Baaghi TV

Tag: امریکا

  • وزیر اعلیٰ سندھ سے امریکی وفد کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ سندھ سے امریکی وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے امریکی وفد نے ملاقات کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، صحت، پانی، صفائی اور موسمیاتی تحفظ پر تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی ترقی میں یو ایس ایڈ کلیدی شراکت دار رہا ہے، جدید ٹیکنالوجی معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے درکار ہے، اساتذہ کی تربیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے بھی امریکا کا تعاون چاہیے ہیں۔

    امریکی وفد نے کہا کہ سندھ کی ترقی میں امریکا کا بھرپور تعاون جاری رہے گا، سندھ میں جدید اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے امریکا تعاون کرے گاوزیراعلیٰ سندھ نے اسکولوں و صحت مراکز کیلئے 504 اضافی فلٹریشن یونٹس، اسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار، اور ٹیلی میڈیسن سسٹمز کی تجویز دی۔

    معروف ٹک ٹاکر کی لاش ان کے گھر سے پراسرار حالت میں برآمد

    مراد علی شاہ نے یو ایس ایڈ سے 3.501 ملین ڈالر کی باقی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور مستقل کلائمیٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ امریکی تعاون سے کلائمیٹ فنانسنگ پراجیکٹ سندھ میں موسمیاتی تحفظ کو فروغ دے رہا ہےسندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام کے تحت 106 اسکول تعمیر کئے گئے ہیں، امریکی شراکت سے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔

    نوعمر بچوں کو نشے کا عادی بنا کر وارداتیں کروانے کا انکشاف

  • ٹرمپ  نے  گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل ، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں کو بھارتیوں کو ملازمتیں دینے سے منع کردیا-

    عالمی میڈیاکے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ ”اے آئی سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ کو سخت تنبیہ کی کہ وہ بیرونِ ملک، خاص طور پر بھارتیوں کو ملازمتیں دینا بند کریں اور امریکی شہریوں کو روزگار دیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ٹیکنالوجی کی دنیا کے ”گلوبلسٹ مائنڈسیٹ“ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں ورکرز بھرتی کرتی ہیں، چین میں فیکٹریاں لگاتی ہیں اور منافع آئرلینڈ میں چھپاتی ہیں یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کے تحت ایسی پالیسیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کو امریکا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ بھارتی آئی ٹی مافیا کے مفاد کے لیے انہوں نے ٹیک کمپنیوں سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو اولین ترجیح دیں، یہ ہمارا واحد مطالبہ ہے۔‘

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    ٹرمپ کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت نہ صرف امریکی ساختہ اے آئی ٹولز کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جائے گا بلکہ اُن تمام کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگیں گی جو وفاقی فنڈنگ لے کر سیاسی نظریات پر مبنی ”ووک“ اے آئی بناتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تنوع اور شمولیت کے نام پر امریکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ٹرمپ نے اے آئی کے لیے اصطلاح ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس“ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں، یہ ایک ذہانت کا کمال ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا،سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ‘میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں،اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    دریں اثنا 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل سے بھارت میں آئی فونز تیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • امریکا کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا عندیہ، پاکستان سے بات چیت کا اعلان

    امریکا کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا عندیہ، پاکستان سے بات چیت کا اعلان

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور امریکا کے رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات طے پا چکی ہے، جس میں وہ خود بھی شریک ہوں گی۔

    پریس بریفنگ کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں، آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ ترجمان نے جواب دیا کہ جمعہ کو ایک پاکستانی رہنما سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ان تمام امور پر بات کی جائے گی امریکا جانتا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے اور ملاقات میں خطے کی سلامتی، دو طرفہ تعلقات، اور بین الاقوامی معاملات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    داعش، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں داعش کو شکست دی جا چکی ہے، اور اب وہ دہشتگردی کے خلاف مزید اقدامات کریں گےوینزویلا میں اب کوئی بھی امریکی شہری قید نہیں رہا، اور یہ امریکی سفارتی کوششوں کی بڑی کامیابی ہےشام میں تمام فریقین کشیدگی کے خاتمے پر رضا مند ہو چکے ہیں، جبکہ امریکا کے نمائندہ خصوصی وٹکوف غزہ میں جنگ بندی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے خلاف تعصب کاالزام، امریکا کا ایک بار پھر یونیسکو چھوڑنے کا اعلان

    غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹیمی بروس نے دعویٰ کیا کہ ”حماس کا زور توڑ دیا گیا ہے“ اور تنظیم پر امدادی سامان لوٹنے اور فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب ہم غزہ کی تعمیر نو کی بات کریں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی خصوصی نمائندہ وٹکوف جنگ بندی کی کوششوں کے لیے غزہ جا رہے ہیں امریکا خطے میں قیام امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور آنے والی ملاقاتوں میں اس کا عملی ثبوت سامنے آئے گا۔

    ترجمان نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے متعلق پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عالمی ہیلتھ قوانین کے معاہدے میں شامل نہیں ہوگا امریکی صحت سے متعلق پالیسیاں صرف امریکی عوام کے لیے اور امریکا خود تشکیل دے گا اسی تناظر میں انہوں نے یونیسکو کے ساتھ شراکت داری ختم کرنے کا بھی اعلان کیا، اور کہا کہ یونیسکو کا فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنا امریکا کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    دیو ہیکل سائن بورڈ کے گرنے کا خظرہ،عید قربان کی آلائشوں سے تعفن،لوگ سخت پریشان

  • اسرائیل کے خلاف تعصب   کاالزام، امریکا کا ایک بار پھر یونیسکو چھوڑنے کا اعلان

    اسرائیل کے خلاف تعصب کاالزام، امریکا کا ایک بار پھر یونیسکو چھوڑنے کا اعلان

    امریکا نے اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو (UNESCO) سے دوبارہ علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یونیسکو اسرائیل کے خلاف تعصب رکھتا ہے اور عالمی سطح پر ’’تقسیم پیدا کرنے والے‘‘ سماجی و ثقافتی ایجنڈے کو فروغ دیتا ہےیونیسکو میں رہنا "امریکی قومی مفاد میں نہیں” ہے یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں بھی کیا تھا، لیکن جو بائیڈن کے دور میں امریکا دوبارہ یونیسکو کا رکن بن گیا تھا،اب ٹرمپ کی واپسی کے بعد ایک بار پھر امریکا کا ادارے سے نکلنے کا اعلان سامنے آیا ہے، جو دسمبر 2026 میں مؤثر ہو گا۔

    یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈری آذولے نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملٹی لیٹرلزم (کثیر الجہتی تعاون) کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ متوقع تھا اور ادارہ اس کے لیے تیار ہے امریکی انخلا کے باوجود ادارے کو مالی طور پر بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ گزشتہ دہائی میں امریکا کی بجٹ میں شراکت 20 فیصد سے کم ہو کر اب 8 فیصد رہ گئی ہے۔

    دیو ہیکل سائن بورڈ کے گرنے کا خظرہ،عید قربان کی آلائشوں سے تعفن،لوگ سخت پریشان

    امریکا نے یونیسکو پر الزام لگایا ہے کہ اس نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرکے اسرائیل مخالف بیانیہ بڑھایا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی ثقافتی مقامات کو عالمی ورثہ قرار دینا بھی امریکی پالیسی کے خلاف ہےاسرائیل نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، جب کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے یونیسکو کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اس سے پہلے بھی 1980 کی دہائی میں ریگن حکومت کے تحت یونیسکو سے نکل چکا ہے، اور 2000 کی دہائی میں صدر بش کے دور میں دوبارہ شامل ہوا تھا۔

    غزہ میں بھوک جنگی ہتھیار بن گئی، بچوں کی اموات میں خطرناک اضافہ

  • امریکی ویزے کیلئے  نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ

    امریکی ویزے کیلئے نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ

    امریکا نے غیر امیگرنٹ ویزا ہولڈرز سے 250 ڈالر (تقریباً 71,338 پاکستانی روپے) کی نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا جلد ہی بین الاقوامی سیاحوں سے ایک نئی ’ویزا انٹیگریٹی فیس‘ وصول کرے گا جو کم از کم 250 امریکی ڈالر ہو گی, یہ فیس پہلے سے موجود ویزا درخواست کے اخراجات کے علاوہ ہو گی، یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اندرونی پالیسی بل کا حصہ ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مالی سال 2024 میں تقریباً 1.1 کروڑ نان امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے، جن میں بین الاقوامی طلبہ، سیاحت اور کاروباری سفر کرنے والے افراد اور دیگر عارضی زائرین شامل تھے۔

    یہ نئی فیس ان تمام غیرملکیوں پر لاگو ہو گی جو امریکا آنے کے لیے نان امیگرنٹ ویزے کے محتاج ہیں، تاہم آسٹریلیا اور کئی یورپی ممالک کے شہریوں سمیت وہ سیاح اور کاروباری افراد جو ’ویزا استثنیٰ پروگرام‘ کے تحت آتے ہیں اور 90 دن یا اس سے کم مدت کے لیے بغیر ویزا کے امریکا جا سکتے ہیں، ان پر یہ فیس لاگو نہیں ہو گی۔

    یہ فیس ویزا جاری کرتے وقت ادا کرنا ہو گی اور اس میں کسی بھی قسم کی فیس معافی کی گنجائش نہیں ہو گی، البتہ قانون میں کہا گیا ہے کہ جو افراد اپنے ویزا کی شرائط کی مکمل پاسداری کریں گے، وہ اس فیس کی واپسی کے اہل ہو سکتے ہیں۔

    ہیوسٹن میں قائم رِیڈی نیومین براؤن لا فرم کے امیگریشن وکیل، اسٹیون اے براؤن کے مطابق ’اس ریفنڈ کی شرط کا مقصد لوگوں کو امیگریشن قوانین کی پاسدار ی پر آمادہ کرنا ہے، جیسے کہ یہ 250 ڈالر ایک سیکیورٹی ڈیپازٹ ہو، جو قانون کی پیروی پر واپس کیا جائے گا تاہم یہ ریفنڈ خودکار نہیں ہو گا، اور ریفنڈ حاصل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر ویزا ہولڈر کو خود ہی ثبوت دینا پڑے گا کہ وہ ویزا کی تمام شرائط پر پورا اُترا ہے، اور یہ عمل ابھی واضح نہیں کیا گیا۔
    :پنجاب میں کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کا قیام، کمیشننگ تقریب میں مریم نواز کی شرکت

    اسٹیون اے براؤن کا کہنا ہے کہ جب تک ریفنڈ کا طریقہ کار واضع نہیں ہوتا، غیر ملکی افراد اور آجرین کو یہ فیس ایک ناقابلِ واپسی خرچ تصور کرنی چاہیے اور اگر مستقبل میں ریفنڈ کی سہولت دی گئی تو یہ محض اضافی فائدہ ہو گا، فی الحال یہ ایک نظریاتی ترغیب ہے، جس کے عملدرآمد کے قواعد و ضوابط کا انتظار ہے اس فیس کا اصل مقصد ابھی تک واضح نہیں، کیونکہ عمومی طور پر امیگریشن فیسیں ویزا کی جانچ پڑتال یا اجرا کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لی جاتی ہیں، لیکن اصولی طور پر اگر کوئی بھی خلاف ورزی نہ ہو تو یہ تمام فیسیں واپس بھی کی جا سکتی ہیں۔

    محکمہ داخلی سلامتی ( ڈی ایچ ایس) نے ابھی تک ریفنڈ کے طریقہ کار یا پالیسی کے دیگر پہلوؤں جیسے کہ اس پر عمل درآمد کی تاریخ، کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کیں ڈی ایچ ایس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ویزا انٹیگریٹی فیس پر عمل درآمد کے لیے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔

    آپریشن سندور میں بھارتی فوج نے ایک احمقانہ مقصد کی بھاری قیمت چکائی،انڈین تجزیہ کار

    محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس تبدیلی کی تفصیلات محکمہ داخلہ سلامتی کی طرف سے نافذ کی جائیں گی اور ویزا سے متعلق امریکی ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی اس فیس کا مقصد امیگریشن قوانین کو مؤثر بنانا، ویزا کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے فنڈز مہیا کرنا ہے۔

    2025 کے مالی سال کے لیے اس فیس کی ابتدائی رقم 250 ڈالر یا پھر وہ رقم جو محکمہ داخلہ سلامتی کا سیکریٹری قانون کے تحت مقرر کرے، ان دونوں میں سے جو زیادہ ہو، مقرر کی گئی ہے، اس فیس میں ہر سال مہنگائی کے حساب سے تبدیلی کی جائے گی جو فیسیں واپس نہیں کی جائیں گی وہ امریکی خزانے کے جنرل فنڈ میں جمع ہوں گی۔

    جبکہ یو ایس ٹریول ایسوسی ایشن نے اس فیس کو ایک بہت بڑی منفی پیش قدمی قرار دیا ہے، حالانکہ انہوں نے بل کے کچھ دوسرے پہلوؤں کو سراہا بھی ہے۔

    ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر ایرک ہینسن نے کہا کہ ’یہ فیس بین الاقوامی مسافروں کے لیے غیر ضروری مالی رکاوٹ کا سبب بنے گی‘۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ فیس امریکا آنے والے سیاحوں کے ابتدائی اخراجات میں 144 فیصد اضافہ کرے گی۔

    وزیراعظم اور صدر کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تیز تر کرنے کی ہدایت

    ایسوسی ایشن کے سی ای او جیوف فری مین نے کہا کہ یہ غلط قدم ہے، جو ٹریول انفرااسٹرکچر اور سیکیورٹی میں کی جانے والی دیگر دانشمندانہ سرمایہ کاری کو نقصان پہنچائے گا،غیر ملکی سیاحوں پر نئے اخراجات ڈالنا بین الاقوامی سیاحوں کو متوجہ کرنے اور امریکی معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کے خلاف ہے۔

  • امریکا میں بھارتی تارکین وطن کیساتھ غیر انسانی سلوک  پرمودی سرکار  خاموش تماشائی

    امریکا میں بھارتی تارکین وطن کیساتھ غیر انسانی سلوک پرمودی سرکار خاموش تماشائی

    امریکا کی ریاست فلوریڈا میں بھارتی تارکین وطن کے ساتھ جانوروں جیسا غیر انسانی سلوک سامنے آنے کے بعد نریندر مودی کی حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

    دی گارڈین کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلوریڈا کے میامی، کروم نارتھ سروس پروسیسنگ سینٹر، اور براوارڈ ٹرانزیشنل سینٹر میں بھارتی تارکین وطن کو زمین پر جانوروں کی طرح کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا، انہیں 12 دن تک بغیر بستر کے سرد فرش پر سونے کے لیے چھوڑ دیا گیا، اور عورتوں کو مردوں کے سامنے بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا۔

    تشدد، بدبو زدہ بسوں میں دن رات قید، اور طبی سہولیات سے محرومی جیسے دل دہلا دینے والے واقعات کے باوجود بھارتی حکومت نے تاحال نہ کوئی احتجاج کیا ہے، نہ ہی امریکی حکام سے کسی قسم کا سفارتی رابطہ کیا ہے مودی حکومت جو بیرون ملک بھارتیوں کی حفاظت کا دعویٰ کرتی ہے، اس شرمناک خاموشی پر دنیا بھر میں تنقید کی زد میں ہے۔

    آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

    ماہرین کے مطابق، یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ نریندر مودی کی حکومت صرف ملک کے اندر اقلیتوں اور مخالفین کو کچلنے میں مصروف ہے، جبکہ بیرون ملک بسنے والے بھارتی شہریوں کی بنیادی انسانی عزت اور سلامتی کو مکمل طور پر نظر انداز کر چکی ہے۔

    سینیئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی تارکین وطن کی یہ تذلیل نریندر مودی کی غیر ذمہ دار خارجہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، جس نے بھارت کو دنیا بھر میں ایک کمزور اور تماشائی ریاست بنا دیا ہےامریکا جیسے ممالک میں بھارتیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک خود بھارت کی منافقانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جہاں وہ اقلیتوں کے حقوق سلب کرتا ہے، اور دنیا سے انصاف کی امید رکھتا ہے۔

    بھارتی سکیورٹی فورسز میں بڑی تعداد میں اہلکاروں کی خودکشیوں کا انکشاف

  • امریکا  ’’سکھ فار جسٹس‘‘ کا بھارتی یومِ آزادی سے متعلق بڑا اعلان

    امریکا ’’سکھ فار جسٹس‘‘ کا بھارتی یومِ آزادی سے متعلق بڑا اعلان

    مریکا میں ’’سکھ فارجسٹس‘‘ کی جانب سے بھارتی یوم آزادی کے حوالے سے بڑا اعلان کیا گیا ہے۔

    سکھوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی تنظیم سکھ فار جسٹس کی جانب سے امریکا میں بھارتی یوم آزادی سے متعلق دبنگ اعلان کیا گیا ہے تنظیم نے بھارتی یومِ آزادی 15 اگست کو واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ریلی کا اعلان کیا ہےسکھ فار جسٹس بھارتی سفارتخانے کے سامنےبھارتی جھنڈے کو نذر آتش کرے گی اس کے علاوہ تنظیم 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم منعقد کرے گی ۔

    سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق ’’واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانہ دہشت گرد سرگرمیوں کا گڑھ ہے‘‘2047ء تک بھارت کے ٹکڑے ہو جائیں گے کیا جے شنکر 15 اگست کو ترنگا بچانے واشنگٹن آئیں گے؟۔

    سکھ فار جسٹس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ سکھ برادری عالمی سطح پر حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں متحد اور پرعزم ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر مودی سرکار کے مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف مظالم سب کے سامنے لائے جائیں۔

    امریکا ’’سکھ فار جسٹس‘‘ کا بھارتی یومِ آزادی سے متعلق بڑا اعلان

    صحافی پر حملہ کیس: ملزم ارمغان کا مقدمے کی نقول لینے سے انکار، عدالت برہم

  • اسحاق ڈار کی رواں ہفتے امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات متوقع

    اسحاق ڈار کی رواں ہفتے امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات متوقع

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار 8 روزہ امریکا کے سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔

    اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے، وہ 22 جولائی کو اقوام متحدہ میں کی سلامتی کونسل سے بطور صدر خطاب کریں گے اور 23 جولائی کو مسئلے پر کونسل کے سہ ماہی کھلے مباحثے کی میزبانی کریں گے،وزیر خارجہ نیویارک اور واشنگتن میں ملاقاتوں کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات اجاگر کریں گے، اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے مابین تعاون پر بھی بات ہو گی،وزیر خارجہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار کی رواں ہفتے امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات متوقع

    نیویارک کے دورے کے بعد 25 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے،یہ 2016 کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ دونوں ممالک کی کابینہ سطح پر ملاقات ہو رہی ہے، اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی ظہرانہ کیا تھا، اس طرح کی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کئی برسوں سے معطل تھیں اور اب یہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

    تاہم ان کے دورے کا سب سے اہم مرحلہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ہونے والی ملاقات ہے،اس دورے سے پہلے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر غور تجارتی اور ٹیرف معاہدے پر بات چیت ہوئی۔

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ، مزید دو ملزمان گرفتار،مقدمہ درج

    محمد اورنگزیب نے ان مذاکرات کو ’انتہائی تعمیری‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کو صرف تجارت سے آگے بڑھنا چاہی ’امریکا-پاکستان تعلقات کو اگلی سطح تک لے جانے کے لیے سرمایہ کاری بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ معدنیات، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کرپٹو جیسے شعبے حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں

  • جوہری مذکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان، لیکن امریکا کی مخلصانہ نیت ضروری،ایران

    جوہری مذکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان، لیکن امریکا کی مخلصانہ نیت ضروری،ایران

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری مذکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان موجود ہے لیکن اس کیلئے امریکا کی مخلصانہ نیت ضروری ہے۔

    ذرائع کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے جوہری تنازع ایسے حل ہونا چاہیے جس سے دونوں فریق فائدہ اٹھائیں،عباس عراقچی نے 2015 کے ایٹمی معاہدے کو سفارتکاری کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی متوازن حل ممکن ہے، اسرائیل کی جانب سے ایران پر بلاجواز جنگ مسلط کی گئی ، ایران اس جنگ کو جاری رکھنے کا خواہاں نہیں، تاہم اگر دوبارہ جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائیگا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے میڈیا رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو پر جزوی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    ملک میں مزید بارشوں کا امکان ، الرٹ جاری،راول ڈیم کے اسپل ویز کھول دیئے گئے

    واضح رہے کہ یہ رپورٹس امریکی میڈیا میں نشر ہوئیں تھی ان رپورٹس میں 5 موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کا فردا (Fordow) جوہری افزودگی مرکز امریکی حملے میں شدید نقصان کا شکار ہوا، لیکن اصفہان (Isfahan) اور نطنز (Natanz) کی تنصیبات صرف چند ماہ کے لیے متاثر ہوئیں اور ان کی بحالی ممکن ہے۔

    تاہم پنٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جعلی نیوز میڈیا کی ساکھ وہی ہے جو ایران کی موجودہ جوہری تنصیبات کی حالت ہے: تباہ، مٹی میں دفن، اور مکمل بحالی میں برسوں لگیں گے صدر واضح تھے اور امریکی عوام بھی سمجھتے ہیں کہ فردا، اصفہان اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور اس میں کوئی شک نہیں۔

    سعودی شہزادہ ولید بن خالد بن طلال 20 سال تک کومہ میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی امریکی میڈیا کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے تحت ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان میڈیا رپورٹس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تینوں جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ اور ناکارہ بنایا گیا ہے، اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں برسوں لگیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران چاہے گا تو اسے 3 مختلف جگہوں پر نئے سرے سے آغاز کرنا ہو گا۔

  • گلے میں پہنے میٹل چین نے 61 سالہ شخص کی جان لے لی

    گلے میں پہنے میٹل چین نے 61 سالہ شخص کی جان لے لی

    امریکا میں ایک 61 سالہ شخص کی ایم آر آئی مشین میں گلے میں موجود میٹل چین کے باعث موت واقع ہوگئی –

    امریکی میڈیا کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ایک 61 سالہ شخص بدھ 16 جولائی کو نیویارک کے علاقے ویسٹبری میں واقع نساؤ اوپن ایم آر آئی سینٹر میں ایک خوفناک حادثے میں ہلاک ہو گیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایک ایم آر آئی مشین میں بری طرح دھنس گیا مذکورہ شخص کے گلے میں ایک میٹل کی چین موجود تھی، جو مشین کی طاقتور مقناطیسی کشش کی وجہ سے اسے اندر کی طرف کھینچ لائی۔

    نساؤ کاؤنٹی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے پیش آیا، جب ایک اسکین جاری تھا اور یہ شخص اچانک ایم آر آئی روم میں داخل ہوگیاایم آر آئی اسکین کے دوران تمام مریضوں کو زیورات اور دھات سے بنی اشیاء اتارنے کی ہدایت دی جاتی ہے، تاکہ کسی خطرناک حادثے سے بچا جا سکے تاہم، اس شخص نے یہ احتیاطی تدابیر نظر انداز کیں، میٹل چین کے باعث مشین نے اسے اپنی جانب تیزی سے کھیچنا، جس کے نتیجے میں اسے طبی پیچید گی کا سامنا کرنا پڑا۔

    عطا تارڑ اور محسن نقوی کا قومی مفاد کے تحت ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے پر بھی زور

    مرنے والے شخص کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دم توڑ گیا پولیس کے مطابق یہ حادثہ مجرمانہ فعل نہیں بلکہ ایک اتفاقیہ حادثہ تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ ایم آر آئی مشینیں بہت طاقتور مقناطیسی کشش پیدا کرتی ہیں، اور کسی بھی قسم کی دھات کو خطرناک انداز میں اپنی طرف کھینچ سکتی ہیں اس کے نتیجے میں چھوٹے دھاتی اشیاء بھی پروجیکٹائل بن سکتی ہیں، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

    لاہور اور فیصل آباد ائیر پورٹس پر پرندے جہازوں سے ٹکراگئے