فائرنگ کے واقعے کے بعد کولمبیا پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے لیا جن میں سے 2 کو رہا کردیا گیا ہے جب کہ ایک شخص کو جیل منتقل کردیا گیا۔

    نیویارک فائرنگ: مشتبہ حملہ آور گرفتار

    گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے جس کی شناخت 24 سالہ جیوانائے پرائس کے نام سے ہوئی ہے سیاہ فام ملزم کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    کولمبیا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ دو مسلح گروہ کے آپس میں جھگڑے کے باعث ہوا 12 میں 7 زخمیوں کو گولیاں لگنے کی وجہ سے شدید چوٹیں آئی ہیں۔

    نیویارک سب وے اسٹیشن پر دھماکا، 5 افراد ہلاک

    واضح رہے کہ چند روز قبل : امریکی ریاست نیویارک سٹی سب وے اسٹیشن پر ایک شخص نے دھماکا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے رش کے اوقات میں بروکلین سب وے اسٹیشن میں بم پھینکنے کے بعد گیس ماسک اور اورنج کنسٹرکشن جیکٹ میں ملبوس شخص نے متعدد افراد پر فائرنگ کی تھی –

  • ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے 100 افراد میں کینسر کی تشخیص

    ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے 100 افراد میں کینسر کی تشخیص

    امریکا میں ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے 100 افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، یہ واقعہ امریکی ریاست نیوجرسی کے علاقے ووڈبرج میں ایک کولونیا ہائی اسکول میں پیش آیا-

    باغی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاست نیو جرسی میں ایک حیران کن طبی واقعہ پیش آیا ہے ایک شخص کے طبی معائنے سے پتا چلا کہ اسے کینسر ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکا میں ایک ہی اسکول میں پڑھنے والے 100 افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ہندوانتہاپسند وں کا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ

    ال لوپینوکی سنہ 1999 میں عمر 27 سال تھی انہیں ایک انوکھے نوعیت کے دماغی ورم کے حادثے کا سامنا کرنا پڑا تحقیق سے پتا چلا کہ یہ عارضہ غیر معمولی کی چوٹ کا نتیجہ ہےکسی ایسے شخص کے لئے غیر معمولی طور پر بڑے پیمانے پر ٹیومر ایکوسٹک نیوروما (AN) کہا جاتا ہےگذشتہ موسم گرما میں لوپیانو کی بیوی اور اس بہن میں بھی اسی نوعیت کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔

    لوپیانو نے فیس بک پر بھی وضاحت کی ہے کہ اس نے اپنی حالت کو اپ ڈیٹ کیا ہے-

    اس نے لکھا کہ میں سوچتا ہوں کہ میں اور میری بیوی کو ایک ہی اعصابی ٹیومر ہے۔ اسی سائز یا اس کے مطابق سر کے اسی حصے پر یہ معاملات ارب میں 1 ہوسکتے ہیں سرجن فکر مند تھا کیونکہ کینسر کا شکار مریض میں اکیلا نہیں تھا بلکہ ہمارے ساتھ ایک ہی محلے میں ایک جیسے کینسر کے کیسز تھےایک اچھی وجہ ہے کہ دماغ کے ٹیومرز تابکاری سے نمٹنے کی وجہ سے ہیں-

    جبکہ لوپیانو کو آخر کار پتا چلا کہ اس کے اور اس کی بیوی اور بہن کے درمیان منسلک ایک ہی محرک ہے جو کینسر کا باعث بنا ہے جبکہ وہ سب کو 1990 کے دہائی میں ووڈ بریدج میں کولون کالونیا انٹرمیڈیٹ اسکول میں شمولیت اختیار کی.

    امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے سناپوں ،کتوں ،بلیوں سمیت درجنوں جانور برآمد

    لیکن لوپیانو کو ابتدائی طور پر اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ہائی اسکول اسی طرح کے دماغ کے کینسر سے منسلک کیا گیا تھا اس نے اپنے سابق ساتھیوں سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا اور انہیں ملنے کا کہا۔

    11 اپریل تک یہ حیرت سامنے آچکی تھی کہ کولونیا کےاسکول میں 100 سے زائد سابق طالب علم نادر نوعیت کے کینسر کا شکار پائے گئے تھے۔

    ووڈبرگ کےمیئر جی جان میکرمیک نے کہا کہ انہوں نے ہائی اسکول کے کیمپس پر ممکنہ تابکاری سے نمٹنے کے بارے میں تحقیقات میں صحت اور انسانی خدمات، ماحولیاتی تحفظ اور زہریلے مواد کی رجسٹریشن کرنے والی ایجنسی کے ذریعے بات چیت شروع کردی انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی مقامی اور وفاقی سطح پر تحقیقات کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لوپیانو نے کا کہنا ہے کہ ممکن ہےکہ نیو جرسی میں کولونیا ہائی اسکول مڈل ساکس فیکٹری کے درمیان رابطے ہی کینسر کا باعث بنے ہوں۔ یہ فیکٹری بعد میں بند ہوگئی تھی مگر اس تک 30 منٹ کی ڈرائیو سے پہنچا جا سکتا تھا۔

    موبائل میں مصروف لڑکی پر سے ٹرین گزر گئی

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    یروشلم: امریکا نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد "گہری تشویش” کا اظہار کیا-

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اشتعال انگیز کارروائیوں اور بیان بازی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینیوں اور اسرائیلی حکام سے تناؤ کو کم کرنے اور سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعاون سے کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعے کے روز بیت المقدس میں مسجد الاقصی پر دھاوا بولنے، اس کے دروازے بند کرنے اور مسجد کے اندر اور اس کے بیرونی صحن میں نہتے نمازیوں پر حملہ کرنے پر اسرائیلی قابض افواج کی مذمت کی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس منظم دھاوے کو مسجد اقصیٰ کے تقدس اور اسلامی ملت کے لیے اس کی اہمیت پر ایک صریح حملہ اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

    سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کو نہتے فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات پر ہونے والے ان جاری جرائم اور خلاف ورزیوں کے لیے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرائے۔

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    یاد رہے جمعے کو طلوع فجر سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو گئیں تھیں جہاں ہزاروں فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے میں جمعہ کی نماز کے لیے جمع تھے اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 150 سے زائد فلسطینی زخمی ہو گئے یہ ماہ رمضان کے آغاز کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی جھڑپیں ہیں یہ جھڑپیں اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جان لیوا تشدد کی لہر کے تیسرے ہفتے رونما ہوئیں جب یہودیوں کا تہوار پاس اوور، عیسائیوں کا تہوار ایسٹر اور مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان تینوں اکٹھے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

    قابل ذکر ہے کہ یہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں اضافی فوجی نفری تعینات کرنے اور دیوار فاصل کو مضبوط کرنے کے اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے حال ہی میں فلسطینیوں کے حملوں میں 14 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد اسرائیل غرب اردن میں اضافی فوج تعینات کی ہے-

    مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا

  • امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے سناپوں ،کتوں ،بلیوں سمیت درجنوں جانور برآمد

    امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے سناپوں ،کتوں ،بلیوں سمیت درجنوں جانور برآمد

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے کتے اوربلیوں سمیت 183 جانور برآمد ہوئے جنہیں منجمد کردیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ” نیویارک پوسٹ ” کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا میں مائیکل پیٹرک نام کے شخص کے گھرپرجب پولیس نے ایک شکایت پرچھاپہ مارا تو فریزر سے کتے،بلیاں، سانپ ،چھپکلیاں،خرگوش،کچھوے ،چوہے اوردیگرجانور برآمد ہوئے جن کی تعداد 183 تھی۔

    نیویارک فائرنگ: مشتبہ حملہ آور گرفتار

    پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برآمد کئے گئے جانوروں میں سے کچھ منجمد ہونے کے باوجود زندہ تھے۔

    موہاو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ مردہ جانور ریاست کے مغرب میں واقع گولڈن ویلی میں 43 سالہ مائیکل پیٹرک ٹورلینڈ کے کرائے پر لئے گئے گھر میں پائے گئے-

    مائیکل پیٹرکی پڑوسی خاتون نے اپنے سانپ دیکھ بھال کے لئے اس کے حوالے کئے تھے لیکن سانپ واپس نہ ملنے پرپولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور 3 اپریل کو یہ چھاپہ مارا-

    وبائل میں مصروف لڑکی پر سے ٹرین گزر گئی

    جانوروں سے بے رحمی کے الزام میں مائیکل پیٹرک کوگرفتارکرلیا تفتیش کے دوران ٹورلینڈ نے بالآخر کچھ جانوروں کو فریزر میں رکھنے کا اعتراف کیا جب وہ ابھی تک زندہ تھےتاہم اس کی بیوی کی تلاش جاری ہے اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کوفریزر میں منجمد کرنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔