Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • سعودی عرب نے روس کیساتھ تیل کی درآمد دگنی کردی

    سعودی عرب نے روس کیساتھ تیل کی درآمد دگنی کردی

    ریاض: تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب نے روس کے ساتھ تیل کی درآمد دگنی کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب روسی تیل سے ملکی پاور پلانٹ چلانے لگا ہے۔ روس نے اس سعودی تعاون کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ترجمان کریملن ڈمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے امریکی صدر جوبائیڈن سعودی عرب کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب نے بجلی کی پیداوار کے لیے دوسری سہ ماہی میں روسی ایندھن کے تیل کی درآمد کو دوگنا کر دیا ہے۔

    روس سے تیل کی درآمد کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی ہے۔

    امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

    یاد رہے کہ ایک طرف سعودی عرب روس سے تیل کے حوالے سے بہت بڑا معاہدہ کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ سے بھی ایک معاہدہ کیا ہے ، جس کے مطابق امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

    امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

  • امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا: جوبائیڈن

    جدہ :امریکامشرقِ وسطیٰ سے کہیں نہیں جارہا، بدستورشراکت دار رہے گا:اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدرجو بائیڈن نے عرب رہ نماؤں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا مشرقِ اوسط میں ایک فعال شراکت دار کی حیثیت سے موجود رہے گا۔

    وہ ہفتے کے روزجدہ میں منعقدہ ’سلامتی اورترقی سربراہ اجلاس‘ میں شریک عرب رہ نماؤں سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہاکہ امریکاخطے کے مثبت مستقبل کی تعمیرمیں مدد دینے کے لیے آپ سب کے اشتراک سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہ خطے سے کہیں نہیں جا رہا ہے۔

    بائیڈن مشرقِ اوسط میں امریک کی مشغولیت کا ایک نیاباب شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔امید ہے کہ وہ امریکی فوجی تنازعات سے آگے بڑھیں گے اور اس کے بجائے ایک ایسے خطے پرزوردیں گے جو ممالک کے داخلی معاملات کا احترام کرے لیکن امریکا ایران سے متعلق لاحق خدشات کے پیش نظراقتصادی انضمام اور مشترکہ دفاع کا خواہاں ہو۔

    بائیڈن نے سربراہ اجلاس کویہ بھی بتایا کہ امریکااس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ جوہری ہتھیار کبھی ایران کے ہاتھ نہ لگیں۔

    وہ صدر امریکاکی حیثیت سے مشرق اوسط کے اپنے پہلے دورے پر ہیں۔ انھوں نے جمعہ کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اورآج انھوں نے چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل جی سی سی اور مصر، اردن اور عراق کے مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔

  • سعودیہ اسرائیل تنازع ختم، امریکا کا 2 جزائر سے فوج بلانے کا اعلان

    سعودیہ اسرائیل تنازع ختم، امریکا کا 2 جزائر سے فوج بلانے کا اعلان

    ریاض :امریکا نے سعودی عرب، مصر اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی وجہ بننے والے جزائر تیران اور صنافیر سے امن افواج واپس بلالیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں واقع خصوصی اہمیت کے حامل جزائر تیران اور صنافیر پر نصف صدی سے سعودی عرب اور مصر کے درمیان ملکیت کا تنازع ہے۔ بعد ازاں اسرائیل بھی اس میں پارٹی بن گیا تھا۔ مصر نے دونوں جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن اسرائیل نے یہ جزائر سعودی عرب کو دینے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی تاہم امریکی ثالثی کے باعث اسرائیل نے جزائر سعودی عرب کو واپس کرنے سے متعلق اعتراض واپس لے لیا۔

    جزائر کی سعودی عرب کو واپسی اسرائیل اور سعودیہ کے درمیان تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر مشرق وسطی کا 4 روزہ دورے میں اسرائیل، فلسطین اور سعودی عرب پہنچے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی پروازوں پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں اور جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے بحال ہوجائیں گے۔

    امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن بطور صدر مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر تھے اور اس دوران وہ اسرائیل بھی گئے تھے۔امریکی صدر بائیڈن مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوگئے ہیں، بائیڈن نے چار روز مشرق وسطیٰ میں گزارے۔

  • ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے:امریکی میڈیا کا الزام

    ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے:امریکی میڈیا کا الزام

    واشنگٹن:امریکی انٹیلی جنس لیک میں انکشاف ہوا ہےکہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت کی خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو قتل کرنے یا پکڑنے کی سازش کر رہا ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کا خیال ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے موجودہ یا سابق سینئر امریکی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    جنوری 2020 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر عراق میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اپنے قریبی ساتھی سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے ایران نے ذمہ داروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے اور امریکی حکام کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے فوری طور پر رد عمل دیتے ہوئے عراق میں موجود امریکی اڈوں کو بیک وقت سینکڑوں میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ابتداء میں واشنگٹن کی جانب سے ان حملوں میں کسی کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی تھی تاہم بعد ازاں امریکا نے اس حملے میں سینکڑوں فوجیوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کردی تھی۔

    امریکی حکومت کا خیال ہے کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران حملے کا خطرہ زیادہ ہے۔

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔

     

     

     

  • امریکہ:2018 سے2022 تک4لاکھ 60 ہزارامریکیوں نے خود کُشی کی:شرح میں مزید اضافہ

    امریکہ:2018 سے2022 تک4لاکھ 60 ہزارامریکیوں نے خود کُشی کی:شرح میں مزید اضافہ

    واشنگٹن:جدید سہولیات ، بہترین معالج اور زندگی کی رنگینیون کے باوجود امریکی زندگی سے اُکتانے لگے، چند ہی سالوں میں خودکُشی کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگئی ، ادھر اس حوالے سے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ہدایت پرواشنگٹن نے امریکا میں خودکشی روکنے اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کی فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 988 متعارف کروا دی ہے

     

     

     

    ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 41 ہزار سے زائد لوگوں نے امریکا میں خودکشی کی اور یہ اعداد و شمار سنہ 2020 میں 45979 تک جا پہنچے۔

     

     

    ڈائریکٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹیٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام ڈاکٹر برائن ہیپبرن کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کی بہبود کے حوالے اس ہیلپ لائن کا قیام ضروری تھا کیونکہ دن بدن امریکہ میں خودکشی کے اعداد و شمار بڑھتے جا رہے ہیں.

     

     

     

    امریکا میں ذہنی صحت سے متاثرہ افراد کی فلاح بہبود کیلئے ایک خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جس کا مقصد ہر سطح پر لوگوں کی رہنمائی کرنا اور انہیں الجھاؤ کا شکار ذہنی کیفیت سے باہر نکالنا ہے۔ ذہنی صحت کو ملکی سطح پر بہتر بنانے کیلئے موبائل مینٹل ہیلتھ کرائسس ٹیم اور ایمرجنسی مینٹل ہیلتھ سینٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

     

     

    یاد رہے امریکہ میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور اعصابی تنائو میں گھرے ہوئے لوگوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد امریکی حکومت کے لئے چیلنج بن چکی ہے اور انہی مسائل کی وجہ سے ملک میں ہونے والی خودکشیوں کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

     

  • وینزویلا نے امریکی سابق مشیر کی دوسرے ملکوں میں مداخلت کی مذمت کردی

    وینزویلا نے امریکی سابق مشیر کی دوسرے ملکوں میں مداخلت کی مذمت کردی

    لاہور:وینزویلا نے امریکی سابق مشیر کی دوسرے ملکوں میں مداخلت کی مذمت کردی ،اطلاعات کے مطابق وینزویلا کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کی جنوبی امریکی ملک میں بغاوت کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے عوامی اعتراف کے بعد شدید مذمت کی ہے

    ذرائع کےمطابق پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر بولٹن کے اعتراف جرم کی مذمت کرنے کے حق میں ووٹ دیا، اس کے صدر جارج روڈریگ نے کہا کہ "وینزویلا کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا”۔

    قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی منانے بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت

    ادھروینزویلا کی حکمران یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کے نائب اور رکن نے منصوبہ بند بغاوت اور اسے اپوزیشن کی جانب سے ملنے والی حمایت پر تنقید کی۔

    روڈریگیز نے کہا کہ "ہم باوقار لوگوں اور وینزویلا کی مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں تھک سکتے جنہوں نے 150 سالوں میں جمہوریہ پر ہونے والے سب سے سنگین حملے کو پسپا کیا۔”

    پاکستان دنیا میں امن مشن کیلئے فوج دینے والا دوسرابڑا ملک ہے، آئی ایس پی آر

    ایک اور نائب پیڈرو انفینٹے نے کہا، "یہ اعتراف امریکی سامراج کی طرف سے دنیا کے آزاد لوگوں کے خلاف کارروائیوں اور براہ راست حملوں کی ایک طویل فہرست میں زیادہ ثبوت ہے۔”

  • بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے،ادھر اسی حوالے سے عراقی ذرائع نے بغداد میں  امریکی فوج سے متعلق فوجی چھاؤنی سے خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سائرن کی یہ آوازیں عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی فوجیوں کی چھاؤنی کے اندر سے آ رہی تھیں۔ ابھی اس کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

    کچھ دنوں پہلے عراقی میڈیا نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اندر سے خطرے کا سائرن بجنے اور سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کا تجربہ کئے جانے اور اس کے نتیجے میں سفارتخانے کے قریب کی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل جانے کی رپورٹ دی تھی۔

    کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

    بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانے میں اکثر و بیشتر سیکورٹی تجربات اور مشقیں انجام دی جاتی ہیں جس کے باعث دفاعی سسٹم اور خطرے کا سائرن فعال ہوجاتا ہے اور اس سفارتخانے کے قریب واقع رہائشی علاقوں کے باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

    کورونا وبا: ملک بھر میں 236 نئے کیس رپورٹ

    اس صورتحال پر عراق کے مختلف سیاسی گروہوں کو سخت اعتراض ہے کیونکہ بغداد کے رہائشی علاقوں میں امریکی دفاعی سسٹم کے تجربے اور مشقیں اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کے منافی شمار ہوتی ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے کا رقبہ ایک سو ستر مربع کلومیٹر ہے اور یوں امریکی سفارت خانہ دنیا میں سب سے بڑا سفارتخانہ شمار ہوتا ہے اور اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانہ ہزاروں امریکی جاسوسوں کا اڈہ ہے جہاں سے جاسوسی کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

    اس کے باوجود عراقی حکومت نے اب تک بغداد کے مرکز میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے فائرنگ، نشانے بازی اور دیگر سیکورٹی مشقوں خاص طور سے سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کے تجربات انجام دیئے جانے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں اس ملک کی پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد  امریکی فوج کے کارروانوں کو تسلسل کے ساتھ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    عراقی عوام اور استقامتی گروہوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اگر ملک میں امریکی فوجی قابض رہے تو انہیں جارح اور غاصب فوجیوں کا مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

  • امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    لاہور:امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدوسری دنیا کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ، اس حوالے سے تازہ رپورٹ مین نکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اثرات سے دوسرے ممالک تقریبا 2 ٹریلین امریکی ڈالرز کے لگ بھگ نقصان پہنچایا، ایک نئے تجزیے کے مطابق جس نے موسمیاتی بحران کو روکنے میں اقوام کی ذمہ داری کی پہلی عالمی رپورٹ پیش کی ہے ،

    سیارے کو گرم کرنے والی گیسوں کی بڑی مقدار جو کہ سب سے بڑا تاریخی اخراج کرنے والا امریکہ ہے، نے گرمی کی لہروں، فصلوں کی کم پیداوار اور دیگر نتائج کے ذریعے دوسرے، زیادہ تر غریب ممالک کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ دنیا ہل کر رہ گئی ہے

    ین نے رپورٹ کیا.

    یہ امریکہ کو چین سے آگے رکھتا ہے، جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اخراج کرنے والا ملک ہے، روس، ہندوستان اور برازیل بھی شامل ہیں ، تاہم ان پانچ سرکردہ ملکوں نے 1990 سے اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 6ٹریلین سے زائد یا سالانہ عالمی GDP کا تقریباً 11%، ماحولیاتی خرابی کو ہوا دے کر نقصان پہنچایا ہے۔

    "یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے،” ڈارٹ ماؤتھ کالج کے ایک محقق اور مجموعی معاشی نقصان کے مطالعہ کے سرکردہ مصنف کرس کالہان ​​نے کہا، "یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ امریکہ اور چین اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں لیکن نمبر واقعی بہت حساس ہیں

    ہم یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کسی ملک کے اخراج کو مخصوص نقصان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔”ڈارٹ ماؤتھ کے محققین نے متعدد مختلف ماڈلز کو یکجا کیا، جن میں اخراج، مقامی آب و ہوا کے حالات اور اقتصادی تبدیلیوں جیسے عوامل کو دکھایا گیا، تاکہ موسمیاتی بحران میں کسی فرد ملک کی شراکت کے صحیح اثرات کا پتہ لگایا جا سکے

    کولمبیا لا سکول میں سبین سنٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کے قانون کے ڈائریکٹر مائیکل جیرارڈ نے کہا، "ایک ملک کی طرف سے آب و ہوا کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے دوسرے ملک کے دعووں میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی سائنسی بنیاد نہیں ہے، یہ ان کی قانونی بنیاد ہے۔” زیادہ تر قسم کے مقدمات کے خلاف خود مختار استثنیٰ جب تک کہ وہ اسے معاف نہ کر دیں۔”

    اس تعطل کا مطلب ہے کہ کسی قسم کی بات چیت کا معاہدہ سب سے زیادہ ممکنہ طریقہ ہے کہ آب و ہوا کے اثرات کی عدم مساوات کو کم کیا جائے۔

    یاد رہے کہ برطانوی اخبار "گارجیئن” نے پچھل سال بھی اپنی 10جنوری کی رپورٹ میں بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2021 میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو کہ 2020 کے مقابلے میں 6.2 فیصد زیادہ ہے۔ وبا کے بعد جیسے ہی زندگی معمول پر آئے گی، یہ اخراج معیشت سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔

    روڈیم گروپ نامی ایک امریکی تحقیقی فرم کی رپورٹ کے مطابق گیسز کا اخراج متعدد وجوہات کی بناپر بڑھ رہا ہے، بشمول کووڈ-۱۹ کی وبا کاپھیلاو جس کی وجہ سے لوگوں کے معمولات اور رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ وبا کے پہلے سال میں بہت سے لوگ جو گھروں میں رہے، انہوں نے بڑی مقدار میں فوسل فیولز کا استعمال کیا ۔اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں، اشیائے صرف کی زیادہ مانگ نے نقل و حمل میں بھی اضافہ کیا ہے۔

    گلوبل وارمنگ نے موسموں کی شدت کو بے حد بڑھا دیا ہے اور یہ صورتِ حال بار بار وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔ 10 جنوری کو امریکہ کی قومی بحری و ماحولیاتی انتظامیہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2021 شدید موسمی صورتِ حال اور موسمیاتی آفات کے لیے بدترین سالوں میں سے ایک تھا، جس میں 20 مختلف قدرتی آفات میں 688 افراد ہلاک اور مجموعی طور پر 145 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

     

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ "رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    "اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے "افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک "تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ "خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”