Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری

    کیلی فورنیا :امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے خلائی ٹیلیسکوپ جیمز ویب کے ذریعے لی گئی خلا کی پہلی رنگین تصویر جاری کر دی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کا منصوبہ مشترکہ طور پر امریکہ، یورپ اور کینیڈا نے تیار کیا ہے جس میں دس ارب ڈالر کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ گذشتہ برس دسمبر میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو خلا میں روانہ کیا گیا جس کے بعد خلا میں کائنات کے نئے اسرار سے پردہ اٹھائے جانے کی امیدیں کی جانے لگی تھیں۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسی منصوبہ قرار دیا گیا ہے جس کی مدد سے حاصل ہونے والی پہلی رنگین تصویر جاری کی جا چکی ہے۔ اس تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کائنات کا اب تک کا سب سے گہرا اور تفصیلی انفراریڈ نظارہ پیش کرتی ہے جس میں کہکشاؤں کی ایسی روشنی دکھائی دیتی ہے جس نے اربوں سال کی مسافت طے کی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن بھی یہ تصویر وائٹ ہاوس میں ایک بریفنگ کے دوران دیکھ چکے ہیں۔ یہ تصویر مذکورہ ٹیلسکوپ سے لی گئیں پانچ تصاویر میں سے ایک ہے جس کی رونمائی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے کی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا کہ ’اب ہم وہ ممکنات دیکھ سکتے ہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے، ہم ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں آج تک کسی نے رسائی حاصل نہیں کی۔‘

    یہ ٹیلسکوپ گذشتہ برس پچیس دسمبر کو لانچ کیا کیا گیا اور اسے مشہور ہبل ٹیلی سکوپ کا جانشین قرار دیا گیا ہے۔

  • چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    چین کی سماجی تنظیموں کی یو این انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت

    بیجنگ :اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 50 واں اجلاس 13 جون سے 8 جولائی تک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوا۔ چین کی متعدد سماجی تنظیموں نے تحریری صورت میں کانفرنس میں شرکت کی، جس میں چین کی انسانی حقوق کی ترقی اور کامیابیوں کو متعدد زاویوں سے دکھایا گیا اور عالمی انسانی حقوق کے نظم و نسق میں اصلاحات اور بہتری کے لیے فعال کردار ادا کیا گیا۔

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا ایتھنک مینارٹیز ایسوسی ایشن فار ایکسٹرنل ایکسچینجز نے کہا کہ چین ہمیشہ انسانی حقوق کے “عوام پر مبنی” تصور پر عمل پیرا رہا ہے، اور سنکیانگ کی تیز رفتار اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ اور چند مغربی ممالک سنکیانگ کے بارے میں اکثر جھوٹ گھڑتے ہیں، جس کا مقصد چین کی ساکھ کو داغدار کرنا اور چین کی ترقی کو روکنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا چاہیے اور غلط معلومات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

    چین کی تبتی ثقافتی تحفظ اور ترقیاتی ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں 70 سال سے زائد ترقی کے بعد تبت میں اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    غیر سرکاری تنظیموں کے عالمی تبادلے کے فروغ کے لیے بیجنگ ایسوسی ایشن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، چینی سماجی تنظیموں نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور کو برقرار رکھا ہے، اور عالمی انسداد وبا تعاون،افرادی روابط کو فروغ دینے ، ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے اور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے فعال کوششیں کی ہیں۔

    شام میں صورتحال کی بہتری کے لیے سلامتی کونسل کردار ادا کرے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ شام میں کراس بارڈر ڈیلیوری کو ختم کرنے کے لیے جلد از جلد ایک واضح ٹائم ٹیبل پیش کیا جائے۔ کراس بارڈر امداد کا طریقہ کار شام کی مخصوص صورتحال پر مبنی ایک عارضی انتظام ہے۔ سلامتی کونسل کو زمینی حقائق کے مطابق اقدامات آگے بڑھانے چاہیے اور کراس بارڈر ریلیف کو کراس لائن اپروچ سے بدلنا چاہیے۔

     

     

    ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چانگ جون نے کہا کہ شام میں انسانی صورتحال کو بدستور چیلنجز کا سامنا ہے اور چین ہمیشہ انسانیت، غیر جانبداری کے اصولوں کے مطابق شامی عوام کو انسان دوست امداد پہنچانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت کرتا ہے۔ چین بھی موئثر ذرائع سے شام کو مختلف قسم کی امداد فراہم کر رہا ہے، مقامی انسانی صورت حال کی بہتری اور اقتصادی اور لوگوں کے معاش میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

     

    چانگ جون نے کہا کہ یکطرفہ پابندیوں نے شامی حکومت کے وسائل اور تعمیر نو کی صلاحیت کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے اور یہ شام میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین نے ایک بار پھر متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف یکطرفہ پابندیاں فوری طور پر ہٹائیں تاکہ شام میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

     

     

    سلامتی کونسل کی قرارداد 2585 کا مینڈیٹ اتوار کو ختم ہو رہا ہے۔ چانگ جون نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ہمت نہ ہاریں، مشاورت جاری رکھیں، اور باہمی اعتماد میں اضافہ کریں، زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں، اور مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد انتظامات کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

  • امریکہ و افغانستان کے مابین دفاعی رابطوں کا باضابطہ خاتمہ

    امریکہ و افغانستان کے مابین دفاعی رابطوں کا باضابطہ خاتمہ

    کابل:امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے نان نیٹو اتحادی کا اسٹیٹس واپس لے لیا ہے۔ جس کے بعد امریکہ کے افغانستان کے ساتھ تقریباً بیس سال پر محیط فوجی اور سیکیورٹی رابطوں کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔

    نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے رواں ہفتے کے اوائل میں کانگریس کو ارسال کردہ ایک خط میں لکھا ہے کہ 1961 کے فارن اسسٹنس ایکٹ کی سیکشن 517 کے مطابق میں افغانستان کی ایک بڑے نان نیٹو اتحادی کی حیثیت منسوخ کرنے کے اپنے نوٹس فراہم کر رہا ہوں۔

    امریکہ کے دیگر بڑے نان نیٹو اتحادیوں میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، کولمبیا، مصر، اسرائیل، جاپان، اردن، کویت، مراکش، نیوزی لینڈ، فلپائن، قطر، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور تیونس شامل ہیں۔

    ایک بڑے نان نیٹو اتحادی کے طور پر افغانستان بھی فوجی تربیت اور امداد حاصل کرنے بشمول نیٹو افواج کے ملک چھوڑنے کے بعد بھی فوجی ساز و سامان کی فروخت اور لیز پر دینے کا عمل تیز کرنے کا اہل تھا ۔تاہم، اب بھی دنیا بھر میں امریکہ کے ایسے 18 اتحادی ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    یاد رہے، اگست 2021 میں، بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا جس سے تقریباً بیس سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے افغانستان کے ساتھ اپنے رابطوں کو بتدریج کم کر دیا ہے۔ فی الحال امریکہ اور افغانستان کےمابین واحد حل طلب مسئلہ امریکی سینٹرل بینک کی جانب سے منجمد کیے گئے سات ارب ڈالر مالیت کے افغان اثاثہ جات کا ہے۔

  • روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی

    ماسکو:روس نے نئی منڈیاں تلاش کرلیں:بھارت اورچین کی چاندی ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق روسی کمپنیوں نے چین اور بھارت کو انتہائی ضروری اشیا جیسے خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ چارٹرڈ جہازوں کا اہتمام کیا۔ذرائع کے مطابق مغربی پابندیوں کی وجہ سے مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے روس نے یہ اقدام اٹھایا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی مال بردار جہاز انٹیکو اور چین میں مقیم سوئفٹ ٹرانسپورٹ گروپ نے روس کے مشرق بعید میں ووسٹوچنی اور چین کے بندرگاہی شہروں کے درمیان کنٹینر شپنگ خدمات پیش کرنے کے لیے لائنر آپریٹنگ ذیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر بنائی ہیں۔

    بیجنگ اور نئی دہلی نے ماسکو پر مغربی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ معمول کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعاون جاری رکھیں گے۔اس سال تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، دونوں ممالک نے رعایتی روسی توانائی کی درآمدات میں اضافہ کیا۔

    کسٹمز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے مئی کے آخر تک تین مہینوں میں روسی تیل، گیس اور کوئلے پر تقریباً 19 بلین ڈالر خرچ کیے، جو ایک سال پہلے کی رقم سے تقریباً دوگنا ہے۔ ہندوستان نے اسی مدت میں 5.1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو کہ ایک سال پہلے کی قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

  • امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    دمشق:امریکی فوجی شام سے تقریبا ہر روز ہزاروں بیرل تیل لوٹ رہے ہیں۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکے تیل سے پوری کررہا ہے

     

     

    شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق شام کے شمال مشرق کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز شام کے الجزیرہ کے علاقے کے کنویں سے نکالے گئے تیل کو امریکی دہشتگرد 45 ٹینکروں میں بھر کر عراق لے گئے ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے امریکی فوج نے شام سے 42 ٹینکروں پر تیل بھر کے عراق پہنچایا۔شام کی وزارت پٹرولیئم کے مطابق، دہشتگرد امریکی فوجی اپنے کرائے کے فوجیوں کے ساتھ ہر روز شام سے 70 ہزار بیرل تیل چوری کرکے عراق پہنچاتے ہیں۔

     

    غاصب امریکی فوج کا دعوی ہے کہ وہ عالمی اتحاد کے دائرے میں دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہے جبکہ وہ، کرد ڈیموکریٹک فورس کے ساتھ مل کر تیل کی لوٹ مار کی غرض سے تیل سے مالامال شام کےعلاقوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی غیر قانونی فوجی موجودگی، ایسی حالت میں جاری ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کے آغاز میں ہی اعلان کیا تھا کہ امریکہ ہی شام میں مختلف دہشت گرد گروہ منجملہ داعش کے قیام کا باعث بنا ہے۔

     

    شام کے صدر بشار اسد نے امریکی حکومت کو جرمن نازی حکومت کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، شام کا تیل لوٹ رہا ہے۔

  • عالمی تبدیلیوں، وبا کی وجہ سے عالمی معیشت کی بحالی سست ہے، چینی صدر

    عالمی تبدیلیوں، وبا کی وجہ سے عالمی معیشت کی بحالی سست ہے، چینی صدر

    واشنگٹن :“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت” کے موضوع پر تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم کا بیجنگ میں افتتاح ہوا۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے سربراہ ہوانگ کھن منگ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی،اور صدر شی جن پنگ کی طرف سے بھیجا گیا تہنیتی خط پڑھ کر سنایا ۔

    چینی میڈ یا کے مطا بق صدر شی جن پنگ نے اپنے خط میں کہا کہ اس وقت ایک صدی میں آنے والی سب سے بڑی عالمی تبدیلیوں اور وبا کی وجہ سے ، عالمی معیشت کی بحالی سست ہے، ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان ترقیاتی فرق مزیدبڑھ گیا ہے۔ پوری دنیا کو ایک مشکل وقت کا سامنا ہے۔ عالمی ترقی کا فروغ انسانوں کا مشترکہ معاملہ ہے۔

    اس لئے چین نے عالمی ترقیاتی انیشیٹیو پیش کیا، جس کے مطابق چین ، عوام کو اولین حیثیت دیتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ ، جامعیت، مشترکہ مفادات، جدت ، انسان اور فطرت کی ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کو برقرار رکھتے ہوئے، ترقی کو عالمی ایجنڈے پر ترجیحی حیثیت دینے کو فروغ دے گا،اقوام متحدہ کے ۲۰۳۰ پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو بڑھائے گا اور زیادہ مضبوط، سبز اور مثبت عالمی ترقی کو فروغ دے گا۔

    ہوانگ کھن منگ نے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے نشاندہی کی کہ صدر شی جن پھنگ کے تہنیتی خط میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورت حال اور درپیش چیلنجوں کی وضاحت کی گئی ہے اور عالمی ترقی کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے، اس فورم کو اچھی طرح سے چلانے اور ترقیاتی قوتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

    اس فورم کی میزبانی چین کی ریاستی کونسل کے پریس دفتر نے کی تھی، اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز، ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز، اور چائنا میڈیا گروپ کے تعاون سے فورم کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 200 سے زائد نمائندوں نے آن لائن اور آف لائن شرکت کی۔

    کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن، ریاستی کونسل کے نائب وزیر اعظم لیو حہ نے امریکی وزیر خزانہ جینیٹ یلین کے ساتھ ورچوئل ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے میکرو اکنامک صورتحال اور عالمی صنعتی چین و سپلائی چین کے استحکام سمیت دیگر موضوعات پر عملی اور واضح انداز میں خیالات کا تبادلہ کیا۔

    دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ موجودہ عالمی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان میکرو پالیسیوں کی مفاہمت اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مشترکہ طور پر عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنا چین اور امریکہ اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ چین نے امریکہ کی طرف سے چین پر عائد اضافی محصولات اور پابندیوں کے خاتمے اور چینی کمپنیوں کے ساتھ منصفانہ سلوک جیسے مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے بات چیت اور رابطے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    3 جولائی کو امریکی ریاست اوہائیو کی پولیس نے چند روز قبل اکرون شہر میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک کیے جانے والے ایک افریقی نژاد امریکی شخص جیرلینڈ واکر کی لائیو ویڈیو جاری کی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ آٹھ پولیس اہلکاروں نے 90 سے زیادہ گولیاں چلائیں، اور فرانزک نے تصدیق کی کہ واکر کے جسم پر تقریباً 60 زخم تھے۔

    4 جولائی کو امریکہ میں یوم آزادی منایا جارہا ہے لیکن اسی موقع پر واکر کے خون سے اس جشن پر ایک تاریک سایہ چھاگیا ہے۔ اکرون میں پولیس کی سفاکی کے خلاف متعدد مظاہرے کیے گئے ہیں اور وہاں یوم آزادی کی تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    “میپنگ پولیس وائلنس” نامی ویب سائٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، امریکہ میں قانون کا نفاذ کرنے کے دوران پولیس تشدد کے باعث 2020 سے لے کر اب تک 2,563 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 565 افریقی نژاد امریکی ہیں یہ تعداد کل تعداد کے 22 فیصد سے زیادہ ہے۔

    امریکی طرز کے نظام میں نسل پرستی کی جڑیں امریکی معاشرے میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ اس سال جون میں، کیلیفورنیا کی ایک خصوصی ورکنگ ٹیم نے 500 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ آج بھی امتیازی قوانین اور طرز عمل افریقی نژاد امریکیوں کو رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار سمیت دیگر شعبوں میں متاثر کررہے ہیں ۔

    ہر جگہ پائے جانے والے امتیازی سلوک اور جبر کے پیچھے نہ صرف غلامی کی مجرمانہ تاریخ، سفید فام بالادستی کا نسلی ڈھانچہ اور سماجی ماحول وغیرہ کے عوامل موجود ہیں، بلکہ یہ امریکی سیاستدانوں کی پارٹی مقابلے بازی اور موثر حکمرانی میں ناکامی کا نتیجہ بھی ہے۔امریکہ میں اس سال وسط مدتی انتخابات ہوں گے اور دونوں جماعتیں اب سوچ رہی ہیں کہ ووٹ کیسے حاصل کیے جائیں؟ مگر کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ اقلیتوں کے مطالبات سنیں اور نسل پرستی کے مسئلے کو حل کیا جائے۔

  • گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    ماسکو: گندم کی عالمی مارکیٹ متاثر، چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ ،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی عالمی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ روس اور یوکرین کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا گندم برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ گندم مصر، انڈونیشیا، نائیجیریا اور ترکی درآمد کرتے ہیں۔ آخر گندم کا کوئی متبادل کوئی کیوں نہیں ہے؟ گندم کو ہی چکی میں پیس کر آٹا و معدہ تیار کیا جاتا ہے جو پھر ڈبل روٹی، نوڈلز اور مختلف قسم کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے جس میں طرح طرح کے میٹھے بھی شامل ہیں۔

    معاشی ماہر اور ’فیڈنگ ہیومینٹی‘ نامی کتاب کے مصنف برونو پرمینٹیئر کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی گندم کھاتا ہے لیکن ہر کوئی گندم پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘ دنیا بھر میں صرف چند ایسے ممالک ہیں جو اتنی مقدار میں گندم پیدا کرتے ہیں کہ خود بھی استعمال کریں اور باقی برآمد کر دیں۔

    چین جبکہ گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اپنی ایک کروڑ 40 ارب کی آبادی کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ گندم درآمد بھی کرنا پڑتی ہے۔ دیکھا جائے تو اناج کی قیمت روس کے یوکرین پر فروری میں حملہ کرنے سے پہلے بھی زیادہ تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کورونا میں کمی کے بعد جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوا اور معیشیت بحال ہونا شروع ہوئی تو ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کے بعد نائٹروجن سے بننے والی کھاد کی قیمت بھی بڑھ گئی

  • امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف ہی خوف

    امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف ہی خوف

    شکاگو۔امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف ہی خوف،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں یوم آزادی کی پریڈ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے ہیں ، لیکن امریکہ میں ابھی تک اس فائرنگ نے ہرشخص کو خوف زدہ کررکھا ہے اور 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ہرطرف پولیس اوردیگرسیکورٹی ادارے خوف کے مارے تلاشی اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ ریاست الینوائے کے شہر شکاگو کے نواحی علاقے ہائی لینڈ پارک پریڈ شوٹنگ میں پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد لوگ جان بچانے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگتے نظر آئے۔ حکام نے پریس کانفرنس میں چھ افراد کے ہلاک اور 24 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

    پولیس کو ایک رائفل بھی ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس سے فائر کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک مشتبہ حملہ آور پکڑا نہیں جا سکا ہے۔

    شوٹر نے چھت سے فائرنگ کی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے پریڈ شروع ہوئی۔ تقریباً 10 دن بعد فائرنگ کی وجہ سے پریڈ روکنا پڑی۔ بتایا گیا ہے کہ فائرنگ عمارت کی چھت سے کی گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں حملہ آور کی تلاش میں ہیں۔ لیک کاؤنٹی شیرف کے دفتر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ "یوم آزادی پریڈ اسٹریٹ” کے علاقے میں ہوئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکہ کے خطرناک گن کلچر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 24 مئی کو، ، ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ سے دو اساتذہ اور 19 بچے ہلاک ہو گئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مجرم نے 20 سے زیادہ گولیاں چلائیں

    لینڈ پارک کی رہائشی ڈیبی گلک مین نے بتایا کہ وہ ساتھیوں کے ساتھ پریڈ کے فلوٹ پر تھیں اور جب اس نے لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو کئی لوگ پریڈ کے راستے سے نیچے جانے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ چیخ رہے تھے، وہاں ایک شوٹر ہے، ایک شوٹر ہے، وہاں ایک شوٹر ہے، "گلک مین نے مزید کہا کہ ہم نے بھی یہ سن کر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ شہر کے رہنماؤں نے ٹوئٹر پر مطلع کیا ہے کہ ‘پولیس دی ہائی لینڈ پارک شوٹنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس دوران فورتھ فیسٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کا یہ حالیہ واقعہ امریکہ میں اسلحے کے بڑھتے ہوئے جرائم کا ایک اور سلسلہ ہے، جہاں گن وائلنس آرکائیو ویب سائٹ کے مطابق ہر سال فائرنگ سے 40 ہزار کے قریب اموات ہوتی ہیں۔

    اس سے امریکہ میں 246 ویں یوم آزادی کی تقریبات پر بھی اثر پڑا، جہاں ملک بھر میں شہروں اور قصبوں میں پریڈ منعقد ہوتی ہیں اور شہری پارٹیوں اور آتش بازی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پولیس کے مطابق فائرنگ صبح 10 بج کر 14 منٹ پر شروع ہوئی جب پریڈ آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔

    صدر جو بائیڈن نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’اس یوم آزادی پر بے مقصد فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی برادری میں سوگ کا سماں پیدا کر دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’میں اسلحے کے تشدد کی وبا کے خلاف لڑائی میں ہار نہیں مانوں گا۔‘ صدر بائیڈن نے پیر کی شب وائٹ ہاؤس میں فوجی خاندانوں اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے خطاب میں کہا: ’حالیہ دنوں میں یہ سوچنے کی وجوہات سامنے آئی ہیں کہ شاہد ہمارا ملک پیچھے جا رہا ہے، کہ آزادیوں میں کمی آ رہی ہے، کہ وہ حقوق جنہیں ہم محفوظ سمجھتے تھے، اب نہیں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تھکا دینے والا اور پریشان کن ہے مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس سب سے نکل جائیں گے۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے،پرویزالہی سے امریکی  نمائندہ خصوصی کی ملاقات

    امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے،پرویزالہی سے امریکی نمائندہ خصوصی کی ملاقات

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے کمرشل و کاروباری امور دلاور سید نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔ دلاورسید امریکہ میں سمال، میڈیم کاروباری اداروں کے صدر اور سی ای او رہے ہیں اور تجارتی و اقتصادی پالیسیوں کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، پارلیمانی و باہمی دلچسپی کے امور اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم پاکستان کی امریکہ کو یوم آزادی پر مبارک باد

    سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ دونوں ملکوں میں دیرینہ تعلقات کے فروغ کیلئے باہمی رابطے، تجارت اور عوامی سطح پر وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری کو 75 سال ہو چکے ہیں، امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

    الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

     

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی اور صحت سمیت دیگر شعبہ جات میں شر اکت داری مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، سلیکون ویلی میں پاکستان اور امریکہ کا داخلہ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    امریکی نمائندہ خصوصی دلاور سید نے کہا کہ امریکہ اورپاکستان کے مابین خوشگوار تعلقات بڑھانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، امریکہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے۔ دلاور سید نے چودھری پرویزالٰہی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ایف سی کالج لاہور واپس پریسبیٹیرین چرچ کے حوالے کیا گیا۔

    سپیکر نے دلاور سیدکو پنجاب اسمبلی میں ہونیوالی قانون سازی سے آگاہ کیا۔ سپیکر نے امریکی نمائندہ خصوصی کو پنجاب اسمبلی کے نئے ایوان اور بلڈنگ کا دورہ بھی کروایا۔ ملاقات میں مس گایا (Ms. Gaia)، علاقائی پالیسی لیڈر برائے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن، مس کیتھلین گبیلیسکو (Ms. Kathleen Gibilisco) سربراہ سیاسی و اقتصادی امور برائے امریکی قونصلیٹ لاہور اور مس صدف سعد پولیٹیکل اینڈ اکنامک سپیشلسٹ برائے امریکی قونصلیٹ بھی موجود تھیں۔