Baaghi TV

Tag: امریکا

  • بھارتی خاتون امریکی اسٹور سے سامان چراتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، ویڈیو

    بھارتی خاتون امریکی اسٹور سے سامان چراتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، ویڈیو

    بھارتی خاتون امریکی اسٹور سے سامان چراتے پکڑی گئی ہے جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی-

    امریکی ریاست الینوائے میں ایک بھارتی خاتون کو ٹارگٹ اسٹور سے مبینہ طور پر 1300 ڈالر مالیت کی اشیاء چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا،واقعے کی سی سی ٹی وی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں خاتون کی گرفتاری دیکھی جاسکتی ہےواقعہ اس سال یکم مئی کو پیش آیا۔

    رپورٹس کے مطابق ملزمہ اننتا اوولانی ایک اسٹور سے 1300 ڈالر (3 لاکھ سے زائد پاکستانی روپے) کا سامان چوری کرتے ہوئے پکڑی گئی،خاتون کی جانب سے 7 گھنٹے سے زیادہ خریداری کرنے کے بعد اسٹور کے عملے کو شک ہوا اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی ایک خاتون افسر، دو مرد ساتھیوں کے ساتھ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور خاتون سے 4 گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی۔

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں نیلے رنگ کے لباس میں ملبوس خاتون بھارت کی رہنے والی ہے جس سے خاتون پولیس اہلکار پاسپورٹ طلب کر تی ہے ، بھارتی خاتون کہتی ہے کہ پھر میں کیا کروں گی، پولیس اہلکار کہتی ہے کہ آپ کو چوری نہیں کرنی چاہیے تھی ، اہلکار بار بار پاسپورٹ دکھانے کا اصرار کرتی ہے ، بھارتی خاتون کے ناماننے پر کہتی ہے کہ اگر آپ پاسپورٹ نہیں دکھائیں گی تو ہمیں آپ کو پولیس سٹیشن لے جانا ہو گا اور پھر آپ کی شناخت وہاں پر ہو گی ۔

    https://x.com/RShahzaddk/status/1944995811999265024

    ویڈیو میں ملزمہ کو پولیس سے التجا کرتے سنا گیا کہ اس کے پاس ان اشیاء کی ادائیگی کے لیے پیسے ہیں خاتون افسر نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے آپ شرمندہ ہیں اور ابھی ادائیگی کرنے کو تیار ہیں لیکن آپ پہلے ادائیگی نہیں کرنا چاہتی تھیں لہٰذا مجھے آپ کی آئی ڈی کی ضرورت ہے بھارتی خاتون کہتی ہے کہ میں نے ابھی کچھ نہیں کیا ، ،دکاندار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا ، لیکن اب آپ پولیس سٹیشن لے جانے کا کہہ رہ ہے ہیں۔

    خاتون پولیس اہلکار کہتی ہے کہ اپنا پاسپورٹ دکھاؤ ہم تمہاری شناخت کریں گے اور پھر تمہیں پولیس سٹیشن لے کر جائیں گے ، اس کے علاوہ تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے ،اتنی بحث کے بعد بھارتی خاتون کہتی ہے کہ مجھے پولیس سٹیشن مت لے کر جاو، میں آپ سے معافی مانگتی ہوں اور ان تمام چیزوں کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہوں ۔

    خاتون پولیس اہلکار کہتی ہے کہ اب آپ معافی مانگ رہی ہیں اور پیسے دینے کیلئے بھی تیار ہیں لیکن اس سے قبل آپ اس کیلئے تیار نہیں تھیں، اس لیے ہمیں پولیس سٹیشن جانا ہو گا بھارتی خاتون کہتی ہے کہ میں اس ملک سے نہیں ہوں اور یہاں ہمیشہ رہنے والی بھی نہیں ہوں خاتون پولیس اہلکارکہتی ہے کہ کیا آپ بھارت میں بھی چیزیں چوری کرتی ہیں ؟ ۔تاہم ملزمہ کی التجا اور فوری ادائیگی کی پیشکش کے باوجود اسے گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

    پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

  • پچھلی بار جو وار کیا، وہ ابتدائی تھا، اصل طاقت کا مظاہرہ ابھی باقی ہے،خامنہ ای

    پچھلی بار جو وار کیا، وہ ابتدائی تھا، اصل طاقت کا مظاہرہ ابھی باقی ہے،خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کوئی فوجی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب پہلے سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پچھلی بار جو وار کیا، وہ ابتدائی تھا، اصل طاقت کا مظاہرہ ابھی باقی ہے۔

    سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں خامنہ ای نے کہاکہ،ہماری قوم امریکا اور اس کی پالتو صہیونی حکومت کے مقابل کھڑی ہے، اور یہ بڑی بات ہے۔ اگر کوئی نیا حملہ کیا گیا، تو ہم اس سے کہیں بڑا وار کریں گے جو ہم نے العدید بیس پر کیا۔”

    ایران کی پارلیمنٹ نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی پیشگی شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں،خامنہ ای نے ایرانی سفارت کاروں کو بھی خبردار کیا کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ کام کریں اور "رہنمائی” پر عمل کریں، اگرچہ انہوں نے اس رہنمائی کی تفصیل نہیں بتائی۔

    ایران نے گزشتہ ماہ قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل داغے تھے، جسے امریکا کا مشرق وسطیٰ میں حساس ترین اڈہ مانا جاتا ہے یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب اسرائیل اور امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی تھی،امریکا، فرانس، جرمنی، اور برطانیہ ایران پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اور انہوں نے مذاکرات کے لیے اگست کے آخر تک ڈیڈ لائن مقرر کی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ سخت عالمی پابندیاں عائد ہونے کا خدشہ ہے۔

  • امریکی محکمہ دفاع نے ایلون مسک کی اے آئی کمپنی سےمعاہدہ کرلیا

    امریکی محکمہ دفاع نے ایلون مسک کی اے آئی کمپنی سےمعاہدہ کرلیا

    مریکی محکمہ دفاع نے اوپن اے آئی، الفابیٹ کی گوگل، اینتھروپک اور ایلون مسک کی اے آئی کمپنی سے 20 کروڑ ڈالر مالیت کے معاہدے کیے ہیں۔

    روئٹرزکے مطابق امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی) کی جانب سے اوپن اے آئی، الفابیٹ کی گوگل، اینتھروپک اور ایلون مسک کی اے آئی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے ساتھ معاہدوں کا مقصد محکمہ دفاع میں جدید اے آئی صلاحیتوں کو وسیع پیمانے پر اپنانا ہے۔

    محکمہ دفاع کے چیف ڈیجیٹل اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس آفس نے بتایا کہ ان معاہدوں کے تحت محکمہ دفاع کو ایجنٹک اے آئی ورک فلو تیار کرنے اور انہیں قومی سلامتی کے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے کا موقع ملے گا چیف ڈیجیٹل اینڈ اے آئی آفیسر ڈوگ میٹی کا کہنا تھا کہ’اے آئی کو اپنانا ہمارے جنگجوؤں کی مدد کرنے اور مخالفین پر اسٹریٹجک برتری برقرار رکھنے کی محکمہ دفاع کی صلاحیت کو بدل رہا ہے۔

    https://x.com/xai/status/1944776899420377134

    ایران نے جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کی وجہ بتا دی

    امریکی سرکاری ادارے اے آئی کے استعمال کو بڑھا رہے ہیں، جس کی وجہ اپریل میں وائٹ ہاؤس کا جاری کردہ حکم نامہ ہے جو اس کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ٹیکنالوجی پر پابندیاں نرم کرنے کی کوشش کی ہے اور 2023 میں بائیڈن دور کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت اے آئی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ڈیٹا کا افشا کرنا لازم تھا۔

    پیر کو ایکس اے آئی نے اپنی مصنوعات کا ایک نیا سلسلہ’ گروک فار گورنمنٹ’ کے نام سے متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اس کے جدید ترین ماڈلز، بشمول فلیگ شپ گروک 4، وفاقی، مقامی، ریاستی اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے دستیاب ہوں گے۔

    پی پی پی اور جے یو آئی کا ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پینٹاگون نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اوپن اے آئی کو 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی کو ’ دونوں جنگی اور ادارہ جاتی شعبوں میں قومی سلامتی کے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اے آئی صلاحیتوں کے پروٹو ٹائپ تیار کرنے’ کے لیے کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔

  • امریکی صدر  کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں روس پر سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 50 دن میں جنگ بندی معاہدہ نہ ہوا تو روس پر بہت سخت ٹیرف نافذ کریں گے اور یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نیٹو کی معاونت سے ہو گی، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر 50 روز میں امن معاہدہ نہ ہوا تو روس پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے اوول آفس میں ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو کے دوران کہی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن سے خوش نہیں کیونکہ صدر پیوٹن کو یوکرین سے 2 ماہ قبل ہی امن معاہدہ کرلینا چاہیےتھا لیکن روسی صدر نے ایسا نہیں کیا وہ روس کو یوکرین سے امن معاہدے کےلیے 50 دن کا وقت دے رہے ہیں، اگر روس معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو سخت ٹیرف عائد کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نیٹو کو بہترین ساز و سامان بھیجنے والے ہیں جبکہ تجارت جنگیں ختم کرانے کے لیے بہترین طریقہ ہے اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان فوری طور پر تقسیم کیا جائے گا،ثانوی ٹیرف بہت سخت ہوں گے آج یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کا معاہدہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی سسٹم فراہم کرنے کا بھی اعلان کردیا کہا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم فراہم کریں گے تاکہ یوکرین روس کے خلاف جنگ میں اپنا دفاع کرسکے تجارت جنگوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے، ہم نے پاکستان بھارت کے درمیان جنگ رُکوائی، دونوں ممالک تیزی سے جوہری جنگ کی طرف جا رہے تھےتجارتی ٹیکسوں میں اضافے پر یورپی یونین اور دیگر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے یورپی یونین حکام بات چیت کے لیے آرہے ہیں۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ یورپی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ پہلا مرحلہ ہے جب مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 روز قبل یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد تجارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیاتھا، کہا تھا کہ یکم اگست سے یورپی یونین کی مصنوعات اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 30 فیصد ٹیکس نافذ ہوگا۔

  • امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں،رضوان شیخ

    امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں،رضوان شیخ

    امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں۔

    ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اسرائیل سے متعلق ہماری پالیسی قائداعظم کے نظریات کے مطابق ہے امریکا سے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں، امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں۔

    واضح رہے کہ ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا تھا کہ جلد کئی ایسے ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے جا رہے ہیں جو ناممکن لگتے تھے سعودی عرب بھی اس معاہدے میں شمولیت کے لیے راضی ہو چکا ہے مگر کچھ رکاوٹیں پیش آنے سے معاملات زیر التوا ہیں۔

    قبل ازیں ایک بیان میں پاکستانی سفیررضوان سعید شیخ نے کہا تھا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اوردونوں ممالک کے درمیان معدنیات، زراعت اورتوانائی کے شعبوں میں تعلقات کومزید وسعت دینے کی بھرپورصلاحیت موجود ہے بروقت امریکی مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی اور یہی علاقائی استحکام کے لئے کلیدی ہے،مسئلہ کشمیرکا پائیدارحل اقوام متحدہ کی قراردادوں اورعالمی برادری کے فعال کردارکے بغیر ممکن نہیں، ملاقات خوشگوارماحول میں ہوئی اورباہمی تعاون پراتفاق کیا گیا۔

  • امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی اپیل کورٹ نے نائن الیون کے مرکزی مشتبہ مجرم خالد شیخ محمد کے ساتھ ہونے والے پلی بارگین معاہدے کو منسوخ کر دیا-

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت خالد شیخ محمد کو سزائے موت سے بچایا جانا تھا اور اس کے ذریعے ان کے کیس سے جڑی طویل قانونی کارروائی کو انجام تک پہنچایا جا سکتا تھایہ معاہدہ 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے کچھ لواحقین میں غصے کا باعث بنا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسے گزشتہ سال منسوخ کر دیا تھالائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ متاثرین کے خاندانوں اور امریکی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات کی کارروائی دیکھی جائے۔

    خالد شیخ محمد کے ساتھ ساتھ 2 دیگر مبینہ ساتھیوں (ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی) کے ساتھ پلی بارگین معاہدے گزشتہ سال جولائی میں طے پائے تھے یہ فیصلہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ مقدمات برسوں کی پیشگی قانونی چالوں کے بعد حل کی طرف بڑھ رہے ہوں، جب کہ ملزمان اب بھی کیوبا میں گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں قید تھے۔

    لیکن لائیڈ آسٹن نے معاہدے کے اعلان کے 2 دن بعد انہیں منسوخ کر دیا اور کہا کہ اس اہم معاملے کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہونا چاہیےمتاثرہ خاندانوں، ہمارے فوجی جوانوں اور امریکی عوام کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان مقدمات میں فوجی کمیشن کے ٹرائل ہوتے دیکھ سکیں۔

    خالد شیخ محمد کون ہیں؟

    خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی سنہ 1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے ’نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ میں داخلہ لیا اور وہاں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کا ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔

    اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انھیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ’ملاز‘ کہتے تھے دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جا چکے تھےسنہ 1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف ’جنگِ جاجی‘ میں شریک ہوئے۔

    نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے۔ رمزی یوسف نے سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔

    ٹام میک ملن اپنی کتاب ’فلائٹ 93: دی سٹوری آف دی آفٹرمیتھ اینڈ دی لیگیسی آف امریکن کریج آن 9/11‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔‘

    افغانستان میں تربیتی کیمپ میں اپنے تجربے اور رابطوں کی بدولت رمزی یوسف جعلی پاسپورٹ کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کی ایک ٹیم بنائی تھی اور بموں سے لدی کرائے کی وین ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نارتھ ٹاور کے گیراج میں بھجوا دی۔

    اس دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے عمارت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا یوسف نے سوچا تھا لیکن وہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر دہشت پھیلانے میں کامیاب رہے تھےیہیں سے دنیا میں انتہا پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران رمزی یوسف امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

    ولید محمد بن عطاش

    ولید محمد صالح مبارک بن عطاش بھی القاعدہ کے اہم رکن ہیں اور ان پر بھی نائن الیون کے حملے کے الزامات کے ساتھ ساتھ پر دہشت گردی کی سازش، شہریوں پر حملہ کرنے، جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل اور املاک کو تباہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک یمنی شہری ہیں اور ان پر ہائی جیکنگ، دہشت گردی کرنے اور اس کی مالی معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی حکومت نے چار دیگر افراد سمیت ولید بن عطاش پر 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

    بن عطاش پر خاص طور پر الزام ہے کہ اسامہ بن لادن نے انھیں امریکی ویزا حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ امریکہ کا سفر کر سکیں اور پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں تاکہ وہ بالآخر ہائی جیکنگ میں حصہ لے سکیں۔

    ان پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے 1999 میں امریکی ویزے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے القاعدہ کے لیے تحقیق جاری رکھی اور نائن الیون کے ہائی جیکرز کے لیے سفر کی سہولت فراہم کیاگرچہ ولید بن عطاش کو مبینہ طور پر اپریل 2003 میں گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا لیکن ستمبر 2006 تک اسے گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

    مصطفیٰ احمد الہوساوی

    مصطفیٰ احمد آدم الہوساوی ایک عرب شہری ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے لیے ایک اہم مالی سہولت کار کے طور پر کام کیا۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کےمطابق امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مصطفیٰ الہوساوی نے نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے لیے فلائٹ سکولوں کی تحقیق میں مدد کی اور کئی ہائی جیکروں کے بینک اکاؤنٹس کا انتظام کیا اگرچہ الہوساوی کو مبینہ طور پر مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن اسے ستمبر 2006 تک گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

  • ایرانی سپریم لیڈر کی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر دوبارہ حملے کی دھمکی

    ایرانی سپریم لیڈر کی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر دوبارہ حملے کی دھمکی

    امریکا کی جانب حالیہ اقدامات اور ایران پر دباؤ کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ ماہ قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کا حوالی دیتے ہوئے کہا کہ العدید اڈے پر حملہ معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ یہ بہت بڑا کارنامہ تھا،ہم نے پہلے امریکی اڈے پر حملہ کر کے ان کے چہرے پر زوردار طمانچہ رسید کیا تھا، اور اگر واشنگٹن نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں، ایران کے پاس ’اہم امریکی مراکز‘ تک رسائی ہے اور انہیں ہدف بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

    مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پینٹاگون نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کی 23 جون کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملے میں ایک بیلسٹک میزائل العدید اڈے پر کمیونیکیشن ڈوم پر گرا تھا، جس کی سیٹلائٹ تصویر بھی اب سامنے آ چکی ہے،ایران کی جانب سے العدید اڈے پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے حملے سے آگاہ تھا، امریکی صدر ٹرمپ نے حملے کو ’کمزور ریسپانس‘ قرار دیا تھا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی یہ تازہ دھمکی خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا اشارہ دے رہی ہے، اور اگر صورتحال مزید بگڑی تو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا نے اقوام متحدہ کی فلسطین نمائندہ فرانچیسکا البانیز پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے اقوام متحدہ کی فلسطین نمائندہ فرانچیسکا البانیز پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکا نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی نمائندہ فرانچیسکا البانیز پر اسرائیل اور امریکی حکام کے خلاف تنقید پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ فرانچیسکا البانیز پر "امریکی و اسرائیلی حکام، کمپنیوں اور ایگزیکٹوز کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں کارروائی کی شرمناک کوشش” کرنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں،البانیوں کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سیاسی اور اقتصادی جنگ کی مہم کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ہم اپنے شراکت داروں کے اپنے دفاع کے حق میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے،قانون کے جواب میں اور اپنی خودمختاری اور اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے امریکہ جو بھی اقدامات ضروری سمجھے وہ کرتا رہے گا۔

    https://x.com/SecRubio/status/1942998936874054046

    فرانچیسکا البانیز، جو ایک اطالوی وکیل اور ماہر قانون ہیں، نے فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ (genocide) قرار دیا تھا اور اقوام متحدہ میں اسلحہ کی پابندی اور اسرائیل سے تجارتی و مالی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،رواں ماہ کے آغاز میں شائع ہونے والی ان کی رپورٹ میں 60 سے زائد کمپنیوں کو اسرائیلی کارروائیوں میں شراکت دار قرار دیا گیا تھا، جن میں اسلحہ ساز، ٹیکنالوجی اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔

    گزشتہ سال 276 ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی،اویس لغاری

    فرانچیسکا البانیز نے ’ایکس‘ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "میں ہمیشہ کی طرح انصاف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہوں ، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کیا ہے میں ایک ایسے ملک سے آئی ہوں جہاں نامور قانونی اسکالرز، باصلاحیت وکلاء اور دلیر ججوں کی روایت ہے جنہوں نے بڑی قیمت پر اور اکثر اپنی جان دے کر انصاف کا دفاع کیا ہے میں اس روایت کا احترام کرنا چاہتی ہوں، اسے ایک وجہ سے روم کا قانون کہا جاتا ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔

    انہوں نے الجزیرہ کو دیئے گئے پیغام میں امریکی اقدام کو ’مافیا طرز کی دھونس‘ قرار دیا۔

    https://x.com/FranceskAlbs/status/1943091793349796176

    دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل اور متعدد عالمی انسانی حقوق اداروں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو سزا نہیں بلکہ تحفظ دیا جانا چاہیے،ایمنسٹی کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے کہا: "ایسے تمام حکومتوں کو جو قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی انصاف پر یقین رکھتی ہیں، چاہیے کہ وہ ان پابندیوں کے اثرات کو روکے اور فرانچیسکا البانیز جیسے نمائندوں کی آزادی کا دفاع کریں۔

    بیٹوں کو پاکستان آکروالد سے ملاقات کی کوشش پر گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،جمائمہ کا انکشاف

  • مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے، امریکی صدر

    مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے، امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران جنگ ختم ہوگئی اور اب مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے ۔

    وائٹ ہاؤس میں دیے گئے عشائیے پر اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ گفتگو میں امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی 3 نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کیا،انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران جنگ ختم ہوگئی ہے، امید ہے ایران پر ایک اور حملے کی نوبت نہیں آئے گی، ایران کے ساتھ مذاکرات کا شیڈول بنایا ہے، درست وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے ۔

    روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں امریکی و اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والے عشائیے کے دوران نیتن یاہو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ان ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر فلسطینیوں کو ”بہتر مستقبل“ دینا چاہتے ہیں ان کا واضح اشارہ غزہ کے رہائشیوں کو ہمسایہ عرب ممالک میں منتقل کرنے کے منصوبے کی طرف تھا۔

    غزہ: حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی

    نیتن یاہو نے کہا کہ اگر فلسطینی یہاں (غزہ) رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ جانا چاہیں تو انہیں جانے دیا جانا چاہیے ہم امریکا کے ساتھ قریبی تعاون میں ہیں تاکہ ایسے ممالک تلاش کیے جا سکیں جو فلسطینیوں کو مستقبل دینے کی بات کرتے رہے ہیں، اور ہم ایسے کئی ممالک کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    ابتدائی طور پر امریکی صدر ٹرمپ نے ان بیانات پر خاموشی اختیار کی، تاہم بعد ازاں کہا کہ اردگرد کے ممالک اس منصوبے میں تعاون کر رہے ہیں ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں خطے کے تمام ممالک سے شاندار تعاون حاصل ہوا ہے، ہر کسی نے مثبت کردار ادا کیا ہے، لہٰذا کچھ بڑا اور اچھا ہونے والا ہے۔‘

    تاہم نیتن یاہو کے اس بیان نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ اسرائیل، امریکا کی حمایت سے فلسطینیوں کی ایک اور جبری نقل مکانی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے — جو تاریخ میں ”نکبہ دوم“ (Second Nakba) کے طور پر یاد رکھی جا سکتی ہے۔

    پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہرایا کہ ’میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ نیوکلیئر جنگ کو روکا۔ دونوں ممالک ایٹمی تصادم کے دہانے پر تھے، لیکن میں انہیں تجارت اور مذاکرات کی راہ پر واپس لایا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاک بھارت کشیدگی کو ہم نے سفارتی حکمت عملی اور تجارتی تعاون سے کم کیا۔‘

    عالمی سطح پر ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ اب ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایران پر مزید کسی حملے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ روس کے صدر سے خوش نہیں کیونکہ انہوں نے یوکرین سے جنگ ختم نہیں کی امریکی صدر نے یوکرین کو مزید ہتھیار بھیجنے کا بھی اعلان کیا کہ امریکہ یوکرین کو مزید جنگی ہتھیار فراہم کرے گا تاکہ وہ روسی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھ سکےاور بتایا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کے قریب ہیں، ہم نے دنیا میں کئی جنگوں کو روکا، پاک بھارت جنگ کو تجارت سے روکا۔

    چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    اس عشایئے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ نامزد کیا اور انہیں نامزدگی کا خط پیش کیا نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی قیادت میں مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل رہی ہیں ہم فلسطینیوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے یہ نامزدگی صدر ٹرمپ کی فیصلہ کن سفارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف ہے۔

    کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ پاکستان کا یہ اقدام بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا اعتراف ہے صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کے دو دشمن ممالک، روانڈا اور کانگو، کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ کرایا، جو خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے دوبارہ ملاقات کریں گے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، ایران کے ساتھ تعلقا ت، اور فلسطینیوں کے مستقبل سے متعلق اہم نکات زیر غور آئیں گے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار

  • امریکا نے حیات تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    امریکا نے حیات تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

    امریکا نے شام میں سرگرم تنظیم ’حیات تحریر الشام‘ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شام پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔’حیات تحریر الشام‘، جو ماضی میں النصرہ فرنٹ کے نام سے جانی جاتی تھی، کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ 23 جون کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط شدہ میمو میں کیا گیا، جسے پیر کے روز فیڈرل رجسٹر کے پیش منظر میں شائع کیا گیا۔

    یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شام کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے دوبارہ جوڑنا اور خانہ جنگی کے بعد تعمیر نو میں امریکی وعدے کو پورا کرنا ہے۔

    مریم نواز کی شیر کے حملے میں زخمی بچوں و خاتون کیلئے 5،5 لاکھ امداد

    غزہ: اسرائیلی حملوں میں مزید 105 فلسطینی شہید

    محسن نقوی کی شرجیل میمن سے ملاقات،سیکیورٹی انتظامات کی تعریف، سیاسی امور پر گفتگو

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ نرخ 2 ہزار 500 روپے کم ہو گئے