Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • ناکام امریکی میزائل دفاعی سسٹم پیٹریاٹ یوکرین کےحوالے:یوکرینی دفاعی حکام غیرمطمئن

    ناکام امریکی میزائل دفاعی سسٹم پیٹریاٹ یوکرین کےحوالے:یوکرینی دفاعی حکام غیرمطمئن

    ماسکو:ناکام امریکی میزائل دفاعی سسٹم پیٹریاٹ یوکرین کےحوالے:یوکرینی دفاعی حکام غیرمطمئن دکھائی دے رہے ہیں، اطلاعات کے مطابق روس یوکرین کے درمیان جنگ میں امریکہ اور نیٹو کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اور کل شام ایک معاہدے کے مطابق امریکی حکومت یوکرین کو ایک جدید پیٹریاٹ سسٹم دینے وای ہے جو اگلے چوبیس گھنٹوں میں یوکرین پہنچا دیا جائے گا،

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    اس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ امریکی حکومت یوکرین کو روس کے فضائی اور میزائل حملوں سے بچاؤ کےلئے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کرنے کے منصوبے کے آخری مرحلے میں ہے جس کا یوکرین کافی عرصے سے امریکہ سے مطالبہ کر رہا تھا۔یوکرین اور امریکہ کے درمیان طئے پانے والے معاہدے کے مطابق یوکرین اس سسٹم کو بہت جلد مختلف مقامات پر نصب کرے گا اور پھر روسی حملوں سے بچاوکےلیے اس کا استعمال کرے گا

    امریکی صدر نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے بل پر دستخط کر دیئے

    اطلا ت کے مطابق یہ منصوبہ امریکی وزیر دفاع اور امریکی صدر کی منظوری کے بعداس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی ہے ،۔پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام میں بجلی فراہم کرنے والا یونٹ، کمانڈ اور کنٹرول کا مرکز، راڈار یونٹ، انٹینا اور میزائل فائر کرنے والی آٹھ گاڑیاں شامل ہوتی ہیں جن میں سے ہر گاڑی میں زمین سے ہوا میں مارکرنے والے چار پیٹریاٹ میزائل نصب ہوتے ہیں جو 160 کلومیٹر کی دوری تک میزائلوں اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    اس میزائل دفاعی نظام کے خلیج فارس کی جنگ میں بہت وسیع پیمانے پر تجربات کئے گئے تھے اور امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے ذریعے سے عراق کی طرف سے فائر ہونے والے 47 سکڈ میزائلوں میں سے 45 کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا تھا جب کہ بعد میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے انکشاف کیا تھا کہ مذکورہ امریکی میزائل دفاعی نظام نے صرف ایک سکڈ میزائل کو ہی روکا تھا۔ ۔

    اسکے علاوہ 2017 میں نیویارک ٹائمز نےبھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ یمنی حوثیوں کے میزائل حملے روکنے میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام ناکارہ ثابت ہوا تھا اور سعودی علاقوں میں اس امریکی دفاعی سسٹم کے ہوتے ہوئے یمنی فوج نے بھرپور طریقے سے اُس علاقے میں اپنے میزائل حملے کئے ہیں

  • روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    ماسکو:روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں:اطلاعات کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری نے کہا ہے کہ روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،روس

    روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے ایک ٹی وی پروگرام ماسکو، کرملین، پیوٹن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی آگے جا نہیں رہے بلکہ اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جسے تصادم کہتے ہیں اور ہمیں اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں طاقتور اور تحفظ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں ابھی انہی حالات میں رہنا ہے۔

    ٹوئٹر بلیو سبسکرپشن سروس 12 دسمبر کو دوبارہ متعارف کرانے کا اعلان

    پسکوف نے اس ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مغربی ممالک روس کو پسند نہیں کرتے اور یہ حقیقت ہے لیکن روس کو اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں کہ وہ اسے پسند کریں۔

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورٌجخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    یاد رہے کہ روس یوکرین تنازعے میں نیٹو اور امریکہ یوکرین کی بھرپور فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے یوکرین تنازعے کے حل کے امکانات کم ہوتے جا رہےہیں اور روس نیٹو امریکہ تصادم کے امکانات ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ روس نے نیٹوامریکہ جاری مداخلت اور روس پر حملے کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی دی تھی۔

  • مخالف ممالک پرسائبرحملوں کےلئےامریکہ نے11 بلین ڈالر کا بجٹ مختص کردیا

    مخالف ممالک پرسائبرحملوں کےلئےامریکہ نے11 بلین ڈالر کا بجٹ مختص کردیا

    لاہور:رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ اولگ سیرومولوتوف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی ممالک معلومات، ڈیٹا اور سائبر حملوں کے ذریعے سے غیر دوست ممالک کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے امریکہ نے 2023ء میں 11بلین ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ کی طرف سے سائبر حملوں کے لئے 11 بلین ڈالر کے بجٹ کی منظوری سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ امریکہ سائبر حملوں کے ذریعے اپنے مخالف ممالک کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

    نسیم شاہ کندھے کی تکلیف کا شکار، ملتان ٹیسٹ میں شرکت مشکوک

    روسی نائب وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ اکتوبر کے مہینے میں امریکہ نے اپنے ایک نئے ڈاکٹرین کا اعلان اور اسے نشر کیا تھا جس کے مطابق جوبائیڈن حکومت ساری دنیا اور سائبر اسپیس کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس ڈاکٹرین کے مطابق چین امریکہ کا سب سےبڑا حریف ہے جو اپنی اقتصادی، فوجی اور سفارتی طاقت کو بڑھا کر بین الاقوامی نظام کے لئے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

    پاکستان برج فیڈریشن کے زیر انتظام 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین…

    رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ چین امریکہ کا اصلی حریف ہے اور چین روس کی شراکت امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

  • عالمی امورپرچین کی تجاویزکوبین الاقوامی برادری کی بھرپورحمایت حاصل

    عالمی امورپرچین کی تجاویزکوبین الاقوامی برادری کی بھرپورحمایت حاصل

    ریاض :چین کے صدر شی جن پھنگ سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں ۔وہ یہاں منعقدہ چین عرب ممالک کے پہلے سربراہ اجلاس اور چین خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں ۔چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این تھنک ٹینک اور چھنگہوا یونیورسٹی میں ایپسٹین سینٹرسینٹر فار ایکسٹرنل کمیونیکیشن نے مشترکہ طور پر 20 ممالک کے 4،000 جواب دہندگان پر مشتمل ایک عالمی سروے کا انعقاد کیا۔ سروے کےمطابق، 94.2 فیصد جواب دہندگان نے تمام انسانیت کے لئے چین کی پیش کردہ مشترکہ اقدار “امن، ترقی، مساوات، انصاف، جمہوریت اور آزادی” کی تعریف کی، اور85 فیصد نے “انسانیت کے لئے ہم نصیب معاشرے” کے تصور کو سراہا۔

    امریکی باسکٹ بال سٹار برٹنی گرائنر روس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں رہا

    گزشتہ 10سالوں میں چین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو پر 20 عرب ممالک کے ساتھ تعاون کی کئی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں اور 17 عرب ممالک نے چین کے پیش کردہ عالمی ترقیاتی اقدام کی حمایت کی ہے۔ 78.4 فیصد جواب دہندگان نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشئیٹو سے اتفاق کیا اور اس یقین کا ااظہار کیا کہ “ترقی عالمی مسائل کو حل کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے”. 79.4 فیصد عالمی جواب دہندگان نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشئیٹو کے” گروپ آف فرینڈز” کے تعاون کے نتائج کی تصدیق کی جس میں چین نے حصہ لیا ۔ ان کا ماننا ہے کہ نسبتا اعلی درجے کی جامع قومی طاقت والے ممالک کو اپنی قومی طاقت کے مطابق مناسب بین الاقوامی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں۔

    آزاد کشمیربلدیاتی انتخابات تیسرامرحلہ،نتائج کا سلسلہ جاری:ہرپارٹی کا دعویٰ: اسکا…

    سروے میں، 85.2 فیصد جواب دہندگان کی رائے میں تمام ممالک کو عالمی ترقی کے خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ طور پر فعال اقدامات کرنے چاہئیں. 84.7 فیصد جواب دہندگان یہ توقع کرتے ہیں کہ تمام ممالک زیادہ جامع اور متنوع عالمی ترقی کو فروغ دیں گے اور مشترکہ طور پر عالمی معاشی استحکام کو برقرار رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، 84.1 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ تعاون کی پیشگی شرط ترقی کے مختلف راستوں اور مختلف ممالک کے ادارہ جاتی اختلافات کا احترام کرنا ہے، جب کہ 89.6 فیصد جواب دہندگان کو توقع ہے کہ عالمی ممالک بات چیت اور مشاورت کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات کو حل کریں گے.

    اکیسویں صدی:پتھر کو دورپھرشروع:یورپ سردیوں میں لکڑیاں پھونکنے پرمجبور

     

    سروے میں 85.6 فیصد جواب دہندگان نے چین کے پیش کردہ عالمی سلامتی کے اقدامات سے اتفاق کیا اور اس بات کو مانا کہ ترقی کے لئے سلامتی ایک شرط ہے۔ 80.8 فیصد نے تسلط پسندی، طاقت کی سیاست اور دوسرے ممالک پر من مانی پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی۔ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والے 80.4 فیصد جواب دہندگان نے نشاندہی کی کہ سرد جنگ کی ذہنیت اور طاقت کی سیاست عالمی امن کے لئے خطرہ ہے جو کہ سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کرے گی ۔ تمام ممالک کو مشترکہ طور پر ایک متوازن ، موثر اور پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی تعمیر کرنی چاہئے۔

  • چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    امریکا نے پہلا جدید بمبار طیارہ ’بی-21 ریڈر‘ کی رونمائی کرلی، یہ طیارہ روایتی ہتھیار سمیت جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یہ بمبار طیارہ بغیر عملے کے پرواز کر سکے گا۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں طیارہ کی رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی، تقریبا کا آغاز امریکی قومی ترانے کے ساتھ کیا گیا، طیارہ کی رونمائی کے بعد ہجوم نے تالیاں بجائیں۔

    تقریبا رونمائی میں امریکی سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن نے کہا کہ بی-21 کے صرف ایک طیارے کی تیاری پر تقریباً 70 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں یہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں بننے والا پہلا امریکی جنگی طیارہ ہے، یہ طیارہ امریکا کے جدید اور جنگی ایجادات میں برتری کا ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی طویل فاصلے سے نشانہ بنانے والا بمبار ، ’بی 21‘ ریڈر کی صلاحیت اور اس کی پائیداری سے مماثلت نہیں رکھ سکتا، اس طیارے کا ڈیزائن اب تک کا سب سے زیادہ مستحکم رہنے والا بمبار طیارہ ہے۔

    ایف-22 اور ایف-35 جنگی طیاروں کی طرح بی-12 طیارہ ایسی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا ہے جس سے اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور دشمن اسے آسانی سے ڈھونڈ نہیں سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو بھی بی-21 طیارہ ڈھونڈنے کےلیے مشکل ہوسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ طیارہ کھلے نظامِ تعمیر (اوپن سسٹم آرکیٹکچر) کے ساتھ بنایا گیا ہے، یہ ایسے نئے ہتھیاروں کی شمولیت کی بھی اجازت دیتا ہے جو ابھی تک ایجاد نہیں ہوئے ہیں۔

    تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایمی نیلسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ بی-21 کو نظام میں مزید ترقی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اوپن آرکیٹکچر‘ کی مدد سے مستقبل میں مزید بہتر سافٹ وئیر متعارف ہوں گے تاکہ طیارے جلد خراب نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے طیاروں کے مقابلے بی-21 جدید ترین ہے، یہ نہ صرف دوہری صلاحیت رکھتا ہے (جس کا مطلب یہ جوہری یا روایتی میزائل لانچ کرسکتا ہے) بلکہ طویل اور کم فاصلے پر بھی میزائل لانچ کر سکتا ہے۔

    امریکی ائیر فورس کے ترجمان این اسٹیفنک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تو صرف امکان ہے کہ طیارہ بغیر عملے کے پرواز کرسکتا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بی-21 ہمارے مستقبل کی جنگی طاقت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دنیا بھر میں مہارت سے کسی بھی ہدف کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔فضائی اور دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومن نے بتایا کہ اس وقت 6 طیارے کیلیفورنیا کے شہر پامڈیل میں جانچ اور آزمائش کے مختلف مراحل میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ طیارہ امریکی جوہری نظام کا اہم حصہ ہوگا جس میں ایسے ہتھیار موجود ہیں جنہیں زمین، فضا اور سمندر سے لانچ کیا جاسکتا ہے۔

    جنگی طیارہ ’ریڈار‘ کا نام اس وقت رکھا گیا جب 1942 میں امریکی بمباروں نے جاپان کے شہر ٹوکیو پر حملہ کیا تھا، اس آپریشن کی سربراہی لفٹیننٹ کرنل جیمز ڈولٹل نے کی تھی، جو جاپان کی جانب سے 1941 میں کئے گئے پرل ہاربر حملے کے بعد جاپان کی سرزمین پر امریکا کا پہلا حملہ تھا۔جیمز آسٹن نے مزید بتایا کہ پرل ہاربر حملے کے چار ماہ بعد اپریل کی ایک صبح کو بحرالکاہل میں امریکی فوج کے 16 بمبار طیاروں نے بحری جہاز سے اڑان بھری تھی۔

    یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ چین کے میزائل ٹیسٹ اور جوہری ہتھیار واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اگر چین نے اپنی موجودہ جوہری تیاری کی رفتار کو جاری رکھا تو اس کے پاس ممکنہ طور پر 2035 تک 1,500 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہو جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین عالمی بالا دستی کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ چین سے متعلق پینٹاگون کی یہ رپورٹ کانگریس کو پیش کی جائے گی۔

    اس رپورٹ میں بنیادی طور پر 2021 میں ہونے والی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق چین کے پاس اس وقت 400 سے زیادہ جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب واشنگٹن اپنے جوہری ذخیرے کو چین کی سطح تک کم کر دے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تھنک ٹینک کے مطابق، امریکا کے پاس تقریباً 3,700 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے، جن میں سے تقریباً 1,740 کو مختلف مقامات پر پوزیشن میں لایا جا چکا ہے۔

  • شام میں تیل اور اناج کی اسمگلنگ:امریکی افواج کے رویے کی مذمت کرتےہیں:چین

    شام میں تیل اور اناج کی اسمگلنگ:امریکی افواج کے رویے کی مذمت کرتےہیں:چین

    بیجنگ:چین نے شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور جنگ زدہ عرب ملک سے تیل اور اناج کی اسمگلنگ کو "غیر قانونی” قرار دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی قابض افواج نے شمال مشرقی شام سے تیل سے لدے 54 ٹینکر شمالی عراق میں اپنے اڈوں پر بھیجے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان کے مطابق کچھ شامیوں نے مبینہ طور پر کہا کہ "امریکی فوجیوں نے جو کچھ کیا اس نے انہیں موسم سرما میں زندہ رہنے کی جدوجہد میں چھوڑ دیا”۔ژاؤ نے جمعہ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ "شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔ شام سے امریکی تیل اور اناج کی اسمگلنگ غیر قانونی ہے۔ شام کے خلاف امریکی میزائل حملہ بھی غیر قانونی ہے۔”

    انہوں نے شامی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا کہ 2011 سے 2022 کی پہلی ششماہی کے درمیان امریکی اسمگلنگ کی سرگرمیوں سے شام کو 100 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ژاؤ نے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین اور قواعد کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے، اور پھر بھی اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ اسے "قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظم” کہا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب واشنگٹن "قواعد” کے بارے میں بات کرتا ہے تو وہ اکثر اپنے مفاد کو پورا کرنے اور اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے کا بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ترجمان نے امریکہ میں فرانس کے سابق سفیر جیرارڈ آراؤڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "امریکی بنیادی طور پر جو چاہیں کرنا چاہتے ہیں، بشمول جب یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہو، جیسا کہ وہ اس کی تعریف کرتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔”ژاؤ نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ بین الاقوامی برادری اس سے اندھی نہیں ہے اور اس کے ساتھ چوکسی کا برتاؤ کرے گی۔”

    امریکی فوجی ٹرک اور ٹینکر اکثر ٹن اناج اور خام تیل شمال مشرقی شام کے صوبے حسکہ سے شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان کے علاقے میں لے جاتے ہیں جس کے تحت واشنگٹن کی جانب سے شام سے بنیادی اشیاء کی منظم اسمگلنگ کی جاتی ہے۔امریکی فوج نے طویل عرصے سے شمال مشرقی شام میں اپنی افواج اور سازوسامان تعینات کر رکھا ہے، پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد علاقے میں آئل فیلڈز کو داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ہے۔

    تاہم دمشق کا موقف ہے کہ تعیناتی کا مقصد ملک کے قدرتی وسائل کو لوٹنا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مواقع پر اعتراف کیا کہ امریکی افواج اس عرب ملک میں تیل کی دولت کے لیے موجود ہیں۔

    21 ستمبر کو چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے قومی وسائل کو لوٹنا بند کرے اور عرب ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔ چین کی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت کا فرض ہے کہ وہ فوجی دستوں کی مداخلت کے ذریعے کی جانے والی ڈکیتیوں کی تحقیقات کرے اور ساتھ ہی اس سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کرے۔

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

  • امریکی صدر کے بیان کے بعد روس کی یوکرین سے مذاکرات پر مشروط آمادگی

    امریکی صدر کے بیان کے بعد روس کی یوکرین سے مذاکرات پر مشروط آمادگی

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ مذکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے قبل مغرب کو ہمارے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یوکرین جنگ پر روس سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ روس سے بات چیت صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ جنگ ختم کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دلچسپی بھی رکھتا ہوں۔

    عالمی سطح پر پہلی مرتبہ پاکستان کی آواز سنی گئی:وزیراعظم

    امریکی صدر کی اس پیشکش پر روسی ہم منصب نے کہا کہ یوکرین جنگ پر بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے مغربی ممالک کو پہلے ہمارے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد سے امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی ہم منصب سے براہ راست بات نہیں ہوسکی ہے بلکہ مارچ میں جوبائیڈن نے صدر پوٹن کو قصائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔

     

    بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کی منظوری

    جس پر روس نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ روسی صدر نے کہا تھا کہ انھیں یوکرین پر حملہ کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ یہ ہماری سلامتی کا معاملہ ہے۔ادھر مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو نے بھی یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

  • امریکا کا سیلاب سے متاثرکسانوں کےلیے80 لاکھ ڈالرامداد کا اعلان

    امریکا کا سیلاب سے متاثرکسانوں کےلیے80 لاکھ ڈالرامداد کا اعلان

    کراچی : امریکا نے سیلاب سے متاثر کسانوں کے لیے 80 لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں امریکا کے سفیر ڈونلڈ بلوم نے اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب میں سیلاب سے متاثر ہونے والے کسانوں کے لیے امداد کا اعلان کیا۔ یہ امداد 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اعلان کردہ امریکی امداد کا حصہ ہے۔

    سیلاب سے متاثرکسانوں کو یہ امداد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی شراکت سے فراہم کی جائے گی۔ امریکی امداد سیلاب کے بعد انسانی ضروریات، غذائی تحفظ ، آفات سے نمٹنے اور استعدادکار میں اضافہ کے کام آئے گی۔

    اس سے چند دن پہلے کوئٹہ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ابھی مکمل طور سے نہیں ہوسکا، ہر ملک موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دوچار ہے یہی سبب ہے کہ ہم ایک سبز اتحاد کے قیام کے ذریعہ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی استعداد کار میں اضافہ پر کام کر رہے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا دورہ کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاتھا ۔ امریکی سفیر نے اس موقع پر صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات بھی کی۔امریکی سفیر صوبہ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کام میں مصروف مقامی شراکت داروں، اعلی تعلیمی اداروں کے نمائندوں، مقامی غیرسرکاری تنظیموں کے رہنماوں اور افغان پناہ گزینوں سے بھی ملے۔ اپنے دورے کے موقع پر سفیر بلوم نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف شراکت داروں پر مشتمل ایک سبز اتحادکے قیام پر تبادلہ خیال کیا ۔

    اس موقع پر انہوں نے اعلی تعلیم اور خواتین کو با اختیار بنانے کے ذریعہ معاشی ترقی کے فروغ کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق کوئٹہ میں سفیر بلوم نے عوامی شجر کاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے ایک پودا بھی لگایا۔واضح رہے کہ یہ سرگرمی مستقبل میں شہر وں میں جنگلات اگانے کے ایک بڑے منصوبہ کی کڑی ہے اور نوجوان کارکنوں کی سربراہی میں آغاز کردہ اس منصوبہ کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا، موسمیاتی خطرات کے بارے میں آگاہی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف معاشرتی لچک کو تقویت دینا اور ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وسیع معاشرتی بہبود کے لیے متنوع گروہوں کو قریب لایا جا سکے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر بلوم نے کہا کہ امریکی حکومت نے بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں رواں سال سیلاب سے متاثر ہونے والے ضرورتمند افراد اور آبادیوں میں نو کروڑ ستر لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی امداد فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ابھی مکمل طور سے نہیں ہوسکا ہے اور ہر ملک موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دوچار ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم ایک سبز اتحاد کے قیام کے ذریعہ سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی استعداد کار میں اضافہ پر کام کر رہے ہیں۔امریکی سفیر نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنیئر نگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے عہدیداروں سے اپنی ملاقاتوں کے دوران اس امر پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح امریکی حکومت کی اعانت سے جاری تدریسی پروگرام معاشی ترقی کی ضروریات کی تکمیل کر رہے ہیں۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • گجرات فسادات؛متاثرہ مسلم خاتون نے زیادتی کے مجرموں کی رہائی چیلنج کردی

    گجرات فسادات؛متاثرہ مسلم خاتون نے زیادتی کے مجرموں کی رہائی چیلنج کردی

    نئی دہلی: دس سال قبل بھارتی ریاست گجرات میں مسلم فسادات کے دوران جنونی ہندو بلوائیوں کی اجتماعی زیادتی کی شکار بلقیس بانو نے ان سفاک مجرموں کی رہائی کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بلقیس بانو نے مودی سرکار کی جانب سے اُن 11 مجرموں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ ان سفاک مجرموں نے انھیں گجرات کے علاقے احمد آباد میں مسلم کُش فسادات کے دوران نہ صرف اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ ان کی 3 سالہ بیٹی سمیت اہل خانہ کو بیدردی سے قتل کردیا تھا۔

    نابینا طالبہ سے زیادتی میں ملوث ٹیچر سمیت اسکول کے تینوں ملازم معطل

    خیال رہے کہ عمر قید کی سزا کاٹنے والے ان سزا یافتہ 11 مجرموں کو 15 سال قید مکمل ہونے پر رواں برس 15 اگست کو 1992 میں متعارف کرائے گئے معافی کی پالیسی کے تحت ان مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ جس وقت بلقیس بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پورے گجرات میں مسلمانوں کی خون کی ہولی کھیلی گئی اُس وقت ریاست کے وزیراعلیٰ نریندر مودی ہی تھے اور آج جب ان سفاک مجرموں کو رہائی دی گئی تو مودی وزیراعظم ہیں۔

    بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور ان کے اہل خانہ کو بیدردی سے قتل کرنے والے مجرموں کو ملک کے قومی دن کی خوشی میں 15 اگست کو ایک فرسودہ پالیسی کے تحت رہا تو کردیا گیا لیکن اس سے ملک بھر میں بالخصوص مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔تاہم گجرات حکومت نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور انوکھی منطق پیش کی کہ ان مجرموں کو جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سزا میں تخفیف کرکے رہا کیا گیا جس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا بھی ایک فیصلہ موجود ہے۔

    کراچی:بیوی اور 3 بیٹیوں کا لرزہ خیز قتل، زخمی والد نے اعتراف جرم کرلیا

    دوسری جانب بلقیس بانو کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گجرات حکومت نے معافی کی پالیسی 1992 کو استعمال کیا اور 2014 کی پالیسی کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کردیا جو عصمت دری اور قتل کے مجرموں کی رہائی پر پابندی لگا دیتی ہے۔وکیل کے مطابق بلقیس بانو نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ گجرات حکومت نے نہیں بلکہ مہاراشٹرا کی حکومت کو کرنا چاہیے تھا جہاں اُن پر مقدمہ چل رہا تھا۔

    اسلام آباد اورگرد و نواح میں زلزلہ

    واضح رہے کہ جب بلقیس بانو کو دس سال قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا تو ان کی عمر صرف 21 سال تھیں جب کہ گجرات بھر میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا اور محلے کے محلے جلا دیئے گئے تھے۔ یہ فسادات گودھرا ٹرین میں آتشزدگی میں 59 ہندو یاتریوں ہلاک ہوگئے تھے اور جنونیوں نے اس کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا تھا۔

  • امریکہ روس کےخلاف یوکرین کوجدید ڈرون فراہم کرے:امریکی سینیٹرز

    امریکہ روس کےخلاف یوکرین کوجدید ڈرون فراہم کرے:امریکی سینیٹرز

    واشنگٹن:16 امریکی سینیٹرز کے ایک دو طرفہ گروپ نے صدر جو بائیڈن انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو روسی افواج سے لڑنے کے لیے جدید ترین ڈرون دینے پر غور کرے۔

    وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کو منگل کے روز لکھے گئے خط میں، دستخط کنندگان، بشمول سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے ممبران، نے سیکرٹری پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو MQ-1C، جسے گرےایگل، ڈرون بھی کہا جاتا ہے، فراہم کرے۔

    قانون سازوں نے خط میں لکھا، "یوکرین کو MQ-1C فراہم کرنے کا طویل مدتی فائدہ اہم ہے اور اس میں یوکرین کے حق میں جنگ کے اسٹریٹجک راستے کو چلانے کی صلاحیت ہے۔”انہوں نے لکھا، "یوکرین کے دفاع کو مستحکم کرنے اور مستقبل کی روسی جارحیت کے خلاف طویل مدتی مزاحمت کے قابل بنانے کے لیے مؤثر مہلک امداد کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔”

    قانون سازوں نے آسٹن سے 30 نومبر تک وضاحت کرنے کو کہا کہ پینٹاگون نے اب تک یوکرین کو MQ-1C ڈرون فراہم کرنے سے انکار کیوں کیا ہے۔

    دستخط کرنے والوں میں سین. جونی ارنسٹ ، سین جیمز انہوف ، جو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں سبکدوش ہونے والے ریپبلکن ہیں، سین ٹم کین ، سین جو منچن اور سین. مارک کیلی

    بائیڈن انتظامیہ کیف کو MQ-1C فراہم کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اس خدشے کے پیش نظر کہ روسی ایک یا زیادہ ڈرون پکڑ سکتے ہیں اور ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔اپنے خط میں سینیٹرزنے پینٹاگون پر زور دیا کہ وہ اس موقف پر نظر ثانی کرے۔

    خط میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین کی افواج کو امریکی MQ-1C ڈرونز کی ضرورت ہے، جو کہ جنرل ایٹمکس کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں، تاکہ روسی ڈرونز کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو یوکرائنی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی