پاکستان نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے خواتین کو نازیبا میسج بھیجنے پر اپنی اہلیہ فریال سے معافی مانگنے کے ساتھ علاج کرانے کا اعلان کر دیا ،
سابق چیمپئن فائٹر عامر خان ماڈل سمیرا سمیت خواتین کو غلط میسج کرتے ہوئے پکڑے گئے، پچیس سالہ ماڈل کو تصاویر بھیجنے کا ساتھ ساتھ پیغامات بھی بھجوائے اور ٹیٹو کی تعریف بھی کی ، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فریال سے اپنی شادی اور ان سے ہونے والی تین بیٹیوں سمیت ازدواجی زندگی کو مجبوری ظاہر کیا اسکینڈل کے میڈیا میں آنے اور تحقیقات پر عامر خان نے اعتراف جرم بھی کر لیا ساتھ ہی انہوں نے اپنی اہلیہ فریال سے معافی ما نگی غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاکستانی باکسر عامر خان نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ غلط عادات میں مبتلا تھے جس سے چھٹکارہ پانے کے لیے وہ تھراپی کروانے پر غور کررہے ہیں تھراپی یعنی علاج سے عادت چھوڑنے کا عزم ظاہر کر دیا ،
Tag: امریکہ
-

باکسر عامر خان کا خواتین کو نا مناسب پیغامات بھیجنے پر معافی
-

امید کرتا ہوں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اردوان
ترکیہ کے صدر کا کہنا ہے کہ امید کرتا ہوں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے جبکہ ترک میڈیا کے مطابق رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں پہلے سے زیادہ پرامید ہوں، اور امید کرتا ہوں کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے اچھے نتائج ہونگے، خیال رہے کہ ترک صدر نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی، جہاں دونوں نے دفاعی اور اقتصادی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں نے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس ملاقات کے بعد ترک صدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ایک نیا عمل شروع کر رہے ہیں، میرا خیال ہے اب وقت آگیا ہے کہ ریاستی سطح کے سربراہان امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک میکانزم کے حصے کے طور پر مشاورت کریں۔ میں اس ملاقات کو اس جانب پہلا قدم سمجھتا ہوں۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ بائیڈن کئی مہینوں سے واضح اور غیر واضح رہے ہیں انہوں نے F-16 کی ترکیہ کو منتقلی کی حمایت کی ہے، کہ یہ ہمارے قومی مفادات میں ہے۔ یہ نیٹو کے مفاد میں ہے کہ ترکیہ یہ صلاحیت حاصل کرے۔
ترکیہ کے اربوں ڈالر مالیت کے F-16 معاہدے کے حصول میں کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے جس نے انقرہ کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور شام جیسی متنازعہ خارجہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس کے باوجود بائیڈن کی انتظامیہ نے فروخت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کو F-16 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کو جدید F-35 ٹیکنالوجی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر نیٹو کے باہمی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے پرانے بیڑے کو تقویت دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
-

ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آفیشل ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا کہ رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں ایک مرتبہ پھر روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 1 روپیہ 9 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 278 روپے 57 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 48 پیسے ہو گئی ہے۔
Interbank closing #ExchangeRate for today https://t.co/NzGscQlhBF#SBPExchangeRate pic.twitter.com/3tQ69UbKal
— SBP (@StateBank_Pak) July 12, 2023
مرکزی بینک کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.39 فیصد کی بحالی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں دو روپے کی کمی دیکھی گئی اور بھاؤ 280 روپے کا ہو گیا ہے۔ روپے کی قدر بحال ہونے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی توقع، معاشی ماہرین کے مطابق سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ سٹیٹ بینک کو موصول ہونے، پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف کی پاکستان کے ایکسٹرنل فنانسگ گیپ ختم کرنے کی دستاویزی حکمت عملی منظور کیے جانے سے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی جاری رہنے والی پیشقدمی رک گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
سیاسی جماعت پر پابندی،ایاز صادق نے اعلان کر دیا
یوکرینی وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف
جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد رکن پارلیمنٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی
پاکستان اور سری لنکن بورڈ الیون کا دو روزہ میچ ڈراماہرین کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ سے قرضوں کی مطلوبہ قسط کے اجراء کی منظوری کے بعد دیگر دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے بھی پاکستان کے لیے وہ قرضے جاری ہوسکیں گے جنہیں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے مشروط کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ملک میں انفلوز کی آمد سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کے مزید تگڑا ہونے کے امکانات ہیں۔ اگر روپیہ کی قدر بحالی ہوتی رہتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے کو ملے گی۔ جبکہ واضح رہے کہ کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن کے سربراہ ملک بوستان نے دعویٰ کیا تھا کہ چند روز میں ڈالر 250 روپے پر آجائے گا۔
عالمی مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر قیمت کم ہونے کے باوجود ملک بھر میں سونے کے بھاؤ میں 500 روپے کی گراوٹ دیکھی گئی، بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 14 امریکی ڈالر اضافے کے بعد 1946 امریکی کرنسی ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالا، فیصل آباد سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قدر میں 500 روپے کی گراوٹ دیکھی گئی اور نئی قیمت 20400 روپے ہو گئی ہے۔
اُدھر دس گرام سونے کی قیمت 429 روپے کی تنزلی کے بعد 174897 روپے ہو گئی ہے۔ تاہم فی تولہ اور دس گرام چاندی کی قیمتوں میں 70 روپے اور 60 روپے کا اضافہ دیکھا گیااور قدریں بالترتیب 2550 روپے اور 2186.21 روپے ہو گئی ہے۔
-

پیوٹن عراق میں جنگ ہار رہے، بائیڈن کی زبان پھسل گئی
پیوٹن عراق میں جنگ ہار رہے، بائیڈن کی زبان پھسل گئی
امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پیوٹن واضح طور پر عراق میں جنگ ہار رہے ہیں جبکہ ایسا تب ہوا جب ان کی زبان پھسل گئی واضح رہے کہ روسی صدر پیوٹن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر پیوٹن کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے یوکرین کے بجائے عراق کہہ گئے۔
علاوہ ازیں جو بائیڈن نے کہا کہ وہ گھر میں جنگ ہار رہا ہے، وہ پوری دنیا میں ناپسندیدہ ہوتا جارہا ہے، پیوٹن کے مخالف صرف نیٹو، یورپی یونین،جاپان ہی نہیں پورے 40 ممالک ہیں، خیال رہے کہ اس سے قبل صدر بائیڈن ایک موقع پر برطانوی وزیراعظم رشی سونک کو برطانوی صدر کہہ چکےہیں۔ یاہم یاد رہے کہ 80 سالہ صدر بائیڈن امریکا کے معمر ترین صدر ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛نمازِ عید کے دوران سنگین مقدمات میں مطلوب درجن سے زائد قیدی فرار
سڑکوں یا گلی محلوں میں آلائشیں نظر نہیں آنی چاہئیں،نگران وزیراعلیٰ کی ہدایت
سویڈن میں قرآن پاک نذر آتش،مراکش نے اپنا سفیر واپس بُلا لیا
بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا آخری مرحلہ، جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کا عمل عروج پرجبکہ خیال رہے کہ وائٹ ہاوس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے چہرے پر نظر آنے والے پراسرار نشان کی وجہ بتائی تھی جبکہ وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز صدر جو بائیڈن کے چہرے پر نظر آنے والے ایک پراسرار نشان کے بارے میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں پر ردِعمل دے دیا ہے۔ اس معاملے پر ڈپٹی پریس سکریٹری اینڈریو بیٹس کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے سوتے ہوئےخراٹوں کو روکنے پُرسکون نیند لینے کے لیے ایک CPAP ڈیوائس کو پہننا شروع کیا ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ اس ڈیوائس میں ایک پٹی کے ساتھ ایک ماسک لگا ہوتا ہے جسے منہ پر پہنا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے رپورٹرز نے جو بائیڈن کے چہرے پر ایک پر اسرار سے نشان کو نوٹس کیا تھا اور گزشتہ دنوں بھی ویسا ہی نشان امریکی صدر کے چہرے پر اس وقت دیکھا گیا جب وہ شکاگو میں اقتصادی تقریر کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوئے۔
-

مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!
مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران، دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ پرائیویٹ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کو بھی اجاگر کیا گیا جس نے اسے خاصا فروغ دیا۔
اس دورے کے دوران مودی نے بھارت کے لیے جو بھی اچھی چیزیں حاصل کیں، ان کا اثر بائیڈن کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا، "بھارت اور امریکہ نے سرحد پار دہشت گردی کی "سخت مذمت” کی نیز پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ مشترکہ بیان میں دہشت گرد حملوں کے خلاف جس میں دونوں ممالک کو "دنیا کے قریبی دوستوں میں سے” قرار دیا گیا۔
پاکستان کے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت "عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، اور دہشت گردی کی تمام اشکال کی واضح مذمت کرتے ہیں”۔ [دی انڈیپنڈنٹ، جون 2023]۔
یہ مزاحیہ تھا! نہ صرف مودی کی طرف سے بیان جو اب بھی "گجرات کے قصاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. جسے امریکی ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا، اور "مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں” کی بنیاد پر تقریبا ایک دہائی تک امریکی خلا میں داخل نہیں ہو سکا۔ وہ امریکی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ بیان دے رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ مودی کی نگرانی میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رہا ہے۔ "گزشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی-بائیڈن سربراہی اجلاس کے "مرکز” میں انسانی حقوق کے خدشات کو مد نظررکھے۔” {CNN نیوز}
صورتحال کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر چین کے عروج کے لیے سپیڈ بریکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ترقی کے اعتبار سے چین سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت ہے۔ واشنگٹن اور چین دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد چاہے بھی تو وہ خود کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں کرسکتا. اس کی وجہ وہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی جاری بحران جس سے وہ کافی عرصے سے دوچار ہے۔
اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو خارجی اور داخلی دونوں طرح سے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ خود کو بین الاقوامی سطح پر غیر متعلقہ بنانے کے لیے یہ کافی ہے۔چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام
پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا
-

ٹور ڈی سوئس سائیکل ریس میں سائیکلیسٹ خطرناک حادثے کا شکار
ٹور ڈی سوئس سائیکل ریس کے دوران ایک سائیکلسٹ کھائی میں گر کر ہلاک ہوگیا جس کے بعد ریس ملتوی کردی گئی۔سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ سائیکلسٹ جینو میدر ریس کے دوران ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوئے جنہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔سوئس سائیکلسٹ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے دم توڑ گئے۔ منتظمین نے ٹور ڈی سوئس سائیکل ریس حادثے کے باعث ملتوی کردی ہے جینو میدر ٹور ڈی سوئس میں اپنی ٹیم بحرین وکٹوریس کی نمائندگی کر رہے تھے اور ریس کے پانچویں مرحلے میں حادثے کا شکار ہوگئے۔ریس کے منتظمین کی جانب سے بیان کے مطابق ریس کے پانچویں مرحلے میں جبکہ 200 کلو میٹرز کا فاصلہ طے کیا جاچکا تھا اور ریسرز اختتامی لائن کی جانب بڑھ رہے تھے، سوئس سائیکلسٹ کی تیز رفتار سائیکل امریکن سائیکلسٹ میگنس شیفلڈ سے ٹکراگئی جس کے بعد جینو میدر کھائی میں جا گرے۔منتظمین کے مطابق جینو میدر کھائی کے نیچے پانی میں بے سدھ پائے گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔امریکی سائیکلسٹ جن سے جینو میدر کی ٹکر ہوئی تھی انہیں بھی شدید چوٹیں آئیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
-

استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام
مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔
محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔
یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔
-

امریکی یوٹیوبر کو ویوز بٹورنے کیلئے جہاز گرانے پر بیس سال قید ہوسکتی
امریکی یوٹیوبر ٹریور جیکب کو یوٹیوب ویڈیو پر ویوز بٹورنے کے چکر میں جہاز گرانا مہنگا پڑ گیا، اب انہیں اس جرم پر 20 سال کیلئے جیل بھگتنی پڑ سکتی ہے۔ 2021 میں فیڈرل ایوی ایشن بورڈ کی جانب سے جہاز کریش کے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی اور ٹریور جیکب کو ہدایت کی گئی کہ وہ جہاز کے ملبے کو محفوظ رکھیں۔
ٹریور جیکب نے حکام کو بتایا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ جہاز کہاں کریش ہوا اور اس کا ملبہ کہا ہے تاہم بعد میں وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز کے ملبے تک پہنچا اور اس نے ملبے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ضایع کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں جیکب نے تفتیشی حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایوی ایشن حکام سے جھوٹ بولا اور جہاز میں کوئی خرابی نہیں ہوئی تھی، دراصل اس نے ایک والٹ کمپنی کی اسپانسرشپ اور پیسے کمانے کیلئے جان بوجھ کر جہاز کریش کیا تھا۔
جیکب نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے جہاز کی ویڈیو کے بعد ایوی ایشن کے پاس کریش سے متعلق جھوٹی رپورٹ درج کروائی تھی کہ ٹیک آف کے 35 منٹ بعد جہاز کی پاور سپلائی بند ہوگئی اور انجن بے آواز ہو گیا جس کے بعد کوئی سیف لینڈنگ اسپیس نظر نہ آنے پراس نے جہاز سے کودنے کا فیصلہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیکب نے جس جرم کا اعتراف کیا ہے اس کیلئے انہیں کم از کم 20 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
ٹریور جیکب کے یوٹیوب چینل پر جنوبی کیلیفورنیا کی فضاؤں میں پرواز کے دوران انجن کی خرابی کے باعث جہاز کریش کی’I crashed my airplane‘ کے نام سے جاری ہونے والی ویڈیو کو 30 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا تھا۔ ڈرامائی ویڈیو میں فضا میں پرواز کے دوران انجن کی اچانک خرابی کے باعث ٹریور اپنی سیلفی اسٹک ہاتھ میں تھامے پیراشوٹ کے ذریعے کیلیفورنیا کے جنگلات کے اوپر جہاز سو کودتے دکھایا گیا تھا۔ -

امریکہ ڈیفالٹ ہونے پر عالمی معیشت پر سنگین اثرات کا خطرہ
امریکہ ڈیفالٹ ہونے پر عالمی معیشت پر سنگین اثرات کا خطرہ
عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہےکہ اگر امریکہ ڈیفالٹ ہوا تو اس کے دنیا بھر کی عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ ملکی قرضوں میں تیزی سے بڑھتے اضافےکے باعث ڈیفالٹ کا خطرہ صرف امریکا کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
ایک نیوز بریفنگ میں آئی ایم ایف ترجمان نے زور دیا کہ امریکی حکام کو ملکی بینکنگ سیکٹر سمیت علاقائی بینکوں کی نئی خامیوں کے حوالے سے ہوشیار رہنا چاہیے جو زیادہ شرح سود کے ماحول میں سامنے آسکتی ہیں۔ جبکہ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں فیڈرل ریزرو بینک نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد امریکا میں شرح سود 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
امریکا میں ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں شرح سود میں یہ 10ویں مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا ڈیفالٹ ہوجائےگا، کانگریس قرض کی حد بڑھائے یا حد کو معطل کر دے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا میں سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک ڈیفالٹ ہوچکے ہیں۔ -

شہباز گل امریکہ پہنچ گئے
لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی
عدالت میں ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی پنجاب پیش ہوئے، وکیل شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ شہباز گل امریکہ پہنچ گئے ہیں، حکم پر عملدآمد کروانے پرعدالت کا شکر گزار ہوں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے شہباز گل کی امریکہ جانےکے باعث درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا
عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش
ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
شہباز گل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔پہلے سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا گیا مگر حکومت کی جانب سے بے بنیاد مقدمات درج کروا دیئے گئے، مقدمات کی تفصیلات کے لیے درخواست زیر سماعت ہے۔حکومت نے بلاوجہ نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔ عدالت نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے
واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمات درج ہوئے تھے اور شہباز گل کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تا ہم شہباز گل کو بعد میں ضمانت پر رہائی ملی، موجودہ حکومت نے شہباز گل کا نام ای سی ایل میں شامل کر لیا تھا
شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی
بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟
فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن