Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے یورپی ڈویژن کے ڈائریکٹر وانگ لو تھونگ نے جی سیون اور نیٹو سمٹ میں چین سے متعلقہ امور کے حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف نیٹو کا” اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ” دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو” سے مقابلہ کرنے کے لیے جی 7 کے پیش کردہ ” عالمی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ پارٹنرشپ” منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے منصوبے ایک دوسرے کے مقابل یا الگ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ہم آہنگ بنایا جانا چاہیے۔ چین کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو جغرافیائی سیاسی مفادات کے حصول کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    وانگ لو تھونگ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں سننے میں آیا ہے کہ چین کے خلاف نیٹو کا ایک “اقتصادی ورژن” بنایا جائے گا ۔ یہ عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور بہت خطرناک بھی ہو گا

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ تائیوان تنازعے سے متعلق امریکا نے چین پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، مستقبل میں چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ تائیوان پر چین کے فوری حملے کا تو کوئی امکان نہیں ہے لیکن امریکا نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

    جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ چین، تائیوان پر حملے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں چین کی جانب سے تائیوان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا تائیوان پر حملہ کرنا ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔

    خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک علیحدہ ریاست مانتا ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔

    ادھرہانگ کانگ کے قریب سمندری طوفان چابا کی زد میں آکر ایک بحری جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے جس کے بعد سے عملے کے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    یہ واقعہ 2 جولائی کو پیش آیا تھا اور ہانگ کانگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفانی لہروں کی وجہ سے عملے کے لاپتہ27 افراد کے بچنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔

    سمندری طوفان کے دوران 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور طوفانی لہروں کے نتیجے میں فوجنگ 001 نامی جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد عملے کے 3 افراد کو بچا لیا گیا تھا مگر 27 افراد اب بھی گمشدہ ہیں۔

    ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے عملے کو بچانے کے لیے 4 طیارے، 6 ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جبکہ 36 رکنی ریسکیو ٹیم سرچ آپریشن پر کام کر رہی ہے۔حکام نے بتایا کہ ان 27 افراد کی زندگی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ وقت بہت زیادہ ہوچکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں مگر خراب موسم کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہورہا ہے۔

  • ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی کی معافی سے متعلق ہم نے تمام ریکارڈ حاصل کر لیا، تحریک اںصاف کے رہنما کی ملاقات اور معافی کے شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکاکے خلاف نعرے لگانے والا امریکا کے پاؤں پکڑ رہا ہے،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کا ادراک ہے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے، عمران خان کا ایجنڈا ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا، ان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں۔

    سیالکوٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق خواجہ محمد آصف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص اپنے خون کا وفا دار نہیں، آج ادارے آئنی حدود میں رہ رہے ہیں تو یہ ان پر کیچڑ اچھالتا ہے، ہم تمام اداروں کا دفاع کریں گے، عمران خان کا ایک ہی مشن ہے کہ ہمارا ایٹمی ملک اندر سے کمزور ہو۔

    وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 2023 میں آئین کے مطابق شفاف انتخابات ہوں گے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا عمران خان کا ایجنڈا ہے، ایسا دور شروع ہوگیا ہے کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ادارے ساتھ نہ دیں تو عمران خان انکے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں، عمران خان چھپ کر خیبر پختونخوا میں بیٹھا رہا، سابق وزیراعظم کے گرد قانون کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے، مہنگائی کے عذاب میں سابق حکومت نے ڈالا، ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے داعی ہیں، اداروں کا احترام کرتے ہیں، مضبوطی کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ:
    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اپنے خلاف عدم اعتماد ووٹ لائے جانے کے دوران اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک دھمکی آمیز خط لہرا کر الزام عائد کیا تھا کہ ایک امریکی سفیر (ڈونلڈ لو) نے ہمارے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا.انہوں نے مزید دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ساری سازش امریکہ نے کی ہے.

    بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس نے عمران خان کے امریکی سازش والے دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی

  • امریکہ سے پاکستان کیلئےدرآمدات2.4ارب ڈالر رہیں:سردارمسعود خان

    امریکہ سے پاکستان کیلئےدرآمدات2.4ارب ڈالر رہیں:سردارمسعود خان

    واشنگٹن : امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر سردارمسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ کیلئے پاکستان کی برآمدات میں23فیصد اضافہ ہوا، گذشتہ سال برآمدات نے پہلی بار5ارب ڈالر سے تجاوز کیا تھا۔

    اپنے ایک بیان میں نا کا کہنا ہے کہ اس سال جولائی سے مئی تک برآمدات6.16ارب ڈالرتک پہنچ گئیں، جون کےاعداد وشمار امریکہ کیلئے برآمدات کےحجم میں اضافہ کرینگے۔

    مسعودخان نے کہا کہ گذشتہ مالی سال امریکہ سے پاکستان کیلئے درآمدات2.4ارب ڈالر رہیں، جولائی سے مئی کے دوران درآمدات2.72 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    پاکستانی سفیر کے مطابق درآمدات میں اضافہ معمولی رہا جبکہ برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا، امریکہ اہم تجارتی پارٹنر ہے،پاکستان کی سب سے بڑی منزل برآمدات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدات میں اضافہ بہت حوصلہ افزا رجحان ہے، سروسز، آئی ٹی سیکٹر میں پاکستانی برآمدات2ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔

    مسعودخان نے کہا کہ برآمدات کا حجم بشمول سروسز،آئی ٹی8ارب ڈالر سے بڑھنےکی توقع ہے، پاکستان کے ٹیک سیکٹر کو امریکی کمپنیز کی معاونت حاصل رہی۔

    پاکستانی سفیر کے مطابق حالیہ مہینوں میں ٹیک سیکٹر میں نصف ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، پاکستان میں ڈیجیٹل انٹرپرائزز گلوبل ہو رہی ہیں جو کہ مزید نموکیلئے تیار ہیں۔

    ٹیک سیکٹر میں پاک امریکہ پارٹنر شپ آئندہ سالوں میں مزید مستحکم ہوگی، پاکستان نے سرمایہ کاری، ٹریڈ سےمتعلق دونوں ممالک کے قریبی تعلقات پر زور دیا۔

    مسعودخان کا کہنا تھا کہ پاکستانی برآمدات کی شاندار کاکردگی اس رجحان کو مزید مستحکم کرے گی، پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کا اجلاس مئی میں ہوا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی قیادت اسسٹنٹ ٹریڈ نمائندے کرسٹوفر ولسن نے کی جبکہ پاکستان کی قیادت کامرس سیکریٹری صالح احمد فاروقی نے کی۔

  • امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے

    امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے

    واشنگٹن:امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے،اطلاعات کے مطابق انٹرسیپٹ نامی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے قوی ثبوت ہیں کہ امریکہ نے 2020 کے اوائل میں مشرق وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک خطے میں کم از کم 14 پراکسی وار آپریشنز کرنے کے لیے "127E” کے نام سے ایک خفیہ اتھارٹی کا استعمال کیا ہے، انٹرسیپٹ نے اپنے حاصل کردہ دستاویزات کے ساتھ ساتھ محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کا حوالہ دیتے ہوئےکہا ہے کہ اس سارے معاملے کی نگرانی پینٹا گان نے کی تھی

    انٹرسیپٹ کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ "127E” اتھارٹی کا استعمال کرتا رہا ہے تاکہ امریکی کمانڈوز کو دنیا بھر میں غیر ملکی اور بے قاعدہ پارٹنر فورسز کے ذریعے نام نہاد ‘انسداد دہشت گردی آپریشنز’ کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طریقہ کار یہ ہے کہ امریکہ، اتھارٹی کے ذریعے، پھر غیر ملکی افواج کو اسلحہ، تربیت اور انٹیلی جنس فراہم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، جو پھر امریکی دشمنوں کو نشانہ بنانے والے امریکی ہدایت پر بھیجے گئے مشنز پر بھیجے جاتے ہیں۔

    ریٹائرڈ فور سٹار آرمی جنرل جوزف ووٹل کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ نے مصر، لبنان، شام اور یمن میں انسداد دہشت گردی کی "127E” کوششیں کیں۔ایک اور سابق سینئر دفاعی اہلکار نے انٹرسیپٹ کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ عراق میں "127E” آپریشن ہوا اور حاصل کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ تیونس میں بھی ایسا ہی ایک اور "127E” آپریشن ہوا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خفیہ کارروائیوں پر 2017 اور 2020 کے درمیان امریکہ کو 310 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محکمہ دفاع اور سپیشل آپریشنز کمانڈ "127E” اتھارٹی پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ درجہ بند ہے اور وائٹ ہاؤس اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اس کے علاوہ، یہ معلوم نہیں ہے کہ "127E” آپریشنز کے دوران کتنے عام شہری اور غیر ملکی افواج مارے گئے ہیں، لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جانی نقصان ہوا ہے۔رپورٹ میں پروگرام سے واقف امریکی حکومت کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کے قانون سازوں کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد "127E” آپریشنزسے واقف ہے جبکہ اکثرسے یہ معاملہ چھپایا گیاہے

  • امریکا: ہائپر سونک میزائل کا ایک اورتجربہ ناکام

    امریکا: ہائپر سونک میزائل کا ایک اورتجربہ ناکام

    واشنگٹن: امریکا: ہائپر سونک میزائل کا ایک اورتجربہ ناکام ہوگیا ہے،ادھر اسی حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کا بدھ کو کیا گیا ہائپرسونک میزائل تجربہ بری طرح ناکام ہو گیا، پروٹو ٹائپ ہتھیار کے تجربے میں یہ امریکا کی دوسری ناکامی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا کا ہائپر سونک میزائل تجربہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے، بلومبرگ نے رپورٹ دی ہے کہ یہ میزائل تجربہ بدھ کو انجام دیا گیا۔

    پنٹاگون کے ترجمان کے مطابق میزائل تجربے کی ناکامی کی وجہ میزائل کے سسٹم میں تکنیکی خرابی تھی، تاہم امریکی وزارت جنگ پنٹاگون نے ہائپر سونک میزائل کی تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

    پینٹاگون نے جمعرات کو ایک بیان جاری کر کے امید ظاہر کی ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتیں صحیح راستے پر ہیں۔ خیال رہے کہ پروٹو ٹائپ ہتھیار کے تجربے میں یہ امریکا کی دوسری ناکامی ہے جسے “کنونشنل پرامپٹ اسٹرائیک” کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔

    بائیڈن حکومت نے ہائپرسونک میزائلوں سمیت دور مار میزائلوں کے لیے 2023 کے فوجی بجٹ میں 7.2 ارب ڈالر کا تقاضا کیا ہے۔ ہائپر سونک میزائل کے تجربے میں امریکا کی ناکامی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس حال ہی میں زیرکان نامی الٹرا سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی امریکہ کا ایک ایسا ہی تجربہ ناکام ہوچکا ہے ،یہ تجربہ پچھلے سال ستمبر میں کیا گیا ، اس تجربے میں‌ امریکہ کا ہائپرسانک میزائل کا نیا تجربہ ناکام ہو گیاتھا ۔ سی این این نے اس وقت اس میزائل کے متعلق بتایا تھا کہ آواز کی رفتار سے 5گنا تیز خلاءسے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے والے اس ہائپرسانک میزائل کا تجربہ ناکام ہونے سے امریکی ہائپرسانک میزائل پروگرام کو شدید دھچکا لگا ہے۔

  • امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    لندن :امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ میں روس کی شکست تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیٹو اتحاد کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے غیر معینہ مدت تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک اپنی مدد جاری رکھے گا جب تک یوکرین کو اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اس نے روس کو شکست دے دی ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ روس کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو جلد ہی مزید 800 ملین ڈالر کی سیکورٹی امداد فراہم کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئی امریکی امداد میں جدید فضائی دفاعی نظام، کاؤنٹر بیٹری ریڈار اور ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سٹمز کے لیے اضافی گولہ بارود شامل ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کی انتظامیہ باضابطہ طور پر سیکورٹی امداد کی تفصیلات جاری کرے گی۔

    اجلاس میں نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی امداد جاری رکھی جائے گی اور تعاون کا سلسلہ برقررا رکھا جائے گا۔یوکرین نے شام سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ فیصلہ یوکرین سے آزادی حاصل کرنے والی دو ریاستوں کو خودمختار تسلیم کرنے کے ردعمل میں آیا ہے۔

    یوکرین صدر ولودیمیرزیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر شام سے سفارتی تعلقات ختم کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل روس نے یوکرین سے علاحدہ ہونے والی ریاستوں کو تسلیم کیا تھا جس کے بعد شام کے صدر بشارالاسد نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی ان ریاستوں کی خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کو تسلیم کررہے ہیں۔

    شامی وزارت خارجہ نے عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے فریم ورک پر بات چیت ہو گی۔

    ادھراطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یوکرین کوفوجی امداد کا سلسلہ جاری وساری ہے اورتازہ امداد میں برطانیہ نے یوکرین کو 1 بلین پاؤنڈ (1.2 بلین ڈالر) مالیت کے فوجی امداد کے ایک نئے پیکج کا وعدہ کیا ہے۔

    اس امداد میں فضائی دفاعی نظام اور ڈرون شامل ہوں گے۔ نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ نیا پیکج روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کو برطانیہ کی کل فوجی مدد 2.8 بلین ڈالر تک لے جائے گا۔

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کریملن نے کہا ہے کہ دشمنی کو ختم کرنے کا ایک آپشن موجود ہے، یہ کہتے ہوئے کہ آپریشن کو دن کے اختتام سے پہلے روکا جا سکتا ہے، اگر کیف اپنے نازی یونٹوں اور فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتا ہےاور ماسکو کی شرائط کو قبول کرتا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے آج نیٹو کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے روس کو "براہ راست خطرہ” قرار دیا اور کہا کہ چین نے عالمی استحکام کے لیے "سنگین چیلنجز” پیدا کرنے کے الزامات لگائے

    روس اورچین نے نیٹو کے ان الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو،امریکہ اوردیگرامریکی نوازیہ سُن لیں کہ نیٹوکی وسعت روس اورچین کے خلاف ایک سازش ہے جسے مسترد کرتے ہیں اور نیٹو کی وسعت کے خلاف مزاحمت بھی کریں گے

    یاد رہے کہ میڈرڈ میں نیٹوسربراہی اجلاس ہورہاہے جہاں اس نے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ دنیا کواس وقت سائبرحملوں کاسامنا ہے اوراس کے پیچھے روس اورچین ہیں‌

    میڈرڈ میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے ترکی کواعتماد میں لینےکے بعد فن لینڈ اور سویڈن کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی۔ اگر نورڈک ممالک کے الحاق کو 30 رکن ممالک نے منظوری دے دی تو یہ نیٹو کو روس کے ساتھ 800 میل (1,300 کلومیٹر) کی نئی سرحد دے گا۔

    نیٹوکے انہیں عزائم کو بھانپتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اگر نورڈک جوڑے یعنی فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو کے فوجیوں اور فوجی ڈھانچے کو اپنی سرزمین پر جانے کی اجازت دی تو وہ اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس ان علاقوں میں نیٹو افواج کی موجودگی کوایک جنگی جارحیت تصور کرے گا

    نیٹو کے رہنماؤں نے جمعرات کو ہونے والے ایک حتمی سربراہی اجلاس کے لیے اپنی نگاہیں جنوب کی طرف موڑ لیں جس پر توجہ افریقہ کے ساحل کے علاقے اور مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز تھی، جہاں سیاسی عدم استحکام — موسمیاتی تبدیلیوں اور یوکرائن میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے ، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو یورپ کی طرف لے جا رہی ہے۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ "یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم جنوب میں اپنے قریبی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ان کا کہناتھا کہ روس نے ہماری ساری توقعات پرپانی پھیردیا جب اس نے یوکرین پرحملہ کرکے خطے کوعدم استحکام کا شکارکردیا ہے

    اس حملے نے یورپ کے امن کو تہس نہس کر دیا، اور اس کے جواب میں نیٹو نے ممالک نے یوکرین کی مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے اسے اربوں ڈالر کی فوجی اور سویلین امداد دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سربراہی اجلاس سے خطاب ہوئے نیٹو پر زور دیا کہ وہ جدید آرٹلری سسٹم اور دیگر ہتھیار بھیجے اور رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ یا تو انہیں کیف کو اس کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کرنی ہوگی یا پھر "روس اور آپ کے درمیان تاخیر سے جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کوفتح کرنے کے بعد روس کا اگلہ ٹارگٹ مالڈووا؟ یا بالٹک؟ یا پولینڈ ہوگا اورکسی کو بھول میں رہنے کی بھی ضرورت نہیں

  • روس نےامریکی صدر،اہلخانہ سمیت 25 افراد کوبلیک لسٹ کردیا

    روس نےامریکی صدر،اہلخانہ سمیت 25 افراد کوبلیک لسٹ کردیا

    ماسکو:روس کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ ماسکو نے صدر جو بائیڈن کے اہل خانہ سمیت 25 امریکی شہریوں پر ان کی روسو فوبک لائن پر انتقامی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    روس نے "روسو فوبک پالیسیاں تیار کرنے کے ذمہ دار سینیٹرز میں سے روسی سیاستدانوں اور عوامی شخصیات کے خلاف امریکی پابندیوں کے جواب میں 25 امریکی شہریوں کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے، بائیڈن کی اہلیہ جِل اور ان کی بیٹی ایشلے کے ساتھ ساتھ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسس فوکویاما، جو ایک ممتاز سیاسی تجزیہ کار ہیں، اس فہرست میں شامل ہیں۔روس میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کرنے والے امریکی شہریوں کی مکمل فہرست روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

    مارچ کے وسط میں، روس نے جو بائیڈن، سکریٹری آف اسٹیٹ ٹونی بلنکن، ڈیفنس سکریٹری لائیڈ آسٹن اور دس دیگر انتظامیہ کے عہدیداروں اور سیاسی شخصیات پر پابندیاں عائد کیں۔ماسکو نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ پابندیاں ایک باہمی اقدام ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے صدر ولادیمیر پوتن سمیت اعلیٰ روسی رہنماؤں کو بلیک لسٹ کرنے کے بعد لگائی گئی ہیں۔

    13 ناموں کی فہرست میں سب سے اوپر نظر آنے والے بائیڈن ہیں، اس کے بعد بلنکن اور آسٹن ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جین ساکی کے نام بھی شامل ہیں۔ اس فہرست میں مزید نیچے، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور بائیڈن کے بیٹے ہنٹر – جن کے یوکرین کی توانائی فرم کے ساتھ معاملات پہلے بھی پوچھ گچھ اور تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں – بھی شامل ہیں۔

    24 فروری کو، پوتن نے ڈان باس ریپبلک کے سربراہوں کی درخواست کے جواب میں کہا کہ انہوں نے ایک خصوصی فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روسی رہنما نے زور دے کر کہا کہ ماسکو کا یوکرین کے علاقوں پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یاد رہے کہ امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کئی دیگر ریاستوں نے روسی قانونی اداروں اور افراد کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔جی 7 ممالک روس کے توانائی ذرائع پر پابندیوں کیلئے حکمت عملی بنانے پر متفق،اطلاعات کے مطابق جرمنی میں ہونے والے جی سیون ممالک کے اہم اجلاس میں بڑے بڑے فیصلے سامنے آرہے ہیں ، جن کے مطابق جی سیون ممالک نے روس کے ایندھن ذخائر کی برآمد کی عالمی قیمتوں پر پرائس کیپ کے لیے جانچ پڑتال پر اتفاق کیا ہے تاکہ ماسکو کے لیے یوکرین جنگ کے لیے سرمایہ جمع کرنا مشکل ہوجائے۔

    اسی طرح جی سیون رہنماؤں نے عالمی سطح پر خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے 5 ارب ڈالرز کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا ہے۔خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہونے والی جی سیون ممالک کی کانفرنس میں یوکرین کی جنگ اور اس کے اقتصادی اثرات کا غلبہ رہا۔

    یورپی یونین کی جانب سے عالمی شراکت داروں سے مل کر روسی توانائی ذرائع کی قیمتوں کی روک تھام کے طریقوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

    جی سیون ممالک کی جانب سے پرائس کیپ کو روس کو یوکرین جنگ سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کا ذریعہ سمجھا جارہا ہے، جس کے تحت روسی توانائی ذرائع کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا جائے گا، تاکہ روس کی خام تیل اور گیس کی برآمد کم ہوجائے۔

    روس کی جانب سے ابھی مختلف ممالک کو رعایتی قیمت پر خام تیل فروخت کیا جارہا ہے، مگر جی سیون ممالک ایسے طریقوں پر غور کریں گے جن کے تحت مالیاتی سروسز کی جانب سے روسی خام تیل کی شپنگ پر زیادہ سے زیادہ قیمت لی جائے۔جی سیون رہنماؤں نے روس سے سونے کی درآمد پر پابندی کی مہم کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    برطانیہ، امریکا، جاپان اور کینیڈا نے 26 جون کو روس سے سونے کی درآمد پر پابندی پر اتفاق کیا تھا جبکہ یورپی یونین نے اس پر کچھ تحفظات ظاہر کیے تھے۔عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کے لیے جی 7 ممالک نے 5 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے جس میں سے ڈھائی ارب ڈالرز امریکا فراہم کرے گا۔

  • کولمبیا کی جیل میں خطرناک قیدیوں کے درمیان خونی جھگڑا:50 ہلاک

    کولمبیا کی جیل میں خطرناک قیدیوں کے درمیان خونی جھگڑا:50 ہلاک

    بوگوتا: براعظم جنوبی امریکا کے ملک کولمبیا کی جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا جس کے نتیجے میں 50 قیدی ہلاک اور 29 زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا کے جنوب مغربی شہر تلووآ کی ایک خطرناک جیل میں ہنگامہ، تشدد اورجھگڑے کےدوران 50 قیدی ہلاک ہوگئے۔

    قیدیوں نےایک دوسرے پر ڈنڈوں، راڈوں اور چاقوؤں کا آزادانہ استعمال کیا۔ کئی قیدیوں نے موقع کا فائدہ اُٹھاتےہوئے فرار ہونے کی بھی کوشش کی۔مڈبھیڑمیں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تاہم کسی قیدی کو فرار ہونے نہ دیا گیا۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے پیرا ملٹری فوج بھی بلوائی گئی تھی۔

    امریکی ریاست ٹیکساس کے شہرسان انتونیو میں ایک ٹریک سے ملنے والی 40 لاشوں کا معمہ حل ہونے کی بجائے بگڑتا ہوا نظرآرہا ہے ، بعض حکام کہتے ہیں کہ یہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے جبکہ بعض کوخدشہ ہے کہ ان کو زہریلی گیس سے ہلاک کیا گیا ہے ، تاہم اب سیکورٹی حکام نے ان کی اموات کے حتمی تعین کے حوالےسے میڈیکل بورڈ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے ،

    یاد رہے کہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں ایک ٹرک سے کم از کم 40 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ غیرقانونی پناہ گزین تھے جن کو ٹیکساس کے جنوب میں اسمگل کیا جا رہا تھا۔

    حکام نے دیگر 15 افراد کو ٹرک سے مقامی ہسپتال بھی منتقل کیا گیا ہے۔ سان انتونیو کے مقامی نیوز چینل ووائے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرنے والوں کے تارکین وطن ہونے کے حوالے سے پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ نیوز چینل کے مطابق ٹرک جنوب مغربی علاقے میں ریل کی پٹڑی کے قریب سے ملا ہے۔

    سان انتونیو کی پولیس نے تبصرے کی درخواست کے باوجود رپورٹ کے حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ نیوز چینل کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئیں تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ٹرالر کے اردگرد پولیس ہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ ایمبولینس بھی وہاں کھڑی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق میکسیکو کی سرحد سے امریکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش میں گزشتہ دہائیوں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ واقعہ ان میں سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہے۔

    سان انتونیو کے علاقے میں سنہ 2017 میں دس غیرقانونی تارکین وطن ایک ٹرک میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ سنہ 2003 میں پیش آنے والے ایک واقعے میں 19 غیرقانونی پناہ گزین حبس کے باعث ٹرک میں ہلاک ہوئے تھے۔

  • افغانستان میں‌زلزلے سے تباہی پررنجیدہ ہیں:بھرپورتعاون جاری رکھیں گے:چین کا افغان طالبان کوپیغام

    افغانستان میں‌زلزلے سے تباہی پررنجیدہ ہیں:بھرپورتعاون جاری رکھیں گے:چین کا افغان طالبان کوپیغام

    نیویارک:چین ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کو افغانستان میں زلزلے کی تباہی پر ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ میں جنوب مشرقی افغانستان میں زلزلے کی تباہی کے بارے میں جان کر بہت پریشان ہوا ہوں، جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ میں ہلاک ہونے والے کے لئے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور متاثرین اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ افغان عوام اس تباہی پر قابو پانے اور جلد از جلد معمول کی پیداوار اور زندگی کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین افغانستان کی ضروریات کے مطابق ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنے کو تیار ہے۔

    چینی وزیر خا رجہ نے کہا ہے کہ صدر شی کی تقریر نے ترقی پذیر ممالک کی امن و آشتی سے محبت کرنے اور تسلط اور طاقت کی مخالفت کرنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے، چین انصاف اور امن برقرار رکھنے اور عالمی سلامتی کی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق 23 سے 24 جون 2022 تک صدر شی جن پھنگ نے برکس رہنماؤں کے 14 ویں اجلاس اور عالمی ترقی کے اعلیٰ سطحی مکالمے کی صدارت کی اور اہم تقریر کی۔اس سے پہلے 22 جون کو صدر شی جن پھنگ نے برکس بزنس فورم کی افتتاحی تقریب میں کلیدی تقریر بھی کی۔ اجلاس کے اختتام پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے چین کی جانب سے اجلاس کی میزبانی کی صورتحال کا تعارف کرایا اور صدر شی کی طرف سے پیش کیے گئے اہم خیالات اور تجاویز اور ان کے دور رس اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کی

    وانگ ای نے کہا کہ تمام بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے تناظر میں صدر شی جن پھنگ نے برکس اجلاس کی قیادت کرتے ہوئے اجلاس کی کامیابی کو یقین بنایا اور عالمی امن اور ترقی میں چین کی نئی شراکت ڈالی ۔اس بارے میں وانگ ای نے کہا کہ صدر شی کی تقریر نے ترقی پذیر ممالک کی امن و آشتی سے محبت کرنے اور تسلط اور طاقت کی مخالفت کرنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے اور انصاف، امن اور وقت کی آواز کو بلند کیا ہے۔ صدر شی کے پیش کردہ عالمی سلامتی کے اقدام کی تجویز بروقت ہے، اہم عملی اہمیت اور دور رس اثرات کی حامل ہے،یہ نہ صرف عالمی امن کے مقصد کی مضبوطی سے حمایت کرتی ہے بلکہ موجودہ افراتفری اور تبدیلیوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی سمت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ چین انصاف اور امن برقرار رکھنے اور عالمی سلامتی کی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوسرا صدر شی نے ترقی کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ، عالمی ترقیاتی تعاون کے لیے آواز بلند کی اور ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے چینی حل اور چینی دانشمندی پیش کی۔اس سلسلے میں صدر شی نے عالمی ترقی کے اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے چین کی طرف سے اہم اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

    تیسرا،صدر شی نے جیت جیت کے تعاون کو فروغ دیے اور عالمی گورننس سسٹم کی بہتری کے لیے چینی فارمولا پیش کیا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف اتحاد، یکجہتی اور تعاون پر قائم رہنے سے ہی ہم اقتصادی بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔ صدر شی جن پھنگ کی تقریر ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد کی امنگوں کا اظہار کرتی ہے، عالمی حکمرانی کی اصلاح کی سمت کو واضح کرتی ہے اور عالمی معیشت کی بحالی کے لیے طاقت جمع کرتی ہے۔اس کے علاوہ صدر شی کی قیادت میں چین برکس تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے مزید کارنامے انجام دےگا۔ صدر شی کی قیادت میں برکس کا “چینی سال” نتیجہ خیز رہا ہے اور برکس نے بین الاقوامی انصاف کے دفاع کے لیے مضبوط آواز اٹھائی ہے،وبا کے خلاف برکس کے دفاع کو مضبوط کیا، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے برکس کا کردار ادا کیا ، بدعنوانی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے برکس کے مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ، برکس مربوط مارکیٹ کی تعمیر کی بنیاد رکھی ، عالمی خوراک کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے برکس خدمت فراہم کی، اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں برکس تعاون کو مزید مضبوط کیاہے۔

    چین کے نمائندے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی یکجہتی کے حوالے سے آزاد ماہرین کے ساتھ بات چیت کے دوران امریکہ سمیت مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ جبری اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کر دیں، دوسرے ممالک میں لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کریں۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق چین کے نمائندے نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں کثیر القومی کارپوریشنوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماحولیاتی نقصانات پر توجہ دی جانی چاہیے اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے نوآبادیاتی ایجنڈے مسلسل فروغ دینے پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔

    چین آزاد ماہرین کے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے کہ مختلف ممالک کو یکطرفہ جبر کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے ۔ چین کے نمائندے نے کہا کہ یکطرفہ جبر کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔امریکہ سمیت کچھ مغربی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے خلاف یکطرفہ جبر کے اقدامات نافذ کیے ہیں، جس سےان ممالک کی اقتصادی اور سماجی ترقی اور انسداد وباکی کوششوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور متاثرہ ممالک کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں تارکین وطن کے حقوق پر خصوصی نمائندے کے ساتھ بات چیت کے دوران چینی نمائندے نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں تارکین وطن کے انسانی حقوق کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی کی۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق چین کے نمائندے نے بتایا کہ مارچ 2020 سے لے کر اب تک امریکہ نے کووڈ-19 سے پیدا ہونے والی ہنگامی صحت عامہ کی صورت حال کی وجہ سے 1.6 ملین سے زائد تارکین وطن کو ملک بدر کیا ،

    چین نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے تارکین وطن کو خراب حالات میں امیگریشن حراستی مراکز میں بھی رکھا ہے، جہاں تارکین وطن کو تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اب بھی والدین اور بچوں کی علیحدگی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے مطابق تارکین وطن کے بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے الگ کر دیاجا تا ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سے بچے بالاآخر اپنے والدین اور خاندانوں سے الگ ہو جاتے ہیں ۔

    چین کو اس بات پر بھی شدید تشویش ہے کہ نیدر

  • جدید جوہدری ہتھیاروں کی تیاری:امریکہ اوربرطانیہ کے درمیان 12 ارب ڈالرز کامعاہدہ

    جدید جوہدری ہتھیاروں کی تیاری:امریکہ اوربرطانیہ کے درمیان 12 ارب ڈالرز کامعاہدہ

    امریکی محکمہ دفاع نے جوہری صلاحیت کے حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹمز (ICBM) کوعملی جامہ پہنانے کے لیے 12 بلین ڈالر مالیت سب سے بڑا ہتھیار بنانے والی برطانوی کمپنی BAE Systems کی مدد کی ہے، پینٹاگون نےاعلان کیا کہ اس بڑے معاہدے سے متعلق کام 2040 کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے اور یہ زیادہ تر مغربی ریاست یوٹاہ میں ہل ایئر فورس بیس پر کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق BAE طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے معاہدے کے لیے بولی لگانے والے پانچ فوجی کنٹریکٹرز میں سے ایک تھا۔

    یہ رپورٹ جو بائیڈن انتظامیہ کے مالی سال 2023 کے مجوزہ بجٹ کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آئی ہے – جو 28 مارچ کو جاری کیا گیا تھا – جس میں جوہری ہتھیاروں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں گراؤنڈ بیسڈ اسٹریٹجک ڈیٹرنٹ (GBSD) ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم بھی شامل ہے۔

    ناقدین اور نیوکلیئر مخالف ماہرین نے اس وقت کہا تھا کہ صدر بائیڈن پڑوسی ملک یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کو ڈیٹرنس کی ضرورت کا دعویٰ کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر بھاری اخراجات کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا تھا کہ جی بی ایس ڈی، بائیڈن کی 2023 کے بجٹ کی تجویز سے پہلے اور روس کے یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح سے حرکت میں تھا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس تنازعے کو اس پالیسی کے جواز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا جسے امریکی صدر پہلے ہی نافذ کر چکے ہوتے۔

    پینٹاگون کے بجٹ کی تجویز کے خلاصے کے مطابق اس میں "جوہری ٹرائیڈ کے تینوں پیروں کو دوبارہ سرمایہ کاری کرنے” کے لیے 34.4 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا ہے – یہ آبدوزوں، بمباروں اور زمین پر چلنے والے بین البراعظمی میزائلوں سے متعلقہ ہے جو امریکی فوج کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر مشتمل ہے۔

    مقامی پریس آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا کہ GBSD اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ میزائل امریکی ریاستوں میں مزید 50 سال تک تعینات رہیں۔

    بجٹ میں GBSD کے لیے 3.6 بلین ڈالر کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جو کہ کولوراڈو، مونٹانا، نیبراسکا، نارتھ ڈکوٹا اور وومنگ میں موجود عمر رسیدہ منٹ مین III ICBMs کی جگہ لے گا۔ بجٹ میں لانچنگ سہولیات اور کنٹرول سینٹرز، ٹیسٹ لانچ میزائل اور دیگر انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا جائے گا۔

    یادرہےکہ دنیا کے جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد حصہ امریکہ اور روس کے پاس ہے۔جوہری ہتھیاروں میں مجوزہ امریکی سرمایہ کاری فوجی اخراجات اور قانون کے نفاذ کے لیے اعلیٰ بجٹ کی خطوط پر آتی ہے۔ مجموعی طور پر، بائیڈن انتظامیہ "قومی سلامتی” کے اخراجات میں 813.3 بلین ڈالر کی درخواست کر رہی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 31 بلین ڈالر زیادہ ہے۔

     

    BAE کے ساتھ بہت بڑا میزائل معاہدہ امریکی ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی طرف سے ملک کے فوجی بجٹ کو مزید 37 بلین ڈالر بڑھانے کی تجویز منظور کرنے کے صرف دو دن بعد سامنے آیا ہے جو بائیڈن کے تجویز کردہ ریکارڈ 773 بلین ڈالر کے اوپر ہے۔

    نیو یارک میں قائم کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر فار نیوکلیئر اسٹڈیز کی 9 جولائی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، بڑے پیمانے پر تباہ کن ہتھیاروں پر امریکی اخراجات 2046 میں مکمل ہونے تک "2017 میں 1.2 ٹریلین ڈالر” تک پہنچ جائیں گے۔

    ملک کے جوہری ہتھیاروں کو تبدیل کرنے اور اسے جدید بنانے کے لیے ایک "مسلسل دباؤ” رہا ہے۔ آج کے کھربوں ڈالر کی سرکاری فنڈنگ ​​کئی دہائیوں کے دوران ہتھیاروں کی نئی اقسام کی ترقی سے لے کر ڈیلیوری کے ابتدائی نظام تک کے منصوبوں میں ڈالی جا چکی ہے۔