Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • پاکستان کے زاہد قریشی امریکا کی تاریخ کے پہلے مسلمان وفاقی جج بن گئے

    پاکستان کے زاہد قریشی امریکا کی تاریخ کے پہلے مسلمان وفاقی جج بن گئے

    نیوجرسی :پاکستانی نژاد جج زاہد قریشی کے عہدہ سنبھالنے سے امریکا میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ نیوجرسی ڈسٹرکٹ کورٹ جج کا عہدہ سنبھالنے والے زاہد قریشی پہلے امریکی مسلم ہیں جو اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں، وہ پہلے ایشیائی امریکی بھی ہیں جو ریاست کے وفاق بینچ کا حصہ بنے۔

    یادرہے کہ امریکہ کے صدربائیڈن نے پچھلے برس اپریل میں زاہد قریشی کو جج نامزد کردیا تھا اورجون میں سینیٹ نے 16 کے مقابلے میں 81 ووٹوں سے ان کے نام کی توثیق کردی تھی۔نیوجرسی میں ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھالنے سے پہلے زاہد قریشی اسی ریاست میں اسسٹنٹ اٹارنی تھے،پرائیوٹ پریکٹس کے بعد زاہد قریشی نے نیوجرسی ہی کے سُوپیریئرکورٹ سے وابستہ جج ایڈوین اسٹرن کے لاء کلرک کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں اور پھر نیوجرسی ہی میں اسسٹنٹ اٹارنی کامنصب سنبھالا تھا۔

    جان جے کالج آف کرمنل جسٹس سے فارغ التحصیل زاہد قریشی نے رٹگرز لاءاسکول سے جے ڈی یعنی جیورس ڈاکٹرکی ڈگری حاصل کی تھی، وہ ایک عرصہ تک امریکی فوج میں ملٹری پراسیکیوٹر کےعہدے پربھی فائزرہے ہیں۔

    زاہد قریشی کے والد ڈاکٹر نثار قریشی 1960 کی دہائی کے آخری سالوں میں پاکستان کے شہر گوجرخان سے نیویارک منتقل ہوئے تھے، اپریل 2020 میں کورونا سے انتقال تک ڈاکٹر نثار اسی شہر میں طبی شعبے سے وابستہ رہے۔زاہد قریشی اعلیٰ تعلیم یافتہ سہی، فیڈرل جج کے طورپران کی تعیناتی کرشمے سے کم نہیں، ان کی نامزدگی سینیٹر کُوری بُوکر کی وجہ سے ممکن ہوئی جو خود اس بات پر حیرت زدہ تھے کہ اب تک امریکا میں کوئی مسلم وفاقی جج کیوں نہیں بن سکا؟

  • امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    برلن :روس یوکرین جنگ، امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں،اطلاعات ہیں کہ روس کو تنہا کرنے کےلیےامریکہ نے اپنی لابنگ جاری رکھی ہے اورنئی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ، اس حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ روس یوکرین جنگ کےباعث مغربی اتحادی ممالک متحد ہوگئے ہیں جبکہ امریکا اور جرمنی میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

     

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں…

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جاب یوکرین میں روسی جارحیت کی وجہ سے مغربی اتحادیوں میں ایک نئی صف آرائی دیکھی جا رہی ہے۔ اس جنگ نے جہاں متعدد مغربی ممالک کو متحد کیا ہے وہیں روس کے خطرے نے امریکا اور جرمنی کے مابین تعلقات میں موجود سرد مہری کو بھی کسی حد تک ختم کیا ہے۔لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جرمنی اس نئے اتحاد کو جنگ عظیم اول اور دوم سے بھی ملا کرپڑھ رہا ہے ، اس میں جرمنی کے اصل باشندوں کے خیالات کچھ اور ہیں

    خبردار ! روس جنگ کی آگ بڑھا رہا ہے ، جرمنی مسلسل چلانے لگا

    اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے لاحق خطرات، مشترکہ جیو پولیٹیکل وژن اور مفادات کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے مابین زیادہ گرمجوشی کی امید کی جا سکتی ہے۔بالخصوص جرمنی اور امریکا کے باہمی تعلقات دو دہائیوں بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔مغربی اتحاد کا ایک مشترکہ مقصد روسی جارحیت کی مذمت کرنا بھی ہے۔ امریکی حکام نے جرمن چانسلر اولاف شولس کے نارتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کے اعلان پر مسرت کا اظہار کیا تھا ۔ منصوبے کے تحت جرمن حکومت روس سے گیس خریدنا چاہتی تھی۔

    بعدازاں جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر دباؤ بڑھانے کی خاطر گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ ختم کر کے ملکی ضروریات کی گیس امریکا سے منگوائی جائے گی۔

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی

    روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کا اتحاد اور روس پر پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اپنے آبائی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ایک بزنس فورم سے خطاب میں انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ روس میں انویسٹمنٹ کریں۔انھوں نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے جو ان کے ساتھ تعاون کے متمنی ہیں۔

    روسی صدر نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم یہ ضروری تھا۔ عسکری مہم کا مقصد در حقیقت یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی بولنے والی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

  • تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن :تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد جس میں خطرناک تین ہتھیارہیں تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

    امریکہ یوکرین میں ایک جنگ لڑرہا ہے،یہ تنازعہ اتنا پچیدہ ہوگیا ہے کہ دنیا کوکسی بھی لمحے تیسری جنگ کی طرف لے جائے گی ڈونلڈ ٹرمپ نے کاکہ امریکہ نے 16 ارب ڈالرکی بجائے 56 ارب ڈالرز کی امداد دی ہے اور اس بڑی امداد کا امریکہ پربھی اثرپڑے گا

     

    جوبائیڈن نے ہم جنس پرست سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کردیا

    ٹینسی میں ایک مذہبی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ "لیکن جب آپ یورپ کو دیکھتے ہیں – اور جرمنی، اور فرانس اور ان تمام دوسرے ممالک نے ایک چھوٹا سا حصہ دیا ہے ہم 56 بلین ڈالر دے رہے ہیں ،امریکہ انہیں ممالک کی خاطرقربانی دے رہا ہے جن کی اس سلسلے میں زیادہ دشمنی ہے ،

    ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازعہ کا الزام صدر بائیڈن پر لگایا، جنھوں نے وائٹ ہاؤس میں ان کی جگہ لی،ٹرمپ نے اس موقع پر زوردیتے ہوئے کہا کہ "اگر میں صدر ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا”۔”اور میں پوتن کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں پوتین اور میں دنیا کو تیسری جنگ سے بچا سکتے تھے ، پوتین ایک اچھے انسان ہیں مگرامریکہ نے ان کو ناراض کرکے اچھا نہیں کیا

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر…

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی اور چوری نہ کی جاتی تو یوکرین پر حملہ آور ہونے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

    ٹرمپ نے اپنےخطاب میں 6 جنوری 2021 کے واقعات پر جاری ہاؤس کمیٹی کی سماعتوں پر حملہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کی ۔ سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے حامیوں کو واشنگٹن میں امریکی کیپیٹل پر حملہ کرنے کے لیے اکسانے میں ان کے مبینہ کردار کی تحقیقات ایک "دھاندلی زدہ” تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر 2024 میں صدر کے لیےمیدان میں اترنے کافیصلہ کیا ہے

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی…

    جلسہ میں زوردار گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "کیا کوئی پسند کرے گا کہ میں صدر کے لیے انتخاب لڑوں؟” ٹرمپ نے پوچھا، جس کے نتیجے میں سامعین کی جانب سے زوردار نعرے لگائے گئے۔

  • امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    نیویارک:امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ طویل مدت کے لیے روس کے ساتھ تنازعہ میں یوکرین کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے،اس مقصد کے لیے امریکہ اوراتحادی منصوبے کچھ عرصے سے کام کر رہے ہیں۔

    محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عملے نے جمعے کے روز دی پوسٹ کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن "جنگ کا حتمی مذاکراتی نتیجہ” دیکھنا چاہیں گے، اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ کیف کو مغربی ہتھیاروں کی ترسیل اور روسی معیشت کے خلاف سخت پابندیوں کی مہم ماسکو کو فوجی طور پر سخت کمزور کر دے گی۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    واشنگٹن پوسٹ کوامریکی خفیہ منصوبے کے کچھ مندرجات بتاتے ہوئے کہا کہ "حالانکہ یہ یقینی طور پرامریکہ اور اتحادیوں کے لیے ایک چیلنج ہے – ہم یقینی طور پر اس بات پر یقین نہیں کر رہے ہیں کہ – ان طوفانی پانیوں کو کس طرح نیویگیٹ کرنا ہے، ہماری رہنما روشنی یہ ہے کہ روس کے اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کا نتیجہ امریکہ کے لیے واقعی برا ہے، واقعی برا ہے۔ ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کے لیے، اور عالمی برادری کے لیے واقعی برا ہوگا اگرروس یہ جنگ جیت لیتا ہے

    اہلکار نے مزید کہا کہ بائیڈن کی ٹیم نے فروری سے پہلے ہی "عالمی سطح پر پھیلنے والے اثرات کے حوالےسے طویل تنازعہ کے امکان پر تبادلہ خیال کیا تھا”، ایسے وقت میں جب امریکی حکام نے بار بار روس کی طرف سے ایک آسنن حملے کی پیش گوئی کی تھی۔

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    اگرچہ یوکرین کی حکومت کی حمایت واشنگٹن کے لیے مہنگی پڑی ہے – جس نے مارچ سے اب تک مختلف قسم کی امداد میں 50 بلین ڈالر سے زیادہ وقف کیے ہیں – لیکن دوسری طرف بائیڈن روس کومرضی کے فوائد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے "عالمی کساد بازاری اور بڑھتی ہوئی بھوک” کا خطرہ مول لینے کو تیارہیں

    برسلز میں ایک حالیہ میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے، جہاں درجنوں ممالک کے حکام نے کیف کو مزید تقویت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کی، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ "ہم یہاں روس کے خلاف اتحاد کی حوصلہ افزائی کے لیے آئے ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ "مل کر کام کرنے سےیوکرین کو روس کی تسلط سے نکال سکتے ہیں اوراس کودنیا کے نقشے پرایک الگ ملک کی حیثیت سے دیکھ سکتے ہیں

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ دشمنی "بہت طویل” ہو سکتی ہے اور "سالوں” تک جاری رہ سکتی ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    "یہ ایک بہت طویل تنازع ہے جو روس نے شروع کیا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو، امریکہ، یوکرین، اور تمام اتحادی اور شراکت دار جو یوکرین کی حمایت کر رہے ہیں، کچھ عرصے کے لیے اس میں شامل ہوں گے۔” بیان کیا گیا، اگرچہ یہ کہا گیا کہ یہ امکان نہیں ہے کہ ماسکو کو امریکی فوجی تعیناتی کے مختصر مقاصد سے روکا جا سکتا ہے – لیکن یہ ضرور ہے کہ روس ایک سخت جواب کے لیے بہر کیف تیار ہے

  • حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    صنعا:حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا،اطلاعات کے مطابق یمن کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ یمن کی مسلح افواج کو سعودی قیادت والے فوجی اتحاد یعنی امریکہ اور دیگراتحادیوں پرہرطرح سے غلبہ حاصل ہے ،

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا بنایا ہوا پیٹریاٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائل (SAM) سسٹم جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ موثر نہیں ہیں۔

    "فوجی صنعت کے شعبے میں ہماری مہارت اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی ہے۔ عاطفی نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج کافی پیشہ ور ہیں، اور فی الحال ان کے پاس انتہائی درست اور موثر ہتھیار ہیں۔یمنی وزیر دفاع نے کہا کہ "ایک عظیم فتح ان تمام بہادروں کی منتظر ہے جو مضبوطی سے جارحین کے خلاف مزاحمت کے راستے پر گامزن ہیں۔”

    سعودی عرب نے مارچ 2015 میں اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر اور امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں کے ہتھیاروں اور رسد کی مدد سے یمن پر تباہ کن جنگ شروع کی۔اس کا مقصد عبد ربہ منصور ہادی کی ریاض دوست حکومت کو دوبارہ قائم کرنا اور انصار اللہ مزاحمتی تحریک کو کچلنا تھا جو یمن میں فعال حکومت کی عدم موجودگی میں ریاستی امور چلا رہی ہے۔

    جب کہ سعودی زیرقیادت اتحاد اپنے کسی بھی اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اس جنگ نے لاکھوں یمنیوں کو ہلاک اور دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

  • یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    لندن:یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرینی فوج کی جنگی بنیادوں پر ٹرینگ دینے کافیصلہ کیاہے ،ادھر یوکرینی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کے حملے کے بعد یوکرین کے دوسرے دورے کے موقع پر صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے فوجی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    بورس جانسن کو زیلنسکی نے ایک ’عظیم دوست‘ کے طور پر خوش آمدید کہا اور اس کے بعدبورس جانسن نے یوکرینی صدر کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ محترم صدر ولادیمیر، کیف میں دوبارہ آ کر اچھا لگ رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے ایک بڑا تربیتی فوجی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے جس میں 120 دن میں 10ہزار فوجیوں کو تربیت دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

    برطانوی ویر اعظم نے کہا کہ آج میرا اس جنگ کے دوران دورے کا مقصد یوکرین کے عوام کو ایک واضح اور سادہ پیغام دینا ہے، برطانیہ آپ کے ساتھ ہے اور جب تک کہ آپ غالب نہیں آتے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میں نے صدر ولادمیر زیلنسکی کو ایک نئے فوجی تربیتی پروگرام کی پیشکش کی ہے جو اس جنگ کی صورتحال کو تبدیل کر سکتا ہے اور کہا کہ جیت کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور چیز یوکرین کے عوام کی جیت کا عزم ہے۔

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم کا غیر اعلانیہ دورہ یوکرین اور ولادمیر زیلنسکی کی حمایت کے حوالے سے بورس جانسن کے عزم کا تازہ ترین مظہر ہے۔انہوں نے یہ دورہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ کے رہنماؤں کے کیف کے سفر کے ایک دن بعد کیا گیا جنہوں نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت اور رکنیت کے امیدوار کی حیثیت کی توثیق کی۔

    ولادمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے متعدد ایام نے ثابت کیا ہے کہ یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت پختہ اور پرعزم ہے، ہمارے ملک کے عظیم دوست بورس جانسن کو دوبارہ کیف میں دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔

    یوکرین کے صدر نے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے محاذ جنگ پر صورتحال اور بھاری ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے اور یوکرین کے فضائی دفاع کو بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک مشترکہ نقطہ نظر ہے کہ کس طرح فتح کی طرف بڑھنا ہے کیونکہ یوکرین کو بالکل اسی کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست کیسے فتح حاصل کرتی ہے۔

  • روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    لندن:برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ ہار چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ اسٹریٹیجک سطح پر ہار چکا ہے۔روس کی یہ صریح غلطی تھی۔ روس کبھی یوکرین پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اس سے روس کی قوت مزید کم ہو گئی ہے۔اسٹریٹیجک حوالے سے دیکھیں، تو روس یہ جنگ ہار چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے اور اب فن لینڈ اور سویڈن بھی نیٹو میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کہتے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن آئندہ چند ہفتوں میں کچھ ٹیکٹیکل کامیابیاں حاصل کرتو سکتے ہیں تاہم، ملک کی ایک چوتھائی فوجی طاقت استعمال کرنے کے بعد یہ کامیابیاں انتہائی چھوٹی ہیں کیوں کہ وہ ہائی ٹیک میزائل اور فوجی دستوں کی کمی کا شکار ہیں۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی کمزوریاں ہمارے سامنے ہیں۔ روس افراد کی کمی ہائی ٹیک میزائلوں کا شکار ہے۔ روسی صدر ملک کی پچیس فیصد فوجی قوت استعمال کر کے فقط ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی قبضہ کر پائے ہیں، جب کہ ان کے پچاس ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ واضح طور پر روس کی ناکامی ہے۔

    علاوہ ازیں، ریڈیکن نے یوکرینی عوام کے جذبے اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ برطانیہ طویل المدتی بنیادوں پر مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے کیف حکومت کی مدد کرتا رہے گا۔

    دوسری جانب ماسکو حکومت نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہیں۔

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی…

    کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے یورپی رہنماؤں کے دورہ یوکرین کے تناظر میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یوکرین کو ہتھیاروں کے ذریعے مزید معاونت فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی جائے گی کیوں کہ یہ بالکل فضول اقدام ہو گا اور اس سے اس ملک کو مزید نقصان ہو گا۔

  • امریکہ سےتعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں،حمزہ شہباز،تیار ہیں،امریکی قونصل جنرل

    امریکہ سےتعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں،حمزہ شہباز،تیار ہیں،امریکی قونصل جنرل

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے امریکہ کے قونصل جنرل ولیم کے میکانیول(Mr.William K. Makaneole) نے ملاقات کی.امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر حمزہ شہباز کو مبارکباد دی، ولیم کے میکانیول کا حمزہ شہباز کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے امریکہ کے قونصل جنرل ولیم کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا.اس موقع پرحمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کثیر الجہت نوعیت ہیں۔ زراعت، ماحولیات، واٹر شارٹیج اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ اس وقت معاشی اوردیگرچیلنجز درپیش ہیں لیکن ہمارا عزم ان چیلنجز سے بلند ہے۔

    امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے – پنجاب حکومت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے-ملاقات کے موقع پرچیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، لیگل ایڈوائزر علی رضا اور متعلقہ حکام و عہدیداران بھی موجود تھے.

    قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف صوبے میں تعلیم وصحت کی سہولتوں اور کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں،وزیر اعلی حمزہ شہباز کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، ڈلیوری ایسوسی ایٹس کے چئیرمین سر مائیکل باربر اور برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی.

    پنجاب حکومت اور سر مائیکل باربر نے پارنٹر شپ بحال کرنے پر اتفاق کیا. سر مائیکل باربر تعلیم، صحت اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے لیے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے تعاون کریں گے .مشترکہ ٹیم آئندہ کا لائحہ عمل کے لئے سفارشات تیار کرے گی،جامع روڈمیپ تیار کرکے تیزی سے آگے بڑھا جائے گا

    سر مائیکل باربر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بے پناہ کام ہوا۔پنجاب حکومت کی اب بھی ہر ممکن معاونت کرینگے.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر کے ساتھ مل کر اپنجاب کے عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کریں گے۔ سر مائیکل باربر کے تجربے سے استفادہ کرکے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم روڈمیپ کے ذریعے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے گا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں شاندار اصلاحات متعارف کرائیں۔ اب بھی سر مائیکل باربر کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لائیں گے۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے سر مائیکل باربر کی مسلم لیگ ن کے سابق دور میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی بہتری کے لئے گراں قدر خدمات کو سراہا .برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنرنےپنجاب حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی.

  • برطانیہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی کی منظوری دے دی

    برطانیہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی کی منظوری دے دی

    لندن :وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے جمعہ کو وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو فوجداری الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی، اب اس کے بعد یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ یہ قانونی جنگ اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے

    وکی لیکس کا بانی مشکل میں، عدالت نے سنائی سزا

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج امریکی حکام کو 18 معاملات میں مطلوب ہیں، جن میں جاسوسی کا الزام بھی شامل ہے، جس میں وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی فوجی دستاویزات اور سفارتی پیغام رسانی کے وسیع ذخیرے کے اجراء سے متعلق ہے جن کے بارے میں واشنگٹن نے کہا تھا کہ اس نے جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    جبکہ اس کے برعکس وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیرو ہے جسے اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے افغانستان اورعراق کے تنازعات میں امریکی غلط کاموں کوبے نقاب کیا، اور یہ کہ اس کا مقدمہ صحافت اور آزادی اظہار پر سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کا حملہ ہے۔

    وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے کیس کا فیصلہ آج متوقع.

    ادھر برطانوی وزارت داخلہ نے کہا کہ اب اس کی حوالگی کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن وہ اب بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ فیصلے کے خلاف اپیل کے حوالے سے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے کہا کہ وہ کریں گے،جبکہ برطانوی وزارت داخلہ نے کہ بھی وضاحت کی ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی پربرطانوی قانون اورعدالتوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک برطانوی جج نے فیصلہ دیا کہ اسانج کو ملک بدر نہیں کیا جانا چاہیے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی ذہنی صحت کے مسائل کا مطلب ہے کہ اگر اسے سزا سنائی گئی اور اسے زیادہ سے زیادہ حفاظتی جیل میں رکھا گیا تو اسے خودکشی کا خطرہ ہو گا۔جبکہ دوسری طرف اسے ایک اپیل پر مسترد کر دیا گیا جب ریاستہائے متحدہ نے یقین دہانیوں کے وعدے پر وعدے کیے، جس میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ اسے کسی بھی سزا کے لیے آسٹریلیا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری طرف وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی اہلیہ سٹیلا نے کہا کہ یہ پریس کی آزادی اور برطانوی جمہوریت کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ "آج لڑائی کا خاتمہ نہیں ہے، یہ صرف ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز ہے۔”

    وکی لیکس کے بانی کو امریکا نے مانگا تو کیسے منہ کی کھانا پڑی

  • پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے طریقے تلاش کریں گے،امریکہ

    پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے طریقے تلاش کریں گے،امریکہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کے نمائندوں سے ملنے کے چند مواقع ملے ، گزشتہ ماہ بلنکن بلاول ملاقات میں پہلی بار اچھی اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے

    بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت میں مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کئے جانے کے واقعہ کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم نے بی جے پی کے دو عہدیداروں کے جارحانہ تبصروں کی مذمت کی ہے خوشی ہوئی کہ پارٹی نے عوامی طورپر ان تبصروں کی مذمت کی ہم مذہبی یا عقیدے کی آزادی سمیت انسانی حقوق کے مسائل پرسینئرسطح پر انگیج رہتے ہیں ہم بھارت کو انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے کی ترغیب دیتے ہیں گزشتہ برس وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے نئی دہلی کے اپنے دورے میں کہا تھا کہ امریکی اور بھارتی عوام ایک طرح کے اقدار پر یقین رکھتے ہیں جن میں انسانی وقار اور احترام مواقعوں کے حصول میں مساوات اور مذہبی آزادی شامل ہے یہ کسی بھی جمہوریت میں بنیادی اقدار ہیں اور ہم دنیا بھر میں ان کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا نئی پاکستانی حکومت کے حوالہ سے کہنا تھا کہ ہمیں نئی پاکستانی حکومت کے نمائندوں سے ملنے کے چند مواقع ملے ہیں گزشتہ ماہ بلنکن کو پاکستانی ہم منصب سے ملنے کا موقع ملا پہلی بار یہ بہت اچھی اورتعمیری بات چیت تھی ملاقات میں غذائی تحفظ کے مسئلے سمیت تمام مسائل پربات ہوئی پاکستان ہمارا شراکت دار ہے ہم اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کے طریقے تلاش کریں گے

    واضح رہے کہ بلاول زرداری نے چند روز قبل بطور وزیر خارجہ امریکہ کا پہلا دورہ کیا تھا اور حکام سے ملاقاتیں کی تھیں،

    ہ امریکا پاکستان کو مستحکم اور مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے

    امریکا نے سابق وزیراعظم عمران خان کے الزامات ایک بار پھر رد کر تے ہوئے پروپیگنڈا قرار دیا ہے-

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے۔